Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09

شادی کی خوش خبری اسے حماد نے فون پر سنائی تھی ۔دانیال کو لگا جیسے وہ ہواو¿ں میں اڑ رہا ہو ۔ حماد کہہ رہا تھا ۔
”دانیال میاں !….نکاح نہایت سادگی سے پڑھایاجائے گا ۔اور یہ رسم تمھاری ہونے والی بیوی کے گھر میں ادا ہو گی ۔ رخصتی وغیرہ کی رسوم کی ضرورت اس لےے بھی پیش نہیں آئے گی کہ دلہن نے اسی گھر ہی میں رہنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے بھائی جان !….جیسے آپ کی مرضی ۔“دانیال کی سمجھ میںنہیں آرہا تھا کہ کس زبان سے اس فرشتے کا شکریہ ادا کرے ۔
”اور ہاں کپڑوں وغیرہ کی فکر میں نہ پڑ جانا۔بلکہ یوں کرو ….اس وقت تم کہاں ہو ؟“
”سٹیل مل میں ؟“
”ایسا کرو باہر آو¿ ….میں تمھیں وہاں سے پک کر لیتا ہوں پھر ساری تفصیلات طے کر لیں گے؟“
دانیال مستعدی سے بولا۔”ٹھیک ہے بھیا !“
حماد نے رابطہ منقطع کر دیا ۔دانیال نے جلدی سے نہا کر وہیں لباس بدلی کیا اور باہر نکل آیا ۔ اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا جلد ہی حماد اسے لینے پہنچ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ریستوران میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔
چاے کا بتا کر حماد اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
”آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں میاں ۔خوش تو ہو نا ؟…. کوئی اور تو نہیں ڈھونڈ لی ؟“
”کیا بات کرتے ہو حماد بھیا !“وہ شرماگیا تھا ۔”میں ایک ایک منٹ گن کر گزار رہا ہوں ۔ آج دو مہینے پچیس دن ہو گئے ہیں ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“حماد نے قہقہہ لگایا۔”بھئی مان گئے ۔“
اس کو ہنستے دیکھ کر دانیال نے نادم ہو کر سر جھکا لیا تھا۔
”اچھا یہ بتاو¿!….کیا یہ ممکن ہے کہ تم اپنی امی جان کو وہیں پرانے گھر میں رہنے دو ؟“
دانیال کے چہرے پر کرب کے آثار نمودار ہوئے ۔اسے لگادلہن اس سے پھر چھین لی جائے گی۔چند لمحے گہری سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔
”حماد بھائی !….یہ ناممکن ہے ۔ماں کے علاوہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ۔میں اسے اکیلانھیں چھوڑ سکتا ۔یقین کرو اس کی ذات سے میری بیوی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی ۔“
”اوکے…. اوکے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔تم ماں کو بھی ساتھ لے آنا مگر اسے اچھی طرح سمجھا دینا کہ اس شادی کے بارے جاننے والوں میں ڈھنڈورا نہ پیٹتی رہے ۔یہ نہ ہوشادی کے اگلے دن تمھارے عزیزوں کا تانتا بندھ جائے ۔یاد رکھنا ایسی کسی بھی صورت میں مسکان ان سب کو ملنے سے انکار کر دے گی ۔اس میں سرا سر تمھاری اپنی سبکی ہو گی ۔ وہ شادی کو ظاہر کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ البتہ شادی کے چار پانچ ماہ بعد ، آہستہ سب کو بتا دینا اسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔اس سے پہلے ایسا سوچنا بھی مت ۔“
”حماد بھائی !….جیسا آپ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا ۔“دانیال کے بدن میں گویا دوبارہ جان پڑ گئی تھی ۔
خالی کپ کے نیچے ایک درمیانی مالیت کا نوٹ رکھ کر حماد کھڑا ہوگیا ۔
”چلو !….تھوڑی شاپنگ کر لیتے ہیں ۔“
”شاپنگ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔مگر حماد اس کی بات کا جواب دےے بغیر چل پڑا تھا ۔ وہ بھی اس کی بات نہ سمجھنے کے باوجود سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا ۔
حماد نے کار ایک مشہورشاپنگ پلازا کی پارکنگ میں روکی،اور دانیال کو ہمراہ لےے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔تھوڑی دیر بعد اس نے دانیال کے لےے تین تھری پیس سوٹ ،جوتوں کے دو جوڑے ،قیمتی خوشبواور اسی طرح کی مزید ضرورت کی اشیا خریدیں ۔اس کے بعد جیولری شاپ پر جا کر مسکان کو منہ دکھائی میں دینے کے لےے ایک قیمتی لاکٹ خریدا ۔دانیال کسی ملازم کی طرح وہ سامان اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔ضرورت کی تمام اشیا خریدنے کے بعد وہ پارکنگ میں آئے ۔تمام سامان کار کی پچھلی نشستوں پر رکھ کر وہ آگے بیٹھ گئے ۔کار روڈ پر لا کر وہ دانیال کو مخاطب ہوا ۔
”دانیال میاں !….یہ لاکٹ ،تم نے دلہن کو منہ دکھائی میں دینا ہوگا ۔باقی سوٹ وغیرہ تمھارے لےے ہیں ۔یہ تمام سامان ابھی تمھارے نئے گھر لے کر جا رہے ہیں جہاں ، تم نے کل صبح گیارہ بجے تک پہنچ جانا ہے ۔تمھارے تیار ہونے تک میں نکاح خواں کو بلوا لوں گا ۔ مولوی صاحب ،دو گواہ ، میں ، تمھاری امی جان اور بس اس سے زیادہ رش کی ضرورت نہیں۔“
دانیال نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔اس کے لےے یہ سب سپنے کی باتیں تھیں ۔دلہن کے ساتھ نیا گھر بھی مل رہا تھا اور پھر سب خرچا بھی دلہن والے کر رہے تھے ۔یہاں تک کہ اس کا لباس بھی انھوں نے خریدا تھا ۔
مطلوبہ مکان کے سامنے جا کر حماد نے کار روکی ۔پختہ اینٹوں سے بنا چھوٹا سا مکان دانیال کو بہت پسند آیا ۔چار کمرے ،کچن ،باتھ روم اور پھر اس کے اپنے کمرے میں ایک ملحقہ باتھ روم ۔کمروں کے آگے بنا محرابی بر آمدہ ،چھوٹا سا صحن ، سامنے کی دیوار کے ساتھ بنی دو کیاریاں جن میں مختلف قسم کے پھول بھی لگے ہوئے تھے ۔ برآمدے میں بھی پھولوں کے چند گملے رکھے تھے یہاں تک کہ کار کھڑی کرنے کے لےے ایک گیراج بھی بنا ہوا تھا ۔ایسا گھر تو اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا ۔
کار سے سارا سامان نکلوا کر حماد نے وہیں رکھوا دیا ۔
”یاد رہے کل گیارہ بجے تمھیں ادھر ہونا ہے ؟“حماد نے اسے یاد دہانی کرائی ۔
دانیال جلدی سے بولا۔”حماد بھائی!….میں صبح سویرے ہی پہنچ جاو¿ں گا ۔“
”وہ تمھاری مرضی ہے کہ کتنا سویرے آتے ہو ۔اور پرانے گھر سے کوشش کرنا کوئی سامان ساتھ نہ لانا ، زیادہ سے زیادہ نقدی زیور اور ضرورت کے کپڑے بس ۔اس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔تمھارے کھانے پکانے کے برتن تک یہاں موجود ہیں ۔“
”ٹھیک ہے بھیا!“دانیال فرمان برداری سے بولا۔
”آو¿،اب چلیں ۔“گھر کی چابیاں حماد نے اس کے حوالے کر دی تھیں ۔اسے گھر ڈراپ کر کے وہ واپس چل پڑا ۔
٭……..٭
گھر میں داخل ہوتے ہی دانیال نے چارپائی پر بیٹھی ماں کو گود میں لے کر ناچنا شروع کر دیا ۔
”اے لڑکے !….باو¿لا تو نہیں ہو گیا؟“عائشہ خاتون نے گھبرا کر پوچھا ۔
”ہاں امی جان !….آج میں سچ مچ پاگل ہو گیا ہوں ۔اور جب یہ خبر سنیں گی تو آپ بھی پاگل ہو جائیں گی۔“
”پاگل ہوں میرے دشمن ،اور اب نیچے اتارو مجھے چکر آرہے ہیں ۔“
دانیال نے ماں کو دوبارہ چارپائی پر بٹھایا اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔عائشہ خاتون نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئے پوچھا۔
”اب بتاو¿میرے لال!….اتنے خوش کیوں ہو ؟اللہ پاک تمھیں ہمیشہ اسی طرح خوش رکھے۔“
”آمین !….امی جان پتا ہے ،کل تمھارا بیٹا دولھابننے والا ہے ؟“
”مم….مگر کیسے ؟“وہ حیران ہی تو رہ گئی تھی ۔
”بس امی جان کچھ نہ پوچھو ،جب اللہ پاک دیتا ہے نا؟….تو چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے ۔“
”دانی !….جلدی بتاو¿ نا ؟میرا سانس رک جائے گا ؟“اس کی ماں اس سے بھی زیادہ اس کی شادی کی متمنی تھی۔
جواباََ دانیال نے ساری تفصیل اس کے سامنے دہرا دی ۔
”عجیب کہانی سنا رہے ہو بیٹے!….آخر تم ہی کیوں ؟ایسے رشتے کے لےے تو اچھے خاصے امیر لوگ تیار ہو جاتے؟“ عائشہ خاتون نے اندیشہ ظاہر کیا۔ ”آخر تم ہی کیوں ۔کہیں لڑکی میں کوئی عیب تو نہیں ہے ؟“
”بس یہی عیب ہے کہ مطلقہ ہے ۔“
”بیٹا !….یہ تو کوئی عیب نہ ہوا؟“
”امی جان !….آج کل اسے عیب ہی سمجھا جاتا ہے ۔اور اگر اس کے علاوہ بھی عیب ہے تو کوئی بات نہیں امی جان، میں نبھاہ کر لوں گا ۔کم از کم تمھاری دادی بننے کی خواہش تو پوری ہو جائے گی نا؟“
بیٹے کی بات پر وہ سپنوں میں کھو گی ۔ننھے ننھے معصوم فرشتے اسے اپنی گود میں قلقاریاں مارتے دکھائی دےے۔
”اچھا امی جان !….انھوں نے ایک دوشرط بھی رکھی ہے ؟“دنیال نے ماں کو سپنوں کی دنیا سے باہر کھینچا ۔
”کیسی شرط بیٹا؟“
”ایک تو ہمیں یہ گھر چھوڑ کر دلہن کے گھر منتقل ہونا پڑے گا ۔اور دوسرا اس شادی کی اطلاع کسی کو نہیں دیں گے ۔ کم از کم چار پانچ ماہ تک اس شادی کو خفیہ رکھنا ہو گا۔“
”کیوں،اس گھر کو کیا ہے ؟“
”کچھ نہیں امی جان !یہ ہم کرائے پر چڑھا دیں گے ۔یوں بھی مسکان کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں ہے ۔“
”مسکان بہو کا نام ہے نا؟“عائشہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
دانیال شرما کر بولا۔”جی امی جان !….“
”ہائے کتنا پیارا نام ہے ؟“عائشہ بچوں کی سی خوشی سے بولی۔
”امی جان وہ خود بھی بہت پیاری ہے ۔میں نے فوٹو دیکھا ہے اس کا ۔تم دیکھو گی تو حیران رہ جاو¿ گی۔“
”بیٹا !….محلے کے چند جاننے والوں کو تو لے چلیں گے ساتھ ؟“
”نہیں امی !….جب میں ایک دفعہ طے ہو گیاہے کہ ہم چار پانچ ماہ تک اس شادی کو خفیہ رکھیں گے ؟اور اب میں زبان دے کر کیسے پھر جاو¿ں؟“
”بیٹا !….اور تو خیر ہے ،میری دو تین پرانی سہیلیاں ہیں انھیں جب بعد میں پتا چلے گا تو وہ سخت خفا ہوں گی ؟“
”ہونے دو انھیں خفا ۔ان کی خفگی کے لےے میں اتنے اچھے رشتے کو داو¿ پر نہیں لگا سکتا ۔ یوں بھی بعد میں ہم انھیں تھوڑی بتائیں گے ،کہ یہ شادی پانچ ماہ پہلے ہوئی تھی ۔ہم کہیں گے ابھی ہوئی ہے ۔بلکہ اس ضمن میں چھوٹی موٹی تقریب بھی منعقد کر لیں گے ۔“
”ٹھیک ہے بیٹا!…. جو تمھاری مرضی ؟“
”اب یوں کرو ضرورت کا سامان باندھ لو کل سویرے ہی نکل چلیں گے ۔“
عائشہ خاتون نے حیرانی سے پوچھا۔” تو ساراضروری سامان ہی ہے ؟“
”نہیں امی !….بس اپنے کپڑے نقدی اور جوتے وغیرہ لے جائیں گے ۔باقی وہاں ضرورت کی تمام اشیا موجود ہیں ۔اور اگر بعد میں کسی چیز کی ضرورت پڑی تو یہاں سے اٹھا کر لے جائیں گے ۔ہم بیرون ملک تھوڑی جا رہے ہیں؟“
”تو اس سامان کی حفاظت کو ن کرے گا ؟“
”ہاں ،سونا ،چاندی پڑا ہے نا یہاں ؟….ان ٹیڑھی میڑھی دیگچیوں ہی کو تو چور ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔“
”اچھا میں بشریٰ اور خورشید بیگم کو جانے کی بابت مطلع کر تی ہوں ،تم لے جانے والا سامان خودباندھ لو ۔بعد میں ایویں اعتراض جھاڑتے رہو گے۔“
”امی جان !….انھیںاصل بات نہ بتانا۔“دانیال نے ایک بار پھر ماں کو تاکید کی ۔”بس کہہ دینا کہ، دانیال کو فیکٹری کی طرف سے گھر ملا ہے وہاں رہنے جا رہے ہیں ۔“
”بیٹا !….مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا ۔“
”اچھا صرف نئے گھر کا کہہ دینا ،یہ تو جھوٹ نہیں ہے ؟“
”اگر وہ نئے گھر کاپتا دریافت کرلیں ؟“
دانیال ہنس کر بولا۔”تو بتا دینا ۔“
”مگر مجھے تو معلوم نہیں ہے ؟“
”تو یہی بتادینا؟گھر کا پتا تھوڑی بتانا ہے ۔“
”تو کبھی نہیں سدھرے گا ۔“عائشہ خاتون بے ساختہ ہنستے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی۔
ماں کے آنے تک دانیال نے ضروری سامان اکھٹا کر لیا تھا ۔ا سے ایک ایک پل بتانا مشکل ہو رہا تھا ۔صبح بہت دورلگ رہی تھی بہ قول غالب….
ع صبح کر نا، شام کا لانا ہے، جوئے شیر کا
گھڑی کی سیکنڈ بتانے والی سوئیاں اگر گھنٹوں کے حساب سے حرکت کریں تب بھی وقت گزر جاتا ہے ۔وہ رات بھی گزر گئی ۔صبح سویرے ہی ماں بیٹا جانے کے لےے تیار ہو گئے تھے ۔ گھر کو تالالگا کر وہ ٹیکسی میں بیٹھ کرنئے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔نیا گھر دیکھ کر عائشہ خاتون باو¿لی ہو گئی تھی۔
”دانی!….یہ گھر تو بہت خوب صورت ہے بیٹا؟“
”ہاں امی جان!….اوراب آپ یوں کریں کہ تیار ہو جائیں ،اچھے والے کپڑے پہن لیں۔ حماد بھائی کے آنے سے پہلے ہمیں تیار ہوجانا چاہےے ۔“
”بیٹا !….اس دن کے لےے تو میں نے کب سے نئے کپڑے سلو ا رکھے ہیں ۔“ عائشہ خاتون کی آنکھیں، برسوں سے مسلسل دیکھنے والے سپنے کی تعبیرکی قربت میں جگنو بن کر چمکنے لگیں۔
دانیال نے خود بھی کریم کلرکا تھری پیس سوٹ اٹھایا اور باتھ روم میں گھس گیا ۔وہ پہلی مرتبہ سوٹ پہننے جا رہا تھا۔خوب اچھی طرح نہانے کے بعد اس نے اندازے سے سوٹ پہن لیا ۔ ٹائی اس سے نہیں باندھی جا رہی تھی ،وہ اس نے لپیٹ کر جیب میں ڈال لی کہ حماد سے بندھوا لے گا۔
اس کی ماں بھی نہا دھو کر تیار ہو گئی تھی ۔جب وہ سوٹ پہن کر ماں کے پاس گیا تو ششدر رہ گئی….
”ماشاءاللہ !….چشم بد دور ،نظر نہ لگ جائے میرے لال کو ؟“ماں نے اس کی پیشانی کو بوسا دے کر کہا ۔ماں کے لےے وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا ۔
”امی جان !….آج تو آپ نے بھی قیمتی لباس زیب تن کر لیا ہے ؟“
”تمھاری شادی ہے پگلے!….اگر میں نے آج کے دن بھی اچھے کپڑے نہ پہنے تو پھرکب پہنوں گی ؟“
گیارہ بجے تک کا وقت انھوں نے بڑی بے چینی سے گزارا ۔گیارہ بجنے سے چند منٹ ہی رہتے تھے ،جب انھیں مکان کے سامنے کار رکنے کی آواز آئی ۔دانیال بے صبری سے استقبال کے لےے دروازے کی سمت بڑھ گیا۔
٭……..٭
مسکان اسے اپنے کمرے میںملی ۔دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہوا ۔مسکان غم زدہ سی مسہری پر لیٹی تھی ۔اسے دیکھ کر دوپٹا درست کرنے لگی ۔
حماد نے مسہری کے قریب کرسی گھسیٹی اور اسے تفصیلات بتانے لگا ….
آخر میں وہ کہہ رہا تھا ….
”ماں کو وہ گھر چھوڑنے پر تیار نہیں تھا ۔اس لےے مجبوراََمجھے اجازت دینی پڑی کہ وہ ماں کو بھی ساتھ رکھ سکتا ہے ۔ لیکن تم فکر نہ کرو ،سمجھو وہ گھر کے کام کاج کے لےے رکھی ہوئی نوکرانی ہے ۔“
”حماد !….ساس نوکرانی نہیں ہوا کرتی ۔ میں نے تمھاری ماں کو کبھی یہ خطاب دیا ہے ؟“
حماد کو اس کی بات بری لگی تھی،وہ جھلاتے ہوئے بولا۔ ”وہ کون سا تمھارا اصل شوہر ہے ؟“
مسکان ترکی بہ ترکی بولی۔”عارضی سہی ….اصل تو ہے ؟“
”طلا ق ہونے میں کتنی دیر لگے گی ۔زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی بات ہے ؟“
اس نے جواب دیا۔”تب کی تب دیکھی جائے گی ۔“
”اچھا ،اگر چاہو تو ایک نوکرانی ساتھ لے جانا….بلکہ کوئی کام والی عورت ہی رکھ لیتے ہیںجو تمھیں جانتی نہ ہو ، کیونکہ ان نوکرانیوں پر تو بھروسا نہیں کر سکتے؟“
”اور جب میں مہینا بھرگھر میں نہیں آو¿ں گی ؟….تب یہ اس بارے نہیں سوچیں گی کہ کہاں گئی ہوں؟“
”اوہ !….“حماد کا ماٹھا ٹھنکا۔”پھر ایسا ہے ،دونوں کو ایک ایک ماہ کی چھٹی دیتی جاو¿۔“
”اس طرح تو چوکیدار کو بھی رخصت دینا پڑے گی ؟“
”کوئی بات نہیں ،ایک ماہ کے لےے میں کوئی نہ کوئی بندوبست کر لوں گا ؟“
” ٹھیک ہے ؟“مسکان نے اثبات میں سر ہلایا۔”ایک ماہ کی چھٹی مع تنخواہ کے پا کر غریب ذرا خوش ہو جائیں گے ۔“
”اچھا تم نے بتایا نہیں کہ وہاں تمھیں ملازما کی ضرورت پڑے گی کہ نہیں ؟“
”فی الحال نہیں ۔اگر بعد میں ضرورت پڑی تو کال کردوں گی ۔“
”اور ہاں !….انگریزی میں تم بے فکر ہو کر بات چیت کر سکتی ہو ۔ماں بیٹا صرف اردو ہی بول سکتے ہیں ۔“
”حماد !….مجھے آپ سے گپیں نہیں ہانکنی کہ اس معلومات کی ضرورت پڑے ۔اگر کوئی ضروری بات ہوئی تو میں” ایس ایم ایس“کر دوں گی ۔اسی طرح تمھیں بھی کوئی بات کرنی ہو تو ایس ایم ایس ہی کا سہارا لینا۔البتہ کوئی ایمرجنسی ہو جائے پھر کال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔“
”ٹھیک ہے باس !….“حماد نے ماحول میں چھائے تناو¿ کو کم کرنے کی کوشش کی ۔ اور مسکان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *