Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 06)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

ہاہ۔۔۔ سٹِفنَس یہ تم ہو۔۔۔؟” ہائکا اسے دیکھ کے خوشی سے بولی۔ ایک پل ک لئے تو اسے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ وہ اتنا ہینڈسم بھی ہو سکتا ہے۔وہ ان دونوں سے بہت خوش دلی سے ملی۔ مارگریٹ ایک شوخ چنچل اور زندگی سے بھر پور لڑکی تھی جو کچھ سالوں میں بہت مرجھا سی گئی تھی۔ اس کی مسکان دل چرانے والی تھی۔ یہ تو صرف سٹِفنَس ہی جانتا تھا کہ اس نے مارگریٹ کو کیسے سنبھالا تھا مگر اب اس کی کچھ پریشانی کم ہو رہی تھی اسے امید تھی کہ واپس اسلام آباد آ کر وہ پہلے جیسی ہو جائے گی۔

” تم دونوں فریش ہو جاؤ جب تک میں کھانا لگواتی ہوں۔” ہائکا کہہ کر کیچن کی طرف بڑھی۔

” ہاں تم لوگ جاؤ۔” نائکا نے مسکراتے ہوئے دونوں کو جانے کا کہا۔

” ٹھیک ہے چلے جائیں گے لیکن جانا کہاں ہے۔” سٹِفنَس نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔

” اف میں بھی نا۔۔۔ چلو میں تم لوگوں تمہارے کمرے دکھاتی ہوں۔ ” نائکا نے اپنی بیوقوفی پہ اپنا ہاتھ ماتھے پہ رکھا۔ اسے ان دونوں سے بہت سی باتیں کرنی تھیں لیکن اس وقت خوشی کے مارے وہ سب کچھ بھول چکی تھی۔ لیکن اسے اب یقین تھا کہ اگر ان کی نانو ساتھ نہیں آئیں تو یقینًا یہ لوگ اب ہمیشہ کے لیئے یہیں رہیں گے سو اب اس کے پاس بہت وقت تھا باتیں کرنے کے لئے۔

اتنی حسین اور رونقوں سے بھری دنیا بھی بہت خاموش لگتی ہے جب کوئی اپنا اس دنیا میں ہوتے ہوئے بھی ہمارے لئے نہ ہونے کے مترادف ہو۔ ہمارے لئے سب سے اہم رشتہ وہی ہوتا ہے جس سے ہم سب سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔ چاہے وہ رشتہ دوستی کا ہو، یا ہمدردی کا، یا ماں باپ کا، یا بہن بھائی کا یا شوہر اور بیوی کا یا دل سے جڑا کوئی بھی رشتہ ہو۔

اپنے ہیں تو سب کچھ ہے اپنے نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

________________

ہائیکا کی شادی اس کے پھوپھی زاد بیٹے اندریاس سے طے پائی تھی جو اسلام آباد ہی رہتے تھے۔ ان کے زیادہ رشتے دار اسلام آباد میں ہی مقیم تھے۔ اندریاس اور ان کا گھر ایک ہی ایریا میں تھا گھر ذیادہ دور نہیں تھے بس چند منٹوں کی مسافت پہ تھے۔ جیسے جیسے سب کزنز کو سٹِفنَس اور مارگریٹ کے آنے کی خبر ملی وہ لوگ ان سے ملنے نائکا کے گھر آتے جا رہے تھے۔ رات بارہ بجے تک وہ سب کزنز باتیں کرتے رہے باتوں باتوں میں وہ سب کچھ سال پیچھے چلے گئے تھے۔ لیکن وہ دونوں خاص ہائکا کی شادی کے لئے آئے تھے۔ ان کی نانو بیماری کی وجہ سے نہ آ سکیں مگر ان دونوں کو ایک بار یہاں بھیجنا ان کے لئے بہت ضروری تھا۔

” میں نے تم دونوں کو بہت بہت بہت زیادہ مس کیا۔۔۔ لیکن مجھے یقین تھا ایک نہ ایک دن تم لوگ واپس ضرور آؤ گے۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہے فادر جوزف اور سکول کے سب ٹیچرز بھی تم دونوں کو اکثر یاد کرتے رہتے تھے۔۔۔ ” سب کے جانے کے بعد اب بس یہ تینوں کمرے میں موجود تھے مارگریٹ تو سو چکی تھی مگر نائکا اور سٹِفنَس ابھی بھی فلور کشن پہ بیٹھے محوِ گفتگو تھے۔ نائکا بولتی جا رہی تھی اور وہ اس کے سامنے بیٹھا بنا پلک جھپکے اسے بڑے مزے سے دیکھ رہا تھا۔ وہ نائکا کے جذبات اور احساسات تو سمجھ رہا تھا لیکن اپنی بے بسی اور جذبات بیان کرنے کے لئے اس کے پاس الفاظ نہیں تھے وہ کیسے بتاتا کہ اس نے ایک ایک پل اکیلے کیسے گزارہ۔ نائکا کے پاس تو سب اس کے اپنے موجود تھے مگر سٹِفنَس کے پاس کیا بچا تھا صرف ایک بہن جس کی بے بسی اسے صرف تکلیف دیتی رہی تھی۔ وہ دوبارہ پرانی باتیں دہرا کے دکھی نہیں ہونا چاہتا تھا کیونکہ کہ آج وہ بھی بہت خوش تھا نائکا کو اپنے سامنے پہلے جیسا محسوس کر کے۔ سب کے وہم اور گماں غلط ثابت ہوئے تھے کیونکہ کہ سب کچھ پہلے جیسا تھا کوئی نہیں بدلا تھا۔

” نائکا۔۔۔ مارگریٹ قبرستان جانا چاہتی ہے۔ ہم کل پہلے قبرستان جائیں گے پھر شاپنگ مال، مارگریٹ نے کچھ خریدنا ہے۔ ” سٹِفنَس نے موضوع بدلا۔

” ہاں کیوں نہیں مجھے بھی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں خریدنی ہیں۔۔۔ چلو اب تم بھی سو جاؤ تھک گئے ہو گے۔ ” نائکا نے مسکراتے ہوئے گڈ نائٹ بولا ۔ وہ بھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مسکرایا اور سونے کے لئے چلا گیا۔

____________________

” ماما۔۔۔ مجھ سے یہ کتابیں نہیں پڑھی جاتیں۔۔۔ لوگ پتہ نہیں کیسے یہ کتابیں پڑھ لیتے ہیں مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں رہتا اس سے تو اچھا تھا میں بیمار ہی رہتا کم ازکم کالج تو نہ جانا پڑتا۔” شام ہونے کے قریب تھی جب زینب بیگم اس کی کتابوں کا جائزہ لے رہیں تھیں۔ وہ ان کتابوں سے اکتایا ہوا اپنا بازو سر پہ رکھے بول رہا تھا۔

” عیسٰی۔۔۔ کب عقل آئے گی تمہیں۔۔۔ جب دیکھو الٹی سیدھی بکواس کرتے رہتے ہو۔” زینب بیگم قدرے خفگی سے بولیں۔ جس پہ وہ کان بند کرنے کی بجائے آنکھیں میچ گیا تھا۔

” السلام وعلیکم۔۔۔ کیا ہو گیا ہے بہن کیوں ہمارے بیٹے کو ڈانٹ رہی ہیں۔ ” حافظ عبداللہ کی آواز سنتے ہی عیسٰی نے آنکھیں کھولی۔ عیسٰی نے تو جیسے شکر کا کلمہ پڑھا۔ حافظ عبداللہ معیز صاحب کے ساتھ آئے تھے۔

” انکل آپ ۔۔۔ کیسے ہیں۔ اتنے دنوں بعد کیوں آئے مجھے آپ سے بہت ضروری کام تھا۔ ” عیسٰی نے زینب بیگم کو تو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور کرسی گھسیٹتے ہوئے حافظ عبداللہ کی طرف رخ کیا جو کہ اس کے ساتھ والی کرسی پہ ہی براجمان تھے۔

” تمہیں مجھ سے کیا ضروری کام پڑ گیا ؟ ” حافظ عبداللہ نے نرمی سے پوچھا۔

” اتنا ضروری کام تمہیں کبھی مجھ سے کیوں نہیں پڑا۔” معیز صاحب نے سر جھکا کے عیسٰی کی نظروں کا تعاقب کیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا معیز صاحب کا فون بجنے لگا اور وہ اپنے کسی دوست سے بات کرنے میں مصروف ہو گئے۔ زینب بیگم اس کی کتابیں اٹھا کر اندر چلی گئیں۔اور ملازمہ کو چاۓ بنانے کی ہدایت دی۔

” انکل کوئی ایسا دم کر دیں جس سے ان کتابوں سے جان چھوٹ جائے، جیسے نظر کا دم کیا تھا۔۔۔ میں یہ کتابیں نہیں پڑھ سکتا۔” عیسٰی قدرے دھیمی آواز میں بولا۔

” اگر کتابیں نہیں پڑھو گے تو کیا کرو گے۔۔۔ اور ان کتابوں سے جان چھڑانے کے لئے ابھی تک کوئی دم ایجاد نہیں ہوا اور نہ ہی میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے کہ تمہارا یہ مسئلہ حل کر سکوں۔” حافظ عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” انکل میرا دل کرتا ہے مجھے کتابیں خود نہ پڑھنی پڑیں کوئی اور پڑھتا جاۓ اور میں سنتا جاؤں۔ جیسے آپ بچپن میں مجھے قرآن سے واقعات سناتے تھے وہ سب مجھے آج بھی یاد ہیں لیکن یہ کتابیں بہت عجیب ہیں۔ ” وہ نہایت دلچسپی سے بتا رہا تھا۔

” ان کتابوں کا قرآن سے کیا مقابلہ۔۔۔ اور ان کتابوں سے تو کسی بھی قیمت پہ چھٹکارہ حاصل نہیں کیونکہ ان کو پڑھے بغیر ڈگریاں نہیں ملتیں۔۔۔ ” حافظ عبداللہ ابھی بول ہی رہے تھے کہ عیسٰی نے ان کی بات کاٹ دی۔

” مطلب ان کتابوں سے چھٹکارا حاصل نہیں۔ ” عیسٰی یہ کہتے ہوئے کرسی پہ ہی نیم دراز ہو گیا۔

” عظیم کی کال تھی پھر سے بیٹے کی شادی میں شرکت کےلئے کہہ رہا تھا۔ اور شادی بھی اسی دن ہے جس دن میری بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے اگر شادی پہ بھی نہ گیا تو خوامخواہ خفا ہو گا۔” معیز صاحب اپنے دوست عظیم سے بات کرنے کے بعد حافظ عبداللہ سے مخاطب ہوئے۔

” تو مسئلہ کیا ہے میٹنگ کے لئے بھی اسلام آباد ہی جانا ہے واپسی پہ عظیم سے بھی ملتے آنا خوش ہو جائے گا۔ حافظ عبداللہ نے مسئلے کا حل بتایا۔

” پاپا مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے۔۔۔ پلیز پاپا۔” معیز صاحب ابھی اپنے بارے میں بھی فیصلہ نہ پائے تھے کہ عیسٰی ضد کرنے کے انداز میں بولا۔ وہ اپنی زندگی صرف ایک بار اپنے دوست ہادی کے بھائی کی شادی میں گیا تھا۔ کالج نہ جانے کا بھی اچھا بہانہ تھا۔

” تمہارا بیٹا اب جوان ہو رہا ہے اس سے بھی کچھ کام وام نکال لیا کرو۔ اسے ساتھ لے جاؤ تم اپنا کام نمٹا لینا اور یہ شادی میں شرکت کر لے گا کم ازکم دوست تو راضی رہے گا۔ ” حافظ عبداللہ نے عیسٰی کے اشارے پہ معیز صاحب سے سفارش ہی کی تھی۔ بلاآخر جیسے تیسے معیز صاحب اسے ساتھ لے جانے کے لئے مان ہی گئے۔

_____________

وہ لوگ صبح قبرستان سے ہوتے ہوئے اندریاس سے ملنے چلے گئے کیونکہ وہ ابھی تک سٹِفنَس اور مارگریٹ سے نہیں ملا تھا۔ وہاں سے واپسی پہ ان کو شام ہو چکی تھی اور اب وہ لوگ شاپنگ مال میں موجود تھے۔ نائکا نے اپنے لئے کچھ جیولری خریدی تھی اس کے بعد وہ لوگ اب مارگریٹ کے لئے کچھ پسند کر رہے تھے اسے گٹار چاہیے تھا بہت سے گٹارز دیکھنے کے بعد آخر اسے ایک آرکیسٹرا پسند آ ہی گیا اس نے بس ایک یہی چیز خریدنی تھی ۔ سٹِفنَس نے کچھ نہیں خریدا وہ بطور ڈرائیور استعمال ہو رہا تھا۔

شادی میں بس دو تین دن ہی باقی رہ گئے تھے مگر نائکا کے گھر تین دن پہلے ہی شادی شروع ہو چکی تھی۔ سب کزنز ساری ساری رات گپیں مارتے رہتے ۔ مارگریٹ بھی اب خوش تھی وہ اپنا دل بہلانے کے لئے میوزک کا انتخاب کرتی تھی اسے اسی میں سکون ملتا تھا۔ وہ ایک بہت اچھی میوزیشن تھی مگر اسے ہمیشہ یہی گلہ رہتا تھا کہ اس کی آواز بہت اچھی نہیں ہے۔ وہ رات بھر سب کو گانے سناتی رہتی جس پہ سب کزنز اس کا مذاق اڑاتے جس پہ وہ بہت چڑتی اور ان سے لڑتی۔ ایسے ہی ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کرتے رات گزر جاتی۔ مارگریٹ کی اب بس ایک خواہش تھی کہ اس کی آواز کسی بھی طریقے سریلی ہو جائے۔

_____________

رات مہندی کا فنکشن بہت دھوم دھام سے ہوا تھا سب بہت خوش تھے۔ صرف ایک بات تھی جو نائکا کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی وہ یہ کہ فنکشن کے بعد اندریاس سٹِفنَس اور مارگریٹ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ وہ عظیم صاحب کا اکلوتا بیٹا تھا اور زیادہ کزنز نائکا کی طرف رکے تھے اس لئے اندریاس ان دونوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گیا۔

معیز صاحب عیسٰی کے ہمراہ صبح نو بجے اسلام آباد پہنچ چکے تھے کیونکہ معیز صاحب کو بزنس کے سلسلے میں کچھ ضروری میٹنگز اٹینڈ کرنی تھیں اس لیئے انہوں نے ہوٹل میں رہنے کا فیصلہ کیا۔اس وقت وہ لوگ عظیم صاحب کے گھر کے بلکل باہر کھڑے تھے۔ عظیم صاحب بہت گرم جوشی سے ان سے ملے۔ معیز صاحب نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے اندر جانے سے معذرت کر لی۔ لیکن شام کو شادی کی تقریب میں شرکت کا وعدہ کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے اور ہوٹل کی طرف گاڑی دوڑائی۔ عیسٰی اپنی مرضی سے ساتھ آیا تھا لیکن جب اس نے معیز صاحب کو گاڑی میں بیٹھتے دیکھا اس کا دل کیا وہ بھی پاپا کے ساتھ ہی چلا جائے مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ معیز صاحب اسے اپنے ساتھ ہر گز نہیں لے کے جائیں گے۔ عظیم صاحب اسے اپنے ساتھ اندر لے کر گئے۔ اندر جاتے ہوئے اسے بہت گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی یہ سوچ کر کہ اندر بہت سے لوگ ہوں گے میں ان انجان لوگوں میں اکیلا کیا کروں گا لیکن اندر کا ماحول اس کی سوچ کے بلکل متضاد تھا۔ گھر میں بلکل خاموشی تھی جو چند لوگ موجود تھے وہ بھی غالباً ابھی تک سو رہے تھے۔

” ارے۔۔۔ ارے آرام سے بچو۔۔۔” عظیم صاحب نے سٹِفنَس اور مارگریٹ کو تیزی سے زینے اترتے دیکھ کر کہا۔ وہ دونوں نائکا کے لئے جلدی میں بھاگ رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے نائکا بہت ناراض ہو گی۔

” سلام انکل۔” دونوں نے پھولتی ہوئی سانس میں سلام کیا۔

” کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ خیریت تو ہے نا؟ ناشتہ بھی نہیں کیا؟” عظیم صاحب نے حیرت سے پوچھا۔

” جی انکل وہ بس نائکا کے پاس جا رہے ہیں وہ رات سے ہم سے ناراض ہے کال بھی پک نہیں کر رہی۔۔۔ ناشتہ بھی اسی کے ساتھ کریں گے۔” سٹِفنَس نے جلدی سے تفصیل پیش کی اور فوراً آگے بڑھا ابھی ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ عظیم صاحب نے اسے روک لیا۔ مارگریٹ وہیں کھڑی عیسٰی کو پہچان رہی تھی کہ یہ کون ہے رات تک تو ایسا کوئی مہمان نہیں تھا لیکن سٹِفنَس تو جیسے ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا اس عیسٰی کی طرف غور ہی نہیں کیا۔ وہ جو خود ایک چلتا پھرتا برینڈ تھا ان کی کسی بھی بات پر غور کرنے سے قاصر تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔

” یہ میرے ایک بہت ہی قریبی دوست کا بیٹا ہے عیسٰی۔۔۔ تم لوگ اسے بھی اپنے ساتھ لے جاؤ یہاں یہ اکیلا بور ہوتا رہے گا کم ازکم تم لوگوں کے ساتھ بور تو نہیں ہو گا۔” عظیم صاحب نے عیسٰی کو بھی ساتھ لے جانے کا کہا۔ عیسٰی کی گھبراہٹ ابھی کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ایک اور نئی جگہ جہاں لوگ بھی شاید زیادہ ہوں۔ اس کا دل کیا وہ ابھی اسی وقت بنا کچھ کہے اکیلا لاہور چلا جائے۔ وہ بہت نروس ہو رہا تھا۔

” sure… ہم اسے بلکل بھی بور نہیں ہونے دیں گے۔” سٹِفنَس نے خوش دلی سے کہا اور اسے ساتھ لئے نائکا کی طرف چل دیئے۔ ان کا اخلاق دیکھ کر عیسٰی کی نروسنیس اب پہلے کی نسبت کم تھی۔

نائکا لان میں کھڑی بے چینی سے ان کا انتظار کر رہی تھی ۔ وہ لوگ گیٹ میں کھڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ نائکا کی پشت ان کی طرف تھی۔ سٹِفنَس دبے پاؤں مگر تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور پیچھے سے اپنے ہاتھوں سے اس کی آنکھیں میچ لیں۔

” ابھی بھی کیا ضرورت تھی آنے کی۔۔۔ مجھے تم دونوں سے بات نہیں کرنی چلے جاؤ یہاں سے۔” نائکا غصے سے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے آگے بڑھی۔ اس کی پشت ابھی بھی ان کی طرف تھی۔

” ارے بات تو سنو۔” سٹِفنَس نے اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے روکا۔

” میں نے کہا نا مجھے تم دونوں سے بات نہیں کرنی۔” وہ دانت بھینچتے ہوئے بولی۔

” ہمارے ساتھ ایک مہمان بھی ہے اور مہمانوں کے سامنے ایسے بدتمیزی نہیں کرتے ڈیئر۔” اب کی بار وہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اس کے ہلتے لبوں پہ انگلی رکھتے ہوئے دھیمی سی سرگوشی کی۔ نائکا نے حیرت سے پلٹ کے دیکھا مارگریٹ کے ساتھ عیسٰی دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے ان کو دیکھ رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے چونکے پر بولے کچھ نہیں۔ سٹِفنَس نے عیسٰی کا تعارف کروایا۔

” اور یہ ہیں ہماری پیاری سی لیکن تھوڑی سی لڑاکو کزن۔۔۔ ” اس سے پہلے کہ سٹِفنَس اس کاکا نام بتاتا عیسٰی نے اس کی بات کاٹ دی۔

” نائکا” بے اختیار عیسٰی کی زبان پھسل گئی۔ نائکا کو حیرت ہوئی تھی کہ اسے ابھی بھی اس کا نام یاد ہے۔ اور یاد رہتا بھی کیسے نہ جس تفصیل سے اس نے نائکا کے نام کے بارے میں بتایا تھا وہ بھولنے والا نہیں تھا۔

” تم دونوں جانتے ہو ایک دوسرے کو؟” سٹِفنَس نے حیرت سے پوچھا۔

” جی۔” عیسٰی ندامت بھری نظروں سے بولا۔ یقینًا وہ اب پچھتا رہا تھا۔ اور نائکا بے یقینی سے اسے اپنے سامنے کھڑا دیکھ رہی تھی۔

” کب کہاں کیسے؟” مارگریٹ تجسس سے بولی۔

” جی، وہ،ہم۔۔۔ مری میں ملے تھے ان کی دوست کو ہیلپ چاہیے تھی سو میں نے کر دی۔” اس نے لڑکھڑاتی زبان سے مختصراً جواب دیا۔

” واہ کیا بات ہے۔۔۔ اتفاق سے آپ لوگ آج پھر سے مل گئے۔” مارگریٹ مسکراتے ہوئے بولی۔

” اوہ شٹ۔۔۔ یہ تو گن گن کے بدلے لے گی۔ میں کیوں آ گیا اس کے گھر۔” عیسٰی دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا۔

” چلو یار اب اندر چلتے ہیں، مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔” سٹِفنَس نے نائکا کا ہاتھ پکڑا اور راہداری سے ہوتے ہوئے آگے بڑھا۔ نائکا بچوں کی طرح اس کے پیچھے چلنے لگی۔ مارگریٹ اور عیسٰی بھی ان کے پیچھے چل دیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *