Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10

”ٹھیک ہے باس !….“حماد نے ماحول میں چھائے تناو¿ کو کم کرنے کی کوشش کی ۔ اور مسکان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
”ارے پگلی !….روتی کیوں ہے ؟“حماد نے بے ساختہ اس کا سر سینے سے لگا لیا ۔ طلاق دینے کے بعد پہلی مرتبہ وہ اسے چھو رہا تھا ۔
”حماد!…. مجھے ڈر لگ رہا ہے ؟“مسکان نے سسکی بھری۔اس نے حماد سے دور ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”ڈرنے کی کیا بات ہے میری جان !….؟“حماد نے اسے مزید قریب کیا ۔”وہ ایک بے ضرر سا شخص ہے ۔ یقین کرو اسے صحیح طریقے سے بات کرنا نہیں آتا۔ ہم نے جب بھی اس سے طلاق کا مطالبہ کیا ،مجال ہے کہ وہ چوں چراں کر سکے ۔“
مسکان، آہستگی سے اس سے علاحدہ ہو گئی ۔ حماد اب اس کا شوہر نہیں تھا ۔اس کے احساسات کی لاج رکھتے ہوئے حماد بھی دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
”ٹھیک ہے آپ آرام کریں ۔“مسکان ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگی ۔ اور حماد اثبات میںسر ہلاتا ہوا باہر نکل آیا۔
ایک مشکل مرحلہ قریباََ حل ہو چکا تھا۔اب بس مسکان کے حاملہ ہونے کی دیر تھی ۔ بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی اس نے مسکان کو ابدی نیند سلانا تھا۔گویامسکان کی مدت حیات بہ مشکل ڈیڑھ سال باقی تھی۔ حماد کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اس کے خوابوں کی تعبیر ڈیڑھ سال کے فاصلے پر تھی۔کوٹھی ،کار اورماتحتوں کی جی حضوری اب بھی اسے میسر تھی ۔ایک خوب صورت دوشیزہ کا قرب بھی حاصل تھا ۔مگر وہ تو دیوانہ تھا اپنی فری کا ۔
اور پھر یہ اختیارات اسے مصنوعی نظر آتے تھے ۔مسکان سے تھوڑی بہت ان بن ہوجاتی تو وہ اسے دودھ میں پڑی مکھی کی اپنی زندگی سے نکال کر دور پھینک دیتی ۔گو جس طرح مسکان کی سرشت تھی ایسا کوئی بھی فعل اس سے بعید تر تھا ،مگر انسان کو بدلتے دیر بھی تو نہیں لگتی ۔عیاشی کی زندگی کا مزا چکھ لینے کے بعد ، مسکان کو قتل کرنے کا ارادہ، عزمِ صمیم کی صورت اختیار کر گیا تھا ۔
٭……..٭
وہ دونوں ساڑھے دس بجے گھر سے نکلے ،جب مطلوبہ مکان تک پہنچے تو گیارہ بجنے میں چند منٹ رہتے تھے۔کار روک کر وہ نیچے اترے اور اسی وقت دانیال نے دروازہ کھولا۔حماد کے ساتھ نقاب پوش لڑکی کو دیکھ کروہ جھینپ گیا ۔ اسے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اس کی ہونے والی دلہن ہے ۔
ایک طرف ہو کر اس نے دونوںکو اندر آنے کا رستا دیا ۔
حمادنے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے پوچھا۔”کیسے ہو ،دانیال میاں !….؟“
”اللہ پاک کا فضل ہے حماد بھائی !“
”یہاں ،کس وقت پہنچے ہو؟“
”صبح سویرے ہی پہنچ گیا تھا بھیا!“
اسی وقت عائشہ خاتون نے آگے بڑھ کر حماد اور مسکان کے سر پر ہاتھ پھیرکر دعائیہ کلمات کہے۔اور پھر مسکان کو ساتھ لے کر کمرے میں گھس گئی ۔حماد اور دانیال دوسرے کمرے میں آ گئے تھے۔
”اچھا میں نکاح خواں کو بلا نے جارہا ہوں ،تاکہ جلد از جلد یہ کام نپٹایا جائے ۔“حماد نے ،دانیال کے دل میں چھپی خواہش کو الفاظ کا روپ دیا ۔
”ٹھیک ہے بھیا!….لیکن پہلے یہ توباندھ دیں۔“دانیال نے جیب سے ٹائی نکال کر اس کی سمت بڑھائی ۔
”واہ!….کیا بات ہے بھئی !“حماد نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ سے ٹائی لی اور اس کے گلے میں ڈال کر گرہ لگا دی ۔ ”اب اسے اتارتے وقت مکمل نہ کھولنا ، بلکہ تھوڑا سا ڈھیلا کر کے گلے سے نکال لینا۔
”شکریہ بھائی !“دانیال ممنونیت سے بولا ۔
”ٹھیک ہے ،تم یہیں بیٹھو ۔مجھے بس آدھا گھنٹا لگے گا ۔“یہ کہہ کر وہ گھر سے باہر نکل گیا ۔
دانیال کے لےے آدھا گھنٹا گزارنا بھی صبر آزما تھا ۔حماد کے جانے کے بعد وہ بے چینی سے صحن میں ٹہلنے لگا۔
آج کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوب صورت دن تھا ۔کہتے ہیں صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ اس کہاوت کی صداقت آج اس پر آشکارا ہو ئی تھی ۔جس قسم کی دلہن کے اس نے خواب دیکھے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ پرکشش اور خوب صورت لڑکی اس کی قسمت میں لکھ دی تھی۔مسکان کی تصویر وہ خوب باریکی سے دیکھ چکا تھا ۔ اور آج اس نے مسکان کی جسمانی ہیئت بھی دیکھ لی تھی۔اونچی لمبی ،گوری چٹی ،سڈول بدن ،سارا جسم گویا سانچے میں ڈھلا تھا ۔اس کی نقاب سے جھلکتی آنکھیں دانیال کے دل کی دینا کو زیر و زبر کر گئی تھیں۔
حماد آدھے گھنٹے سے پہلے ہی لوٹ آیا تھا ۔نکاح خوان اور گواہوں سے اس نے پہلے سے بات کی ہوئی تھی ۔اس وقت تو بس انھیں بلانے گیا تھا ۔
نکاح خواں اور گواہوں کے ساتھ وہ کمرے میں آگئے ۔حماد کے کہنے پر مولانا صاحب نکاح کا خطبہ پڑھنے لگا ۔ مسکان اور عائشہ خاتون کو بھی حماد نے وہیں بلا لیا تھا ۔
دانیال کا دل بے طرح دھڑک رہا تھا ۔خطبہ پڑھ کر نکاح خوان نے دلہن کا نام پوچھا ۔
”مسکان بنتِ داو¿د۔“حماد نے جلدی سے لقمہ دیا ۔
”حق مہر کتنا ہوگا؟“
”ایک ہزار۔“اس بار بھی حماد نے جواب دیا ۔
دانیال نے جلدی سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا۔”نہیں ،چالیس ہزار۔“
نکاح خواں نے اثبات میں سر ہلایااور اس سے پوچھا۔”مسکان بنت داو¿د،حق مہر چالیس ہزار ،سِکّہ رائج الوقت ۔آپ کو اپنے حبالہءعقد میں قبول ہے ؟“
”قبول ہے ۔“دانیال شرماتے ہوئے بولا۔
اس کے بعد نکاح خواں نے مسکان سے بھی ایجاب و قبول کرایا۔آخر میں دعائے خیر کر کے نکاح خواں نے انھیں مبارک باد دی ۔
رسم ِنکاح کے بعدحماد نے اعلا قسم کی مٹھائی کا ڈباکھول کر ان کے سامنے رکھ دیا ۔ مسکان اور عائشہ خاتون وہاں سے نکل گئی تھیں ۔
مٹھائی کھلا کر حماد نے نکاح خواں کی خدمت میںچند بڑے بڑے نوٹ پیش کےے اور اسے عزت سے رخصت کر دیا ۔
” بہت بہت مبارک ہو دانیال میاں !“حماد نے اسے گلے سے لگا کر مبارک باد دی ۔
”خیر مبارک بھیا !….یہ سب آپ کی مہربانی اور احسان کی بدولت ممکن ہوا ہے۔“دانیال کے لہجے میں شکر گزاری کا عنصر نمایاں تھا ۔
”اچھا !….ایک بات کان کھول کر سن لو ،بلکہ گرہ میں باندھ لو ۔مسکان نے پہلے شوہر سے اس لےے طلاق لی تھی ،کہ اس سے مسکان کا کوئی بچہ نہیں ہو سکتا تھا ۔اگر تم سے بھی اسے یہی شکایت ہوئی تو بعید نہیں کہ وہ طلاق کا مطالبہ کر دے ؟“
”اللہ پاک بہتر کرے گا بھیا !“دانیال جھرجھری لے کر رہ گیا۔
”ٹھیک ہے ،اب میں اجازت چاہوں گا ۔“حماد کھڑا ہو گیا ۔”تم یہیں بیٹھو میں مسکان سے مل کر نکل جاتا ہوں۔“
دانیال نے اثبات میں سر ہلایااور اسے رخصتی تعظیم دینے کے لےے اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا ۔
حماد وہاں سے نکل کر دوسرے کمرے میں داخل ہوا ۔مسکان اور عائشہ خاتون باتوں میں مشغول تھیں ۔ اسے دیکھتے ہی دونوں خاموش ہوگئیں ۔
”ٹھیک ہے آنٹی !….اب میں چلوں گا ۔آپ کو بیٹے کی شادی مبارک ہو ۔“
”خیر مبارک بیٹا!….جیتے رہو ۔“عائشہ دعائیں دینے لگی ۔
“Ok Muskan see you again”
(ٹھیک ہے مسکان پھر ملیں گے )
اور مسکان فقط سر ہلا کر رہ گئی تھی اس کے علاوہ وہ کہہ بھی کیا سکتی تھی ۔اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے۔ اس کے سر کا سائیں ،عزت کا رکھولا،غیرت مند شوہر ،بہ نفس نفیس اسے غیر مرد کی جھولی میں ڈال کر جا رہا تھا ، ایسا شوہر جسے محبت کا دعوا بھی تھا ۔ وہ کس سے فریاد کرتی اور کس کے سامنے روتی …. ایسی عجیب صورت حال سے شاید ہی کسی کا واسطہ پڑا ہو ۔
حماد وہاں سے باہر نکل آیا۔کار ان لاک کر کے وہ بیٹھنے ہی لگا تھا کہ اچانک اسے مسکان کا سامان یاد آیا جو اب تک کار کی ڈگی میں پڑا تھا ۔
ڈگی سے سامان کا بیگ نکال کر ایک مرتبہ پھر اس نے اندر کا رخ کیا اور سامان والا بیگ مسکان کے حوالے کر کے باہر آگیا۔
٭……..٭
عائشہ خاتون مسکان کی شکل و صورت دیکھ کر مبہوت رہ گئی تھی ۔اتنی موہنی اور خوش شکل لڑکی اللہ پاک دانیال کی قسمت میں لکھ دے گا؟….ایسا اس نے سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا ۔ دانیال سے پہلے وہ خود اپنی بہو پر صدقے قربان جا رہی تھی ۔
مسکان کے لےے جہاں حماد سے بچھڑنے کا غم سوہانِ روح بنا ہوا تھا وہیں عائشہ خاتون کے سوالوں کی بوچھاڑ اسے پریشان کےے ہوئے تھی۔وہ ہمیشہ بڑوں کا احترام کرتی آئی تھی۔اور یہی احترام اس کے لبوں کو سےے ہوئے تھا ورنہ اس کے منہ سے کوئی ناروا بات نکل جاتی ۔جلد ہی عائشہ پر اس کی بے زاری ظاہر ہو گئی ۔گو اُس نے اِس بات کو نئی نویلی دلہن کی شرم و حیا پر محمول کیا تھا۔بہ ہر حال کچھ بھی تھاتکلیف دہ سوالوں سے اس کی جان چھوٹ گئی تھی۔ اور اس کے بعد عائشہ اپنے بیٹے کے قصیدے پڑھنے لگی ۔
مسکان کو دانیال کی خوبیوں سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔وہ ہمیشہ کے لےے اس گھر میں نہیں آئی تھی۔ اپنے کانوں کو بہرہ کےے وہ اس کی باتیں سنتی رہی ۔اس کا دماغ اس گھر سے جانے کے خوش کن خیالات میں کھوگیا ۔ ایک امید افزا سوچ اس کے دماغ میں گونجی ….
”شاید ایک ماہ بعد میری جان چھوٹ جائے ؟“
حماد کی آمد پر عائشہ کی زبان کو تھوڑا سکون ملا۔مگر وہ رخصت لینے آیا تھا ۔
اس کے جانے کے بعد عائشہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوگئی ۔لیکن حماد چند منٹوں میں لوٹ آیا۔ اس مرتبہ اس کے ہاتھ میں مسکان کا بیگ تھا جس میں اس کے کپڑے اور ضرورت کی دوسری اشیا موجود تھیں۔
”مسکان !….اگراس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو فون پر بتا دینا ۔“حماد نے کہا ۔وہ فقط سر ہلا کر رہ گئی تھی۔حماد واپس چلا گیا ۔
”بیٹی !….میں ذرا ،دانی کو گھر سے باہر بھیج دوں تاکہ تم آرام سے تیاری کر سکو۔“شفقت سے کہتے ہوئے عائشہ دوسرے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
دانیال ،سرھانے پر سر رکھے خیالوں کی دنیامیں کھویا تھا ۔ مسکان سے مل کر اس نے گفتگو کی ابتدا کیسے کرنا تھی ۔ اور پھر وہ اسے منہ دکھائی میں کیا دیتا ۔حماد نے اس کے حوالے ایک قیمتی لاکٹ کیا تھا۔ لیکن ایسا تحفہ دلہن کو دینے کا کیا لطف ،جو خود اس کے گھر والوں نے لے کر دیا ہو ۔
ماں کی آمد پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ماں نے قریب آکر اس کا ماتھا چوما۔اور پیار سے بولی۔
”توبڑی قسمت والاہے بیٹا!ایسی دلہن قسمت والوں کے نصیب میں ہوتی ہے ۔یقین مانو اگر مجھے پوری دنیا کی لڑکیوں کو لائن میںکھڑا کر کے تمھاری دلہن چننے کا اختیار دیا جاتا،تو میرا انتخاب،مسکان ہی ہوتی۔“
”ہاں ماں جی !….کہتے ہیں نا صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔“
”ہمارے صبر کا پھل تو کچھ زیادہ ہی میٹھا نکلا بیٹے ؟“
”یہ مقدر کے کھیل ہیں ماں جی !“
عائشہ سکھ بھرا سانس لیتے ہوئی بولی۔”صحیح کہتے ہو بیٹا!….بہ ہر حال اب یوں کرو کہ کہیں گھومنے نکل جاو¿۔شام کے بعد ہی لوٹنا ۔میں ذرا دلہن کو مانوس کر لوں اور پھر اسے سجا بھی دوں ۔“
”ٹھیک ہے ماں جی !….“سعادت مندی سے کہتا ہوا وہ اٹھ گیا ۔چند لمحوں بعد وہ گھر سے باہر تھا ۔
٭……..٭
مسکان کے لےے روایتی دلہن کی طرح سجنا ایک مشکل اور دشوار گزار مرحلہ تھا ۔لیکن اپنی ساس کا دل توڑنا اسے مناسب نہ لگا ۔اس کے ساتھ یہ تکلیف دہ سوچ بھی اسے بے حال کر گئی کہ جب وہ نئے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی ،تو ماں بیٹے پر کیا گزرے گی ؟
”بیٹی !….تم پریشان سی لگ رہی ہو ؟“اس کا مغموم چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر عائشہ نے مادرانہ شفقت سے پوچھا ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”نہیں ماں جی !….ایسی کوئی بات نہیں ۔اصل میں میرے والدین وفات پا گئے ہیں نا؟اور اس موقع پر آپ کو پتا ہے ،ایک لڑکی کو جذباتی سہارے کی اشد ضرورت ہوتی ہے؟“
عائشہ بے ساختہ اس کے ماتھے پر بوسا دیتی ہوئی بولی۔”تو میں ہوںنا تمھاری ماں ۔ پگلی نہ ہو تو؟ایسے ہی پریشان ہو رہی ہے ؟“
مسکان کی آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے ۔ایک عورت کے لےے پرخلوص جذبات پرکھنا مشکل نہیں ہوتا۔عائشہ کے ہر عمل ،فعل اور لہجے سے جس طرح خلوص ٹپک رہا تھا،وہ مسکان کو شرمندہ کرنے کے لےے کافی تھا۔ ایک کرب آمیز حقیقت ،اس کی سوچ میں بھری۔
”یہ معصوم عورت جانتی ہی نہیں، کہ اس کا میرا ساتھ مہینے بھر کاہے ۔“
اس کی سوچوں سے بے خبر مخلص عائشہ نے پوچھا ۔
”بیٹی!….دانی کی دلہن کے لےے جانے کب سے میں نے سہاگ کا جوڑا خرید رکھا ہے ۔ اور تمھیں وہی پہننا ہو گا ۔“
مسکان گھبرا کر بولی۔”ماں جی !….یہ ٹھیک ہیں نا ؟“
”ہاں ٹھیک ہیں ، تمھیں ہر لباس سجتاہے ۔لیکن یہ تو رسم و رواج ہیں نا بیٹی؟کہ دلہن کوسہاگ رات کاجوڑا لڑکے والوں کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔اور پھر یہ بھی تو دیکھو تم نے جو کپڑے پہنے ہیں یہ استعمال شدہ ہیں ، حالانکہ آج کی رات کے لےے نئے کپڑے ضروری ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ماں جی !….میں شاور لیتی ہوں ،آپ کپڑے نکالیں ۔“مسکان نے اسی میں عافیت جانی کہ اس کی ہر بات مان لے ۔
عائشہ خوش ہو کر گھر سے لائے ہوئے سامان کی طرف بڑھ گئی ۔جب تک مسکان شاور لیتی اس نے کپڑے استری کر دےے تھے۔اس نے اپنے تیئں ، بہو کے لےے مہنگا ترین لباس خریدا تھا ۔مگر وہ غریب یہ نہیں جانتی تھی ،کہ اس کی بہو کی ایک بنیان بھی اِس لباس سے کئی گناہ قیمتی تھی۔
حیرت انگیز طور پر وہ کپڑے، مسکان کے ناپ کے تھے۔اگلے مرحلے میں وہ اس کا میک اپ کرنے لگی ۔حماد سے شادی کے وقت اس کے بھائی نے بیوٹی پارلر کے پورے سٹاف کو گھر بلوا لیا تھا۔اور پھر ان مشتاق خواتین نے اس کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دئےے تھے۔شب ِزفاف کے لےے لاکھوں کی مالیت کالہنگا خریدا گیا تھا۔اور آج ایک مزدور کی دلہن بنتے ہوئے چند سو مالیت کا سرخ جوڑا اور عامیانہ میک اپ ۔اس کا جی چاہا کہ قہقہے لگائے ۔حماد کی محبت میں اسے یہ دن بھی دیکھنے پڑ ے تھے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *