Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 11,12)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 11,12)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
کیا بک رہے ہو ؟ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے یہ سب کرنے کی خوامخواہ الزام لگا رہے ہو۔۔۔ دیکھو یہ تم دونوں کا آپس کا مسئلہ ہے میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔” ہادی نے اپنا رخ ثوبان کی طرف کیا۔ وہ دونوں آپس میں الجھ پڑے۔ سٹِفنَس کو کسی بھی بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ لوگ اصل میں لڑ کیوں رہے ہیں۔ مارگریٹ نے بھی بولنا شروع کر دیا وہ ہادی کی فیور میں بول رہی تھی۔ سٹِفنَس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کسے سنے کسے سمجھاۓ کیا کرے اس کی بات کوئی سننے کو تیار ہی نہیں تھا سب بس اپنی سنا رہے تھے۔
” سٹِفنَس عیسٰی کو بولو فوراً میری ڈائری واپس کرے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔” نائکا بھاگتی ہوئی ان لوگوں کو اگنور کئے سٹِفنَس سے مخاطب ہوئی۔ عیسٰی بھی اس کے پیچھے چلتا ہوا اسی طرف آ رہا تھا۔
” بس تم دونوں کی کمی تھی۔” سٹِفنَس سر پکڑے وہیں سیڑھیوں پہ بیٹھ گیا۔
” ارے واہ یہاں تو پوری فلم چل رہی ہے۔۔۔ کیا ہوا ان لوگوں کو ایسے کیوں جھگڑ رہے ہیں یار فلم میں بھی میوزک نہ ہو تو فلم کا مزہ نہیں آتا۔” عیسٰی نے مارگریٹ، ثوبان اور ہادی کو دیکھ کر فون پہ میوزک پلے کیا۔ نائکا اسے غصے سے گھور رہی تھی۔ سمیرا عیسٰی کو دیکھ کر ہنس رہی تھی۔اب وہ سٹِفنَس کو دیکھ کر میوزک بند کر چکا تھا۔
” ایک منٹ ایک منٹ سب ادھر دیکھو۔۔۔ ہاں اب ہو جاؤ شروع پھر سے۔” اب وہ ان سب کی ویڈیو بنا رہا تھا۔
” عیسٰی تم میری ڈائری واپس کرو گے یا نہیں۔ دیکھو اس میں کوئی لیکچر نوٹ نہیں کیا ہوا آج یہ غلطی سے کوئی اور ڈائری لے آئی ہوں پلیز واپس کر دو۔۔۔ میں کل خود تمہیں دوسری ڈائری لا کے دوں گی۔” نائکا نے پیار،غصے،التجائی ہر طریقے سے اس سے ڈائری لینے کی کوشش کی مگر وہ مسلسل سر نفی میں ہلاتا سب کے اردگرد چکر لگاتا ان کی ویڈیو بنا رہا تھا۔
” عیسٰی کے بچے تجھے میں نہیں چھوڑوں ڈیلیٹ کر یہ ویڈیو۔” ثوبان کو اب عیسٰی پہ غصہ آ رہا تھا۔ کیونکہ وہ ساتھ کمنٹری بھی کر رہا تھا جس میں یہ الفاظ ثوبان کو چبھے تھے۔ ” ہادی اور مارگریٹ نے مل کر ثوبان سندھو جیسے ہاتھی کو نست و نابود کر دیا۔۔۔” ابھی آگے نا جانے وہ کیا کیا بول رہا تھا کہ ثوبان اس کی طرف لپکا۔ اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ ثوبان پیچھے پیچھے اور عیسٰی اس کے آگے کیمرہ اس کی طرف کئے بھاگ رہا تھا۔ہادی بھی عیسٰی کے پیچھے بھاگا۔ مارگریٹ اور نائکا سٹِفنَس کے دائیں بائیں چپ کر کے بیٹھ گئیں۔
” چپ کیوں ہو گۓ؟ تھک گۓ ہو کیا۔” سٹِفنَس طنزیہ بولا۔
” بھائی وہ۔۔۔” مارگریٹ نے صفائی پیش کرنا چاہی مگر سٹِفنَس نے اسے ہاتھ کے اشارے سے ٹوک دیا۔
” میری ڈائری۔” نائکا نے رونے والی شکل بنائی۔
” کچھ نہیں کرے گا تمہاری ڈائری کو۔ کل واپس کر دے گا۔ میں گھر جا رہا ہوں اگر جانا ہے تو چلو۔” سٹِفنَس نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلتا بنا۔ وہ دونوں اسے بے یقینی سے دیکھتی گئیں۔ پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر اس کے پیچھے چلنے لگیں۔ آج نائکا کا دل بہت بری طرح سے کانپ رہا تھا وہ رونا چاہتی تھی مگر سٹِفنَس کی وجہ سے روئی نہیں آخر وہ کیا سوچے گا میں ایک ڈائری کے لئے رو رہی ہوں۔ سٹِفنَس بھی آج ان سب کے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ چکا تھا۔ سب اپنے مسائل اسی کے پاس لیکر جاتے مگر بات تو تب ہے جب اس کی کوئی سنے بھی تو۔
رات کو سونے سے پہلے نائکا نماز پڑھ کر ابھی دعا کر رہی تھی کہ عیسٰی سے یا تو ڈائری گم ہو جائے یا جو وہ چھپانا چاہ رہی تھی وہ اسے نظر ہی نہ آۓ مگر شاید اس نے دعا کرنے میں تھوڑی دیر کر دی تھی۔ بیڈ پہ جانے سے پہلے وہ اپنا فون چیک کر رہی تھی کہ عیسٰی کا میسج ملا۔
” پریشان مت ہونا میں نے تمہاری ڈائری بہت سنبھال کر رکھی ہے
۔”
نائکا کے ہاتھ سے موبائل بے اختیار نیچے گرا۔
” اوہ شٹ۔۔۔ اب میں کیسے نظریں ملاؤں گی اس سے۔” وہ بیڈ پہ لیٹے سوچنے لگی۔
عیسٰی وہی ویڈیو دیکھ رہا تھا جب اسے ویڈیو میں نائکا کی شکل دیکھ کر اس کی ڈائری یاد آئی اور ڈائری کھولنے کی گساخی کی۔جس کے بعد اس نے نائکا کو میسج کیا تھا۔ ڈائری کے پہلے صفحے پہ بڑا سا نائکا سلیمان لکھا تھا دوسرے پہ کسی کی آنکھوں کا بڑی بے رحمی سے سکیچ بنا ہوا تھا جس کی پہچان کرنا مشکل تھا کچھ پیجز ایسے ہی تھے جن کو دیکھ کر عیسٰی نے دلی افسوس کیا۔ نہ جانے کس کی آنکھوں کی شامت آئی ہے۔ وہ منہ میں ساتھ بڑبڑا رہا تھا۔ آگے جو آنکھوں کا سکیچ بنا ہوا تھا اسے کوئی بھی پہلی جھلک میں پہچان سکتا تھا وہ عیسٰی کی آنکھیں تھیں جو نائکا نے بڑی مہارت سے بنائی تھیں۔ عیسٰی کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گۓ تھے۔ سکیچ کے نیچے کچھ لکھا ہوا تھا۔
سادہ سے اک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکھیں ہیں
جو دیکھے ان کا ہو جائے
جو اترے وہ ٹھہر نہ پائے
کتنے سپنے جاگ رہے ہیں
ان پلکوں کے ساۓ ساۓ
شمع سحر سی، چارہ گر سی، نامہ بر سی آنکھیں ہیں
انجانی پہچانی بھی، اپنی بھی بیگانی بھی
ایک ہی منظر کا حصہ ہیں
عکس بھی اور حیرانی بھی
ساحل جیسی لگتی ہیں وہ اور بھنور سی آنکھیں ہیں
سادہ سے اک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکھیں ہیں
عیسٰی بار بار اس غزل کو دہرا رہا تھا جو اس کی مسکان کو گہری کئے جا رہی تھی۔ اس کے لئے یہ سب نا قابل یقین تھا۔ آج تو ان دونوں کو نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ وہ ڈائری سینے پہ رکھے پھر سے وہی ویڈیو دیکھ رہا تھا اور نائکا کے چہرے کے تاثرات اب سمجھ کر ہنس رہا تھا۔
” یہ لڑکیاں بھی نہ کتنی چھپی رستم ہوتی ہیں۔” وہ ہنستے ہوئے بولا۔ تبھی اس کے فون پہ کسی کی کال آنے لگی۔ رات کا ایک بج رہا تھا اور معاذ اسے اپنے کمرے میں بیٹھے کال کر رہا تھا۔ عیسٰی نے فوراً کال رسیو کی۔ وہ اس وقت اس کی کال دیکھ کر پریشان ہوا اور کمرے سے باہر نکلا۔ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
” بھائی پلیز جلدی سے میرے کمرے میں آ جائیں۔” معاز نے صرف اتنا ہی کہا اور فون بند کر دیا۔ عیسٰی ایک منٹ میں بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں گیا۔ لاک اوپن تھا کمرے کی لائٹ آف تھی جو عیسٰی نے جاتے ہی آن کی۔ معاذ کمبل میں منہ چھپائے ڈر سے کانپ رہا تھا۔ عیسٰی نے کمبل ہٹایا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔
” معاذ کیا ہوا اس وقت کیوں بلایا سب حیریت ہے نا۔” عیسٰی نے اس کے چہرے سے بازو ہٹاتے ہوئے پوچھا۔
” بھائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز مجھے اپنے کمرے میں لے جاؤ۔” معاذ اس کے گلے لگ کر بولا۔
” اتنے بڑے ہو گۓ ہو پھر بھی اکیلے سوتے ڈر رہے ہو ایسے تو چھوٹے بچے بھی نہیں کرتے۔۔۔ جان نکال دی تھی میری چلو اب میرے کمرے میں اور آئندہ تم میرے کمرے میں ہی سو گے۔” عیسٰی اس کا ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں لے گیا۔
” لائٹ آف کر دوں؟” عیسٰی نے اس پہ کمبل ارستے ہوئے پوچھا۔
” ن نہیں بھائی مجھے ڈر لگے گا۔” معاذ نے کمبل منہ سے ہٹا کر کہا۔
” اچھا ٹھیک ہے تم سو جاؤ میں تمہارے پاس ہی ہوں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔” عیسٰی بھی اس کےساتھ بیڈ پہ لیٹ گیا۔ اسے روشنی میں اتنی آسانی سے نیند نہیں آتی تھی مگر آج معاذ کی وجہ سے اسے ایسے ہی سونا پر رہا تھا۔ وہ دو تین بار کڑوٹ بدل چکا تھا۔
” بھائی آپ لائٹ آف کر دیں اب مجھے بلکل بھی ڈر نہیں لگ رہا۔” معاذ اس کی بے چینی سمجھ گیا تھا۔ عیسٰی اس کے معصوم سے انداز پہ مسکرایا۔
” اور اگر اندھیرے میں مَیں ڈر گیا تو۔۔۔ چلو اب چپ کر کے سو جاؤ صبح کالج بھی جانا ہے نا۔ ” عیسٰی نے پیار سے اس کے بال سہلاۓ اور اسے ساتھ لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر تک دونوں بھائی سو چکے تھے۔
________________
آج نائکا نے بلیک جینز پر وائٹ ٹاپ پہن رکھا تھا۔ سکارف ہمیشہ کی طرح گلے میں مفلر کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ مارگریٹ نے بلیو جینز پر ریڈ شرٹ پہنی ہوئی تھی بال دونوں کے ہوا میں لہرا رہے تھے۔ دونوں سٹِفنَس کے ساتھ اپنے آپ میں مگن چلتی ہوئی یونی کے اندر آئیں۔ عیسٰی درخت کے ساتھ ٹیک لگائے ہادی سے کچھ کہہ رہا تھا۔ نائکا اسے دیکھ کر ٹھٹھکی۔ اس کا دل کر رہا تھا فوراً گھر چلی جائے کیونکہ وہ جانتی تھی آج عیسٰی اسے بہت تنگ کرنے والا ہے۔
” کیا ہوا؟ ٹانگوں میں پانی پڑ گیا ہے کیا؟” سٹِفنَس نے نائکا کی سست روی دیکھتے ہوئے کہا۔
” ن نہیں تو۔” نائکا اس کی آواز پہ چونکی۔
” تو پھر میرے پیچھے کیوں چھپ رہی ہو؟” سٹِفنَس نے حیرت سے پوچھا۔ وہ سٹِفنَس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کسی بھی طرح عیسٰی سے سامنا نہ ہو۔
” تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ ڈری ڈری سی کیوں لگ رہی ہو۔ سب ٹھیک ہے نا ؟ ”سٹِفنَس کو آج وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔
” میں تو بلکل ٹھیک ہوں مجھے کیا ہو گا۔ پلیز بس تم عیسٰی کے سامنے آج صبح والی بات نہ کرنا تمہیں تو پتہ ہے اسے بس بہانا چاہیے مجھے تنگ کرنے کا۔۔۔ اور مارگریٹ پلیز تم بھی۔۔۔ یہ مارگریٹ کہاں گئی۔” ابھی وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے کہ مارگریٹ ان کی ہر بات ان سنی کر کے بھاگتی ہوئی عیسٰی اور ہادی کے پاس چلی گئی۔وہ دونوں تو اسے بس دیکھتے ہی رہ گئے۔
”ہیلو کیسے ہو آپ لوگ؟” مارگریٹ عیسٰی اور ہادی سے مخاطب ہوئی۔
”ہم تو بلکل ٹھیک ہیں پر تم لوگ اتنی لیٹ کیوں آئے ہم کب سے تم لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں۔” عیسٰی نے الٹا سوال کیا۔
” وہ نائکا بیڈ سے گر گئی تھی اس کے سر پہ تھوڑی سی چوٹ لگ گئی تھی بس اسی لئے تھوڑا لیٹ ہو گئے۔”مارگریٹ نے تفصیل بتائی۔ سٹِفنَس اور نائکا جانتے تھے کہ مارگریٹ نے لیٹ جانے کی وجہ بتا دی ہو گی اس لئے اب وہ دونوں بہت آہستہ سے چلتے ہوئے ان کے پاس جا رہے تھے۔
” کیا کیا۔۔۔ نائکا بیڈ سے کیسے گر گئی۔ بیڈ سے تو چھوٹے بچے گرتے ہیں۔” عیسٰی نے مصنوعی سنجیدگی سے پوچھا اور پھر ہنسنے لگا۔ نائکا دور سے ہی اسے دیکھ کر واک آؤٹ کر گئی کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ عیسٰی کیوں ہنس رہا ہے۔
” پتہ نہیں کیسے گر گئی شاید کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہو گا۔” مارگریٹ نے لاپرواہی سے کہا۔
” ہاہاہا لو بھلا اب چڑیلوں کو بھی ڈراؤنے خواب آنے لگے۔” عیسٰی نے ہادی کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور دونوں ہنسنے لگے۔ سٹِفنَس بھی ان کے پاس آ چکا تھا۔ عیسٰی اور ہادی کو گلے لگ کر ملا اور مارگریٹ کا کان پکڑ کر اسے گھورنے لگا۔
” بتا دیا نا آج صبح کا واقعہ۔ نائکا نے منع کیا تھا۔۔۔ اور عیسٰی تم پلیز نائکا کو تنگ نہ کرنا آج اس کا موڈ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ آج مجھے کوئی جھگڑا نہیں چاہیے۔” سٹِفنَس نے عیسٰی کو بھی وارن کیا۔
” اوکے بوس۔” عیسٰی نے سلیوٹ کیا اور سب اپنی اپنی کلاس کی جانب بڑھے۔ آج سارا دن نائکا اور عیسٰی کا سامنا نہیں ہوا۔ نائکا اس سے نظریں چڑاتی رہی تھی۔ گھر جانے سے پہلے روز کی طرح آج بھی سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ گپیں مارنے میں مصروف تھے۔ عیسٰی اور نائکا ان میں موجود نہیں تھے۔ آخر نائکا نے فیصلہ کر ہی لیا کہ عیسٰی سے دو ٹوک بات کر کے اس سے ڈائری واپس لے لوں ایسا نہ ہو وہ ڈائری کسی اور کو دکھا دے۔ کلاس بلکل خاموش تھی۔ نائکا اکیلی بیٹھی عیسٰی کو ہی سوچ رہی تھی کہ اس سے بات کیسے کی جائے۔ وہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔
” آج گھر جانے کا کوئی ارادہ نہیں کیا؟” نہ جانے کب سے وہ اس کے سامنے بازو سینے پہ باندھے کھڑا مسلسل اسے ہی گھور رہا تھا۔ وہ اس کی آواز پہ چونکی۔
” ت تم۔ تم ابھی تک گئے نہیں۔ م میں تو بس جا ہی رہی تھی۔” وہ بیگ اٹھاۓ کھڑی ہوئی اور باہر جانے کے لئے قدم بڑھائے۔
” آہاں۔۔۔ ڈائری نہیں چاہیے کیا؟” عیسٰی نے اس کا راستہ روک لیا اور بلکل اس کے سامنے دیوار بن گیا۔ وہ اسے اپنے اتنا قریب دیکھ کر دو قدم پیچھے ہوئی وہ بھی دو قدم آگے بڑھا۔ وہ مزید دو قدم پیچھے ہوئی وہ بھی مزید دو قدم آگے بڑھا۔ قدم قدم پیچھے ہوتے ہوئے وہ دیوار کے ساتھ جا لگی عیسٰی مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ نظریں جھکاۓ سرخ پڑتی رنگت سے اس کی دھڑکنوں کی آہٹ کو محسوس کر رہی تھی۔ ہاں وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ وہ اس کے دل کی دھڑکن کو سن سکتی تھی۔ نائکا کی جیسے سانسیں تھم چکی تھیں۔
” و وہ م میں نے نہیں کیا تھا۔ پتہ نہیں کیسے ہو گیا۔” وہ کپکپاتی آواز میں بولی۔
” تو اس میں شرمانے والی کون سی بات ہے۔” عیسٰی نے نرمی سے مگر شریر لہجے میں کہا۔ نائکا نے ایک لمحے کے لئے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ آنکھیں بند کر گئی کیونکہ ابھی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ عیسٰی سے پہلے کی طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔
” میری ڈائری۔” نائکا نے ڈائری کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
” ہمم۔۔۔ ڈائری تو تمہیں مل جائے گی مگر میری ایک شرط ہے اگر وہ شرط پوری کر دو گی تو یہ ڈائری والی بات صرف ہم میں رہے گی۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔” عیسٰی نے ڈائری بیگ سے نکال کر اس کے سامنے انگلیوں پہ گھمائی۔
” کیسی شرط۔” نائکا نے حیرت سے پوچھا۔
” تمہیں اپنا نام بدلنا ہو گا۔” عیسٰی نے سنجیدگی سے کہا۔
” وہ کیوں؟ میرے نام سے تمہیں کیا مسئلہ ہے۔ ایسے کیسے نام بدل لوں۔” نائکا نے حیرت سے کہا۔
” جتنی محبت تمہیں میری آنکھوں سے ہے اس سے کہیں ذیادہ نفرت مجھے تمہارے نام سے ہے۔ پتہ نہیں کیوں ماں باپ بنا سوچے سمجھے اپنے بچوں کے نام رکھ لیتے ہیں۔ کم ازکم نام کا مطلب تو دیکھ لینا چاہیے بولنے لائق ہے بھی یا نہیں۔” عیسٰی نے سابقہ لہجے میں کہا۔
” تمہارا نام محمد عیسٰی علی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ہر کسی کے نام سے نقص نکالتے پھرو۔” نائکا نے خفگی سے کہا۔
” سٹِفنَس اور مارگریٹ بھی تو ہیں ان کے ناموں کے معنی تو برے نہیں نا۔ تمہارا تو نام لیتے ہوئے بھی کبھی کبھی مجھے شرم آتی ہے۔مجھے ان لوگوں پہ بھی غصہ آتا ہے جو تمہیں تمہارے نام سے پکارتے ہیں۔” عیسٰی ذرا غصے سے بولا۔ وہ بھی بغیر سوچے سمجھے۔ نائکا یہ سن کر کچھ بھی بول نہ پائی۔ ڈائری پہ عیسٰی کی گرفت ڈھیلی تھی وہ ڈائری بھول چکا تھا۔ اسی چیز کا فائدہ نائکا نے اٹھایا۔ اس نے اس کے ہاتھ سے ڈائری کھینچی اور تیزی سے بھاگتی ہوئی باہر کی جانب بڑھی۔ عیسٰی اس کی نم ہوتی آنکھوں میں اس قدر ڈوب چکا تھا کہ اسے روک بھی نہیں پایا۔
” تمہیں تمہارے نام کی قسم اگر تم نے اس بارے میں کسی کو بھی بتایا تو۔۔۔ اگر تمہیں اپنے نام سے ذرا بھی محبت ہے تو تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گے۔” نائکا دروازے کے پاس جا کر رکی اور مڑ کر عیسٰی کو دیکھا جو وہیں کھڑا مڑ کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنی بھرائی ہوئی آواز میں اسے اس کے نام کی قسم دے کر وہاں سے بھاگی۔ عیسٰی اس کی چالاکی پہ بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کے جانے کے بعد وہ اکیلا دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے مسکراتا رہا۔
_____________
گھر پہنچتے ہی اس نے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا تھا۔ کچھ لمحے تو وہ یونہی آئینے کے سامنے کھڑی اپنا ہی عکس دیکھ کر لا شعوری طور پر مسکراتی رہی۔ لیکن مسکان کی وجہ اس کا عکس نہیں بلکہ عیسٰی تھا جسے وہ آج صبح سے سوچ رہی تھی۔ اس کے دل و دماغ پر وہی تھا۔ لیکن ایک ہی لمحے میں اس کی مسکان غائب بھی ہو گئی تھی اور اس کی وجہ بھی عیسٰی ہی تھا۔ عیسٰی کے الفاظ ابھی بھی اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ عیسٰی کو اس کے نام سے شدید نفرت ہے ایک یہی بات تھی جو اسے اب بے چین کئے ہوئے تھی۔
” شکر ہے اس نے یہ نہیں کہا کہ مجھے تم سے نفرت ہے۔ ہاں اسے صرف میرے نام سے نفرت ہے۔ کوئی کسی کے نام سے اتنی شدید نفرت بھی کر سکتا ہے بھلا۔ اس کی آنکھوں میں اتنی نفرت کیسے امڈ آئی۔۔۔” بیڈ کی کراؤن سے سر ٹکاۓ وہ اپنے نام کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ کہ آج سے پہلے کبھی کسی میرے نام کے بارے اتنا نہیں سوچا بلکہ میں نے خود بھی کبھی نہیں سوچا کہ میرے نام مطلب کیا ہے۔ کیا اتنا برا مطلب ہے جو عیسٰی کو میرا نام لیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ اسی سوچ کے اس نے اپنا موبائل پکڑا اور اپنے نام کا معنی ڈھونڈنے لگی۔ وہ دو تین ویب سائٹس چیک کر چکی تھی لیکن ہر جگہ اس کے نام کا مطلب نیگیٹو ہی تھا۔ mistress of brothel، رنڈیوں کی سردار، کوٹھے کی مالکن، وغیرہ کچھ مطلب تھے جنہیں دیکھنے کے بعد مزید اپنے نام پہ سرچ کرنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ اور اس نام کا اورین بھی ہندی تھا۔ اس نے موبائل دیوار پہ پوری قوت سے پٹخا اور ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رونے لگی۔
” میں اپنا نام ہی بدل دوں گی۔ کیوں رکھا یہ میرا نام۔ میرے گھر والوں کو ذرا بھی مجھ سے محبت نہیں۔ مجھے خود سے گھن آتی ہے۔” وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی۔ وہ عیسٰی کے لئے آج اپنا نام تو بدل سکتی تھی مگر آگے نہ جانے کیا کیا بدلنا پڑے گا۔ ابھی تو یہ شروعات تھی۔ وہ عیسٰی کے خود کو بدل سکتی تھی مگر مذہب کی ایک دیوار تھی جو دونوں کبھی بھی ایک نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن عشق مذہب کہاں دیکھتا ہے کیونکہ اس کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے۔ یہ ہر کسی کے دل میں پایا جاتا ہے۔
____________________
اگلے دن نائکا یونی نہیں گئی۔ طبیعت ٹھیک نہ ہونے کا بہانا کر آج وہ گھر اکیلی رہنا چاہتی تھی۔ آج اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ سٹِفنَس کے لاکھ اصرار پر بھی وہ ڈاکٹر کے پاس کے پاس نہیں گئی۔ آخر سٹِفنَس کو مجبوراً اس کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ وہ مارگریٹ کے ساتھ یونی چلا گیا۔ آج سارا دن سب بہت چپ چپ تھے کیونکہ ذیادہ شور کرنے والا آج خود خاموش تھا۔ آج وہ بہت بور ہو رہا تھا۔آج شور کرنے کی وجہ نہیں تھی پہلے وہ نائکا کو تنگ کرتا رہتا تھا اور سٹِفنَس اور سمیرا انہیں چپ کراتے رہتے تھے۔ سٹِفنَس کا بھی دھیان آج نائکا کی طرف تھا وہ اس کے لئے بہت فکر مند تھا۔ عیسٰی کو بھی آج شدت سے اس کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ عیسٰی اس وجہ سے بھی پریشان تھا کہ کہیں اس کی بیماری کا باعث وہ خود تو نہیں۔ کل اس نے شاید کچھ زیادہ ہی بکواس کر دی تھی۔
Episode 12
مارگریٹ تم بہت بدل گئی ہو۔ پہلے تم بہت معصوم ہوا کرتی تھی سب کی سنتی تھی سب کی مانتی تھی مگر اب تم پہلے جیسی نہیں رہی اب تم صرف اپنی منواتی ہو۔” ثوبان بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
” تو تم کیا چاہتے ہو میں تمہارے آگے پیچھے گھوموں جو تم کہو بس وہی کروں۔۔۔ ایسا پاسبل نہیں ہے ویسے بھی میرے بھائی نے کہا ہے وہ مجھے بس خوش دیکھنا چاہتا ہے سو میں وہی کروں جو میرا دل کرتا ہے۔” مارگریٹ نے لاپرواہی سے کہا۔
” تمہیں تو بس میں ہی کھٹکتا ہوں وہ ہادی اس سےتو کبھی تم نے ایسے بات نہیں کی۔” ثوبان نے ایک غصیلی نگاہ مارگریٹ پہ ڈالی جو اس کے بلکل سامنے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے کرسی پہ براجمان تھی۔مارگریٹ نے اس کی بات ان سنی کر دی اور ہاتھ میں پکڑی فائل اوپن کر کے دیکھنے لگی۔
” میں تم سے مخاطب ہوں جواب دو میری بات کا۔” ثوبان نے اس کے ہاتھ سے فائل کھینچی اور مارگریٹ کو گھورنے لگا۔
” ثوبان یہ کیا بدتمیزی ہے۔ میری فائل واپس کرو۔” مارگریٹ چلائی۔
”کیسے بھائی ہو تم کیوں اپنی بہن تنگ کرتے رہتے ہو۔ اس کی فائل واپس کرو۔” ہادی نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
” بہن میری ہے میں جو مرضی کروں تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ اور مارگریٹ تم بھی میری بات کان کھول کر سن لو آئندہ تم وہی کرو گی جو میں تمہیں کہوں گا۔” ثوبان نے اسے وارن کیا۔
” میرا صرف ایک بھائی ہے مجھے تم جیسے بھائی کی کوئی ضرورت نہیں اور اپنے یہ حکم کسی اور پہ چلاؤ مجھ پہ نہیں۔ چلو اب میری فائل واپس کرو۔” مارگریٹ نے فائل کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
” نہیں دوں گا کیا کر لو گی۔” ثوبان جان بوجھ کر اسے چڑا رہا تھا۔
” تمہیں ہادی اور عیسٰی سے مسئلہ ہے اور تم یہ چاہتے ہو کہ میں ان لوگوں سے بات نہ کیا کروں۔ تو تم میری بات کان کھول کر سن لو ان دونوں سے جب میرے بھائی کو کوئی مسئلہ نہیں تو مجھے بھی کوئی مسلئہ نہیں۔ تمہارے جو بھی مسئلے ہیں اپنے تک رکھو مجھے ان میں انوالو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میری فائل واپس کرو ورنہ میں بھائی کو بلا لاؤں گی۔” مارگریٹ نے دانت بھینچتے ہوئے کہا۔ ثوبان فائل کھول کر ایک ایک پیج چیک کر رہا تھا۔ اس میں مارگریٹ کی اسائنمنٹ تھی جو اس نے یونی آ کے ہادی سے کمپلیٹ کروائی تھی۔ عیسٰی مسلسل ہادی کو فون کئے جا رہا تھا مگر وہ کال رسیو نہیں کر رہا تھا۔ ہمیشہ ہادی اور مارگریٹ عیسٰی لوگوں کے پاس جاتے تھے مگر آج عیسٰی اور سٹِفنَس ان کا انتظار کرتے ہوئے خود ہی ان کی کلاس میں چلے گۓ تھے۔ مارگریٹ گھٹنوں کے بل بیٹھی رو رہی تھی اسائنمنٹ کے پیج فرش پہ بکھرے تھے۔ ایک پیج کے تین چار ٹکڑے مارگریٹ کے ہاتھ میں تھے۔ ہادی اور ثوبان لڑ رہے تھے دونوں نے ایک دوسرے کو گریبان سے پکڑ رکھا تھا۔ عیسٰی اور سٹِفنَس ان کو دیکھ کر ہکے بکے رہ گئے۔ مارگریٹ کو ایسے روتے دیکھنا سٹِفنَس کے لیئے بہت تکلیف دہ تھا۔ عیسٰی نے ہادی کو بازو سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا۔ سٹِفنَس نے مارگریٹ کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
” بھائی میری اسائنمنٹ۔” مارگریٹ نے کاغذ کے ٹکڑے ہاتھ میں دکھاتے ہوئے سٹِفنَس کو بتایا۔ سٹِفنَس اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ عیسٰی کو پاس دیکھ کر ثوبان ہاتھ کا مکا بنا کر عیسٰی کے منہ پہ مارنے کے لیئے اس کی طرف بڑھا لیکن سٹِفنَس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ثوبان نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن سٹِفنَس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
” اگر عیسٰی کو تمہارا ہاتھ بھی لگ جاتا تو قسم خدا کی تمہارا ہاتھ نہ توڑ دیتا تو میرا نام بھی سٹِفنَس نہ ہوتا۔” سٹِفنَس نے سرخ ہوتی آنکھوں سے دانت بھینچتے ہوئے کہا۔ اور ساتھ ہی پوری قوت سے ایک مکا ثوبان کے منہ پہ رسید کیا۔ اس کے ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا۔
” یہ مارگریٹ کو رلانے کے لیئے ایک چھوٹا سا تحفہ۔” سٹِفنَس نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا اور مارگریٹ کو ساتھ کا ہاتھ پکڑ کر باہر چلا گیا۔ عیسٰی نے استہزایہ مسکراہٹ ثوبان کی طرف اچھالی اور شرارت سے آنکھ دبائی۔ ثوبان تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ وہ سب جا چکے تھے مگر ثوبان ابھی بھی بے یقینی سے وہیں کھڑا نا جانے کیا کیا سوچ رہا تھا۔ بدلہ لئے بغیر تو وہ رہ نہیں سکتا تھا اگر سٹِفنَس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو نا جانے اس کے ساتھ کیا کیا کرتا لیکن ابھی وہ خاموش کیونکہ وہ سب ایک تھے اور یہ اکیلا ایک تھا ان سے مقابلہ کرنا مشکل تھا۔ سو اس نے گھر جا کر سٹِفنَس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا
___________
رات کو سب ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھے ڈنر لے رہے تھے جب ثوبان گھر میں داخل ہوا۔ سلیمان صاحب کو سلام بول کر وہ ان کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گیا۔ نائکا نے اسے کھانے کا پوچھا مگر اس نے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ وہ کھانا کھا کر آیا ہے۔ سٹِفنَس نے اسے دیکھا ہی نہیں وہ مسلسل اسے اگنور کر رہا تھا جبکہ مارگریٹ مسلسل اسے منہ بسورے گھورتی جا رہی تھی۔ وہ جان بوجھ کر اس وقت آیا تھا کیونکہ وہ ایک طرح سے سلیمان صاحب سے ان دونوں کی شکایت بھی کرنے آیا تھا۔ ہونٹ کا کنارہ پھٹا ہوا تھا۔
”ثوبان یہ تمہارے ہونٹ پہ چوٹ کیسے لگی۔” سلیمان صاحب نے حیرت سے پوچھا جس پہ نائکا اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگی۔
” انکل یہ آپ اپنے چہیتے بھتیجے اور بھتیجی سے پوچھیں یہ انہی کا دیا ہوا تحفہ ہے۔” ثوبان نے سٹِفنَس اور مارگریٹ کو گھورا جو ابھی بھی اسے ان سنا کئے کھانے میں مصروف تھے۔جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔
” کیا مطلب۔۔۔ تم لوگوں کا کوئی جھگڑا ہوا ہے کیا؟ سٹِفنَس یہ کیا کہہ رہا ہے؟” سلیمان صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا۔ نائکا نا سمجھی میں سٹِفنَس کو دیکھ رہی تھی کہ اگر کوئی جھگڑا ہوا بھی تھا تو ان دونوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔
” انکل ہم نے اس سے کوئی جھگڑا نہیں کیا اسے خود ہی شوق ہے دوسروں سے پنگے لینے کا۔” سٹِفنَس نے نرمی سے کہا۔
” انکل میں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا تھا اس نے کسی ایرے غیرے کے لیئے مجھے اتنی بے رحمی سے مارا لیکن میں نے اسے پھر بھی کچھ نہیں کہا کیونکہ یہ مجھ سے بڑا ہے اور میں اس کی بہت عزت کرتا ہوں۔ تمہیں میرا ساتھ دینا چاہیے تھا نا کہ ان کے ساتھ مل کر مجھے مارنا چاہیے تھا۔” ثوبان نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا۔
” سٹِفنَس تم بڑے ہو تمہیں ان کو سمجھانا چاہیے تھا۔” سلیمان صاحب نے ثوبان کا چہرہ دیکھ کر بولے۔
”انکل مارگریٹ میری بہن ہے ہمارا خون کا رشتہ ہے یہ کوئی غیر نہیں میرے لئے اور جو بھی اسے رلاۓ گا میں اس کے ساتھ یہی سلوک کروں گا۔ ابھی میں نے تمہیں صرف وارن کیا ہے اگر آئندہ اسے رلانے کی کوشش بھی کی تو تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کیا کر سکتا ہوں آج تو میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا مگر آئندہ احتیاط سے۔” سٹِفنَس نے دانت بھینچتے ہوئے کہا اس کے سامنے پھر سے مارگریٹ کے آنسو آۓ تھے اس کا غصہ ابھی بھی کم نہیں ہوا تھا۔
” ثوبان کیا کہا تم نے مارگریٹ کو۔۔۔ بتاؤ۔” سلیمان صاحب نے سختی سے پوچھا۔
” ک کچھ بھی تو نہیں میں بھلا اسے کیوں کچھ کہوں گا یہ تو میری بہن ہے۔ میں تو اس عیسٰی اور ہادی کی بات کر رہا تھا۔” ثوبان کی زبان پھسل رہی تھی۔
” انکل یہ مجھے بہت بہت زیادہ تنگ کرتا ہے۔ سارا دن مجھ سے لڑتا رہتا ہے۔ ہر بات پہ روک ٹوک یہ نہ کرو وہ نہ کرو، اس سے نہ ملو بس ساۓ کی طرح میرے ساتھ چپکا رہتا ہے مجھے بہت عجیب لگتا ہے مجھے ایسی روک ٹوک کی عادت نہیں ہے۔ اور آج تو اس نے میری اسائنمنٹ بھی پھاڑ دی اور جس نے بنائی تھی اس سے بھی جھگڑا کیا اس نے وہ تو شکر ہے بھائی آ گۓ اور جھگڑا ختم ہوا۔” مارگریٹ تیزی سے بولتی جا رہی تھی اور ثوبان کا تو بس نہیں چل رہا تھا اس کی زبان ہی کاٹ دیتا۔
” ہاں تو مجھے تمہاری فکر ہوتی ہے اسی لئے تو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہوں۔۔۔ اور سٹِفنَس تم۔۔۔ تم تو نائکا کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ عیسٰی سارا دن اسے پریشان کرتا رہتا ہے مجال ہے جو تم اسے ایک بار بھی روکو۔۔۔” ثوبان بات کو گھما رہا تھا۔ ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ سٹِفنَس نے اس کی بات کاٹ دی۔
”پہلی بات مارگریٹ صرف میری بہن ہے اور تمہیں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں دوسری بات اگر نائکا کو عیسٰی یا کسی اور سے کبھی بھی کوئی مسلئہ ہوا تو وہ مجھے کہے گی تو میں سب کو دیکھ لوں گا اور تیسری بات عیسٰی ہمارا دوست ہے اور میں اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا اگر آئندہ میرے سامنے اس کے خلاف زہر اگلا تو میں بھول جاؤں گا تم میرے کچھ لگتے ہو۔” سٹِفنَس نے انگشت شہادت کی انگلی سے اسے کہا۔ اب ثوبان کے پاس الفاظ کم پڑ رہے تھے اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیا بولے۔
” مجھے نہیں پتہ تم لوگ یونیورسٹی میں کیا کرتے ہو کیا نہیں تم لوگوں کا آپس کا مسئلہ ہے لیکن آئندہ بہتر ہو گا اگر یونیورسٹی کے مسئلے وہیں رکھے جائیں اور ثوبان تم ہمیشہ انسان پہچاننے میں غلطی کرتے ہو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں عیسٰی سے مسئلہ کیا ہے مجھے تو اس لڑکے میں کوئی برائی نظر نہیں آئی۔ وہ بہت شریف لڑکا ہے۔ خیر کوشش کرو تمہارے دل میں جو بھی غلط فہمیاں ہیں ان کو جلد از جلد دور کرو۔” سلیمان صاحب نے آخری الفاظ کہے اور اپنی نشست سے اٹھ کر سب کو خدا حافظ کہا اور اپنے کمرے میں چلے گۓ کیونکہ تھکاوٹ کی وجہ سے وہ مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھے اور سٹِفنَس پہ تو وہ آنکھ بند کر کے یقین کرتے تھے وہ جانتے تھے کہ اس کی کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔
” میری ایک بات لکھ لو یہ لڑکا جس کے لیئے تم مجھ سے الجھ رہے ہو جو اپنی جان سے بھی پیارا ہے تمہیں دیکھنا ایک دن خون کے آنسو رلاۓ گا تم سب کو۔۔۔ میری بات یاد رکھنا۔” جانے سے پہلے ثوبان سٹِفنَس پہ چلایا اور لمبے ڈگ بڑھتا وہاں سے چلا گیا۔ مارگریٹ بھی سونے کے لئے جا چکی تھی۔ نائکا ابھی بھی سٹِفنَس کے ساتھ والی کرسی پہ خاموش بیٹھی تھی۔
” نائیکا شاید تمہیں بخار ہو رہا ہے میں جانتا ہوں تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہو گا ابھی بھی ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا۔” سٹِفنَس نے اس کی پیشانی پہ ہاتھ رکھ کر بخار کا اندازہ لگایا۔ اس کی آواز پہ وہ چونکی تھی۔
” ک کیا مطلب بخار ہو رہا ہے میں نے تمہیں بتایا تو تھا میری طبیعت صبح سے ٹھیک نہیں ہے شاید اسی لئے کچھ کھانے کا دل نہیں کر رہا۔” نائکا نے کہتے ہوئے پھر سے نظریں جھکا لیں۔
” ہاں میں جانتا ہوں پچھلے دو دن سے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے لیکن تمہیں بخار ابھی ہوا ہے صبح تمہیں بخار نہیں تھا۔” سٹِفنَس نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔ نائکا اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی یعنی وہ سب جانتا تھا وہ اسے اس سے ذیادہ جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نائکا کسی الجھن میں ہے مگر اس نے اسے بتانے پر فورس نہیں کیا کیونکہ پہلے وہ خود ہر بات شیئر کر لیا کرتی تھی مگر آج وہ نہیں بتانا چاہتی تھی کیونکہ ہر بات بتانے والی بھی نہیں ہوتی۔
” سونے سے پہلے میڈیسن ضرور لے لینا میں نے تمہاری سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دی ہے۔” سٹِفنَس نے پیار سے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ جب تک وہ اپنے کمرے میں نہیں چلا گیا تب تک نائکا اسے پیچھے سے دیکھتی رہی۔
_____________________
اگلے دن نائکا بھی یونی گئی تھی تینوں کزنز آپس میں باتیں کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے آ رہے تھے عیسٰی ان کو دور سے دیکھ کر مسکرا دیا۔ ہر روز کی طرح آج بھی سٹِفنَس نے اسے گلے لگایا جیسے برسوں کے بچھڑے دوست برسوں بعد مل رہے ہوں۔ مارگریٹ نے بھی روز کی طرح اسے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہیلو بولا ۔ نائکا نے بھی مسکرا کر سلام بولا۔ آج ان کے کنزیکٹو لیکچر تھے سو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کا ذیادہ موقع نہیں ملا۔ لاسٹ لیکچر کے بعد عیسٰی نائکا کو ڈھونڈتے ہوئے لائبریری پہنچا۔ آج سے پہلے وہ کبھی لائبریری نہیں گیا تھا۔ وہاں بلکل خاموشی اور پرسکون ماحول تھا نائکا بھی ایک سائیڈ پہ بیٹھی کوئی اسائنمنٹ تیار کر رہی تھی۔ عیسٰی اس کے بلکل سامنے بیٹھ گیا اور لائبریری کا سرسری جائزہ لینے لگا۔ عیسٰی کی دائیں جانب ایک سانولی رنگت لیکن پرکشش شکل کا حامل ایک لڑکا جو ان کا سینیئر تھا بڑے غور سے عیسٰی کو دیکھ رہا تھا۔ مگر عیسٰی اس بات سے انجان نا جانے کہاں گم تھا۔
” تم یہاں کیا رہے ہو؟ ” نائکا اچانک اسے اپنے سامنے بیٹھے دیکھ کر چونکی۔
” میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔ تم بہت کیوٹ لگ رہی ہو۔” عیسٰی نے مسکراہٹ دبائی۔
”لائن مار رہے ہو ؟ ” نائکا نے آہستہ سے کہا۔
” پاگل لڑکی یہ بھی کوئی جگہ ہے لائن مارنے کی۔ میں تو بس تمہیں دیکھ رہا ہوں۔ تم آرام سے اپنا کام کرو میں تمہیں بلکل بھی ڈسٹرب نہیں کروں گا۔” عیسٰی نے ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر پھر اسے گھورنے لگا۔
” عیسٰی تم مجھے ڈسٹرب کر رہے ہو اگر تم مجھے ایسے ہی دیکھتے رہو گے تو میں کام کیسے کروں گی۔۔۔ ویسے تم اتنے اچھے ہو نہیں کہ صرف مجھے دیکھنے کے لئے تم لائبریری تک آنے کی گستاخی کرو۔۔۔ اب بولو کیوں آئے ہو یہاں کیا کام ہے۔ اگر تو تم اسائنمنٹ کے لیئے مکھن لگانے آۓ ہو تو میں پہلے ہی بتا دوں میں کوئی اسائنمنٹ نہیں بنا کے دینے والی۔” نائکا نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ وہ لڑکا ابھی بھی عیسٰی کو ہی دیکھ رہا تھا۔
” نائکا میں تمہیں ایسا لگتا ہوں۔ میں تو بس تم سے کچھ پوچھنے آیا تھا لیکن تم نے تو میرا دل ہی توڑ دیا۔” عیسٰی نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔
” مجھے نائکا مت کہو۔۔۔ مجھے نفرت ہے اس نام سے۔ پوچھو کیا پوچھنا ہے۔” نائکا نے سنجیدگی سے کہا۔ پہلے تو عیسٰی کچھ لمحے خاموش اسے دیکھتا رہا مطلب وہ ابھی بھی اس بات کے لئے خفا تھی۔
” تو پھر تمہیں کیا کہوں؟ جھانسی کی رانی کہہ لوں؟ ” نائکا اس کی مصنوعی معصومیت پہ اسے گھورنے لگی۔
” تو جھانسی کی رانی میں نے پوچھنا یہ تھا کہ آپ کل یونی تشریف کیوں نہیں لائیں کل میں نے آپ کو بہت زیادہ مس کیا۔” عیسٰی نے شریر لہجے میں کہا۔
” اووو تو جناب مجھے مس کر رہے تھے وجہ جان سکتی ہوں؟ ” نائکا نے حیرت سے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا۔
” جی بلکل کیوں نہیں۔۔۔ وہ کیا ہے نا جب تک میں تمہیں پریشان نہ کر لوں مجھے کھانا ہضم نہیں ہوتا کل میں سارا دن بھوکا رہا کچھ بھی نہیں کھایا گیا۔” عیسٰی نے رونے والی شکل بنا کر کہا۔
” میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔” نائکا نے بھی اسی کے لہجے میں کہا۔
” اوہ سو سیڈ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچ رہا تھا تم پرسوں بیڈ سے گری تھی بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار تم گر چکی ہو یاد ہے نا۔۔۔ اور چوٹ بھی ہمیشہ سر پہ لگتی ہے تو مجھے لگا شاید تم سچ مچ میں پاگل ہو گئی ہو اور اگر تم آج بھی نہ آتی تو میں سمجھتا تم پاگل خانے چلی گئی ہو۔” عیسٰی نے آہستہ سے مگر پھر سے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
” عیسٰی میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔” نائکا نے کتاب اسے مارنے کی غرض سے اٹھائی اور اس پہ چلائی۔ لائبریری میں بیٹھے سب ان کو سر اٹھا کر دیکھنے لگے۔ عیسٰی نے اپنے دونوں بازو سر پہ رکھے۔ لائبریرین ان ان کو گھورا عیسٰی نے دونوں ہاتھ کانوں کو لگاتے ہوئے وہیں سے معذرت کی۔ وہ لڑکا نائکا کے ہاتھ میں اتنی موٹی کتاب دیکھ کر اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن جلد ہی وہ اپنے جذبات کو کنٹرول کر کے بیٹھ چکا تھا۔ عیسٰی نے ایک حیران کن نظر اس پہ ڈالی۔
” اب تمہیں کھانا بہت اچھے سے ہضم ہو جائے گا۔ اب میں اپنی اسائنمنٹ تیار کر لوں؟” نائکا نے طنزیہ کہا۔
” ہاں شاید۔۔۔ تمہارا کتنا کام رہ گیا ہے۔” عیسٰی پھر اسے پہلے کی طرح دیکھنے لگا تھا۔
” میرا کام ابھی بھی اتنا ہی ہے جتنا پہلے تھا تم مجھے کچھ کرنے دو گے تو کچھ ہو گا نا۔۔۔ پلیز اب ایسے نہ دیکھو میں کام نہیں کر پاؤں گی۔” نائکا نے کہتے ہوئے پلکیں جھکائیں۔
” کیوں یار میں تو بلکل خاموش ہوں صرف تمہیں دیکھ ہی تو رہا ہوں۔۔۔ لگتا ہے تمہیں مجھے سے شرم آ رہی ہے۔” عیسٰی نے مسکراہٹ دبائی۔
” مطلب تم نہیں جاؤ گے مجھے ہی جانا پڑے گا ۔” نائکا اپنا سامان سمیٹنے لگی۔
” اوکے اوکے میں جا رہا ہوں میں بس یہ بتانے آیا تھا کہ سٹِفنَس تھوڑا بزی ہے سو اس کا انتظار مت کرنا آرام سے کام کرو جب وہ فری ہو گا خود ہی یہاں آ جائے گا۔” عیسٰی جو کہنے آیا تھا کہہ کر چلا گیا۔ لیکن جانے سے پہلے اپنے سینئر لڑکے فراثیم کو سلام کہتا گیا وہ ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پتہ نہیں وہ لڑکا کچھ پڑھ بھی رہا تھا کہ نہیں۔ عیسٰی کو اسے دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ بھائی فراثیم اسے کیوں اتنا دیکھتے ہیں۔ عیسٰی کے جانے کے بعد نائکا ہلکا سا مسکرائی پھر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
___________
” معاذ جلدی آؤ ورنہ میں تمہیں چھوڑ کے چلا جاؤں گا۔” عیسٰی گاڑی کے پاس کھڑا گھڑی پہ ٹائم دیکھتے ہوئے بے چینی سے بولا۔ وہ یونی جانے کے لئے باہر کھڑا معاذ کا انتظار کر تھا جو ابھی بھی ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔ دونوں کو ایک ہی گاڑی میں جانا تھا۔
”بھائی پلیز مجھے چھوڑ کے مت جایے گا میرا آج کوز ہے۔۔۔ میں بس دو منٹ میں آیا۔” معاذ اندر بیٹھے بول رہا تھا۔ عیسٰی اسے لینے اب اندر ہی آ گیا تھا۔
” تم سے کتنی دفعہ بولا ہے اتنا لش پش ہو کے یونی نہ جایا کرو ایویں نظر لگ گئی تو۔” زینب بیگم عیسٰی کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھیں۔
” اوہو ماما کیا ہو گیا ہے آپ کو وہاں سب ایسے ہی جاتے ہیں۔۔۔ اب پلیز نظر نہ اتارنے بیٹھ جایے گا میں خود بھی آیت لکرسی پڑھ سکتا ہوں راستے میں پڑھ لوں گا ابھی میں لیٹ ہو رہا ہوں۔” عیسٰی نے ڈارک گلاسز نکالے اور معاذ کا بیگ اٹھایا۔
” ایک منٹ رکو۔” زینب بیگم نے اس کا بازو پکڑا اور جلدی سے سر پہ دوپٹہ اوڑھ کے آیت الکرسی پڑھنے لگیں۔ عیسٰی اور معاذ پہ ایک ساتھ پھونک مار کر اس کا بازو اپنی گرفت سے آزاد کیا۔ اتنے میں معیز صاحب بھی اپنے کمرے سے تیار ہو کر باہر آۓ۔
” اب اپنے شوہر پر بھی کچھ پڑھ کے پھونک دیں۔” عیسٰی نے ان کے کان میں شرارت سے سرگوشی کی اور ساتھ ہی زینب بیگم کا گال چوما اور خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کو بھاگا۔ عیسٰی کی دیکھا دیکھی آج معاذ نے بھی زینب بیگم کا گال چوما اور جلدی سے عیسٰی کے پیچھے بھاگا۔
” اللّٰلہ میرے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔” زینب بیگم نے دل ہی دل میں دعا کی۔
” بیگم اب ذرا ہم پہ بھی توجہ فرما لیں ہمیں بھی آفس جانا ہے ۔” معیز صاحب ہاتھ میں ٹائی پکڑے زینب بیگم کی جانب بڑھے۔
