Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 16)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
سٹِفنَس اور مارگریٹ بھی عیسٰی کو دیکھنے اس کے کمرے کی طرف آ رہے تھے نائکا ان کے قدموں کی چاپ سے ہوش میں آئی اور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ دیر وہ لوگ اس کے پاس بیٹھے پھر گھر چلے آۓ۔ ان کے جانے کے بعد ہادی بھی ملنے آ گیا اور پھر حافظ عبداللہ بھی۔ ایک ایک کر کے سب اس کی خیریت معلوم کرنے آتے جا رہے تھے۔ سمیرا خود تو نہیں آئی لیکن وہ اس سے فون پر بات کر چکی تھی۔ پورے دو دن وہ گھر رہا اور تیسرے دن زبردستی یونی چلا گیا۔ اتنی دیر ایک جگہ پہ ٹکے رہنا اس کے لئے محال تھا۔ آج یونی جانے کے بعد جیسے سب اس سے خیریت معلوم کر رہے تھے اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ صدیوں بعد یونی آیا ہو۔ آج وہ سب پھر سے بہت خوش تھے سب ایک ساتھ تھے یہاں تک کے نائکا کے ساتھ اس کا نرم رویہ کچھ لوگوں کو پریشان بھی کر رہا تھا کہ سر پھاڑنے کے باوجود بھی ان کی دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
” ہادی مجھے تمہارے ارادے کچھ نیک نہیں لگ رہے کیا بات ہے؟” ہادی لان میں ایک سائیڈ پہ کتابیں بکھیرے لیپ ٹاپ پہ کوئی کام کرنے میں مصروف تھا جب عیسٰی اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ ہی نیچے بیٹھ گیا۔
” کیا مطلب ارادے نیک نہیں لگ رہے اگر کچھ پڑھ لوں تو مسئلہ اگر نہ پڑھوں پھر بھی مسئلہ۔” ہادی لیپ ٹاپ پہ نظریں جماۓ بولا۔
” مطلب اپنا کام کرو تو سمجھ آتی ہے مگر اس اسائنمنٹ پہ تو مارگریٹ کا نام لکھا ہے۔” عیسٰی نے غور سے لیپ ٹاپ پہ لکھے مارگریٹ کے نام کو دیکھا۔
” ہاں تو۔۔۔ ہم کلاس فیلوز ہیں اب ایک دوسرے کے لئے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔۔۔ جیسے تیرے سارے کام سٹِفنَس اور نائکا کرتے ہیں۔” ہادی نے سابقہ لہجے میں کہا۔
” اچھا۔۔۔ لیکن میں نے تو کبھی تمہارے ہاتھ میں تمہاری کوئی بھی اسائنمنٹ نہیں دیکھی۔اپنی بھی بناتے ہو یا ایک ہی سے گزارا کرتے ہو۔” عیسٰی نے شرارت سے کہا۔
” اس کی بناؤں گا تو اپنی بنے گی نا۔۔۔ اب پلیز مجھے تنگ نہ کر کہیں ایسا نہ ہو کل سے تجھے ڈبل پٹی باندھ کے آنا پڑے۔” ہادی نے اس کے سر پہ بندھی پٹی دیکھتے ہوئے کہا۔
” ارے پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔ میں تو بس کچھ کنفرم کر رہا تھا یار۔ جس لڑکے نے کبھی اپنی اسائنمنٹ اتنے دھیان سے نہیں بنائی آج وہ کسی کے لئے اتنی فکر سے بنا رہا ہے واؤؤامیزنگ۔” ہادی اس کی بات سن کر اسے گھورنے لگا تھا۔
” تمہاری اسائنمنٹ بھی تو سٹِفنَس بناتا ہے اب اس کا میں کیا مطلب سمجھوں۔” ہادی نے لیپ ٹاپ بند کرتے اسے دیکھا۔
” وہ تو مجھ سے بہت محبت کرتا ہے نا بس اسی لئے۔” عیسٰی مسکرایا۔
” تو میں بھی۔۔۔” ہادی کے الفاظ منہ میں رہ گۓ اور وہ ہاتھ جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا۔
” تو اس دن مسجد میں تم مارگریٹ کو مانگنے گئے تھے ہم کم بیسٹ آف لک۔” عیسٰی مسکراتے ہوئے بولا اور وہاں سے چلا گیا۔ ہادی حیرت سے اسے جاتے دیکھتا رہا وہ اسے مزید تنگ کئے بغیر ہی چلا گیا حیران ہونا تو بنتا تھا۔
وہ فراثیم کی کلاس میں گیا جہاں وہ اپنے کچھ کلاس فیلوز کے ساتھ بیٹھا کچھ ڈسکس کر رہا تھا۔ وہ عیسٰی کو دروازے میں کھڑا دیکھ کر خود ہی باہر چلا آیا۔
” السلام علیکم عیسٰی کیسے ہو؟” فراثیم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
” الحمداللہ اب تو ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں۔” عیسٰی نے مسکراہٹ دبائی۔
” میں بھی بلکل ٹھیک ہوں بس تمہیں بہت مس کیا۔” فراثیم بھی مسکرایا۔
” جی میں جانتا ہوں آپ مجھے کیوں مس کر رہے تھے لیکن اس چوٹ کی وجہ سے میں آپ سے مل نہیں سکا۔” عیسٰی نے معمولی سنجیدگی سے کہا۔
” ہاں سٹِفنَس نے بتایا تھا تمہارے سر پہ چوٹ لگی ہے۔” فراثیم باہر کی طرف بڑھا وہ بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔
” تو آج میں آپ کو وضو سکھا دوں؟ کیونکہ جب تک آپ کو وضو کرنا نہیں آۓ گا تب تک آپ وضو کے بغیر قرآن بھی نہیں پکڑ سکتے۔” عیسٰی نے سنجیدگی سے کہا۔
” ہممم۔۔۔ ٹھیک ہے جیسے تمہیں بہتر لگے کیونکہ آج کے بعد تو تم میرے ٹیچر ہو۔” فراثیم نے مسکراتے ہوئے کہا اور دونوں مسجد کی طرف چل پڑے۔ ان کے پیچھے پیچھے مارگریٹ بھی چل رہی تھی وہ اس دن فراثیم کی کہانی سننے کے بعد کئی بار فراثیم سے ملنے کی کوشش کر چکی تھی لیکن وہ اسے ملا ہی نہیں۔ آج ان کو دیکھ کر وہ دوڑتی ہوئی ان کے پیچھے چلنے لگی تھی۔
” فراثیم بھائی۔” مارگریٹ نے کچھ فاصلے کی دوری سے آواز دی۔ اس کی آواز پہ دونوں چونک کر پلٹے تھے۔
” بھائی مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔” مارگریٹ ان کے قریب جا کر مخاطب ہوئی۔
” جی پوچھیں۔” فراثیم نے نرمی سے کہا۔ عیسٰی حیرت سے مارگریٹ کو دیکھ رہا تھا جو فراثیم سے بات کرنے کے لئے بے چین ہو رہی تھی۔
” وہ پوچھنا یہ تھا کہ آپ کا یہ فائنل سمیسٹر چل رہا ہے تو اس کے بعد اگر آپ سے رابطہ رکھنا ہو تو؟” وہ دونوں اس کی بات پہ حیران ہو رہے تھے۔
” تو آپ مجھ سے میرا نمبر لے لیں۔ ویسے آپ کو مجھ سے رابطہ رکھنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟” فراثیم نے حیرت سے پوچھا۔ عیسٰی ایک آبرو اچکاۓ مسلسل مارگریٹ کو دیکھ رہا تھا۔
” مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ جب آپ کی مذاہب پہ ریسرچ مکمل ہو جائے گی پلیز مجھے بھی بتایے گا کہ آپ کے مطابق اصل دین کیا ہے۔” مارگریٹ نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا۔
” ضرور کیوں نہیں بلکہ سب کو بتاؤں گا۔” فراثیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” بس یہ کہنا تھا؟ اب ہم جائیں؟” عیسٰی نے حیرت سے کہا۔ مارگریٹ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور وہ مسجد کی طرف پھر سے چلنے لگے۔ مسجد پہنچ کر دونوں نے شوز اتار کر ایک سائیڈ پہ پڑی چپلیں پہنیں جو وضو کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔
”بھائی میں وضو کے دوران بولوں گا نہیں آپ بس مجھے فالو کرتے جائیں اور اگر کہیں سے سمجھ نہ آئی تو بعد میں پوچھ لیجئے گا۔۔۔ اور ایک اور بات وہ یہ کہ وضو کی حکمتیں میں آپ کو کل بتا دوں گا آج میں پہلے ہی بہت بول چکا مزید نہیں بول سکتا اور ایک دفعہ سارا کچھ کنفرم بھی کر لوں گا ایسا نہ ہو کوئی غلطی ہو جائے اس لئے میں پہلے ہی شک دور کر دینا چاہتا ہوں۔” عیسٰی نے کہا اور شرٹ کے بازو فولڈ کرنے لگا۔ فراثیم نے بھی سر ہلاتے ہوئے کہنیوں تک بازو فولڈ کئے۔ پھر پینٹ ٹخنوں سے اوپر تک فولڈ کی۔ اور وضو شروع کیا۔ عیسٰی کو دیکھ دیکھ کر فراثیم وضو کرتا رہا لیکن عیسٰی نے جیسے بتایا تھا گلے سے پانی کیسے نکالنا ہے اور ناک کی ہڈی سے کیسے پانی نکالنا ہے ویسے پانی نکالنا فراثیم کے لئے تھوڑا مشکل ہو رہا تھا لیکن یہ پہلی بار تھا اس لئے۔ باقی وضو بھی وہ عیسٰی کو دیکھ کر مکمل کر چکا تھا۔
مارگریٹ ابھی بھی وہیں کھڑی ان کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ان کے ساتھ مسجد ہی چلی جاتی۔ وہ تھک ہار کر وہیں ایک بینچ پہ بیٹھی اکیلی مسکرانے لگی۔ عیسٰی نے سٹِفنَس کو بتا دیا تھا کہ وہ فراثیم کے پاس جا رہا ہے اور نماز کے وقت مسجد ہی ملے گا۔ سٹِفنَس بھی اب اسی طرف آ رہا تھا۔ مارگریٹ کو اکیلے مسکراتے دیکھ کر وہ اس کے قریب آیا۔
” کیا سوچ کر مسکرایا جا رہا ہے؟” سٹِفنَس نے اس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کی آواز پہ وہ چونکی۔
” ک کچھ نہیں بھائی۔۔۔ میں تو بس آپ کے بارے میں سوچ کر خوش ہو رہی تھی۔” مارگریٹ نے اب مصنوعی مسکراہٹ دبائی۔
” اچھا جی تو کیا سوچا جا رہا ہے میرے بارے جو آپ اتنا خوش ہو رہی ہیں۔” سٹِفنَس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
” بھائی میں سوچ رہی تھی آپ کی جب شادی ہو گی تب کتنا مزہ آۓ گا ہے نا۔۔۔” وہ اپنا رخ سٹِفنَس کی طرف کرتے ہوئے خوشی سے بولی۔
” ہاہاہا ابھی سے۔۔۔ لیکن میری جان پہلے شادی آپ کی ہو گی میری نہیں اس لئے زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔” سٹِفنَس اس کی بات پہ ہنس دیا۔
” نہیں بھائی مجھے شادی نہیں کرنی میں بس آپ کی اور نائکا کی شادی دیکھنا چاہتی ہوں۔” وہ اس کے گلے میں بازو حمائل کرتے ہوئے رونے والی شکل بنا کر بولی۔
” میری اور نائکا کی؟” وہ حیرت سے اسے دیکھ کر بولا۔
” جی بھائی مجھے سب پتہ ہے مجھے پتہ ہے آپ نائکا سے کتنی محبت کرتے ہیں اور شادی بھی اسی سے کرنا چاہتے ہیں اس لیئے مجھ سے کچھ بھی چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔ لیکن” وہ کہتے کہتے رکی۔
” لیکن کیا؟” وہ اب اس کا اداس چہرہ دیکھ کر بے چین ہوا۔
” لیکن یہ کہ آپ بھی نائکا سے بہت پیار کرتے ہو اور مجھے یقین ہے وہ بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی اور نہ ہی آپ کا پروپوزل رجیکٹ کرے گی۔۔۔ مگر بھائی مجھے ایک بات پریشان کر رہی ہے وہ یہ کہ کیا خاندان والے مان جائیں گے کیونکہ ہمارا مذہب چچازاد سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس رشتے کو سب بہن بھائی کا رشتہ سمجھتے ہیں پھر آپ کیا کرو گے۔” وہ مایوسی سے گویا ہوئی۔
” تو اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے ہاں سائنس بھی کزنز سے شادی کرنے سے منع کرتی ہے کیونکہ اس سے ان کے بچے ابنارمل ہونے کے چانسز ہوتے ہیں۔۔۔ اگر بات صرف اتنی ہے تو کوئی مسلئہ نہیں ہو گا بہت سے کزنز کرتے ہیں آپس میں شادی۔۔۔ لوگ تو محبت کی خاطر مذہب چھوڑ دیتے ہیں پھر ایک شریعت کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکل ہی جاۓ گا۔” وہ اس کی بات پہ پہلے مسکرایا پھر سنجیدگی سے بولنے لگا۔
” کیا واقعی میں؟ لوگ محبت کی خاطر مذہب بھی چھوڑ سکتے ہیں؟” وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔
” ہاں ہوتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی جو صرف محبت کو اپنا مذہب سمجھتے ہیں۔” وہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا۔
” میں نماز پڑھ آؤں تم بھی اب کلاس میں جاؤ۔” وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر چرچ کی طرف بڑھا۔ وہ کچھ لمحے زمین کو گھورتے کچھ سوچنے لگی پھر اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
*************
وہ پچھلے پندرہ منٹ سے لائبریری میں بیٹھا اپنے ہاتھ سے لکھے گئے کچھ نوٹس کو بار بار بہت گہرائی سے پڑھ رہا تھا۔ آج سٹِفنَس آفس میں کسی کام کے سلسلے میں سلیمان صاحب کے ساتھ مصروفیت کی وجہ سے یونیورسٹی نہیں جا سکا۔
” عیسٰی یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے جسے بار بار پڑھ رہے ہو؟” نائکا نے حیرت سے پوچھا۔
” بھائی فراثیم کے لئے کچھ نوٹس بنائے ہیں بس وہی دیکھ رہا ہوں۔” عیسٰی نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
” کیا میں یہ دیکھ سکتی ہوں؟” نائکا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
” ہاں کیوں نہیں۔۔۔ لیکن ابھی میں تو میں جا رہا ہوں بھائی فراثیم میرا ویٹ کر رہے ہوں گے واپس آؤں گا تو دیکھ لینا۔” وہ کہتے ہوئے بیگ اٹھانے لگا۔ نائکا نے سر اثبات میں ہلایا تو وہ ہلکی سی مسکراہٹ دباۓ وہاں سے چلا گیا۔ فراثیم پہلے سےاس کی کلاس کے باہر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دونوں دھوپ میں پڑے ایک بینچ پہ بیٹھ گئے جہاں رش نہ ہونے کے برابر تھا۔
” یہ لیں بھائی میں نے کچھ نوٹس بنائے ہیں آپ ان کو دیکھ لیں ایک بار۔” عیسٰی نے نوٹس اس کی طرف بڑھاۓ۔
” نہیں ایسے تو میں نیٹ پہ بھی سرچ کر سکتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں تم خود مجھے آسان لفظوں میں سمجھاؤ۔۔۔ مطلب تم خود بھی وضو میں رہتے ہو تو کیا یہ تم پہ کوئی اثر چھوڑتا ہے یا نہیں۔” فراثیم نے نوٹس واپس اس کے ہاتھ میں تھماۓ۔
” وہ تو میں ضرور سمجھاؤں گا۔۔۔ تو سب سے پہلے جو سب سے ضروری بات وہ یہ کہ وضو سے پہلے بسم اللّٰلہ ضرور پڑھ لیں اور درمیان اور وضو کے بعد کی دعا میں آپ کو بعد میں یاد کرواؤں گا صرف ایک بار سن لینے سے آپ کو یاد نہیں ہو گی۔ اگر سادہ اور مختصر کہا جائے تو وضو کے دوران ہم جن جن اعضاء کو دھوتے ہیں ان اعضاء سے سرزد ہوئے گناہ ساتھ ساتھ جھڑتے جاتے ہیں۔۔۔ یعنی ہاتھوں، پاؤں، زبان،آنکھوں وغیرہ سے کئے گئے گناہ۔۔۔” وہ تمہید باندھتے ہوئے بول رہا تھا۔
” اور سر کا مسح؟ اس کی حکمت؟” فراثیم نے اسے ٹوکا۔
” بہت سے لوگ عبادات اور مذہبی رسوم و رواج کی ادائیگی کرتے ہوئے بھی اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ اس سے ان کو کیا فائدہ ہو گا۔ اس لئے اب میں آپ کو سائنسی لحاظ سے وضو کے فوائد بتاؤں گا۔۔۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو دن میں ایک بار وضو کروانے سے بلڈ پریشر میں کمی واقع ہو گی۔وضو کرنے سے فالج میں کمی واقع ہو گی،جلدی سوزش، ایگزیما،رنگت کی تبدیلی،نزلہ زکام سے نجات، آنکھوں کی بیماریوں سے نجات، اندھاپن سے تحفظ وغیرہ کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کے علاوہ ایڈز سے نجات، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر سے نجات میں بھی مفید ہے۔۔۔ اب سر کے مسح کی بات کرتے ہیں۔ دل،دماغ اور جگر کی بیماریوں سے نجات حاصل ہوتی ہے، ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی مضبوطی کے لئے مفید ہے، پاگل پن میں کمی واقع ہوتی ہے، گردن توڑ بخار سے نجات ملتی ہے، نیند پوری ہوتی ہے، ڈپریشن سے نجات ملتی ہے اور وضو کا بچا ہوا پانی پینے میں شفاء بھی ہے۔۔۔ یعنی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج وضو ہے۔” اس نے نوٹس بند کر کے فائل میں رکھے۔ فراثیم گردن جھکاۓ سنتا جا رہا تھا۔ عیسٰی کے خاموش ہونے پر اس نے گردن اوپر اٹھائی اور اسے دیکھنے لگا۔
” بھائی ایسے کیا دیکھ رہے ہیں یہ سب میں نے اپنے پاس سے نہیں لکھا لیکن بات صرف یقین کی ہوتی ہے آپ جب تک خود اس پہ عمل نہیں کریں گے تب تک آپ کو کیسے یقین ہو گا۔” عیسٰی نے اس کا چہرہ دیکھ کر کہا۔
” یقین کرنے کے لئے تم ہو نا چلتا پھڑتا ثبوت۔۔۔ اور ایک چیز تو تم بھول ہی گئے۔” فراثیم نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔
” وہ کیا؟” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔
” یہی کہ وضو کرنے سے چہرے پہ نور بھی آتا ہے۔” فراثیم نے اس کی روشن پیشانی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
” بلکل اس سے چہرہ ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے۔” عیسٰی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
” سورۃالمائدہ میں اللّٰلہ فرماتا ہے: ” اے ایمان والو! جب تم اٹھو(صلٰوۃ) ادا کرنے کے لئے تو دھو لو اپنے چہرے اور بازو کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر، دھو لو اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور سارا بدن پاک کر لو۔” ۔۔۔ اور اللّٰلہ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں جو کبھی بدل نہیں سکتے اور بے شک اس آیت میں بھی بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔۔۔” عیسٰی نے قرآن پاک کی ایک آیت کا ترجمہ بتایا۔
” عیسٰی تم صرف ایک بہت اچھے انسان اور مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک بہت اچھے استاد بھی ہو۔” فراثیم نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔
” بہت شکریہ بھائی۔” وہ مسکرا کر بولا اور گھڑی پہ ٹائم دیکھتے ہوئے فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
” اوہ شٹ بھائی انکل عبداللہ کا لیکچر سٹارٹ ہونے والا ہے ان کا لیکچر مس نہیں کر سکتا ورنہ پاپا سے میری اچھی خاصی واٹ لگوادیں گے اس لئے مجھے اب اجازت دیں اللّٰلہ حافظ۔” وہ تیزی سے کہتا وہاں سے تقریبا بھاگتا ہوا کلاس کی طرف گیا۔ سمیرا کلاس میں جا چکی تھی لیکن نائکا اپنی کلاس اٹینڈ کرنے کے لئے دوسری کلاس میں جا ہی رہی تھی کہ عیسٰی اسے زبردستی واپس اپنی کلاس تک لے آیا۔
” کہاں بھاگے جا رہی ہو؟” عیسٰی اسے کلاس تک لے آیا لیکن وہ اندر نہیں گئی۔
” میری بائبل کی کلاس ہے وہیں جا رہی ہوں اور کہاں جاؤں گی۔” نائکا نے اسے گھورا۔
” تو آج ہمارے ساتھ کلاس لے لو ویسے بھی آج سٹِفنَس بھی نہیں آیا تو تم بھی بور ہوتی رہو گی میری تو مجبوری ہے میں انکل عبداللہ کی کلاس مس نہیں کر سکتا اس لئے پلیز آج تم میرے ساتھ بیٹھ جاؤ نا پلیز۔” عیسٰی کی التجا پہ اسے اس کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے اور وہ اس کے ساتھ کلاس میں چلی گئی۔ وہ اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گئی۔ ناجانے کیوں آج نائکا کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی وہ بہت دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی حافظ عبداللہ نے عیسٰی کی طرف اشارہ کیا تو تلاوت کے لئے خود کو کمپوز کرنے لگا۔ نائکا نے سکارف گلے میں لپیٹ رکھا تھا۔
” سکارف سر پہ اوڑھو۔” عیسٰی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اس نے نا سمجھی میں سر ہلاتے ہوئے جلدی سے سکارف سر پہ لپیٹا۔ عیسٰی نے نظریں جھکاۓ سورۃلاخلاص کی تلاوت شروع کی۔ سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں سوائے نائکا کے وہ بنا پلک جھپکے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ تلاوت مکمل ہو چکی تھی لیکن نائکا ابھی بھی اسی چہرے کو دیکھ رہی تھی لیکچر میں کیا پڑھا کیا نہیں وہ کچھ بھی نہ سمجھ پائی تھی کیونکہ وہ ابھی بھی تلاوت کہنے والے کی رس گھولتی آواز میں گم تھی۔
” عیسٰی آج تلاوت میں کیا پڑھا تم نے؟” کلاس ختم ہونے کے بعد وہ تینوں باہر آ چکے تھے جب وہ اس سے مخاطب ہوئی۔
” کیا مطلب۔۔۔ میں نے قرآن کی ایک سورۃ کی تلاوت کی تھی شاید تمہیں سمجھ نہیں آئی۔” وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ سمیرا پاس کھڑی موبائل پہ کچھ ٹائپ کر رہی تھی۔
” وہ تو میں سمجھ گئی تھی لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس سورۃ تھا کیا مطلب اس کا ترجمہ کیا تھا۔” سمیرا کے ہاتھ ایک پل کے لئے رکے۔ دونوں اب نائکا کو دیکھ رہے تھے۔
” اس کا مطلب یہ تھا۔۔۔ فرما دیجیئے وہ اللّٰلہ ایک ہے۔ اللّٰلہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔” عیسٰی نے بہت نرمی سے ترجمہ سنایا۔
” تمہیں عربی بھی آتی ہے؟” نائکا نے ایک اور سوال کیا۔
