Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 09)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 09)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو مارگریٹ کمرے میں موجود نہیں تھی۔ اس نے پردے ہٹا کر کھڑکی کھول کر باہر کو جھانکا۔ سورج کی چمکتی کرنیں اس کی آنکھوں میں چبھی تھیں۔ اس نے نیچے لان کی طرف نظریں جھکائیں جہاں سٹِفنَس اور مارگریٹ براجمان تھے۔ سٹِفنَس فون پر کسی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا جبکہ مارگریٹ اس کی باتیں سن کر ہنس رہی تھی۔
” اتنی صبح یہ دونوں کس سے باتیں کر رہے ہیں۔” نائکا منہ میں بڑبڑائی۔
وہ منہ دھوئے بغیر ننگے پاؤں بال سمیٹتے ہوئے نیچے لان تک پہنچی۔ نائکا کو دیکھتے ہی وہ دونوں گِر بھڑاۓ۔ سٹِفنَس نے مدھم سی سرگوشی کرتے ہوئے فوراً فون بند کیا۔
” گڈ مارننگ ڈئیر کزن۔” مارگریٹ نے خوش دلی سے نائکا کے گلے میں بازو حمائل کرتے ہوئے کہا۔۔۔ نائکا نے بھی مسکراتے ہوئے گڈ مارننگ کہا۔
” کس کا فون تھا؟” نائکا نے سٹِفنَس سے پوچھا۔
” وہ۔۔۔ میرے دوست کا فون تھا۔ اسے میں نے بتایا تھا کہ میں اسلام آباد آ رہا ہوں۔۔۔ ملنے کے لئے اصرار کر رہا تھا، تو میں نے اسے بول دیا ہے کہ میں مارگریٹ اور نائکا کے ساتھ آج شام کو ملنے آؤں گا۔” سٹِفنَس نے مصنوعی لاپرواہی سے کہا۔ جیسے وہ سچ بول رہا ہو۔ حقیقت میں فون خود سٹِفنَس نے کیا تھا نہ کے اس کے دوست نے۔
” لیکن تم نے پہلے تو کبھی نہیں بتایا کہ تمہارا اسلام آباد میں کوئی دوست بھی ہے۔۔۔ اور اگر کوئی ہے بھی تو ہم دونوں وہاں کیا کریں گی ہم تو اسے جانتی بھی نہیں۔” نائکا اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر حیران تھی۔
” ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔ پہلے نہیں تھا لیکن اب ہے ایک دوست، ابھی کچھ دن پہلے ہی یہاں شفٹ ہوا ہے۔” سٹِفنَس نے نائکا کی طرف دیکھے بغیر ہی جواب دیا۔ وہ تھوڑا نروس تھا کہ کہیں نائکا کو شک نہ ہو جائے۔ کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی نائکا سے جھوٹ نہیں بولا تھا۔
” ہاں۔۔۔ اس کی ایک بہن بھی ہے جو میری بہت اچھی دوست ہے، کافی عرصے سے ہم لوگوں کی ملاقات نہیں ہوئی، اسی بہانے میں اس سے بھی مل لوں گی اور تمہیں بھی اس سے ملواؤں گی۔” مارگریٹ نے بھی سٹِفنَس کی ہاں میں ہاں ملائی اور بڑی صفائی سے دلکش سی مسکراہٹ لبوں پہ بکھیرتے ہوئے جھوٹ بول گئی۔
” اچھا۔۔۔ چلو ٹھیک ہے پھر میں بھی چلی جاؤں گی۔” نائکا نے نا سمجھی میں کہا۔
” اب تم فریش ہو جاؤ اور ناشتہ بھی کر لینا، ہمارا انتظار نہ کرنا۔۔۔ ہم ناشتہ کر چکے ہیں۔” سٹِفنَس نے لاپرواہی سے کہا۔
”اچھا۔” نائکا بے دلی سے کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔ وہ لان سے باہر نکل کر پلٹی اور بے یقینی سے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا جو اس کے جانے کے فوراً بعد پھر سے اپنی باتوں میں مگن ہو چکے تھے۔ اسے یہ دونوں بہت بدلے بدلے سے لگ رہے تھے۔ پہلے تو میرے بغیر کبھی ناشتہ نہیں کرتے تھے اور میرا انتظار بھی نہیں کیا۔ کیا دوست سے ملنے کی اتنی خوشی ہے جو مجھے نظر انداز کر رہے ہیں۔ کل سے ان لوگوں نے پہلے کی طرح اس سے بہت زیادہ باتیں بھی نہیں کیں۔ وہ اسی سوچ کے ساتھ تیزی سے زینے چڑھتی اپنے کمرے میں گئی اور جلدی سے فون پکڑا۔ اس نے جس امید اور یقین سے فون پکڑا تھا ویسا کچھ نہیں تھا نہ تو کسی کا میسج تھا اور نہ ہی کوئی کال۔ نائکا نے مایوسی سے فون بیڈ پہ پٹخا اور فریش ہونے چلی گئی۔
شام چھ بجے وہ تینوں پی۔سی ہوٹل کے باہر کھڑے تھے۔ وہ تینوں ایک ساتھ ہوٹل میں داخل ہوئے۔ سٹِفنَس کا دوست بلڈ کلر شرٹ کے کف فولڈ کئے، ایک بازو پہ بلیک کوٹ لٹکاۓ سر جھکاۓ موبائل میں مصروف تھا۔ شاید وہ کافی دیر سے وہاں کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا۔
” ہیلو فرینڈ۔” سٹِفنَس کی آواز پہ وہ پلٹا۔ وہ تینوں ایک ساتھ کھڑے تھے۔ نائکا تو جیسے سانس لینا ہی بھول گئ تھی۔
” ت تم۔” وہ بمشکل اتنا ہی بول سکی۔سٹِفنَس اس کے گلے لگ کے بہت گرم جوشی سے ملا تھا۔
” سرپرائزززز۔” مارگریٹ نے مسکراتے ہوئے کہا۔نائکا ان کے اس سرپرائز کو بلکل نہیں سمجھی تھی کہ یہ کیسا سرپرائز ہے۔
” اچھا! اور تم کہہ رہی تھی دوست کے ساتھ اس کی بہن بھی ہے۔۔۔ بہن کہاں ہے؟” نائکا نے مصنوعی طنز سے کہا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عیسٰی کی کوئی بہن نہیں تھی۔
” وہ تو میں۔۔۔” مارگریٹ کے بتانے سے پہلے ہی کوئی جانی پہچانی آواز آئی۔
” سو سوری گائیز، بہن ذرا لیٹ ہو گئی۔” سمیرا نے آتے ہی کان پکڑتے ہوئے سوری بولا جس پہ سب ہنس دیے۔
” سٹِفنَس یہ سب کس لئے؟” نائکا سب کو دیکھ کر خوشی سے بولی۔
” ہیپی برڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برڈے ہیپی برڈے ڈئیر نائکا۔” سب نے اسے ایک ساتھ وش کیا یہ سب اس کے لئے ناقابل یقین تھا خاص طور پر عیسٰی کو اپنے سامنے ایسے دیکھ کر وہ بھی اسے سب کی طرح خوش دلی سے وش کر رہا۔ وہ صبح سے اسی لئے بار بار فون چیک کر رہی تھی کہ کسی نے اسے وش کیوں نہیں کیا کچھ کزنز وش کر چکے تھے پر ان میں سے کسی نے بھی نہیں کیا تھا۔
” تھینکیو سووو مچ۔” یہ برڈے میری زندگی کا یادگار برڈے ہو گا۔ میں نے تو یہ سب سوچا بھی نہیں تھا۔” نائکا نے خوشی سے کہا۔اب سب کرسیوں پر براجمان تھے۔ کیک سرمنی کے بعد سب نائکا کو گفٹس بھی دے چکے تھے اب سب باتیں کرنے میں مصروف تھے باتیں کرنے کو بہت تھیں لیکن وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ سمیرا اور نائکا کے علاوہ باقی سب دو سال بعد مل رہے تھے البتہ سوشل میڈیا پر سب ایک دوسرے کے ساتھ کونیکٹڈ تھے۔
” اور سمیرا تم کب سے عیسٰی کی بہن بن گئی؟” نائکا نے شریر لہجے میں سمیرا کو آنکھ کے اشارے سے پوچھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی عیسٰی ہمیشہ اسے چارمنگ بوائے کہا کرتی تھی مگر آج مارگریٹ نے ان دونوں کو بھائی بہن بنا دیا تھا۔
” جب سے مارگریٹ نے تمہیں بتایا ہے بس تب سے میں اس کی بہن ہوں۔” سمیرا نے مصنوعی مسکراہٹ سے کہا۔
” عیسٰی تم نے بڑے ڈولے شولے بنا لئے، کیا بات ہے۔” سٹِفنَس نے عیسٰی کی باڈی دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔
” بس یار اب آرمی جوائن کرنے کا ارادہ ہے، سو ڈولے شولے تو بنتے ہیں۔” عیسٰی نے بھی شرارت میں آنکھ دبائی اور فخریہ انداز میں مسکرایا جس پہ سب نے واہ واہ کہہ کر داد دی۔
” سرپرائز کیسا لگا؟” سٹِفنَس نے نائکا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” بہت برا کیونکہ تم نے مجھے کل مجھے بہت بری طرح سے ڈرایا تھا۔” نائکا نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔ سمیرا اور عیسٰی نے ڈرانے والا واقعہ دریافت کیا۔ جو سٹِفنَس اور مارگریٹ نے بڑی پھرتی سے بتایا۔
” تو پھر یہ روئی نہیں؟” عیسٰی نے مصنوعی سنجیدگی اور حیرت سے پوچھا۔ نائکا نے ٹشو پیپر عیسٰی کو مارنے کی غرض سے پھینکا جسے وہ کیچ کر گیا۔
” ارے۔۔۔ سمیرا بتانا ذرا جب میں مری گیا تھا تب کیا ہوا تھا؟” عیسٰی نے رخ سمیرا کی جانب کیا۔
” یار اب بس بھی کر دو نا۔۔۔ اور کتنی بار یہ رونے والا قصہ سناؤ گے۔ کم ازکم آج کے دن تو ہماری نائکا کو تنگ نہ کرو، آج اس کا جنم دن ہے کچھ تو خیال کرو۔۔۔ اور ویسے بھی اب نائکا بڑی ہو چکی ہے تب وہ نا سمجھ تھی اس لئے ذرا ذرا سی بات پہ رونے لگ جاتی تھی۔۔۔ ہے نا نائکا۔” سمیرا کے بتانے سے پہلے ہی سٹِفنَس بول پڑا۔
” بلکل۔۔۔ تب میں نا سمجھ تھی لیکن اب میں سمجھدار ہو گئی ہوں۔” نائکا نے بال جھٹکتے ہوئے کہا۔ جس پہ عیسٰی اور سمیرا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر نائکا کو دیکھ کر ہنس دیے۔ سٹِفنَس اور مارگریٹ بھی زیر لب مسکرائے۔
” عیسٰی۔۔۔ جب تم آرمی جوائن کر لو گے تو سب تمہیں فوجی فوجی کہیں گے نا۔۔۔ تم فوجی کی وردی میں کتنے کیوٹ لگو گے، ہے نا۔” اس ساری گفتگو میں مارگریٹ بہت کم بول رہی تھی وہ بس ان کی باتوں پہ ہنس رہی تھی۔ اب سب اسے ہی دیکھ رہے تھے مطلب وہ جب سے عیسٰی کو فوجی تصور کئے سوچ رہی تھی۔ ![]()
” تھینکیو سو مچ ڈیئر۔۔۔ بس تم دعا کرتی رہنا میں فوجی بن جاؤں اور پاپا بھی مان جائیں۔” عیسٰی اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر مسکرایا۔
” انشاءاللہ۔” سب نے زیر لب کہا۔ وقت بہت ذیادہ ہو چکا تھا مگر باتیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں۔ گھر سے کالز آنا شروع ہو گئی تھیں مجبوراً سب کو اب اٹھنا پر رہا تھا۔ سب ایک دوسرے کو الوداعی کلمات کہتے ہوئے گھروں کو روانہ ہو گۓ مگر عیسٰی گھر نہیں گیا تھا وہ حافظ عبداللہ کی طرف جا چکا تھا کیونکہ معیز صاحب نے اسے اس وقت واپس آنے سے منع کیا تھا۔
وہ سب ایک جیسے تھے باتیں ایک جیسی، انسان ایک جیسے، پڑھنا لکھنا ایک جیسا، رہن سہن ایک جیسا۔ اگر کچھ مختلف تھا تو صرف ایک مذہب باقی سب تو ایک جیسا تھا۔ مختلف چیز پر بحث کرنے سے بہتر ہے بندہ اس چیز کو نظر انداز کرے جو کہ وہ سب کر رہے تھے آخر دوستی کا سوال تھا صرف ایک چیز کی خاطر دوستی تو خراب نہیں کر سکتے تھے۔ وہ مختلف چیز جس کے بارے میں اگر سوچا جائے تو یقینًا بہت خاص چیز تھی، مگر سوچنا کون چاہتا تھا آخر انسانیت نام کی بھی تو کوئی چیز ہے۔
________
بھائی میں سچ کہہ رہا ہوں آج میں واقعی میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔۔۔ یار بھائی اس بار تو آپ نے ہادی بھائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔” اس بار پھر سے معاذ عیسٰی کا رزلٹ دیکھ کر چونکا تھا۔
” مجھے یقین ہے تم بے ہوش نہیں ہو گے مگر میں ضرور بے ہوش ہو جاؤں گا۔۔۔ میں یہ کیسے کر سکتا ہوں۔” عیسٰی خود اپنے مارکس دیکھ کر شاک میں تھا کہ وہ اتنے اچھے مارکس کیسے لے گیا۔ شام کا وقت جب دونوں بھائی لان میں کھڑے معیز صاحب کا انتظار کر رہے تھے کچھ دیر بعد وہ بھی گھر کے اندر داخل ہو چکے تھے۔ دونوں ان کو دیکھ کر ان کی طرف لپکے اور سلام بولنے سے پہلے ہی معاذ رزلٹ کا بتانے لگا۔ معیز صاحب کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی کیونکہ وہ جانتے تھے آگے ایم۔بی۔بی۔ایس میں داخلے کے لئے ایسے ہی مارکس کی ضرورت ہو گی۔
” چلو شکر ہے اب آگے ایڈمشن میں آسانی رہے گی۔۔۔ آخر میرے بیٹے نے ڈاکٹر بننا ہے تو ایسے مارکس لینے تو بنتے ہی تھے۔” معیز صاحب نے اس کے خیالات جاننے کے لئے نرم لہجے میں ایسی بات کی۔ کیونکہ پچھلے دو سال سے عیسٰی نے ان کے سامنے آرمی کا نام تک نہیں لیا تھا۔
” کیا مطلب پاپا۔۔۔ آپ سب جانتے ہیں پھر بھی۔۔۔ آپ نے خود کہا تھا اگر مارکس اچھے لو گے تو میں کچھ نہیں کہوں گا پھر اب کیوں آپ ایسے بول رہے ہیں۔” عیسٰی نے دبی سی آواز میں کہا۔
” کیا تم ہمارے لئے اپنی ایک خواہش مار نہیں سکتے؟۔۔۔ خیر ابھی تو رزلٹ آیا ہے اب پہلے تم ٹیسٹ دو گے اور اس کے بعد دیکھیں گے کیا کرنا ہے کیا نہیں۔” معیز صاحب نے ٹالنے کے سے انداز میں کہا اور لمبے ڈگ بھرتے اندر چلے گۓ۔ عیسٰی بے ساختہ ان کو جاتے بس دیکھتا ہی رہ گیا۔
” بھائی اب کیا کرو گے؟” معاذ نے سرگوشی کی۔
” مطلب یہ لوگ ایسے نہیں مانیں گے تو پھر ٹھیک ہے جاؤ اور اپنے ماں باپ کو بتا دو جا کے۔۔۔ آج کے بعد ان کا بڑا بیٹا مر چکا ان کے لئے۔ میں ہمیشہ کے لئے گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں اور اس بار میں واپس کبھی نہیں آؤں گا اگر میری کسی کو پرواہ نہیں تو مجھے بھی کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔” عیسٰی اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
” لیکن بھائی میں اکیلا یہاں کیا کروں گا؟” اس کا غصہ دیکھ کر اس بار معاذ بھی بہت ڈر چکا تھا۔
” تم بھی وہی کرو جو تمہارا دل کرتا ہے۔ باۓ فار ایور۔” عیسٰی یہ کہہ کر لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا۔ اور معاذ بھی اسی رفتار سے اندر کی جانب بھاگا۔
” ماما پاپا۔۔۔ جلدی سے یہاں آئیں۔” معاذ پھولتی سانس سے چیخا۔
” کیا بات ہے کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے۔” زینب بیگم کیچن سے بھاگتی ہوئی آئیں معیز صاحب بھی اس کی آواز سنتے ہی کمرے سے باہر آۓ۔
” ماما وہ بھائی۔۔۔ بھائی گھر چھوڑ کر چلے گۓ ہمیشہ کے لیئے اب وہ کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے۔” معاذ نے عیسٰی کو جس حالت میں دیکھا تھا اس کے بعد وہ واقعی میں بہت ڈر گیا تھا کہ کہیں وہ اپنے ساتھ کچھ غلط نہ کر بیٹھے۔
” اللّٰلہ نہ کرے کہاں چلا گیا گھر چھوڑ کے ابھی کچھ دیر پہلے تو تمہارے ساتھ تھا اچانک سے کیا ہو جو ایسے بول رہے ہو۔۔۔ بتاؤ کہاں گیا۔” زینب بیگم پریشانی سے نڈھال بولیں۔
” کچھ دیر پہلے گھر تھے لیکن اب نہیں ہیں کیونکہ اب پاپا گھر آ گۓ ہیں آگے آپ خود سمجھ جائیں۔” معاذ کہہ کر صوفے پہ بیٹھ گیا اور زینب بیگم معیز صاحب کو گھورنے لگیں۔
” پریشانی کی کوئی بات نہیں پہلے بھی کئی بار گھر چھوڑ کر گیا ہے آج بھی مسجد میں ہی ہو گا میں اسے رات کو واپس لے آؤں گا۔” معیز صاحب نے بڑے اطمینان سے زینب بیگم کو تسلی دی۔
” جی نہیں اس بار وہ واپس نہیں آنے والے وہ بہت غصے میں گۓ ہیں۔۔۔ اور ساتھ یہ بھی کہہ گۓ ہیں کہ آج کے بعد میں آپ لوگوں کے لئے مر چکا ہوں۔” معاذ نے پھر سے تفصیل بتائی۔
” بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ آپ اسے فون کریں اور فوراً گھر بلائیں۔” زینب بیگم نے معیز صاحب سے التجا کی۔
” ان کا موبائل ان کے کمرے میں ہے۔” معاذ نے بتایا۔ معیز صاحب نے زینب بیگم کو تسلی دی اور یقین دلایا کہ وہ رات کو عشاء کے بعد اسے اپنے ساتھ لے آئیں گے۔ جب تک اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا۔
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے مسجد میں آخری صف پہ بیٹھا گھٹنوں کے گرد بازو حمائل کئے اپنا منہ چھپائے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے حافظ عبداللہ کے انتظار میں تھا۔ وہ جو اس کی موجودگی سے بے خبر نوافل ادا کرنے میں مصروف تھے۔ نوافل ادا کرنے کے بعد اب وہ عیسٰی کو یوں بیٹھا دیکھ کر اس کے بلکل سامنے جا بیٹھے تھے۔
” لگتا ہے آج پھر سے اپنے باپ سے جھگڑا کر کے آؤ ہو۔” حافظ عبداللہ نے نرمی سے کہا۔
” میں نے کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کیا۔” عیسٰی نے بھڑائی ہوئی آواز میں کہا اس کی آواز اور آنکھیں بتا رہی تھیں جیسے وہ رو رہا تھا۔
” تو پھر کیا ہوا ہے رو کیوں رہے ہو۔۔۔ بتاؤ کسی نے کچھ کہا کیا؟” حافظ عبداللہ اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے۔
” انکل پاپا چاہتے ہیں میں ڈاکٹر بنوں۔۔۔ لیکن مجھے ڈاکٹر نہیں بننا۔” عیسٰی سیدھا ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔
” بس اتنی سی بات کیلئے ہلکان ہو رہے ہو۔۔۔ تو نہ بنو ڈاکٹر جیسے اب تک پاس ہوتے آ رہے ہو ویسے ہی آگے جان بوجھ کر فیل ہوتے جانا۔ ایسے کیا دیکھ رہے ہو اب میں تمہیں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہہ اپنے ماں باپ کا کہا نہ مانو۔” عیسٰی ان کی بات پہ حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” ماں باپ نہیں صرف باپ۔۔۔ بس وہی ایسا چاہتے ہیں۔” عیسٰی نے بے رخی سے کہا۔
” کیا تم نے کبھی بھی ان سے یہ پوچھا کہ وہ کیوں ایسا چاہتے ہیں؟ نہیں نا؟ دیکھ بیٹا سادہ الفاظ میں اگر تمہیں سمجھاؤں تو بات یہ ہے کہ وہ تمہیں ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں آخر تم ان کے اکلوتے بیٹے ہو اور تمہیں شاید پتہ نہیں وہ تم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ” حافظ عبداللہ اسے بہت پیار سے کچھ سمجھانا کچھ بتانا چاہتے تھے جو وہ اب بتانا ضروری سمجھتے تھے۔ لیکن عیسٰی کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ ایسا کیوں بول رہے ہیں۔ لیکن اس کے کانوں سے دھواں تو ایک بار سن کے نکل گیا تھا۔
” اور م معاذ؟” عیسٰی نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا جو اب نظریں جھکاۓ اس کے سامنے بیٹھے تھے۔
” ہماری زندگی سے جڑی بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کا انکشاف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور تمہاری زندگی ایسا کوئی موڑ نہیں آیا تھا کہ تمہیں یہ سب بتانا ضروری ہوتا لیکن اب تمہیں بتانے کی ضرورت ہے جسے تمہیں بہت بہادری سے سننا پڑے گا۔۔۔ جب تم بہت چھوٹے تھے تب ایک سال معیز صاحب اسلام آباد میرے ساتھ رہے تھے تاکہ تم جامعہ میرے ساتھ رہو اور تمہارا ذیادہ وقت میرے ساتھ ہی گزرتا تھا۔ کئی کئی روز تم میرے ساتھ ہی سوتے تھے اسی دوران معیز صاحب نے معاذ کو اڈاپٹ کیا۔ کیونکہ زینب پھر سے ماں نہیں بن سکتی تھی۔ ایسے تمہارا بھی اکیلا پن دور کیا جا سکتا تھا۔۔۔” حافظ عبداللہ ابھی بول ہی رہے تھے کہ عیسٰی نے ایک اور سوال کیا۔
” اور کیا کیا چھپایا ماما پاپا نے مجھ سے۔۔۔ مطلب میرا کوئی سگا بھائی بھی نہیں ہے میں تو اسے اپنا سگا بھائی سمجھتا تھا۔ مطلب اگر معاذ نہ ہوتا تو میں اکیلا ہوتا ہے میرا کوئی سوتیلا بھائی بھی نہ ہوتا۔” عیسٰی کے آنسو حلق میں اٹک کے رہ گۓ تھے آنکھیں پانی سے بھر آئیں تھیں۔
” ان لوگوں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا مگر ہر بات بتانا بھی ضروری نہیں ہوتی۔۔۔ تمہارے ماں باپ بھی ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر انہوں نے ایک دوسرے کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور یہ سب تب ہوا جب وہ لوگ لاسٹ سٹیج پہ تھے بس ایک ڈگری ان کے ہاتھ لگنا رہ گئی تھی لیکن ان لوگوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اور پاکستان بھیج دیا گیا مگر ان لوگوں نے اف تک نہیں کی لیکن تمہارے ساتھ تو ابھی ایسا کچھ ہوا ہی نہیں اور نہ ہی تمہارے ماں باپ چاہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ ایسا کچھ بھی ہو۔۔۔ وہ جانتے ہیں تمہارے لئے آرمی جوائن کرنا کتنا مشکل ہے۔” حافظ عبداللہ بولتے جا رہے تھے اور وہ پھر سے اپنا منہ چھپائے بس سنتا جا رہا تھا۔
” تمہارے ماں باپ کے پاس ایک تمہارے سوا اور ہے ہی کیا ۔۔۔ بتاؤ اگر تم بھی انہیں دکھ دو گے تو وہ اور کس کے پاس جائیں گے۔۔۔ تمہاری یہ خواہش تین چار سال پہلے تمہارے دل میں پیدا ہوئی مگر معیز اور زینب کی خواہش تو تب سے ان کے دل میں حسرت بن بنی پڑی جب تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اگر وہ لوگ ڈاکٹر نہیں بن سکے تو وہ تمہیں دیکھ کر خوش ہوں گے کیا تم انہیں خوش نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ ان کی ایک یہ خواہش پوری تو کر کے دیکھو پھر دیکھنا تمہیں کس قدر سکون ملتا ہے۔” حافظ عبداللہ نے اس کے چہرے سے بازو ہٹائے۔ لیکن اس نے اپنا جھکا ہوا سر نہیں اٹھایا آنسو اس کی آنکھوں سے روانی کے ساتھ بہہ رہے تھے ۔ ابھی وہ کچھ بھی بولنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا۔ حافظ عبداللہ نے پیار سے اس کا سر چوما۔
