Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30

فریحہ نے موبائل بیڈ پر پٹخا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔مسکان اس کی کال اٹینڈ نہیں کرر ہی تھی ۔رات کو اگر وہ سوئی تھی پورا دن تو سوئی نہیں رہ سکتی تھی ۔ صبح ناشتے سے فارغ ہو کر ، یونیورسٹی جاتے ہوئے اور پھر وہاں سے واپسی کے وقت وہ مسلسل اسے رنگ کرتی رہی تھی ۔
”یقینا وہ انجان نمبر کو نظر انداز کرر ہی ہے؟“ایک ممکنہ سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔
”مطلب اب مجھے رسک لیتے ہوئے اس کا پاس جانا پڑے گا ؟“وہ سو چنے لگی ،کہ کس طرح حماد کی غیر موجودی میں اس کے پاس جا سکے گی۔اس سے پہلے کہ سوالیہ سوچیں کسی نتیجے پر پہنچتیں اس کا موبائل فون بجنے لگا ۔سکرین پر مسکان کا نام چمکتا دیکھ کر اس نے جھٹ کال رسیو کی ۔
”اسلام علیکم !“
”وعلیکم السلام !“
مسکان کے لہجے سے اسے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اسے پہچان نہیں سکی تھی ۔
”باجی !….میں فریحہ بول رہی ہوں ۔“
”اوہ فریحہ !….“مسکان کے منہ سے اطمینان بھری سانس خارج ہوئی ۔”کیسی ہو ؟“
”ٹھیک ٹھاک باجی !….میں کل رات سے آپ کا نمبر ملا رہی ہوں۔“
”سوری !….رات جب آپ نے کال کی میں میڈیسن لے کے سوئی تھی۔ طبیعت کچھ ناساز تھی، صبح دیر سے جاگی، موبائل چیک نہ کر سکی اورناشتا کر کے دوبارہ سو گئی ،اور ابھی آپ کی کال کی وجہ ہی سے جاگی ہوں۔“
”خیر تو ہے ؟کیا ہوا طبیعت کو ؟“
”ہاں خیر ہے ،بس سر درد تھا ،احتیاطاََ میڈیسن لی تھی ۔اور آپ سنائیں کیسے یاد کیا ؟ وہ بھی اس شدت سے کہ درجنوں کالز کر ڈالیں ؟“
”باجی !….ایک ضروری کام کے سلسلے میں آپ سے ملاقات کرنا تھی؟“
” آجائیں ۔“
”نہیں وہاں نہیں ،کسی ایسی جگہ جہاں کوئی اور نہ ہو ؟“
”تو میں اکیلی ہوںنا ؟“
”میں نہیں چاہتی کہ اس ملاقات کی خبر حمادکوہو ۔“
مسکان نے حیرانی سے کہا ۔”میں سمجھی نہیں ؟“
”اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے ؟میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں اس طرح کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو، خصوصاََ حماد کو تو بالکل پتا نہ چلے ۔“
مسکان راضی ہوتے ہوئے بولی۔”ٹھیک ہے میں تمھارے پاس آ جاتی ہوں ۔“
” یہ ٹھیک رہے گا ۔آپ مجھے گھر سے پک کر لیں پھر کہیں اطمینان سے بیٹھ جائیں گے ؟“
مسکان نے پوچھا۔”اپنا ایڈریس بتاو؟“
جواباََ وہ ایک مشہور شاپنگ پلازہ کا نام لیتے ہوئے بولی ۔”میں وہاں آپ کی منتظر ہوں گی ۔“
مسکان نے اوکے کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
٭……..٭
دانیال نے بہ مشکل آنکھیں کھولیں ۔تھانیدار کے اشارے پر سپاہی نے ایک اور پانی کا گلاس اس کے چہرے پر پھینکا ۔ آنکھیں کھلنے کے باوجود اس کا دماغ گھوم رہا تھا ۔
”اٹھ جا پتر !….تمھاری ضمانت ہو گئی ہے ۔“اس کی سماعتوں میں تھانیدار کی زہریلی آواز گونجی ۔
یہ خوش خبری بھی اس کے جسم میں اٹھنے والی درد کی لہروں کی شدت کو کم نہیں کر سکی تھی ۔
”یہ لو اپنے ضمانت نامے پر دستخط کرو ۔“تھانیدار نے انگریزی میں چھپا ایک کاغذ اس کی جانب بڑھا کر ایک خانے میں انگلی رکھ دی ۔
کانپتے ہاتھ سے پین پکڑ کر اس نے ٹوٹے پھوٹے دستخط کیے ۔حفظ ماتقدم کے طور پر تھانیدار نے اس کا انگوٹھا بھی کاغذ پر لگوایا اور سپاہی سے بولا ۔
”اسے واپسی کا کرایہ دے کر رخصت کر دو ۔“
سپاہی اسے ہاتھ سے پکڑ کر تھانے سے باہر لایا اوراس کے ہاتھ پر سو روپے کا نوٹ رکھ کر وہ واپس مڑ گیا ۔
اس کی جیب میں موجود نقدی پر پولیس والے پہلے سے ہاتھ صاف کر چکے تھے ۔ غنیمت تھا کہ اس کا موبائل انھوں نے واپس کر دیا تھا ۔
ایک رکشا روک کر وہ اس میں بیٹھ گیا ۔گھر کے سامنے اتر کر اس نے قدموں کی لرزش پر قابو پایا کہ اس کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر اس کی ماں کو دکھ ہوتا۔مگر اس کی یہ کوشش بام ِ عروج تک نہ پہنچ سکی ۔اسے گھر میں داخل ہوتادیکھتے ہی ماں تڑپ کر آگے بڑھی اور اسے اپنی شفیق آغوش میں لے لیا ۔
”اللہ پاک ان ظالموں کو برباد کرے کیا حال کر دیا میرے لال کا ۔“عائشہ خاتون رونے لگی ۔
”میں ٹھیک ہوں ماں ۔“دانیال نے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔مگر وہ ماں ہی کیا جو اولاد کی تکلیف محسوس نہ کر سکے۔ اسے چارپائی پر لٹانے تک وہ پولیس والوں کو کوستی رہی اور پھر کچن میں جاکر اس کے لےے دودھ گرم کرنے لگی ۔ ہلدی ملا گرم دودھ پی کر دانیال کو تھوڑا سا سکون محسوس ہوا۔ماں سرھانے بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی ۔
”بیٹا !….کون تھے یہ موئے غنڈے اور کیوں جھگڑ رہے تھے تم سے ؟“
””پتا نہیں ماں جی !…. کون تھے ۔“دانیال نے اصل بات سے پردہ اٹھانا مناسب نہ سمجھا ۔ یوں بھی مسکان کا گلہ اس کی زبان پر نہیں آسکتاتھا۔
”پولیس والے کیا تفتیش کرتے رہے ؟“
”پولیس بھی تو غنڈوں کا ساتھ دیتی ہے نا ماں !….؟“
”اچھا پتا ہے دانی!…. انھوں نے تمھیں اتنی جلدی کیوں رہا کر دیا ؟“
”نہیں ماں !….بس ابھی تھوڑی دیر پہلے تھانیدار نے کہا کہ میری ضمانت ہو چکی ہے اور میں جا سکتا ہوں ۔اس نے ضمانت کرنے والے کا نام نہیں بتایا اور نہ میں پوچھ سکا ۔“
”مسکان بیٹی نے تمھاری ضمانت کرائی ہے ۔“عائشہ پیٹھ پیچھے اسے بیٹی کہنے سے بازنہ آ سکی ۔
”مم…. مگر ماں ….“وہ حقیقت اگلنے لگا تھا کہ ایک دم اس نے بات بدل دی ۔ ”اسے کیسے پتا کہ میں تھانے میں ہوں ؟“
وہ اطمینان سے بولی ۔”میں نے بتایا تھا ۔“
”ماں جی !….کسی بیگانے کو تکلیف دینا اچھی بات تو نہیں ہے نا ؟“
”وہ بیگانی نہیں ہے بیٹا !….“
وہ ماں سے بحث نہ کر سکا اور خاموش رہا ۔اس کا دماغ اس الجھن میں پھنس گیا تھا کہ آخر اسے قید کرانے والی نے اپنا مقصد حاصل کےے بغیر اس کی ضمانت کیوں کرا دی ۔
”ممکن ہے اس کی گرفتاری میں حماد کا ہاتھ ہو ۔یوں بھی اسے فریحہ خبردار کر چکی تھی ۔“ ایک خوش کن سوچ اس کے دماغ میں گونجی اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
”اللہ پاک کرے میرا بیٹا ہمیشہ مسکراتا رہے ۔“اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر بے ساختہ عائشہ کے دل سے دعا نکلی ۔
٭……..٭
مسکان گاون پہن کر گھر سے باہر نکل آئی ۔حماد کی کار گیراج میں موجود نہیں تھی ۔ جانے وہ کہاں گھومتا پھر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے حماد کا مسکراتا چہرہ لہرانے لگا ۔طلاق نامہ سائن کرا کے وہ کتنا خوش نظر آرہا تھا ۔ اس کی خوشی سے مسکان کو اندازہ ہو تا تھا کہ وہ بھی اسے کتنا چاہتا ہے ۔
”دانیال سے بھی زیادہ چاہتا ہے ؟“ایک باغیانہ سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔ اس کے ساتھ اسے یاد آیا کہ طلاق کی خبر سن کر اس نے جو رد عمل ظاہر کیا تھا لازماََوہ حماد کے لےے بہت تکلیف دہ ثابت ہوا ہو گا۔ یوں اس کی کسی بات کا جواب دےے بغیر اپنی خواب گاہ میں گھس جانا ،دروازہ بھی اندر سے کنڈی کر دینا ۔آخر کیا سوچا ہو گا اس نے کہ میں دانیال کے طلاق دینے کی خبر براداشت نہ کر پائی اور یہ سن کر حواس باختہ ہو گئی ؟….اسے سخت ندامت محسوس ہوئی ۔
”یقینااس وقت میں ہوش میںنہیں تھی ورنہ کبھی یوں نہ کرتی ۔“اس نے خود کو تسلی دیناچاہی ۔ مگر اس کے ساتھ یہ روح فرسا خیال اس کے دل میں ابھرا کہ یہ بات تو اور زیادہ معیوب تھی کہ وہ اس خبر پر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی ۔
”میں کہہ دوں گی کہ مجھے اس بات پر افسوس ہوا کہ دانیال نے میرے بارے کیا سوچا ہو گا؟ میں اتنا گر گئی کہ اسے گرفتار کرا دیا ۔“مگر یہ بہانہ بھی اسے ہضم نہ ہوا ۔
”نہیں میں اس کی ماں کا نام لوں گی ،کہ مجھے دانیال کی ماںکو پہنچنے والی اذیت کا دکھ تھا ۔اس بوڑھی عورت پر کیا بیتی ہو گی جس کا جوان بیٹا ،بے گناہ پولیس کسٹڈی میں موجود ہو ؟….مگر وہ پولیس کسٹڈی میں تو گزشتہ رات تھا ۔ اب تو حمادفقط طلاق کی خوش خبری لایا تھا اور اس کے ساتھ دانیال کی رہائی بھی مشروط تھی۔“
”نہیں میں جھوٹ نہیں بولوں گی ۔صاف صاف بتا دوں گی کہ مجھے معلوم نہیں کس وجہ سے میرا یہ حا ل ہوا ۔اگر اس کے بعد حماد نے طعنہ بازی کی کوشش کی تو میں اس سے علاحدگی اختیار کر لوں گی ۔شک کی دیمک رشتوں کو چاٹ جایا کرتی ہے۔اگر اس کے ذہن میں کسی ایسی ویسی بات نے جنم لے لیا ،توہمارا علاحدہ ہو جاناہی بہتررہے گا ۔“
”اگر علاحدہ ہی ہونا تھا تو دانیال سے دامن کیوں چھڑایا ؟“اس کی پراگندہ سوچوں کو کوئی مرکز نہیں مل رہا تھا ۔ اپنا ہر فعل اس کی نظر میں الجھا ہوا تھا ۔ دھیان بٹانے کے لےے اس نے سوچوں کا رخ فریحہ کی جانب موڑا ۔
جانے وہ کیوں اس سے علاحدگی میں ملنا چاہتی ہے؟…. حماد کو بے خبر رکھنے کی بات تو اس کے لےے اور زیادہ حیران کن تھی ۔
وہ بتائے ہوئے سٹاپ پر جا کر رک گئی ۔ابھی وہ دائیں بائیں ہی دیکھ رہی تھی کہ ایک نقاب پوش لڑکی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بے تکلفی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
”ارے آپ !….اور یہ نقاب ؟“اسے وقتی حیرانی ہوئی مگر پھر اسے یاد آیا کہ وہ اس ملاقات کو پوشیدہ رکھنے کی متمنی تھی ۔ ”اچھا چھپنے کی غرض سے نقاب اوڑھا ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کار آگے بڑھا دی تھی۔
”نہیں ….آج کل باقاعدگی سے نقاب اوڑھنا شروع کر دیا ہے ۔“
”اچھی خبر ہے ۔مبارک ہو ۔“مسکان نے اس کی حوصلہ افزائی کی ۔
”دانیال کے بعد دوسری شخصیت آپ ہیں جس نے میرے اس عمل کو سراہا ہے ۔ورنہ تو تنقید ہی سننے کو ملی ہے ۔“
”دانیال !….؟“مسکان کو اس کے ذکر پر حیرانی ہوئی تھی ۔”اس سے تعلقات کب اس نہج پر پہنچے کہ وہ آپ کی ذاتیات کے بارے رائے دینے لگا ؟“
”جس دن آپ کو طلاق دلانے کے سلسلے میں اس سے ملی تھی ۔“
”مم….مجھے طلاق دلانے ….؟“وہ گڑبڑا گئی ۔
”ہاں ،آپ کو….اور باجی !….مجھ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں مجھے ساری کہانی معلوم ہے۔“
”حماد نے بتایا ہو گا ؟“مسکان گہرا سانس لے کر رہ گئی ۔
”تو اور کون ہو سکتا ہے ؟“فریحہ اطمینان سے بولی ۔
”اسے ایسا نہیں کرنا چاہےے تھا ؟….جبکہ ہمارے درمیان ہوا طے ہوا تھا، کہ کسی تیسرے کو یہ معلوم نہیں ہوگا؟“
”شاید میں دوسری ہوں ۔“فریحہ کاا نکشاف ایسا نہیں تھا کہ مسکان کو اچنبھا نہ ہوتا ۔ اس نے کار ایک ہوٹل کی پارکنگ میں موڑتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”فریحہ صاحبہ !….میں سمجھ نہیں پائی ۔“
”حالانکہ میں بہت واضح انداز میں کہہ چکی ہوں کہ میں دوسری ہوں ….مطلب تیسری آپ ہیں ، حماد اور میرے درمیان آنے والا ایک عارضی رشتا ۔“فریحہ کے نارمل لہجے میں کہی گئی بات بھی مسکان کو برچھے کی طرح لگی ۔
”میرا خیال ہے آپ !….حواسوں میں نہیں ہیں ۔“مسکان کے لہجے میں اعتماد کا فقدان تھا۔
”اندر آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“فریحہ نیچے اتر گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ ایک فیملی کیبن میںآمنے سامنے بیٹھی تھیں ۔
”جی اب بولیں ؟“مسکان اس کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”باجی !….بات کچھ طویل ہے ،میں کوشش کرتی ہوں کہ مختصراََ ساری صورت حال آپ کے گوش گزار کر سکوں۔ جیسا کہ آپ جانتی ہیں ، یونیورسٹی آمد کے ساتھ میں کئی دل پھینک لڑکوں کی منظورِ نظر بن گئی تھی مگر میں نے کسی کو لفٹ نہیں کرائی کیوں کہ یونیورسٹی بھر میں مجھے صرف ایک ہی صورت پسند آئی تھی اور وہ صورت حماد کی تھی ……..۔“
”ایک منٹ۔“مسکان نے قطع کلامی کی ۔”حماد تو تمھارا ….کزن ہے نا ؟“
”نہیں یہ جھوٹ ہے ۔اسے میں نے پہلی بار یونیورسٹی میں دیکھا ۔پھر پتا چلا کہ وہ آپ کو چاہتا ہے ، میں نے اپنے جذبات دل میں چھپا لےے اور شاید یہ محبت بھرے احساسات ہمیشہ میرے دل کے نہاں خانوں میں چھپے رہتے مگر ایک دن حماد نے پہل کرڈا لی اور اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ میری طرح وہ بھی مجھے چاہتا تھا ……..“
”پھرتو آپ لوگوں کو شادی کر لینا چاہےے تھی ؟“مسکان نے ایک مرتبہ پھر قطع کلامی کی ۔
”یہی توبد قسمتی تھی، کہ حماد ،جہاں میری محبت میں گرفتار تھا وہیں اسے اپنے مستقبل کی بھی فکر تھی، ہمارا پروگرام تھا کہ جب وہ آپ کے ذریعے کوئی مقام حاصل کر لے گا توپھر ہم شادی کر لیں گے ۔“ فریحہ نے ساری حقیقت سے پردہ اٹھانا مناسب خیال نہ کیا۔
”اب یہ ساری بات مجھے کیوں بتا رہی ہو ؟“
”باجی !….دانیال آپ کو بہت زیادہ چاہتا ہے ۔اور میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اس کی محبت اسے واپس لوٹاوں گی ۔“
”شاید تم میری ذاتیات میں دخیل ہو رہی ہو ؟“مسکان کے لہجے میں سختی در آئی ۔
”نہیں !بہنوں کے مسائل اور مشکلات ایک ہوتی ہیں ۔“فریحہ کے لہجے میں چھپا خلوص محسوس کرنے کے لےے عقل کل ہونا ضروری نہیں تھا ۔ ایک حساس دل آسانی سے اس کے احساسات کی سچائی جان سکتا تھا ۔ مسکان نے دلی طور پر مطمئن ہونے کے باوجود کہا۔
”اس رشتے کی آڑ میں دیا جانے والا دھوکا بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔“
فریحہ نے اعتبار دلاتے ہوئے کہا ۔”دھوکا دوں تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھوں ۔“
”نہیں ….“مسکان نے بے ساختہ اس کا ہاتھ تھام لیا ۔”اتنی بڑی قسم کی ضرورت نہیں تھی ۔“
”اب تو یقین کرو گی نا ؟“
مسکان کے لہجے میں اداسی در آئی ۔”کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں کہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنے کو دل چاہتا ہے ۔“
”صحیح کہا!….“فریحہ نے اس کی تائید میں سر ہلایا ۔”اور انھی میں ایک حقیقت یہ ہے کہ دانیال تمھیں روح کی گہرائیوں سے چاہتا ہے ،اتنا کہ جس کا خواب ہر لڑکی جوان ہوتے دیکھنا شروع کر دیتی ہے مگر تعبیر کا پھل کسی خوش قسمت کے حصے ہی میں آتا ہے ۔ اور آپ بھی انھی گنی چنی خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں ۔“
”دانیال میری منزل نہیں رستے میں آنے والا عارضی پڑاو¿ تھا۔اور عارضی ٹھکانہ جتنا بھی دل فریب اورآرام دہ ہو، منزل نہیں ہو سکتا ؟“
”کبھی کبھی انسان ،منزل کو سنگ راہ سمجھ کر آگے نکل جاتا ہے ،اتنا آگے کہ واپس پلٹنے پر منزل سچ مچ سنگ راہ بنی ہوتی ہے۔ اور پھر پچھتاوے کے الاومیں جل کر بھسم ہونا ہی مقدر ٹھہرتا ہے ۔“فریحہ دکھی ہو گئی تھی ۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب دانیال نے اسے دیکھ کر کہا تھا ۔
”صاحب یہ تو بہت خوب صورت ہے کیا یہ مان جائے گی ؟“ اس وقت اگر وہ سچ مچ مان جاتی تو آج کسی چاہنے والے کے پیار کے سائے میں آرام سے زندگی گزار رہی ہوتی ، لیکن اس وقت تو اس کی آنکھوں پر بھی لالچ کی پٹی بندھی ہوئی تھی ۔
”تو سمجھو میں بھی آگے جا چکی ہوں ….شاید آپ کے علم میں نہ ہو دانیال مجھے طلاق دے چکا ہے۔“
”کیا ؟“اب حیران ہونے کی باری فریحہ کی تھی ۔
”سچ کہہ رہی ہوں ۔حماد کی ایما پر پولیس اسے تھانے لے گئی تھی ،اور یہ تو آپ جانتی ہیں وطنِ عزیز کی پویس کسی غریب آدمی سے کوئی بات منوانے کی کتنی ماہر ہے ۔“
”مجھے یقین کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے ….دانیال ایسا نہیں کر سکتا ۔“
”وہ کر چکا ہے ۔پولیس کا تشدد عشق و محبت بھلا دیتا ہے ۔“مسکان کے لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی تلخی در آئی ۔
”مگر زبردستی کی طلاق ……..؟“
”ہو جاتی ہے ۔“مسکان نے قطع کلامی کی ۔
”باجی!…. دیکھ لینا یہ جھوٹ ہو گا ٫ ویسے یہ بات آپ کو بتائی کس نے ہے ؟“
”حماد نے ،وہ طلاق نامہ سائن کرا کر لایا تھا ۔“
فریحہ نے کہا۔”اس کی بات قابل ِ اعتبار نہیں ہے ۔“
”وہ میرا شریک حیات ہے ۔“مسکان کو اس کی بات بری لگی تھی ۔
فریحہ اطمینان سے بولی ۔”تھا ….“
”ہم دوبارہ نکاح کر لیں گے ۔“
”باجی !….اگر وہ آپ کے ساتھ مخلص ہوتا تو خدا قسم میں کبھی آپ کے رستے میں نہ آتی ۔“
”آپ !….کب سے میری اتنی غم خوار بن گئیں ۔صاف کہو نا ؟ آپ کا اصل مقصد حماد کا حصول ہے ۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکان کو کہنا پڑا۔
”اس میں کوئی شک نہیں کہ میں آپ کی بہتری کی خواہاں ہوں۔ابھی تھوڑی دیر پہلے میں اتنی بڑی قسم کھا چکی ہوں ۔“
”فریحہ !….تم نے مجھے الجھا دیا ۔“مسکان آپ سے تم پر آ گئی تھی ۔
”نہیں باجی !….الجھن میں آپ پہلے تھیں ۔حماد آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہے ، مجھے وہ چاہتا ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دولت کو بھی نہیں چھوڑ سکتااور آپ اتنی پڑھی لکھی ہیں کیا آپ کو حماد اور دانیال کی چاہت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ؟ عورت تو مرد کی نظریں دیکھ کر سمجھ جاتی ہے ، آپ تو دونوں کو بہت قریب سے دیکھ چکی ہیں ۔پھر بھی سمجھ نہیں پائیں کہ کون آپ کے ساتھ مخلص ہے ؟“
مسکان سر پکڑ کر بیٹھ گئی ،چند لمحوں بعد کراہنے کے انداز میں بولی ۔”سب سمجھتی ہوں ، کون مجھے کتنا چاہتاہے ؟ لیکن حماد سے کےے گئے وعدوں، ساتھ نبھانے کی قسموں نے مجھے نادیدہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ میں وہ سب کچھ کیسے بھلا سکتی ہوں؟“
”جھوٹی قسمیں اوروعدے بھلانا کون سا مشکل ہے؟ “
”مجھ پر اس کا ،کوئی جھوٹ نہیں کھلا ۔فقط ایک غیر عورت کے کہنے پر میں اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتی ہوں؟“
”اس نے میرا تعارف اپنی چچا زاد کے طور پر کرایا ،حالانکہ وہ میرا چچا زاد تو کیا دور پار کا رشتا دار بھی نہیں ہے ۔ میرا رشتا ایک فرضی شخص سے جوڑا ، آپ دونوں کے بیچ ہونے والی ایک ایک بات مجھے بتا دی اور جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟“
”اس جھوٹ میں تم بھی شامل تھیں ۔دو جھوٹوں کے درمیان پھنسی ہوں ۔کیا پتا تم اب بھی جھوٹ بول رہی ہو ؟“
”باجی !….آپ بار بار مجھ پر بے اعتباری کا اظہار کر رہی ہیں ۔میں صاف بتا چکی ہوں کہ حماد مجھے چاہتا ہے ،لیکن مجھ سے بھی زیاہ اسے دولت عزیز ہے ۔جبکہ دانیال کو دولت کی نہیں آپ کی ضرورت ہے ۔اس کا باطن اتنا اجلا ہے کہ اس کے لےے حما دجیسی کئی صورتیں قربان کی جا سکتی ہیں ۔“
”اب وہ میرا نہیں رہا ۔“مسکان کی آنکھوں میں نمی ظاہر ہوئی ۔”اور تم چاہتی ہو جس کے لیے اس سے طلاق لی اسے بھی چھوڑ دوں ۔“
”باجی !….فی الحال سوچو،میں بھی دانیال سے مل کر طلاق کی بابت پوچھتی ہوں ۔ رات کو فون پر بات ہو گی ۔ اور خدارا حماد کو اس ملاقات کا پتا نہیں چلنا چاہےے۔“
”اوکے ۔“مسکان نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”میرا خیال ہے اب چاے پی لینا چاہےے ؟“فریحہ نے مسکراکر کہا اورمسکان کے ہونٹ بھی ہنسی کے انداز میں کھنچ گئے ۔
٭……..٭
حماد کے لےے مسکان کا رد عمل حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی تھا ۔طلاق کی خبر پر اس طرح حماد کو نظر انداز کر دینا عجیب کہانی سنا رہا تھا ۔اس کے دماغ میں الٹے سیدھے اندیشے کلبلانے لگے ۔اس نے خود سے سوال کیا۔
”کہیں میں دیر نہ کر دوں ؟….کہ پوراپانے کے لالچ میں آدھے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں ۔“
”نہیں ….نہیں یہ ایک وقتی شاک ہے ۔“وہ بڑبڑایا۔مذہبی خیالات کی حامل لڑکی کو طلاق کی خبر سن کر جذباتی ہونا ہی تھا ۔
آدھے گھنٹے کے قریب وہ ڈرائینگ روم میں ٹہلتا رہا کہ شاید مسکان باہر نکل آئے مگر وہ یقینا مکمل سوگ منانے کے موڈ میں تھی ۔اس نے فریحہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا مگر پھر اسے یاد آیا کہ فریحہ تو اس سے سخت خفا ہے ۔اس وقت اس کی اپنی ذہنی حالت اس قابل نہیں تھی کہ فریحہ کو منانے کا متحمل ہو سکتا ۔
وہ گھر سے باہر نکل آیا اس کا رخ تھانے کی طرف تھا۔مسکان کا رد عمل دیکھ کر اس کے دل میں جو اندیشے پیدا ہوئے تھے ان میں ایک طلاق کی تصدیق کا بھی تھا ۔جس وقت تھانیدار نے اس کے حوالے یہ فائل کی تھی وہ صرف دستخط دیکھ کرمسکان کو یہ خوشخبری سنانے دوڑ پڑا تھا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *