Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18
مسکان کے نازک اور ملائم ہاتھ اسے پھول کی طرح لگتے تھے۔ وہ مذاق مذاق میں اس پر گھونسوں کی بارش کر دیتی اور اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دولھا پر گلاب کی پتیاں برسائی جاتی ہیں۔لیکن آج اس کے ملائم ہاتھ کے تھپڑ نے دانیال کے بدن سے سانس نکال دی تھی ۔اور یہ کمال، تھپڑ کا نہیں اس نفرت کا تھا جو اس تھپڑ کے پس پشت کار فرما تھی۔
جانے کتنی دیر وہ بے حس و حرکت دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا رہا ۔یہ سب اسے ایک بھیانک خواب لگ رہا تھا ۔اس کے اندر اتنی ہمت مفقود تھی کہ وہ اپنے چٹکی ہی کاٹ کے خواب نہ ہونے کا یقین کر سکتا۔
”شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ جلد لوٹ آئے ۔“پاگل دل نے اسے بہلایا۔
”میں نے بھی تو غلطی کی ہے ،اس طرح بد تمیزی سے اس سے باز پرس کرنے لگا ۔ آخر موبائل فون بند کرنا اس کی مجبوری بھی تو ہو سکتی تھی؟“دل نے سارا قصوراپنے سر لے لیا ۔
”اگر وہ بدتمیز یا بد دماغ ہوتی تو پہلے دن سے اس کا رویہ ایسا ہوتا۔وہ تو میری امی کو ماں کہتی ، گھر کے سارے کام اپنے ہاتھوں سے کرتی ،مجھے آرام پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کرتی ۔ضرور بالضرور اسے کوئی مسئلہ ہے ،اور اس وقت وہ ذہنی طور پر حاضر نہیں تھی؟“دل کی طرف داری جاری رہی ۔
پھر اسے یاد آیا کہ گزشتہ کل وہ بہت پریشان تھی اور اس کے کئی بار پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نہیں بتایا تھا ۔ لیکن اس کے ساتھ اس کے ذہن میں گزری رات کی پرچھائیاں لہرائیں،کتنی پرجوش تھی اور کیسے اپنی وفا کا اظہار کرتے ہوئے چاہتیں نچھاور کر رہی تھی ۔
”وہ ضرور لوٹے گی ….“اس کے وجدان نے پکارا ۔مگر اس کے ساتھ ایک بھیانک خیال نے اسے لرزا دیا”کب لوٹے گی ؟….اور کیااس کے لوٹنے تک زندہ رہ پاو¿ںگا ؟“
اپنے بے جان وجود کو گھسیٹتے ہوئے وہ بستر تک لایا۔مقدر ایک بار پھر اس کے ساتھ مذاق کر گیاتھا ۔ بیوی مل کے چھن گئی تھی۔اور یہ فقط بیوی ہی نہیں اس کے سپنوں کی تعبیر تھی۔
وہ خیالوں میں اس سے گلے شکوے کرنے لگا۔
”مِشّی تم ایسی تو نہ تھیں ؟….اپنے شوہر پر ہاتھ اٹھانا تم نے کہاں سے سیکھا۔اورمیں نے کوئی الزام تو نہیں دیا تھا،پریشان ہو گیا تھا کہ تمھیں کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو؟ اور ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا ،اس سے پہلے بھی میں تمھارے لےے پریشان ہوتا رہا ہوں ۔ اور اگر پوچھ ہی لیا تھا تو یہ اتنا بڑا قصور تو نہیں تھا۔برا لگا تھا، تو کہہ دیتیں ۔میں کبھی نہ پوچھتا ۔اس سے پہلے کب تمھاری مرضی کے خلاف کیا ہے ؟ مشی خدارا لوٹ آو¿….میں تمھارے بغیر ادھورا ہوں ،نامکمل ہوں۔مشی آجاو¿ اپنی ہر بات منوا لو ۔ میرا کوئی قصور تو بتلاو¿۔اگر فقط پوچھنا ہی میرا قصور ہے تو،یہ اتنا بڑا قصور تو نہیں ہے کہ معاف نہ کیا جا سکے ۔ “اور پھر وہ آنسو روکنے کی ہمت کھو بیٹھا۔نمکین پانی ایک تسلسل سے تکیے میں جذب ہونے لگا۔
یونھی لیٹے آنسو بہاتے جانے کتنا وقت بیت گیا ۔سیکنڈ سال اور گھنٹے صدیاں بن گئے تھے۔ اچانک اس کے کانوں میں اذان کی مقدس آواز آئی ۔
”مِشّی کیا نماز کے لےے جگانے بھی نہیں آو¿ گی ۔دیکھو تم نہ آئیں تو میں نہیں جاو¿ں گا مسجد ۔خفا ہوتی ہو تو ہوتی رہو ۔خود ہی عہد توڑا ہے تم نے ؟….یاد ہے کہا تھا ؟کہ میں اگر نماز پابندی سے پڑھتا رہا تو تم خفا نہیں ہو گی ….بتاو¿ کب چھوڑی ہے نماز ….نہیں نا چھوڑی ؟تو پھر تم نے کیوں مجھے چھوڑ دیا ؟“
”دانی صاحب !….اٹھ جائیں اذان ہو گئی ہے ۔“اس کے دماغ میں اپنی مشی کی آواز گونجی۔ اس نے جھٹ آنکھیں کھول کر دیکھا ۔
”مشی !….سامنے آو¿ نا ؟کہاں چھپ گئیں ۔مِشی ….مشی ؟“وہ باآواز بلند اسے پکارنے لگا۔ اسی وقت عائشہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔اس کی سرخ ہوتی آنکھیں اس کے رونے کی گواہی دے رہی تھیں ۔
”بیٹا!….وہ چلی گئی ہے ۔کسے آوازیں دے رہو ہو ؟“
”نہیں ماں ….ابھی اس نے مجھے آواز دی ہے ۔قسم سے امی ! میں سچ کہہ رہاہوں ؟ …. وہ یہیں کہیں چھپی ہے ؟“
”وہ ہمارے دلوں میں چھپی ہے میرے لال!“عائشہ ،بیٹے کا سر سینے سے لگا کر بے آواز رونے لگی ۔
”امی !….آپ کو یقین کیوں نہیں آتا ؟“
”پگلے !….وہ یہاں رہنے کے لےے تھوڑی آئی تھی ؟وہ تو بس اللہ پاک نے ہماری حالت سدھارنے کے لےے بھیجی تھی ۔تمھیں مزدور سے تاجر بنانے کے لےے بھیجی تھی ۔جیسے ہی اس کا کام ختم ہوا ،وہ چلی گئی ۔اب اسے بھول جاو¿ بیٹا!….جانے والے اس طرح نہیں لوٹا کرتے ؟“
”ماں جی !….وہ آپ سے بھی تو بد تمیزی سے پیش آئی ہے ۔وہ ضرور معافی مانگنے آئی ہو گی ۔ آپ ایک دفعہ گھر میں دیکھ تو لیں ،تنگ کر رہی ہمیں ۔پتا ہے نا ؟کتنی شرارتیں کرتی ہے ؟ چھوٹی بچی بن جاتی ہے۔“
عائشہ سسکی ۔”بیٹا !….وہ ایسی نہیں تھی کہ کسی بڑے سے بد تمیزی سے پیش آتی یا شوہر سے زبان درازی کرتی ۔ پگلے!…. وہ ہمیں چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔اور اسی وجہ سے اس نے ایسا رویہ اپنایا تاکہ ہم اس سے نفرت کر سکیں ۔“
”پر وہ ہمیں چھوڑنا کیوں چاہتی تھی ؟“
”پتا نہیں میرے لال !….یہ تو میرے رب کو یا پھر خود اسے معلوم ہو گا ؟“
”اگر چھوڑنا ہی تھا تو آئی کیوں تھی ؟“
”بتایا تو ہے ؟ ہمیں غربت کی بھٹی سے نکالنے کے لےے۔“
”غربت کی بھٹی سے نکالنے ،کہ،یادوں کے آلاو¿ میں ڈالنے؟“
”کسی کی نیکی کا یوں مذاق نہیں اڑاتے بیٹا ؟“
”یہ کیسی نیکی ہے ا ماں!….چند ٹکے دے کر ہمیشہ کا روگ مقدر میں لکھ گئی ۔“
”کیسا روگ پتر!…. ایسا نہیں کہتے ؟ اب تمھارے پاس دولت ہے کار ہے ، خوب صورت گھر ہے، اب تو رشتوں کی لائن لگ جائے گی۔ایک چھوڑ ،دو شادیوں کر لینا ؟“
”ماںجی !….مجھے اپنی مشی چاہےے ۔اگر اس کے بدلے سو لڑکیاں بھی ملتی ہیں تو مجھے قبول نہیں۔“
”اچھا اٹھو نماز پڑھو….اپنے اللہ سے مانگو ،اس ذات سے جس کے لےے کوئی بات ناممکن نہیں؟“
اور دانیال سر ہلاتے ہوئے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
٭……..٭
گھر سے نکلتے ہی اسے ٹیکسی مل گئی ۔ایک دفعہ مڑ کر اس نے غم زدہ نظروں سے اس گھر کو دیکھا جہاں اس نے زندگی کے بہترین پل بِتائے تھے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی ۔ جہاں اس کا محبوب اس کا منتظر تھا ۔کسی کی ہمدردی میں وہ اپنی خوشیاں داو¿ پر نہیں لگا سکتی تھی ۔یوں بھی اسے یقین تھا کہ دانیال کو اب رشتوں کی کمی نہیں ہوگی ۔مسکان کی مہربانیوں سے وہ متوسط طبقے میں شامل ہو گیا تھا ۔
اسے اگر غم تھا تو اپنے بد تمیزانہ روےے کا تھا جو وہاں سے نکلتے ہوئے اسے اپنانا پڑا تھا ۔ عائشہ جیسی شفیق ، مخلص اور پیار کرنے والی خاتون سے اس طرح کا رویہ اسے کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا تھا اور پھر دانیال کے ساتھ تو اس نے زیادتی کی حد کر دی تھی۔ مگر یہ سب اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا تھا۔ اگر وہ یہ انداز نہ اپناتی تو ماں بیٹا کبھی اس کی جدائی برداشت نہ کر پاتے ۔ اب زیادہ سے زیادہ انھیں وقتی طور پر دکھ محسوس ہوتااور بعد میں وہ سنبھل جاتے ۔پھر یہ بھی انسان کی سرشت میں ہے کہ وہ ہزاروں نیکیوں اور احسانا ت کو یاد نہیں رکھتا اور ایک چھوٹی سی خطا کو بنیاد بنا کر کسی سے بھی ساری زندگی نفرت کر سکتا ہے۔اسے یقین تھا کہ دانیال کی محبت کونفرت میں ڈھلتے دیر نہیں لگی ہو گی ؟ کون غیرت مند مرد بیوی کا تھپڑ برداشت کر سکتا ہے ۔اور دانیال کی غیرت مندی میں اسے مطلق شبہ نہیں تھا ۔
موبائل فون نکال کر وہ حماد کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔
”جی محترما ؟….“اسے حماد کی چہکتی آواز سنائی دی ۔
اس نے کہا۔”میں گھر واپس آرہی ہوں ؟“
”پر کیوں ؟“وہ حیران رہ گیا ۔
”کیا نہیں آنا چاہےے ؟“
”ہزار دفعہ آو¿۔“حماد جلدی سے بولا۔”لیکن جس مقصد کے لےے اتنے پاپڑ بیلے ہیں وہ تو پورا ہو جائے ؟“
”ڈاکٹر نزہت رفیق کہہ رہی تھیں میں ماں بننے والی ہوں ۔“مسکان نے شرماتے ہوئے اسے خوش خبری سنائی۔
”کیا ؟….ایک دم ….یعنی تم نے مجھ سے چھپائے رکھی یہ بات؟“
وہ خفگی سے بولی ۔”چھپانے کے بچے !….آج دس بجے خود مجھے معلوم ہوا، اوراب بارہ بجے میں گھر کی طرف روانہ ہوں ۔“
”اوہ سویٹ ہارٹ ….آئی لو یو ۔“حماد خوشی سے بھرپور لہجے میں کہا ۔
مسکان کی ذہنی رو دانیال کی طرف بہک گئی اس نے کبھی بھی اسے ….”آئی لو یو ۔“ نہیں کہا تھا۔ زبانی اظہار کے بجائے وہ ہمیشہ اپنے احساسات سے اسے یقین دلاتا ،کہ مسکان اس کے لےے کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔
”شاید اب اس کے دل میں میری نفرت بھر چکی ہو ؟“مسکان دکھی ہو گئی ۔
اسے خاموش پا کر حماد دوبارہ بولا۔”اچھا میںاس وقت تھوڑا مصروف ہوں ۔اور یہ مصروفیت چند گھنٹوں تک ختم ہوتی نظر نہیں آتی ۔باقی باتیں مل بیٹھ کے ہوں گی ؟فی الحال میں چوکیدار کو فون کر بتا دیتا ہوں تاکہ وہ آپ کو گھر میں گھسنے دے۔“
”کیوں ؟….اب تک مسکین چچا نہیں لوٹا ؟“ مسکین ان کے پرانے چوکیدار کا نام تھا ۔
”چھٹی ختم ہونے پرآیا تھا ،میں نے ایک ماہ کی مزید چھٹی اور تنخواہ پکڑا دی ۔ایک دفعہ تو پریشان ہو گیا کہ شاید ہم اسے فارغ کرنا چاہتے ہیں ،مگر میری یقین دہانی پر خوش ہو کر دعائیں دیتا رخصت ہو گیا۔یہی سلوک میں نے نصرت اور شہناز سے کے ساتھ بھی کیا ۔“(نصرت اور شہناز ان کی گھریلو خادمائیں تھیں)
”اچھا ٹھیک ہے میں آج ہی انھیں واپس بلا لیتی ہوں ؟“
”آپ کی مرضی میڈم صاحبہ !“کہہ کر حماد نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”مجھ سے بھی زیادہ اہمیت ہے کام کی ؟“ اس نے خود کلامی کرتے ہوئے موبائل فون پرس میں رکھ لیا۔
اپنی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی رکوا کر وہ اتر گئی ۔حماد اس کے بارے چوکیدار کو بتا چکا تھا اس نے مودّبانہ انداز میں سلام کہا۔
سر کے اشارے سے وہ اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اندرونی عمارت کی جانب بڑھ گئی۔ اپنی کوٹھی اسے اجنبی اجنبی لگ رہی تھی ۔ایک ادھیڑ عمر کی عورت اسے گھر کی صفائی کرتی نظر آئی ،وہ یقینا حماد نے گھریلو کام کے لےے رکھی ہوئی تھی ۔
”جی بی بی!“مسکان کو کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ مستفسر ہوئی ۔
مسکان نے جواب دینے کے بجائے پوچھا۔”کیا نام ہے تمھارا؟“
”رضیہ۔“کہہ کر وہ سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگی ۔
”تو رضیہ بی بی ….میں اس گھر کی مالکن ہوں ۔“
”آپ بیگم صاحبہ !….مگر ….؟“اسے خاصی حیرانی ہوئی تھی ۔شاید وہ حماد کو غیر شادی شدہ ہی سمجھتی رہی تھی ۔
”اچھا فی الحال اگر مگر چھوڑو اور مجھے ایک کپ چاے پلا دو ۔“وہ اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔ جب تک عدت نہ گزر جاتی اس نے حماد کو قریب نہیں آنے دینا تھا ۔عدت کی سوچ پر اس کے دماغ میں دانیال کی افسردہ شکل لہرانے لگی۔
”یقینا مجھے کوس رہا ہو گا ،دھوکے باز ،فریبی ،گھٹیا عورت،اب اس نے انھی خطابات سے مجھے یاد رکھنا ہوگا ۔“اس کے دل کو کچھ ہونے لگا ۔
”کتنا چاہتا تھا ،دیوانہ تھا اپنی مشی کا ۔اور کیسے چاہت سے پکارتاتھا مِشّی ….مشی ….مشی ۔“ اس کے دماغ میں دانیال کی آواز گونجنے لگی ۔
”شاید اداس ہو ؟“اس کی سوچیں دانیال کی ذات پر مرتکز تھیں۔”ہاں اداس تو ہوگا،یہ ممکن ہی نہیں کہ اسے اپنی مشی کی جدائی کا غم نہ ہو ؟….لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اب وہ اس کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا ۔“
ملازما چاے بنا کر لے آئی ۔چاے پیتے ہوئے اچانک اس کے دماغ میں دانیال کی آواز گونجی….
”مشی !….ساری چاے پی جاتی ہو،آدھا کپ تو بخش دیا کرو نا ؟“
وہ کہتی ۔”تھرماس بھرا ہوا ہے محترم ۔“
جواب ملتا۔”میں تمھارے جھوٹے کی بات کر رہا ہوں ؟“
مسکان کے لبوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی اور وہ زیر لب بڑبڑائی ۔”پاگل نہ ہو تو ۔“ چاے کا ادھ بھرا کپ تپائی پر رکھ کر وہ لیٹ گئی ۔اور اپنی سوچوں کو حماد کی طرف موڑنے لگی ۔اس کا محبوب قریباََ پانچ مہینے سے اس سے جسمانی طور پر دور تھا ۔ اور اب مزید آٹھ نو مہینے کی دوری اسے سہنا تھی ۔کیونکہ یہ بات تو وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش)ہوتی ہے ۔
”پتا نہیں دانیال طلاق دینے میں لیت و لعل کرتا ہے یا آسانی سے مجھے آزاد کر دے گا ؟“ اس کی ذہنی رو ایک بار پھر دانیال کی طرف مڑ گئی ۔”اگر اس طلاق دینے سے انکار کر دیا تو لازماََ ہمارے لےے مسئلہ بنے گا ۔ کیونکہ خلع کے لےے میں عدالت کا دروازہ بھی نہیں کھٹکھٹا سکوں گی ۔“ اچانک اسے احساس ہوا کہ دانیال کے طلاق نہ دینے کی صورت میں مسئلہ کافی گھمبیر ہو جانا تھا۔
انھی خیالوں میں کھوئے اسے اونگھ آگئی ۔
وہ ایک خوب صورت پہاڑی تھی ،چاروں طرف اونچے نیچے سرسبز درخت پھیلے تھے ۔ ہلکی ہلکی چلنے والی ہوا اور آسمان پر چھائے بادلوں نے ماحول کو انتہائی حد تک دل فریب بنا دیا تھا ۔ ایک چشمے کے قریب رک کر اس نے اپنے ساتھی سے کہا۔
”دانی!….“ یہیں بیٹھتے ہیں….دیکھو نا؟ کتنے خوب صورت پھول کھلے ہیں؟“
وہ اسے چاہت سے دیکھتے ہوئے بولا۔”ان میں سے ایک بھی میری مشی جیسا نہیں ہے۔ دیکھو تمھیں دیکھ کرکتنے شرمندہ شرمندہ سے لگ رہے ہیں۔“
وہ خواب ناک لہجے میں بولی ۔”جھوٹا ۔“
وہ رونی صورت بنا کر بولا ۔”تمھیں تو میری ہر بات جھوٹ لگتی ہے ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”جھوٹ، ہمیشہ جھوٹ ہی لگتا ہے ۔“
اچانک دانیال کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمودار ہوئے اور وہ خوف زدہ لہجے میں بولا۔
”چلو مشی یہاں سے جانا پڑے گا ۔وہ یہاں بھی پہنچ گیا ۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”کون پہنچ گیا ؟“
مگر دانیال اس کی بات کا جواب دےے بغیر اسے ہاتھ سے پکڑ کر ایک طرف کھینچنے لگا ۔ انھوں نے دو تین قدم ہی اٹھائے تھے کہ اچانک انھیں قہقہے کی بازگشت سنائی دی ۔
”ہا….ہا….ہا….مجھ سے بچ کر کہاں جاو¿ گے کالے ؟“
اس نے مڑ کر دیکھا وہ حماد تھا ۔ایک دیو قامت شخص کے روپ میں ۔وہ دونوں اس کے سامنے بچے دکھائی دے رہے تھے ۔
”مشی!…. جلدی بھاگو وہ پہنچ گیا ۔“دانیال نے اسے زور سے کھینچا ۔مگر حماد ایک جست میں ان کے سر پر پہنچ گیا تھا۔اس نے دانیال کو گریبان سے پکڑ کر دھکا دیا اور وہ لڑھکیاں کھاتا دور جا گرا ۔ اس کے ساتھ اس نے مسکان کا بازو تھاما اور بولا ۔”چلو میرے ساتھ ؟“
دانیال اٹھ کر چلایا ۔”خبیث !….چھوڑو میری مشی کو ؟“
حماد استہزائی لہجے میں بولا۔”یہ میری ہے مسٹر حبشی!“
”نہیں ….نہیں ….یہ میری ہے ۔یہ میں کسی کو نہیں دوں گا ۔اگر تم نے اسے نہ چھوڑا تو میں تمھیں قتل کر دوں گا۔“ دانیال غصے سے حماد کی طرف بڑھا ۔مگر حماد کا تھپڑ کھا کر ایک مرتبہ پھر دور جا گرا ۔حماد مسکان کا بازو تھامے پہاڑی کے اوپر چڑھنے لگا ۔اس کی رفتار کافی تیز تھی ۔دانیال نیچے گر کر اٹھا اور ان کے تعاقب میں دوڑ پڑا ، اس کے ساتھ اس کی زور زور سے پکارنے کی آوازیں آرہی تھی ۔کبھی وہ حماد کو دھمکانے لگتا اور کبھی ”مشی ….مشی ۔“ پکارنے لگتا۔اس کی دردناک آوازیں زیادہ دیر مسکان سے برداشت نہ ہوئیں اور اس نے منمناتے ہوئے حماد سے کہا ۔
” مجھے اس کے پاس جاناہے ؟“
”ہا….ہا….ہا۔“حماد کا قہقہہ کافی بھیانک تھا ۔”اچھا ، یہ بات ہے ؟….یہ لو پھر جاو¿ اس کے پاس ۔“ اس نے مسکان کو بلندی سے نیچے کی طرف دھکا دیا ۔ اس کے منہ سے کافی بلندبانگ چیخ خارج ہوئی اور ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی ۔
جاری ہے
