Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 02)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

وہ اپنے سٹڈی ٹیبل پہ بیٹھی، بڑے مہذب طریقے سے سر پہ دوپٹہ اوڑھے کتاب پڑھنے میں مصروف تھی، اس کے پیچھے بیڈ پہ بیٹھی سمیرا بہت بے صبری سے اس کا انتظار کر رہی تھی کہ کب وہ اُٹھے اور وہ دونوں باتیں کریں۔

” نائکا۔۔۔ میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہوں، اب چھوڑ بھی دو جان اس کتاب کی، کب سے تم اس کتاب میں گم ہو۔۔۔ میں اکیلی بیٹھی بور ہو رہی ہوں اور تم ہو کہ میری ہر بات ان سنی کئے جا رہی ہو۔” بالآخر سمیرا تھک ہار کے بے چینی سے اس سے مخاطب ہوئی۔ وہ دونوں ہاسٹل میں روم میٹس تھیں۔

نائکا چند لمحے خاموش رہی پھر بڑے پیار اور ادب سے کتاب بند کر کے اسے اپنی جگہ پر رکھ کر سمیرا کے پاس جا بیٹھی۔

”کیا ہے؟ تمہیں کتنی دفعہ بولا ہے کہ جب میں کچھ پڑھ رہی ہوتی ہوں تو آوازیں نہ دیا کرو میں ڈسٹرب ہو جاتی ہوں۔۔۔ اب بولو کیا بات کرنی ہے؟” نائکا ذرا بے رخی سے بولی۔

”تم ایسا کیا پڑھ رہی تھی جو تم پڑھنے کے دوران بول نہیں سکتی؟ ” سمیرا نے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا۔

”میں بائبل پڑھ رہی تھی۔ ” نائکا اب کی بار قدرے نرمی سے بولی۔

”اوہ اچھا، تو تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا نا۔۔۔ تاکہ میں تمہیں ڈسٹرب نہ کرتی۔۔۔ ویسے تمہیں یہ کتاب صبح کے وقت پڑھنی چاہیے اس وقت میں نے تم سے باتیں کرنی ہوتی ہیں۔۔۔ میں بھی صبح فجر کے بعد ہی قرآن پڑھتی ہوں کیونکہ صبح کا وقت ہی مقدس وقت ہوتا ہے۔ ” نائکا اس کی بات پہ بے اختیار ہنس دی۔

”تم سے یہ کس نے کہا کہ ایسی مقدس کتابوں کو پڑھنے کے لئے کوئی خاص مقدس وقت مقرر ہوتا ہے۔۔۔ ایسی مقدس کتابوں کو پڑھنے کے لئے کوئی مقدس وقت مقرر نہیں ہوتا بلکہ ہم جس وقت بھی یہ کتابیں پڑھتے ہیں وہی وقت ہمارے حق میں مقدس ہو جاتا ہے۔ ” نائکا کرسچن تھی مگر وہ باقی تمام مذاہب کا بھی بہت احترام کرتی۔

” ہاں، یہ تو ہے۔” سمیرا نے اس کی بات کا اعتراف کیا۔

” ہاں بس یہی ہے۔۔۔ اب بتاؤ کیا باتیں کرنی تھیں۔” نائکا نے موضوع بدلا۔

” میں سوچ رہی تھی کیوں نہ اس ویک اینڈ پے ہم کشمیر پوائنٹ جائیں۔۔۔ میں وہاں کبھی نہیں گئی پلیز تم میرے ساتھ چلو تمہیں تو ہر جگہ کا پتہ ہو گا میں تو نئی آئی ہوں۔” سمیرا میٹرک کے بعد پہلی بار مری آئی تھی۔ ابو کی جاب کی وجہ سے جہاں ٹرانسفر ہونا پڑتا سمیرا کو بھی وہیں شفٹ ہونا پڑتا۔

” اچھا جی، تو میڈم کا آؤٹنگ کا موڈ ہے۔۔۔ چلو ٹھیک ہے اس ویک اینڈ تمہیں کشمیر پوائنٹ بھی دکھا دیں گے۔۔۔ تم بھی کیا یاد کرو گی۔” نائکا نے ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا۔ سمیرا اس کی بات سن کر خوشی سے اچھلنے لگی۔

_____________________

” دیکھو عیسٰی، ابھی تم اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ آرمی کے لئے اپلائی کر سکو اور تم ہو بھی اتنے کمزور۔۔۔ تمہارا قد بڑھ گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تم بہت برے ہو گئے ہو۔ آرمی والے بہت سخت جان ہوتے ہیں، ان کی روٹین، ان کی ٹریننگ، یہ سب بہت مشکل ہوتا ہے، اور تمہارے لئے ابھی یہ سب کرنا ممکن نہیں۔۔۔ دو سال بعد اگر تم اپلائی کرنا چاہو تو کر سکتے ہو میں نہیں روکوں گا تب تک تم ایف۔ایس۔سی کر لو اور پھر جو تمہارا دل کرے کر لینا، میرے خیال سے تمہیں دو سال جم بھی لگانا چاہیے۔” معیز صاحب بڑے پیار سے عیسٰی کو سمجھا رہے تھے کہ شاید وہ پیار ہی سے مان جائے۔ عیسٰی بھی کسی سوچ میں پڑ گیا۔ اپلائی تو وہ ایف۔ایس۔سی کے بعد بھی کر سکتا تھا۔

” ٹھیک ہے پاپا۔۔۔ میں صرف اور صرف آپ کی خوشی کیلئے ایف۔ایس۔سی کر لوں گا۔۔۔ لیکن اس کے بعد میں وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا۔” بالآخر عیسٰی کسی نہ کسی طریقے مان ہی گیا۔ معیز صاحب نے اس خیال سے یہ بات کہی کہ شاید دو سال بعد یہ آرمی کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے۔ معیز صاحب نے عیسٰی کا کندھا تھپکا اور شاباش بیٹے کہہ کر کمرے سے باہر چلےگئے۔

اگلے ہی دن عیسٰی نے اپنے دوستوں کے ساتھ آؤٹنگ کا پلین بنایا۔ عیسٰی جانتا تھا کہ معیز صاحب اسے کالج لیکر جانے والے ہیں لیکن پھر بھی اس نے اپنا ذہن نہیں بدلا اور دوستوں کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گیا۔

” پاپا جی۔۔۔” بے حد ادب و احترام اور نرم لہجے میں۔

”ہوں۔” معیز نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

” دو دن بعد میری کلاسز اسٹارٹ ہو جائیں گی، پھر میں پڑھائی میں مصروف ہو جاؤں گا۔ ” رات کو ڈائننگ ٹیبل پہ عیسٰی نے بات شروع کی۔ اس کے چہرے پہ مصنوعی افسردگی تھی۔ معیز صاحب اس کی بات سن کر زیرلب مسکرائے۔

” بالکل بیٹا۔۔۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت پڑھائی کو دو۔ ”

” جی پاپا بالکل ایسا ہی ہو گا لیکن۔۔۔لیکن میرے گھومنے پھرنے کے دن ختم ہو جائیں گے اور دوستوں سے بھی اب زیادہ وقت دور رہنا پڑے گا۔ ” عیسٰی کے چہرے پہ دکھ کے تاثرات یوں تھے جیسے اس کے گھومنے پھرنے کے نہیں بلکہ اس کی زندگی کے دن ختم ہو رہے ہوں۔

” کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔” معیز صاحب کے لہجے میں سنجیدگی نمایاں تھی۔ معاذ کھانا کھا کر سو چکا تھا۔

” جی پاپا وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں یہ دو دن اپنے دوستوں کے ساتھ گزاروں، پھر منڈے سے میری کلاسز بھی تو شروع ہو رہی ہیں۔۔۔ سب دوستوں نے آؤٹنگ کا پلین بنایا ہے اور مجھے بھی ساتھ جانے کے لئے بولا ہے۔” عیسٰی کی نظریں کھانے پہ مرکوز تھیں۔

” اور یقینًا آپ نے دوستوں کو ہاں بول دیا ہو گا۔” معیز صاحب نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔

” نہیں نہیں۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔ میں نے تو کہا تھا اگر پاپا مان گئے تو ہی جاؤں گا۔” عیسٰی کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ معیز صاحب نے نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے حیرت بھری نگاہ عیسٰی پہ ڈالی۔ بات اتنی بڑی نہیں تھی مگر عیسٰی پھر بھی ڈر رہا تھا۔

” ویسے جانا کہاں ہے؟” زینب بیگم نے کھانا کھاتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔

” زیادہ دور نہیں بس یہ اسلام آباد تک۔ ایک دن کے لئے جا رہے ہیں کل صبح جائیں گے اور رات کو واپس۔” عیسٰی نے فوراً سے پہلے جواب پیش کیا۔ معیز صاحب نے اس کا افسردہ چہرہ دیکھتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے ہی دی۔ عیسٰی بہت خوش تھا کہ اس کی اداکاری رنگ لے آئی۔ خود عیسٰی لاہور رہتا تھا مگر دوستوں نے آؤٹنگ کے لئے مری کا پلین بنایا سو عیسٰی نے جھوٹ بول کر اجازت نامہ حاصل کیا۔

___________

نائکا جھیکا گلی کافی عرصے سے رہ رہی تھی بلکہ بچپن ہی یہاں گزرا تھا۔ وہ کلاس فور سے ایک کرسچن بورڈنگ سکول میں رہی تھی۔ مارگریٹ اور سٹِفنَس بھی اسی سکول میں پڑھے تھے۔

” چلو نائکا اب سو جاؤ۔۔۔ صبح جلدی اٹھنا ہے، تمہیں یاد ہے نہ کل ہمیں کشمیر پوائنٹ دیکھنے جانا ہے۔” سمیرا کمرے کی لائٹ آف کرتے ہوئے بولی۔

” ہاں بابا مجھے یاد ہے۔” نائکا نے کمبل اوڑھتے ہوئے کہا۔ سمیرا بہت خوش تھی کیونکہ مری دیکھنے کا اس کا یہ شوق پورا ہونے جا رہا تھا۔ صبح ہوتے ہی وہ دونوں ناشتے کے بعد آٹھ بجے آؤٹنگ کے لئے نکل گئیں۔

نائکا نے بلیو جینز کے اوپر اونی شرٹ پر ریڈ کوٹ پہن رکھا تھا اور گلے میں مفلر لپیٹ رکھا تھا۔ اپنی سفید اور گلابی رنگت سے ملتی جلتی ہلکی گلابی لپ سٹک کے ساتھ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ جبکہ سمیرا سادہ پنک اور بلیک شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ قمیض پر بلیک کوٹ اور گلے میں دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی۔

سب سے پہلے وہ دونوں ایک چرچ گئیں جو کہ نائکا کے بورڈنگ سکول کے قریب ہی تھا۔ وہ جب وہاں سے گزرتی چرچ ضرور جاتی۔ ” دا ٹرینیٹی چرچ” (The Trinity Church) کے گیٹ پر پہنچتے ہی سمیرا رک گئی اور کچھ سوچنے لگی۔

” کیا ہوا سمیرا، رک کیوں گئی؟۔۔۔کیا سوچ رہی ہو؟” نائکا نے سمیرا کے اچانک رکنے پر پلٹ کر اسے حیرت سے پوچھا۔

” کچھ نہیں میں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا مجھے چرچ کے اندر جانا چاہیے کہ نہیں۔”

” دیکھو سمیرا۔۔۔ اگر تم اندر چلی گئی تو کیا تمہارا مذہب بدل جائے گا یا تم بدل جاؤ گی؟ نہیں ناں؟” نائکا نے سمیرا کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا۔

” نہیں۔۔۔ کبھی نہیں۔” سمیرا نے جنجھلاتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔

” تو پھر تمہیں کس بات کا ڈر ہے۔۔۔ خدا تمہارا بھی وہی ہے اور میرا بھی۔۔۔۔ خدا تو سب کا ایک ہی ہے اور وہ دل کی باتیں بہتر جانتا ہے۔ تم صرف چرچ دیکھنے کی نیت سے اندر جاؤ گی نہ کہ کسی اور نیت سے۔ ” نائکا نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ سمیرا کا ڈر ایک دم سے غائب ہو گیا اور وہ نائکا کے ساتھ اندر چلی گئی۔

چرچ کا لان ذرا چھوٹا مگر بہت خوبصورت تھا۔ لان رنگ بھرنگے پھولوں سے مزین تھا۔ چرچ کا اندرونی حصہ(عبادت گاہ) بہت روشن تھا۔ سمیرا کو وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ ان دونوں نے اندر جاتے ہی سب سے پہلے فادر کو سلام پیش کیا۔ وہ بہت خوش مزاجی سے ان دونوں سے ملے جسے دیکھ کر سمیرا بہت خوش ہوئی۔ نائکا تو پہلے بھی کئی بار فادر سے مل چکی تھی۔ وہ دونوں تھوڑی ہی دیر وہاں رکیں اور پھر باہر چلی آئیں۔ بلاشبہ وہ چرچ بہت پیارا تھا لیکن سردی ہونے کے باوجود وہاں برف نہ ہونے کے برابر تھی۔ حسین اور خوشگوار موسم میں چرچ کے باہر کا منظر بہت ہی دلفریب تھا اور یقینًا سمیرا اسے نہ دیکھنے کے بعد ضرور پچھتاتی۔

_______________

وہ لوگ اس وقت مال روڈ پر چل رہے تھے۔ مال روڈ سے ہوتے ہوئے کشمیر پوائنٹ کی طرف جا رہے تھے۔ نائکا اور سمیرا پہلے سے وہاں موجود تھیں۔ کشمیر پوائنٹ مری کی خوبصورت ترین جگہوں میں سے ایک ہے جہاں سے کشمیر کی خوبصورت وادیاں اور دلکش مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں اکثر لوگ ویک اینڈ پے سیروسیاحت کیلئے آتے ہیں۔

کشمیر پوائنٹ پہ جہاں نائکا اور سمیرا کھڑی تھیں اس کی اپوزٹ سائیڈ پہ عیسٰی اور اس کے دوست کاشان، فرقان، ہادی اور علی کھڑے خوبصورت وادیوں کا نظارہ کر رہے تھے اور ہر جگہ کا نقش(تصاویر) لے رہے تھے۔

“Oh waaooo… what a beautiful place yar. ” سمیرا کا منہ بے اختیار کھلے کا کھلا رہ گیا جب اس نے اتنی خوبصورت جگہ دیکھی۔ وہ پہلی بار ایسے کسی دوست کے ساتھ آؤٹنگ کے لئے آئی تھی۔

” یہ تو کچھ بھی نہیں ابھی اور بھی بہت سی ایسی جگہیں ہیں جو میں تمہیں دکھاؤں گی۔” نائکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سمیرا ویڈیوز اور تصاویر بنانے میں مصروف ہو گئی جبکہ نائکا اکیلی ادھر اُدھر چہل قدمی کرنے لگی۔ وہ بہت کچھ محسوس کر رہی تھی۔ بہت عرصہ بعد وہ یہاں آئی تھی۔ پہلے مارگریٹ اور سٹِفنَس کے ساتھ آتی تھی مگر آج وہ نہیں تھے۔ وہ اتنی بھیڑ میں بھی خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی بہت ادھورا پن تھا ہر شے میں۔

موسم بہت خوشگوار تھا لیکن سردی سے محفوظ نہیں۔ ہوا کے جھونکوں سے اس کے سیاہ لمبے بال شانوں سے ٹکراتے ہوئے اس کی کمر پہ جا پھسلتے۔ سردی کی وجہ سے اس کی ناک سرخ ہو رہی تھی۔

چلتے چلتے اچانک سے اس کی چیخ نکلی، اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے اور وہ ایک ہی لمحے میں منہ کے بل بری طرح سے نیچے گر پڑی۔ اسے لگا شاید اس کا پاؤں پھسل گیا ہے مگر وہاں تو کوئی پھسلن والی جگہ ہی نہیں تھی جہاں وہ ٹہل رہی تھی وہ ایک ہموار سڑک تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ کچھ بھی اندازہ نہ کر سکی۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی اسے دیکھتا اور وہ انسلٹ فیل کرتی وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور پلٹ کے پیچھے دیکھا۔ جیسے ہی اس نے مڑ کر دیکھا اس کی آنکھیں بھی غصے سے سرخ ہونے لگیں۔ اس کے سامنے ایسا کیا تھا جسے دیکھ کر اس کا غصہ دوگنا ہو گیا۔

وہ چھ فٹ لمبا نوجوان بلیو جینز کے اوپر سفید شرٹ پہ بلیک جیکٹ پہنے، سن گلاسز لگائے، اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ایسے کھڑا تھا جیسے کوئی مجرم اپنا جرم قبول کرنے کے بعد خود کو سرنڈر کروا رہا ہو۔ شاید وہ ڈر گیا تھا کہ کہیں سچ مچ میں وہ مجرم نہ سمجھا جائے۔ نائکا اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی جبکہ وہ آس کے سامنے ایسے کھڑا تھا جیسے نائکا کو اس نے جان بوجھ کے گرایا ہو حلانکہ ایسا نہیں تھا۔

” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے گرانے کی؟ تم لڑکے ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم جو مرضی کرتے پھرو۔۔۔ اندھے ہو یا جان بوجھ کے اندھے ہونے کی اداکاری کر رہے ہو۔۔۔ گلاسز اتار کے چلو گے تو کچھ نظر بھی آۓ گا نہ۔۔۔ میں زخمی ہوتے بال بال بچی ہوں، اب سوری کہنے کی بجاۓ ایسے ٹکٹکی جما کے گھور رہے ہو۔” نائکا غصے میں تیزی سے بولتی جا رہی تھی اور اس وقت اسے خود بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بول کیا رہی ہے۔ آج نائکا کے اندر کا لڑاکا پن جاگ اٹھا تھا۔

” تو اور کیا کروں؟ جب عیسٰی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ بھی بول پڑا۔ یہ الفاظ سنتے ہی نائکا کا دل کیا اسے دو تین تھپڑ لگائے۔

” تمہیں مجھے سوری کہنا چاہیے۔” نائکا پھر سے غصے میں بولی۔

” جب میں نے تمہیں گرایا ہی نہیں تو میں سوری کیوں بولوں۔۔۔ بتاؤ کیا میں نے تمہیں دھکا دیا ہے یا تمہارے راستے میں ٹانگ اڑائی ہے جو تم میری وجہ سے گر گئی۔۔۔ میں نے تمہیں ہاتھ تک نہیں لگایا اور تم خوامخواہ مجھ شریف پر الزام لگائے جا رہی ہو۔۔۔ چلنا خود نہیں آتا اور اندھا دوسروں کو کہہ رہی ہو۔” عیسٰی بھی ذرا غصے میں آ گیا اور آتا بھی کیوں نہ جب اس کی کوئی غلطی ہی نہیں تھی تو وہ کیوں نائکا کی باتیں سنتا۔

“Just shut up!” نائکا بس اتنا ہی کہہ سکی کیونکہ وہ پہلے ہی بہت بول چکی تھی اور اس کے علاوہ کچھ بولتی بھی تو کیا کیونکہ اسے اسے خود نہیں پتہ تھا کہ وہ کیسے گری۔ نائکا یہ کہہ کر فوراً مڑی۔۔۔ جیسے ہی اس نے آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھایا عیسٰی پھر سے بول پڑا۔

” اور ہاں میڈم۔۔۔ اپنے تسمے بھی سنبھال لیں اگر پھر سے پاؤں کے نیچے آ گۓ تو الزام مجھ پہ ہی آۓ گا کہ میں نے آپ کو جادو سے گرایا ہے۔۔۔ جاگرز پہننے کا شوق ہے تو ان کو سنبھالنا بھی سیکھیں۔” بالآخر عیسٰی نے اسے شدید غصہ دلانے کے بعد اس کے گرنے کی وجہ بتا ہی دی۔۔۔ یہ سنتے ہی نائکا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ جاگرز کی وجہ سے بھی گر سکتی تھی۔ اس بار نائکا شٹ اپ بھی نہ کہہ سکی۔

عیسٰی یہ کہہ کر واپس پلٹا ہی تھا کہ اچانک سے کسی کی چیخوں کی آواز آنے لگی۔ وہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ سمیرا کی تھی جو نائکا نائکا کہتے ہوئے چلا رہی تھی۔ نائکا اس کی آواز سنتے ہی اس کی طرف دوڑی۔ عیسٰی بھی لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کے پیچھے بھاگا۔

سمیرا اس قدر موبائل میں تصاویر لینے میں مصروف تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کسی اونچی جگہ پر کھڑی ہے۔۔۔ وہ بغیر نیچے دیکھے چلتے ہوئے تصاویر لے رہی تھی۔۔۔ چلتے چلتے اس کا پاؤں پہاڑی سے پھسل گیا اور وہ نیچے گر پڑی۔ ایک اٹھی نہیں تھی کہ دوسری بھی گر گئی۔ لیکن اس کا ہاتھ ایک بڑے پتھر کو جا لگا جسے اس نے زور سے پکڑ لیا اور گرتے گرتے بچ گئی مگر وہ وہاں سے اوپر اپنی مدد آپ کے تحت نہیں آ سکی اس نے لٹکتے ہوئے زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔۔۔ سب لوگ اس کی جانب بھاگ رہے تھے۔۔۔ جلد ہی نائکا اور عیسٰی بھی وہاں آ پہنچے۔ سمیرا کو اونچائی سے لٹکتے دیکھ کر نائکا نے بھی رونا شروع کر دیا۔ نائکا کی دائیں جانب عیسٰی کھڑا سمیرا کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

” پلیز کوئی تو ہماری مدد کرے۔۔۔ میری دوست نیچے گر جائے گی۔” نائکا نے سمیرا کی طرف روتے ہوئے دیکھا اور اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

عیسٰی کے سب دوست بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ ایسی صورت کے زیراثر عیسٰی اور اس کے دوستوں نے سمیرا کو اوپر کھینچنے کی کوشش کی۔ عیسٰی تھوڑا سا جھکا پھر آہستہ آہستہ چت لیٹ گیا اور نیچے آنسوؤں میں لتھڑی بے حال سی سمیرا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ وہ جیسے ہی سمیرا کی طرف ہاتھ بڑھاتا وہ آنکھیں بند کر کے سر نفی میں ہلانے لگتی۔

” میڈم پلیز اپنا ہاتھ مجھے دیں کیوں اپنے ساتھ میری بھی جان لو گی۔۔۔ جلدی سے اپنا ایک ہاتھ مجھے دو۔ ” عیسٰی بمشکل بول پایا تھا کیونکہ وہ الٹا لیٹا ہوا تھا اس لئے اس کی سانس پھول رہی تھی۔

” نہیں تم مجھے نیچے گرا دو گے۔۔۔ یا اللّٰلہ ایک بار صرف ایک بار مجھے بچا لیں۔۔۔ آئندہ یہاں کبھی نہیں آؤں گی۔۔۔ اللّٰلہ پلیز بس ایک بار۔” سمیرا نے نیچے گہرائی کی طرف دیکھ کر آنکھیں میچ لیں اور پھر سے رونے لگی۔ عیسٰی کو غصہ آ رہا تھا۔۔۔ ایک تو وہ اس کی مدد کر رہا تھا اور اوپر سے وہ نکھرے دکھا رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *