Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 07)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 07)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
”عیسٰی تمہیں دیکھ کے لگتا نہیں کہ تم فرسٹ ایئر کے سٹوڈنٹ ہو بڑے لگتے ” ناشتہ کرنے کے بعد اب وہ چاروں نائکا کے کمرے میں موجود تھے جب سٹِفنَس نے اسے مخاطب کیا۔
” معذرت کے ساتھ آپ بھی فرسٹ ایئر کے سٹوڈنٹ نہیں لگتے۔” عیسٰی نے قدرے دھیمی آواز میں کہا۔ جسے نائکا اور مارگریٹ بھی سن چکی تھیں۔
” ہاہاہا کیونکہ میں واقعی میں بڑا ہوں۔۔۔ نائکا اور مارگریٹ سے پورے دو سال بڑا ہوں۔۔۔ بس کسی کے عشق میں دو سال ایسے ہی قربان کر دیے۔” سٹِفنَس نے نائکا کی طرف دیکھتے ہوئے شریر لہجے میں کہا۔
” same here.” عیسٰی نے سنجیدگی سے کہا۔ جس پر تینوں نے اسے حیرت سے دیکھا۔
” واٹ، عشق وہ بھی اس عمر میں۔” سٹِفنَس نے حیرت سے پوچھا۔
” جی۔۔۔ مجھے میرے پاپا سے عشق ہو گیا تھا اور ان کے کہنے پر مجھے جامعہ جانا پڑا۔۔۔ پھر ایک سال بعد مجھے میری ماما سے عشق ہو گیا اور ان کی دوری برداشت نہیں ہوئی تو میں نے جامعہ چھوڑ دیا۔۔۔” عیسٰی نے سابقہ لہجے میں کہا جسے وہ تینوں بہت سنجیدگی سے سماعت فرما رہے تھے گویا کوئی خطبہ سن رہے ہوں۔ پہلے تو ان تینوں کو جامعہ کے نام سے حیرت ہوئی لیکن جلد ہی وہ لوگ سمجھ گئے تھے کہ وہ مسلمان ہے اور چند لمحوں کی دیر تھی کہ وہ تینوں اس کی بات پہ ہنس رہے تھے ان کو دیکھ کر عیسٰی بھی مسکرا دیا تھا۔ اب سے پہلے وہ لوگ عیسٰی کے نام کی وجہ سے اسے ہم مذہب ہی سمجھ رہے تھے۔ ابھی وہ لوگ اسی بات پہ ہنس رہے تھے کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
” تم تینوں نیچے انکل بلا رہے ہیں فوراً سے پہلے نیچے جاؤ شاید کوئی ضروری کام ہے۔ ” ثوبان نے آتے ہی ان تینوں کو نیچے جانے کی تائید کی۔ ثوبان بھی نائکا کا چچا زاد کزن تھا جو شاید ابھی ان کے گھر آیا تھا۔ یقینًا باقی سب کزنز بھی ایک ایک کر کے آنے والے تھے۔
” اوکے۔ ہم نیچے جاتے ہیں جب تک تم عیسٰی کو کمپنی دو۔” سٹِفنَس اسے کہہ کر جلدی سے باہر بھاگا وہ دونوں بھی اس کے پیچھے چلنے لگیں۔
” تم مہمان ہو؟” ثوبان نے اس کے قریب جا کر ایک آبرو اچکاتے ہوئے مشکوک انداز میں پوچھا۔
” نہیں اس گھر کا مالک ہوں۔” عیسٰی نے طنزیہ کہا۔ اسے ثوبان کا لہجہ بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ عیسٰی کے سامنے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔
” میں جانتا ہوں تم مہمان ہو لیکن تم مجھے نہیں جانتے۔ میں ثوبان سندھو ہوں پورے خاندان میں صرف اور صرف میری چلتی ہے سب کزنز میرے اشاروں پہ چلتے ہیں اگر میں چاہوں تو تمہیں یہاں کوئی پوچھے بھی نہ۔۔۔ اس لئے زیادہ روعب جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔” ثوبان نے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی۔ عیسٰی کے جواب اور انداز نے تو جیسے اسے آگ ہی لگا تھی۔ وہ بھی ثوبان سندھو تھا بھلا اپنی تعریفیں جھاڑے بغیر کیسے رہ سکتا تھا۔
” سندھو اگر تجھے پتہ تھا تو پوچھا ہی کیوں اور مجھے یہاں پوچھنے والے بہت ہیں تم اپنی خیر مناؤ۔” عیسٰی نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔ ثوبان کو شاید اس سے جلن ہونے لگی تھی۔ کیونکہ وہ ہمیشہ خود کو ہیرو ہی سمجھتا تھا مگر آج اس کے مقابل جو تھا اس کے سامنے وہ خود کو بہت کمتر محسوس کر رہا تھا۔
” دیکھو مسٹر میرا نام ثوبان سندھو ہے سندھو نہیں۔ اگر نام لینا ہے تو پورا نہیں تو صرف ثوبان۔ دوبارہ اگر سندھ کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا سھمجے۔” ثوبان نے دانت بھینچتے ہوئے کہا۔ عیسٰی کو اس پہ غصہ تو آ ہی رہا تھا مگر اس سے زیادہ ہنسی بھی آ رہی تھی۔
” shame on you. تمہیں تو مہمانوں سے بھی بات کرنے کی تمیز نہیں ہے گھر والوں کے ساتھ پتہ نہیں کیسے بات کرتے ہو گے۔ رئیلی تم اس خاندان کے فرد نہیں لگتے۔ اور ہاں اگر اب مجھ سے کوئی بات کرنی ہے تو تمیز سے کرنا ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ میں یہاں مہمان ہوں اور تم میزبان۔ ” اب کی بار عیسٰی نے اگلی دکھاتے ہوئے اسے وارن کیا۔ جسے ثوبان مجبوراً ضبط کر گیا۔
” ہممم۔۔۔ ٹھیک ہے تم مہمان ہو اس لیئے لحاظ کر رہا ہوں۔۔۔ نام کیا ہے تمہارا؟” ثوبان کا لہجہ قدرے نرم ہوا۔
” عیسٰی۔” لہجہ مدھم تھا۔
” تم بھی سندھو ہو؟” ثوبان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اس سوال پر عیسٰی کو ذرا غصہ آیا۔
” کیا سندھو سندھو لگا رکھا ہے تمہارا نام سندھو ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کا نام سندھو ہو گا یا بدلا لے رہو۔” عیسٰی ضبط نہیں کر سکا۔
” حد ہے یار میں نے کب ایسا کہا اور سندھو میری کاسٹ میرا نام نہیں۔۔۔ اچھا کاسٹ نہ بتاؤ تم مجھے اپنا پورا نام بتاؤ میں خود سے گیس کر لوں گا۔” ثوبان نے بھی جان نہیں چھوڑی۔ کچھ ذیادہ ہی ڈھیٹ تھا۔
” میرا نام محمد عیسٰی علی ہے۔ اور میری کوئی کاسٹ نہیں ہے۔ ” عیسٰی کو وہ بہت عجیب لگا تھا وہ اکتا چکا تھا۔
” محمد عیسٰی علی۔ نام تو ۔۔۔ اچھا ہے۔۔۔ لیکن کوئی نہ کوئی کاسٹ تو ہو گی۔” ثوبان اب الجھ رہا تھا وہ اس کے چہرے کو بڑے غور سے دیکھتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ عیسٰی بار بار دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا کہ وہ تینوں ابھی تک کیوں نہیں آئے۔ اس سے تو اچھا تھا میں اکیلا ہی رہتا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ تینوں بھی ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ عیسٰی نے ایک گہری سانس بھری۔
شادی کا فنکشن شام چھ بجے ہونا تھا۔ تب تک سب کزنز آتے جا رہے تھے۔ عیسٰی ان سب کو دیکھ کر ان پر رشک کرتا رہا۔ اس کے دل میں چھپی ایک حسرت تھی جو ان کزنز کی محبت نے اسے شدت سے یاد دلائی تھی۔ آج اسے یقین ہو گیا تھا کہ کزنز کے بغیر لائف کتنی بورنگ ہوتی ہے۔
______________________
سب لوگ چرچ جانے کے لئے نکل رہے تھے۔ ہائیکا اپنی کچھ کزنز کے ساتھ باہر نکل رہی تھی۔ عیسٰی کی اچانک اس پر نظر پڑی تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ اپنی وائٹ برائیڈل گون میں پری ہی لگ رہی تھی۔ اس نے آج سے پہلے کبھی اتنی پیاری دلہن نہیں دیکھی تھی۔ آہستہ آہستہ سب لوگ روانہ ہو رہے تھے سواۓ سٹِفنَس،مارگریٹ،نائکا اور عیسٰی کے۔ ان چاروں کو ایک ساتھ ایک ہی گاڑی میں جانا تھا۔ سٹِفنَس اور عیسٰی ڈنر سوٹ میں بہت وجیہہ لگ رہے تھے۔
” یہ لڑکیاں بھی نا کتنا وقت لگاتی ہیں تیار ہو نے میں۔” سٹِفنَس بیزاری سے بولا۔ وہ دونوں نائکا اور مارگریٹ کا انتظار کر رہے تھے۔
” اگر ان کو پتہ جائے کہ میک اپ کے کتنے بڑے بڑے نقصانات ہیں تو میک اپ کو کبھی بھی ہاتھ نہ لگائیں۔” عیسٰی نے زینے اترتی نائکا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
” اچھا۔۔۔ تو سب سے بڑا نقصان کیا ہو سکتا ہے؟ بقول محمد عیسٰی علی کے۔” نائکا اس کے سامنے کھڑی پوچھنے لگی۔
” میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ ایک عورت نے اتنا میک اپ کیا کہ میک اپ کے نیچے ہی دب کے مر گئی۔” عیسٰی نے بہت سنجیدگی سے کہا جس پہ سٹِفنَس اور مارگریٹ کا قہقہہ بلند ہوا۔ وہ دونوں بھی ان سے کچھ کم نہیں لگ رہی تھیں۔ بلاشبہ وہ دونوں بہت پیاری تھیں۔ چاروں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ سٹِفنَس ڈرائیو کر رہا تھا فرنٹ سیٹ پر عیسٰی اور وہ دونوں پیچھے بیٹھی تھیں۔ سارے راستے نائکا مرر سے عیسٰی کی آنکھوں کو ہی دیکھتی آئی تھی۔ لیکن عیسٰی اس بات سے لاعلم تھا وہ تو تب پتہ چلا جب گاڑی چرچ کے باہر رکی اور عیسٰی کی اچانک نظر مرر سے ہوتی نائکا پہ جا پڑی۔ نائکا اس کی آنکھوں میں دیکھ کے جھنجھلائی ۔ عیسٰی حیران تھا کہ نائکا نے ابھی تک اسے سکون سے کیسے رہنے دیا۔ عیسٰی سب سے مل چکا تھا گھل مل چکا تھا سب میں لیکن ایک نائکا ہی تھی جو اس سے ابھی تک نظریں چراتی رہی تھی۔
” اوہ عیسٰی تم بھی نہ۔” گاڑی سے اترتے ہی عیسٰی منہ میں بڑبڑایا۔ سٹِفنَس اور مارگریٹ کے نام، ہائیکا کی برائیڈل گون یہ سب دیکھ کر بھی اس نے یہ نہیں سوچا کہ یہ سب کرسچن ہیں لیکن چرچ دیکھ کر اسے یقین ہو گیا تھا۔ وہ چاروں ایک ساتھ اندر داخل ہوئے۔ کچھ دیر بعد نکاح شروع ہو چکا تھا۔ ماحول ایک دم پرسکون ہو گیا تھا۔ اب چرچ میں صرف فادر کی آواز گونج رہی تھی باقی سب خاموش تھے۔ عیسٰی بہت دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ نکاح کے بعد سب اس خوبصورت سے کپل کو مبارکباد کہہ رہے تھے۔ اس دوران عیسٰی خاموش کھڑا ان سب کو دیکھ رہا تھا اور ثوبان ابھی بھی اسی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ رخصتی سے کچھ دیر پہلے معیز صاحب نے شرکت کی تھی۔ وہ عظیم صاحب سے لیٹ آنے کی وجہ سے معذرت کر چکے تھے۔
” ہاں بھئ کیسا رہا آج کا دن اور شادی کیسی گزری؟” معیز صاحب نے عیسٰی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔
” دن تو بہت اچھا گزرا یہاں سب میرے دوست بن گۓ ہیں اور شادی بھی بہت اچھی لگی لیکن پاپا مجھے بس ان کےکے میوزک کی سمجھ نہیں آئی۔” عیسٰی نے پرجوش انداز میں کہا۔
” ہاہاہا یہ ان کا بہت سپیشل ساز ہوتا ہے تمہیں سمجھ نہیں آئے گی۔ اچھا میں عبداللہ سے ملنے جا رہا ہوں ہو سکتا ہے آج اسی کے ہاں ٹھہروں۔ میری وجہ سے وہ آج لاہور بھی نہیں گیا۔ کل ملاقات ہو گی۔” معیز صاحب یہ کہہ کر چلے گئے۔
” کیا ہے اس ساز کو، ہاں تم پہلی بار سن رہے ہو۔” معیز صاحب کے جانے کے بعد ثوبان جو اس کے پیچھے کھڑا ساری گفتگو سن رہا تھا اسے گھورنے لگا۔
” سندھو تجھے بھی جاسوسی کے سوا اور کوئی کام نہیں۔” عیسٰی سر جھٹک کر سٹِفنَس کی طرف بڑھا جو اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ ثوبان کی نظریں اسی کے تعاقب میں تھیں۔
_________________
صبح فجر کی اذان کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی۔ لیکن نیند سے بوجھل اس کی آنکھیں اسے اٹھنے نہیں دے رہی تھیں۔ رات کو وہ سب بہت دیر تک جاگتے رہے تھے۔ وہ خود تو سو رہا تھا لیکن اس کا ضمیر جیسے جاگ اٹھا تھا جو اسے بار بار کہہ رہا تھا ” اٹھو نماز پڑھو۔” اس نے آنکھیں مسلتے ہوئے موبائل سکرین پہ ٹائم دیکھا ابھی نماز کا ٹائم ختم ہونے میں کافی وقت تھا۔ اس نے اپنے ساتھ لیٹے سٹِفنَس کو دیکھا جو گہری نیند سو رہا تھا۔ عیسٰی نے موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں۔ دوبارہ اس کی آواز چڑیوں کی چہچہاہٹ سے کھلی لیکن افسوس تب تک نماز کا ٹائم ختم ہو چکا تھا۔ اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا کیونکہ وہ کم و بیش ہی نماز چھوڑتا۔ سٹِفنَس ابھی بھی گہری نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔ اس نے خود کو تھوڑا مطمئن کرنے کے لئے سوچا اگر نماز نہیں پڑھی تو قرآن پاک ہی پڑھ لیتا ہوں۔ لیکن وہاں تو قرآن پاک ہی موجود نہیں تھا۔ اس نے چند سیکنڈ بعد موبائل پہ کچھ ڈاؤنلوڈنگ پہ لگایا اور خود وضو کرنے لگا۔ اس نے اپنے وضو سے تر ہاتھوں سے موبائل اٹھایا اور ٹیرس کی طرف بڑھا۔ وہاں بلکل سکوت تھا وہاں اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا وہ وہیں ایک کرسی پہ بیٹھ گیا۔ وہ سٹِفنَس کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے وہ یہاں آ گیا۔
سورج کی کرنیں نمودار ہو رہی تھیں۔ ہلکی تازہ ہوا چل رہی تھی۔ اس نے موبائل سے سورۃالرحمن کی تلاوت شروع کی۔ اس کی آواز فضا میں گونجتے ہی جیسے ہر چیز اللّٰلہ کی حمدوثنا میں مسرور ہو گئی۔ اب اس کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی کہیں زیادہ کہیں کم۔ اس کی آواز میں ایسا سرور بھرا تھا کہ جس نے سوۓ ہوؤں کو جاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مارگریٹ آنکھیں مسلتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی اور اس طرف رخ کیا جہاں سے عیسٰی کی میٹھی آواز آتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ننگے پاؤں ٹیرس تک تجسس سے پہنچی جہاں عیسٰی دنیا جہاں سے بے خبر تلاوت قرآن میں گم تھا۔ وہ اس کے پیچھے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی مگر وہ انداز وہ طرز وہ آواز اسے بہت اچھی لگ رہی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اسے ٹوک نہ سکی اس کے دل نے اسے اجازت نہیں دی۔ وہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا ۓ بیٹھ گئی اور آنکھیں خودبخود بند ہو گئیں۔ اسے لگا جیسے اس سے میٹھی اور پیاری آواز اس نے آج تک نہ تو سنی ہے اور نہ ہی کبھی سن پائے گی۔ اس کی آواز اور الفاظ مارگریٹ کے دل و دماغ پہ چھا رہے تھے۔ وہ یہ الفاظ دہرانا چاہتی تھی لیکن اسے تلفظ کی سمجھ نہیں تھی کہ ان کو کیسے بولے۔ جیسے وہ ادائیگی کر رہا تھا وہ چاہ کر بھی اس کا مقابلہ نہ کر پاتی۔ ” فبای الا ء ربکما تکذبن ہ ”عیسٰی تلاوت مکمل کر چکا تھا۔ وہ موبائل آف کر کے اٹھا اور پیچھے کی جانب مڑا۔ مارگریٹ ابھی بھی اس کی آواز محسوس کر رہی تھی عیسٰی اسے ایسے بیٹھے دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہے۔
“Ahm ahm.”عیسٰی نے اسے بیدار کرنے کی کوشش کی جس پہ وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
” لگتا ہے آپ کو نیند میں چلنے کی عادت ہے۔” عیسٰی نے اس کے ننگے پاؤں دیکھتے ہوئے کہا۔ استہزایہ مسکراہٹ اس کے لبوں پہ نمایاں تھی۔
” نہیں۔۔۔ عادت تو نہیں ہے ہاں اگر تم ہر روز یہاں ایسے کچھ پڑھو گے تو ضرور عادت ہو جائے گی۔۔۔ کیونکہ میں تمہاری آواز سن کر یہاں آئی تھی۔” مارگریٹ مسکراتے ہوئے بولی۔
” اوہو، مطلب میں نے آپ کی نیند خراب کی۔” عیسٰی اب ذرا نادم سے لہجے میں بول رہا تھا۔
” ارے نہیں میں نے کب ایسا کہا بلکہ تمہاری آواز مجھے بہت اچھی لگی اس لئے سننے آ گئی۔۔۔ تمہاری آواز بہت اچھی ہے۔ ” مارگریٹ اس کی آواز کی تعریف کئے بغیر رہ نہ سکی۔
” اچھا۔۔۔ پھر ٹھیک ہے، لیکن آپ کو میری وجہ سے ایسی عادت نہیں پڑے گی کیونکہ آج میں واپس جا رہا ہوں۔” عیسٰی نے ظاہری مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔ مارگریٹ اس کی بات پہ افسردہ ہوئی۔
” ویسے تم پڑھ کیا رہے تھے؟” مارگریٹ نے جان بوجھ کے پوچھا حالانکہ وہ جان گئی تھی کہ وہ قرآن پڑھ رہا تھا۔
” میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔” عیسٰی نے اس کی چمکتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
” مجھے پتہ تھا بس کنفرم کر رہی تھی۔ جیسے تم تلاوت کر رہے تھے تلفظ ایسا تھا جیسے عربی میں شاعری کر رہے ہو۔ ” مارگریٹ نے ذرا جھجکتے ہوئے کہا۔
” قرآن پاک میں لکھی آیات میں ربط ہی ایسا ہے کہ پہلی بار سننے والے کو یہ شاعری ہی لگتی ہے۔” عیسٰی نے مسکراتے ہوئے کہا جس پہ وہ بھی مسکرائی اور سر اثبات میں ہلایا۔
” میں نائکا کو اٹھاتی پھر فریش ہو کر ہائکا کی طرف ناشتہ لیکر بھی جانا ہے ۔” مارگریٹ کہتے ہوئے نائکا کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی وہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگا۔ سٹِفنَس عیسٰی کو کمرے میں نا پا کر اسے ڈھونڈتے ہوئے باہر آ چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ان کو ناشتہ لیکر ہائکا کی طرف جانا تھا۔
______________________
ہائکا کی طرف ان تینوں کو ناشتہ لیکر جانا تھا مگر اب عیسٰی ان کے ساتھ تھا۔ ان کے لاکھ اصرار پر بھی وہ ساتھ جانے کے لئے راضی نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ عظیم صاحب کی طرف سے مہمان تھا پھر بھی وہ دوبارہ ان کی طرف ایک دفعہ بھی نہیں گیا تھا اسے یہاں رہنا اچھا لگ رہا تھا۔ فائنلی مارگریٹ اور سٹِفنَس کو ناشتہ لیکر جانا پڑا اور نائکا سٹِفنَس کے کہنے پر عیسٰی کے پاس رک گئی تاکہ وہ اکیلا بور نہ ہو۔ عیسٰی کو ایک منٹ کےلئے بھی ان لوگوں نے اکیلا نہیں رہنے دیا آفٹر آل وہ مہمان تھا۔ عیسٰی اور نائکا ان دونوں کو گیٹ تک چھوڑنے آۓ تھے۔ اور ان کی واپسی کا انتظار کرتے ہوئے لان میں ٹہلنے لگے۔
” کیا تم واقعی میں اس دن میرے لئے روئی تھی؟” عیسٰی نے اس کے پیچھے ٹہلتے ہوئے پوچھا۔ نائکا نے مڑ کے اسے دیکھا جو اسے ہی یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ نائکا کے چہرے پہ ایسا تاسف تھا جیسے کسی نے اس کی کوئی چوری پکڑی ہو۔ لیکن جلد ہی وہ اپنے تاثرات چھپانے میں کامیاب ہو ہی گئی۔
” تمہارے لئے نہیں، تمہاری وجہ سے۔” نائکا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر نظریں جھکا لیں۔
” میری وجہ سے؟ مگر کیوں؟ عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔ آج ان دونوں کو حساب برابر کرنے کا موقع ملا تھا اگر اس وقت یہ لوگ کہیں اور ہوتے تو کب سے حساب برابر کر چکے ہوتے۔
” تمہاری وجہ سے اس لیئے کیونکہ تمہاری وجہ سے سمیرا نے میرے ساتھ جھگڑا کیا۔۔۔ ورنہ مجھے کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا جو میں تمہارے لئے روتی۔” نائکا نے اب اس سے نظریں چڑا رہی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں میں دوبارہ ڈوب جانے کی غلطی دہرانا نہیں چاہتی تھی اس لیئے وہ اسے نظر انداز کر رہی تھی۔ عیسٰی اس کی آنکھوں میں ندامت بھانپ گیا تھا اور جھگڑے کی وجہ سمجھ گیا تھا کہ سمیرا نے اس سے جھگڑا کیوں کیا ہو گا۔
” ویسے بہتر ہوتا اگر تمہیں کوئی پاگل کتا ہی کاٹتا۔” عیسٰی نے شریر لہجے میں کہا۔ وہ موضوع بدل رہا تھا۔
” تاکہ میں تمہارے لئے روتی۔۔۔ سوچنا بھی نہ۔” نائکا نے منہ چِڑاتے ہوئے کہا اور لان سے ایک پھول توڑ کر اس کی خوشبو لینے لگی۔ وہ اس کے پیچھے بازو سینے پہ باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔
” مجھے بھی کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ میں میری وجہ سے کسی کو رولاؤں وہ بھی کسی لڑکی کو۔۔۔ سوچنا بھی نہ۔ ” عیسٰی نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
” اوہ رئیلی۔۔۔ تو پھر کیوں ایسا کہہ رہے تھے؟” نائکا نے تجسس سے پوچھا۔
” یہ تو تم نے بھی سنا ہی ہو گا کہ زہر کو زہر ختم کرتا ہے۔” عیسٰی نے اسے انڈائریکٹلی پاگل کہا۔ نائکا کو اس کے الفاظ پہ بہت غصہ آ رہا تھا مگر وہ ضبط کر گئی۔ آفٹرآل وہ مہمان تھا۔ نائکا سر جھٹک کے بینچ پہ بیٹھ گئی۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے۔
” اچھا اب میرے بارے میں زیادہ نہ سوچو ورنہ سچ میں پاگل ہو جاؤ گی۔” عیسٰی نے بڑی سنجیدگی سے خاموشی کو توڑا۔
” میں نے کب کہا میں تمہارے بارے میں سوچ رہی ہوں۔” نائکا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اب اس کے ساتھ بینچ پہ بیٹھ رہا تھا۔
” تو پھر کیا سوچ رہی ہو؟” عیسٰی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
” بس کچھ سوچ رہی تھی۔” نائکا ذرا غصے میں بولی کیونکہ اب وہ اسے جان بوجھ کر تنگ کر رہا تھا۔ ایک تو وہ اس کی وجہ سے ہائیکا کی طرف بھی نہ جا سکی اوپر سے اس کی تپا دینے والی باتیں۔
” کیا؟” عیسٰی نے پھر نے پوچھا۔
” کچھ نہیں۔” نائکا نے بس اتنا ہی کہا اور جان چھرانے لگی۔
” تم کیوں خود کو پاگل ثابت کرنے پر تُلی ہو پہلے تم کہہ رہی تھی کچھ سوچ رہی ہوں اور اب کہہ رہی ہو کچھ نہیں۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں ابھی نہ بتاؤ میں رات کو پوچھ لوں گا۔” عیسٰی نے پر اطمینان لہجے میں کہا۔
” اور تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ میں رات کو اپنی سوچ تم پر ظاہر کر دوں گی۔ ” نائکا نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
” کیونکہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا ایک نئی ریسرچ کے مطابق اگر لڑکیوں سے دن کے وقت کچھ پوچھا جائے تو وہ بس یہی کہتی ہیں کچھ نہیں، اور اگر وہی بات رات کے وقت پوچھیں تو بہت جلد بتا دیتی ہیں اور مجھے پورا یقین ہے تم بھی ایسے ہی کرو گی۔” عیسٰی نے بھی ایک پھول توڑا اور نائکا کی طرف متوجہ ہوا۔
