Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05

ان کی شادی خیر و عافیت سے اختتام پذیر ہوئی تھی ۔سارا انتظام مسکان کے بھائیوں کی مرہون منت تھا۔یہاں تک کہ، مسکان کو منہ دکھائی میں دئےے جانے والا تحفہ بھی اس نے مسکان کے بھائی کی بخشی ہوئی رقم سے خریدا تھا ۔ سیٹھ فہیم نے اپنی شادی کے بعد، اپنے لےے جو عالی شان کوٹھی بنوائی تھی، وہ مسکان کے نام کر دی تھی۔ اس کے بدلے آبائی کوٹھی میں مسکان کا کوئی حصہ نہیں رہا تھا ۔ اس کے علاوہ ایک ٹیکسٹائل مل اوراور ٹرانسپورٹ کمپنی مسکان کے حصے میں آئے تھے۔سیٹھ فہیم نے بڑی ایمانداری سے باپ کے ترکے کو تقسیم کر کے چھوٹی بہن کا حصہ اس کے حوالے کر دیا تھا ۔ حماد کے لےے وہ سپنوں کی زندگی تھی۔چار مرلے کے مکان سے پانچ کنال کی کوٹھی میں شفٹ ہونا،نہایت خوشگوار اور خوش کن تجربہ تھا۔ مسکان اپنی فطرت کے مطابق مشرقی بیوی ثابت ہوئی تھی ۔ اتنے بڑے کاروبار کی مالک ہونے کے باوجود وہ حماد کی خدمت میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں ہونے دیتی تھی ۔
شادی کے ماہ ،ڈیڑھ ماہ بعد حماد نے مل جانا شروع کر دیا تھا ۔مسکان کے حکم پر اس کے لےے ایک علاحدہ آفس بنا دیا گیا تھا ۔ مل کے تمام ملازمین سیٹھ داو¿د کے پرانے نمک خوار تھے ۔اور اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد سے اسی طرح وفادار تھے ،جیسے ان کے والد کے ساتھ انھوں نے وقت بِتایا تھا ۔ان کی موجودی میں حماد کے لےے کسی قسم کا گھپلا ،یاہیر پھیر ممکن نہیں تھا ۔کسی بھی اہم پوسٹ پر فائز بندے کو نوکری سے نکالنے کا مطلب، سیٹھ فہیم کو شک میں مبتلا کرنا تھا ۔کیونکہ متاثرہ شخص نے لازماََ سیٹھ فہیم کے سامنے جا کر دہائی دینی تھی ۔ اور سیٹھ فہیم لامحالہ مذکورہ آدمی کو نوکری سے نکالنے کی وجہ دریافت کرتا ۔ایک آدھ آدمی تک شاید حماد اسے مطمئن کر دیتا مگر دو تین آدمیوں کو نوکری سے برخاست کرنا ضرور اسے چوکنا کر دیتا ۔ یوں بھی، مل میں اتنے بڑے پیمانے پرمسلسل گھپلا کرنا ممکن نہیں تھا ،کہ جس کی بدولت اس کی تشنہ آرزو¿ں کی تکمیل ہو پاتی ۔ الٹا بعد کے مرحلے اس کے لےے دشوار ہو جاتے ۔اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی کے لےے اسے اپنے ترتیب دیئے ہوئے منصوبے کے مطابق کام کرنا تھا ۔ اسی وجہ سے وہ ایمانداری سے کام کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ ایک دن وہ ضرور، مل کامالک بنے گا۔ اتنے بڑے کاروبار کا بلا شرکت غیرے مالک بننا ایک سہانا خواب ہی تو تھا ۔ اور اس خواب کی تعبیر کے لےے وہ ہر قربانی دے سکتا تھا ۔ یوں بھی اتنی رقم اس کی دسترس میں رہتی تھی کہ وہ فریحہ کے ناز اٹھا سکے ۔
اسے فقط اپنا بچہ پیدا ہونے کا انتظار تھا جس کے بعد وہ اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہو سکتا ۔ مگر شادی کے ڈیڑھ سال بعد بھی مسکان کوئی خوش خبری نہیں سنا سکی تھی ۔
ایک دن وہ فریحہ کے ساتھ ساحل سمندر پر بنے ایک غیر معروف ریستوراں میں موجود تھا ۔ شروع شروع میں مسکان کے قتل کی مخالفت کرنے والی اب اس منصوبے میں پیش پیش تھی ۔حماد کی نوازشوں نے اسے بھی دولت کی طاقت ،اہمیت اور نشے کا مزا چکھا دیا تھا ۔وہ جان گئی تھی، کہ دولت ہی سے اپنے سپنوں کی تعبیر اور خواہشوں کی تکمیل ممکن ہو سکتی ہے۔وہ سپنے ،جو ہر نوجوان لڑکی کے من میں ہوتے ہیں ۔وہ آرزوئیں، جنھیں سوچا تو جا سکتا ہے پورا نہیں کیا جا سکتا ۔اس وقت وہ حماد سے انتظار کی وجہ دریافت کر رہی تھی۔
”حماد ….! دو سال ہو گئے ہیں اور مسکان صاحبہ اب تک امید سے نہیں ہوئیںآخر کب تک انتظار کرنا پڑے گا ….چھوڑو بچے کے ٹنٹنے کو اور قصہ پاک کرو کتیا کا ؟“
اس نے منہ بنا کر کہا۔”پاگلوں جیسی باتیں نہ کیا کروفری!“
”اس میں پاگل پن کی کیا بات ہے ؟….صاف کہہ دو ،جی نہیں بھرا مسکان صاحبہ سے ۔یا شاید اس کی خدمت گزاری سے متا¿ثر ہو گئے ہو ۔یوں بھی وہ لاکھوں میں ایک ہے؟“
”بے وقوف !….ایسے نہ ہانکتی رہا کرو ۔اگر تم نہ بھی ملتیں، تب بھی میں نے مسکان کا قصہ تمام کرنا تھا ۔ کیونکہ کسی کی بھیک میں ملنے والی عیاشی مجھے قبول نہیںہے ۔اورمیں خود، سارے کاروبار کا بلا شرکت غیرے مالک بننا چاہتا ہوں ۔“
”پھر اتنا انتظار کس لےے ؟“
”کیوں کہ اب اگر وہ مر گئی تو مجھے پورے ترکے کا نصف ملے گا ۔اور باقی کا نصف اس کے بھائیوں کو واپس مل جائے گا ۔“
”وہ کیوں ؟“فریحہ حیران رہ گئی تھی ۔
”کیوں ،کیسے کو چھوڑو….؟یہ وراثت کے مسائل ہیں تمھیں سمجھ نہیں آئیں گے ۔“
”اوکے ….مگر بچہ ہونے کی صورت میں سب کچھ تمھیں ملے گا ؟“
”ہاں ….اس صورت میں چوتھائی میرا اور باقی سب بچے کاہو گا ۔لیکن بچہ بھی تو میرا ہو گا نا ؟ باقی بچہ ہونے کا یہ فائدہ بھی ہو گا کہ اس کے بھائیوں کو کسی گڑ بڑ کا احساس نہیں ہو گا ۔اور پھر بچہ ان کی ہمدردیاں بھی سمیٹ لے گا ۔سب بڑھ کر بچے کی پیدائش کے لےے کسی آیا کا بندوبست کرنے کا مشورہ خود مرحومہ کے بھائی دیں گے ۔ اور آیا کی جگہ سنبھالے گی ،اس گھر کی اصل مالکن ، فریحہ حماد!“
”ہائے !….دن رات جان کی قربت میں رہ کر کتنا مزہ آئے گا ؟“وہ سہانے سپنوں میں کھو گئی۔
حماد مسکرایا۔”پھر دعا کرو نا مسکان جلد از جلد ماں بن جائے ۔“
”دعا تو کر دوں گی ، تم دوا کا بندبست کرو ۔چیک اپ کراو¿، کوئی مسئلہ نہ ہو ؟“
”صحیح کہا ۔“اسے متفق ہونا پڑا ۔”چیک اپ کرانا ناگزیر ہو گیا ہے ؟“
”اگر اس میں کوئی نقص ہوا پھر ؟“فریحہ نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”وہ بعد کا مسئلہ ہے ۔ابھی پریشان کن خیالات کو چھوڑو اور کھانا کھاو¿۔“حماد نے بیرے کو اپنی جانب آتا دیکھ کر موضوعِ گفتگوبدل دیا ۔
٭……..٭
دانیال نے سٹیل مل میں کام شروع کر دیا تھا ۔وہاں مزدوری سخت تھی، مگر آمدن زیادہ ۔ مختلف جرائم میں ناکامی کے بعد اس نے حلال ذریعے سے دولت اکھٹی کرنے کی ٹھان لی تھی ۔ گو یہ طریقہ دشوار گزار اورمشکل تھا ،مگر اس طرح اسے ذہنی سکون ضرور حاصل تھا ۔اوراس کے ضمیر پر کوئی بوجھ بھی نہیں تھا ۔ یوں بھی وہ شروع دن ہی سے محنت مزدوری کاعادی تھا۔ یہ تو، چچا خیر دین کے مشورے پر اس نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا ۔اور آخر تنگ آکر اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب چچا خیر دین کا ایسا کوئی مشورہ نہیں مانے گا ۔
اس کی ماں نے بھی اس کے رشتے کے لےے بھاگ دوڑ ختم کرکے سب کچھ مقدر پر چھوڑ دیا تھا۔ دانیال جو اس کی نظر میں دنیا کے تمام مردوں سے خوب صورت تھا ،جانے کیوں اس کی خوب صورتی دوسروں کی نظر سے اوجھل تھی ۔
اس دن دانیال کام ختم کر کے مل سے باہر نکلا تو شام ہو رہی تھی۔کبھی کبھی تو اسے عشاءتک کام کرنا پڑتا ۔اوور وقت لگا کر اس کی آمدن اتنی بن جاتی تھی کہ روزمرہ کا خرچ نکال کر وہ کچھ نہ کچھ رقم پس انداز کر لیتا۔
بس اسٹاپ ،مل کے گیٹ سے چند سو گز دور تھا ۔وہ ابھی رستے میں تھا کہ اک چمچماتی کار اس کے قریب رکی ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک خوش پوش ادھیڑ عمر کے آدمی نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے پوچھا۔
”کہاں جانا ہے بھئی ؟“
”جی،اسٹاپ تک جانا ہے ۔“
اس نے اگلا دروازہ کھول کر کہا۔”بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں ۔“
”مہربانی جناب ….میں چلا جاو¿ں گا۔“
”میاں بیٹھو تو سہی ۔“وہ مصر ہوا ۔اور دانیال جھجکتے ہوئے بیٹھ گیا ۔اتنی قیمتی گاڑی میں بیٹھنا اسے پہلی بار نصیب ہوا تھا۔
اس نے کار آگے بڑھائی اور پھر بس اسٹاپ سے گزرتاچلا گیا ۔
دانیال جلدی سے بولا۔”روکیں جناب !….ہم اسٹاپ سے آگے گزر آئے ہیں ۔“
”نہیں ،چاے کا ایک ایک کپ ہو جائے، پھر اگلے سٹاپ پر اتار دوں گا ۔“اس نے کار ایک ریستوران کی پارکنگ میں موڑدی۔دانیال کے لےے یہ حیرانی کی بات تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ نیک لوگوں کی دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے ۔
ریستوران میں بیٹھتے ہی اس نے بیرے کوچاے کے بجائے کھانا لانے کو کہا۔اور پھرکھانا آنے تک وہ خاموش بیٹھا رہا۔بیرے نے ٹرے میں لائے کھانے کے برتن ان کے سامنے ٹیبل پر رکھے اور خاموشی سے واپس مڑ گیا ۔
”پتا ہے ؟….میں کافی دنوں سے تمھیں دیکھ رہا ہوں ۔تم عموماََ شام کی اذان کے وقت چھٹی کرتے ہو ۔“اسے کھانا شروع کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے تمہید باندھی۔
”جی جناب !….غریب آدمی کا گزارافالتووقت لگا کر ہی ہو سکتا ہے ۔“
وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔”غربت ایک ایسی بیماری ہے جسے ہم نے لاعلاج سمجھ رکھا ہے ۔“
”لاعلاج تو ہے نا جناب !“
”بالکل غلط۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے دیکھو ،اسی فلسفے پر یقین رکھتے ہوئے میں نے اپنی زندگی کے بہترین چالیس سال ضائع کےے۔ مگر پھر ایک بھلے آدمی کے مشورے اور تعاون سے ،ہمت و جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گیا ہوں کہ آج، کوٹھی ،کار اور ایک چھوٹے سے کاروبار کا بلا شرکت غیرے مالک ہوں ۔“
مم….مگر کیسے ؟“دانیال حیران رہ گیا تھا ۔
”بہت آسان ہے ؟“دانیال کی دلچسپی دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی ۔
”محترم اب بتا بھی دیں ؟“اس نے اپنی بے صبری چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”بتاتا ہوں، پہلے تم اپنا مکمل تعارف تو کراو¿؟“
”دانیال نام ہے ،مزدور ہوں ،اب تک شادی نہیں کی ہے ،ماں کے علاوہ اس دنیا کوئی نہیں ہے، اور نہایت غریب ہوں ۔ اتنا کہ کوئی بیٹی کا رشتا دینا بھی گوارا نہیں کرتا ۔بتیس سال کا ہو گیا ہوں اور اب تک شادی نہیں کر سکا ۔“
” تودانیال میاں !….بات یہ ہے کہ سب سے پہلے تمھیں ضمیر، احساس، ہمدردی اور حب الوطنی جیسی فرسودہ باتوں سے جان چھڑانی پڑے گی ۔کیونکہ امیرصرف وہی بن سکتا ہے جو اپنے کام سے کام رکھے ۔ اسے کوئی غرض نہیں ہونی چاہےے کہ دوسروں پر کیا گزر رہی ہے۔صرف اور صرف اپنے بارے سوچنے والا ہی دولت مند بن سکتا ہے ۔“
”ہر کوئی ہی اپنے بارے سوچتا ہے جناب ۔“دانیال نے شدّ ومدّ سے اس کی تائید کی ۔
”گڈ ….۔“اس نے مطمئن اندازمیں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”بس یہی سوچ ترقی کاپہلازینہ ہے۔ اب تمھیں امیر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔“
”سچ سر !….“دانیال خوشی سے چہکا۔
”بالکل سچ ۔“
”تو اب بتائیں نا….؟ مجھے دولت کمانے کے لےے کیا کرنا ہو گا ؟“دانیال امیر بننے کا راز جاننے کے لےے بے صبر ہو رہا تھا ۔
اس نے آخری نوالا چباتے ہوئے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کر کے بیرے کو چاے لانے کا اشارہ کیااور کہا۔”کار میں بیٹھ کر بتاتا ہوں ۔“
دانیال نے سرعت سے چاے کی پیالی ختم کی اور بے چینی سے پہلو بدلنے لگا ۔وہ دولت کمانے کا راز جاننے کے لےے بے تاب تھا ۔ اجنبی نے اطمینان سے چاے پی ۔بیرے کو بلا کر بل ادا کیا اور دانیال سے کہا۔
”چلو ۔“
دانیال سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔
کار پارکنگ سے نکال کر اس نے ڈیش بورڈ کھولااور ایک خاکی رنگ کا پھولا ہوا لفافہ اس کی جانب بڑھایا۔
”یہ کیا ہے ؟“حیرانی سے کہتے ہوئے دانیال نے لفافہ اس کے ہاتھ سے لے کر کھولاتو اس میں ہزار کے نوٹوں کی ایک گڈی برآمد ہوئی ۔
”یہ پچاس ہزار ہےں۔“
”پپ….پچاس ہزار؟“یک مشت اتنی رقم وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا ۔
”ہاں ….اور ایک چھوٹے سے کام کے بدلے یہ تمھارے ہو سکتے ہیں ۔“
”کک ….کون سا کام ؟“دانیال نے اٹکتے ہوئے پوچھا ۔
”پہلے یہ بتاو¿،تم تیا رہو کہ نہیں ؟“
”کام کا تو پتا چلے ؟“دانیال کو اس کا انداز مشکوک لگا ۔اس لےے کام جانے بغیر حامی بھرنااسے مناسب نہ لگا ۔
”صبح کام پر جاتے ہوئے ایک چھوٹا سا بیگ تمھارے پاس ہو گا ۔اپنی مطلوبہ بس میں سوار ہو کے اسے سیٹ کے نیچے رکھ دینا ۔ اورپھربیگ وہیں چھوڑ کر اپنے سٹاپ پر اتر جانا ۔بس ، اتنا سا کام ہے ؟اس کے بدلے یہ پچاس ہزار تمھارے ۔“
”بیگ میں کیا چیز ہو گی ؟“
”آم کھاو¿….پیڑ نہ گنو ؟“
مگر اس کے بتائے بغیر دانیال کو اندازہ ہو گیا تھا، کہ بیگ میں کیا چیز ہو سکتی ہے ۔اس کی سوچوں میں ایمبولینس کے تیز سائرن کے ساتھ مرد و زن اور بچوں کی چیخیں گونجنے لگیں ۔وہ زور سے بولا۔
”پلیز کا ر روکو۔“
”کیا ہوا ؟“اس نے کار روکتے ہوئے حیرانی سے پوچھا ۔
دانیال نے جیب سے دو سو روپے نکال کر پچاس ہزار کے بنڈل کے ساتھ ڈیش بورڈ پر رکھے اورکہا۔
”یہ دو سو کھانے کا بل ہے ۔بیرے کو آپ نے چار سو روپے دئےے تھے ۔میرے حصے میں دو سو ہی آتے ہیں ۔“ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلااور قریبی بس سٹاپ کی طرف بڑھ گیا ۔ معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر وہ اپنی جنت تعمیر نہیں کر سکتا تھا ۔ چھوٹے موٹے جرائم کے لےے اس کا ضمیر راضی نہیں ہوا تھا تو یہ قتل وغارت اس کے بس میں کہاں تھی ۔
٭……..٭
”یہ کیا بات ہوئی ….بہ مشکل دو سال ہوئے ہیں شادی کو اور جناب کو بچے کی پڑ گئی ؟“ مسکان حماد کی پریشانی دیکھ کر حیران رہ گئی تھی ۔
”مجھے جنون کی حد تک بچے کی چاہ ہے ۔“حماد نے صفائی سے جھوٹ بولا۔
”تو ہو جائے گا نا بچہ ….؟“مسکان حیا آلود لہجے میں بولی ۔”دو سال کوئی اتنا بڑا عرصہ تو نہیں ہے ؟“
”تم نے چیک اپ کرانا ہے کہ نہیں ؟“حماد تلخ ہونے لگا ۔
”چلتی ہوں نا ….ڈانٹنے کیوں لگے ؟“وہ روہانسی ہونے لگی ۔وہ حماد سے بے حد محبت کرتی تھی مگر حماد کا رویہ اسے ہمیشہ الجھن میں ڈال دیتا تھا ،پرایا اور اکھڑا اکھڑا ۔
”تمھاری ضد دیکھ کر غصہ آجاتا ہے؟“حماد ہار ماننے کے لےے تیار نہیں تھا ۔
مسکان خاموشی سے کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھ گئی ۔اس کے کپڑے بدلنے تک حماد ایک مشہور گائنالوجسٹ سے اپوائنٹ منٹ (Appoint ment)لے چکا تھا ۔اس کے با وجود انھیں گھنٹا بھر انتظار کرنا پڑا ۔باری آنے پر وہ ڈاکٹر کے چیمبر میں داخل ہوئے ۔شکیلہ فاروقی ایک منجھی ہوئی گائنالوجسٹ تھی ۔ ساری تفصیل سننے کے بعد اس نے انھیں ٹیسٹ لکھ کر دئےے ۔
”ڈاکٹر صاحب میر اٹیسٹ کس لےے ؟“حماد نے ٹیسٹ فارم پر اپنا نام پڑھ کر حیرانی کا اظہار کیا۔
”ٹیسٹ تم دونوں کا ہو گا سر!“لیڈی ڈاکٹر پروقار لہجے میں بولی ۔ضروری نہیں کہ نقص عورت میں ہو مرد میں بھی بانجھ پن پایا جا سکتا ہے ؟“
مسکان نے ڈاکٹر کی تائید کرتے ہوئے کہا ۔”ٹھیک ہے نا حماد!“ڈاکٹر صاحبہ کی بھی تسلی ہو جائے گی ، ہمیں بھی بار بار اپوائنٹ منٹ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔“
حماد کو تسلیم ہی کرتے بنی ۔شکیلہ فاروقی کے اپنے ہاسپیٹل میں لیبارٹری کی سہولت موجود تھی ۔
”ٹھیک ہے سر آپ semen analysis test کرا لیں آپ کی مسز کا Pelvis examہو گا جو میں خود کروں گی ۔“
حماد سر ہلاتا ہوا وہاں سے باہر نکل آیا ۔گھنٹا بھر بعد اسے رپورٹ موصول ہو گئی ۔اور پھر رپورٹ پڑھتے ہی حماد کا رنگ زرد پڑ گیا تھا ۔وہ باپ بننے کی صلاحیت سے محروم تھا ۔اتنی دیر میں مسکان بھی آ گئی تھی۔ اس کی رپورٹ کلیئر تھی اس میں کوئی نقص موجود نہیں تھا ۔
حماد کی رپورٹ پڑھ کر ڈاکٹر نے کسی بھی قسم کے طنز سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا ۔
”مسٹر حماد!…. مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کبھی باپ نہیں بن سکیں گے؟“
”یعنی اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے؟“اس نے مایوسی سے پوچھا ۔
”یہ بیماری نہیں ہے سر ؟“ڈاکٹر شکیلہ نے اس کی تصیح کی ۔
”ڈاکٹر صاحبہ !….مجھے باپ بننا ہے کسی بھی طریقے سے ۔“
”ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ یقینا آپ کی محرومی دور کر دے گا ۔“ڈاکٹر شکیلہ نے مشورہ دیا۔
”ٹیسٹ ٹیوب کی شرعی حیثیت کیا ہے ڈاکٹر صاحبہ ؟“مسکان نے دریافت کیا ۔
”یہ کوئی عالم دین ہی بتا سکتا ہے ۔“ڈاکٹر شکیلہ اطمینان سے بولی ۔
ڈاکٹر سے رخصت لے کر انھوں نے واپسی کی راہ لی ۔حماد کی بولتی بند ہو گئی تھی ۔ قدرت نے اس سے عجیب انتقام لیا تھا ۔ اس کے باوجود وہ شکست ماننے کے لےے تیار نہیں تھا ۔ اس کا دماغ اسی اُدھیڑ بُن میں مصروف تھا کہ اب اس کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہےے ؟….مسکان رپورٹ کو اس کی خاموشی کی وجہ سمجھ رہی تھی ۔وہ اپنے تیئں اسے تسلی دیتی رہی ۔اتنے بڑے انکشاف کے باوجود اس کی محبت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔گھر پہنچتے ہی حماد نے کہا ۔
”مسکان پلیز یہ بات کسی کو بھی پتا نہیں چلنی چاہےے ؟“
”میں پاگل تھوڑی ہوں ؟“وہ اس سے لپٹتے ہوئے اسے تسلی دینے لگی ۔حماد اسے ہر حال میں عزیز تھا ۔
اگلا ہفتہ حماد نے مختلف، مشہور اور مستند ڈاکٹروں سے اس ضمن میں مشورہ کرتے گزارا ۔ مگر ہر جگہ اسے مایوس کن جواب ہی ملا ۔یہ بات اس نے فریحہ سے بھی چھپا لی تھی ۔کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وجہ سے وہ اس سے متنفر ہو جائے ۔فریحہ کے بغیر زندہ رہنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اس نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقے پر عمل کرنی کی ٹھان لی۔
”مسکان ….!مجھے بچہ چاہےے اور اس کا یہی ایک حل ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے میری تشنہ خواہش پوری ہو؟“
”ناممکن ….“مسکان کا جواب بالکل غیر متوقع تھا ۔
”کیوں ؟“حماد حیران رہ گیا تھا ۔
”میں نے اس بارے معلومات حاصل کر لی ہیں ۔تمام علماءیہی کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے تولیدی نطفے سے تو یہ عمل جائز ہے اوربہ حالت مجبوری اس کی اجازت ہے ۔مگر کسی غیر مرد کے نطفے سے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ ناجائز ہی نہیں ،حرام ہے ۔یوں سمجھو حرام کاری کی طرح ہے ۔اور مجھ سے یہ کام نہیں ہو گا ۔“
”اف مسکان !….“حماد نے سر پکڑ لیا ۔”تم اب تک ان مولیوں کی باتوں میں پڑی ہو ،اور دنیا مریخ سے بھی آگے نکل گئی ہے ؟“اس وقت مسکان کے مذہبی جذبات اسے زہر لگے تھے ۔
مسکان نے اطمینان بھرا جواب دیا ۔”مریخ نہیں پلوٹو سے بھی آگے نکل جائیں ۔ رہیں گے آسمان کے نیچے ہی ،اوپر نہیں جا سکتے ۔“
”کیا میری چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کرو گی ؟“حماد جانتا تھا کہ مذہبی معاملات میں وہ کسی دھونس میں آنے والی نہیں تھی اور اسے جذباتی بلیک میلنگ ہی سے کام نکالنا پڑے گا ۔
”کبھی نہیں ۔“مسکان کے لہجے میں ہلکی سی بھی لچک موجود نہیں تھی ۔
”پلیز مسکان !….میری خاطر ؟“حماد نے لجاجت سے کہتے ہوئے اسے کندھوں سے تھام لیا۔
”حماد ….!آپ سمجھتے کیوں نہیں ،یہ میرے لےے ناممکن ہے ۔اگر تمھیں زیادہ شوق ہے تو ہم کوئی بچہ گود میں لے لیں گے۔ یا میں اپنے بھتیجے ،بھتیجی کو لے آو¿ں گی جو ہمارا بچہ بن کر پرورش پائے گا ؟“
”مجھے اپنا بچہ چاہےے؟“
مسکان زچ ہوتے ہوئے بولی ۔”ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے بھی آپ کابچہ تو نہیں ہو گا؟“
”تمھارا تو ہو گا نا؟….اور تمھارے، میرے میں کیا فرق ہے ؟“
”سوری حماد !….آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر، لیکن مجھ سے یہ کام نہ ہو گا ؟“مسکان یہ کہتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی ۔خاوند کی نافرمانی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی، مگر یہاں اس کے دین کا مسئلہ تھا۔اگر اسے ذرا سی بھی گنجائش یا حیلہ نظر آتا، تو وہ حماد کو یوں مایوس نہ کرتی ۔وہ مفتی صاحب سے بڑی تفصیل سے یہ مسئلہ دریافت کر چکی تھی ۔
٭……..٭
دانیال جھجکتے ہوئے شادی آفس میں داخل ہوا ۔اپنی ماں کی ناکامی کے بعد اس کے پاس آخری حل یہی رہ گیا تھا کہ وہ کسی شادی دفتر سے رجوع کرے ۔اس بات کا مشورہ بھی اسے چچا خیر دین نے دیا تھا ۔
”جی سر ….؟آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“استقبالیہ پر بیٹھے مرد نے مو¿دبانہ لہجے میں پوچھا۔
”میں شادی کرنے ….میرا مطلب ہے ،میں شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ کا تعاون درکار ہے ؟“
اس نے میز پر پڑا فون اٹھا کر کسی سے بات کی اور پھر دانیال کو کہا۔
”آپ اندر تشریف لے جائیں ۔“
دانیال سر ہلاتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ ایک چھوٹا سا آفس تھا۔لکڑی کی الماری ،ٹیبل اور چند کرسیاں آفس کی کل کائنات تھی۔ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چیئر پر ایک موٹا سا آدمی بیٹھا تھا ۔دانیال کو دیکھ کر وہ استقبال کے لےے کھڑا ہوا اور پھر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *