Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806
Last updated: 22 July 2026
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler
”پلیز حماد !....غصہ تھوک دو ۔“مسکان نے مضطرب ہو کر اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کی چاہت اور محبت کا اظہار ہاتھ تھامنے تک محدود تھا۔شروع میں حماد نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی، مگر اس نے بڑی سختی سے جھڑک دیا تھا ۔شادی سے پہلے وہ کسی بھی ایسی ویسی حرکت کاارتکاب گناہ کبیرہ سمجھتی تھی ۔اور حماد کو اپنے فائدے کے لےے اس کی یہ بات ماننا پڑی تھی ۔ وہ تو اس مل بیٹھنے پر بھی کئی بار نادم ہو جاتی کہ یہ ایک غلط فعل تھا مگر پھر یہ خیال اسے تقویت دے جاتاکہ حماد اس کا ہونے والا شوہر ہے ۔
”اٹس اوکے !....“حماد نے نخوت سے کہا ۔مگر اس کے چہرے کے تاثرات اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اسے خوش کرنے کے لےے اگلے دن وہ ایک قیمتی لیپ ٹاپ لے کا تحفہ لے آئی۔
”یہ کیا ؟“حماد نے اندرونی خوشی پر قابو پاتے ہوئے مصنوعی حیرانی سے پوچھا۔
”لیپ ٹاپ ۔“وہ سادگی سے بولی ۔”میں نے دیکھاہے کافی سٹوڈنٹس کے پاس لیپ ٹاپ ہیں مگر میرے حماد کے پاس نہیں ہے ۔ وہ میرے حماد سے برتر تو نہیں ہیں نا ؟“
”مسکان !....تم بھی نا ؟“
”کیا ....میں بھی ؟“حماد کو خوش دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گئی تھی ۔
”بس ہر وقت مجھے شرمندہ کئے رکھتی ہو ۔“وہ ایسی باتوں پر نادم نہیں ہوتا تھا مگر اپنی بات رکھنے کے لےے ظاہر یہی کرتا کہ اسے مسکان سے تحفہ لے کر شرمندگی ہو رہی ہے۔
”حماد !....میرا سب کچھ آپ کا ہی ہے ۔ہم کوئی دو تو نہیں ہیں نا؟....اگرآپ امیر ہوتے تو کیا میرے لےے تحائف نہ لاتے؟۔“
”صحیح کہا ....اور پتا ہے میں اپنی پہلی تنخواہ سے کیا خریدوں گا ؟“
”کیا خریدو گے ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
وہ بولا۔”تمھاری ملائم انگلی کے لےے انگوٹھی ،نازک گلے کے لےے لاکٹ اور ریشمی کلائیوں کے لےے کنگن ۔“ یہ مکالمے وہ کئی لڑکیوں کے سامنے دہرا چکا تھا ۔ہر دفعہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے۔ اس وقت بھی مسکان ان دیکھے جذبوں میں کھو گئی ۔ اور جب وہ بولی تو اس کے ہونٹوں سے بہت مدہم اور چاہت سے لبریز آواز نکلی ۔
”حادی! آپ بہت اچھے ہیں ....آئی لو یو سو مچ۔“اس کے لےے زیورات کی کمی نہیں تھی ۔ اگر وہ چاہتی توپوری جیوری شاپ خرید لیتی ۔ مگر محبوب سے تحفہ لینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ۔
اور پھر وہ فائنل ایئر میں تھا کہ فریحہ یونیورسٹی میں وارد ہوئی ۔
٭........٭
رات دو بجے اسے ماں کی پیار بھری ڈانٹ سنائی دی ۔
”دانی !....تم ابھی تک جاگ رہے ہو ....؟سو جا پتر ،صبح کام پر بھی جانا ہے ۔“
”جی ماں!....سو تو رہا تھا....آپ نے آواز دے کر جگا دیا ۔“اس نے صریحاََ جھوٹ بولا۔
”چل بے شرم ....مجھے بیوقوف بنا رہا ہے ،ماں ہوں تمھاری ؟“
اس بار جواب دینے کی بجائے اس نے کروٹوں کے تسلسل کو روک دیا جواس کے جاگنے کا راز افشا کر رہے تھے اورجاگتی آنکھوں سے صالحہ کو دلہن کے روپ میں دیکھنے لگا ۔
رات بھر جاگنے کی وجہ سے صبح اس کاجسم ٹوٹ رہا تھا لیکن کام پر جانا ضروری تھا۔بلکہ اب تو یہ زیادہ ضروری ہو گیا تھا کہ شادی کے لےے اخراجات اکھٹے کرنا تھے ۔
شام کوکام سے واپسی پر ماں اسے بجھی بجھی نظر آئی ۔
”ماں !....خیر تو ہے ؟....پریشان دکھ رہی ہو ؟“
اس کے سوال پہ اماں کی آنکھیں چھلک پڑیں اور وہ گھبرا گیا ۔
”ماں !....کیا بات ہے ؟....کیوں رو رہی ہو ؟“
”پتر !....رب جس کے نصیب میں خوشی نہ لکھے وہ کب خوش رہ سکتا ہے ؟“
”کچھ پتا تو چلے ماں ؟کیسی خوشی ....؟کون سی خوشی؟“
”پتر !....جانتی ہوں کہ میری پوتے پوتیوں کو گود میں لینے کی خواہش ہمیشہ تشنہ رہے گی۔ “
وہ خفگی سے بولا....”اب تو ایسا نہ کہیں اماں ....اب تو ........“
”تو پھر کب بولوں ؟“اس نے قطع کلامی کرتے ہوئے اس کے سامنے بند مٹھی کھولی جس پر وہ انگوٹھی جگمگا رہی تھی جو کل وہ صالحہ کو پہنا کے آیا تھا ، یہ انگوٹھی چھٹی مرتبہ واپس آرہی تھی۔
”کک....کیا ہوا ....یہ کیوں ؟اس وقت تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا ؟“
”لڑکی کا باپ واپس کر گیا ہے ....کہہ رہا تھا وہ کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ “
اور ماں کی بات سنتے ہی وہ اسے تسلی دئےے بغیر گھر سے نکل آیا ۔اس کے پاس ایسے الفاظ موجودنہیں تھے کہ ماں کی ڈھارس بندھا سکتا،حالانکہ ابو کی وفات کے بعد جب معاشی مسائل منہ کھولے سامنے آئے تھے ، اس وقت اس نے بڑے اعتماد سے ماں کو حوصلہ دیا تھا....
