Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43
سیٹھ فہیم نے تڑپ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا ۔
”فکر مت کرو گڑیا !….تمھارے ساتھ زیادتی کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہو گا ۔“
احمد جلدی سے بولا۔”ہوگا نہیں سیٹھ صاحب !….شروع ہے ،اگر میری بہن چاہے تو میں ان کا انجام دکھا سکتا ہوں، یقین مانو وہ اپنی ہر سانس کے ساتھ موت کی دعا مانگیں گے ،مگر اس قسم کے وطن دشمن عناصر جب ہمارے شکنجے میں آ جائیں تو موت بھی ان سے روٹھ جاتی ہے ۔“
مسکان نے پوچھا ”حماد کا کیا ہوا ؟“
”اس کی نگرانی کی جاری ہے ۔وہ کہیں بھی نہیں بھاگ سکتا ۔“
”یہ لوگ میری قریبی سہیلی ،فریحہ کو اغوا کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے کہیں ……..؟“
”نہیں !….اس سے پہلے ہی میں نے ان کے گرد شکنجہ کس لیا ….اور ان کی بد قسمتی کہ یہ اسی فریحہ کی وجہ سے پکڑے گئے ہیں ۔“
”وہ کیسے ؟“
”وہ ایسے کہ ،تمھاری موت کی خبر پاتے ہی فریحہ کوحماد پر شک ہو گیا تھا کہ یہ سارا کیا دھرا حماد کا ہے ،گو اس نے اس شک کا ذکر کسی سے نہ کیا مگر اپنے طور پر اس نے حماد سے انتقام لینے کا منصوبہ بنالیااور دانیال نامی ایک مزدور سے منگنی کر لی۔“
دانیال کے نام پر مسکان نے بے چینی سے پہلو بدلامگر احمد اس کے احساسات سے خبر اپنی لے میں شروع رہا ۔
”اب حماد اس بات پر چراغ پا ہو گیا کہ اس کے ساتھ محبت کے عہد و پیمان باندھنے والی ایک بدصورت مزدور سے کیوں شادی کر رہی ہے ….پس غصے میں آکر اس نے دوبارہ اپنے مجرم دوست سے فون پر بات کی۔اسے یہ پتا نہیں تھا کہ اس کا موبائل فون نمبر انڈر آبزرویشن ہے (Under Observation) اوریوں پورا گروہ ہمارے ہتھے چڑھ گیا ۔“ فریحہ کی حماد کے ساتھ پرانی ساز باز کو احمد نے جان بوجھ کر زیرِ بحث نہیں لایا تھا ۔ایک ایسا جرم جس سے وہ توبہ کر چکی تھی اسے کسی کے سامنے ظاہر کرنا احمد کو مناسب معلوم نہیں ہوا تھا۔یوں بھی حماد کی کامران سے ہونے والی بات چیت فریحہ کو بالکل بے گناہ ثابت کر رہی تھی ۔
”بھیا !….میرا خیال ہے یہاں سے سیدھا میرے گھر چلتے ہیں ….دیکھیں کہ وہ گھٹیا شخص مجھے دیکھ کر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے ؟“مسکان سیٹھ فہیم کو مخاطب ہوئی۔
سیٹھ فہیم نے سوالیہ نظروں سے احمد کی طرف دیکھا ۔
”بالکل ٹھیک ہے سیٹھ صاحب !….میرا خیال ہے اس کا ٹنٹنا بھی ختم ہی کر دیں ….گو اسے پھانسی کی سزا نہیں ہو سکتی مگر لمبے عرصے کے لیے اندرضرور ہو جائے گا ۔“
”ملک دشمن عناصرکی اعانت کے جرم میں بھی اسے پھانسی نہیں ہو سکتی ؟“ وسیم نے پوچھا۔
”نہیں۔“احمد نے نفی میں سر ہلایا۔”اس نے ملک دشمن عناصر کی اعانت نہیں کی،وہ مجرم ضرور ہے مگر اسے غدار نہیں کہہ سکتے ….اس کا کیس پولیس ہی ہینڈل کرے گی ۔“
”آپ فکر نہ کریں احمد صاحب !….“ سیٹھ فہیم اطمینان سے بولا۔”پولیس کے ہاتھوں اس کا وہ حشر کراوں گا کہ اپنی نسلوں کو بھی سیدھے رستے پر چلنے کی نصیحت کرے گا ۔“
احمد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ،مگر اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔
وسیم نے موبائل فون نکالتے ہوئے کہا۔” میرا خیال ہے کال کر کے معلوم کر لیتے ہیں کہ وہ گھر پر ہی ہے نا۔“
احمد اسے کال سے منع کرتا ہوا بولا۔”اسے کال کرنے کی ضرورت نہیں ….وہ گھر پہ ہی ہے ،اگر کہیں گیا ہوتا تو اب تک مجھے معلوم ہو جاتا۔“
وسیم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے موبائل فون جیب میں ڈال لیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ تمام سیٹھ فہیم کی کار میں بیٹھے مسکان کی کوٹھی کا رخ کر رہے تھے۔احمد کی بیوی نے ان کے ساتھ جانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ مسکان نے احمد کی بیوی سے نقاب لے کے اوڑھ لیا تھا ۔
چوکیدار ان کا پرانا ملازم تھا اس لیے اس نے وسیم کو دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا ۔
کار پورچ میں روک کر وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے ۔ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے ہی انھیں خادمہ ٹرے میں چاے کے برتنوں کے ساتھ کچن سے نکلتی دکھائی دی ۔انھیں دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گئی تھی۔
سیٹھ فہیم نے پوچھا۔”شہناز !….حماد کہاں ہے ؟“
”بیڈ روم میں ہے سیٹھ صاحب !“فہیم کو جواب دیتے ہوئے اس کی نظریں مسکان کا جائزہ لے رہی تھیں۔اگر وہ نقاب میں نہ ہوتی تو شاید شہناز چیخ مار کر اس سے لپٹ چکی ہوتی ۔مگرمسکان کا چہرہ نقاب میں چھپا ہونے کی وجہ سے وہ الجھن امیز نظروں سے اسے دیکھتی رہی جو ہو بہ ہواس کی ہر دل عزیز مالکن جیسی لگ رہی تھی۔
سیٹھ فہیم سر ہلاتا ہوا بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا۔
حماد تکےے سے ٹیک لگائے غالباََ ناشتے کا منتظر تھا ۔یوں ایک دم سیٹھ فہیم کے اندر داخل ہونے پر وہ ہڑ بڑا کر کھڑا ہو گیا ۔
”بھیا آپ ….؟“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پہ تھے کہ یکے بعد دیگرے تمام اندر داخل ہو گئے۔
”خخ ….خیر تو ….آپ تمام ….؟“اس نے لہجے میں خوشگوار حیرت سمونے کی کوشش کی مگر مسکان کو دیکھ کر اس کا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ،گو وہ اس وقت مکمل نقاب میں تھی،مگر اپنے سراپے اور نقاب سے نظر آنے والی غلافی آنکھوں نے حماد کو لرزا دیا تھا ۔
سیٹھ فہیم زہر خند لہجے میں بولا۔”ہاں بس آپ کو خوش خبری سنانے کے لیے آئے تھے….ہماری مسکان زندہ ہے اور اسے حبسِ بے جا میں رکھنے والے گرفتار ہو گئے ہیں ۔“
سیٹھ فہیم کی بات مکمل ہوتے ہی مسکان نے اپنے رخ سے نقاب الٹ دیا ۔
حماد کو زور کا چکر آیا ،اس نے بہ مشکل خود کو گرنے سے روکا ….اس کا رنگ پیلا زرد پڑ گیا تھا ۔
”تمھیں خوشی نہیں ہوئی ….؟“وسیم نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”حالانکہ مسکان کی موت کی خبر سن کر تم بے ہوش ہو گئے تھے۔“
”وہ ….میں ….بب….بہت خوش ہوں ۔“ حما دنے گڑبڑاتے ہوئے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔
سیٹھ فہیم نے اسے گریبان سے پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیتے ہوئے کہا ۔
”گندی نالی کے کیڑے!….مسکان نے کیا کچھ نہیں کیا تمھارے لیے ؟….جھونپڑی سے نکال کر محل میں لے آئی ….اور تو نے کیاصلہ دیا ؟….چند ٹکوں کی خاطر اس کی جان کے درپے ہو گیا ….بے حیا !….تجھ میں رتی بھر بھی غیرت ہوتی ….تو اپنی عزت کو یوں پرائے کتوں کی جھولی میں نہ پھینکتے؟….“ سیٹھ فہیم کی آواز لمحہ بہ لمحہ بلند ہوتی گئی اور وہ حماد کو گریبان سے پکڑ کر مسلسل جھٹکے دینے لگا۔
حماد، توگویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی عملی تصویر بن گیا تھا ۔اس کا ذہن بالکل ماوف ہو گیا تھا ، جیسے ہی فہیم نے دھکا دیتے ہوئے اس کاگریبان چھوڑا وہ نیچے گر گیا ۔اور پھر اس سے پہلے کہ وہ اٹھ پاتا ، وسیم نے آگے بڑھ کر اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی ۔
احمد زیادہ دیر تک یہ نہ دیکھ سکا اس نے نرمی سے وسیم کا بازو تھاما ….
”سیٹھ صاحب !….باقی کا کام پولیس والوں کے لیے چھوڑ دیں ۔“وسیم غصے سے ہانپتا پیچھے ہٹ گیا۔
احمد اپنا موبائل فون نکال کر متعلقہ تھانے دار کو کال کرنے لگا ۔اسی وقت خاموش کھڑی مسکان ،احمد کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی ۔
”بھیا !….پولیس کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ۔“
”کیا مطلب؟“احمد نے حیرانی سے پوچھا ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”مطلب ….اسے جانے دیں ۔“
”گڑیا !….مجھ سے پٹو گی ۔“سیٹھ فہیم غصے سے بولا۔
”تمھاری مار تو میرے لیے باعثِ سعادت ہے بھیا !….لیکن اس غلیظ کو تھانے بھیجنے کی ضرورت نہیں۔“
”غالباََ تم قربانی دینے والی مشرقی بیوی کا کردار ادا کرنے جا رہی ہو….ہے نا ۔“وسیم اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکا تھا ۔
”یہ میرا شوہر نہیں ہے بھیا !….یہ مجھے طلاق دے چکا ہے ۔یہ ایک گھٹیا ،کم ظرف ،لالچی انسان ہے لیکن میں پھر بھی اسے معاف کر رہی ہوں ….میرے پاک پروردگار نے مجھے اپنے پیاروں سے ملوا دیا ،میرے لیے اتنا انعام کافی ہے۔ البتہ فریحہ اور دانیال کے خلاف ملک دشمن عناصر سے ساز باز کرنے پر اگر یہ کسی قسم کی سزا کا مستحق ہے تو پھربے شک پولیس کو طلب کر لیں ….“
وسیم نے حیرانی سے پوچھا ۔”اس نے کب طلاق دی ہے ؟“
”لمبی کہانی ہے بھیا ….بعد میں سناوں گی ۔“
”گڑیا ایسے لوگ دھرتی کا بوجھ ہوتے ہیں ۔انھیں سزا دئیے بغیر رہا کرنا ظلم ہے ۔“فہیم نے مسکان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
”بھیا!…. اس کے لیے جو سزا فریحہ نے منتخب کی ہے وہ کافی ہے ۔“
”چلو اس کا فیصلہ بعد میں کر لیں گے ….فی الحال یہ میرے آدمیوں کی کسٹڈی میں رہے گا ۔“ احمد ان کی بحث میں مخل ہوا۔اور موبائل نکال کر اپنے آدمیوں کو بلانے لگا ۔
شہناز کافی دیر سے خاموشی سے سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی ۔ان کے چپ ہوتے ہی مسکان سے آ کر لپٹ گئی۔
”مالکن !….آپ زندہ ہیں….اللہ پاک آپ کو لمبی عمر دے ….“
”ہاں شہناز !….وہ کیا کہتے ہیں ،جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟“
”یہ موا، مردود مجھے اول دن سے برا لگتا تھا ….جانے کتنی مشکل سے تمام ملازم اسے برداشت کر رہے ہیں ۔“ شہناز نفرت سے بولی ۔
”ان شاءاللہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“مسکان نے کراہیت امیز نگاہ حماد پر ڈالی جو حیران و ششدر بیٹھا تھا۔ اس نے ابھی تک اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اس کے ذہن میں آندھی کے بجائے طوفانی جھکڑ چل رہے تھے۔یہ سارا ماجرہ اس کی سمجھ سے باہر تھا ،اسے لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہو، ایک بھیانک خواب….مردہ مسکان زندہ ہو گئی تھی، کامران پکڑا گیا تھا ،اس کی سازش تشت ازبام ہو گئی تھی ،وہ محل سے فٹ پاتھ پر آ گیا تھا ۔
احمد کے ساتھیوں نے دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب۔احمد نے مسکان کی طرف دیکھا اس نے جلدی سے دوبارہ نقاب اوڑھ لیا…. وہ باآواز بلندبولا….
”آ جاو۔“
”سادہ لباس میں ملبوس دو جوان اندر داخل ہوئے ۔اور خاموشی سے نیچے بیٹھے حماد کی طرف بڑھ گئے وہ جانتے تھے کہ انھوں نے کیا کرنا ہے ۔
انھیں دیکھ کر حماد بھی لرزتے قدموں سے کھڑا ہو گیا اور برائی کا برا نتیجہ بھگتنے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔
٭……..٭
فریحہ ،ٹی بریک کے وقت پر ردا کے ساتھ یونیورسٹی کی کنٹین میں داخل ہوئی ….ابھی تک وہ بیٹھ نہیں پائی تھیں کہ فریحہ کا موبائل بجنے لگا ۔سکرین پر نظر دوڑاتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ کال مسکان کے نمبر سے کی گئی تھی۔
”شاید اس کا بھائی ہو ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں گونجی اور اس نے اٹنڈنگ بٹن پریس کر دیا ۔
”یس ؟“
”فری !….میں بول رہی ہوں ۔“اس کے کانوں میں مسکان کی آواز گونجی اور وہ حقیقتاََ اچھل پڑی۔
”تت….تم ….تم ….؟….باجی !….“
”ہاں فری!….میں زندہ ہوں ….اس وقت بھائی کے گھر میں ہوں ….تم ابھی آ جاو…اور کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”میں بس ،یوں آئی ۔“اس کا لہجہ مسرت سے لبریز تھا ۔
موبائل فون پرس میں ڈال کر وہ ردا سے بولی ۔
”سوری ردا !….مجھے فی الفور جانا ہو گا۔“
”خیر تو ہے ؟“اسے عجلت میں دیکھ کر ردا پریشان نظر آ نے لگی تھی ۔
”ہاں !….بالکل خیریت ہے ،تفصیل بتانے کا وقت نہیں کل بات ہو گی ۔“وہ اس کا جواب سنے بغیر چل دی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ٹیکسی میں بیٹھی داود منزل کی طرف روانہ تھی ۔اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے۔مسکان کا ایک دم زندہ ہو جانا….یقین ہی نہیں آ رہا تھا ….وہ اپنی آنکھوں سے اس کا تابوت دیکھ چکی تھی ۔ اچانک اسے خیال آیا کہ مسکان کی لاش تو کسی نے نہیں دیکھی تھی بس کپڑوں کی دھجیوں ،کار،پرس ، موبائل فون کے ٹکڑوں وغیرہ سے ہی اس کی شناخت کی گئی تھی۔داود منزل آنے تک وہ انھی سوچوں میں گم رہی ۔
ٹیکسی کو محل نما کوٹھی کے گیٹ سے رخصت کر کے وہ گیٹ کی طرف بڑھ گئی ،مسکان شاید اس کے بارے پہلے سے چوکیدار کو مطلع کر چکی تھی کہ اس نے فقط نام پوچھ کر فریحہ کو اندر داخل ہونے دیا ۔
ایک ملازما کی رہنمائی میں چلتی ہوئی وہ مسکان کے کمرے تک آئی ۔دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔مسکان دروازے کی جانب ہی متوجہ تھی ۔اسے دیکھتے ہی وہ مسکراتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔
”باجی !….“کہتے ہوئے فریحہ بھاگتے ہوئے اس سے لپٹ گئی ،مسکان نے بھی بہت گرم جوشی سے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا تھا ۔
”کیسی ہو فری!“اسے آہستگی سے علاحدہ کرتے ہوئے مسکان نے پوچھا۔
”باجی میں بالکل ٹھیک ہوں ….مگر میرے ذہن میں بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں اور ہر سوال کی کوشش ہے کہ وہ پہلے میرے لبوں سے ادا ہو ۔“
”بیٹھو!….کسی سوال کی ضرورت نہیں ،میں اپنی آپ بیتی سنا دیتی ہوں ،تمھارے سارے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔“
فریحہ صوفہ سنبھالتے ہوئے مسکان کے ملیح چہرے کو تکنے لگی ۔وہ پہلے سے کمزور لگ رہی تھی
”اچھا پہلے یہ بتاوکھانا کھایا ہے کہ نہیں ؟“
”باجی !بھوک ہی اڑ گئی ہے ،آپ بس ساری تفصیل سے آگاہ کریں ،کھانا پینا تو ہوتا ہی رہے گا۔“
”نہیں پہلے پیٹ پوجا ….اور ساتھ ساتھ میں تفصیل بھی بتاتی رہوں گی ۔“ یہ کہہ کر اس نے ملازما کو بلا کر کھانے لانے کا بتایا اور ملازما کے کمرے سے نکلتے ہی وہ فریحہ کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”فری!….یاد ہے نا ؟….وہ رات جب حماد نے ہمارا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا ؟“
”بہت اچھی طرح ۔“فریحہ سرسراتی آواز میں بولی ۔”اس سے اگلے دن تمھارے اغوا ہونے کی اندوہ ناک خبر سنی تھی ۔
”اس صبح میں دانی کو یہی خوش خبری سنانے کے لیے جا رہی تھی ،رستے میں اچانک میری کار کا ٹائر برسٹ ہوا ….“ مسکان کمرے کی چھت کو تکتے ہوئے اپنی کہانی سنانے لگی ،وہ صرف اس وقت چند منٹ کے لیے خاموش ہوئی جب ملازما کھانے کے برتنوں کے ساتھ حاضر ہوئی ،ملازما کے جاتے ہی وہ دوبارہ الم ناک واقعات سے پردہ اٹھانے لگی ۔کھانا کھاتے ہوئے بھی اس کی بات جاری رہی ۔اس نے فریحہ سے کوئی بات چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔اور پھر اس کی بات ختم ہوتے ہی فریحہ کے لب وا ہوئے ۔
”باجی!….سب سے پہلے تو میں آپ کی یہ غلط فہمی دور کر دوں کہ میری دانیال کے ساتھ ہونے والی منگنی میں دانیال کی منشا شامل تھی ….یہ سراسر میرا منصوبہ تھا ،اور اسے بھی میں نے ہی اس کے لیے مجبور کیا تھا ۔ اور اس بات سے تو آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ میں ایسا کیوں چاہتی تھی؟“
”جانتی ہوں فری !….لیکن حیرانی اس بات پر ہو رہی ہے کہ تم نے بھیا کو یہ سب کیوں نہیں بتایا؟“
”کیسے بتاتی باجی ….؟کیا ثبوت تھا میرے پاس ؟….حماد آسانی سے کہہ سکتا تھا کہ ایسا میں رقابت کی بنا پر کہہ رہی ہوں ،پھر آپ کی اور دانی کی شادی کا کوئی ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں تھا ۔سب سے بڑھ کر اس میں آپ کی بدنامی تھی۔اور پھر آپ یقین کریں جب آپ سے منسوب تابوت گھر میں لایا گیا تو اس خبیث نے اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے ،کہ سبھی گھر والے اس کے گرویدہ ہو گئے تھے۔اس وقت اگر میں کسی نئی کہانی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی تو منہ کی کھاتی ۔“
”دانی کیسا ہے ؟….یاد کرتا ہے مجھے ؟“مسکان کی نگاہوں میں اپنے بھولے بھالے چاہنے والے کی مغموم صورت لہرائی ۔
”بہت زیادہ باجی !….اتنا کہ میں رشک کرنے لگتی ہوں آپ کی قسمت پر ۔تمھارے بعد بھی اس کی زبان پر تمھاری باتیں ہیں ۔وہ ……..“یہ الفاظ فریحہ کے لبوں پر تھے کہ اس کا موبائل بجنے لگا،دانیال کی کال تھی۔
”لیں جی !….کافی لمبی عمر ہے دانی کی ،اسے یاد کیا اور کال آنے لگی جناب کی ؟“فریحہ نے ہنستے ہوئے کال اٹینڈ کی اور اس کے ساتھ لوڈ سپیکر کا بٹن بھی آ ن کر دیا تھا ۔
”جی دانی !….؟“
”فری !….کہاں ہو ؟….میں پارکنگ میں انتظارکر رہا ہوں ۔“
اس نے پوچھا ۔”تمھیں ردا نے نہیں بتایا؟“
” ملتی تو بتاتی نا ۔“
”شاید وہ پہلے نکل گئی ہو گی ….خیر میں اپنی سہیلی کی طرف آئی ہوئی ہوں ….کل ملاقات ہو گی۔“
”ٹھیک ہے ….خداحافظ۔“
اس سے پہلے کہ وہ رابطہ منقطع کرتافریحہ سرعت سے بولی ۔”اچھا بات سنو ….“
”جی ۔“
”ابھی کہاں جاو گے ؟“
”تمھیں پتا نہیں ہے ۔“دانیال کے لہجے میں حیرانی کا عنصر نمایاں تھا ۔
”بتا دینے میں کیا حرج ہے ؟“فریحہ جانتی تھی مگر اس کے منہ سے کہلوانا چاہتی تھی ۔
”مشی کے پاس جاوں گا اور وہاں سے گھر ۔“
”اچھا قبرستان میں زیادہ دیر نہ بیٹھے رہنا ….“فریحہ نے مسکان کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوتے دیکھ لی تھی ۔
”مشورے کا شکریہ ۔“دانیال نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”پتا ہے باجی !….یہ قبر پر بیٹھ کر سارے دن کی کارگزاری سنائے گا ….یقین مانو لگتا ہی نہیں ہے کسی قبر والے سے مخاطب ہے ۔“
”فری!….وہ مردذات ہے،اور تمھیں میں نے ساری کار گزاری سنا دی ہے۔اتنے دن میں اوباش مردوں کا کھلونا بنی رہی ۔میں اب پہلے والی مسکان نہیں رہی جسے اپنی حرمت و عصمت پر فخر ہوا کرتا تھا ۔“
”باجی !….کیسی بات کر رہی ہیں۔“ فریحہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب جا بیٹھی۔ ”تمھارے اغوا کے بعد میں نے یہ سوال کیا تھا دانیال سے ….اور پتا ہے اس نے کیا جواب دیا ۔“
مسکان کی سوالیہ نظروں کو اپنی جانب نگراں پا کر وہ بولی ۔
”اس نے کہا تھا ….اس بات کا جواب اس کے بتائے بغیر مشی کو معلوم ہے ….پھر میں نے کہا کہ ، مجھے جو معلوم نہیں ہے تو کہنے لگا، ….کون کہتاہے کہ کسی غلیظ اور گندے مرد کی دست درازی سے کوئی معصوم لڑکی آلودہ ہو سکتی ہے ۔ یہ آلودگی صرف احساسات میں ہوتی ہے ۔پہلے شوہر سے بھی تواس کا جسمانی تعلق رہا ہے اور اس وجہ سے میں نے اسے ہلکا سا بھی طعنہ نہیں دیا ۔ جبکہ اس میں اس کی اپنی مرضی بھی شامل تھی ،اور یہ کہ ….یہ تو چند درندے ہیں ، اگر کراچی شہر کے سارے بدکار بھی زبردستی اس کی مشی کو روندتے رہیں اور کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہے ، اس کے بعد بھی تم اسے اتنی ہی عزیز ہو گی جتنی پہلے تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ۔“
مسکان آبدیدہ ہو گئی ۔”ہاں فری !.میں جانتی ہوں وہ ایسا ہی ہے ۔“
”وہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے باجی !….“
”اچھا یاد آیا فری!….یہ تو بتاوحماد، کیوں بچے کے لیے اتنا بے کل ہو رہا تھا ….کہ اس نے دانی سے میری شادی کرا دی ….اس سارے بکھیڑے میں پڑنے کے بجائے وہ مجھے پہلے بھی قتل کرا سکتا تھا ؟“
فریحہ سر جھکاتے ہوئے خفیف لہجے میں بولی ”باجی !….بچہ ہونے کی صورت میں وہ آپ کے کل ترکے کا وارث بنتا، جبکہ اس کے بر عکس ہونے کی صورت میں اسے صرف نصف ترکہ ملتا ۔“
”اوہ !….تو یہ بات تھی ۔“مسکان سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلانے لگی ۔اس کی سوچ اس سمت نہیں جا سکی تھی ،واقعی حماد جیسے لالچی اور گھٹیا شخص سے یہی امید کی جاسکتی تھی ۔
”اچھا یہ بتاو…. کب دانی سے اس کی مشی کو ملا رہی ہو ؟“فریحہ نے موضوع بدلا۔
مسکان ہنسی ۔”چلو وہیں قبرستان میں ….اس بہانے میں اپنی قبر بھی دیکھ لوں گی ۔“
اورفریحہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
جاری ہے
