Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39

”آئیں حماد صاحب !….کیسے مزاج ہیں۔“
”فٹ اینڈ فائن!….آپ سنائیں؟“حماد نے اس کے اشارے پر کرسی سنبھال لی۔
”پہلے یہ بتائیں ٹھنڈاچلے گا یا گرم ….؟“
”شکریہ ….میں ابھی کافی پی کر آ رہا ہوں ….آپ بس یہ بتا دیں کہ کامی صاحب کا موبائل فون نمبر بند کیوںمل رہا ہے ۔“
”کیوں کہ کامی صاحب اپناموبائل فون نمبر بہت جلد بدل دیتا ہے ۔“
”تو پھر نیا نمبر دے دیں ۔“
”نوٹ کریں ….“منیجر اپنا موبائل فون نمبر نکال کر اسے کامی کا نمبر نوٹ کرانے لگا ۔
”تھینک یو جناب !….“نمبر نوٹ کر کے حماد کھڑا ہو گیا ۔”اب میں اجازت چاہوں گا ۔“
منیجر نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اسے رخصت کیا ،حماداس کے آفس سے نکل آیا ۔اپنی کار پارکنگ سے نکال کر وہ کامی کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔
”یس مسٹر پڑھاکو !….کیسے ہیں آپ ؟“کامی خنجر نے اپنے پسندیدہ نام سے اسے پکارا ۔
”یار !….میرا موبائل فون نمبر تو آپ کے پاس موجود ہے ،اگر نمبر بدلنا ہو تا ہے تو کم از کم اپنا نیا نمبر ہی بتا دیا کرو۔“ اس نے گلے شکوے سے گفتگو کی ابتدا کی ۔
”بجا فرمایا…. مگر میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔“
”وجہ ….؟“
”میری قربت تمھیں کسی مصیبت میں بھی پھنسا سکتی ہے ….پھر اگر کوئی بہت ضروری بات ہو تو تمھارے پاس ہوٹل تھری ٹوون کا کلیو موجود ہے نا ؟“
”اچھا میں نے ایک اہم اطلاع آپ تک پہنچانا تھی ۔“حماد مطلب کی بات پر آ گیا ….گویا وہ ذہنی طور پر کامی سے متفق ہو گیا تھا ۔
”سن رہا ہوں ۔“
”آج سیٹھ فہیم سے ملاقات ہوئی ہے ….اس سے پتا چلا کہ وہ اپنی بہن کے قاتلوں کا پتا چلانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے ۔“
”ہونہہ!….بہن کے قاتل…. “کامی نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا ۔”میدانِ حشر میں ہی ڈھونڈ پائے گا ، اس سے پہلے تو یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔“
”پھر بھی آپ کو احتیاط برتنا چاہےے ۔“حماد نصیحت کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”مسٹر پڑھاکو اس بارے فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ….اور بالفرض وہ ہم تک پہنچ بھی گیا تب بھی تمھاری ذات پر کوئی آنچ نہیں آئے گی ،کیونکہ تمھاری سٹوری فقط مجھے معلوم ہے ….اور میری زبان کھلوانی لا ینحل مسئلہ ہے ۔“
”پھر بھی تمھیں مطلع کرنا میرا فرض بنتا ہے ۔“
”تھینک یو مسٹر پڑھاکو!….اور کوئی نئی تازی سناو۔“
حماد نے ہنستے ہوئے کہا ۔”راوی امن سکون ہی لکھتا ہے ۔“
کامی نے پوچھا ۔’تم پر کسی کو شک تو نہیں ہوا نا ۔“
”کہاں یار !….اس کے دونوں بھائی تو میرے اتنے گرویدہ ہو گئے ہیں کہ کیا بتاوں ۔“
کامی نے قہقہہ لگایا۔”مطلب پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے ۔“
”صحیح کہا ….“حماد کا قہقہہ بھی اس کے ہم آہنگ تھا ۔
”اوکے مزے کرو ….اگر کوئی خدمت ہو تو حکم کرنا۔“
”ضرور جناب ۔“کہہ کر اس نے الوداعی کلمات کہے اور رابطہ منقطع کر دیا ۔
٭……..٭س
خفیہ ایجنسی کا نمائندہ اس وقت سیٹھ فہیم اور وسیم کے ساتھ ڈرائنگ روم میں موجود تھا ۔اسی وقت ملازما ان کے سامنے کافی کے مگ رکھ کر گئی تھی ۔احمد کافی کے مگ سے چھوٹی سی چسکی لیتا ہوا بولا….
” سیٹھ صاحب !….انسپکٹرعبداللہ اور اسلم دونوں ان کی نظروں میں آ چکے ہیں اس لےے ہم انھیں اپنے مقصدکے لےے استعمال نہیں کر سکتے ،بلکہ ان سے کام لینے کا مطلب دشمنوں کو چوکنا کرنا ہے ۔“
”احمد صاحب !….پہلے بھی آپ وسیم کے کہنے پر تشریف لائے تھے اور اب بھی اسی کی ایما پر آپ کو زحمت دی ہے کیونکہ میری بچی کے قاتل بہت مزے سے دندناتے پھر رہے ہیں اور جب تک انھیں کیفر کردار تک نہیں پہنچا دیتا مجھے سکون نہیں ملے گا ۔انسپکٹر عبداللہ اور اسلم دونوں مسکان کی موت کے بعد سے مجرموں کی ٹو میں ہیں مگر دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں ان کی تلاش ہنوز بے نتیجہ ہی ہے ۔“
” ایسا ہے سیٹھ صاحب !…. آپ نے میرے بارے کسی سے ذکر نہیں کرنا کہ میں مرحومہ مسکان بی بی کے قاتلوں کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔“
سیٹھ فہیم نے پوچھا۔”کسی سے آ پ کی کیا مراد ہے؟“
احمد اطمینان سے بولا۔”کسی کا مطلب ہے ہر کوئی ….یہاں تک کہ یہ بات اپنی بیگم سے بھی پوشیدہ رکھنا ۔“
”فائدہ ۔“
”میں نہیں چاہتا کہ مجرموں تک یہ خبر پہنچے۔“
میرا خیال ہے ،میری بیگم کا مجرموں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وسیم یوں بھی اس جنس سے تہی دامن ہے ۔“
یقینا آپ کی بات سو فیصد درست ہو گی ….مگر ہماری مجبوری ہے کہ ہم شک کی ابتدا گھر ہی سے کرتے ہیں ۔ خفیہ ایجنسی کے نقطہ نظر سے آپ دونوں بھائی بھی شک سے مبرا نہیں ہیں ،مگر مجھے بلانے والے چونکہ آپ دونوں ہیں اس لیے شروعات آپ سے نہیں کی جا رہی ….البتہ آپ کی بیگم اور مرحومہ کا شوہر خارج ازتفتیش نہیں ہو سکتے ۔“
”شوہر ….“سیٹھ فہیم کے لہجے میں حد درجہ حیرانی تھی ۔”نہیں محترم !….میں خود پریا اپنے بھائی پر تو شک کر سکتا ہوں اپنے بہنوئی پر نہیں ۔“
”ہاں احمد !….“وسیم نے بھی بھائی کی ہاں میں ہاں ملائی ۔”بھیا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔“
احمد نے ان کی بات کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے کہا ۔”دیکھو سیٹھ صاحب !….مناسب ہو گا کہ آپ مجھے یہ مسئلہ اپنے طریقے سے حل کرنے دیں اور میں نے جو درخواست کی ہے کہ اس بات کا کسی کو پتا نہ چلے تو براہ مہربانی اس کے خلاف نہیں ہونا چاہےے ورنہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔“
”ٹھیک ہے جناب !….“سیٹھ فہیم نے مسکرا کر کہا ۔”آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔“
”سیٹھ صاحب ….بہن کی موت یقیناآپ کو ایک حادثہ نظر آ رہی ہو گی ….بہ ظاہر نظر لگتا بھی ایسے ہی ہے،مگر اس میں سازش کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ….“
”وہ کیسے۔“وسیم نے سوال کرنے میں پہل کی ،سیٹھ فہیم بھی سوالیہ نظروں سے احمد کو گھورنے لگا ۔
”دیکھیں جناب!….جب کوئی بندہ تاوان وصول کرنے کے لےے اغوا کیا جاتا ہے تو اس کے متعلقین لا محالہ پولیس وغیرہ کو مطلع کرتے ہیں اور اغوا کار اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ،اب یہ نہیں کہ ایک بار اس کی ہدایات کے خلاف تھوڑا سا ردعمل ظاہر کیا جائے اور وہ مغوی ہی کوٹھکانے لگا دے ….وہ تاوان کی رقم کم یا زیادہ کر سکتا ہے ،مغوی کو جسمانی طور پر کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر تاوان کی رقم سے مکمل طور پر ہاتھ دھونے پر تیار نہیں ہوتا الّا یہ کہ مغوی کے متعلقین اسے بہت زیادہ زچ کر دیں اور اسے یقین ہو جائے کہ اسے تاوان کے نام پر کچھ بھی وصول نہیں ہونے والا ۔یوں ایک دم مغوی کو اس بھیانک طریقے سے ہلاک کر دینا ظاہر کر رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ،اسی وجہ سے میں مرحومہ کے قریبی رشتا داروں پر شک کرنے میں حق بہ جانب ہوں ۔“
فہیم مستفسر ہوا۔”آپ کے کہنے کا مطلب ہے جائیداد وغیرہ کے لالچ میں انھیں ہلاک کیا گیا ہے۔“
احمد نے کندھے اچکائے۔”امکان یہی کہتے ہیں ۔“
”کوئی اور مفروضہ نہیں ہو سکتا۔“سیٹھ فہیم کے تاثرات واضح کر رہے تھے کہ اسے احمد کے گمان سے اتفاق نہیں ہو رہا۔
”ہے،مگر اس میں قتل کی توجیہ کرنا بعید از قیاس لگتا ہے ۔“
وسیم نے جھٹ سے پوچھا۔”مثلاََ….؟“
”مثلاََ یہ کہ آپ کی مرحومہ بہن کی تصویر میں دیکھ چکا ہوں وہ لاکھوں میں ایک تھی….اس لےے ہم پیار محبت کی رقابت وغیرہ کے امکان پر بھی غور کر سکتے ہیں ۔“
فہیم نے نفی میں سر ہلایا۔”وہ باقاعدہ نقاب اوڑھتی تھی….شوہر کے علاوہ اس کا کسی سے تعلق ہونا بعید از قیاس ہے ۔“
”معاف کرنا سیٹھ صاحب گفتگو ذرا نازک موڑ میں ہے اس لےے اگر میری زبان سے کوئی ایسی بات نکلے جو آپ کی سماعتوں پر گراں گزرے تو خدا را دل برا مت کرنا ،کیونکہ جب بھی ہم مفروضوں پر بات کرتے ہیں تو بہت سی دل شکنی کی باتیں ظہور پذیر ہو جایا کرتی ہیں ۔“
”ہم جانتے ہیں ….“سیٹھ فہیم نے کہا جبکہ وسیم نے خالی اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔
”تھینکس !….باقی میں جانتا ہوں آپ کی بہن اعلا کردار کی مالک تھی ،مگر دشمن تو کردار نہیں دیکھا کرتا ۔ اور پیا ر محبت کی رقابت بھی میں نے ایک مفروضے کے طور پر پیش کی ہے ،ہو سکتا ہے اغوا کار آپ دونوں بھائیوں سے کوئی پرخاش رکھتا ہوبلکہ خصوصاََ آپ سے ۔“احمد کا اشارہ سیٹھ فہیم کی طرف تھا ۔”کیونکہ اغوا کار نے دو تین بار آپ سے ہی رابطہ کیا ہے ۔“
سیٹھ فہیم نے کہا ۔”ہو سکتا ہے اس کے پاس وسیم کا نمبر ہی موجود نہ ہو ؟“
”آپ شاید بھول گئے ہیں وہ آپ کی بہن کے موبائل فون سے کال کرتا رہا ہے اور مرحومہ کے موبائل فون میں لازماََ دونوں بھائیوں کے نمبرز موجود تھے ۔“
”نمبر تو موجود ہو گا مگر جب ایک دفعہ اس نے مجھ سے بات کرلی تھی، تو اصول کے مطابق اسے ہر دفعہ مجھی سے بات کرنا چاہےے تھی۔اور یہی اس نے کیا ۔“سیٹھ فہیم نے اس بار احمدکی بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
احمد اطمینان سے بولا۔”میں نے اپنی بات کو حرف آخر کبھی نہیں سمجھا ۔“
”اب ہمارے لےے کیا حکم ہے۔“سیٹھ فہیم نے گفتگو ختم کرنے کا عندیہ دیا ۔
”مجھے آپ کی بیگم ،نوکروں اور بہنوئی کے موبائل فون نمبر درکار ہوں گے ۔باقی اس کارروائی کو خفیہ رکھنے کی درخواست ایک مرتبہ پھر دہراو¿ں گا ۔“احمد نے مطالبہ پیش کیا۔
”اوکے !….مجھے اجازت دو۔“سیٹھ فہیم نے اٹھتے ہوئے کہا ۔”آپ کی ہدایات پر عمل ہو گا اور موبائل فون نمبرز آپ کو وسیم نوٹ کر ا دے گا ….“
احمد نے اس سے الوداعی مصافحہ کیا اور سیٹھ فہیم لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے رخصت ہو گیا۔وہ دونوں آپس میں محو گفتگو ہو گئے تھے۔
٭……..٭
ڈائینگ ٹیبل مختلف قسم کے لوازمات سے بھری پڑی تھی ۔اکیلے ڈنر کرتے ہوئے اس کی ذہنی رو فریحہ کی طرف مڑ گئی۔اس زندگی کے خواب ان دونوں نے مل کر دیکھے تھے لیکن تعبیر کی خوشی ملنے تک فریحہ نے اپنا رستا تبدیل کر لیا تھا یا شاید اسے ہی یوں محسوس ہو رہا تھا ۔مسکان کی موت کو دو ہفتے ہونے کو تھے اور ابھی اس کی ناراضی ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھی ۔اس بات پر تو وہ مر کر بھی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ دانیال سے شادی کرے گی ۔
ڈنر ختم کر کے وہ خواب گاہ میں گھس گیا ۔جب تک ملازما اس کے لےے چاے لاتی وہ فریحہ کا موبائل فون نمبر ٹرائی کرتا رہا مگر وہ کال اٹینڈ کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی تھی ۔چاے پی کر وہ اسے میسج لکھنے لگا مگر درجن بھر میسج بھیجنے کے باوجود اسے کوئی پذیرائی نہ مل سکی ۔تھک ہار کر وہ صبح ایک بار پھر یونیورسٹی جانے کا منصوبہ بنا کر آرام کرنے لیٹ گیا ۔گو گزشتہ ملاقات کا نتیجہ حماد کی توہین کی صورت میں برآمد ہوا تھا لیکن وہ آخری کوشش کرنا چاہتا تھا ۔رات گئے تک وہ مختلف قسم کے منصوبے بناتا رہا اور دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح اس کی آنکھ بھی دیر سے کھلی تھی ۔جاگنے کے بعد بھی وہ کافی دیر بستر میں گھسا رہا۔جب اس نے بستر چھوڑا تو دیوار گیر گھڑی کی گھنٹے والی سوئیاں گیارہ کا عدد عبور کر چکی تھیں ۔
فریش ہونے اور ناشتا کرنے تک مزید ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا تھا ۔گھر سے نکلتے ہی اس کا رخ یونیورسٹی کی طرف ہو گیا اسے امید تھی کہ وہ چھٹی کے وقت تک وہاں پہنچ جائے گا ۔اسی وقت وہ فریحہ کی منت کر کے اسے اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا۔
یونیورسٹی کی پارکنگ میں گھستے ہی اس کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔دانیال اپنی سوزوکی کار کے ساتھ کھڑا کسی کا منتظر نظر آ رہا تھا ۔اس کے دماغ میں ردا کے الفاظ گونجے ….
”محترم !….وہ روزانہ فری کو یونیورسٹی چھوڑنے آتا ہے اور چھٹی کے وقت اسے لینے بھی آتا ہے ۔“
حماد کی کنپٹیاں سلگنے لگی تھیں اپنی کار اس نے حماد کی کار کے قریب روکی اور نیچے اتر ا۔
”ہیلو مسٹر دانیال !….“وہ نیچے اترتے ہوئے اسے مخاطب ہوا ۔
دانیال، یونیورسٹی گیٹ کی طرف متوجہ تھا اس کی جانب مڑا ۔اور پھر حماد کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں سرخی جھلکنے لگی تھی ۔فری کے بہ قول وہ اس کی مشی کا قاتل تھا۔
”کیوں آئے ہو یہاں ۔“اپنی آواز اسے خود بھی اجنبی لگی تھی ۔
”تم!…. جانتے ہو میں کیوں آیا ہوں ….“حماد اس کی کیفیات سے بے خبر نپے تلے قدم رکھتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔
”لیکن تم!…. نہیں جانتے میں تمھارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔“دانیال کے لہجے میں جھلکتی دیوانگی نے حماد کو رکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
”شاید تمھیں حوالات کی رہائش آئیڈیل لگتی ہے ۔“حماد بہ ظاہر دلیرانہ لہجے میں بولا مگر اس کا دل لرزنے لگا تھا دانیال کی آنکھوں میں چمکتی دیوانگی اس کے لےے حیران کن ہونے کے ساتھ خوفزدہ کرنے والی تھی ۔
اسی وقت فریحہ یونیورسٹی گیٹ سے برآمد ہوئی ۔ردا اس کے ہمراہ تھی ۔پارکنگ گیٹ کے نزدیک ہی بنی تھی گیٹ سے نکلتے ہی اسے دانیال اور حماد آمنے سامنے کھڑے نظر آ گئے تھے ۔
دانیال نے دانت پیسے۔ ”وہ بعد کا مسئلہ ہے ….پہلے تمھیں ،تمھارے کیے کی سزاتو دے دوں۔“ کہتے ہوئے وہ زقند بھر کر اس کے قریب ہوا اگلے لمحے حماد کا گریبان اس کے ہاتھ میں تھا ۔
”دانی !….“فریحہ زور سے چیخی ۔
”دانیال نے فریحہ کی آواز پر توجہ نہیں دی تھی البتہ حماد کی نظریں اس کی طرف اٹھیں گو اس وقت فریحہ نقاب میں تھی مگر حماد کو اسے پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔اور اپنی محبوبہ کو دیکھتے ہی اس کے خوف سے لرزتے دل میں جوش بھر گیا، اس نے بھی دانیال کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”دانی!….یہ کیا پاگل پن ہے ؟ چھوڑو اسے ۔“فریحہ نے قریب پہنچ کردانیال کا ہاتھ حماد کے گریبان سے علاحدہ کرنے کی ناکام کوشش کی ،مگر دانیال نے اسے نظر انداز کر کے ایک زور دار گھونسا حماد کے منہ پر جڑ دیا ۔ حماد بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا اگلے لمحے وہ دونوں گھتم گھتا تھے ۔
فریحہ دانیال کی جذباتی کیفیت سے واقف تھی ،ایک نازک اور کمزورلڑکی ہونے کے ناتے وہ اس قابل نہیں تھی کہ انھیں چھڑا سکے ۔مگر اسے یہ ڈرضرور تھا کہ دانیال جذبات سے مغلوب ہو کر حماد کو جان سے مارنے کی کوشش بھی کر سکتا تھا اور ایسا ہونے کی صورت میں پھانسی اس کا مقدر بن جاتی ۔
”دانی!….“اس نے چیختے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر جڑ دیا ۔تھپڑ سے زیادہ اس کے چیخنے نے حماد کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔حماد کا گریبان اس کے ہاتھ سے پھسلا اور وہ فریحہ کی جانب متوجہ ہوا ۔
”فری !….میں ۔“دانیال ایک دم جذباتی کیفیت سے باہر نکل آیا تھا ۔
”تمھیں منع کیا تھا نا….“فریحہ خفگی بھرے لہجے میں بولی۔اس نے حماد کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا ۔ دانیال کی پیش قدمی رکتے ہی حماد بھی پیچھے ہٹ گیا ،اس کی باچھوں سے خون رس رہا تھا ۔اسی وقت پارکنگ میں موجود سٹوڈنٹس ان کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے ،چونکہ وہ دونوں لوگوں کے جمع ہونے سے پہلے علاحدہ ہو گئے تھے اس وجہ سے کسی نے انھیں چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”کیا ہوا حماد بھائی !….“جینز پہنے ایک لڑکا حماد سے مستفسر ہوا ۔فریحہ اسے اچھی طرح جانتی تھی ، فرحان نامی وہ لڑکا ایک سٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر تھا ۔
”یہ حبشی غنڈہ گردی دکھا رہا ہے ۔“حمادنے رومال سے اپنا خون صاف کرتے ہوئے جواب دیا ۔
”کیوں بے سالے !….ایک سٹوڈنٹ کو چھیڑتا ہے ۔“وہ جارحانہ انداز میں دانیال کی طرف بڑھا۔
”خبردار مسٹرفرحان !….اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔“فریحہ دانیال کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر سٹوڈنٹ دانیال کے خلاف اکھٹے ہو جاتے تو اس غریب کو بہت زیادہ مار پڑتی ۔ ”اگر تمھارا حماد صاحب کسی کی منگیتر کو چھیڑے گا تو اسے مار ہی پڑے گی نا ۔“
”کون منگیتر۔“فرحان رکتے ہوئے مستفسر ہوا ۔ ”کس کو چھیڑا ہے حماد نے ؟“
”مجھے ….“فریحہ بے باکی سے بولی ۔”دانیال میرا منگیتر ہے ۔“
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *