Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29
۔محبوب کی صورت کے علاوہ کوئی صورت اس کی آنکھوں میں نہیں جچتی ۔ اور یہ سب کرنے کے بعد بھی وہ کسی صلے کا طلب گار نہیں ہوتا۔
جبکہ حماد کی چاہت بھی فقط اس کی خوب صورت شکل و صور ت تک محدود تھی ۔ اس قسم کے چاہنے والے اسے ہزاروں لاکھوں مل جاتے ۔مگر ان کی محبت تب تک ہوتی جب تک وہ اسے حاصل نہ کر لیتے ، اسے تو کوئی دانیال جیسا چاہیے تھا۔ کیسی شکل ہی کا کیوں نہ ہوتا ،بس اس سے محبت کرتا ،ایسی محبت جیسے دانیال ،مسکان سے کرتا تھا ۔اسے مسکان کے نصیب پر رشک آیا ۔ دولت ،شکل و صورت اور پھر دانیال کی طرح کا بے لوث چاہنے والا ۔ اسے رب نے ہر طرح سے نوازا تھا ۔مگر حماد کو اختیار کر کے وہ ایک بہت بڑی غلطی کرنے والی تھی ۔
فریحہ کو ایک دم اس سادہ لڑکی پر پیار آیا ۔وہی مسکان جسے وہ کبھی مرکز نفرت و حقارت سمجھتی تھی، اب اسے بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔وہ دانیال کا اور اس کا ملاپ کرا کر بہت بڑی نیکی کما سکتی تھی ۔یوں بھی اس نے دانیال سے یہ وعدہ بھی کیا تھا۔ اور اس طرح شاید حماد بھی اس کی طرف لوٹ آتا ۔
”جب مسکان اسے دھتکارے گی؟ ….تو کیا مجھے دوبارہ حماد کوقبول کرلینا چاہےے ؟“
”نہیں ….کبھی نہیں ؟جو شخص آج میری چاہت پر دولت کو ترجیح دے رہا ہے وہ کل کو میرا ساتھ کیا نبھائے گا؟ اس سے بہتر ہے والدین کی مرضی کے مطابق شادی کر لوں ۔کم از کم ضمیر تو مطمئن رہے گا ؟“
پھر اسے خیال آیا ۔”اس طرح تو کسی کے ساتھ بھی شادی ہو گی تو وہ مجھے ایسی محبت نہیں دے سکے گا جس کی میں خواہش مند ہوں؟….حماد کم از کم خوب صورت تو ہے ،پھر مسکان کے بعد وہ شرمندہ ہو کر میری طرف لوٹے گا ،معافی بھی مانگے گا ۔“ سب سے بڑھ کر اس کے اپنے دل میں حماد کے لےے پسندیدگی کے جذبات پنہاں تھے ۔جنھیں وہ آج تک محبت ہی سمجھتی رہی تھی ۔
کوئی واضح فیصلہ اس سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔نہ وہ سمجھ پا رہی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔ دانیال سے کیا ہواوعدہ نبھانا چاہتی ہے ،حماد کو صرف اپنا دیکھنا چاہتی ہے ،مسکان کا بھلا چاہتی ہے کہ وہ حماد سے جان چھڑا لے اور اپنی زندگی بچا لے یا کوئی دوسرا خوف اس کے دل میں پنہاں ہے ۔
کافی دیر کی ذہنی ورزش کے بعد آخر وہ اس بات پر تیار ہو گئی کہ مسکان سے بات کر کے اسے سمجھانے کی کوشش کرے ،کیا پتا وہ اس کی بات مان لے ۔مسکان کا نمبر اس کے پاس موجود تھا ۔وہ اس کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔بیل جانے کے باوجود وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھی ۔
”کہیں حماد کی آغوش میں نہ لیٹی ہو ؟“غصہ بھڑکانے والی سوچ اس کے دماغ میں ابھری مگر اس کے ساتھ اسے حماد کی بات یاد آئی کہ….
” وہ ایک مذہبی لڑکی ہے اور بغیر نکاح کے اسے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی ۔“
دو تین کوششوں کے بعد بھی مسکان نے کال اٹینڈ نہ کی ۔اور اسے یہ کام صبح پر ٹالنا پڑا۔
اسے یقین تھا کہ وہ مسکان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔بہت قریب سے اس کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ وہ اچھے کی اخلاق کی مالک باکردار لڑکی ہے ۔ اور مسکان ہی کو قائل کر کے وہ دانیال کو حوالات کی اذیت سے چھٹکارا دلا سکتی تھی ۔
٭……..٭
جیپ تھانے کے سامنے جا کر رک گئی ۔ سپاہیوں نے بدتمیزی سے دانیال کو گریبان سے پکڑ کر نیچے اتارااور کھینچتے ہوئے اندر لے گئے ،جبکہ تینوں غنڈے بڑے اطمینان سے اتر کر اندر کی جانب چل دئےے تھے ۔
اندر جا کر تینوںنے بغیر کسی دعوت کے کرسیاں سنبھال لی تھیں ۔ انسپکٹر نے اپنی نسشت سنبھالی اور شاہانہ انداز میں غنڈوں کے سرغنہ سے مستفسر ہوا ۔
”ہاں جی !….اب بتاو کیا معاملہ ہے ؟“
سرغنہ نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور پھر تفصیلاََ دانیال کے جرم پر روشنی ڈالنے لگا ۔
”سر !….میری ایک قریبی عزیزہ کا مسئلہ ہے ۔اس کی اپنے شوہر سے کسی گھریلو مسئلہ پر ان بن ہوئی اور غصے میں آکر شوہر نے اسے طلاق دے دی ۔ غصہ اترا ،دونوں پشیمان ہوئے اور اس مسئلے کا ایک ہی حل، شرعی حلالہ انھیں سوجھا۔اس ضمن میں وہ غریب اس بد بخت کے چنگل میں پھنس گئے ۔یہ ایک اوباش اور بد کردار شخص ہے ۔ لڑکی نے اپنے شوہر کو پانے کے لےے عارضی طور پر اس خبیث سے شادی کی اور جب طلاق کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ۔اب دو ماہ ہو گئے ہیں وہ لڑکی اس سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور یہ اسے عشق و محبت کی کہانیاں سنا رہا ہے ۔شریف بچی ہے ،اگر اس بات کا ڈھنڈورا پیٹے تو بدنام ہو جائے گی ۔ تنگ آکر اس نے مجھے درخواست کی کہ اس سے بات چیت کروں ،اسی مقصد کے لیے میں اس کے گھر گیا تھا ۔اس نے بات تو کیا سننا تھی ذلیل کر کے گھر سے نکال دیا ۔ میرے ساتھی کی ناک بھی ٹکر مار کے توڑ دی۔ یہ تو شکر ہے کہ آپ آگئے ورنہ شاید یہ ہمیں جان سے مار دیتا ؟“
”ہاں بھئی !….اس کے جواب میں تمھارا کیا موقف ہے ؟“ انسپکٹر نے تیکھے لہجے میں دانیال سے پوچھا۔
دانیال نے کہا۔”تھانیدار صاحب !….میں بالکل بے قصور ہوں ،یہ شخص سراسر جھوٹ کہہ رہا ہے ۔ میں ابھی کام سے لوٹا ہوں یہ میرے گھر کے سامنے پہلے سے موجود تھے ۔مجھے دیکھتے ہی انھوں نے میرا نام پوچھا اور پھر بڑی بد تمیزی سے کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ،میرے انکار پر یہ مجھے مارنے لگے ۔ میری ماں نے مجھے چھڑانا چاہا تو اس پر بھی انھوں نے ہاتھ اٹھایا،میں آخر انسان ہی ہوں ،مجھے بھی غصہ آگیا اور جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ “
انسپکٹر نے کہا ۔”چلو !جو ہوا سو ہوا،اب تم طلاق نامے پر دستخط کر دو تاکہ مجھے یقین آ جائے کہ تم بے گناہ ہو ؟“
انسپکٹر کی بات سن کر سرغنہ نے جیب سے طلاق نامہ نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا ۔
”تھانیدار صاحب !….یہ میرا گھریلو معاملہ ہے؟“دانیال میں جانے کہاں سے اتنی جراَت آ گئی تھی ۔
”معاملے کے بچے ۔“ساتھ کھڑے سپاہی نے اس کے منہ پر تھپڑ جڑتے ہوئے کہا ۔ ”سائن کرتے ہو کہ آپریشن تھیٹر کی سیر کراوں ؟“
اس مرتبہ کچھ کہے بغیر دانیال نے سختی سے ہونٹ بھینچ لےے تھے ۔
”میرا خیال ہے تمھیں عزت راس نہیں آئی ؟“ انسپکٹر نے زہر خند لہجے میں پوچھا ۔
اسی وقت سرغنہ نے لقمہ دیا ۔”تھانے دار صاحب !….اگر طلاق دینے کے لےے کوئی رقم وغیرہ درکار ہے تو مطالبہ کرے ،جتنی رقم چاہےے ہو گی ہم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ؟“
”میرا خیال ہے اب تو تمھیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے ؟“ انسپکٹر نے خوشی سے دانت نکالے ۔ ”بتا کتنی رقم چاہےے ؟….دس ہزار ،بیس ہزار تیس ہزار ؟“
”تھانیدار صاحب !….یہ لاکھوں کا مطالبہ کرے اسے اگلے ایک گھنٹے کے اندر ادا کر دےے جائیں گے ؟“
”لل ….لاکھوں ؟“انسپکٹر کی زبان لڑکھڑا گئی تھی ۔
”ہاں سر!…. لاکھوں ….جتنے ہزار کی آپ نے بات کی ہے اتنے لاکھ پر سودا کر لے ؟“ سرغنہ بڑے سٹائل سے بولا ۔
”میرا خیال ہے کیس حل ہو گیا ؟….چل جوان !….سائن کر یا ر!….تو تو بیٹھے بٹھائے لکھ پتی بن گیاہے ؟ ہمیں بھی کچھ بخشش دے دینا ؟ایسے مواقع بار بار نہیں ملا کرتے “ انسپکٹر کے لہجے میں عجیب سی حسرت تھی ۔
”مجھے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں ،اور نہ میں اپنی بیوی کو طلاق ہی دوں گا ؟“دانیال پر عزم تھا۔
’اسے دیکھو ؟….بے وقوف !….رقم لے کر اپنی جان بچا لو،نہیں تو، تم نے منتیں کرنی ہیں کہ میں طلاق دیتا ہوں اور ہم نے نہیں ماننا ،کہ بچو!…. ٹھہرو ابھی محبت کی کہانی کا اختتام کر لیں؟“
”تھانیدار صاحب !…. آپ زیادتی کر رہے ہیں ؟یہ عدالت کا کیس ہے ۔اس بات کا فیصلہ جج کرے گا ؟“
”بلے بھئی بلے !….“ انسپکٹر مزاحیہ لہجے میں بولا۔”دلدار!….سن رہے ہوجناب کی باتیں ، قسم سے یہ تو پورا وکیل ہے ،اور اسے تو قانون کی ساری شقوں کا پتا ہے ،یوں کرو ،جناب کو لے جاو اور جتنی قانونی شقیں اسے معلوم ہیں اپنے پاس درج کر لو ،کام آئیں گی ۔ایسے عاشق روزانہ تو ہاتھ نہیں آتے ؟“
”جی سر !….“دلدار نامی سپاہی زہریلے لہجے میں بولا۔اور دانیال کو دروازے کی طرف دھکا دیتے ہوئے بولا ۔ ”چل بے !….تیری تولاٹری نکل آئی ہے ۔“
دانیال خاموشی سے اس کی بتائی سمت چل پڑا تھا ۔دوسرے دو سپاہی بھی ان کے ہمراہ چل دےے ۔بے گناہ ، غریبوں کو اذیتیں دے کر ان کی چیخیں اور کراہیں سننا ان کا دل پسند مشغلہ تھا ۔ مظلوموں پر ظلم و ستم ڈھا تے ان کے ضمیر مردہ ہو چکے تھے ۔
وہ اسے دھکے دیتے ایک اندرونی کمرے میں لے گئے تھے ۔سہ پہر کو بھی وہاں ملگجا اندھیرا چھایا تھا ۔ کمرے کے وسط میں ایک لکڑی کا تختہ پڑا تھا جس کے ساتھ کنڈے لگے تھے ۔ ان کنڈوں کے ساتھ چمڑے کے مضبوط تسمے بھی بندھے ہوئے تھے ۔
”چل بے مجنوں !….کپڑے اتار ؟“دلدار قہر آلود لہجے میں بولا۔
وہ گڑ بڑا کر بولا۔”کک…. کپڑے مگر کیوں ؟“
اس کیوں کا جواب اسے تھپڑوں اور لاتوں کی صورت میں ملا ۔ان کی تُندی دیکھ کر دانیال کے دل میں خوف کی لہر پیدا ہوئی، مگر پھر راحت جاں کا چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے آیا اور اس کا سارا ڈر اور خوف ہوا بن کر اڑ گیا ۔
”مِشّی !….میں ہر آزمائش میں پورا اتر کر دکھاوں گا ۔دیکھ لینا تمھارا دیوانہ اتنا بھی کمزور نہیں کہ دو ٹھڈے کھا کر تمھیں خود سے علاحدہ کر لے ۔یہ افتخار چھیننے کی اجازت میں کسی کو نہیں دوں گا ؟“
سپاہی اس کے بدن سے لباس نوچ رہے تھے اور وہ اپنی مشی سے مکالمے میں مشغول تھا ۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ اسے لباس سے بے نیاز کر کے لکڑی کے تختے پر الٹا لٹا کر باندھ چکے تھے ۔ اگلا مرحلہ کافی مشکل اور دشوار گزار تھا ۔چمڑے کا مضبوط چابک ایک تواتر سے اس کی پیٹھ اور کولہوں پر برسنے لگا ۔ دانیال نے چیخیں روکنے کے لےے ااپنے دانت سختی سے بھینچ لیے تھے ،مگر کب تک ؟ وہ ایسا تشدد نہیں تھا جس کے سامنے کوئی انسان ٹھہر سکتا ۔
لتر پریڈ کے بعد اسے پانی کے ٹب میں غوطے دیے جانے لگے ،پھر بجلی کا کرنٹ ، مرچوں کی دھونی، الٹا لٹکا کر بازووں سے وزن باندھنا ۔سر پر شاپر چڑھا کر سانس روکنا ….ان کے پاس تو اذیت رسانی کے نت نئے طریقے تھے ۔ گویااس فن میں وہ ڈگری ہولڈر تھے ۔ دورانِ تفتیش دانیال کئی بار بے ہوش ہوا۔ چیخیں مار مار کر اس کا حلق بند ہو گیا تھا مگر وہ بڑی دلچسپی اور دل جمی سے اپنے کام میں مشغول رہے ۔
مگر یہ اذیت ،تکلیف اور درد دانیال کے دل سے اس کی مشی کی یاد کو نہیں نکال سکا تھا ۔ کافی دیر بعد جب وہ بازو¿ں کے بل لٹکا تھا اور اس کے پاو¿ں سے وزن بندھا ہواتھا ۔تھانیدار اندر داخل ہوا ۔
”ہاں پتر !….کیا خیال ہے ؟….طلاق دینا ہے کہ نہیں ؟“اس کا لہجہ تاو دلانے والا تھا ۔ اسے یقین تھا کہ دانیال کے سارے کس بل نکل چکے ہوں گے اور اس کے استفسارپر وہ منتوں زاریوں پر اتر آئے گا۔مگر اس کے بر عکس دانیال کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”تھانیدار صاحب !….جب مرد فوت ہو جاتا ہے تو اس کی بیوہ کو طلاق کی ضرورت نہیں پڑتی۔“
”یہ پاگل تو نہیں ہو گیا ؟“ انسپکٹر سپاہیوں سے مخاطب ہوا ۔
دلدار نے جلدی سے جواب دیا ۔”نہیں جناب مکر کر رہا ؟“اور پھر دانیال کو جھانپڑ رسید کرتا ہوا بولا۔ ”ابے !….صاحب کی بات کا جواب دو ۔“
دانیال پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”دے تو دیا ہے ؟“
”صاحب نے پوچھا ہے، طلاق دینا ہے کہ نہیں ؟“دلدار نے انسپکٹر کی بات دہرائی ۔
”تو بتا دیا ہے نا جناب !….مجھے قتل کر دو اسے خود بہ خود طلاق ہو جائے گی ،کیوں کہ میرے لیے توطلاق دینا ناممکن ہے۔“
”دلدار !….تمھارے لیے شرم کا مقام ہے ۔ایک ملزم آپریشن روم میں کھڑا ہو کرانسپکٹر شہباز خان سے فلمی ہیروز کی طرح مکالمہ بازی کررہاہے ؟“
”معافی چاہتا ہوں جناب ….“دلدارنے دانت پیستے ۔”میں نے سوچا شاید ٹریلر سے یہ کہانی سمجھ جائے گا، مگر لگتا ہے اسے پوری فلم دکھانی پڑے گی ؟“
”اوکے !….تمھاری سزا ہے کہ یہ جب تک مانتا نہیں تم آرام نہیں کر سکتے ۔“ انسپکٹر حکم جاری کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ جب کہ دانیال کی آزمائش کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ۔
٭……..٭
مسکان کی آنکھ دن چڑھے ہی کھل سکی تھی اس نے پہلی بار نیند کی گولیاں لی تھیں اور صبح کی نماز بھی قضا کر بیٹھی تھی۔بیل دے کر اس نے ملازما کو بلایااور اسے ناشتا لگانے کا کہہ کر باتھ روم میں گھس گئی ابھی تک اسے غنودگی محسوس ہو رہی تھی اور سر بھی بھاری بھاری ہو رہا تھا ۔
نہانے سے اس کی کسل مندی دور ہو گئی ۔کپڑے تبدیل کر کے اس نے ڈائینگ روم کا رخ کیا۔ ملازما اس کے سامنے ناشتا چن کر باہر نکل گئی ۔ ایک بھرپور نیند لینے کے بعد اسے تھوڑی بہت بھوک محسوس ہورہی تھی ۔توس پر شہد لگا کر اس نے دانتوں سے کاٹا اور چاے کا سپ لینے لگی ۔ گھڑی گیارہ بجنے کا اعلان کر رہی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ حماد فیکٹری جا چکا ہو گا ۔ اذیت ناک سوچوں سے چھٹکارے کے لیے وہ اپنے کاروبار کے بارے سوچنے لگی ۔ اس کی فیکٹری اورٹرانسپورٹ سروس بہت اچھی طرح چل رہی تھی ۔ انکل مجیب ایک اچھے منتظم تھے ۔ انھی سوچوں کے دوران اسے خیال آیا کہ وہ کافی دنوں سے بھائیوں کو بھی ملنے نہیں جا سکی ہے ۔اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ آج وہاں ضرور جائے گی ۔چاے کا ایک کپ پی کروہ دوسرا کپ بھرنے لگی ۔
کپ اٹھا کر اس نے ہونٹوں سے لگایا ہی تھا، کہ حماد مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا ۔اس نے ہاتھ میں ایک سادہ سی فائل پکڑی تھی ۔مسکان کا دل کسی انجانے اندیشے سے دھڑکنے لگا ۔وہ قریب آکر خوشی سے چہکا۔
”Congratulationمیری جان !….یہ لوسائن شدہ Paper Divorce(طلاق نامہ)“
چاے کا کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرمیز کی سخت سطح سے ٹکرایا ۔نازک کپ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ،گرم چاے کے چھینٹے اس کے ملائم ہاتھ اور کپڑوں پر گرے ،مگر کپ کی طرح کرچی کرچی ہوتے احساسات نے اسے سن کر دیا تھا ۔اس کا دھواں دھواں ہوتا چہرہ دیکھ کر حماد نے گھبرا کر پوچھا ۔
”مسکان خیر تو ہے ؟“
مگر وہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔
”مسکان ….مسکان ؟“حماد نے اسے آواز دی،اور پھر اسے رکتے نہ دیکھ کر وہ اسے روکنے کے لیے اس کی جانب بڑھا مگر اس نے اپنی خواب گاہ میں گھس کر دروازہ کنڈی کر دیا تھا ۔
٭……..٭
حماد نے ایک دو بار دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر اس کے دروازہ نہ کھولنے پر یہ کوشش ترک کر دی ۔ یقینا وہ اسے سنبھلنے کا موقع دینا چاہتا تھا ۔
مسکان گرنے کے انداز میں بیڈ پرلیٹ گئی تھی ۔اسے سمجھ نہ آئی کہ اس کی آنکھوں کے سوتے کیوں پھوٹ پڑے ہیں ۔جس بات کے لیے وہ اتنی بے چین تھی اس کے پورا ہونے پر غم کیسا ،دکھ کا احساس کیوں ، یہ رونا دھونا کوئی اور کہانی سنا رہا تھا ۔
”میں رو کیوں رہی ہوں؟“اس نے خود سے سوال کیا ۔”یہی تو میں چاہتی تھی ،آخر کب تک برداشت کرتا ، پولیس کا غیر انسانی تشدد بڑوں بڑوں کے گھٹنے لگو ادیتا ہے وہ غریب تو ایک مزدور ہے۔“
”پتا نہیں مار سہتے ہوئے اس نے مجھے کتنی بد دعائیں دی ہوں گی ؟….دانی !…. مجھے معاف کر دینا یہ میری منشا نہیں تھی ۔میں تمھاری گرفتاری پر رضامند نہیں تھی۔ یقین کرو میرا….میں ایک بے بس حوّا زادی ہوں ۔ جسے بس وفا نبھانا آتا ہے ،کسی کے ساتھ کےے وعدے نبھانا میری مجبوری تھی ۔میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حماد کی نفرت کیسے برداشت کرتی؟. اللہ پاک کی قسم اگرتم مجھے حماد سے پہلے ملے ہوتے تو ، تمھارے پاوں دھو دھو کر پیتی ،مگر میں عورت ذات ہوں ،تم سے پہلے کسی کے ساتھ مرنے جینے کے عہد و پیمان باندھ چکی ہوں ،اسے زبان دے چکی ہوں ،اپنا آپ اس کے حوالے کر چکی ہوں ،تمھارے ساتھ شادی بھی اس کی خواہش کی تکمیل کے لیے تھی۔ گو اس شادی نے مجھے دو حصوں میں تقسیم کر دیا لیکن سالوں کی رفاقت اور چند ہفتوں کے عارضی ساتھ کا بھلاکیا مقابلہ۔ پھر یہ بھی دیکھو دانی!…. حماد بانجھ ہے اور اس کے عیب سے میں واقف ہوں ، اگر میں اس کا ساتھ چھوڑدیتی تو یقینا وہ یہی سوچتا کہ میں نے اس کے بانجھ پن کی وجہ سے کنارہ کر لیا ۔اوردانی …. پتا ہے نا؟ خاندانی عورت یوں نہیں کیا کرتی۔وہ اپنے شوہر کو کسی دکھ ،بیماری اور عیب کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیا کرتی ۔مرتے دم تک ساتھ نبھایا کرتی ہے ۔ میں بھی خاندانی عورت ہوں ۔میری سرشت میں وفا شامل ہے ۔دانی !…. تمھاری چاہت کی کوئی حد نہیں ۔ تم نے مجھ پرجو پیار محبت ،نچھاور کی وہ میرے لیے کسی انمول خزانے سے کم نہیں تھی ۔ہر لڑکی ایسی چاہت اور ایسے چاہنے والے کے خواب دیکھا کرتی ہے ،مگر تعبیر خال ہی کسی کا مقدر بنتی ہے ۔ میں نے بھی ایسے سپنے دیکھے تھے اور ان کی تعبیر تمھاری صورت میں میرے سامنے آئی، لیکن تم نے بہت دیر کر دی ،جب میں پرائی ہوئی تو تم آگئے۔ اب کیا ہو سکتا تھا ،بکی ہوئی چیز کا مالک تو دکاندار نہیں ہوا کرتا ،اس پر تو خریدنے والے گاہک کا حق ہوتا ہے نا؟میں بھی تو کسی اور کی ملکیت ہوں ….
اک بڑی بھول ہو گئی تم سے
اس کو مانگا کہ جو پرایا ہے
جو کسی اور تن کا سایاہے
آنسو ایک تسلسل سے اس کی آنکھوں سے رواں رہے ۔
”دانی!…. تم آکر دیکھو تو سہی تمھاری آنکھوں میں آنسو لانے والی خود کتنا رو رہی ہے ۔اتنے آنسو کہ تمھارا رومال بھی نہ پونچھ سکے۔الوداع دانی!…. الوداع۔“دانیال سے معافی مانگتے اور خود کو دلاسا دیتے جانے کتنی دیر گزر گئی پھر آہستہ آہستہ حواس اس کا ساتھ چھوڑنے لگے نیند کی مہربان دیوی نے اسے اپنی آغوش میں لیا اور وہ ہر غم سے بے نیاز ہو گئی ۔
مگر کبھی کبھی غم اتنے شدید ہوتے ہیں کہ شعور کی منزل پھلانگ کر لاشعور کے تہہ خانے میں گھس جاتے ہیں ۔اسی طرح لاشعور میں چھپے گلے شکوے بھی نیند کی حالت میں ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔
اسے زخموں سے چور دانیال دکھائی دیا جو لنگڑاتا ہوا اس کی جانب آ رہا تھا ۔
”مشی !….مجھے معاف کر دو ،میں تمھارے معیار پر پورا نہ اتر سکا ؟“
وہ غصے سے چلائی ۔”دانی !….میں نے سوچا بھی نہیں تھا ،کہ تم اتنے بودے نکلو گے ؟…. پولیس کے ذرا سے دھمکانے پر اپنی مشی کو خود سے جدا کر دیا؟…. نفرت ہے مجھے تم سے، تمھاری محبت سے ،تمھارے بلند و بانگ دعووں سے ۔ جھوٹے !….اتنا دم نہیں تھا تو پہلے ہی شکست تسلیم کر لیتے ۔میرے کہنے پر طلاق دے دیتے ،نہ شکل اچھی ہے اور نہ کردار ہی کسی قابل اور اپنانے چلے ہو سیٹھ داود کی بیٹی کو ہونہہ !….تف ہے تمھاری جوانی پر ،تمھارے اس مضبوط بدن پر جو میری نظر میں ناقابل ِ شکست تھا ؟….کاش تم نے ایک دن برداشت کر لیا ہوتا۔جان سے تو نہیں مار سکتے تھے نا تمھیں، میں آج رہا کرا لیتی ۔مگر تم نے میرا نہیں، محبت کا اپمان کیا ہے ،میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی ….کبھی نہیں ؟“
”مِشّی !….تمھاری قسم میں مجبور تھا ۔میں ……..“
”شٹ آپ !….“وہ دھاڑی ۔”مت کہو اپنی گندی زبان سے مجھے مشی ۔“
”بیگم صاحبہ !….میں معافی کا طلب گار ہوں ۔اور چاہتا ہوں تم صرف ایک دفعہ کہہ دو، بس ایک بار ، کہ تم بھی مجھے چاہتی ہو؟اس کے بعد میں اپنی منحوس صورت لے کر کہیں دور چلا جاوں گا ۔…. صرف ایک دفعہ بیگم صاحبہ!…. دیکھو میں نے ہر نعمت ،ہر آسائش ،ہر خوشی تمھارے لیے ٹھکرا دی ، اب تو میں مجبور کر دیا گیا تھا ،ورنہ ہار تو میں نے اب بھی نہیں مانی تھی ۔ گو جانتا ہوں میں تمھارے قابل نہیں ہوں ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں تم سے نسبت کا افتخار کھونانھیں چاہتا تھا ۔ لیکن مجبور کر دیا گیا ،بے بس کر کے مجھ سے میرا مان چھین لیا گیا ۔اب بس یہی حسرت ہے کہ تم ایک بارمیری محبت کا اقرار کرلو تاکہ میں یہاں سے کہیں دور چلا جاوں ؟“
”ہاں !….یہ سچ ہے ۔لیکن اب کیا فائدہ اس اقرار کا ؟“وہ رو دی ۔
دانیال کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے جھپٹ کر اسے سینے سے لگا لیا ۔ اس کے فراخ اور مضبوط سینے کا لمس مسکان کی روح تک کو سرشار کر گیا ۔اسے لگا جانے وہ کب سے اس چھاتی سے لپٹنے کو بے تاب پھر رہی تھی ۔ وہ شاید صدیوں اس سے چمٹی رہتی اور پھر بھی سیراب نہ ہوتی مگر ایک دم اسے یاد آیاکہ وہ اب اس کے نکاح میں نہیں رہی تھی ۔ اس نے کسمساتے ہوئے اس کی بانہوں کے گھیرے سے نکلنا چاہا ۔
”دانی !….پلیز مجھے چھوڑو ،اب میں تمھاری نہیں رہی ؟….تم مجھے طلاق دے چکے ہو ؟“
”ہا….ہا….ہا“دانیال کے ہونٹوں سے بلند بانگ قہقہہ برا ٓمد ہو ا۔”مِشّی !…. میری جان وہ جھوٹ تھا میں نے تمھیں طلاق نہیں دی ،یقین کرو میں مر سکتا ہوں تمھیں طلاق نہیں دے سکتا ،یہ تو بس تم سے اقرارِ محبت کرانے کا ایک بہانہ تھا۔“
”چل فراڈےے کہیں کے ؟“وہ اس کی فراخ چھاتی پر مکے برسانے لگی اور بے تحاشا ہنسنے لگا …. اچانک اس کا ہنستا چہرہ معدوم ہونے لگا اور اس کی ہنسی جیسے کراہوں میں بدلی اور بتدریج اس کی آواز موبائل فون کی ٹون میں بدل گئی ۔اس نے آنکھیں کھولیں ،خواب کے منظر کی جگہ اسے اپنی خواب گاہ کی منقش دیواریں دکھائی دیں ۔جب تک وہ خواب کی کیفیت سے باہر آتی موبائل فون کی ٹون بند ہو چکی تھی ۔
اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا کسی انجان نمبر سے بیس سے زیادہ کالیں آئی ہوئی تھیں۔کال ہسٹری چیک کرنے پر اسے پتا چلا کہ رات کو بھی اس نمبر سے اسے مس کالیں موصول ہو چکی تھیں۔اس کا دل عجیب قسم کے اندیشوں سے بھر گیا ۔ یقینا یہ کالیں رات اس کے نیند کی گولیاں کھانے کے بعد آئی تھیں ۔صبح وہ لیٹ جاگی تھی اور موبائل فون چیک نہیں کر سکتی اور پھر اس کے دوبارہ سونے کے بعد کالیں آئی تھیں۔وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کال بیک کرنے لگی ۔
جاری ہے
