Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07

”یہ کوئی اتنا بڑا گناہ نہیں ہے جان !“مسکان کی باتوں نے حماد کے دل میں چھپی امید کی کرن کو تقویت دی تھی ۔ ”ہم کوئی چوری کرنے یا ڈاکا مارنے نہیں جا رہے ،اورنہ کسی کوقتل کر رہے ہیں ؟“
”حماد ہمیں اللہ پاک سے مانگنا چاہےے ۔ہو سکتا ہے وہ رحیم و کریم ذات ہمیں اولاد کی نعمت سے بھی نواز دے ۔ اس کے پاس کوئی کمی تو نہیں ہے ناں ؟“مسکان ابھی تک اس سے متفق نہیں پا رہی تھی۔
وہ چرب زبانی سے بولا۔”پگلی !….یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اسباب کے تحت پیدا کی ہے ۔ معجزے صرف انبیاءکرام سے صادر ہوتے ہیں ۔ نہ تو اللہ پاک کے خزانوں میں کوئی کمی ہے اور نہ وہ عاجز ہے ۔اگر وہ چاہے تو مرد و عورت کے بغیر کسی انسان کوپیدا کر لے جیسا کہ حضرت آدم ؑ کووجود بخشا۔ یاصرف مرد ہی سے دوسرے وجود کو حیات عطا فرمائے ، جیسا کہ حوا بی بیؑ کو حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے تخلیق فرمایا۔اور چاہے تو صرف عورت سے نسل انسانی کو قائم و دائم رکھے، جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا فرمایا ۔مگر باوجود قادر ہونے کے وہ بے نیاز ذات اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتا ۔اگر میڈیکل کہتی ہے کہ میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوں تو میرے لےے قانون ِ خداوندی نہیں بدل سکتا ؟“
”مایوسی کفر ہے ۔“
”میرابانجھ پن ٹھوس حقیقت ہے مسکان !….اورایسے مسائل فقط دعاو¿ں سے حل نہیں ہوا کرتے۔“
وہ جھنجلا کے بولی ۔”اوکے ،جو مرضی آئے کرو ۔“
حماد کا چہرہ خوشی کے مارے کھل اٹھا ۔وہ اسے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا۔
”میں جانتا تھا،تم میری دیرینہ خواہش ضرور پوری کرو گی ۔“
”اب یہ شادی ہو گی کس سے ؟“مسکان کا لہجہ اندیشوں سے پر تھا ۔
”اس کا بندبست میں خود کرلوں گا ۔“حماد کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔
”بڑی خوشی ہو رہی ہے ؟“مسکان کا لہجہ تلخی سے پر تھا ۔
”پگلی ہو تم ۔“حماد چاپلوسی سے بولا۔”تمھیں خود سے دور کر کے مجھے خوشی مل سکتی ہے بھلا ۔ بس ایک ماہ کی بات ہے ۔ہم پھر اکھٹے ہوں گے ۔“
”بھائیوں کو کیا جواز پیش کروں گی اس شادی کا ؟“
حماد اطمینان سے بولا۔”انھیں ہم لا علم رکھیں گے ۔“
”مگر کیسے ؟“
”سادگی سے نکاح پڑھایا جائے گا ۔ایک علاحدہ مکان لے کے اس میں تم دونوں رہائش اختیار کر لینا ۔ کسی بھی خاص موقع پر میں تمھیں کال کر کے بلا لوں گا ۔“
”میں شوہر کی اجازت کے بغیر کیسے آ سکوں گی ؟“
”ہونہہ !….تمھار ا شوہر ۔“وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔”وہ تمھیں بھائیوں سے ملنے سے تو منع نہیں کر سکتا نا ؟“
”حماد اگر اس نے شادی کے بعد طلاق دینے سے انکار کر دیا پھر ؟“
”آج کل ایسے غریب موجود ہیں جو دولت کے لےے اپنی گھر والی بیچ دیں ۔اس نے تو صرف طلاق دینی ہے ؟“ حماد کے پاس ہر سوال کا جواب موجود تھا ۔
”اچھا جو تمھاری مرضی آئے کرو….مگر کسی بھی اونچ نیچ کے ذمہ دار تم خود ہو گے ؟“ مسکان یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی ۔
٭……..٭
شادی کمپنی کی دھوکا بازی سے دانیال نے اپنی ماں کو بے خبر رکھا تھا ۔یہ بات اسے خواہ مخواہ دکھ دیتی ۔ یوں بھی دانیال نے اسے کئی مرتبہ چھپ چھپ کر روتے دیکھا تھا ۔ایک ماں کے لےے اس سے بڑھ کر کیا دکھ ہو سکتا ہے ،کہ اس کے جوان بیٹے کے لےے کوئی خوب صورت تو کیا بدصورت لڑکی کا رشتا دینے کے لےے تیار نہیں تھا ۔بیٹے تو یوں بھی ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہوتے ہیں ۔ پھر، دانیال جیسے فرمانبردار بیٹے تو لاکھوں، کروڑوں میں ایک ہوتے ہیں۔
دس ہزار کی رقم گو ایک مزدور کے لےے خطیر رقم تھی، مگر سٹیل مل میں مزدوری کر کے اس نے اتنی بچت بہ ہر حال کر لی تھی کہ دس ہزار کے دھچکے کو سہہ گیا ۔لیکن اس کے بعد اس نے توبہ کی کہ کسی شادی دفتر کا رخ نہیں کرے گا ۔وہ دل ہی دل میں اس مظلوم اختر کو دعائیں دے رہا تھا، جس کا تیس ہزار کا نقصان ہوا تھا، لیکن اس کی وجہ سے دانیال مزید نقصان سے بچ گیا تھا ۔ورنہ تو وہ حورین کے بعد حیا نام کی فرضی لڑکی کے لےے بھی پانچ ہزار فیس ادا کرنے کو تیار ہو گیا تھا ۔اور جانے اس کے بعد کتنی نازنینوں کی تصاویر کے بل پر اسے لوٹا جاتا ۔اب اکیلے میں اس ضخیم البم کو یاد کر کے اسے ہنسی آنے لگی ۔
”ایک سے بڑھ کر ایک دوشیزہ اور رشتوں کے انتظارمیں سوکھ رہی ہے ۔“اس کے جی میں آیا قہقہہ لگا کر خود پر ہنسے ۔آخر بے وقوفی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔شاید وہ شادی کی تمنااور خوب صورت لڑکی کو دلہن کے روپ میں دیکھنے کا خواب پورا ہونے کی حرص میں ہر حد عبور کر گیا تھا ۔
چچا خیر دین کی ہر تجویز نے نہ صرف اس کا مالی نقصان کیا تھا ،بلکہ اس کا ذہنی سکون بھی برباد کیا تھا۔ پہلے اس نے تہیہ کیا تھا، کہ چچا خیر دین کا کوئی الٹا سیدھا مشورہ نہیں مانے گا ۔مگر اب پختہ عزم کر لیا کہ اس کی کسی تجویز پر عمل پیرا نہیں ہو گا ۔ بلکہ اس کے پاس ہی نہیں جائے گا ۔
٭……..٭
حماد نے بہت بڑا رسک لے کرفریحہ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر لیا ۔اسے ایک مخلص ساتھی کی ضرورت تھی جو اسے بہتر مشورہ دے سکتا ۔ اور ایسا ساتھی فریحہ کے علاوہ کون ہو سکتا تھا ۔ اگر ابھی نہیں تو شادی کے بعد اسے پتا چل ہی جانا تھا کہ حماد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔پھر اس بات کو چھپانے کے لےے اتنی تگّ و دوّ کی کیا ضرورت تھی ۔
فریحہ شکوہ کناں ہوئی ۔”تم نے اتنے دن تک یہ بات مجھ سے چھپائے رکھی ؟“
”میں ڈرتا تھا جان، کہیں تم مجھ سے متنفر نہ ہو جاو¿۔“
فریحہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی ۔”پاگل !….ایسا ہو سکتا ہے بھلا۔میں مسکان نہیں ہوں، جو تمھارے لےے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے عمل سے نہ گزر سکوں ؟“
”ہاں فری !….بہت زیادہ سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری زندگی کا کوئی گوشہ میری جانِ حیات کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونا چاہےے۔“
”اچھا یہ بتاو¿ ،اب کیا سوچا ہے تم نے ؟“
”اب میں کوئی ایسا آدمی ڈھونڈوں گا جس سے مسکان کی خفیہ شادی کرا سکوں ۔اور پھر جیسے ہی اسے حمل ٹھہرا ، وہ طلاق لے کر واپس آ جائے گی ۔“
”اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہوا پھر ؟“
”غریب آدمی کے لےے چند ٹکوں کا لالچ ہی بہت ہوتا ہے ۔“
”محبت بہت عجیب جذبہ ہے حماد !….ہو سکتا ہے وہ کسی صورت طلاق نہ دے ۔اور خلع کے لےے تو مسکان عدالت کا دروازہ بھی نہیں کھٹکھٹا سکے گی، کیونکہ اس طرح ساری بات اس کے بھائیوں کو پتا چل جائے گی ۔ جس میں اس سے زیادہ تمھارا نقصان ہے ۔“
حماد بے رحمی سے مسکرایا۔”پھر کیا ….؟وہ بیوہ بھی تو ہو سکتی ہے ۔“
”میری جان!…. یہ نہ ہو تمھیں کوئی نقصان پہنچ جائے ؟“فریحہ کے لہجے میں ہزاروں اندیشے کروٹیں لے رہے تھے ۔
وہ بے پرواہی سے بولا”فری !….میں کون سا کلاشن کوف ہاتھوں میں تھامے اسے ٹھکانے لگانے جاو¿ں گا ۔بھاڑے کے ٹٹو بہت مل جاتے ہیں ۔اور پہلے میں کوشش کروں گا کہ دھمکی یا ہلکی پھلکی پھینٹی ہی سے کام نکل جائے ۔اگر وہ کسی صورت نہ ماناپھر یہ آخری قدم اٹھاو¿ں گا؟“
”ویسے وہ کمینی حیران تو بہت ہو ئی ہو گی ،جب تم نے اسے کسی اور سے شادی کرنے کا کہا ہو گا؟“
”ایسی ویسی ….وہ غریب حیران ہے کہ ایک محبت کرنے والا کیسے اپنی بیوی کو غیر مرد کے پاس بھیج سکتا ہے ؟ بے وقوف جانتی نہیں ناں ، میرا محبوب کون ہے ؟اوراس کی حیثیت میرے لےے دودھ دینے والی گائے سے زیادہ نہیں ہے۔“
اور حماد کی بات پر فریحہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
”تو اب وہ راضی ہے ؟“
”ہاں !….ملانی صاحبہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی پر تیار نہیں اور دوسرے مرد کی آغوش میں جانے کے لےے تیار ہو گئی ہے ۔“
”ویسے سمجھ میں نہیں آتا اس کی عقل کا ۔آخر ٹیسٹ ٹیوب بے بی میں کیا قباحت ہے ؟“
”کسی ملّا نے منع کیا ہے محترما کو ۔“حماد حقارت بھرے لہجے میں بولا۔”یہ مولوی بھی عجیب ہیں۔ ایسے مرد کا نطفہ جو عورت کا شوہر نہ ہو، اس عورت کے رحم میں پرورش نہیں پا سکتا ، اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا ، اس سے نسب ثابت نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ ہونہہ!….بڑے آئے اسلام کے ٹھیکے دار ۔ اتنا نہیں سوچتے کہ مجبور آدمی کیا کرے ؟جس کی اولاد نہ ہو وہ کہاں جائے۔“
فریحہ نے حیرانی سے پوچھا۔”اور اس طرح بھی تو ایک غیر مرد سے ہی بچہ حاصل ہو گا نا۔“
”ہاں ….مگر نکاح کے بعد وہ غیر تھوڑی رہے گا ۔“
فریحہ نے قہقہ لگایا۔”ویسے ترکیب تم نے بہت اچھی ڈھونڈی ہے۔“
”وہ کمینی بھی تو کسی طرح سے راضی نہیں ہورہی تھی ۔پتا ہے ….اس دن تو نے شازیہ کی کہانی سنائی تھی نا ، بس وہی سن کر میرے ذہن میں یہ ترکیب آئی تھی ۔“
”اور اسی لےے تم اس دن، میری باتوں پر دھیان دینے کے بجائے یہ منصوبہ بنانے میں مصروف تھے ۔“
”ہاں ،ایسا ہی ہے ؟“وہ صاف گوئی سے بولا۔”میں سچ مچ بہت پریشان تھا ۔“
”ویسے اس کی آدھی دولت بھی تو کافی ہو گی ۔اور پھر یہ بھی تو سوچو کہ اگر بیٹے کے بجائے بیٹی پیدا ہو گئی پھر بھی تو تمھیں پورا ترکہ ملنے سے رہا ۔اس لےے میرا مشورہ مان لو ۔چھوڑو اس بکھیڑے کو اور ”ٹنٹنا مکاو¿“ کمینی کا ۔“
”نہیں فری !….میں باقی کا نصف بھی نہیں چھوڑنا چاہتا ۔اور دیکھو بیٹی ہونے کا امکان ففٹی ففٹی ہے ۔ اول تو ایسا ہو گا نہیں ۔ بالفرض بیٹی ہی ہوئی پھر بھی ترکے میں سے چوتھا حصہ میرا ،نصف بیٹی کا ۔یعنی تین چوتھائی تو میں لے جاو¿ں گا ۔ اور امید یہی ہے کہ مسکان کے بھائی باقی کا ترکہ بھی اپنی بھانجی کو بخش دیں گے ۔اس کے ساتھ یہ بھی سوچو کہ بچہ ،بچی ہونے کی صورت میں ، میں ان سیٹھوں کی ہمدردیاں بھی تو سمیٹوں گا ؟“
”اچھا ٹھیک ہے ۔اب کچھ کھانے کو منگواو¿،پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ۔“فریحہ نے منہ بنا کر گویا اس سے متفق ہونے کا عندیہ دیا ۔
حماد نے پہلے آرڈر لینے والے بیرے کو واپس کر دیا تھا ۔تاکہ آرام سے فریحہ کو اپنی بات سمجھا سکے ۔ اب بات کی تکمیل کے بعد اسے خود بھی سخت قسم کی بھوک محسوس ہو رہی تھی ۔اس نے بیرے کو قریب بلانے کے لےے اشارہ کر دیا ۔
٭……..٭
حماد، فریحہ کو ڈراپ کر کے واپس آ رہا تھا ۔سٹیل مل کے ساتھ سے گزرتے ہوئے اچانک اس کی نظر گیٹ سے نکلتے ہوئے ایک جوان پر پڑی اور اس نے بے ساختہ کار روک دی ۔ وہ ایک صحت مند اور تگڑا جوان تھا مگر اس کی رنگت اتنی کالی تھی جیسے کسی بھی حبشی کی ہو سکتی ہے ۔
”یہ ٹھیک رہے گا ۔“اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا ۔”کم از کم مسکان کے بہکنے کا خطرہ نہیں رہے گا ۔اور پھر صحت مند بھی ہے ؟“
کالے کا رخ بس سٹاپ کی طرف تھا ۔ایک فیصلے پر پہنچتے ہوئے اس نے کار موڑی اور اس کے قریب جا کر روک دی ۔ اور کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے بولا۔
”بیٹھو بھائی صاحب !….میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔“
وہ کار کورکتے دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہو گیا تھاتلخ لہجے میں بولا۔
”میں پیدل ہی بھلا جناب !“
حماد کے لےے اس کی تلخی حیرانی کا باعث تھی ۔”محترم میں آپ کو لفٹ دے رہا ہوں اور آپ تلخ ہو رہے ہیں۔ عجیب بات ہے۔“
”دیکھیں جناب!“وہ کھڑکی پر جھکتا ہوا بولا۔”میں کسی بھی قسم کا غیر قانونی کام نہیں کر سکتا ۔ میں روکھی سو کھی کھا لوں گا، مگر کسی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنوں گا، جس سے اس ملک یا عوام کو کوئی نقصان پہنچے ۔“
”واہ ….کیا جذبات ہیں ۔“حماد خوش دلی سے چہکا ۔”ویسے کیا میں جان سکتا ہوں میں نے ایسی کون سی آفر کی ہے جس سے اس ملک یا عوام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔“
وہ چند لمحے اسے گھورنے کے بعد بولا دو تین ماہ پہلے بھی ایک بندے نے مجھے لفٹ دی تھی ۔ اور پھر یہ آفر کی تھی کہ میں پچاس ہزار لے کر بس میں ایک بیگ رکھوں ۔یقینی بات ہے اس بیگ میں دھماکا خیز مواد ہی ہونا تھا ۔میں نے سوچا شاید آپ بھی ….؟“
”ہا….ہا….ہا“حماد نے زوردار قہقہہ لگایا۔”نہیں جناب ایسی کوئی بات نہیں ،میں آپ کو ایسی کوئی آفر کرنے والانھیں ہوں ۔البتہ آپ کی شرافت اور ایمانداری دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہونے والا ہے ۔“
”کون سا مسئلہ ؟“وہ یک دم چوکنا ہو گیا ۔
”پہلے آپ کار میں بیٹھیں….آرام سے بات کرتے ہیں ۔اور ڈرو مت۔ اگر میں کسی غیر قانونی کام کا کہوں بھی تو ،کرنا نہ کرنا تو آپ کے اپنے بس میں ہے نا ۔“
وہ جھجکتے ہوئے فرنٹ سیٹ کا دوازہ کھول کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
اس نے کار آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔”میرا نام حماد ہے ۔آپ اپنا تعارف کرانا پسند کریں گے ؟“
”میرا نام دانیال ہے ۔“
”تو دانیال صاحب !….شادی شدہ ہو یا کنوارے ؟“اس نے بے خبری میں دانیال کے زخم کریدے۔
”ہم جیسوں کو کون رشتا دیتا ہے ؟“ دانیال کی آواز میں چھپا کرب حماد کی نظروں سے اوجھل نہیں رہا تھا ۔
حماد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”خیر سے ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔اچھا قد کاٹھ ہے ، جوان ہو ، ناک نقشہ متناسب ہے ۔ صرف رنگ کالا ہونا کوئی عیب تو نہیں ہے ؟“
”یہ مجھ سے پوچھو کہ رنگ کالا ہونا کتنا بڑا عیب ہے ۔“دانیال تلخی سے بولا۔”جہاں بھی رشتے کی بات چلی ،لڑکی یا تو بھاگ گئی کسی کے ساتھ، یا کھل کر انکار کر دیا کہ اس سے شادی نہیں کروں گی ۔یا خود کشی کی کوشش کی اور اس کی جان بچانے کے لےے والدین کو رشتا توڑنا پڑا۔“
”والدین حیات ہیں ؟“
”صرف امی جان زندہ ہیں ۔“
حماد نے پوچھا۔”بہن بھائی ؟“
”کوئی نہیں ہے ۔بس میں اور امی جان ۔اس کے علاوہ نہ کوئی رشتا دار ہے اور نہ اپنا۔“
حماد نے کار ایک ہوٹل کی پارکنگ میں روکی، وہ دونوں نیچے اتر گئے ۔بیرے کو چاے کے ساتھ کچھ لانے کا کہہ کر وہ دانیال کی طرف متوجہ ہوا ۔
” دانیال صاحب !….پریشان نہ ہوں اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے ۔“
”صحیح کہا جناب ۔“دانیال نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
”اچھا تعلیم کتنی ہے آپ کی ؟“
”آٹھ جماعت تک پڑھا ہوں جناب۔“
”گزر بسر اچھی ہو رہی ہے ؟“
”ہاں جناب !….اللہ کا شکر ہے ۔اپنا گھر ہے، اور سٹیل مل کی مزدوری میں اچھی خاصی آمدن ہو جاتی ہے ۔“
”گڈ ….“حماد نے اطمینان سے سر ہلایا۔اسی وقت بیرے نے چاے اور کھانے کے لوازمات ان کے سامنے لا کر رکھ دےے۔چاے پی کر حماد بولا۔
”دانیال میاں !….ایسا کرو اپنا موبائل فون نمبر مجھے دے دو ۔ایک رشتا میری نظر میں ہے ۔ لڑکی تعلیم یافتہ ہے ، خوب صورت ہے ،کم عمر ہے ۔لیکن ہے طلاق یافتہ ۔“
”مم ….مجھے قبول ہے ۔“دانیال بے صبری سے بولا ۔لیکن فیس نکاح کے بعد ہی دے سکوں گا؟“
”کیسی فیس ؟“حماد کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”رشتا کرانے کی ۔“دانیال اس کی حیرانی پر ششدر رہ گیا۔
”ہا….ہا….ہا۔“حماد کے منہ سے بلند بانگ قہقہہ برآمد ہوا ۔”اللہ کے بندے !…. میں نے شادی آفس تھوڑی کھول رکھا ہے ۔یہ تو میری ایک عزیزہ کے ساتھ تھوڑی سی ٹریجڈی ہوئی ۔ اور پھر آپ کا مسئلہ بھی اس طرح حل ہوتا نظر آیا تو میں نے آفر کر دی ۔“
”معافی چاہتا ہوں جناب !….“دانیال نادم نظر آنے لگا ۔
”کوئی بات نہیں ۔“کہہ کر حماد نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی ۔”میرا خیال ہے چلنا چاہےے؟“
اور دانیال سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔حماد اسے گھر تک ڈراپ کرنے آیا تھا ۔اپنا موبائل فون نمبر اسے نوٹ کرانا دانیال نہیں بھولا تھا ۔ بلکہ لگے ہاتھوں حماد نے اس کی ایک تصویر بھی اپنے موبائل فون کے کیمرے سے کھینچ لی تھی، تاکہ مسکان کو اس کے ہونے والے شوہر کی شکل دکھا سکے۔
٭……..٭
دانیال کو ڈراپ کر کے حماد گھر کی جانب بڑھ گیا ۔دانیال کی شکل میں اسے اپنے منصوبے کو آخری شکل دینے والا مہرہ مل گیا تھا ۔دانیال کی کالی رنگت ،غربت ،جہالت اورحسب و نسب اس قابل نہیں تھا کہ کوئی عام لڑکی اس سے محبت تو کیا شادی کی روادار ہو ۔کجا مسکان جیسی سیٹھ زادی ۔وہ لازماََ مہینا ڈیڑھ اس کے پاس دل پر جبر کر کے گزارتی ۔اور یہی بات حماد کو مطلوب تھی ۔وہ مسکان کو کسی ہینڈسم اور پر کشش مرد کی زوجیت میں دے کر اپنا راستا کھوٹا نہیں کرناچاہتا تھا ۔
مسکان نے دوسری شادی پر آمادگی تو ظاہر کر دی تھی مگر اب دانیال کی تصویر دیکھ کر وہ کیا رد عمل ظاہر کرتی،اس بات کا اندازہ لگانے سے وہ قاصر تھا ۔
اس کی گاڑی دیکھتے ہی چوکیدار نے گیٹ کھول کر سلام کہا ۔وہ جواب دےے بغیر آگے بڑھتا گیا۔
مسکان اسے خواب گاہ میں مسہری پر لیٹی نظر آئی ۔وہ گہرے خیالوں میں کھوئی ہو ئی تھی ۔
”اسلام علیکم!….بھئی ہماری بیگم کن خیالات میں کھوئی ہے ؟“اس نے مسکان کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے مزاحیہ انداز میں پوچھا ۔
”کوئی خاص نہیں ۔“وہ اسے دیکھ کر اٹھ بیٹھی ۔
وہ اس کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا۔”لیٹی رہو ….لیٹی رہو ۔“
”نہیں ،بس ایسے ہی ٹھیک ہوں ؟“شوہر کے حقوق سے وہ خوب واقف تھی ۔اور حماد کی عزت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی تھی ۔ مگر حماد کی آنکھوں پر لالچ اور فریحہ کے حسن کی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ اسے مسکان کی محبت ،وفاداری اور خدمت کسی قابل نظر نہیں آتی تھی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *