Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 08)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 08)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
اُف تم اور تمہاری فضول صرف لڑکیوں پہ لکھی جانے والی کتابیں جہنم میں کیوں نہیں چلی جاتیں۔” نائکا نے پھول بینچ پر پھینکنے کے سے انداز میں رکھا اور پیڑ پٹختی اندر چلی گئی۔
” کیونکہ کہ جنت میں ہم جیسی نیک چیزوں کی ضرورت ہے۔ بددعا دینے والی بری چڑیلوں کی نہیں۔” عیسٰی نے ہانک لگائی۔ اس کی آواز سنتے ہی نائکا نے غصے سے اس کو مڑ کر دیکھا اور پہلے سے زیادہ تیزی سے چلنے لگی۔ عیسٰی اس کا پھول اٹھا کر مسکرانے لگا۔ کچھ دیر بعد مارگریٹ اور سٹِفنَس بھی آ چکے تھے۔ ولیمے کی تقریب شام کو تھی۔ آج سب کزنز نے شام کو ہی آنا تھا۔ رش کم تھا۔ آج پھر سے مارگریٹ کا گٹار بجانے کا موڈ بن رہا تھا۔ آج وہ سب لاؤنج میں بیٹھے اپنے اپنے موبائل میں گم تھے کہ مارگریٹ گٹار اٹھا لائی۔ سٹِفنَس کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ اس کا موبائل زبردستی آف کر کے گٹار بجانے لگی۔ عیسٰی تو بہت امپریس ہوا مگر سٹِفنَس نے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ وہ اسے تنگ کرنے لگا تھا۔ اصل میں تو وہ عیسٰی کے لئے گٹار لیکر آئی تھی کہ اس کی سریلی آواز میں اس سے گانا سنوں گی مگر سٹِفنَس نے اسے اصرار کا موقع ہی نہیں دیا دونوں آپس میں الجھ پڑے نائکا اور عیسٰی ان کو دیکھ کر بس ہنستے ہی رہ گئے۔
ولیمے کی تقریب کے بعد ہائیکا کو لیکر سب گھر آ چکے تھے۔ اب عیسٰی کی واپسی کا بھی وقت ہو چکا تھا۔ معیز صاحب عظیم صاحب کے گھر تھے ان سے ملنے کے بعد وہ عیسٰی کو بار بار کال کر رہے تھے واپسی کے لئے۔
” ٹھیک ہے یار چلتا ہوں پاپا بار بار کال کر رہے ہیں وہ باہر میرا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی۔” عیسٰی کے چہرے پہ اداسی چھا گئی تھی۔ مارگریٹ اور سٹِفنَس بھی اداس تھے۔ کیونکہ ان دو دنوں میں بھی وہ بہت اچھے دوست بن گۓ تھے۔
” ضرور۔ اپنا خیال رکھنا اور ہمیں بھولنا مت۔ میں جب بھی اسلام آباد آیا تم سے ضرور ملوں گا۔” سٹِفنَس نے اسے گلے لگایا۔ سب کو سلام بولا اور جاتے ہوئے نائکا کو ہاتھ ہلاتے ہوئے شریر انداز میں باۓ بولا۔ وہ سب اسے باہر تک چھوڑنے آۓ تھے۔ ان دو دنوں میں جیسے وہ دو صدیاں جی گیا تھا۔ اب ایک ایک کر کے سب کو جانا تھا اور پھر سے وہی زندگی شروع ہونے والی تھی جو کچھ دن پہلے تھی اپنے اپنے گھر۔ مگر اس میں فرق یہ تھا کہ اب ایک امید وابستہ تھی پھر سے ملنے کی۔ اب وہ سب ایک دوسرے سے فون پر رابطہ کر سکتے تھے۔
__________
آج ہائیکا بھی چلی گئی تھی گھر میں شور شرابا بہت کم تھا جو بچا تھا عنقریب وہ بھی ختم ہونے کو تھا۔
” نائکا یہاں آؤ۔۔۔ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” سٹِفنَس نے اس کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے کہا اور اسے اپنے پاس صوفے پہ بیٹھایا۔ نائکا کا رخ اپنی طرف کیا۔
” مجھے بھی تم سے کچھ پوچھنا ہے لیکن پہلے تم بتاؤ کیا بات کرنی ہے۔” نائکا اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی۔
” لیڈیز فرسٹ۔” سٹِفنَس مسکرایا۔
” اچھا۔۔۔ وہ۔۔۔ میں نے تم یہ پوچھنا تھا کہ تم مجھ سے بڑے ہو، تو میں تمہیں تم کہتی ہوں تمہیں برا تو نہیں لگتا نا اگر تم کہو گے تو میں تمہیں آپ کہہ لیا کروں گی۔” نائکا جھجکتے ہوئے بول رہی تھی کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا اور شاید آج بھی نہ کہتی اگر ہائیکا اسے یہ سب نہ کہتی۔ سٹِفنَس حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا پہلے تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی وہ کیا بولے پھر اسے اس کی بات پہ ہنسی آئی۔ اب نائکا اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
” مائی ڈئیر کزن مجھے لگتا آپ پاگل ہو گئیں ہیں۔ بتاؤ کیا آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ میں نے تمہاری کسی بھی بات کا برا منایا ہو۔ میں تم سے صرف دو سال بڑا ہوں اور یہ فرق بہت ذیادہ تو نہیں اور ہم دوست بھی تو ہیں تم کیوں ایسی فضول باتیں سوچتی ہو۔۔۔ یا تم سے کسی نے کچھ کہا ہے؟ بتاؤ کیوں یہ سب بول رہی ہو۔” سٹِفنَس اس کا خاموش چہرہ دیکھ کر پھر سے مسکرایا تھا۔
” تمہیں میری کوئی بری بات بھی اس لئے بری نہیں لگتی کیونکہ تم خود بہت اچھے ہو۔” نائکا بھی مسکرائی۔
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں اصل بات بتاؤ آج اچانک ایسا سوال کیوں؟” سٹِفنَس اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” اوہو یار کچھ بھی نہیں ہے بس ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔۔۔ وہ ہائیکا نے کہا تھا کہ میں تمہیں تم نہ بولا کروں مارگریٹ بھی تمہیں بھائی کہتی تو۔۔۔ بس اس وجہ سے اور کوئی بات نہیں۔” نائکا کہتے ہوئے بے تکلفی سے نیچے اس کی ٹانگوں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اس کا سر سٹِفنَس کے گھٹنوں پر تھا۔
” یہ ہائیکا بھی نہ۔۔۔ شادی ہوئی نہیں کہ بس بن گئی بڑی سیانی پاگل، لیکن تم آئندہ اس کی کسی بھی فضول بات پر دھیان نہیں دو گی سمجھی۔” سٹِفنَس نے گہری سانس بھری اور اس کے بال سہلانے لگا۔
” ہاں بابا سمجھ گئی اب بتاؤ کیا ضروری بات کرنی تھی۔” وہ اپنے گھٹنوں میں بازو حمائل کرتے ہوئے بولی اور مڑ کے اسے دیکھا۔
” اچھا میری بات دھیان سے سنو اور جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں تب تک تم خاموش رہو گی۔۔۔ کل میں اور مارگریٹ واپس جا رہے ہیں۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم ہمیں بہت مس کرو گی اور اس بات کا بھی یقین ہے کہ تم ہمارے جانے کے بعد بہت رو گی۔”۔۔۔ وہ ٹھہر ٹھہر کے بول رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے کیسے سمجھاۓ وہ بھی بلکل خاموش ہو گئ تھی۔۔۔ دیکھو میں تم سے بڑا ہوں نہ تو تمہیں میری بات ماننا پڑے گی۔۔۔ ہماری نانو بھی ہم سے بہت پیار کرتیں ہیں انھوں نے ہمیشہ ہمارا خیال رکھا اب ان کی ہماری ضرورت ہے ایسے میں ہم انھیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تمہیں بھی پتہ تو ہے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔۔۔ ہم ہائیکا کی شادی کے لئے آئے تھے صرف تمہارے لئے آئے تھے وہ بھی میں نے نانو سے کہا اور انھوں نے ہمیں اجازت بھی دے دی۔۔۔ اگر آج میں تمہارے لئے آ سکتا ہوں تو کل بھی آؤں گا ضرور آؤں گا پلیز بس تم اداس مت ہونا ہم ہمیشہ سے ایک ساتھ تھے آئندہ بھی ساتھ ہی رہیں گے ہم ہر روز تم سے بات کیا کریں گے۔۔۔ مارگریٹ کی سڈی بھی تو ہے ایف۔ایس۔سی کے بعد انشاء اللّٰلہ ہم نے جو سوچا تھا ویسا ہی ہو گا بس کچھ دیر اور انتظار کر لو پلیز اداس مت ہو۔۔۔ نہیں تو مجھے ہر وقت تمہاری ہی فکر رہے گی وعدہ کرو تم میری بات پہ عمل کرو گی۔” وہ تمہید باندھتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔ وہ خود بھی اداس تھا مگر اسے خود سے زیادہ نائکا کی فکر تھی وہ جانتا تھا کہ وہ کس قدر اس سے مانوس تھی سب کے ہوتے ہوئے بھی وہ بہت اداس تھی ان دونوں کے بغیر۔ پہلے تو نائکا جیسے بس رونے ہی والی تھی کیونکہ اب تو ہائیکا سے بھی بہت کم ملاقات ہونی تھی لیکن سٹِفنَس نے جیسے اسے تسلی دی وہ خوش بھی تھی یہ جان کر کہ صرف وہی ان کے لئے اداس نہیں تھی بلکہ وہ دونوں بھی اس کے لئے اداس تھے۔ وہ واقعی میں بہت پیار کرتے تھے نائکا سے۔ اب وہ مطمئن سی اس کی ٹانگوں سے لپک کر بیٹھ گئی تھی بس سر ہلانے پر اکتفا کیا بولی کچھ نہیں۔ سٹِفنَس بھی اس کے سر پہ ماتھا ٹکا کے جھک گیا۔ جانے سے پہلے وہ نائکا کو یسوح مسیح کے نام سے ایک لاکٹ پہنا گیا تھا جس پہ صلیب کا نشان بنا تھا جو ہمیشہ اسے یہی احساس دلاتا کہ سٹِفنَس اس کے پاس ہے۔
___________________
نائکا بھی ہاسٹل چلی گئی تھی آج وہ کافی دنوں بعد سمیرا سے مل رہی۔ دونوں بہت خوش تھیں۔ نائکا نے اسے مارگریٹ اور سٹِفنَس کے بارے میں سب سے پہلے بتایا بہت دیر تک وہ اسے ان دونوں کے بارے میں بتاتی رہی مگر عیسٰی کے بارے میں تو وہ بتانا بھول ہی گئی تھی یا پھر جان بوجھ کے چھپا رہی تھی کہ کہیں سمیرا اسے پھر سے تنگ نہ کرنے لگے۔
” ہااااا نائکا۔۔۔ ” سمیرا کی آنکھیں باہر آنے کو تھیں جب اس نے نائکا کے موبائل میں عیسٰی کی تصویر دیکھی۔ وہ کیک سرمنی کی گروفی تھی جو سٹِفنَس نے کپل کے ساتھ ان سب کی بنائی تھی۔
” کیا ہو گیا۔۔۔ کیوں ہر وقت چلاتی رہتی ہو۔” نائکا اپنے سٹڈنگ ٹیبل پہ کچھ پڑھ رہی تھی اس کی چیخ سن کر اس کے پاس جا بیٹھی جو ابھی بھی اسی تصویر کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
” یار ی یہ کون ہے یہ کیا لگتا ہے تمہارا بتاؤ۔ یہ وہی لڑکا ہے نہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں یہ بھی شادی میں تمہارے ساتھ تھا۔ کہیں یہ تمہارا کوئی رشتے دار تو نہیں یا پھر کوئی اور چکر ہے؟” سمیرا بہت بےچینی سے پوچھ رہی تھی اسے نائکا پہ غصہ بھی آ رہا تھا کہ اس نے سب کے بارے میں بتایا لیکن اس کا تو ذکر تک نہیں کیا۔
” ارے یار۔۔۔ وہ میں بتانا بھول ہی گئی بلکہ کیا بتاتی اس کے بارے میں۔ کوئی رشتہ دار نہیں ہے انکل عظیم کے دوست کا بیٹا ہے ان کی طرف سے انوائٹڈ تھا۔” نائکا نے سادگی سے کہا۔
” واہ کیا بات ہے مہمان ان کا اور تصویریں تمہارے موبائل میں وہ بھی ایک ساتھ واہ۔” سمیرا ہنستے ہوئے واقعی میں اسے تنگ کرنے لگی تھی۔
” اندھی ہو گئی ہو کیا۔۔۔ تمہیں اس تصور میں صرف میں اور وہی نظر آۓ اور پیچھے جو اتنی پلٹون ہے وہ کیوں نہیں دکھائی دی۔” نائکا نے جھٹ سے موبائل اس کے ہاتھ سے کھینچا۔
” اچھا اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ پھر اور کیا بات ہوئی مطلب اس نے تمہیں پھر تنگ تو نہیں کیا شادی سکون سے گزر گئی، ارے یاد آیا تم نے اسے سوری بولا کہ نہیں۔” سمیرا اپنی ہنسی کنٹرول کر کے بول رہی تھی لیکن آخر پہ پھر سے ہنس پڑی۔
” سوری کس لئے۔۔۔ بھول گئ اس دن شاپ میں اس نے کیا بولا تھا بات اتنی بڑی نہیں تھی تو بس بات ختم۔” نائکا لاپرواہی سے بول رہی تھی مگر اسے پھر سے وہ دن یاد آ گیا تھا جو جو کچھ ہوا تھا اس دن۔
” ویسے لڑکا ہے بہت پیارا۔۔۔ ویسے کم تو تمہارا کزن بھی نہیں۔” سمیرا پھر سے اس کے موبائل سے تصویریں دیکھنے لگی۔
” تم باز نہیں آؤ گی۔” نائکا نے اسے تکیہ مارتے ہوئے کہا جس پہ وہ پھر سے قہقہے لگانے لگی۔
عیسٰی بھی کالج باقاعدگی سے جانے لگا تھا۔ معیز صاحب نے اسے کیڈٹ سکول تو نہیں جانے دیا مگر عیسٰی کو اب یقین تھا کہ ایف۔ایس۔سی کے بعد تو وہ آرمی کیلئے اپلائی ضرور کرے گا کیونکہ معیز صاحب نے اسے اس بات کا یقین دلایا تھا۔ حالانکہ وہ آرمی کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا تھا پھر بھی یہ اس کا شوق تھا جو وہ پورا کرنا چاہتا تھا اور یقینًا وہ ماں باپ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جو اپنے وطن کی خاطر دل و جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ معیز صاحب کو اس کے جذبات کی بہت قدر تو تھی مگر وہ اپنے بیٹے کو بھی خوب جانتے تھے اس کے لئے یہ سب کرنا بہت مشکل تھا اور شاید کوئی اور وجہ بھی ہو کہ وہ اسے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔
کبھی کبھی ہر روز ملنے والے لوگ بھی اتنے خاص نہیں ہوتے جتنے زندگی میں صرف ایک بار ملنے والے لوگ خاص ہو جاتے ہیں۔ انسان تقدیر پہ تو حاوی ہو سکتا ہے مگر قسمت پر نہیں۔ قسمت سات سمندر پار دو الگ وجود کو یکساں کر سکتی ہے چاہے دنیا ادھر کی اُدھر ہو جائے آخر لوہے قلم پر لکھا کون مٹا یا بدل سکتا ہے سوائے اس ذات کے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
____________
ڈھلتی شام کے آنگن میں ہر سؤ چہچہاتے پرندے اپنے اپنے گھروں کی طرف رواں دواں تھے شام کی نیلی روشنی تاریکی میں پھیل رہی تھی۔ ہر ذی روح انسان اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھا۔ مگر وہ اپنے کمرے میں گہری نیند کے مزے لوٹ رہی تھی۔ کھڑکی سے آتی ہوا کی لہریں اس کے بالوں کو چہرے پر سجا رہی تھیں جن کو چہرے سے ہٹانے کی غرض سے اس نے ہلکی سی کڑوٹ لی۔ مغرب کی اذان ہو رہی تھی جس کی آواز پہ اس نے آنکھ کھولی۔ اس نے اپنے اوپر ارسی چادر کو ہٹایا اور بیڈ کی کراؤن سے ٹیک لگا کر بے خیالی سے کھڑکی کی جانب دیکھنے لگی۔ اذان مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی ذلفیں سمیٹتی ہوئی بیڈ اتری اور باہر چلی گئی۔ آج ہائیکا بھی کچھ دن رہنے کے لئے آئی ہوئی تھی جو کہ کیچن میں ڈنر کی تیاری میں مصروف تھی سلیمان صاحب بھی آج جلدی گھر آ گۓ تھے وہ اس وقت لاؤنج میں بیٹھے کوئی نیوز چینل دیکھ رہے تھے۔ نائکا ان کے پاس سے ہوتی ہوئی باہر لان میں چلی گئی۔ باہر کا ماحول سرد ہو رہا تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ وہ اپنے بازؤں کو سمیٹتی ہوئی لان میں پڑے ایک لکڑی کے بینچ پہ جا بیٹھی۔ گیٹ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔ ذلفوں کے آنچل میں چہرہ چھپاۓ وہ وہیں ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گئی۔ اس کی سوجھی ہوئی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ جیسے اسے کسی نے کچی نیند میں جگایا ہو۔ اس وقت وہ صرف ہوا کی سرسراہٹ ہی محسوس کر پا رہی تھی۔ وہ دونوں ادھ کھلے گیٹ سے چوروں کی طرح دبے پاؤں اندر داخل ہوئے اور اس کے بلکل سامنے جا کھڑے ہوئے۔نائکا ان کے وجود کی خوشبو بھی محسوس نہیں کر پائی ایک اس کے دائیں جانب اور دوسرا اس کے بائیں جانب یوں کھڑے تھے جیسے کوئی شکاری شکار کو دیکھ کر شکار کرنے کیلئے بلکل تیار ہو۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ شکار باہر ہی مل گیا تھا۔ وہ دونوں اس کے کان کی لوع کی طرف جھکے اور جھکتے ہی ایسی پُر زور اور خوفناک چیخ ماری کہ جیسے پورے گھر میں پوجال آ گیا ہو۔ ہائکا کے ہاتھ سے ڈش دھرم سے نیچے گری تھی۔ اتنے سنجیدہ اور خاموش کن ماحول میں ایسی خوفناک چیخوں نے دل کی دھڑکنوں کو اس قدر تیز کر دیا تھا کہ ان کے دل باہر آنے کو تھے۔ نائکا تو اس قدر ڈر چکی تھی کہ اپنے دفاع کے لئے بھی آواز نکالنا مشکل تھا وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔ ہائیکا اور سلیمان صاحب چہرے کی اڑی ہوئی رنگت لئے لان تک پہنچے۔ جہاں مارگریٹ اور سٹِفنَس بیچاری نائکا کا اڑا ہوا چہرہ دیکھ کر اب قہقہے لگا رہے تھے۔ سلیمان صاحب نے جلدی سے لائٹس آن کیں۔ان تینوں کو دیکھ کر سلیمان صاحب اور ہائیکا کی جان میں جان آئی۔ نائکا ان کو غصے سے گھور رہی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پائی کہ ان کی اس حرکت پہ ہنسے یا روۓ، ان دونوں کو ایک ایک تھپڑ رسید کرے یا ان کی آمد کا جشن مناۓ۔ ہارٹ بیٹ ابھی بھی اسی رفتار سے چل رہی تھی اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ یقینًا وہ سب ان کے اس سرپرائز پر بہت خوش تھے۔ سلیمان صاحب کو قریب آتے دیکھ کر ان دونوں نے بمشکل ہنسی پر قابو پایا اور آگے بڑھ کر ان کو ساتھ لگاتے ہوئے سلام بولا۔
” حد ہے یار تم دونوں نے تو میری جان ہی نکال دی تھی۔” ہائیکا مارگریٹ کے گلے لگ کے بولی۔
” ہاہاہا جسے ڈرایا اس کی جان تو نکلی نہیں اور تمہاری ایویں نکل گئی۔” سٹِفنَس ہنستے ہوئے بولا۔ اس کی بات پہ سب ہنسے۔
” چلو بچو باقی باتیں اندر جا کے کر لینا باہر سردی ہو رہی ہے۔” سلیمان صاحب کہہ کر اندر چلے گۓ ان کے پیچھے ہائیکا بھی چل دی۔ وہ دونوں ابھی بھی نائکا کو دیکھ رہے تھے۔ابھی وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ان دونوں نے پھر سے ایک زور دار چیخ اس کے کانوں میں ماری جس پہ وہ جھنجھلائی اور ہنستے ہوئے تینوں اندر چلے گۓ۔ دو سال بعد نائکا آج پھر سے بہت خوش تھی۔۔۔ کتنا انتظار کیا کرتی تھی وہ اس دن کا۔۔۔ آج اس کا یہ انتظار ختم ہو چکا تھا شاید ہمیشہ کے لیئے۔
__________________
” میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں بلکہ زینب کی بھی یہی خواہش تھی لیکن ہمارے ساتھ جو بھی ہوا اس کا ذمہ دار صرف اور صرف میں ہوں اگر زینب کی زندگی میں مَیں نہ آیا ہوتا تو آج وہ ڈاکٹر ہوتی اور اپنی زندگی میں بہت خوش ہوتی خود کو یوں چاردیواری میں قید نہ کرتی۔۔۔ مگر عیسٰی کی پیدائش کے بعد میں نے سوچا تھا کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا جسے دیکھ کر زینب خوش ہو گی مگر اب بیٹے کو کون سمجھاۓ کہ اپنی بہت سی خواہشات اپنوں کے لئے قربان کرنا پڑتیں ہیں۔۔۔ میں کیسے سمجھاؤں اسے۔” معیز صاحب حافظ عبداللہ سے اپنی ہر بات شئیر کرتے تھے۔ آج وہ لاہور آۓ ہوئے تھے۔ معیز صاحب عیسٰی کی وجہ سے بہت پریشان تھے انہیں ہمیشہ اسی کی فکر رہتی تھی اس کی دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی۔ مگر ایسی عمر میں کون ہر چیز سمجھتا ہے۔ عیسٰی کی ایف۔ایس۔سی۔ مکمل ہو چکی تھی بس رزلٹ کا انتظار تھا۔
” کیا زینب نے کبھی تم سے کوئی گلہ شکوہ کیا؟ کیا اس نے کبھی تم سے یہ کہا کہ وہ تمہارے ساتھ خوش نہیں ہے؟” حافظ عبداللہ نے پوچھا۔
” نہیں۔۔۔ اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ کیونکہ شاید اب اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا۔شاید وہ مجبور ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ بہت اداس رہتی ہے جس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔” معیز صاحب کا دل بھر آیا تھا۔
” اداسی کا کیا ہے انسان تو کبھی کبھی بلاوجہ بھی اداس ہو جاتا ہے۔ تم دونوں اتنے سالوں سے ایک ساتھ ہو کیونکہ تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش ہو۔ اور اپنوں کو یاد کر کے انسان اداس ہو ہی جاتا ہے اس میں کیا بڑی بات ہے اور اللّٰلہ اپنے نیک بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے اور اگر وہ اس آزمائش میں کامیاب ہو جائیں تو سکون ہی ان کا مقدر بن جاتا ہے۔۔۔ تم یہی سمجھو کہ ابھی تمہاری آزمائش ختم نہیں ہوئی۔۔۔ اور جہاں تک بات رہی عیسٰی کی تو اسے میں سمجھا لوں گا۔” حافظ عبداللہ نے انھیں تسلی دی۔
” آپ اسے کیا سمجھائیں گے وہ نہیں سمجھے گا۔ جتنا ان دو سالوں میں اس نے پڑھا ہے اتنا اس نے پچھلے دس سالوں میں بھی نہیں پڑھا ہو گا صرف اس لئے کہ میں نے اسے کہا تھا اگر اچھے مارکس لئے تو ہی آرمی میں جانے کی اجازت دوں گا اور مجھے پورا یقین ہے وہ بہت اچھے مارکس لے گا۔ میں مزید اس کے ساتھ زبردستی بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے نہیں مانے گا۔” معیز صاحب صرف زینب بیگم کے لئے یہ سب کرنا چاہتے تھے۔
” دیکھو معیز ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی سے جڑی بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے علم میں آتی ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے عیسٰی کو بھی کچھ باتیں بتانے کا وقت آ گیا ہے اس سے پہلے کہ اسے کسی اور ذریعہ سے پتہ چلیں تمہیں اسے بتا دینی چاہئیں۔ وہ اب بڑا ہو گیا ہے بہت سمجھدار ہے مجھے یقین ہے وہ سمجھ جاۓ گا۔” حافظ عبداللہ نہ تو معیز صاحب کو پریشان دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی عیسٰی کو مگر زندگی میں ایک بار تو سب کو ٹوٹنا پڑتا ہی ہے۔
” مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ اسے کچھ بتا سکوں۔” معیز صاحب سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔
” ٹھیک ہے کچھ نہ بتاؤ لیکن میں اسے ضرور سمجھاؤں گا تم پریشان نہ ہو جو بھی ہو گا بہتر ہی ہو گا۔” حافظ عبداللہ نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دلاسا دیا۔ معیز صاحب سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ عشاء کی نماز کے بعد کافی دیر باتیں کرتے رہے تھے اب ان کو گھر جانا تھا۔ عیسٰی نماز کے فوراً بعد ہادی کے ساتھ جا چکا تھا۔
