Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Last Episode)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
تمہیں بھی کسی نہ کسی سے شادی کرنا پڑے گی۔ ہم تمہیں اب اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ چاہے سمیرا سے کرو چاہے کسی اور سے۔” نائکا دو ٹوک لہجے میں بولی۔
” تم جانتی ہو یہ نا ممکن ہے۔۔۔ ویسے بھی جب تک میری سڈی کمپلیٹ نہیں ہو جاتی میں شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔” وہ ذرا اونچی آواز میں بولا۔
” ہم صرف اس انسان سے شادی کرنا چاہتے ہیں جس سے ہمیں محبت ہو لیکن میں چاہتی ہوں تم ایسے انسان سے شادی کرو جو تم سے محبت کرتا ہو جو تمہیں کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑے ۔میری جگہ اگر مارگریٹ ہوتی تو وہ بھی یہی کہتی جو میں کہہ رہی ہوں۔ میرے لئے نہ سہی کم ازکم مارگریٹ کے لیئے۔” نائکا ابھی بول ہی رہی تھی کہ سمیرا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ سمیرا نے ان دونوں کو سلام بولا اور سٹِفنَس کی طبیعت کے بارے میں پوچھنے لگی۔
”تم دونوں باتیں کرو میں ابھی آئی۔” نائکا کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
” تین سال بعد مجھ سے شادی کرو گی؟ ” سٹِفنَس اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
” واٹ۔” حیرت اور بے یقینی سے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
” تمہارے جواب کا انتظار رہے گا۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا اور وہاں سے چلا گیا۔
” کیا ایسے بھی کسی کو محبت مل سکتی ہے ۔۔۔ حیرت کی بات ہے مطلب وہ سب جانتا تھا یعنی وہ میرے لئے۔۔۔ اف اللّٰلہ کیسے یقین کروں۔ یا اللّٰلہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے اس مشکل سے نکالا۔” وہ بیڈ پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھی اور خوشی سے مچلنے لگی۔ ظاہر ہے بات ہی ایسی تھی اتنا سا مچلنا تو بنتا تھا۔ محبت کے بھی ہزار پہلو ہوتے ہیں ہر کوئی اپنے طریقے سے محبت کرتا کوئی محبوب کی خاطر اپنی جان دے دیتا تو کوئی محبوب کی خاطر کسی کی جان بچا لیتا ہے۔
شام تک وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے زینب بیگم بہت خوش تھیں کہ انکا اپنا خون انکی بھتیجی ہمیشہ کے لیئے ان کے پاس تھی ایسے ان کا اکیلا پن بھی دو ہو گیا تھا کیونکہ اب وہ ان کی بیٹی بھی تھی اور دوست بھی۔۔۔۔ ماحول پھر سے خوشگوار ہو گیا تھا سب کے گلے شکوے دور ہو چکے تھے بس ایک کمی تھی جسے کوئی بھی پورا نہیں کر سکتا تھا وہ تھی مارگریٹ جسے کوئی نہیں بھولا تھا۔
رات کو سونے سے پہلے یا تو وہ کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا یا کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا۔ آج بھی وہ اپنے ٹیبل پہ بیٹھا کچھ لکھنے میں مصروف تھا جب وہ اس کے پاس آئی۔
”عیسٰی۔۔۔ تم کیا لکھتے رہتے ہو؟ ” وہ اس کے لکھے گئے نوٹس دیکھتے ہوئے بولی۔
” اپنی عمل کے لئے کچھ لکھ رہا ہوں۔” وہ اس کے ہاتھ سے نوٹس پکڑتے ہوئے بولا اور اس اٹھ کر عمل کا ہاتھ تھامے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔
” بتایا نہیں کیا لکھ رہے ہو۔” وہ اس کا بازو گلے میں حمائل کرتے ہوئے بولی اور سر اس کے کندھے پہ رکھا۔
” میں کچھ رائٹرز کی تفسیر پڑھ کر ان سب کا نچوڑ آسان اور سادہ لفظوں میں لکھ رہا ہوں تاکہ ہر کوئی اسے آسانی سے سمجھ سکے۔۔۔ نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم بھی اگر پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکیں کیونکہ یہ کتاب اردو اور انگلش میں ہو گی۔” وہ اس کا ہاتھ تھامے اپنا سر اس کے سر پہ ٹکاۓ بولا۔
” مطلب مکمل طور پہ عربی سیکھنے سے پہلے بھی قرآن کو سمجھ سکتی ہوں۔” وہ اس کا چہرہ دیکھ کر خوشی سے بولی۔
” ہاں بلکل۔۔۔ عمل کیا تم خوش ہو مطلب تمہارا دل مطمئن ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ عمل نے ایک سنجیدہ نظر عیسٰی کے چہرے پہ ڈالی پھر سر اثبات میں ہلاتی مسکرائی۔
” اتنا سوچ کے جواب دیا لگتا ہے تم مطمئن نہیں ہو۔” وہ بھی کچھ سوچ کر بولا۔
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ محمد عیسٰی علی کے ہوتے ہوئے اس کی عمل کیسے غیر مطمئن ہو سکتی۔” وہ اس کے سینے پہ پھر سے سر رکھ کر مسکرائی۔
” ہاں بلکل ٹھیک کہا تم نے۔۔۔ ” عیسٰی نے دو عمرے کے ٹکٹس اس کے ہاتھ میں تھماۓ۔
”یہ کیا۔” وہ حیرت سے بولی۔
”یہ عمرہ کے ٹکٹس۔۔۔ تمہیں پتہ ہے اللّٰلہ کن لوگوں کو عمرہ کرنے کی توفیق بخشتا ہے ان لوگوں کو جن سے اللّٰلہ بہت خوش ہوتا ہے، جن کو اللّٰلہ اپنے قریب کرنا چاہتا ہے اور جن کو اللّٰلہ مطمئن کرنا چاہتا ہے تو اگلے ہفتے ہم دونوں بھی عمرہ کے لئے جا رہے ہیں۔” وہ بہت محبت سے بولا۔
” کیا سچی میں۔” وہ خوشی سے اچھلی۔
”ہاں میری جان سچی میں۔” وہ اس کی پیشانی چوم کر مسکرایا تو ایک دوسرے کے حصار میں ہو لئے۔
ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو نو مسلم کو صرف مسلمان برائے نام کے سمجھتے ہیں۔ اکثر پیدائشی مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہم سے زیادہ اسلام کو کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا لیکن میری ریسرچ کے مطابق ایک غیر مسلم تب ہی اسلام قبول کرتا ہے جب وہ اسے اچھے سے لے۔ بلکہ پیدائشی مسلمانوں کی نسبت نو مسلم کا ایمان زیادہ پختہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ لوگ اسلام پہ ریسرچ کرتے ہیں دین کو سمجھتے ہیں اس کی ہر مصلحت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ جو لوگ اسلام پہ انگلی اٹھاتے ہیں ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ غلط اسلام نہیں بلکہ ہم انسان ہیں جو اس پہ عمل نہیں کرتے۔ ہر کسی کو اپنے مذہب کے مطابق جینے کا پورا حق ہے کوئی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا کیونکہ آخرت سب کے لئے ہو مگر ساتھ دینے والے ہمارے اپنے اعمال ہوں گے اور کوئی نہیں۔
ختم شد… ![]()
