Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32

حماد کو لگا وہ بازی ہار رہا ہے ۔یقینا اس کے اور مسکان کے بیچ کوئی تیسرا دخل انداز ہو رہا تھا ۔ اور وہ تیسرا کون ہو سکتا تھا؟…. دو جمع دو چارکی طرح اس کا جواب واضح تھا ۔تیسری شخصیت فریحہ کی تھی ۔ لیکن فریحہ اور اس کے خلاف کوئی حرکت کرے یہ ناممکنات میں سے تھا ۔مگر اس کے علاوہ کوئی اور موجود ہی نہیں تھا جو اس ساری کہانی سے واقف ہوتا ۔
”شاید کسی تیسرے کے بغیر ہی مسکان بدل گئی ہو ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔
”یوں بھی عورت ذات ہے جس کی سوچ پنڈلی میں ہوتی ہے ۔اورعورت ذات کے لےے ترسے اس کالے کلوٹے کی باتوں کو بھلانے میں شاید دشواری پیش آ رہی ہو ۔امید ہے زیادہ دن اپنے حماد سے دور نہیں رہ پائے گی ۔ما بدولت کو ٹھکرانا اتنا بھی تو آسان نہیں ۔“اس نے اپنی شکل و صورت کو سراہا ۔اس وقت وہ یہ بھول گیا تھا کہ احساسات کا دارومدار شکل و صورت پرنہیں ،توجہ پر ہوتا ہے۔وہ توجہ ہی ہوتی ہے کہ ایک بے شعور اور معصوم بچے کو ماں کی گود کے علاوہ کہیں چین نہیں آتا ،ایک بے زبان اور عقل و شعور سے تہی دامن جانور اپنے مالک کے پاس بھاگا چلا جاتا ہے ۔
”اگر فریحہ سے بات کرلوں۔“اس نے موبائل فون نکالا مگرپھرایک دوسری سوچ نے اس کاارادہ ملتوی کر دیا۔”وہ الو کی پٹھی پیچھے پڑ جائے گی کہ میں سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف لوٹ جاوں۔“
”تو پھر کیا کروں؟؟؟“
”چند دن انتظار کر کے دیکھ لیتا ہوں ،اگر سیٹھ زادی صاحبہ کے سر سے پیار محبت کا بھوت اتر گیا تو ٹھیک ہے ورنہ زیادہ کا لالچ چھوڑ کر آدھے ہی پر گزارا کرناہو گا ۔یوں بھی کون جانتا ہے کہ ہماری طلاق ہو گئی تھی۔ یا دانیال سے اس کی شادی ہوئی تھی ۔اگر دانیال نے گڑ بڑ کی کوشش کی تو اسے بھی مروا دوں گا ۔“
تسلی بخش تجویز نے اسے سوچوں کے گرداب سے نکالا اور وہ ڈائننگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔
٭……..٭
کھانااس نے بیڈ روم ہی میں منگوا لیا تھا ۔اور پھر کھانے کے دوران ہی فریحہ کی کال آگئی ۔
”باجی !….کیا ہو رہا ہے؟“
”کھانا کھا رہی ہوں ۔“
”اچھا یہ بتائیں؟اگر کسی کوکہا جاے کہ اس کاغذ پر سائن کرو یہ تمھارا ضمانت نامہ ہے۔وہ سائن کر دے بعد میں اسے پتا چلے کہ وہ طلاق نامہ تھا، کیا اس طرح طلاق ہو جائے گی؟“
”مولانا صاحب کہہ رہے تھے زبردستی بھی طلاق ہو جاتی ہے ۔اس طرح تو اس نے مرضی سے سائن کےے ہیں ، وہ پہلے پڑھ لیتا نا ؟“
”اگر مندرجات انگلش میں ہوں اور وہ انگلش پڑھ نہ سکتا ہو پھر؟“
”مجھے مفتی صاحب سے رجوع کر نا پڑے گا ،تم ایک منٹ انتظار کرو میں ابھی پوچھ لیتی ہوں ۔“ مسکان نے رابطہ منقطع کر کے مفتی صاحب کا نمبر ڈائل کیا ۔
”اسلام علیکم !….“کال اٹینڈ ہوتے ہی مفتی صاحب کی بھاری آواز اس کی سماعتوں میں گونجی ۔
”وعلیکم اسلام !….مفتی صاحب ایک مسئلہ دریافت طلب ہے ؟“
”جی بیٹی !….پوچھو ؟“
”مفتی صاحب !….اگر پولیس والے کسی ملزم کو کہیں کہ یہاں دستخط کرو یہ تمھارے ضمانت کے کاغذات ہیں اور اصل میں وہ طلاق نامہ ہو تو کیا اس طرح طلاق ہو جائے گی ؟….یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ان کاغذات کے مندرجات انگریزی زبان میں ہیں اور مذکورہ آدمی انگلش نہیں پڑھ سکتا ۔“
”جس طرح آپ بتا رہی ہیں بیٹی !….ایسے طلاق نہیں ہوتی ۔“
”مگر آپ نے تو بتایاتھا زبردستی بھی ہو جاتی ہے ۔“
”ہاں ،مگر اس صورت میں طلاق دینے والے کو پتا ہوتا ہے کہ وہ طلاق دے رہا ہے ۔اور مسئولہ صورت میں وہ آدمی لاعلم ہے ۔جیسے روزہ دار اگر غلطی سے کھا پی لے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،مگر بھولے سے یا لا علمی سے کھا پی لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
”غلطی اور بھول میں کیا فرق ہے مفتی صاحب ؟“
”وضو کرتے ہوئے کلی کی ،روزہ یاد تھا مگر پانی غلطی سے نگل لیا ۔اسے غلطی کہتے ہیں ۔جبکہ روزہ یاد نہیں تھا اور پیاس لگی پیٹ بھر کر پانی پی لیا روزہ نہیں ٹوٹا ۔“
”مفتی صاحب !….اللہ تعالی ٰ آپ کو اجر دے ۔“سلام کہتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔ اگلے لمحے وہ فریحہ سے بات کر رہی تھی ۔
”فری !….تمھیں یقین ہے نا بات اسی طرح ہوئی تھی؟“
”ہاں باجی !….دانیال نے اسی طرح بتایا ہے ،مزید تصدیق کے لیے آپ تھانے دار صاحب سے رابطہ کر سکتی ہیں ۔ “فریحہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔
”ٹھیک ہے کل اکھٹے چلیں گی ،مجھے پتا ہے وہ جس تھانے میں بند تھا ۔“
”باجی !….پرس میں کچھ پیسے بھی رکھ لینا ،یہ پولیس والے بڑے حرام خور ہوتے ہیں ۔“
”جانتی ہوں ،تم فکر نہ کرو ۔“
”مفتی صاحب !نے کیا بتایا ہے ؟“فریحہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔
”ان کے مطابق ،اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔“
”باجی!…. یاد ہے میں نے کیا کہا تھا ۔دانیال آپ کو کسی صورت طلاق نہیں دے گا ۔چاہے اس کی گردن اڑا دی جائے ۔“
”اس یقین کی وجہ؟“
”آپ کے ناروا سلوک کے بعد بھی وہ آپ کے بارے کوئی ایسی ویسی بات سننا پسند نہیں کرتا ۔ یقین کرو باجی ، میں نے بعد میں اسے سچے دل سے شادی کی پیش کش کی تھی ،مگر وہ خوب صورتی سے ٹال گیا ۔ تمھارے علاوہ اسے کوئی لڑکی بھی قبول نہیں ۔باجی !….یقین کرو اس نے کبھی مجھ پر غلط نگاہ بھی نہیں ڈالی ،کہتا ہے ان آنکھوں کو بس اپنی مشی کے دیدار کی خواہش ہے ۔اتنی محبت کرنے والا تھوڑی سی پٹائی کے بدلے ہار نہیں مان سکتا ۔اور پتا ہے پولیس والوں کی مار سے وہ کئی مرتبہ بے ہوش ہوا مگر طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوا ۔“
”بے وقوف !….“مسکان آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی مگر اس کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں کھل گئے تھے۔
”ہاں !….بے وقوف تو وہ ہے ۔محبت کرنے والے سارے بے وقوف ہی تو ہوتے ہیں ، ہمیشہ خسارے کی تجارت کرتے ہیں ۔منافع چھوڑ دیتے ہیں اور نقصان رکھ لیے ہیں ۔اس پاگل نے بھی کسی سے محبت کی ہے اور ٹوٹ کر کی ہے۔ اب کہاں پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔“
”بڑی طرف داری ہو رہی ہے ؟“مسکان ہنسی ۔
”باجی !….وہ ایک کھرا انسان ہے ۔کسی کا چہرہ اجلا ہوتا ہے ،اس کا دل اجلا ہے ۔“
”فری !….کل اکھٹے بیٹھ کر سارا لائحہ عمل طے کریں گے ۔تھانے سے اصل حقیقت پوچھ کر سوچیں گے کہ حماد کو کیسے جواب دیا جائے ۔“
”ہاں باجی !….اور اپنا خیال رکھنا اور محتاط رہنا ،کسی پر بھی اعتبار نہ کرنا ۔“
”میں سمجھی نہیں ،تم کیا کہنا چاہتی ہو ؟“
”باجی !….میں کہہ رہی ہوں اپنا خیال رکھنا ۔اور خیال رکھنے کا مطلب خیال رکھنا ہی ہوتا ہے ۔“
”اوکے جناب !….اب اجازت ؟“
”خدا حافظ باجی !“فریحہ نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
بستر پر لیٹتے ہی مسکان کی آنکھوں میں ہنستے مسکراتے دانیال کا چہرہ ابھرا اور اس نے سکون بھرے انداز میں آنکھیں بند کر لیں ۔
”بس چند دن میری جان ،تمھاری مشی تمھارے پاس ہو گی ،تمھارے سارے دکھ ،سارے زخم ، سارے غم سمیٹ لے گی ۔بس جتنی آزمائشیں آنی تھیں وہ بیت گئیں ۔میں ہار گئی تمھاری محبت جیت گئی ۔“
٭……..٭
انسپکٹر شہباز خان اپنے دفتر میں دو نقاب پوش خواتین کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔
”اسلام علیکم تھانے دار صاحب !….“ان میں سے ایک شیریں زبان میں بولی ۔
”وعلیکم اسلام !….بیٹھیں جی!….“اس نے کرسیوں کی طرف اشارہ کیا ۔
وہ دونوں بیٹھ گئیں ۔
”جی کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی ؟“لڑکیوں کودیکھ کر اس کے کرخت لہجے میں مٹھاس در آئی تھی۔
”تھوڑی سی معلومات لینا تھی انسپکٹر صاحب ؟“اس مرتبہ دوسری لڑکی نے اس کے کانوں میں رس انڈیلا۔ وہ دونوں لا محالہ فریحہ اور مسکان تھی۔
”جی !….پوچھیں ؟“
مسکان بولی ۔”تھانیدار صاحب !….پرسوں آپ کے تھانے میں ایک ملزم لایا گیا تھا جس سے طلاق لینا تھی ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس نے طلاق دے دی تھی ؟“
تھانے دار کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ایک دم سیدھا ہوا اور کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوئے بولا ۔
”اس سے آپ کا کیا رشتا ہے ؟“
فریحہ نے کہا ۔”رشتے کو چھوڑیں انسپکٹر صاحب !….جو سوال پوچھا ہے اس کا جواب دیں ۔“
”میرا خیال ہے میں سرکار کا ملازم ہوں ؟“تھانے دار نخوت سے بولا ۔یوں بھی جب تک اسے ان لڑکیوں کی اصلیت معلوم نہ ہو جاتی وہ اصل بات نہیں پھوٹ سکتا تھا ۔
”دیکھیں سر !….آپ ہمیں اصل بات سے آگاہ کریں اور اس کے بدلے غالباََ یہ ہدیہ کافی رہے گا؟“ مسکان نے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔
تھانیدار نے للچائی ہوئی نظروں سے نوٹوں کو دیکھا ۔اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا ۔
”بی بی کچھ پتا تو چلے نا؟….اس کا طلاق دینا آپ کو مطلوب ہے یا طلاق نہ دینا ؟“
”ہمیں حقیقت معلوم کرنا ہے ،سچ بتانا جھوٹ نہیں ۔ہر دو صورت یہ رقم آپ کی ہوگی۔“
چند لمحے سوچنے کے بعد وہ بولا ۔”بی بی ہم نے اس سے طلاق نامہ دستخط کرالیا تھا، لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ طلاق نامے پر دستخط کر رہا ہے ۔باقی زبانی طور پر ہم نے بڑی کوشش کی مگر وہ طلاق دینے پر راضی نہ ہوا ۔اتنی مار تو عادی مجرم بھی برداشت نہیں کرتے ۔“
”آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟“مسکان سے اپنی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ۔
تھانیدار صاف گوئی سے بولا۔”ہاں بی بی !….بالکل سچ کہہ رہا ہوں ۔اگر مجھے پتا ہوتا کہ کون سی بات آپ کے فائدے کی ہے ،تو میں ضرور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا۔مگر اب تو میں نہیں جانتا ،کہ آپ کا مطمح نظر کیا ہے ؟“
”شکریہ انسپکٹر صاحب !….“کہہ کر وہ دونوں کھڑی ہو گئیں ۔
”مبارک ہو باجی !“کار میں بیٹھتے ہوئے فریحہ بولی ۔
”بہت بہت شکریہ ۔“مسکان نے ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اسے ساتھ لپٹا لیا۔
”باجی !….خوش تو نا؟“
”تمھیں کیا لگتا ہے ؟“مسکان چہکی۔
”اللہ کرے ہمیشہ خوش رہو۔“فریحہ نے سچے دل سے اسے دعا دی۔
”تم بہت اچھی ہو۔“
”باجی !….آپ نہیں جانتیں مجھے۔“فریحہ دکھی ہو گئی۔
مسکان سنجیدگی سے بولی ۔”واقفیت کے لےے کسی لمبی رفاقت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔“
”اچھا !….اب کہاں چلنا ہے ؟“فریحہ نے موضوع بدلا ۔
”اب ،تمھیں گھر لے چلتی ہوں ۔“
”نہیں ،وہاں نہیں جانا ۔یہ نہ ہو ؟….حماد ہمیں اکھٹا دیکھ لے ۔“
”میں دوسرے گھر کی بات کر رہی ہوں ۔“
”دوسرا گھر کون سا ؟“فریحہ نے حیرانی سے پوچھا ۔
”جہاں میں اور دانی رہتے تھے ۔“مسکان نے حسرت سے کہا۔
”پھر ٹھیک ہے باجی !….“
تھوڑی دیر بعد وہ وہاں موجود تھیں ۔اندر داخل ہوتے ہی فریحہ بولی ۔
”کتنا پیارا گھرہے اور کتنا ویران لگ رہا ہے ؟“
”ہاں فری !….رونقیں تو مکینوں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں ۔“
”ان شاءاللہ یہ پھر آباد ہو گا ؟“
”نہیں اب تو دانی بنگلے ہی پر رہے گا میرے ساتھ ؟“
”مطلب یہ غیر آبادہی رہے گا ؟“
مسکان ہنسی ۔”نہیں !….ہر ویک اینڈ پر ہم یہاں ماضی کھنگالنے آئیں گے ۔یقین کرو فری میں کل بھی آئی تھی ، اتنا سکون ملتا ہے یہاں ،اس قدر آرام اور خوشی کہ بیان سے باہر ہے ۔“
”باجی !….یہ دانیال کی وہ محبت ہے جو تمھارے دل کے نہاں خانوں میں چھپی ہوئی ہے ۔“
”نہیں ،چھپی نہیں ،بالکل ظاہر تھی ،بس میں نے زبردستی اسے چھپایا ہوا تھا ۔میں حماد سے کےے وعدے نہیں توڑنا چاہتی تھی ؟“
”ہونہہ !….وعدے ؟“فریحہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔”اسے کسی سے بھی محبت نہیں،بس اپنا مستقبل عزیز ہے ۔وہ دولت مند بننا چاہتا ہے ،کسی بھی طرح ، کسی بھی صورت میں ۔“
مسکان نے پوچھا۔”تو جب تک وہ دولت مند نہ بن جاتا ،تم اس کا انتظار کرتی رہتیں ؟“
”ہاں ،میں بھی آپ کی طرح اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آئی ہوئی تھی ۔“
”حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے دولت مند بننے کی کوشش ہی نہیں کی ۔بس فیکڑی میں جا کر تھوڑی دیر بیٹھ کر واپس آ جاتا ۔ اس کے بجائے وہ مجھ سے کچھ سرمایہ لے کر اپنا کاروبار شروع کردیتا تو شاید اب تک ترقی کی طرف اس نے کافی کچھ سفر کر لیا ہوتا ۔“
فریحہ کا دل چاہا کہ اس کی سادگی پر قہقہہ لگائے ۔اس بے چاری کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کتنے بڑے خطرے سے نکل گئی تھی ۔مگر وہ حماد کا یہ راز ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔وہ جیسا بھی تھافریحہ کم از کم اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی تھی۔اسے سوچ میں گم دیکھ کر مسکان بولی ۔
”میرا خیال ہے چاے پی جائے ؟“
”ضرور ،مگر چاے آئے گی کہاں سے ؟“
”یہ میرا گھر ہے جناب ۔“مسکان نے مسکراہٹ بکھیری ۔
وہ دونوں اٹھ کر کچن میں آگئیں ۔چاے بناتے ہوئے مسکان کے دماغ میں دانیال کی شبیہ لہرائی اسے لگا وہ اس کے پیچھے کھڑا ہے۔
”دانی !….ہر وقت مذاق اچھا نہیں ہوتا ۔امی جان نے دیکھ لیا تو کیا کہیں گی ؟“
”یہ مذاق نہیں ہے مشی جی !….“وہ سنجیدگی سے کہتا اور مسکان کے چہرے پر حیا آلود مسکراہٹ بکھر جاتی ۔ اسے لگتا وہ اس کے چھپے ہوئے احساسات اور پوشیدہ جذبوں سے اچھی طرح آگاہ ہے ۔وہ جانتا ہے کہ کس ناں کا مطلب ہاں ہے اور کس ہاں کو نفی سمجھا جائے ۔
”باجی !….کن خیالوں میں کھو گئی ہو ؟“فریحہ کی آواز نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر کھینچا ۔
”آں ….ہاں ….کچھ نہیں ۔“وہ گڑ بڑا گئی تھی۔
فریحہ نے ہنس کر کہا ۔”شاید دانیال کی یاد آ گئی ؟“
”ہاں !“مسکان نے شرمیلے لہجے میں اعتراف کیا ۔”وہ اسی طرح یاد آتا رہتا ہے ۔اور فری !….تم یقین کرو وہ میری ہر بات جانتا تھا ۔ہر احساس سے واقف تھا ،میرا کوئی جذبہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں تھا ۔مجھے وہ سچ مچ جادو گر لگتا تھا، اور پتا ہے؟ میں دل ہی دل میں اسے کالا جادوگر کہتی ہوں ۔ اور جانتی ہو اس نے مجھے طلاق کیوں نہیں دی ؟….یہ ممکن ہی نہیں کہ میں اس سے کچھ مانگوں اور وہ انکار کر دے ۔اصل بات یہ تھی کہ میں دل سے طلاق لینا ہی نہیں چاہتی تھی ۔اور دیکھ لو حماد کی ساری کوششوں کا کیا نتیجا نکلا؟“
”باجی !….آپ سچ مچ بہت خوش قسمت ہیں ۔دانیال واقعی بہت مخلص اور محبت کرنے والا انسان ہے۔اور آپ کے بارے تو اس کے دل میں جو کچھ ہے اس کے لیے تو کوئی لڑکی خواب ہی دیکھ سکتی ہے ۔وہ سچ مچ اس دور کا مجنوں ہے۔“
چاے کے کپ پکڑ کر وہ بیڈ روم میں آ گئیں۔مسکان نے کہا۔
”اب بتاو کیا کیا جائے؟“
”میں کیا کہہ سکتی ہوں باجی !….آپ کی زندگی ہے اور آپ نے گزارنی ہے۔بس اتنا مشورہ دوں گی ، کہ دانیال تمھیں چاہتا ہے اور حماد کو صرف دولت چاہےے ۔“
”پاگل !….یہ تو طے ہو گیا نا، کہ میں اب دانی سے طلاق نہیں لینے والی ۔میں حماد کے بارے پوچھ رہی ہوں کہ اسے کیااورکیسے جواب دیا جائے ؟“
”یہ کون سا مشکل ہے ؟….ہر کسی نے اپنی زندگی گزارنا ہوتی ہے ۔اس نے خود تمھیں طلاق دی تھی ، اب اعتراض کیسے کرے گا ؟“
”بھائیوں کو کیا جواب دوں ؟وہ میری دانیال سے شادی کے متعلق کچھ نہیں جانتے ۔اس طرح ایک دم سب کچھ ہو جانا….“مسکان سچ مچ الجھ گئی تھی ۔
”ہاں ،یہ پرابلم تو ہے ۔ایسا ہے کہ پہلے حماد سے باقاعدہ طلاق نامہ سائن کراو ،اس کے بعد عدت گزار کر دانیال سے شادی کرلو،مطلب لوگوں کے سامنے بہ ظاہر دوبارہ نکاح پڑھا لینا ۔“
”اور ہونے والے بچے کا کیا کروں گی ؟اس کا کیا جواز پیش کروں گی؟
”اوہ !….یہ پرابلم بھی تو ہے ۔“فریحہ بھی گہری سوچ میں کھو گئی ۔پھر چند لمحوں بعد بولی ۔
”ویسے حماد چاہے تو اس پرابلم کا حل نکل سکتا ہے ۔“
”وہ بھلا کیوں چاہے گا ۔میرے اس فیصلے کے بعد وہ ہمارا لیے کیسے کچھ اچھا سوچ سکتا ہے ؟“
”میرا خیال ہے دولت کی آفر اسے اس کام پر مجبور کر دے گی ۔بلکہ ایسا ہے میں بھی اس سے بات کرتی ہوں،شاید میری محبت کا بھرم رکھ لے ۔پہلے تو نہیں رکھا تھا لیکن آپ کی طرف سے صاف انکار اسے میری محبت کی طرف مائل کر دے گا ۔“
”تو پھر واپس چلتے ہیں ۔میں شام تک اس سے بات کر لوں گی ،شام کے بعد تم اس سے بات کر لینا۔“
”ٹھیک ہے باجی !….یہی بہتر فیصلہ ہے ۔“فریحہ نے کہا اور وہ وہاں سے نکل آئیں۔
٭……..٭
”آج تو ڈائننگ ٹیبل پر رونق چھائی ہے ؟“مسکان کو کھانے پر اپنا منتظر پا کر حماد چہکا ۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی جانب لوٹ آئی ہے ۔
”مسٹر حماد!….پلیز بیٹھیں ۔آپ سے ضروری بات کرنی ہے ؟“
”خیر تو ہے ؟….یہ کس لہجے میں مجھے مخاطب کیا جا رہا ہے ؟….میں تمھارا حادی ہوں مسکان !….“
”ماضی کو چھوڑو حماد صاحب !….میں نے تھانے دار سے معلوم کر لیا ہے۔ طلاق نہیں ہوئی ،اور اب میں طلاق لینا بھی نہیں چاہتی ۔“
”کیا ….کیا…. کیا ؟….تمھارا دماغ تو جگہ پر ہے نا ؟“پریشانی کے عالم میں اس سے اور کچھ نہ کہا گیا ۔
”ہاں ….دماغ ابھی جگہ پر آیا ہے ۔انجانے میں مجھ سے ایک بہت بڑ ا گنا ہ ہونے جا رہا تھا ۔یوں بھی ہمارا تعلق بہت واجبی سا تھا ۔ایسے تعلق کا ختم ہونا ہی ہم دونوں کے لےے مفید ہو گا ؟وہ کیا کہتے ہیں ….“
تعارف بوجھ بن جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق روگ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے تکمیل دے دینا ہو ناممکن
اسے اک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
”مسکان !….میں تمھیں چاہتا ہوں؟“ حماد اتنی جلدی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا ۔
مسکان رسان سے بولی۔ایک ایسا مرد جو اپنی بیوی کو غیر کی جھولی میں پھینک دے اس کے منہ میں پیار و محبت جیسے الفاظ نہیں جچتے ۔“
”کیا چاہتی ہو ؟“اس مرتبہ حماد کا لہجہ بدلا ہوا تھا ۔
”دانیال سے شادی کر نا چاہتی ہوں ،بلکہ سوری ،شادی تو ہماری ہو چکی ہے بس دنیا کے سامنے اس شادی کا اعلان کرنا چاہتی ہوں ۔“
”میرا خیال ہے یہ اتنا آسان نہیں ہو گا ؟“حماد کے لہجے میں شامل سختی مسکان کے لیے حیران کن تھی۔ یہ تو وہ جانتی تھی کہ حماد احتجاج کرے گا مگر یوں بیگانے دشمن کا سا لہجہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔
”کون روکے گا مجھے ؟“وہ بھی ترش ہو گئی ۔
”میں ….تمھارا شوہر حماد روکے گا تمھیں! ….اس بے حیائی سے ۔پہلے مجھ سے طلاق تو لے لو ؟“
”تم مجھے طلاق دے چکے ہو ؟“مسکان چلائی ۔
”کب ؟….کوئی گواہ ،دستاویزی ثبوت ۔“
”میرے پیٹ میں جو بچہ ہے ڈی این اے ٹیسٹ سے پتا لگانا مشکل نہیں کہ وہ کس کا ہے ؟“
حماد زہر خند لہجے میں بولا۔”اس سے یہ کب ثابت ہو گا کہ بچے کا باپ تمھارا شوہر بھی ہے ۔ اس سے تو فقط تمھاری بدکاری ظاہر ہوتی ہے ۔میری آنکھوں میں دھول جھونک کر تم جانے کس یار کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہی ہو ؟“
”شٹ آپ !….“مسکان چلائی ۔
”یو شٹ آپ !….مس سیٹھ زادی ،یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔اگر تم نے عدالت سے رجوع کر کے خلع لینے کی کوشش کی تو یاد رکھنا میں تمھارے مرے باپ کی عزت کا سرِ عام جنازہ نکال دوں گا ۔آج کا میڈیا بہت تیز ہے ۔ تمھارے پاس نہ تو طلاق کے گواہ موجود ہیں نہ دوسر ی شادی کا کوئی ثبوت ہے ۔کسی غیر سے پہلے اپنے بھائی تمھاری گردن کاٹنا پسند کریں گے ۔میں فقط اپنے بانجھ پن کا سرٹیفیکیٹ پیش کروں گا؟آگے تم خود جانتی ہو کیا ہوگا ؟“
مسکان کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا ۔اسے لگا جس کام کو وہ آسان سمجھ رہی تھی وہ بہت مشکل ثابت ہونے والاہے ۔وہ گہری سوچ میں گم ہو گئی ۔ چند لمحے بعد بولی ۔
”حماد !….تمھیں کیا قیمت درکار ہے ؟“
”کوئی قیمت نہیں ….تم دانیال سے طلاق لے کر دوبارہ مجھ سے شادی کرو اور بس اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں ۔“یہ کہہ کر وہ اٹھ گیا ۔ مسکان بھی اپنی خواب گاہ میں آگئی ۔مسئلہ بہت گھمبیر ہو گیا تھا ۔سب سے بڑھ کر حمل کا مسئلہ تھا ۔ حماد اسے آسانی سے بدکار ثابت کر سکتا تھا ۔اس مسئلے کا ایک ہی حل تھا اور وہ تھا، ابارشن۔اس کے علاوہ وہ حماد سے چھٹکارا نہیں پا سکتی تھی ۔فریحہ کا نمبر ڈائل کر کے وہ اسے صورت حال سے آگاہ کرنے لگی ۔
٭……..٭
حماد کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں ۔وہ جیتی ہوئی بازی ہار رہا تھا ۔اپنے تیئں اس نے مسکان کو دھمکی دے دی تھی مگر وہ اپنے بھائیوں کو اعتماد میں لے کر ساری صورت حال سے آگاہ کر دیتی تو اس کے لےے بہت بڑی مشکل کھڑی ہو جاتی ۔سیٹھ فہیم اور وسیم سے ٹکر لینا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔
وہ اسی سوچ میں گم تھا کہ فریحہ کی کال آنے لگی ۔اس سارے بکھیڑے میں اسے فریحہ کا ہاتھ بھی نظر آ رہا تھا ۔ اس نے کال اٹینڈ کےے بغیر کاٹ دی ۔فریحہ نے چند بار ٹرائی کی اور پھر خاموش ہو رہی ۔
وہ رات حماد نے کانٹوں پر لوٹتے گزاری ۔ساری رات وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرتا رہا ۔ صبح وہ ناشتا کیے بغیر گھر سے نکل آیا ۔اسے کامران کی تلاش تھی جو میٹرک تک اس کا کلاس فیلو رہا تھا اور اس کے بعد غربت نے اسے پڑھنے کا موقع نہیں دیا تھا اس کا والد ایک مزدور تھا لیکن اس نے مزدوری کے بجائے دوسرا رستا اختیار کیا تھا ۔اور وہ تھا جرم کا رستا۔کامران کے ایک مخصوص دوست کے بارے وہ جانتا تھا ۔اس کی کار کا رخ اسی ہوٹل کی طرف ہو گیا جہاں اسے کامران کا ایڈریس مل سکتا تھا ۔
حماد تھرڈ ائیر میں تھا جب ایک دن کامران اسے قیمتی کار ڈرائیو کرتا ہوا ملا ،اس وقت وہ کامران کے بجائے ”کامی خنجر“ تھا ۔حماد اس دن یونیورسٹی بس کے چھوٹ جانے پر پیدل گھر جا رہا تھا ۔ اچانک ایک قیمتی کار اس کے قریب آن رکی تھی اور پھر کامران کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا ۔
”ارے کامران تم!…. اور یہ کار کس کی ہے ؟“
”میری ہی ہے یار !….“اس کے بیٹھتے ہی کامران نے کار آگے بڑھا دی تھی ۔
”مگر ….؟“
”مگر یہ کہ اس کے لیے مجھے اپنے نام کی قربانی دینا پڑی۔ آج کل میں کامی خنجر ہوں ، ایک نامی گرامی مجرم ، پولیس کو کئی کیسزمیںمطلوب ہوں ۔مگر تمھیں حیرانی ہو گی کہ ا بھی میں ایک تھانیدار کے ساتھ لنچ کر کے آ رہا ہوں ۔“
”یار بڑی ترقی کر لی ہے؟“حمادکے لہجے میں ستائش تھی ۔
”ہاں ….اور تم بھی مجھے جوائن کرسکتے ہو ۔“اس نے فوراََ آفر کر دی ۔
”نہیں یار !….بڑی مہربانی،میں یوں ہی ٹھیک ہوں۔“
وہ ہنسا۔”ڈر گئے ۔“
”نہیں !….لیکن میں اس فیلڈ چل نہیں سکتا ۔“
”ہاں جانتا ہوں ….یوں ہی مذاق کر رہا تھا ۔“
اسے گھر کے سامنے ڈراپ کر کے اس نے کہا تھا ۔”اگر کبھی میری ضرورت پڑے تو ضرور آواز دینا۔“
حماد نے کہا ۔”اپنا سیل فون نمبر تو دے دو ؟“
”نہیں میرا سیل فون نمبر اور ایڈریس بدلتا رہتا ہے ۔اگر کبھی میری ضرورت پڑے تو محلہ لنگی شاہ میں تھری ٹو ون ہوٹل کے منیجر سے میرا ایڈریس پوچھ لینا وہ میرا دوست ہے ۔“
اپنی کار تھری ٹو ون ہوٹل کی پارکنگ میں روکتے ہوئے حماد استقبالیہ کی طرف بڑھ گیا ۔ جہاں ایک خوب صورت عورت براجمان تھی ۔اس سے رہنمائی لے کر وہ تھوڑی دیر بعد منیجر کے کمرے میں تھا ۔
”جی سر !….آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“ادھیڑ عمر منیجر شائستگی سے مستفسر ہوا ۔
وہ بغیر کسی تمہید کے بولا ۔”مجھے کامران بھائی کا سیل فون نمبر یا ایڈریس مل جائے گا ؟“
”کامران ….؟“
”جی ،کامران ….جو آپ کے لےے غالباََ کامی خنجر ہے ۔“
”آپ کا تعارف ؟“منیجر کے لہجے میںشکوک کی پرچھائیاں لرزیں ۔
”حماد ….وہ کلاس فیلو ہے میرا ۔“اس نے اپنا نام بتا کر کامی سے اپنے تعلق کی وجہ بھی بتا دی۔
”پلیز آپ تشریف رکھیں ۔“اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ اندرونی کمرے کی طرف چل پڑا اس کی واپسی چند منٹ بعد ہوئی ۔
”حماد صاحب !….وہ تھرڈ فلور کمرہ نمبر فورٹی فائیو میں موجود ہے ۔آپ انھیں وہیں مل لیں ۔“
”تھینکس۔“ کہہ کر وہ باہر نکل آیا ۔مطلوبہ کمرے میں کامی اسے منتظر ملا ۔
”سنا بھئی پڑھاکو شاہ !….کیسے یاد کیا ہم مجرموں کو ؟“پرتپاک انداز میں اسے گلے سے لگاتے ہوئے کامی نے پوچھا ۔
”کامران بھائی !….ایک کام آن پڑا تھا ۔“
وہ ہنسا ۔”کوئی مرڈر وغیرہ کرانا ہے کیا ؟“
”ہاں ۔“وہ سنجیدگی سے بولا ۔
”ارے واہ !….میں نے تو مذاق کیا تھا ۔خیر بتاوکون ہے وہ ؟“
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *