Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14

مسکان کو خوف زدہ کرنے والا ناگ اس وقت اسے اتنا قابل نفرت لگا کہ وہ بغیر رکے اس پر چڑھ دوڑا ۔
ایک جانور کسی بھی انسان کے احساسات کا اندازہ با آسانی سے کر سکتا ہے ،کہ آیا وہ اس سے خوفزدہ ہے یا نہیں ۔ دانیال کی طوفانی پیش قدمی سے سانپ جھجکا،اور پھر” شاں“ کی آواز کے ساتھ اس نے دانیال پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔
سانپ کے پھن کو دانیال کے پاوں کی طرف بڑھتے دیکھ کر ۔مسکان نے چیختے ہوئے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔ دانیال کے جسم میں اس وقت بجلی بھر گئی تھی ۔اس نے پھرتی سے اپنا پاو¿ں سانپ کے پھن سے بچایا، اور پھر وہی پاو¿ں اس نے سانپ کے پھن پر رکھنے کی کوشش کی ۔مگر سانپ بھی کچھ کم تیز نہیں تھا ۔ وہ اپنا پھن پیچھے ہٹا چکا تھا ۔دانیال کا پاوں سانپ جسم کے اوپر آیا ۔سانپ شدت سے تڑپا ۔ اور اس سے پہلے کہ وہ دوسرا حملہ کر پاتا دانیال کا دوسرا پاوں اس کے پھن کے اوپر تھا ۔
اس وقت اس نے لیدر کے مضبوط بوٹ پہنے تھے ۔اگلے لمحے اس نے سانپ کا سر بے دردی سے کچل دیا ۔پے در پے اس کے مضبوط جوتے کی ایڑی کی ضربوں نے سانپ کے سر کا کچومر نکال دیا تھا۔
اسے مار کر دانیال نے حقارت سے اٹھایا اور دور اچھال دیا ۔
مسکان کے ساکن بدن میں جنبش ہوئی اور وہ بے ساختہ دانیال سے لپٹ گئی ۔اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا۔
”مِشّی میں ہوں نا ؟….ڈرتی کیوں ہو ؟“اسے بھینچتے ہوئے دانیال نے تسلی دی ۔
”دانی !….کتنا خوفناک تھا ۔آپ کو ذرا بھی ڈر نہیں لگا اس سے ؟“مسکان کے اوسان اعتدال پذیر ہوئے تواس نے جھرجھری لے کے پوچھا۔
”اگر بات میری مِشّی کی نہ ہوتی تو شاید مجھے ڈر لگتا ؟“
” چلو یہاں سے…. آگے کہیں نماز پڑھ لیں گے ؟“اس کا ڈر اب تک ختم نہیں ہوا تھا ۔
”نہیں !….تم فریش ہو جاو¿،میں یہاں ہوں نا ؟“
”اچھا آپ دوسری طرف منہ کریں ۔“وہ شرما کے بولی ۔اور دانیال نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنا رخ روڈ کی طرف پھیر لیا ۔
”چلیں ۔“اسے اپنے بازو پر مسکان کے ملائم ہاتھ کا لمس محسوس ہوا اور وہ کار کی طرف بڑھ گئے۔ مسکان نے وضو کیا تو وہ بوتل پکڑ کر اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالتا رہا ۔شروع میں وہ جب بھی اس کا کوئی کام کرتا تووہ شرما جاتی اور وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہتا۔
”مشی !….جب تم میرے کام کر سکتی ہو تو میں تمھارا ہاتھ کیوں نہیں بٹا سکتا ؟“
وہ ہنستے ہوئے کہتی ۔”کوئی دیکھے گا تو زن مرید سمجھے گا آپ کو ۔“
”تمھارے لیے ہر الزام گوارا ہے ۔اور یاد ہے نا میں نے پہلی رات کیا کہا تھا ،تم میری بیوی نہیں دوست ہو ۔ اور دوست ،سارے کام مل جل کر کرتے ہیں ۔“
وضو کر کے اس نے جائے نماز بچھائی اور نماز نیت باندھ لی، جب کہ دانیال پانی کی بوتل اٹھا کر جھاڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔ جب تک وہ وضو کرتا مسکان نے نماز پڑھ لی تھی ۔
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”اتنی جلدی نماز پڑھ لی ؟“
”دو فرض پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟“
”دو فرض کیوں ؟“
”کیونکہ ہم سفر میں ہیں جناب !“
”یعنی سفر میں صرف دو فرض پڑھے جاتے ہیں ؟“
”ہاں ،ظہر ،عصر اور عشاءکے فرض ،چار رکعتوں کے بجائے دو فرض پڑھتے ہیں ۔ البتہ شام کے تین فرض ہی پڑھے جاتے ہیں ،اور سنتیں اپنی مرضی پر موقوف ہیں پڑھ لو تو بہتر ،نہ پڑھو تو بھی اجازت ہے۔“
”سبحان اللہ ،مجھے پتا ہی نہیں تھا ۔“
”اچھا اب جلدی کرو ،لیٹ ہو رہے ہیں ۔“
دانیال کے نماز پڑھنے تک وہ سارا سامان کار میں منتقل کر کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھا ل چکی تھی۔ دانیال کے بیٹھتے ہی اس نے کار آگے بڑھا دی ۔شام تک وہ کشمور پہنچ گئے تھے۔
ایک اچھے سے ہوٹل کی پارکنگ میں کار روک کر وہ اندر داخل ہو گئے ۔تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میںتھے۔عشاءکی اذان تک وہ نہا دھو کر فریش ہو چکے تھے ۔نماز پڑھ کر انھوں نے کھاناکمرے ہی میں منگایا۔اور پھر آرام کرنے لیٹ گئے ۔
لیٹتے ہوئے مسکان کو پھر وہ سانپ یاد آگیا ۔
”دانی !….اگر اس نے مجھے یا آپ کو کاٹ لیا ہوتا ؟“
دانیال نے برا سا منہ بنایا ۔”ابھی تک اس موذی کا خوف تمھارے دل سے نہیں نکلا ؟“
”دانی !….قسم سے وہ بہت خوفناک تھا ،میں تو سن ہو گئی تھی اسے دیکھ کر ۔“
”میرا خیال ہے زندگی میں پہلی بار سانپ دیکھا ہے ؟“
”ہاں ،پہلی بار دیکھا ہے اور وہ بھی اتنا خوفناک ۔شکر ہے آپ وہاں موجود تھے ۔“
”مِشّی !….یہ تو کیڑے برابر سانپ تھا ۔اگر اس کے بجائے ہاتھی یا اس سے بھی بڑا کوئی جانور ہوتا تو میرے ہوتے ہوئے تمھیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا؟“
”ہاں مجھے یقین ہے ۔“مسکان وارفتگی سے بولی ۔
”اچھا ،مجھے سفر کی نماز کے بارے تفصیل سے بتاو نا ؟مجھے تو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ سفر میں نماز کیسے آدھی ہوتی ہے؟“
”نہیں جناب !….فی الحال سوتے ہیں ،قسم سے بہت تھک گئی ہوں ۔اس متعلق ان شاءاللہ کل رستے میں بات ہو گی ۔“
”خیر میں نے تمھیں سونے تونہیں دینا ۔“دانیال معنی خیز لہجے میں بولا ۔
”تنگ نہ کرو نا ؟دانی ! ….قسم سے سخت نیند آرہی ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”جی نہیں ،ایسی درخواست میں درخور اعتناءنہیں سمجھا کرتا ۔“
”مجھے پتا ہے ،میرا، دانی میری کوئی بات نہیں ٹالتا ۔“مسکان نے مسکہ لگایا۔
”غلط فہمی ہے تمھاری ۔بھلا،دانی ایسی نادانی کیسے کر سکتا ہے ؟“
دانیال کے انداز پر وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی تھی ۔ایسی باتیں ،ایسے چٹکلے اسے نہال کر دیتے تھے۔ دانیال کی ہر بات میں اس کے لیے جتنی چاہت ،جتنی محبت پوشیدہ تھی وہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھی ۔کبھی کبھی اسے لگتا کہ وہ اسے صدیوں سے جانتی ہے۔مگر اسی لمحے حماد کی یاد اسے ماضی میں گھسیٹ کر لے جاتی ۔ اسے یاد آتا کہ دانیال سے اس کا تعلق بہت عارضی بنیادوں پر قائم ہے۔ اسے اپنے حماد کے پاس لوٹنا تھا ۔اپنے محبوب کے پاس ،جو اس کے فراق میں جانے کیسے یہ دن گزار رہا ہو گا ۔صرف بچے کے جنون میں وہ اپنی محبت کو خود سے دور کرنے پر راضی ہوا تھا ۔پھر یہ بات بھی اس کے مسکان پر بھروسے کو ظاہر کرتی تھی کہ اس نے اسے بڑے اعتماد سے ایک غیر مرد کے حوالے کر دیا تھا ۔اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس کے پاس لوٹ آئے گی ۔ اور مسکان اس کا یہ مان کبھی نہیں توڑ سکتی تھی۔ اس کالے کلوٹے کا جادو اتنا پائیدار نہیں ہو سکتا تھا ،کہ اسے اپنے حماد کے پاس جانے سے روک سکتا ۔
٭……..٭
وہ صبح سویرے ناشتا کر کے آگے روانہ ہو گئے ۔شام تک وہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے تھے۔رات وہیں گزار کراگلے دن وہاں سے روانہ ہوئے ۔اس مرتبہ انھوں نے ایبٹ آباد جا کر دم لیا ۔
”یہاں کا موسم تو بہت اچھا ہے ؟….اپریل کا آغاز ہے اور اچھی خاصی ٹھنڈ ہے ،گرم پانی نہ ہوتا تو شایدغسل کرنا ممکن ہی نہ رہتا ؟“
”یہ ایبٹ آباد ہے جناب !….اگر ہم کراچی چھوڑ کر یہاں آئے ہیں تو کچھ سوچ ہی کر آئے ہیں ۔“
”اچھا اب اٹھو نا ؟….نہانا نہیں ہے ؟“
”نہیں جی ،مجھے سردی لگ رہی ہے ۔“
”تو پھر کھانے کا بتا دوں ؟“
”ہاں ۔“
دانیال نے روم سروس کو کھانے کا آرڈر نوٹ کرادیا ۔کھانا تیار ہونے تک وہ بالکونی میں آگئے تھے۔ ایبٹ آباد شہر چاروں اطرف سے پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے ۔پہاڑی پر بنے ہوئے گھروں سے چھلکتی روشنی عجیب اور دلکش قسم کا منظر پیش کر رہی تھی ۔
”کتنا خوب صورت منظر ہے دانی !“مسکان وہ منظر دیکھ کر مبہوت ہو گئی تھی۔
”شاید !….مگر جو منظر میں دیکھ رہا ہوں اس سے خوب صورت نہیں ہے ؟“
”آپ کیا دیکھ رہے ہیں ……..؟“کہتے ہوئے مسکان نے اس کی جانب نگاہ دوڑائی تو وہ اسی کی طرف متوجہ تھا ۔مسکان کے چہرے پر حیا کی لالی گھٹا کی طرح پھیلی اور وہ جذبات سے پر آواز میں بولی ۔
”ادھر دیکھو نا ؟….یہ منظر کراچی میں دیکھنے کو نہیں ملے گا ۔“
”جو دیکھ رہا ہوں ،اگر یہ ہمیشہ دیکھنے کو ملتا رہے تو مجھے کسی اور منظر کی طلب ہی نہیں رہے گی ۔“
وہ ہلکے سے مسکرائی ۔”بالکل پاگل ہیں ؟“
”ہاں لا علاج پاگل ۔“دانیال نے اثبات میں سر ہلا کر کہا ۔”اور پتا ہے مِشّی تم مجھے اتنی پیاری کیوں لگتی ہو ؟“
”مجھے کیا پتا ؟“
دانیال نے قہقہہ لگا کر کہا۔”کیونکہ تم ہو ہی پیاری ۔“
اور مسکان جو کسی اہم بات ،سننے کی خواہش میں بڑے دھیان سے اس کی جانب متوجہ تھی کھل کھلا کر ہنس پڑی۔اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔
”جوکر !….“
”میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ مذاق میں نہیں کہا۔“
مسکان کے کچھ کہنے سے پہلے دروازے پر دستک ہوئی ۔اس کے ساتھ آواز آئی ….
”روم سروس سر!“
”یس آجاو۔“مسکان کے چہرہ ڈھانپتے ہی دانیا ل نے آواز دے کر بیرے کو اندر بلالیا۔
بیرے کے اندر داخل ہوتے ہی سالن کی خوشبو پھیل گئی ۔انھوں نے چکن کڑاہی کا آرڈر دیا تھا۔ کھانے کے برتن ٹیبل پر سجا کر وہ بیرا باہر نکل گیا ۔
”مشی !آجاوقسم سے بہت بھوک لگی ہے ۔“
وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی ۔
”ہاں ہل چلاتے رہیں ہیں نا آپ، کہ بہت بھوک لگی ہے ؟“
”نہیں میں جتنا زیادہ خوش ہوتا ہوں اتنی زیادہ بھوک لگتی ہے ۔“
”تو جناب کس بات پر خوش ہیں ؟“
”تمھیں پانے سے بڑھ کر بھی کوئی خوشی کی بات ہو سکتی ہے ؟“
”جناب !….بات آج کے دن کی ہو رہی ہے ؟“
”تو میں بھی یہی کہہ رہا ہوں محترما!….مِشی کو پانے کی خوشی اتنی مختصر تو نہیں ہو سکتی کہ شادی کے ایک ہفتا بعد ختم ہو جائے۔ یہ خوشی تو زندگی کی آخری سانس تک قائم و ادائم رہے گی ۔“
”چاہے تمھاری مشی صاحبہ بھی نہ رہے ؟“
دانیال کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔”بکواس نہ کرو ۔“
مسکان جیسے سن ہو کر رہ گئی تھی ۔دانیال کا جھڑکنا اسے اتنا ناگوار گزرے گا، یہ اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا نوالا واپس ہاٹ پاٹ میں رکھ کر وہ اٹھ گئی ۔
دانیال بوکھلا کر بولا۔”اے مشی!…. کیا ہوا ؟“
اسے جواب دےے بغیر وہ بیڈ پر لیٹ گئی ۔
دانیال کے چہرے پرشرمندگی اور خجالت بھرے تاثرات سجائے اس کے قریب پہنچا ۔
”مشی !….اللہ قسم مذاق میں کہا ہے ۔میری توبہ اگر آئندہ ا یسا کچھ بھی کہا ،میری کیا؟میری آئندہ نسلوں کی بھی توبہ ۔“
مسکان نے اس کی بات کا جواب دےے بغیر اپنا چہرہ دوپٹے سے ڈھانپ لیا ۔
”مشی !….معاف کر دو ،دیکھو میں نے ہاتھ جو ڑ دےے ہیں ….خدا را میرا مقصد وہ نہیں تھا جو تم نے سمجھا ۔یاد ہے نا میں نے پہلی رات تمھیں بتا دیا تھا کہ میں ایک گنوار شخص ہوں ۔ اگر کوئی بات خلافِ طبیعت پانا تو مجھے ٹوک دینا ۔یہ نہیں کہ بدلے میں مجھے ناقابل بیان اذیت دے دو ۔“
وہ بھرائی ہو ئی آواز میں بولی ۔”میں نے کو ن سی اذیت دی ہے ؟“اپنا لہجہ اسے خود بھی بہت عجیب لگا تھا ۔ دانیال نے اتنی سخت بات نہیں کہی تھی ۔مگر اس نے چند دنوں میں اسے جس سنگھاسن پر بٹھا دیا تھا اس کے بعد لہجے کی ذرا سی سختی بھی اسے گولی کی طرح لگی تھی۔
”مشی !تمھارے التفات میں ذرا سی کمی مجھے جس اذیت سے ہم کنار کر رہی ہے ، اس کا اندازہ بھی نہیں ہے تمھیں ۔“
”اور آپ نے جو کہا ہے بکواس نہ کرو ،اب میری باتیں آپ کو بکواس لگنے لگی ہیں؟“
”اچھا میں نے بکواس کی ہے ؟اب تو اٹھ جاو، کھانا ٹھنڈا ہوجائے گا ؟“
”ٹھیک ہے ،آپ کھا لیں مجھے بھوک نہیں ہے ؟“
”مشی !….پلیزمعاف کر دو نا ؟“وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے لجاجت سے بولا۔
”میں نہیں ہوں خفا ۔بس بھوک نہیں ہے ۔آپ کھائیں۔“
اس مرتبہ کوئی جواب دےے بغیر وہ اٹھ گیا ۔
مسکان کوسخت بے چینی محسوس ہوئی ۔کیادانیال اس کے بغیر کھانا کھا لے گا؟کیا اس کے محبت کے دعوے محض زبانی کلامی تھے؟
اسے دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی ۔اس نے سوچا ….
”کیا وہ باہر نکل گیا ہے ؟“دوپٹا چہرے سے ہٹا کر اس نے دیکھا وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔
”یہ کدھر نکل گیا ؟“اس کا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔ وہ بے چین ہو کر بیڈ سے اٹھ گئی۔ کھانااسی طرح ٹیبل پر رکھا تھا ۔مسکان کو خود بھی سخت بھوک لگی ہوئی تھی مگر دانیال کا جھڑکنا اسے بہت زیادہ محسوس ہوا تھا ۔اور پھر اس کے اندازے کے مطابق وہ سخت پریشان ہو گیا تھا ۔اس کی پشیمانی بھری منتیں سن کر مسکان کو ایک انوکھا احساس ہوا تھا ۔اس کے اندرموج زن چاہے جانے کے جذبے کو تسکین ملی تھی ۔کہ کسی کے لیے وہ اتنی اہم بھی ہو سکتی ہے ۔
وہ اس کے انتظار میں بے چینی سے ٹہلنے لگی ۔
”شاید مجھے منانے کے لےے کوئی تحفہ لینے گیا ہو ؟“ایک امید افزا سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔ اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی ۔
”پتا نہیں کون سا تحفہ لائے گا دیوانہ؟“اسے اپنے روےے پر ندامت ہوئی ۔جانتے بوجھتے اس نے اسے دکھ دیا تھا ۔یوں بھی اس کا جھڑکنامحبت کے اظہار کے لےے تھا ۔مسکان نے اپنے بارے کہا تھا کہ چاہے میں رہوں یا نہ رہوں ،اور یہ بات اسے کیسے گوارا ہو سکتی تھی ۔وہ پریشانی سے ٹہلتی رہی ۔اسی دوران بیرا برتن اٹھانے آیا مگر مسکان نے اسے دروازے ہی سے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ….
”برتن فارغ نہیں ہیں صبح لے جانا۔“
جلد ہی اسے انتظار سے کوفت ہونے لگی ۔اچانک ایک خطرناک خیال اس کے دماغ میں ابھرا۔
”کہیں اس نے خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا ہو ؟“
گھڑی دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ اسے وہاں سے نکلے گھنٹا ہو گیا تھا ۔
کار کی چابی اٹھا کر وہ باہر نکل آئی ۔ہوٹل کے ہال میں نظر دوڑانے پر اسے وہ نظر نہ آیا ۔ وہ پارکنگ میں آگئی ۔ کار پارکنگ سے نکالتے ہوئے ایک خیال کے تحت اس نے کار روکی اور نیچے اتر کر ہوٹل کے مین گیٹ پر کھڑے دربان کی طرف بڑھ گئی ۔ جس وقت وہ دونوں وہاں پہنچے تھے اس وقت بھی وہی دربان گیٹ پر موجود تھا۔ اس نے دربان سے دانیال کی بابت دریافت کیا ۔
اس نے دائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”باجی !….وہ اس طرف جا رہا تھا ؟“
”آپ اسے جانتے تو ہیں نا ؟“مسکان کو خیال آیا کہیں وہ کسی اور کو اس کا شوہر نہ سمجھے ہوئے ہو ۔
”بہت اچھی طرح جانتا ہوں باجی!اس نے کریم کلر کے شلوار سوٹ پر کالی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔“
”مہربانی بھائی ۔“کہہ کر وہ دوبارہ کار میں بیٹھی اور اس طرف روانہ ہو گئی جس طرف دربان نے اس کی رہنمائی کی تھی۔
اجنبی شہر کے انجان رستوں پر ایک آدمی کو ڈھونڈنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی برآمد کرنے کے مترادف تھا ۔ اسے محسوس ہوا کہ کچھ بہت غلط ہو نے والا تھا ۔ مسکان کی ناراضی یقینا اس دیوانے کی برداشت سے باہرتھی ۔
٭……..٭
رات اتنی نہیں بیتی تھی ،سڑک پر اچھی خاصی چہل پہل تھی ۔دائیں بائیں کا جائزہ لیتی ہوئے وہ آہستہ روی سے ڈرائیو کرتی رہی ۔آگے جا کر ایک بغلی سڑک دائیں مڑ رہی تھی ۔ چند لمحے رک کر اس نے سوچا اور پھر مڑے بغیر آگے نکلتی چلی گئی ۔اسے یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ کہیں وہ کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں نہ بیٹھ گیا ہو ۔ لیکن اس کی ذہنی حالت کے پیش نظر یہ بعید تھا کہ وہ ایسا کرتا۔وہ دائیں بائیں مڑنے والی بغلی سڑکوں پر مڑے بغیر سیدھے نکلتی گئی ۔
اس اندھیرے میں اجنبی شہر کی سڑکوں پر سفر کرتے وہ خود کو بہت اکیلا اور تنہا محسوس کر رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا جیسے بہت بڑا سہارا اس سے چھن گیا ہو ۔ اور پھر اس کے خود کو کوئی نقصان پہنچا نے کی صورت میں تووہ اپنے آپ کو کبھی معاف نہ کر پاتی ۔میاں بیوی پیار محبت میں اس بھی کئی گنا بڑی باتیں کر جاتے ہیں ۔ ایک عام سی بات کا اس نے بتنگڑ بنا دیا تھا ۔ حالانکہ حماد کئی بار اس سے بھی سخت الفاظ میںاسے مخاطب کر چکا تھا مگر اسے محسوس نہ ہوا تھا ۔
کار کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں اچانک اسے دور سے سفید رنگ کے لباس کی جھلک نظر آئی اور اس کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔اس نے دانیال کو پا لیا تھا ۔
سپیڈ بڑھا کر وہ اس کے قریب پہنچی مگر وہ اپنے آپ میں مگن چلتا رہا ۔
اس نے ایک دم زور سے ہارن دیا ۔وہ جلدی سے ایک طرف ہو گیا ،گویا اس کے لیے رستا چھوڑ رہاتھا ۔
مسکان نے دوبارہ اور سہ بارہ ہارن دیا ۔تیز ہارن اسے گہرے خیالات سے باہر لائے اور وہ کار کی طرف متوجہ ہوا ۔
”دانی ! کے بچے کار میں بیٹھو ۔“کار روک کر اس نے مصنوعی غصے سے اسے آواز دی ۔
”تم ….؟“وہ حیران رہ گیا تھا ۔دوسرے لمحے وہ لپک کر قریب آیااور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ ”مشی !….تم ؟“
مسکان نے آنکھیں نکالیں ۔”جی ہاں میں ….اس طرح بغیر بتائے آنے کا مطلب بتا سکتے ہیں آپ ؟“
”مشی!…. میں تو ….میں تو ….یونھی بس ۔“
مسکان اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اٹھلائی ۔”اتنا برا لگا ہے میرا لاڈ کرنا ۔میں تو یونہی تھوڑا سا نخرہ دکھا رہی تھی اور آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ آئے ۔“
اچانک مسکان نے اس کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوتے دیکھی ۔ کچھ زیادہ ہی ڈوز دے دی تھی اس نے ۔اس سے پہلے کہ وہ سچ مچ رو پڑتا ،مسکان نے زور دار قہقہہ لگایا۔
”ہا….ہا….ہا….اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ہے نا ؟دانی !….سوری میں نے کچھ زیادہ ہی تنگ کر دیا آپ کو ۔“
”مشی !….میں واقعی بہت بے وقوف ہوں ۔مجھے یوں نہیں کہنا چاہےے تھا ۔اور دوسری بے وقوفی یہ کی کہ بغیر بتائے نکل آیا۔“
”یہ سڑک تو مانسہرہ کی طرف جاتی ہے ،جناب نے کہاں تک جاناتھا ۔“مزاحیہ انداز اپنا کر وہ اس کے احساس گناہ کو کم کرنے لگی ۔ناکردہ گناہ کا احساس بہت تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے ۔وہ محبت کے اسرار و رموز سے واقف نہیں تھی مگر پچھلے چند دنوں سے اس پر بہت سی باتوں کا انکشاف ہو رہا تھا۔اور یہ یقینادانیال کی بے پایاں محبت کا اعجاز تھا ۔
”کہیں نہیں مشی !….بس ابھی لوٹ آنا تھا ۔“
”ابھی لوٹ آنا تھا ؟“مسکان نے چڑانے کے انداز میں اس کی نقل اتاری اور وہ ہنس دیا ۔
”مشی ایک بات کہوں ؟“
”بالکل نہیں ۔اب تمھاری ایک بھی نہیں سنوں گی ۔“اس نے کار موڑی اور واپس چل دی ۔
”اچھا تمھیں یہ کس نے بتایا تھا کہ میں ادھر جا رہا ہوں ؟“
وہ ہنسی ۔”جب آپ مجھے آنکھیں بند کر کے ڈھونڈ سکتے ہیں تو کیا میں یہ نہیں کر سکتی ؟“
”تمھارے بدن سے تو خوشبو آتی ہے ۔اور ایک محدود سے کمرے میں خوشبودار وجود کو ڈھونڈنا کون سا مشکل ہے ؟“
”یہ اپنی اپنی صلاحیت کی بات ہے جناب ۔اور آپ کچھ پوچھنے والے تھے ۔“
”پوچھنا نہیں کہنا چاہتا تھا ۔“
”کیا ؟“
”تم بہت اچھی ہو ؟….تمھارے جیسی بیوی قسمت والوں کو ملتی ہے ….“
”اب ان قصائد کا کوئی فائدہ نہیں ۔“مسکان نے منہ بناتے ہوئے قطع کلامی کی ۔ ”آپ کی غلطی کی سزا ملے گی۔ ان باتوں سے معافی نہیں مل سکتی ۔“
”ملزم کو ہر الزام قبول ہے ۔اور سزا کے لےے فدوی کا سر تسلیم خم ہے ۔“
کار ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑی کر کے وہ نیچے اترے ۔مسکان نے کہا۔
”پہلے سزا تو سن لیں ؟“
”نہیں سزا سنانے سے پہلے تم یہ سن لو کہ سزا میں مشی سے دوری کی کوئی شق شامل نہیں ہو گی ۔ اب سناو؟“
مسکان حیرت کا جھٹکا سا لگا ۔وہ ایک بار پھر بغیر کہے مسکان کی بات کو جان گیا تھا ۔وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے بولی ۔
”دانی صاحب !….سزا ملزم سے پوچھ کر مقرر نہیں کی جاتی ۔اور سزا کو مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ مستحقِ سزا کو ایسی سرزنش کی جائے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی کا سوچ بھی نہ سکے ۔“
وہ احتجاجی لہجے میں بولا۔”مشی !….ظلم کی ایک حد مقرر ہے اورپاکستان کے قانون میں سب سے بڑی سزا پھانسی ہے۔ تم اس سے بڑی سزا ایک چھوٹے سے جرم کے بدلے کیسے دے سکتی ہو ؟“
مسکان نے دروازہ ان لاک کیا اور وہ دونوں کمرے میں داخل ہوگئے
”اچھا بھوک لگی ہے کہ نہیں ؟“
وہ رونی صورت بنا کر بولا۔”پہلے سزا کا تعین ہونے دو اس کے بعد ہی کچھ پتا چلے گا ۔“
مسکان بے ساختہ ہنس پڑی۔
”اچھا سزا یہ ہے کہ ….کہ ….کہ….“اس نے سوچنے کاپوز بنایا ،اور پھر چٹکی بجاتے ہوئے بولی ۔ ”ہاں….آپ کو آج اپنے ہاتھوں سے مجھے کھانا کھلانا پڑے گا۔“
”مشی !….میری جان ۔“دانیال فرط مسرت سے اس سے لپٹ گیا ۔”یہ سزا ہے یا انعام ؟“
”پتا نہیں ؟….لیکن اب جلدی کرو اس سے پہلے کہ پیٹ میں دوڑنے والے چوہے بلیاں بن جائیں۔“
”مگر کھانا تو ٹھنڈا ہو گیا ہے ، پھول!“
وہ مسکرائی۔”کوئی بات نہیں گملے ۔“
”واہ!….میں گملاکیسے ہوا ؟“
”جیسے میں پھول ہوئی ؟“
”پھول تو خیر تم ہو ؟….گلاب کی پتی سے بھی نازک ہونٹ،اتنے ملائم رخسار، کلی کی نرماہٹ لےے ہوئے کومل سی ناک۔پھول نہیں تو کیا ہے؟بلکہ جس پھول سے تمھیں نسبت دی جائے وہ بھی خود پر رشک کرے گا ؟ وہ کیا کہتے ہیں….
نقاب الٹے ہوئے جب بھی چمن سے وہ گزرتا ہے
سمجھ کے پھول ،تتلی اس کے لب پر بیٹھ جاتی ہے ۔
وہ شرما کر بولی ۔”ایویں جھوٹی تعریفیں نہ کیا کرو ۔“
”تمھیں کیسے یقین آئے گا ؟“
”اگر آپ!…. یقین دلانے میں جتے رہے تو لازماََ یقین تو آجائے گا،مگر بھوک کی وجہ سے شاید یقین کرنے والی باقی نہ رہے ؟“
”اوہ سوری ….“کہہ کر وہ اسے کھانا کھلانے لگا ۔
٭……..٭
”شکر ہے میں نے آپ کے کہنے پر بوٹ پہن لےے تھے؟“مسکان چڑھی سانسوں کے ساتھ ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ وہ اس وقت ”سربن “پہاڑی کی اونچائی سر کر رہے تھے۔پہاڑی کی اونچائی پر پتھروں کی مدد سے لکھا ہوا” لبیک “ کا نعرہ ان کی توجہ کا باعث بنا تھا ۔انھیں پوچھنے پر پتا چلا تھا کہ وہ لکھائی ایبٹ آباد میں قائم فرنٹیر فورس رجمنٹ سنٹرکے جوانوں نے کی تھی ۔
”ابھی تک تو پہلی چڑھائی ختم نہیں ہوئی اور تم تھک گئیں ؟“
وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔”جی جناب !….میں سیر کرنے کے لیے آئی ہوں ۔کسی مقابلے میں حصہ نہیں لےنے کے لےے نہیں ۔“
دانیال اس کے سامنے پلتھی مار کر بیٹھ گیا ۔”ویسے مشی !….کتنی صاف و شفاف فضا ہے ،جی چاہتا ہے یہیں گھر بنا لوں ۔ بس میں ہوں اورمیری مشی ۔“
”اچھا جی!…. جب بنا لینا تو اپنی مشی کو بھی بلا لینا ،فی الحال تو چلو ۔“وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ان کا سفر دوبارہ شروع ہو گیا ۔ وہ پہلی چڑھائی سر کر چکے تھے۔تھوڑی سی اترائی کے بعد دوبارہ چڑھائی شروع ہو گئی ۔ مسکان جلد ہی تھک گئی تھی ۔ایک بڑے سے پتھر سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ بولی ۔
”اف !….چڑھائی چڑھنا کتنا مشکل ہے ؟“
”سچ کہا !….بلند ہونا بہت مشکل ہے ،لیکن کسی کی انکھوں سے گرنے میں ایک لمحہ لگتا ہے ۔“
”مفکر صاحب !….میں پہاڑ کی چڑھائی کی بات کر رہی ہوں ۔“
”چڑھائی کوئی بھی ہو مشی!….پہاڑی کی ہو یا کردار کی ،دنیاوی ترقی کی ہو یا آخروی درجات کی ، ایک مشکل مرحلہ ہے۔ دیکھو نا ؟شیطان نے ہزاروں سال کی عبادت کے بعد ایک مقام حاصل کیا ۔اور صرف ایک کلمہ¿ غرور نے اسے پاتال سے زیادہ گہرائی میں دھکیل دیا ۔“
مسکان نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اس لیکچر کے بجائے اگر تم مجھے اوپر چڑھنے میں مدد دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔“
”کیوں نہیں ۔“دانیال نے اسے بازوو¿ں میں بھر کر اوپر اٹھا لیا ۔
”اررے ….یہ کیا ۔“وہ بوکھلا کر بولی ۔”صرف ہاتھ پکڑ کر سہارا دو ۔“
”ایسے ہی ٹھیک ہو ۔“اسے کندھے پر ڈالے وہ اطمینان سے اوپر چڑھنے لگا۔
”دانی !….پلیز نیچے اتارو مجھے ،کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا ؟“
”کوئی کہہ کر دیکھے ؟….سر نہیں پھاڑ دوں گا اس کا ؟….جانتی ہو جب میری شادی نہیں ہوئی تھی تو شادی شدہ حضرات بھی مجھے اسی طرح تاو¿ دلاتے ۔ کسی نے موٹر سائیکل پر بٹھائی ہوتی، کسی نے کار میں،کوئی ساحل سمندر پر بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھومتے نظر آتے ۔آج اللہ پاک نے جب مجھے ایک ایسی شریک حیات عنایت فرما دی ہے جیسی کسی کے پاس نہیں تو میں بھی اپنی مرضی کروں گا ۔سب سامنے اسے ٹرافی کی طرح ہاتھوں میں اٹھا کر گھوموں گا ۔“
”اف دانی !….میرے پیٹ میں تکلیف ہو رہی ہے ؟“وہ آہستہ سے کراہی ،اور دانیال نے اسے جلدی سے نیچے اتار دیا ۔
”کیا ہوا مشی ؟“اس نے بے صبری سے پوچھا ۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”کچھ بھی نہیں ہوا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *