Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 14)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

یار تم لوگوں کا کیسے دل لگ جاتا ہے لائبریری میں۔” عیسٰی نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔

”ہم لوگ لائبریری میں دل لگانے نہیں اپنا کام کرنے جاتے ہیں اور تمہیں کیا مسئلہ ہے تم اپنا کام خود کیوں نہیں کرتے ہمارے ساتھ لائبریری کیوں نہیں جاتے۔” نائکا رکی اور سینے پہ ہاتھ باندھے اسے گھورنے لگی۔

”مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں بلکہ تم لوگ میری وجہ سے ڈسٹرب ہوتے ہو خاص طور پہ تم۔۔۔ بس اسی لئے نہیں جاتا مجھے تم لوگوں کا خیال ہے نا اس لیئے اور جہاں تک بات رہی اپنا کام کرنے کی تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اپنے پیپرز میں خود حل کروں گا پکا۔” عیسٰی نے غیر سنجیدگی سے کہا۔ نائکا نے نفی میں سر ہلایا اور پھر سے چلنے لگی۔

”نائکا۔۔۔ آج تم واقعی میں جھانسی کی رانی لگ رہی ہو مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ تم اتنی پیاری ہو۔” چلتے چلتے عیسٰی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ نائکا کو لگا وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہے مگر آج عیسٰی کو وہ واقعی میں پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی کیونکہ آج اس کی لُک بہت ڈفرینٹ تھی۔ عیسٰی نے ہمیشہ اسے جینز میں دیکھا تھا لیکن آج وہ بہت پیارے بلیک فراک میں تھی دوپٹہ بھی مفلر کی طرح نہیں تھا بلکہ گلے میں ڈال رکھا تھا جو چلتے ہوئے پیچھے سے لہرا رہا تھا بال ایک سائیڈ پہ آگے ایک کندھے پہ ڈال رکھے تھے۔

”میرا مذاق اڑا رہے ہو۔” نائکا نے اس کا چہرہ دیکھ کر کہا۔

”ارے نہیں یار میں سچ کہہ رہا ہوں پتہ نہیں کیوں تمہیں میری بات پہ یقین نہیں آتا۔۔۔ بتاؤ کیا تم بدصورت ہو یا اس قابل نہیں کہ کوئی تمہاری تعریف کر سکے۔” عیسٰی نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔

”میں اس قابل ہو سکتی ہوں لیکن تعریف کرنے والے اگر تم ہو تو ظاہر ہے کوئی بھی یقین نہ کرے۔۔۔ محمد عیسٰی علی نے نائکا سلیمان کی تعریف کی۔۔۔ بتاؤ کیا کوئی بھی یہ بات سن کر یقین کر سکتا ہے؟ یہاں پہ سب کو پتہ ہے کہ تم بس مجھے تنگ ہی کر سکتے اس کے علاوہ تم سے اور کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔” اب وہ باہر آ چکے تھے۔ نائکا ادھر اُدھر لان کی طرف سمیرا کو ڈھونڈ رہی تھی۔

”باقی سب کو چھوڑو تم تو یقین کر سکتی ہو نا۔” عیسٰی نے سابقہ لہجے میں کہا وہ واقعی میں سنجیدہ ہو گیا تھا مگر نائکا کو یہی لگ رہا تھا جیسے وہ سنجیدہ ہونے کی اداکاری کر رہا ہے۔

” میں یقین کروں یا نہ تمہیں اس سے کیا۔۔۔ تم کیوں چاہتے ہو میں تمہاری بات پہ یقین کر لوں۔” نائکا مسکرائی۔

”کیونکہ مجھے ڈر ہے کہیں تم غصے میں آ کے کسی دن سچ میں میرا سر ہی نہ پھاڑ دو۔” عیسٰی بھی کہہ کے مسکرایا۔

”ہاہاہا۔۔۔ ہاں میں تمہارا سر پھاڑ بھی سکتی ہوں۔” نائکا اس کے انداز پہ ہسی۔ وہ اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتا اس کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا اور وہ اس کی باتوں پہ ہستی جا رہی تھی ان کو یہ بھی خیال نہ رہا کہ سب ان کو اتنے سلوک سے ایک ساتھ دیکھ کر حیرت سے گھور رہے ہیں۔ ان میں ایک فراثیم تھا جو ان کو حیرت سے نہیں بلکہ بڑی دکھ بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا لیکن اس کے لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ بکھری تھی کیونکہ وہ اس فیز سے گزر چکا تھا اگر دکھ تھا تو ان کے مستقبل کا نا جانے آگے ان کا انجام کیا ہو گا۔ اس نے دل ہی دل میں ان کی خوشیوں کی دعا کی تھی۔ عیسٰی ہادی کو دیکھ کر اس کی طرف بھاگا اور نائکا سمیرا کو دیکھ کر اس کے پاس جا بیٹھی۔ وہ اکیلی ایک طرف بیٹھی نا جانے کس سوچ میں گم تھی۔

” کہاں گم ہو؟ تم ہمارے ساتھ کیوں نہیں آئی سٹِفنَس بھی پوچھ رہا تم نے اپنے نوٹس بنا لئے کہ نہیں لیکن تم تو ایسی غائب ہوئی کہ پھر ملی ہی نہیں۔” نائکا نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہی سوال پہ سوال کرنے لگی۔

” دیکھو نائکا بھلے تمہیں برا لگے لیکن مجھے مارگریٹ پہ بہت غصہ آ رہا ہے اس میں عقل نام کی چیز ہی نہیں ہے۔” سمیرا غصے میں پھٹ پڑی۔

” لیکن ہوا کیا ہے اس نے ایسا کیا کر دیا۔ وہ تھوڑی نا سمجھ ہے لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ اس کے پاس عقل نام کی چیز ہی نہیں۔” نائکا نے حیرت سے پوچھا۔

” حد ہو گئی ہے یار۔۔۔ مجھے جب بھی کوئی لڑکا پسند آتا ہے وہ مجھے اس کی بہن بنا دیتی ہے وہ تمہیں یا خود کو کسی اور کی بہن کیوں نہیں بناتی۔” سمیرا نے رونے والی شکل بنا کر کہا۔

”ہاہاہا کوئی حال نہیں تمہارا بھی میں سمجھی پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔” نائکا اس کی بات پہ ہسی۔

” میں اتنی سیریس بات کر رہی ہوں اور تم ہس رہی ہو تم سے ایسی امید نہیں تھی مجھے۔” سمیرا نے ناراضگی سے کہا۔

”اچھا اچھا ٹھیک ہے اب میں سیریس ہوں تم ناراض مت ہو۔۔۔ پہلے تو تمہارا کرش عیسٰی تھا اسے تم دل سے بھائی مان چکی ہو لیکن اب ایسا کون پسند آ گیا کہ تم ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو۔” نائکا نے ہسی پہ قابو پانے کی کوشش کی اور سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔

”نہیں یار بات بھائی مان لینے یا انکار کی نہیں ہے ویسے بھی بھائی کہہ دینے سے کوئی سگا بھائی تھوڑی بن جاتا ہے۔۔۔ لیکن تم خود سوچو نا جسے ہم پسند کرتے ہوں مطلب جس کے بارے میں ہم کچھ اور سوچتے ہوں یو نو سمتھنگ سپیشل اور اچانک سے کوئی آ کے ہمیں اس کا بھائی بنا دے تو کیسا لگے گا اپنی محبت کو بھائی کہنے کا دل کرے گا نہیں نا؟ پھر میں کیوں غصہ نہ کروں۔” سمیرا تھوڑی سی ایموشنل ہو گئی۔

”اووووو محبت تو ہماری سمیرا کو کسی سے محبت ہو گئی ہے بتاؤ کون ہے وہ خوش نصیب۔۔۔ ویسے تمہاری بھائی والی بات بلکل ٹھیک ہے۔ چلو اب بتاؤ کون ہے وہ۔” نائکا اب اسے تنگ کرنا چاہ رہی تھی اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

” ک کوئی بھی تو نہیں۔ محبت کا لفظ تو غلطی سے بول دیا بس ویسے ہی کوئی پسند تھا۔۔۔ خیر چھوڑو اب کیا فائدہ بلکہ اگر اظہار محبت کر بھی دیتی تو کون سا کوئی فائدہ ہونے والا تھا ہم چاہ کر بھی ایک نہیں ہو سکتے۔” سمیرا نے گہری سنجیدگی سے کہا اور گہری سانس بھری۔

” مطلب تمہیں واقعی میں کسی سے محبت ہو گئی ہے تم ایک دفعہ بتاؤ تو سہی وہ ہے کون میں اسے منا لوں گی تم بس ایک بار اس کا نام تو بتاؤ۔” نائکا نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔

” کہا نا کوئی نہیں ہے جانے دو۔۔۔ مارگریٹ نے ٹھیک کیا یہی بہتر تھا۔” سمیرا نے بے بسی میں کہا۔

” تم بتا رہی ہو یا نہیں۔۔۔ اگر اب تم نے نہ بتایا تو میں سچ کہہ رہی ہوں میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔” نائکا نے دو ٹوک کہا۔ سمیرا نے اس کی طرف دیکھا اور کچھ لمحے خاموش رہی۔

” اچھا بتاتی ہوں لیکن مجھے اس سے محبت نہیں ہے بس مجھے وہ اچھا لگتا ہے اور پلیز کسی کو بتانا مت ورنہ سب مجھ پہ ہسیں گے میں کسی سے نظریں نہیں ملا سکوں گی۔۔۔ و وہ تمہارا کزن سٹِفنَس اچھا لگتا ہے یعنی صرف اچھا لگتا ہے اور ایسی ویسی کوئی بات نہیں۔” سمیرا بہت مشکل سے اپنے دل کی بات زباں پہ لائی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

” سمیرا آر یو سیریس۔۔۔ کیا واقعی میں۔۔۔ ہاہاہا تو اس میں چھپانے والی کون سی بات ہے یار وہ بہت اچھا ہے اور اس کی تو کوئی گرل فرینڈ بھی نہیں ہے تم کیوں پریشان ہو رہی ہو۔۔۔ ویسے تم نے کبھی شک بھی نہیں ہونے دیا کہ تم اسے پسند کرتی ہو۔” نائکا کو یہ بہت معمولی بات لگ رہی تھی۔

” نائکا میں تو سیریس ہوں لیکن تم مجھے سیریس نہیں لگ رہی تمہیں پتہ بھی ہے جو تم سوچ رہی ہو وہ نا ممکن ہے پھر بھی اتنا لائٹ لے رہی ہو۔” سمیرا اسے حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

” اوہو یار میں بھی سیریس ہوں۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ یہ سب کب کیسے ہوا۔” نائکا نے شرارت سے اس کے کندھے سے کندھا مارا۔ سمیرا مسکرائی۔

” پتہ نہیں یار بس مجھے وہ اچھا لگتا ہے جب وہ میری طرف دیکھتا ہے نا تو مجھے پتہ نہیں کیا ہوتا ہے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے۔۔۔” ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ نائکا کے لبوں نے سرگوشی کی۔

” جیسے سانس رک گئی ہو، وقت تھم گیا ہو، جیسے اس کے سوا آس پاس اور کسی چیز کا وجود نہیں بس وہی ہے اور کوئی نہیں، جیسے کسی نے جان مٹھی میں قید کر لی ہو، جیسے روح اس میں سمٹ کر رہ گئی ہو اور جسم بے حس و حرکت ہو گیا ہو، جیسے وہ لمحہ ہماری پوری زندگی ہو، جیسے ہم صرف وہی ایک نظر دیکھنے کے لئے بناۓ گئے ہوں، جیسے۔۔۔” نائکا زمین کو دیکھتے ہوئے کسی اور میں گم بولتی جا رہی تھی۔ اگر سمیرا اسے کے سامنے چٹکی نہ بجاتی تو وہ ابھی بھی نہ رکتی۔

” او ہیلو میڈم کہاں کھو گئی اتنا لمبا تو میں نے بھی نہیں تھا بولنا جتنا تم بول گئی۔۔۔ ویسے تمہیں یہ سب کیسے پتہ؟” سمیرا نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔

” م میں تو بس ت تمہاری بات کر رہی تھی۔” نائکا کی زباں لڑکھڑائی۔

” لیکن تمہاری کسی بھی بات میں مجھے میں تو نظر نہیں آئی۔۔۔ خیر۔۔۔ اگر ہم ہم مذہب ہوتے تو میں اسے ضرور پرپوز کر دیتی مگر اب یہ ناممکن ہے۔” سمیرا نے ختمی الفاظ کہے اور بیگ اور فائل پکڑنے لگی۔ اس کی آخری بات نائکا کو سن کر گئی وہ ان ساری باتوں میں یہ بات تو بھول ہی گئی تھی جو اسے سب سے پہلے سوچنے چاہیے تھی لیکن اب سوچنے کا بھی کیا فائدہ اب وہ اندر ہی اندر مر سکتی تھی مگر اپنے نفس پہ قابو پانا بہت مشکل تھا۔ محبت اگر نہ بھی ہوتی تو کیا تھا اسے عیسٰی کی عادت تو ہو ہی گئی تھی اور یہ عادت ہی تو ہوتی ہے جو ہمیں کسی کی محبت میں مبتلا کرتی ہے۔

________________

” تو بتا رہا ہے یا نہیں۔” عیسٰی ہادی کی گردن دبوچے اس سے پوچھ رہا تھا کہ وہ مسجد میں کس کام سے گیا تھا۔

” بتاتا ہوں لیکن پہلے میری گردن چھوڑ۔” ہادی نے اپنی گردن چھڑوائی۔

” چل اب بتا۔” عیسٰی نے اس کی گردن چھوڑی۔

” نہیں پہلے تم یہ بتاؤ کہ بندہ مسجد میں کیوں جا سکتا ہے مطلب کیا کیا کام ہو سکتے ہیں وہاں؟” ہادی اسے باتوں میں لگا رہا تھا۔

” مسجد میں ہم نماز پڑھنے جاتے ہیں ہاں قرآن بھی پڑھ سکتے ہیں اوررر عبادت کر سکتے ہیں اوور دعا مانگنے۔۔۔ تو کسی کو مانگنے گیا تھا؟ چل بتا اب کس کو مانگنے گیا تھا؟” عیسٰی نے کچھ سوچتے ہوئے بتایا اور اس کے بازو پہ ایک تھپکی لگ کر پوچھنے لگا۔

” تم سے کہا تھا میرے ساتھ چلو اب تم چلے جاتے تو تمہیں اسی وقت بتا دیتا لیکن اب میں نہیں بتاؤں گا۔” ہادی نے منہ بسورتے ہوئے رخ دوسری طرف کیا۔

” مطلب تو نہیں بتائے گا؟” عیسٰی نے جیسے اسے وارن کیا۔

” ہاں نہیں بتاؤں گا کیا کر لو گے۔” ہادی کہہ کر وہاں سے تیزی سے بھاگا عیسٰی بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ بھاگتے ہوئے عیسٰی کی ٹکر مارگریٹ سے لگی جو اسی کو ڈھونڈ رہی تھی۔

” سو سوری یار۔۔۔ زیادہ تو نہیں لگی۔” عیسٰی اس کا ماتھا مسلتے ہوئے بولا۔

” میں ٹھیک ہوں۔۔۔ میں کب سے تم لوگوں کو ڈھونڈ رہی ہوں کہاں غائب ہیں باقی سب مجھے آج کوئی بھی نہیں مل رہا۔میں تھک گئ بھاگتے بھاگتے۔” مارگریٹ نے بڑی معصومیت سے کہا۔

” تو تم کیوں اتنا بھاگتی ہو تم ہمیں کال کر دیا کرو بس ہم خود ہی تمہارے پاس آ جایا کریں گے۔ اس موسم میں بھی دیکھو کتنا پسینہ آ رہا ہے خوامخواہ بھاگتی رہتی ہو۔” عیسٰی نے رومال نکال کر اس کی ناک اور ماتھے پہ آئی پسینے کی چند بوندیں صاف کی اور رومال اس کے ہاتھ میں تھمایا۔

” عیسٰی تم کتنے اچھے ہو۔” مارگریٹ مسکرائی۔ وہ اسے اپنے لئے ایسے فکر مند ہوتے دیکھ کر دل ہی دل میں کھلکھلا اٹھی۔

” شکر ہے کسی کو تو اچھا لگا میں۔۔۔ چلو تمہارے بھائی کو لائبریری سے نکال کر لاتے ہیں اس کے بغیر مزہ ہی نہیں آ رہا۔” وہ اسے ساتھ لئے لائبریری کی طرف چلنے لگا۔

__________

شام کا وقت تھا جب وہ اکیلا لان میں بیٹھا نا جانے کیا کیا سوچ رہا تھا۔زینب بیگم اور معاذ اسے دو تین بار بلانے آۓ تھے کہ اندر چلو باہر سردی ہو رہی ہے مگر وہ نہیں گیا وہ بھی اپنے موڈ کا تھا چاہے سردی ہو یا گرمی کرنی اپنی مرضی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد معیز صاحب بھی گھر کے اندر داخل ہوئے وہ اسے یوں چپ دیکھ کر سیدھے اسی کی طرف بڑھے مگر وہ اپنی سوچوں میں اس قدر محو تھا کہ اسے ان کے آنے کی خبر ہی نہ ہوئی۔ کچھ لمحے معیز صاحب اسے ایسے ہی دیکھتے رہے پھر اس کے اور قریب گئے۔

” کیا بات ہے اس وقت یہاں کیوں بیٹھے ہو؟” معیز صاحب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ مگر وہ چونکا نہیں۔ معیز صاحب اس کے سامنے والی کرسی پہ براجمان ہو گئے اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔ عیسٰی نے پھر بھی کچھ نہیں بولا صرف سر نفی میں ہلانے پہ اکتفا کیا۔

” کبھی کبھی دل کرتا ہے یوں اکیلے بیٹھ کر کسی کو سوچنے کا۔” معیز صاحب نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو رات کی تاریکی میں سیاہ ہو چکا تھا۔ عیسٰی نے ایک نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔

” نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں میں تو بس ایسے ہی۔۔۔” عیسٰی نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ابھی وہ بات کرنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا۔

” باپ نہ سہی دوست ہی سمجھ کر بتا دو ایسی کیا بات ہے جس نے میرے بیٹے کو اتنی گہری سوچ میں ڈال رکھا ہے۔” معیز صاحب کا لہجہ بہت دوستانہ تھا۔

” پاپا اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کسی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا ہوں تو ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ ہاں ایک لڑکا ہے اس کے بارے میں کچھ سوچ رہا ہوں۔” عیسٰی نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔

” کیا پریشانی ہے مجھے بتاؤ۔” معیز صاحب اس کا تاثف دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے۔ عیسٰی نے فراثیم کی کہانی گوش گزار کی۔ اس کی بات پہ معیز صاحب نے آہ بھری۔

” تو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے تم انہیں سکھا دینا جو بھی وہ کہیں گے۔” معیز صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔

” پاپا میں اس لئے پریشان نہیں ہوں۔۔۔ میں تو بس ان کی زندگی کے بارے میں سوچ کر تھوڑا دکھی ہو رہا ہوں یونی میں بھی بہت خاموش رہتے ہیں ایک محبت ہی تو کی تھی اس کی اتنی بڑی سزا۔۔۔ کیا محبت صرف ہم مذہب سے ہی کرنی چاہیے۔۔۔ پاپا ایسا کیوں ہے مذہب صرف ایک کیوں نہیں ہو سکتا ہر مذہب اپنی پسند کی شادی کی اجازت دے سکتا تو پھر جب لوگ ایسا کرتے ہیں تو روکتے کیوں ہیں۔” عیسٰی نے وہ سب کہہ ڈالا جو وہ اپنی ذات کے لئے کہنا چاہتا تھا۔

” دین تو صرف ایک ہی ہے لیکن مذہب ایک سے زیادہ ہیں لیکن شروع سے لوگ جس مذہب میں رہ رہے ہیں ان کی نسلیں بھی اسی لحاظ سے چلتی آ رہی ہیں ہم لوگ تحقیق نہیں کرتے۔۔۔ ہم لوگ ایسی چیزوں پہ تحقیق کرتے ہیں جن کو آنکھ بند کر کے تسلیم کرنا چاہیے۔۔۔ اللّٰلہ نے انبیاء کرام اس لیئے نہیں بیھجے تھے کہ جاؤ اور دنیا میں اپنے اپنے مذاہب بناؤ اور تفرقے میں پڑو بلکہ اللّٰلہ تو کہتا ہے بس میری رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو۔۔۔ جیسے اللّٰلہ ایک ہے ویسے دین بھی ایک ہے اسی لئے تو اللّٰلہ نے محبت جیسی چیز بنائی تاکہ سب ایک دوسرے سے محبت کریں اگر محبت کسی ہم مذہب سے ہی ہونا ضروری ہوتی تو اللّٰلہ کبھی بھی کسی غیر مذہب والے کے دل میں ہمارے لئے محبت پیدا ہی نہ کرتا۔۔۔ اس دنیا میں کوئی بھی دل ایسا نہیں جو محبت سے خالی ہو کیونکہ یہ دنیا بھی کسی کی محبت میں ہی بنائی گئی ہے۔” معیز صاحب نے تفصیلًا جواب دیا۔

” لیکن پاپا اس میں محبت کرنے والوں کا کیا قصور۔۔۔ محبت تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے اور آپ کو پتہ ہے بھائی فراثیم کی وائف شادی کے بعد بھی اپنے مذہب میں رہ رہے ہیں۔” عیسٰی نے افسردگی سے کہا۔

” کیونکہ حقیقت میں ان کی شادی ہوئی ہی نہیں، کیا پتہ ان لوگوں نے کس کے مذہب کے مطابق شادی کی ۔۔۔ ہاں کچھ لوگ ہوتے ہیں ایسے بھی جو ایسی شادی کرنے کے بعد بھی اپنے اپنے مذاہب میں رہ رہے ہوتے ہیں لیکن فراثیم جیسے عظیم لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ وہ اس چیز کو سمجھتا ہے جو ہر کوئی نہیں سمجھتا۔” معیز صاحب نے کہا۔ عیسٰی پھر سے کسی سوچ میں گم ہو گیا۔

” زیادہ سوچو مت اور فراثیم کی ضرور مدد کرنا مجھے خوشی بلکہ فخر محسوس ہو گا کہ تم میرے بیٹے ہو۔۔۔ ویسے بھی اسلام کی تبلیغ ہر مسلمان پہ فرض ہے اور اس سے تمہیں بھی بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ سردی بڑھ رہی ہے اٹھو اندر چلو۔” معیز صاحب نے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اٹھنے کا کہا تو وہ بھی اٹھ کر ان کے ساتھ اندر چلا گیا۔ ابھی وہ اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا تھا وہ ان کی اپنی شادی کے بارے میں بھی پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا ماما نے صرف پاپا کی محبت میں اسلام قبول کیا یا کوئی اور بھی وجہ تھی۔

****************

صرف کسی کو پسند کرنا محبت تھوڑی ہوتی ہے ایسے تو بہت سے لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہمیں ان سب سے محبت ہے محبت ہر کسی سے تھوڑی ہو جاتی ہے۔ ہاں مجھے بھی اس کی صرف آنکھیں پسند ہیں اور اس کی کمپنی اچھی لگتی بس۔۔۔ ہاں بس اتنا ہی ہے مجھے کسی کوئی محبت نہیں ہوئی محبت میں تو لوگ مر مٹتے ہیں ان کی حالت ایسی نہیں ہوتی جیسی میری ہے میں تو بلکل پہلے جیسی ہوں۔ وہ کوریڈور میں کھڑی سمیرا سے ہونے والی کل کی گفتگو کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ خود کو تسلی دینے کے لیئے صرف کہہ رہی تھی کہ اسے عیسٰی سے محبت نہیں ہے مگر اندر ہی اندر اس کا دل یہ سوچتے ہوئے بند ہو رہا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس ابھی بھی ویسے کا ویسا ہی تھا اب وہ پانی پیتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ کچھ فاصلے پہ بہت سے لڑکوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ وہ چند قدم مزید آگے بڑھی جہاں اس کی کچھ کلاس فیلوز کھڑی تھیں۔

” ان لڑکوں نے کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے؟” نائکا نے حیرت سے سمیرا سے پوچھا۔

” ان کا تو روز کا معمول ہے بلاوجہ شور شرابا کرنا۔” سمیرا نے چڑ سے کہا۔

” ایک تو پہلے ہی سر میں اتنا درد ہے اوپر سے ان لڑکوں نے بھی شور کر کر کے پوری یونی سر پہ اٹھا رکھی ہے دل تو کرتا ہے ان کا سر پھاڑ دوں۔” نائکا غصے سے بولی۔

”ہاہاہا تم تو ہر روز عیسٰی کا بھی سر پھاڑتی ہو چلو آج ان کا بھی پھاڑ دو۔۔۔ لیکن پلیز جیسے عیسٰی کا پھاڑتی ہو ویسے ہی پھاڑنا ایسا نہ ہو کہ سچ مچ میں کسی کا سر پھاڑ دو۔” سمیرا نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔

” میں سچ کہہ رہی ہوں دل کر رہا ہے یہیں سے گلاس ان کے سر پہ۔۔۔” پانی کا آدھا گلاس ہی باقی رہ گیا تھا جسے اس نے پوری قوت سے ان لڑکوں کی طرف پھینکنے کی غیر ارادی کوشش کی مگر وہ گلاس کیسے ہاتھ سے پھسلا اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی اور الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گۓ۔ گلاس میں بچا پانی نائکا کے پیچھے آتے سٹِفنَس پہ گرا تھا۔ اس سے شور تو ختم ہو ہی گیا تھا مگر ساتھ نائکا کی سانسیں بھی۔ کیونکہ گلاس عیسٰی کے سر پہ لگا تھا جو اچانک سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اس کے سامنے آ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *