Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06

دانیال کو دیکھ کر وہ استقبال کے لےے کھڑا ہوا اور پھر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔
” پلیز بیٹھیں جناب! ….“
دانیال خاموشی سے بیٹھ گیا۔
اس نے دلچسپی سے پوچھا۔”تو آپ شادی کے سلسلے میں تشریف لائے ہیں ؟“
”جی ….جی جناب ۔“
”خادم کو ظہیر کہتے ہیں ….آپ کا اسم شریف۔“
”دانیال ۔“
اس نے میز کی دراز سے ایک فارم نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔
”تو دانیال صاحب !….پہلے آپ یہ پُر کر یں ۔“
دانیال نے فارم لے کر دیکھا اور جھجکتے ہوئے کہا۔”یہ ….یہ تو انگلش میں ہے۔اور میری تعلیم آٹھ جماعت ہے کافی مندرجات میری سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔“
”اچھا پھر یہ پُر کرو ۔“اس مرتبہ اس نے اردو میں چھپا ہوا فارم اس کی جانب بڑھایا۔
دانیال نے فارم لے کر پُر کیا اور اس کی جانب واپس بڑھادیا۔
”سر !….فیس جمع کرا دیں ؟“اس نے فارم کے مندرجات پر ایک نظر دوڑاتے ہوئے خوش خلقی سے کہا ۔
دانیال نے پوچھا”کتنی فیس ؟“
”جیسا آپ کو رشتا درکار ہے ،اس کے مطابق فیس ہو گی ۔“
دانیال شرما کر بولا۔”بس جی خوب صورت اور خوب سیرت ہو ،باقی غریب امیر کی کوئی قید نہیں۔“
”عمر کتنی ہو نی چاہےے ؟….کنواری ہو یا شادی شدہ ؟“
”کنواری ہو نی چاہےے سر!…. اور میری ہم عمر یا مجھ سے چھوٹی ہو ۔“
”اچھا یہ البم دیکھ کر پسند کریں ۔اگر اس میں سے کوئی پسند آگئی تو ٹھیک ہے، دوسری صورت میں ہمیں آپ کے لےے کوئی اور رشتا دیکھنا پڑے گا ۔“ظہیرنے ایک ضخیم البم اس کی جانب بڑھایا۔
البم اس سے جھپٹتے ہوئے دانیال تصویریں دیکھنے لگا ۔تمام تصویریں نہایت خوب صورت لڑکیوں کی تھیں ۔ ہر ایک اس قابل تھی کہ اسے شریک حیات بنایا جاتا۔اس سے فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا کہ کس پھول کو اپنے گلشن میں سجائے ۔ کافی غور و خوص کے بعد اس نے ایک لڑکی کی تصویر پر انگلی رکھ دی جو ہاتھ میں سفید گلاب تھامے مسکرا رہی تھی ۔اور اس کے سپنوں میں آنے والی دوشیزاو¿ں سے کئی درجے بڑھ کے خوش شکل تھی ۔
”واہ ….لاجواب ۔حورین نام ہے اس دوشیزہ کا ۔“ظہیر کے ہونٹوں پر کاروباری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔ ”ٹھیک ہے…. تو نکالیں دس ہزار روپے ۔“
”دد….دس ہزار ؟“دانیال گڑبڑا گیا ۔
”ہاں جی !….اتنی رقم تو بہ ہر حال آپ کو ادا کرنی پڑے گی ۔حورین جیسی دوشیزہ ویسے تو آپ کو ملنے سے رہی؟“
اس نے پریشان ہو کر کہا۔”میرے پاس تو اس وقت صرف تین ہزار روپے ہیں ؟“ ۔
”کوئی بات نہیں ۔“وہ خوش خلقی سے مسکرایا۔”تم یہ رقم جمع کرا کے رسید لے لو اور بقیہ رقم کل جمع کرا دینا ۔اور یاد رہے شادی کے بعد ہمیں دو ہزار روپے مٹھائی کی مد میں بھی دینے ہوں گے ؟“
دانیال نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جیب سے تین ہزار کی رقم نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔
”ضرورجناب صاحب !….یہ تو آپ کا حق بنتا ہے ۔“
پیسے لے کر اس نے تین ہزار کی رسید لکھی، اور دانیال کے حوالے کر دی۔رسید پرتین ہزار وصول اور سات ہزار بقایا لکھا ہوا تھا ۔ وہ اسے تاکید کرتے ہوئے بولا۔”اور ہاں بقیہ فیس سے ساتھ اپنی ایک عدد تصویر ضرور لانا۔“
”ٹھیک ہے سر !….“کہہ کر اس نے پوچھا ۔”رشتا کب تک ہو سکے گا ؟“
”انشاءاللہ بہت جلد ….بس آپ مکمل فیس جمع کراد یں، تاکہ اس بارے ہمارا نمائندہ کام شروع کر سکے۔آپ جیسے گھبرو جوانوں کے لےے غریب گھرانوں کی ہزاروں خوب صورت لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں سوکھ رہی ہیں۔جنھیں دھن دولت اور صورت نہیں ،بس سر کا سائیابان ،پیار کرنے والا شریک حیات اور عزت کا رکھوالا چاہےے۔یوں بھی مرد کی صورت سے زیادہ اس کی جوانی ،مضبوط بدن اور قد کاٹھ دیکھا جاتا ہے۔ حورین بھی نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ پچھلے ہفتے ہی اس کے کوائف ہماری کمپنی میں اندراج کرائے گئے ہیں ۔ آپ کی خوش قسمتی کہ ابھی تک کسی دوسرے کی نظر اس فوٹو پر نہیں پڑ سکی ہے ۔“
اس کی باتوں سے دانیال ایک بار پھر سپنوں میں کھو گیا تھا ۔اس نے اگلے دن کا انتظار کرنے کے بجائے اسی وقت گھر آکر بقیہ سات ہزار روپے اٹھائے اور اس کے حوالے کر دئےے۔حورین جیسی لڑکی کے لےے اسے دس ہزار کی فیس معمولی لگی ۔اس کے ساتھ اسے یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں کوئی دوسرا اس کومل دوشیزہ کو نہ لے اڑے ۔ اپنی تصویر دینا وہ نہیں بھولا تھا۔ پیسے جمع کر کے ظہیر نے کہا ۔
”ٹھیک ہے دانیال صاحب !….چند دن تک آپ کو خوش خبری سنا دی جائے گی ۔ آپ کا فون نمبر ہمارے پاس ہے۔ جیسے ہی ساری تفصیلات طے ہوئیں ،ہم آپ کو مطلع کر دیں گے ۔بس آپ نے یہ کرنا ہے کہ شادی کے لےے اپنی تیاریاں مکمل رکھیں ،یہ نہ ہو بعد میں افرتفری مچی رہے ۔“
”آپ بے فکر رہیں جی ۔“دانیال نے شرمیلی سی مسکراہٹ سے کہا ۔”میری طرف سے ساری تیاری مکمل ہے ۔“ اور پھر وہ اس سے مصافحہ کر کے دفتر سے باہر نکل آیا۔
٭……..٭
وہ حماد کے لےے لاینحل مسئلہ بن چکی تھی۔اس کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ مسکان کو کیسے راضی کرے ۔ اس بابت وہ فریحہ سے مشورہ لینے کے لےے بھی تیار نہیں تھا ۔اس دن وہ فریحہ کے ساتھ بیٹھ کر دو پہر کا کھانا کھاتے ہوئے اسی سوچ میں غرق تھا ۔وہ اس سے بے خبر کسی اپنے مسئلے میں مشغول گفتگو تھی۔
”کیا تم بھی ،مجھے یونہی طلاق دے دو گے ؟“اپنی بات کے اختتام پر اچانک اس نے پوچھا۔
”طط ….طلاق ….بھلا میں اسے طلاق کیوں دوں گا؟“وہ گڑبڑا گیا۔
”ہاں!….اسے تو تم طلاق نہیں دو گے۔ میں نے اپنی بات کی ہے ۔“
”فری !….تم کیا کہہ رہی ہو ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ؟“
”وہ کچھ زیادہ ہی تمھارے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے ۔کہ اب میرے پاس بیٹھ کر بھی اسی کی سوچ میں کھوئے ہو؟“
”کیا بکواس ہے یار؟“حماد نے سر تھام لیا ۔”اب میں کسی بھی مسئلے پر سوچوں گا تو، تم شک کرو گی کہ میں تمھاری سوکن کے بارے سوچ رہا ہوں ؟“
”وہ میری سوکن کب سے ہو گئی ؟“فریحہ جلے کٹے انداز میں بولی ۔”میں تمھاری دلہن اس وقت بنوں گی جب وہ تمھاری زندگی سے دفع ہو چکی ہو گی ؟“
”اچھا یہ موضوع سمٹ سکتاہے ؟“
”تم نے خود چھیڑا ہے مجھے ….؟میں تو تمھیں اپنی کزن شازیہ کی لو سٹوری کا ڈراپ سین سنا رہی تھی ۔“
”کیا ہوا شازیہ کی محبت کو ؟“حماد کو شازیہ میں بالکل ہی دلچسپی نہیں تھی مگر وہ اس موضوع سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا ۔
”شاہد نے اسے طلاق دے دی ہے ۔اور یہ وہی شاید ہے ،جو اس کے بغیر مر جانے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔“
”کوئی وجہ تو ہوئی ہو گی ؟“حماد نے دلچسپی ظاہر کی ۔
”اصل وجہ تو پتا نہیں ہے ۔اور نہ میں نے جاننے کی کوشش ہی کی ہے ۔البتہ اب جناب شاہد صاحب پریشان ہے ۔اور دوبارہ اسے گھر لے جانا چاہتا ہے ۔مگر یہ ممکن نہیں ہے ۔“
”ہاں ….اب بھلاشازیہ کیوںکرمانے گی ؟“حماد نے لقمہ دیا ۔
”نہیں وہ بے وقوف بھی تیار ہے ۔مگر اب طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے دوسرے شوہر کے پاس جانا ممکن نہیں ہے ۔“
”تو ؟“
”تو یہ ،کہ اب وہ کسی ایسے مرد کی تلاش میں ہے جو شادی کے بعد شازیہ کوطلاق بھی دے دے۔“
”گڈ ….۔“حماد کے ذہن میں ایک خیال کوندے کی طرح لپکا ۔
”میرا خیال ہے یہ اتنی اچھی خبر تو نہیں ہے ؟“فریحہ کو اس کی بات پر حیرانی ہوئی تھی ۔
”اچھی خبر ہے نا ؟“وہ خوشی سے چہکا ۔”میاں بیوی میں صلح ہونا بری بات ہے کیا ؟“
”میں نے صلح کی نہیں طلاق کی بات سنائی ہے ۔“فریحہ نے منہ بنایا۔
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”میں نے طلاق کے بعد صلح کی بات پر گڈ کہا ہے ۔“
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو ….یہ بتاو¿ تمھاری مسکان صاحبہ کب خوش خبری سنا رہی ہیں ؟“
”خوش خبری تو وہ ہمارے لےے ہو گی نا ؟ اس بے چاری کے لےے تو موت کا پیغام ہو گا ۔“
”چلو یونہی سہی ….یہ بتاو¿ ڈاکٹر نے کیا بتایا ہے ؟“
”ڈاکٹر کا کہنا ہے، کچھ وقت لگ جائے گا ۔“اس نے صریحاََ جھوٹ بولا۔
”کتنا ….؟“
”اتنا زیادہ بھی نہیں ،کہ تم پریشان ہونا شروع کر دو ۔“حماد نے اسے تسلی دی ۔
”پریشانی…. بہت چھوٹا لفظ ہے ۔“اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔”اپنے محبوب کو غیر کی بانہوں میں دیکھنا ، پریشانی نہیں ،کچھ اورکہلا تا ہے۔“
”پلیز فری !….اب پرانا قصہ نہ چھیڑ نا ۔ایک دفعہ جب ہر بات متعین ہو گئی ہے تو اب گڑے مردے مت اکھیڑو؟“
”چلو آئس کریم کھاتے ہیں۔“فریحہ غیر متوقع طور پر اس کی بات مان گئی تھی ۔
بل ادا کر کے وہ دونوں ہوٹل سے باہر نکل آئے ۔آئس کریم کھاتے ہوئے وہ گہری سوچ میں کھویا رہا ۔ شازیہ کی طلاق والی بات پر اس کے ذہن میں ایک اچھوتی تجویز آئی تھی ۔ فریحہ کوڈراپ کر کے وہ اطمینان سے اس بارے سوچنے لگا ۔ اگر وہ مسکان کو عارضی طور پر طلاق دے دیتا اور وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ۔ جب حمل ہو جاتا تو اس سے طلاق لے کر واپس حماد سے شادی کر لیتی ۔اس کے علاوہ کوئی ایسی تجویز نہیں تھی جس سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتا ۔تمام پہلوو¿ں کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد وہ مسکان سے بات کرنے کے لےے تیار ہو گیا ۔
٭……..٭
ان دنوں اٹھتے بیٹھتے دانیال کی نظروں میں حورین کا دلکش چہرہ گھومتا رہتا ۔وہ بڑی بے صبری سے شادی آفس کی طرف سے جواب کا منتظر تھا ۔اپنی ماں کو اس نے اس بات سے بے خبر رکھا تھا ۔وہ سارا کام مکمل ہونے کے بعد اسے یہ خوش خبری سنانا چاہتا تھا۔
ایک ماہ گزرنے کے بعد جب اس سے مزید صبر کرنا دشوار ہو گیا تو وہ خود دفتر میں پہنچ گیا ۔ استقبالیہ پر وہی آدمی موجود تھا ۔ دانیال نے کہا۔
”ظہیر صاحب سے ملنا ہے ؟“
”آئیں دانیال صاحب بیٹھیں ۔“وہ خوش خلقی سے بولا۔
”شکریہ سر !….بس ظہیر صاحب سے ملوا دیں ۔“
”وہ آپ کے رشتے کے سلسلے ہی میں مصرو ف ہے ۔بس چند دن مزید صبر کر لیں ۔“
”ٹھیک ہے جناب ۔“دانیال چہرے پر مسکراہٹ بکھیر تے ہوئے واپس لوٹ آیا۔اگلا ایک ہفتہ گزارنے کے بعد بھی ، جب کوئی اطلاع نہ ملی تو ایک مرتبہ پھر وہاں پہنچ گیا ۔
استقبالیہ پر موجود شخص نے اسے دیکھتے ہی کہا ۔
”ظہیر صاحب آفس میں موجود نہیں ہیں آپ کل تشریف لے آئیں ۔“
اور دانیال پھر مایوس ہو کر لوٹ آیا ۔اگلے دن فیکٹری میں جانے کے بجائے وہ سیدھا شادی آفس میں پہنچ گیا ۔
”آئیں جناب !….بیٹھیں ۔“استقبالیہ پر وہی پرانا آدمی براجمان تھا ۔
”ظہیر صاحب موجود ہیں ؟“دانیال نے پوچھا ۔
”جی ہاں بیٹھے ہیں ۔آپ تشریف لے جائیں ۔“
دانیال ۔”شکریہ کہتے ہوئے آفس کی طرف بڑھ گیا ۔
”آئیں دانیال صاحب!…. آئیں،بڑی لمبی عمر ہے ۔ابھی میں آپ کو ہی یاد کر رہا تھا۔“ظہیر اسے دیکھتے ہی خوش خلقی سے بولا۔
دانیال اس مصافحہ کر کے بے صبری سے مستفسر ہوا ۔”تو کیا رہا ظہیر صاحب؟“
”آپ بیٹھیں تو سہی بتاتا ہوں ۔“اس کا انداز حوصلہ افزا تھا۔
دانیال جلدی سے بیٹھ گیا ۔ظہیر نے کھنکار کر گلا صاف کیا ۔پھر رومال نکال کر ماتھے سے فرضی پسینہ پونچھتے ہوئے بولا۔
”دانیال صاحب !….میں پچھلے ماہ سے ،بہت سے کام ،اور لوگوں کے رشتے التوا میں ڈال کر، تمھیں اور حورین کو ایک بندھن میں باندھنے کی کوشش میں جتا رہا ۔ یقین مانو مجھے تم دونوں کی جوڑی بالکل ایسی لگتی تھی جیسے چاند اور سورج کی جوڑی۔مگر اسے ہم بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ جب سب کام مکمل ہو گیا تو کہیں سے حورین کا ایک رشتا دار آن ٹپکا ۔ اس کے چچا کا بیٹا ہے اور لندن میں سیٹل ہے ۔ اس کی حورین سے بچپن میں منگنی ہوئی تھی ، اور اب وہ اس منگنی کے رشتے کو شادی میں بدلنے آ پہنچا ۔حورین کا باپ مجھ سے بہت شرمندہ تھا ۔خود حورین بھی اس ڈاکٹر کے ساتھ شادی پر راضی نہیں تھی ۔ لیکن برادری کے بزرگوں نے باپ بیٹی کی ایک نہ چلنے دی ۔ بس یار!…. ایک اسے قسمت کا الجھاوا ہی کہہ سکتے ہیں ۔“
”تت….تو اب کیا ہو گا ؟“دانیال کو شدید غم محسوس ہوا تھا۔خاص کر یہ جان کر تو اس کے غم کی شدت میںاور اضافہ ہو گیا تھا ،کہ اتنی خوب صورت لڑکی اس کی وجہ سے ایک ڈاکٹر کے رشتے کو ٹھکرانے پر تل گئی تھی ۔برا ہو اس منحوس برادری کا جس کی وجہ سے اسے یہ غم سہنا پڑا تھا۔
”بہ ہر حال فکر نہ کرو ….تم کوئی اور رشتا پسند کر لو ۔“ظہیر نے ضخیم رجسٹر اس کے جانب بڑھایا۔جو دانیال نے بجھے دل سے تھام لیا ۔اور ایک مرتبہ پھر ان حسیناو¿ں کے جلوے سے آنکھیں سینکنے لگا۔ جانے اس میں سے کون سی اس کے نصیب میں تھی ۔ حورین کی تصویر ابھی تک البم میں سجی ہوئی تھی ۔
اس نے حورین کی تصو یر کو حسرت سے دیکھتے ہوئے ظہیر سے پوچھا ۔”یہ تصویر اب تک اس میں موجود ہے ؟“
”ہاں ….ہم ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں ۔بس اب یہ تصویر اس البم سے نکال کر دوسرے میں لگانی ہے ۔ یوں بھی اس کا رشتا تو ہم نے کروا دیا ہے ۔ یہ علاحدہ بات ہے کہ اپنی کسی مجبوری کی بنا پر انھیں یہ رشتا مسترد کرنا پڑا ۔“
کافی غور و خوص کے بعد دانیال نے ایک او ر لڑکی کی تصویر کو پسند کیا ۔ساری ایک سے بڑھ کر ایک تھیں ۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنی خوب صورت لڑکیاں یوں رشتے کے انتظار میں سوکھ رہی تھیںاور پتا نہیں اس کی امی کہاں گھوم رہی تھی ۔لڑکی کا صرف چہرہ نظر آرہا تھا باقی بدن کالے لبادے سے ڈھکا ہوا تھا۔
”واہ ….واہ ….جواب نہیں دانیال صاحب آپ کا ۔“ظہیر نے اس کی پسند کی داد دی ۔ ”یقین مانو اگر میں شادی شدہ نہ ہوتا تواسی لڑکی کوشریک حیات بنانا پسند کرتا ۔حیا نام ہے اس کا ۔بڑی شرمیلی اور حیا والی ہے ۔ ابھی ایف اے سی کا امتحان دیا ہے ۔ باپ اس کی تعلیم کا مزید خرچا برداشت نہیں کر سکتا اس لےے شادی کی فکر میں پڑ گیا ۔“
” رشتاکب تک طے ہو سکے گا ؟“دانیال کو اس لڑکی کی مجبوریوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔
”زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ دن ….آپ بس فیس جمع کرا دیں ۔“
”فیس ….؟“دانیال حیرت سے بولا۔”سر میں نے دس ہزار جمع کرائے ہوئے ہیں ۔“
”سر جی !….وہ تو حورین کے رشتے کے لےے تھے ۔اور اس سلسلے میں ہمیں کئی کئی چکر لڑکی کے گھر کے لگانے پڑتے ہیں ۔ اور بھی کئی ضروری کارروائیاں کرنی ہوتی ہیں ۔ہمارے لےے کیا بچتا ہے ؟“
”مگر رشتا تو نہیں ہوا ناں ؟“دانیال کو دس ہزار ضائع ہونے کا قلق ہو رہا تھا ۔
ظہیر مکاری سے بولا۔”چلو اس طرح کریں کہ آپ پانچ ہزار جمع کرا دیں ،آدھی فیس میں معاف کر دیتا ہوں۔“
”دیکھیں جی میں مزدور پیشہ آدمی ہوں اور ……..“یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ استقبالیہ کمرے سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں ۔ظہیر بے اختیار اسقبالیہ کمرے کی طرف بڑھا ۔ دانیال بھی اس کے پیچھے ہو لیا ۔
٭……..٭
تفصیل سن کر مسکان نے سر پکڑ لیا تھا ۔
”حماد!…. آپ کو ہو کیا گیا ہے آخر ؟“
”مجھے کسی بھی قیمت پر بچہ چاہےے ۔“اس نے کئی دفعہ کی کہی ہوئی بات دہرائی ۔
”تو ہم یتیم خانے سے کوئی بچہ لے آتے ہیں ؟“
”مجھے تمھارا بچہ چاہےے،صرف تمھارا سمجھیں ۔“حماد نے آنکھیں نکالیں ۔
”حماد یہ تو کسی کو دھوکا دینا ہوا نا؟“
”دھوکا کیسا ….؟یہ ایک حیلہ ہے ۔بالکل ایسے جیسے طلاق یافتہ لڑکی، دوبارہ اپنے شوہر کے نکاح میں آنے کے لےے حلالہ کراتی ہے ۔“
”وہ تو مجبور ہوتی ہے اور….“
”کیا ہم مجبور نہیں ہیں ؟“حماد نے قطع کلامی کی ۔”دیکھو ،جس سے تم خفیہ نکاح پڑھواو¿ گی، اسے ہم سے مالی فائدہ بھی تو پہنچے گا نا؟“
”آپ نے مجھے کس جھنجٹ میں ڈال دیا ہے ۔میں غیر مرد کو کیسے اپنے قریب برداشت کروں گی؟“
حماد نے جھٹ جواب دیا۔”وہ غیر نہیں، تمھارا شوہر ہو گا ۔“
”کیا آپ یہ سب برداشت کرلیں گے ؟“
”ہاں ….کیونکہ میں جانتا ہوں تم صرف میری ہو ۔بالکل اسی طرح ،جیسے میں صرف تمھارا ہوں ۔ اور کسی دوسرے کی قربت تمھارے دل سے میری محبت نہیں نکال سکتی ۔“
”حماد یہ ٹھیک نہیں ہے ؟آپ مجھے جذباتی بلیک میل کر رہے ہیں ؟“
مسکان کا تذبذب حماد کو امید دلاگیا۔وہ شدّ و مدّ سے بولا۔”پلیز جان !….چند ہفتوں کی بات ہے ۔ اس کے بعد ہم دوبارہ اکھٹے ہو جائیں گے ۔“
”مجھے سوچنے کا موقع دو ۔“
”اوکے ….پرسوں اس مو ضوع پر بات ہو گی ۔“حماد جلدی سے بولا ۔مسکان کی طر ف سے اتنی لچک بھی حوصلہ افزاءتھی ۔ اور پھر وہ مسکان کو اکیلا چھوڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔وہ اسے آزادی سے سوچنے کا موقع دینا چاہتا تھا۔
٭……..٭
مسکان کے لےے حماد کی آفر حد درجہ حیرانی کا باعث تھی ۔
”کیا کوئی محبت کرنے والا ،یوںبھی اپنی بیوی کسی دوسرے کے حوالے کرتا ہے ؟“ اس نے کرب سے سوچا ۔ پھر اسے حماد کا بچے کے لےے جنون یاد آیا۔
”شاید بچے کی محبت مجھ سے بڑھ کرہے ؟“یہ خیال بھی دکھ دینے والا تھا ۔
وہ کافی دیر مختلف قسم کی تکلیف دہ سوچوں میں کھوئی رہی ۔حماد کی بات ماننے اور نہ ماننے کے خیالات میں متذبذب رہی۔ پھر ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس نے مفتی صاحب کا نمبر ملایااور ساری بات اس کے گوش گزار کر دی ۔
”بیٹی !….عجیب مسئلہ پوچھ رہی ہو ؟“مفتی صاحب گلا کھنکارتے ہوئے بولے ۔
”مفتی صاحب !….آپ ہی نے اس کا کوئی حل بتانا ہے ،میں تو سوچ سوچ کر عاجز آگئی ہوں ۔“
”یہ یقینی بات تو نہیں کہ دوسرے شوہر سے لازماََ آپ کی اولاد ہو ؟اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو کیا دوسرا شوہر مطالبے پر طلاق دے دے گا ۔پھر یہ بھی یاد رہے کہ عورت صرف اس صورت میں خلع لے سکتی ہے جب اس کا شوہر نامرد ہویا اسے بسانا نہ چاہتا ہو اور ظلم وغیرہ کا مرتکب ہو ۔صرف ناپسندیدگی یا اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنے کی وجہ سے خلع نہیں لی جا سکتی ۔ایسی کئی قباحتیں ہوتے ہوئے میں آپ کوکیسے اس کا مشورہ دے سکتا ہوں ؟“
”مفتی صاحب !….اگر دولت وغیرہ دے کر دوسرے شوہر کو طلاق دینے پر رضامند کر لیا جائے تو کیا طلاق نہیں ہوگی؟“
”اس صورت میں طلاق ہو تو جائے گی ۔مگر پھر بھی میں اس کا مشورہ نہیں دوں گا ۔بہتر یہی ہے کہ آپ دونوں اللہ تعالی سے اولاد مانگیں جس ذات کے لےے کوئی کام ناممکن نہیں ۔“
”مفتی صاحب !….اگر یہ نہ کروں تو میرا شوہر ٹیسٹ ٹیوب بے بی پر زور دے رہا ہے ۔“
”بیٹی !….یہ تو کسی بھی شوہر کے لےے بہت بے غیریتی کی بات ہے کہ اس کی نسل کسی اور سے چلے۔“
”اچھامفتی صاحب !….ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور اس صورت میں سے کون سی قابلِ عمل ہے؟“
”ٹیسٹ ٹیوب بے بی ،اگر اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد سے ہو تو لاریب حرام کاری ہے ۔ جبکہ موخّرالذکرمسئلہ میں بچہ کا نسب ثابت ہے ۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آج کل حلالہ کا فعل سر انجام دیا جاتا ہے ۔ یعنی حلالہ تو ہو جاتا ہے مگر شریعت کے نقطہ نظر سے یہ ناپسندیدہ عمل ہے ۔ اسی طرح مسﺅلہ صورت بھی میرے نقطہ نظر سے گناہ کا باعث ہے اور موجب گناہ ،عورت سے زیادہ اس کا شوہر ہے جس نے اس کام کے لےے عورت کومجبور کیا ۔“
”مفتی صاحب !….اللہ تعالیٰ آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے کہ آپ نے بہتر رہنمائی فرمائی۔“مسکان نے اختتامی الفاظ کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
٭……..٭
وہ ادھیڑ عمر شخص تھاجو اسقبالیہ پر بیٹھے ملازم سے جھگڑ رہا تھا۔”میں پوچھتا ہوں ،کہاں ہے وہ دھوکے باز آدمی ،فیس کے نام پرمیرے تیس ہزار روپے ہڑپ گیا اور اب تک لڑکی تو کیا گدھی بھی میرے نکاح میں نہیں آئی….؟“
یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ وہ دونوں آگے پیچھے دفتر سے باہر نکلے ۔ظہیر کو دیکھتے ہی وہ اس کی جانب لپکا ۔
”مسٹر مجھے میرے تیس ہزار لوٹا دو ….میں نے شادی نہیںکرنی ۔“
”اختر صاحب !….کیا ہو گیا ہے آپ کو۔ رشتے اتنی جلدی تو نہیں ہوا کرتے ۔بات چل رہی ہے ، امید ہے چند دنوں تک میں آپ کو خوشخبری سنا سکوں گا ۔“ظہیر نے نہایت تحمل سے جواب دیا ۔ دانیال کو بھی اس مرد کی بے صبری پر حیرت ہو رہی تھی۔
”مجھے نہیں کرنا شادی ،بس میری فیس واپس کرو ۔“
”دیکھیں اختر صاحب !….یہ کاروبار ی اصولوں کے خلاف ہے ۔آپ کی فیس ہم نے بینک اکاو¿نٹ میں نہیں ڈالی ہوئی ؟وہ رقم آپ کے رشتے کی بات چیت کے لےے استعمال ہوئی ہے ۔“
اختر بد تمیزی سے بولا۔”میں کچھ نہیں جانتا ،مجھے اپنی رقم واپس چاہےے ۔ورنہ میں اس کمپنی پر کیس کر دوں گا ؟“
”بڑے شوق سے جناب ۔لیکن تھانے جانے سے پہلے ہماری شرائط ساتھ لیتے جائےے جو ہر شادی کے خواہش مند افراد کو ہم پڑھنے کے لےے دیتے ہیں ۔“یہ کہہ کر ظہیرنے استقبالیہ والے ملازم کو کہا۔
”لیاقت !….اسے شرائط دیکھا دو ۔“
لیاقت نے سرعت سے ایک چارٹ میز کی دراز سے نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔ چارٹ کا عنوان تھا ۔ ”شادی کے خواہش مند افراد کے لےے ہدایات “
”محترم !….یہ ملاحظہ فرمائیں ۔فیس ناقابلِ واپسی ہو گی ، رشتا طے نہ ہونے کی صورت میں کمپنی جواب دہ نہیں ہو گی ۔ اور ہر رشتے کی فیس پوری ادا کی جائے گی ۔وغیرہ وغیرہ ۔“
اختر نے واویلا مچایا۔”یہ چارٹ مجھے پہلے نہیں دیکھایا گیا تھا ؟“
”تو آپ مانگتے ناں ؟….یوں بھی یہ ….یہاں لٹکا ہوتا ہے ۔“ظہیر نے دیوار میں گڑی ایک کیل کی جانب اشارہ کیا ۔
”جھوٹے،مکار،میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں ؟“اختر خطرناک ارادے سے ظہیر کی جانب بڑھا۔ ظہیر نے گھبرائے بغیراپنے آفس کے ساتھ والے دروازے کی طرف دیکھ کر زور سے پکارا ۔
”قربان ،ظہور؟“
اگلے لمحے ہاتھوں میں رائفلیں پکڑے دو مسٹنڈے کمرے سے برآمد ہو کر، اختر کی طرف بڑھے ، جو انھیں دیکھتے ہی اپنی جگہ منجمد ہو گیا تھا ۔
ان میں سے نسبتاََ کرخت شکل والااختر کو گریبان سے پکڑ کر بیرونی دروازے کی طرف دھکیل کر غرایا ۔
”آئندہ اگر اس دفتر میں نظر آئے تو گردن توڑ دوں گا ۔“
وہ دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولا۔
”میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں یاد رکھنا ۔تم اتنی آسانی سے میرے پیسے ہضم نہیں کر سکتے ؟“ مگر وہاں پر موجود تمام آدمیوں کی طرح خود کہنے والے کو بھی پتا تھا کہ یہ گیدڑ بھبکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔اور اس کے ساتھ ہی دانیال نے بھی بیرونی دروازے کی جانب قدم بڑھا دئےے۔وہ جانتا تھا کہ دس ہزار کی رقم اب اسے ملنے والی نہیں تھی ۔البتہ اختر کی آمد سے کم از کم یہ فائدہ ضرورہوا تھا کہ وہ مزید دھوکا کھانے سے بچ گیا تھا۔ اسے جاتے دیکھ کر ظہیر نے آواز دی ۔
”آپ کہاں چل دئےے دانیال صاحب ؟“لیکن وہ سنی ان سنی کرتا آفس سے باہر آگیا ۔اس نے اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔گو وہ دونوں مسٹنڈے اس سے جسمانی طور پر تگڑے نہیں تھے ۔ اگر وہ خالی ہاتھ ہوتے تو شاید وہ ان سے ہاتھا پائی پربھی تیار ہو جاتا۔ مگر ہتھیار کی موجودی میں وہ اس کے قابو کہاں آتے ۔ غنیمت یہی تھا کہ وہ اپنی عزت بچا کررخصت ہو رہا تھا ۔شادی کرنا شاید رب نے اس کے نصیب میں لکھا ہی نہیں تھا۔
(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *