Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08

مگر حماد کی آنکھوں پر لالچ اور فریحہ کے حسن کی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ اسے مسکان کی محبت ،وفاداری اور خدمت کسی قابل نظر نہیں آتی تھی ۔
”اچھا جان !….پتا ہے ،میں نے ایسا لڑکا ڈھونڈلیا ہے جو ہمارے معیارپر پورا اترتا ہو ۔ شریف ہے ، غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اورایک والدہ کے علاوہ کوئی رشتا دار موجود نہیں ہے ۔“
”جب ایک دفعہ کہہ دیا، کہ مجھے ان مشوروں سے دور رکھو۔ تو پھر بار باریاد دہانی کا مطلب؟“ مسکان تلخ ہونے لگی ۔ ” وہ امیر ہے یا غریب ، گورا ہے یاکالا،خوب صورت ہے یا بدصورت ….مجھے اس سے کچھ نہیں لینا ۔میرا مطمح نظر آپ کی خوشی اور خواہش کی تکمیل ہے ۔“
”آئی لو یو جان ۔“حماد نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔مگر اس وارفتگی میں مسکان کو خلوص کی سخت کمی محسوس ہوئی ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ،کوئی اداکاررٹے رٹاے کلمات ادا کر رہا ہو ۔
”اٹس اوکے ۔“وہ سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اس سے علاحدہ ہو گئی ۔
حماد کو اس کی بیزاری بہت کھلی مگر وہ کوئی تلخ بات کہہ کر اسے برگشتہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
”اچھا اس کی تصویر تو دیکھو نا؟“حماد نے موبائل فون نکال کر دانیال کی تصویر سکرین پر لائی ۔ اور سکرین اس کی جانب گھمائی ۔
ایک اچٹتی ہوئی نگاہ سکرین پر ڈال کر وہ نارمل لہجے میں بولی ۔
”حماد !….جب کہہ دیا کہ اس سارے ڈرامے کے ذمہ دار آپ خود ہیں ۔جو چاہو سو کرو ۔“
اس نے اطمینان بھراسانس لیتے ہوئے پوچھا۔”اچھا تو پھر کب نکاح کی رسم ادا کی جائے ؟“
”پہلے تم طلاق دو گے ؟….پھر عدت گزاروں گی۔ اس کے بعد ہی شادی ہو سکے گی ۔“
”اوہ !….اس کا مطلب ابھی مزید انتظار کرنا پڑے گا ؟“اس کے لہجے سے پریشانی جھلکی ۔ ایک لمحہ سوچنے کے بعد وہ بولا۔”ٹھیک ہے پھر میں تمھیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں۔“
مسکان کے چہرے پر کرب بھرے جذبات نمودار ہوئے اور وہ بیڈ سے اٹھ کر باہر جانے لگی ۔
”کہاں چل دیں ؟“حماد نے پریشانی سے پوچھا ۔
”میں اب آپ کی بیوی نہیں رہی محترم ۔ایک خواب گاہ میں ہم کس حیثیت سے رہیں گے ؟“
”کم آن یار ۔“وہ اسے روکنے کے لےے اس کی طرف بڑھا ۔
”خبردار اگر میرے قریب آئے ۔“وہ غصے سے پھٹ پڑی ۔”حماد !….تمھاری محبت نے میری آنکھوں پر پٹی ضرور باندھی ہے ،مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ محبت کے لےے میں اپنی شرم و حیا بھی قربان کر دوں گی ۔اب تم اس وقت تک میرے لےے غیر ہو جب تک ہمارا نکاح دوبارہ نہیں ہو جاتا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ،میں تمھیں ہاتھ نہیں لگاو¿ں گا ۔لیکن خواب گاہ چھوڑ کر تو نہ جاو¿ نا ؟اتنی بڑی مسہری پر ہم دونوں آسانی سے دور دور ہو کر لیٹ سکتے ہیں ؟“
”مشورے کا شکریہ ۔“کہہ کر وہ خواب گاہ سے باہر نکل گئی ۔حماد نے اس کے پیچھے جانے کی کوشش نہیں کی تھی ،کیونکہ وہ اس کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھا ۔یوں بھی اسے مسکان کی قربت سے زیادہ اس کی دولت عزیز تھی ۔وہ موبائل فون نکال کر ایک جاننے والے مولانا سے عدت کی مدت کے بارے دریافت کرنے لگا۔
٭……..٭
دانیال کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس طرح بیٹھے بٹھائے اسے رشتے کی پیش کش ہو جائے گی ۔ چاہے وہ طلاق یافتہ ہی کیوں نہ ہو تی اسے قبول تھی ، سب سے بڑھ کر تعلیم یافتہ اور خوب صورت کے الفاظ اس کے لےے پر کشش تھے۔
اس ضمن میں اسے اگلے دن حماد کی کال بھی رسیو ہوئی ۔
”دانیال میاں !….تمھیں اڑھائی تین مہینے انتظار کرنا پڑے گا ۔لڑکی کو نئی نئی طلاق ہوئی ہے اور عدت گزارنا لازمی ہے ۔“
”جی ….جی ٹھیک ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”اچھا اتوار کے دن تو چھٹی کرتے ہو نا ؟“
”کبھی کبھی کر لیتا ہوں جناب ۔یوںبھی ،جتنی مزدوری کرو اتنی آمدن ہوتی ہے ،اس لےے زیادہ تر چھٹی سے گریز ہی کرتا ہوں ؟….بہ ہر حال آپ حکم کریں ۔ کوئی کام ہے، تو میں چھٹی کر لوں گا ؟“
”کام تو کوئی نہیں ،مگر تم چھٹی کر لینا ۔اور ساحل سمند رپر موجودمون لائیٹ ریسٹورینٹ میں ایک بجے پہنچ جانا۔“
دانیال نے کہا۔”ٹھیک ہے جناب ۔“
اور حماد نے ”خدا حافظ ۔“کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
جانے کیوں دانیال کا دل چاہ رہا تھا کہ حماد پر اعتماد کرے ۔اتنے دھوکے کھانے کے باوجود وہ شادی کی خواہش ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکا تھا ۔ عورت کے بغیر مرد کی زندگی کتنی پھیکی اور بے مزہ ہوتی ہے، اس بابت جتنا تجربہ اسے تھا ،اتنا شاید ہی کسی کو ہوتا ۔علامہ اقبال نے فرمایا ۔
ع وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اور اس مصرع کی حقیقت دانیال پر آشکاراہو چکی تھی۔اس کی راتیں اس صنف کی یاد میں کروٹیں بدلتے کٹتیں ،تو دن کی گہما گہمی اس صنف کے حصول کی تجویزیں سوچتے ۔اب حماد کی صورت اسے امید کی کرن نظر آئی تھی تو وہ اسے گوانا نہیں چاہتا تھا۔اسے شک تھا کہ وہ مطلقہ عیب زدہ ہونی ہے ۔ مگر اس کے لےے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔وہ بیوی تمنا کر کر کے ترس گیا تھا ۔ اب یہ چانس گنوانا کسی طور مناسب نہیں تھا۔اتوار کے دن وہ ٹھیک پونے ایک بجے مطلوبہ ریسوراں میں پہنچ گیا تھا ۔
٭……..٭
کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں چاے پی رہے تھے جب دانیال اسے داخلی دروازے سے اندر آتا دکھائی دیا ۔
”لو جی !….مسکان کا شوہر نامدار تو وقت کا پابند نکلا۔ایک بجے کا کہا تھا پونے ایک بجے پہنچ گیا۔“
حماد کی بات پر فریحہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
”ہائے اللہ جی !….یہ تو واقعی حبشی دکھائی دے رہا ہے ۔ ایک سیٹھ زادی کے ساتھ اتنا بڑاظلم؟“
”تو کیا ….حماد کے ساتھ بھی تو اس نے موجیں اڑائی ہیں۔“حماد کے لہجے میں اپنی خوب صورتی کا غرور کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔
”ویسے ڈیل ڈول تو اچھا ہے ۔“
”ہونہہ!…. ڈیل ڈول۔“حماد نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”ڈیل ڈول کومحترما چاٹے گی۔“
فریحہ اس کی بات پر تبصرہ کےے بغیر دلچسپ نظروں سے حماد کو گھورتی رہی جو پورے ہال میں طائرانہ نگاہیں دوڑا رہا تھا ۔وہ یقینا حماد کو ڈھونڈ رہا تھا ۔اس کی مشکل حماد کے لہرائے ہوئے ہاتھ نے آسان کر دی ۔
”اسلام علیکم !“ اس نے قریب پہنچ کر سلام کہا ۔
”وعلیکم اسلام ۔“کہہ کر حماد نے اس سے مصافحہ کیا ۔اسی وقت دانیال کی نظر فریحہ کے ملیح چہرے پر پڑی ۔اور اس کا چہرہ گلاب کی مانند کھل گیا ۔مگر جب اس نے زبان کھولی تو الفاظ نے اس کا ساتھ نہ دیا ۔
”ص….صص….صاب یہ تو بہت خوب صورت ہے ؟….یہ مجھے قبول کر لے گی ؟“
اس کی بات پر حمادقہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔فریحہ کے چہرے پر بھی خفیف سی ہنسی نمودار ہوئی ۔ دانیال کے لہجے میں چھپی معصومیت اسے بہت عجیب لگی تھی ۔
”بے وقوف !….یہ میری منگیتر ہے۔“حماد سرزنش کے انداز میں بولا۔
دانیال گڑ بڑاتے ہوئے بولا۔”سس….سوری سر !….سوری میڈم !….میں کچھ اور سمجھا تھا۔“
فریحہ نے شوخ انداز میں پوچھا ۔”تم کیا سمجھے تھے جناب ۔“
”وہ میں ….میرا مطلب ہے ،میں نے سمجھا شاید حماد صاحب نے مجھے لڑکی دکھانے کے لےے بلایا ہے ۔اور ….اور وہ لڑکی آپ ……..مم میں معافی چاہتا ہوں میڈم ۔“
”اچھا کوئی بات نہیں ۔“فریحہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”ویسے تمھاری دلہن مسکان بھی مجھ سے کم خوب صورت نہیں ہے ۔“
اس مرتبہ جواب دینے کے بجائے دانیال نے شرما کر سر جھکا دیا تھا ۔اس کے انداز پر وہ دونوں مسکرا پڑے ۔
” میں اس کی تصویر ساتھ لایا ہوں ۔“حماد نے اپنا قیمتی موبائل فون نکال کر مسکان کی تصویر کھولی اور موبائل فون دانیال کی طرف بڑھایا۔
دانیال نے جھجکتے ہوئے موبائل لے کر تصویر دیکھی ۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بے ربط ہونے لگیں ، مسکان اسے فریحہ سے بہت پیاری اور پر کشش لگی تھی ۔
فریحہ نے جوبڑے غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، دلچسپی سے پوچھا ۔
”کیسی ہے ؟“
وہ خواب ناک لہجے میں بولا۔”بب….بہت اچھی ….بہت پیاری ….میں نے اس سے پہلے اتنی معصوم ،خوب صورت اور موہنی صورت نہیں دیکھی ۔“
”مجھ سے بھی خوب صورت ہے ؟“فریحہ کا انداز مزاح کا رنگ لےے ہوئے تھا مگر اس کے پیچھے عورت کی وہی ازلی حماقت چھپی تھی کہ مجھ سے خوب صورت اس دنیا میں کوئی نہیں ۔
”ہاں میڈم ۔“دانیال کا جواب غیر متوقع تھا ۔
فریحہ کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پھیل گئے تھے ۔
حماد نے اس سے موبائل واپس لیتے ہوئے کہا۔
”بے وقوف !….کسی لڑکی کے منہ پر دوسری لڑکی کو اس سے خوب صورت نہیں بتلاتے ۔
”مم….مگر میں نے تو حقیقت بتائی ہے جناب ۔“دانیال نے ایک اور پھل جڑی چھوڑی ۔
حماد کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی، مگر فریحہ مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔اسے زندگی میں پہلی بار اس قسم کی صورت حال سے واسطہ پڑا تھا ۔اپنی نظر میں وہ دنیا کی سب سے خوب صورت اور پر کشش لڑکی تھی ۔ اور اس بات کی تصدیق ہمیشہ اس کی ساری جاننے والی لڑکیاں بھی کرتی تھیں ۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ دانیال مسکان کو اپنی ہونے والی بیوی کی نظر سے دیکھ رہا تھا ۔اگر مسکان سے، کوئی کم صورت لڑکی ہوتی ،تب بھی اسے فریحہ سے خوب صورت نظر آتی ۔
”Any problem with you ?”حماد نے فریحہ کے چہرے پہ چھائی سنجیدگی دیکھتے ہوئے انگلش میں پوچھا۔
”Its ok jan “فریحہ نے جلدی سے جواب دیا ۔
”ایک بے وقوف بندے کی بات کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں سمجھیں ۔اندھا کیا جانے بسنت بہار ؟“
”بتایا تو ہے ایسی کوئی بات نہیں ….بس اسے چلتا کرو مجھے کوفت ہو رہی ہے۔اتنا بدشکل بھی کسی کو نہیں ہونا چاہےے ۔ یقین مانوتم نے مسکان سے اتنا بڑا انتقام لیا ہے کہ دل خوش ہو گیا ۔“فریحہ کے دل میں چھپی خفگی بد نما الفاظ کی شکل دھارکر باہرآئی۔
”ٹھیک ہے !….لیکن کم از کم چاے تو پلا دیں ؟ایسے چلتا کرنا بد تہذیبی ہو گی ۔“
”اسے کیا پتا تہذیب کیا ہوتی ہے ؟“فریحہ کا غصہ ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔
”کول ڈاو¿ن ،جان !….بس چاے پلا کر اسے رخصت کرتا ہوں ۔“
فریحہ نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔
دانیال ان کی انگریزی میں ہونے والی گفتگو کے دوران لاتعلقی سے دائیں بائیں دیکھتا رہا ۔ اسے کوئی علم نہیں تھا کہ ساری گفتگو اسی کے متعلق ہو رہی ہے ۔ پہلی بار فریحہ کو دیکھنے کے بعد اس نے ایک مرتبہ بھی اس کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔ یہ بات فریحہ کو اور زیادہ تاو¿ دلارہی تھی ۔وہ ہمیشہ سے شمع محفل رہی تھی اور شکل و صورت کے لحاظ سے ایک گئے گزرے جوان کا اسے یوںنظر انداز کرنا،اس کی برداشت سے باہر تھا ۔اس کی خواہش تھی کہ وہ جتنی دیر بیٹھا رہے اس کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کرتی رہیں ۔اور جب وہ چلا جائے تو اس کے ہجر میں آہیں بھرتا رہے ۔مگر وہ گنوار جانے کن خیالوں میں مگن تھا۔
حماد نے بیرے کا بلا کر چاے اور کچھ کھانے کے لےے لانے کا بتایا۔
فریحہ سے دانیال کی لاتعلقی برداشت نہ ہوئی اور وہ اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی غرض سے بولی ۔
”ویسے محترم !….آپ کب مسکان صاحبہ کو شربت دیدار سے نوازیں گے ؟“اس کے لہجے میں طنز کی کاٹ واضح تھی ۔
”مم ….میں ،کیا کہہ سکتا ہوں میڈم! ….ویسے جب آپ کہیں میں اس سے مل لوں گا۔“یہ باتیں کرتے ہوئے بھی اس نے فریحہ کی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا ۔ یہ بات فریحہ کو مزید سلگا گئی۔
”اچھا دانیال میاں !….یہ بات یاد رکھنا اپنی شادی کی خبر کا تم نے ڈھنڈورا نہیں پیٹنا ۔ تمھارے ہونے والی دلہن بہت حیا والی ہے ۔اور دوسری شادی کی خبر کو حتیٰ الوسع راز میں رکھنے کی خواہش مند ہے ۔ اسی وجہ سے شادی کے بعد تمھیں اس کے مکان میں شفٹ ہونا پڑے گا ۔اوریہ خبر تمھاری ماں کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں آنی چاہےے۔“
دانیال جلدی سے بولا۔”ٹھیک ہے جناب !….مجھے آپ کی سب شرائط قبول ہیں ۔“
”اور اگر بعد میں وہ پسند نہ آئی ،پھر ؟“فریحہ خواہ مخواہ اسے چھیڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
دانیال لجاجت سے بولا۔”میڈم !….میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا ۔“
فریحہ نخوت سے بولی۔”تمھاری شادی مجھ سے نہیں ،مسکان سے ہو رہی ہے مسٹر !…. مجھے تو یقینا پھانسی کے بدلے بھی تم سے نکاح کی آفر ہوتو میں بہ خوشی پھانسی پر لٹکنا قبول کر لوں گی۔“
”میڈم !….کالا آدمی اتنا برا لگتا ہے آپ کو تو پھر مجھے شادی کی آفر کیوں کی ؟“ یقینادانیال کو اس کی بات سے بہت اذیت ہوئی تھی ۔
”جو میں نے پوچھا ہے اس کا جواب دو ؟“فریحہ نے اس کی بات کو درخور اعتناءنہیں سمجھا تھا۔
”اسے تو میں شہزادیوں کی طرح رکھوں گا ۔“
”سٹیل مل میں مزدوری کر کے ….ہے نا ؟“فریحہ اسے شرمندہ کرنے پر تلی تھی ۔
”میڈم !….دولت کے بل پر ہی سکون و آرام نہیں ملتا۔شوہر جب بیوی کے ناز اٹھاتا رہے ، اس کا وفادار رہے ، اسے سر آنکھوں پر بٹھائے ،اس کی ہر خواہش کو حکم سمجھے ۔اس کے علاوہ کیا چاہےے ایک لڑکی کو ؟“
”کم از کم از اتنی شکل و صورت تو ہو شوہر کی کہ وہ اسے آنکھ بھر کے دیکھ ہی سکے۔“ فریحہ نے واشگاف الفاظ میں اس کا مذاق اڑایا۔
فریحہ کی بات دانیال کو تھپڑ کی طرح لگی تھی ،مگروہ خاموش نہ ہوا ۔
”صورت تو اللہ نے دی ہے میڈم ۔ اور اسے بہتر بنانا میرے بس سے باہر ہے ۔ البتہ میرے روےے سے اسے کوئی گلا ہو تو جو چاہے سزا دینا ۔“
”فری کیا ہو گیا ہے تمھیں ؟“حمادنے اسے جھڑکا ۔دانیال اس کی ضرورت تھا اور وہ اسے ہاتھ سے کھونا نہیں چاہتا تھا ۔
”کچھ نہیں،میں تو یونھی مذاق کر رہی تھی….ہے نا، دانیال صاحب۔“فریحہ کو بھی اپنی زیادتی کا احساس ہوا ۔مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی وجہ سے ایک سادہ دل بندے پر کیا قیامت گزر چکی ہے ۔جو شخص خود اپنی شکل و صورت کی بے رونقی سے واقف ہو اسے بار بار یہ چرکے لگاناظلم ہی تو تھا ۔
”میڈم!…. جانتا ہوں کہ میں بدصورت ہوں ۔“وہ صاف گوئی سے بولا۔”اور اس لحاظ سے الحمداللہ میں دعوا کر سکتا ہوں ،میرا اندر باہر سے اچھا ہے ۔“
”گویا تم ہمیں طعنہ دینا چاہتے ہو ،کہ ہم اندر کے صاف نہیں ۔“فریحہ دوبارہ تپ گئی ۔
”نہیں میڈم !….آپ میرے لےے بہت قابل احترام ہیں ۔آپ کی بدولت مجھے اتنا اعلا رشتا مل رہا ہے ،میں، آپ کے بارے اتنا گھٹیا کیسے سوچ سکتا ہوں۔“دانیال کے لہجے میں چھلکتا خلوص، فریحہ کو پریشان کر گیا تھا ۔
اسی وقت بیرے نے چاے اور کھانے کے لوازمات اس کے سامنے لا کر رکھ دےے۔
”چھوڑیں دانیال میاں !….چاے پئیں۔“حماد نے موضوع بدلا۔فریحہ کا رویہ اس کے لےے حیران کن تھا ۔ ایک کالے کلوٹے شخص کو اپنے حسن سے متاثر کرکے جانے وہ کیا ثابت کرنا چاہتی تھی۔
دانیال نے اکیلا کپ دیکھ کر پوچھا۔”آپ نے نہیں پینی ؟“
”ہم پی چکے ہیں ۔“حماد سے پہلے فریحہ نے جواب دیا ۔
دانیال سر جھکاتے ہوئے کھانے کے لوازمات کی طرف متوجہ ہوگیا ۔
حمادانگریزی میں فریحہ سے مخاطب ہوا ۔
”فری !….میں نے تمھیں کہا ہے ،کہ ایک بے ذوق بندے سے توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔گدھے کے نزدیک گلاب کے پھول کی کیا اہمیت؟مینڈک کوسُر سنگیت کی کیا پہچان ؟بھنگی کا خوشبو سے کیا واسطہ ؟تم صبح سے بھینس کے آگے بین بجانے کی تگ و دو میں ہو ۔کچھ ہوش کے ناخن لو ….“
”اوکے اوکے ….“فریحہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔”براہِ مہربانی اب اس موضوع کو بدلی کرو۔“
”اچھا!…. یہ بتاو¿میرا انتخاب کیسا ہے ؟“
”ہوں ……..بس ٹھیک ہی ہے ۔“
”کیامطلب پہلے تو تم کہہ رہی تھیں لاجواب انتخاب ہے ۔اور اب بس ٹھیک ہی ہے۔“
”جناب !….میرا خیال ہے ،مجھے چلنا چاہےے؟“چاے کا کپ خالی کرتے ہوئے دانیال نے اجازت طلب کی ۔
”ہاں دانیال میاں !….بس دو اڑھائی مہینے کی بات ہے پھر میں خود تم سے رابطہ کر لوں گا۔“ حماد نے مصافحے کے لےے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
اس سے مصافحہ کر کے دانیال نے فریحہ کو کہا۔
”میڈم!…. اگرمیرے منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نکل گئی ہو تو معاف کرنا۔ان پڑھ ، گنوار ہوں ، گفتگو کے آداب سے واقف نہیں ۔“
مگر فریحہ نے اسے جواب دینے کے بجائے حمادکو مخاطب ہوئی ۔
جان!….ہمیں بھی چلنا چاہےے؟“
”ٹھیک ہے دانیال تم جاو¿۔“حماد کے کہنے پر وہ ”سلام “کہتا ہوا رخصت ہو گیا ۔
”فری !….پھر وہی بے وقوفی۔“
”شٹ اپ یا ر!….“ فریحہ ناگواری سے بولی ۔”مجھے ایک تھرڈ کلاس بندے کے منہ نہیں لگنا۔“
”اچھا دفع کرو ….ویسے بھی اسے یہاں بلانا میری غلطی تھی ۔آو¿چلتے ہیں ۔“اور فریحہ خاموشی سے کھڑی ہو گئی ۔ وہ دانیال کے کھردرے رویے کو فراموش نہیں کر پا رہی تھی۔اتنا بے ذوق اور گنوار بندہ اس سے پہلے اس کی نگاہوں سے نہیں گزرا تھا اس کے باوجود وہ اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا ۔
٭……..٭
مسکان کے لےے عدت کے دن گزارنا بہت مشکل مرحلہ ثابت ہوا تھا ۔حماد اس کا محبوب تھا۔ گھر میں ہونے کے باوجود، اس سے بہت دور کہ ،ملاقات تو درکنار بات چیت بھی نہیں ہو پاتی تھی ۔گو اس میں سارا عمل دخل خوداس کی مذہبی سوچ کا تھا۔وہ حماد کے قریب جانے سے ڈرتی تھی ،کہ وہ دونوں کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ۔ جو شخص چند دن پہلے تک اس کا شوہر رہ چکا تھا اس کے پاس تنہائی میں جاناغلط کام کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔
عدت کے بعد آنے والے لمحات مزید امتحان لینے والے تھے ۔کسی دوسرے مرد کی بیوی بن کر رہنا ، جس سے وہ واقف ہی نہیں تھی ،ایک امتحان ہی تو تھا۔جانے اس کا مزاج ، عادات اور،رویہ کیسا ہوگا۔ عورت جتنی بھی امیر کبیر ہو، شوہر کے رحم و کر م ہی پر ہوتی ہے ۔ ازدواجی زندگی کے تقریباََہر مرحلے میں شوہر کی حکمرانی ہوتی ہے ۔آج کی جدید عورت ، مرد کی ہم سری کا جتنا بھی دعوا کرے ،اہل خرد جانتے ہیں کہ ،اس دعوے کی حقیقت نری خوش گمانی ہی ہے ۔
ع دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھاہے
پھر اس نکاح کا اس کے بھائیوں کو پتا چل جاتاتو ایک علاحدہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔وہ لازماََ اِس فعل کی مذمت کرتے ۔یہ بھی ممکن تھا کہ ہمیشہ کے لےے قطع تعلق کر لیتے ۔حماد کی بات مان کر اس نے بہت بڑی بے وقوفی کا ثبوت دیا تھا ۔مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب وہ انکار کر دیتی تب بھی حماد کی دوبارہ بیوی بننے کے لےے اسے دوسرا نکاح لازماََ کرنا پڑتا۔پھر حماد کی ناراضی ایک علاحدہ مسئلہ تھا ۔
ان پراگندہ سوچوں میںقابلِ اطمینان بات صرف اتنی تھی ،کہ یہ ساری قربانی وہ اپنے محبوب شوہرکے لےے دے رہی تھی ۔وہ سرتاپا ایک مشرقی عورت تھی ۔ شادی کے بعد اسے حماد کے روےے میں پہلے والی گرم جوشی اور محبت مفقود نظر آئی تھی ،مگر اب وہ اس کا شوہر اور سر کا تاج تھا ۔ یوں بھی اس کے نزدیک شاید محبت ہوتی ہی یہی ہے ۔ اس کا خیال تھا، جب مرد ،عورت کو حاصل کر لیتا ہے، پھر اس میں پہلے والے جذبے عنقا ہو جاتے ہیں ۔محبت کی حقیقت اور چاہے جانے کے جذبات سے عاری نہ سہی ناواقف ضرور تھی ۔
حماد نے ایک دو دفعہ شادی کے موضوع پر تبادلہ¿ خیال کرنے کی کوشش کی مگر اس کی بے اعتنائی دیکھ کر خاموش ہو رہا تھا ۔ البتہ اس نے مسکان سے ایک چھوٹا سا مکان خریدنے کے لےے رقم ضرور مانگی تھی جہاں مسکان نے اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ وقت گزارنا تھا ۔اور اس نے اتنی رقم کا چیک بغیر کسی بحث کے اس کے حوالے کر دیا تھا ۔
اس نے ایک سرسری نظر اپنے دوسرے شوہر کی تصویر پر ڈالی تھی ۔اس کے اندازے کے مطابق وہ بدصورت شخص تھا ۔ اس بات نے اس کے دل میں یہ اطمینان ضرور پیدا کر دیا تھا کہ حماد اسے کھونا نہیں چاہتا۔ اور سچ مچ اسے ایک بچے کی خواہش ہے ۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جب اس کی عدت پوری ہوگئی ۔نہ چاہتے ہوئے بھی اسے یہ بات حماد کو بتانی پڑی جو اس دن کے انتظار میں گھڑیاں گن رہا تھا ۔
(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *