Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 13)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
آپ بھی نہ۔۔۔ پتہ نہیں کب بڑے ہوں گے یہ کام تو کبھی عیسٰی نے بھی نہیں کروایا وہ اپنے سارے کام خود کرتا ہے مگر آپ کو بچوں کی طرح ہر چیز خود دینا پڑتی ہے۔” زینب بیگم نے ٹائی لگاتے ہوئے کہا ۔
”اب اس میں میرا کیا قصور ہے کہ مجھے آپ کی عادت ہو چکی ہے۔ آپ کے بغیر تو میں سانس بھی نہیں لے سکتا پھر آپ کی عادت چھوڑنے کے لیئے تو مجھے مرنا پڑے گا اب بتائیں منظور ہے؟ ” معیز صاحب نے انہیں شانوں سے تھاما اور ان کی آنکھوں میں شرارت سے دیکھا۔
” کیا اول فول بولے جا رہے ہیں اگر آپ میرے بغیر سانس نہیں لے سکتے تو میں کون سا اپنی سانسوں پہ جی رہی ہوں میں بھی تو صرف آپ کو دیکھ کے جیتی ہوں۔۔۔میرے لئے چھوٹی سی اتنی حسین دنیا بنانے کا بہت بہت شکریہ۔” زینب بیگم کی آنکھوں میں نمی سی آ گئی۔ وہ اپنی اس چھوٹی سی دنیا میں بھی بہت خوش تھیں کیونکہ معیز صاحب ان کے ساتھ تھے جن کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ معیز صاحب نے پیار سے ان کی پیشانی چومی اور انہیں اپنے حصار میں لیا۔
_______________
آج عیسٰی کی شکل پہ بارہ بجے ہوئے تھے کیونکہ یونی جاتے ہی سمیرا نے اسے بتایا تھا کہ آج اسائنمنٹ سبمٹ کرانے کی لاسٹ ڈیٹ ہے مگر عیسٰی کو یاد ہی نہیں تھا۔
” کیا ہوا ایسے منہ لٹکا کے کیوں بیٹھے ہو؟” سٹِفنَس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
”کچھ نہیں یار۔۔۔ آج اسائنمنٹ کی لاسٹ ڈیٹ تھی مگر مجھے پتہ ہی نہیں تھا۔” عیسٰی نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
” اور اگر پتہ ہوتا تو۔” سٹِفنَس نے پوچھا۔
” تو شاید میں کوشش کر کے کچھ نہ کچھ کر ہی لیتا لیکن مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔ آج تو سر مجھے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ تم نے بنائی اسائنمنٹ؟” عیسٰی نے اس کی طرف رخ کر کے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
” ہاں یار مجھے بھی رات کو نائکا نے بتایا تو میں نے اس سے لے کر بنا لی۔۔۔ یہ دیکھو۔” سٹِفنَس نے فائل اس کی گود میں رکھی۔
” لیکن اس پہ تو میرا نام لکھا ہے۔” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔
” کیونکہ یہ تمہاری اسائنمنٹ ہے مجھے پتہ تھا تم ایسی زحمت ہر گز نہیں کرو گے اس لئے میں نے تمہاری بھی بنا دی۔” سٹِفنَس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ عیسٰی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔ اس نے پہلے فائل کو چوما پھر سٹِفنَس کو زور سے گلے لگایا۔
” بھائی ہو تو تمہارے جیسا۔۔۔ آج کے زمانے میں کون خود سے کسی کے لئے اسائنمنٹ بناتا ہے تم بہت بہت اچھے ہو بلکہ تم دنیا کے سب سے اچھے دوست ہو۔” عیسٰی بہت خوش تھا وہ بار بار فائل پہ لکھا اپنا نام دیکھ رہا تھا۔
” شکر ہے تمہارا موڈ تو اچھا ہوا ورنہ آج کا دن بوریت سے ضائع ہو جاتا۔” سٹِفنَس نے چین کا سانس لیا کیونکہ اس کے لئے عیسٰی کو ایسے اداس دیکھنا بہت مشکل تھا۔ اب وہ دونوں آزادی سے یونی میں گھوم رہے تھے۔ ہر روز ظہر کی نماز وہ یونی کے اندر بنی مسجد میں ہی ادا کرتا تھا۔ ویسے تو یونی میں اکثریت مسلمانوں کی تھی مگر اقلیت کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اس لئے مسجد سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا چرچ بھی بنایا گیا تھا جہاں کچھ غیر مسلم طلباء دوپہر کی نماز ادا کرتے تھے۔ مسلمان دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں جن کے اوقات مقرر ہیں۔ مگر کرسچنز کی تین نمازیں ہوتی ہیں صبح ،دوپہر اور شام کی مگر ان کے کوئی اوقات مقرر نہیں ہیں۔ سٹِفنَس بھی عیسٰی کے ساتھ ہی نماز کے لئے جاتا اور کوئی نماز ادا کرتا یا نہیں مگر وہ دوپہر کی نماز اب باقاعدگی سے ادا کرنے لگا تھا کیونکہ اس وقت عیسٰی بھی مسجد میں ہوتا تھا سو اس کا انتظار کرنے سے بہتر چرچ میں نماز ادا کرنا تھی۔ آج فراثیم بھائی کی بجاۓ عیسٰی کی باری تھی ان کو دیکھنے کی۔ وہ عیسٰی کے ساتھ ہی مسجد میں داخل ہوئے تھے۔ اور یہی چیز تھی جو عیسٰی کو بہت حیران کر رہی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ اس وقت چرچ ہی جاتے تھے مگر آج وہ عیسٰی کے پیچھے چلتے ہوئے مسجد میں چلے گۓ تھے۔ غالباً وہ کرسچن تھے جبھی تو چرچ جاتے تھے۔ وضو کے دوران بھی وہ عیسٰی کو ہی دیکھ رہے تھے۔ آج پہلی بار وہ مسجد گۓ تھے اور پہلی بار وضو کر رہے تھے۔ شاید اسی لئے وہ عیسٰی کو دیکھ دیکھ کر وضو کر رہے تھے مگر مسح کرتے ہوئے انہیں سمجھ نہیں آئی جیسے بھی ہوا بس سر پہ ہاتھ پھیر لیا۔ وضو کے دوران عیسٰی بول نہیں سکتا تھا ورنہ وہ ان کی غلطیوں پہ انہیں ٹوکتا۔ وضو کے بعد عیسٰی انگشت شہادت کی انگلی اٹھاۓ کلمہ شہادت پڑھ رہا تھا مگر اس کی فراثیم کو سمجھ نہیں آئی سو وہ اس کے پڑھنے تک وہاں سے جا چکے تھے۔نماز ادا کرنے کے بعد جب وہ مسجد سے نکلا تو سٹِفنَس پہلے سے باہر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا اور فراثیم چرچ سے باہر نکل رہا تھا۔ عیسٰی مسلسل فراثیم کو ہی دیکھ رہا تھا۔ سٹِفنَس نے اسے آواز دے کر اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ جس پہ وہ لمبے ڈگ بڑھتا سٹِفنَس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ فراثیم بھی عیسٰی کو دیکھ کر تیزی سے چلنے لگا۔
”محمد عیسٰی علی۔” فراثیم نے اسے مخاطب کیا۔ اس کی آواز پہ عیسٰی نے چونک کر اپنے پیچھے کھڑے فراثیم کو دیکھا۔
”جی۔” عیسٰی نے آہستگی سے کہا۔
”کیسے ہو آپ لوگ۔” فراثیم نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا۔
”ہم بلکل ٹھیک بھائی آپ کیسے ہیں۔” عیسٰی نے جوابًا کہا۔
”میں بھی بلکل ٹھیک۔۔۔ عیسٰی مجھے تم سے کام تھا کیا ہم کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟” فراثیم نے عیسٰی کو دیکھ کر کہا۔ وہ تھوڑا نروس بھی ہو رہے تھے ان کے لہجے میں تھوڑی سی ہچکچاہٹ نمایاں تھی۔
”جی بھائی کیوں نہیں بلکہ مجھے بھی آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔” عیسٰی نے نرمی سے کہا۔ فراثیم بھائی کو مجھ سے کیا کام ہو سکتا ہے اسی سوچ نے عیسٰی کو تھوڑی الجھن میں ڈال رکھا تھا۔
” ہاں پوچھو کیا پوچھنا ہے۔” فراثیم نے ہلکی سی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
” پتہ نہیں مجھے یہ پوچھنا چاہیے کہ نہیں لیکن میں آج آپ کو دیکھ کر بہت کنفیوز ہوا۔۔۔ آپ کا مذہب کیا ہے؟” عیسٰی نے بھی ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
” پتہ نہیں۔۔۔ لیکن بہت جلد میں تمہیں اس بات کا جواب دوں گا۔” فراثیم نے کچھ سوچ کر کہا۔ سٹِفنَس ان کی باتیں حیرت سے سن رہا تھا۔ فراثیم کے جواب پہ عیسٰی بھی حیران ہوا۔ عیسٰی نے نا سمجھی میں کندھے اچکاۓ اور تینوں کیفے چلے گۓ۔
_______
کیفے ٹیریا میں نائکا،سمیرا اور مارگریٹ پہلے ہی ایک ٹیبل پے بیٹھیں عیسٰی اور سٹِفنَس کا انتظار کر رہی تھیں۔ نائکا نے ان دونوں کو ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔ وہ دونوں فراثیم کو لئے ان کی جانب بڑھے۔ مارگریٹ نے تو فراثیم کو دیکھتے ہی منہ بنا لیا۔ فراثیم نے ان تینوں کو سلام بولا اور عیسٰی اور سٹِفنَس کے کہنے پر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
” میں اسے اپنے گروپ میں بلکل بھی قبول نہیں کروں گی۔ بڑا ہے ہم سے اپنے ساتھ ہمیں بھی بور کرتا رہے گا۔” مارگریٹ نے سمیرا کے کان میں سرگوشی کی۔ وہ اپنے گروپ میں کمی یا زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں رکھنا چاہتی تھی کیونکہ اس کے لئے ان کا گروپ مکمل تھا۔
”پہلے دیکھ تو لو ان کے ساتھ آیا کیوں ہے پھر فیصلہ کریں گے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔” سمیرا نے بھی آہستہ سے کہا۔ فراثیم خاموش بیٹھا ان سب کو دیکھ رہا تھا شاید وہ عیسٰی سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا۔
”جی بھائی اب بتائیں کیا کام تھا مجھ سے۔” عیسٰی کی اس بات پہ مارگریٹ نے چین کا سانس لیا مطلب یہ صرف کسی کام سے ساتھ آۓ ہیں۔ فراثیم جانتا تھا سمیرا اور عیسٰی کے علاوہ باقی تینوں کرسچن ہیں لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی کسی بھی بات پہ کوئی بحث ہو۔ اس نے پھر سے سب پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے عیسٰی کو دیکھا۔
” بھائی آپ کو جو بھی بات کرنی ہے آپ کھل کے کر سکتے ہیں ہم سب ایک ہی ہیں آپ فکر مت کریں۔” عیسٰی نے ان کو اعتماد میں لیا۔
”اٹس اوکے۔ پر مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ بات شروع کیسے کروں۔” فراثیم کی بات سن کر سب اسے غور سے دیکھنے لگے آخر ایسی کون سی بات ہے جس کی سمجھ نہیں آ رہی ۔عیسٰی نے کندھے اچکاۓ۔ فراثیم نے گہری سانس بھری اور اپنی بات شروع کی۔
”عیسٰی میں تمہیں ہر روز دیکھتا ہوں۔ یہاں اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں لیکن جس باقاعدگی سے تم نماز پڑھتے ہو ویسے میں نے یہاں ایسا کوئی نہیں دیکھا لڑکے کبھی مسجد چلے جاتے ہیں کبھی دل نہ کرے تو نہیں جاتے لیکن تم ہر روز نماز پڑھتے ہو چاہے اس کے لئے تمہیں لیکچر ہی کیوں نہ مِس کرنا پڑے۔ میں نے اکثر تمہیں پروفیسر عبداللًلہ کی کلاس میں تلاوت بھی کرتے سنا ہے اور جس انداز سے تم تلاوت کرتے ہو ایسے وہی کر سکتے ہیں جو اس کا حق ادا کرنا جانتے ہوں تمہارا تلفظ بہت اچھا ہے۔۔۔ مجھے ایک ایسے ہی مسلمان کی مدد چاہیے جو مجھے قرآن پڑھنا سکھاۓ۔ مجھے پورا یقین ہے تم مجھے اسلام کے بارے میں ساری معلومات دے سکتے ہو۔۔۔ مجھے وضو بھی سیکھنا ہے وہ اس لئے کہ میں نے سنا ہے اس میں بہت سی حکمتیں ہیں لیکن میں نہیں جانتا وہ کیا ہیں۔۔۔ کیا تم مجھے یہ سب سکھاؤ گے۔” فراثیم اپنی بات مکمل کر چکا تھا اب وہ عیسٰی کے جواب کا منتظر تھا جو یک ٹک فراثیم کو دیکھ رہا تھا اسے تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کیا جواب دے۔ یہ کوئی چھوٹی ذمہ داری بھی نہیں۔ کچھ لمحے تو عیسٰی خاموش رہا پھر تھوڑا سا آگے ہو کر گردن سیدھی کی۔
” دیکھیں بھائی مجھے خوشی ہو گی اگر میں آپ کی مدد کروں گا اور بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔۔۔ لیکن صرف نماز اور قرآن پڑھ لینے سے سب کچھ نہیں آ جاتا اور نہ ہی میں کوئی مولوی یا سکالر ہوں جو ہر بات دلیل کے ساتھ آپ کو سمجھا سکوں اگر کوئی غلطی سرزد ہو گئی تو۔۔۔ میرا مشورہ تو یہی ہے کہ آپ کسی عالم سے رابطہ کریں آگے آپ کی مرضی۔” عیسٰی نے نہ تو انکار کیا اور نہ ہی ہاں کہا کیونکہ وہ ابھی بہت کنفیوزڈ تھا اس نے کبھی کسی کو پہلے قرآن نہیں پڑھایا تھا اس لئے وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ باقی سب ان کی باتیں غور سے سن رہے تھے ہو سکتا ہے ان کے ذہن میں بھی کچھ سوالات ہوں مگر ابھی وہ لوگ بیچ میں نہیں بولنا چاہتے تھے کیونکہ فراثیم صرف عیسٰی سے بات کرنا چاہتا تھا۔
”مجھے پتہ ہے تم کوئی سکالر نہیں ہو لیکن تم مسلمان تو ہو نہ اور مجھے پورا یقین ہے تم سے کوئی غلطی نہیں ہو گی۔۔۔ میں یہ کام یونیورسٹی کی ٹائمنگ میں کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے پاس کسی سکالر کے پاس جانے کے لئے وقت نہیں ہے میں ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی کر رہا ہوں۔۔۔ تمہارے پاس جتنا بھی نالج ہے تم بس مجھے وہی بتا دو باقی میں خود بھی کتابیں پڑھنے کی کوشش کروں گا۔” فراثیم نے التجائی لہجے میں کہا۔
” تو کیا آپ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں؟” مارگریٹ پوچھے بنا رہ نہ سکی۔
”نہیں ابھی میں صرف اسلام پہ ریسرچ کرنا چاہتا ہوں۔” فراثیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”آپ اسلام پہ ریسرچ کیوں کرنا چاہتے ہیں۔” اب سوال سمیرا کی طرف سے آیا۔ عیسٰی نے سمیرا کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جس کا مطلب سمجھ کر سمیرا چپ ہو گئی۔ فراثیم کے چہرے پہ بے جان سی مسکراہٹ دیکھ کر عیسٰی کو وہ بہت تھکے سے بہت دکھ میں بہت ٹوٹے بکھرے سے لگ رہے تھے۔
” کیونکہ یہ میرا حق ہے۔۔۔ ایک مہینہ پہلے میں نے اپنی مرضی کی شادی کر لی جسے میرے گھر والوں نے نہ تو ابھی قبول کیا ہے اور شاید نہ ہی کبھی کر سکیں گے کیونکہ میں نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کی ہے اور میرا مذہب عیسائیت ہے ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ انسان اپنی محبت کے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان اپنے مذہب کے بغیر بھی نہیں رہ سکتا اگر میں اس لڑکی سے شادی نہ کرتا تو اس کے گھر والے اس کی کہیں اور شادی کر دیتے یا ہو سکتا تھا وہ خودکشی کر لیتی لیکن وہ ابھی بھی اپنے مذہب میں رہ رہی ہے اور میں بھی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ وہ میرے لئے محرم ہے بھی یا نہیں۔۔۔ ایسے میں شادی کے بعد اگر میں اس کے ساتھ رہوں تو بھی دنیا باتیں کرتی ہے اور اگر اسے اکیلا چھوڑ دوں تو بھی کوئی سکون سے جینے نہیں دے گا نہ دنیا نہ میرا دل۔۔۔” فراثیم بہت سنجیدگی سے سر جھکاۓ پریشانی سے نڈھال بول رہے تھے۔ سب بہت دلچسپی سے ان کی بات سن رہے تھے۔
”تو کیا آپ اب اپنی وائف کے ساتھ نہیں رہتے؟” عیسٰی نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
” نہیں۔۔۔ بس کبھی کبھی جب بہت ذیادہ یاد ستاۓ تو چلا جاتا ہوں ملنے۔۔۔ رینٹ پہ ایک گھر لے کے دیا ہے اسے خود میں ہاسٹل میں رہتا ہوں۔” فراثیم نے سادگی سے کہا۔
”وہ سب تو ٹھیک ہے پر مجھے ابھی بھی اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ اسلام پہ ریسرچ کیوں کرنا چاہتے ہیں۔” سمیرا نے سوال دہرایا۔
”انسان جس خاندان میں پیدا ہوتا ہے اس کا مذہب بھی وہی ہوتا ہے جو اس کے خاندان کا ہو کیونکہ تب نہ تو بچہ کچھ بول سکتا ہے اور نہ ہی کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس دنیا میں دین صرف ایک ہی ہے اور میں بھی اسی لئے مذاہب پہ ریسرچ کر رہا ہوں کیونکہ میں اب اس قابل ہوں کہ اس بات کو سمجھ سکوں ہر کسی کو یہی لگتا ہے کہ ہمارا مذہب ہی اصل مذہب ہے۔۔۔ خیر جس دن میری ریسرچ مکمل ہو گئی اس دن میں اسی مذہب پہ ایمان لاؤں گا جس پہ میرا ضمیر مطمئن ہو گا پھر میری بیوی بھی وہی مذہب اپناۓ گی جو میرا ہو گا۔”فراثیم نے سمیرا کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔
”بھائی آپ فکر نہ کریں میں آپ کی ہر ممکن مدد کروں گا اور اگر کہیں کوئی مسلئہ پیش آیا تو میں اپنے پاپا یا انکل عبداللہ سے پوچھ لوں گا۔” عیسٰی نے جیسے انہیں دلاسا دینے کی کوشش کی۔
”مجھے تم سے یہی امید تھی۔۔۔ بہت شکریہ آپ لوگوں کا میرے دل کا سارا تو نہیں مگر تھوڑا سا بوجھ تو ضرور ہلکا ہو گیا ہے۔” فراثیم نے خوش دلی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
”مارگریٹ تم یہاں بیٹھی ہو وہاں لیکچر شروع ہونے والا ہے جلدی چلو۔” فراثیم کے جاتے ہی ہادی ان کے پاس آیا۔ سب ابھی تک فراثیم کی باتوں کو ہی سوچ رہے تھے۔
”میرا آج پڑھنے کا کوئی موڈ نہیں تم جاؤ۔” مارگریٹ نے ہادی کو دیکھے بنا کہا۔
”مارگریٹ اپنی کلاس میں جاؤ فوراً ۔۔۔ تمہارے جانے کے بعد جو بھی بات ہو گی میں تمہیں بتا دوں گا۔” سٹِفنَس نے مارگریٹ کو دیکھ کر کہا۔
” لیکن بھائی۔۔۔ اوکے جاتی ہوں۔” سٹِفنَس کو اتنے سیریس موڈ میں دیکھ کر مارگریٹ کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور ہادی کے ساتھ کلاس میں چلی گئی۔عیسٰی نے نائکا کے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی جس پہ وہ چونکی۔
”نائکا تمہیں یاد ہے ہمارے بھی ایک کزن نے کسی ہندو لڑکی سے شادی کی تھی مگر وہ تو اپنے اپنے مذہب میں رہ رہے ہیں اور دونوں شاید بہت خوش بھی ہیں۔” سٹِفنَس کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
”ہاں میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔۔۔ خیر ہمیں کیا جو مرضی کریں کلاس میں چلیں۔؟” نائکا نے بھی کچھ سوچتے ہوئے کہا اور سب کلاس میں چلے گۓ۔
________________
” ہادی رکو میری بات سنو۔۔۔ ہادی۔” مارگریٹ نے اسے بھاگتے ہوئے پیچھے سے ہانک لگائی مگر ہادی بہت دور جا چکا تھا اس لئے وہ اس کی آواز سن ہی نہیں پایا۔ وہ بہت تیزی سے بھاگ رہا تھا۔
”اف خدایا۔۔۔ کیا مصیبت ہے یار یہ یونیورسٹیز اتنی بڑی کیوں ہوتی ہیں میں سارا دن بھاگ بھاگ کے تھک جاتی ہوں۔۔۔ کاش یہاں ہر ڈیپارٹمنٹ میں سائکلز ہوتیں کتنا مزہ آتا نا۔” وہ اپنی سانس بحال کرنے کے لئے تھک ہار کر وہیں رک گئی کیونکہ ہادی تو اب ملنے سے رہا وہ شاید عیسٰی کے پاس جا رہا تھا۔ اب وہ بہت آرام سے چلنے لگی تھی۔
”چل یار مسجد چلتے ہیں۔” ہادی نے عیسٰی کا بازو پکڑتے ہوئے تقریباً اسے گھسیٹتے ہوئے کہا۔ عیسٰی سیڑھیوں پہ بیٹھا شاید کسی کا انتظار کر رہا تھا۔
”کیا ہو گیا ہے ابھی تو نماز کا ٹائم بھی نہیں ہوا۔” عیسٰی نے گھڑی پہ ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔
”مطلب ہم صرف نماز کے لئے ہی مسجد جا سکتے ہیں ویسے نہیں۔” ہادی نے کہا۔
” میں نے کب ایسا کہا۔۔۔ مگر پہلے تو تم کبھی ایسے مسجد نہیں گۓ اس لئے کہہ رہا تھا بلکہ نماز کے لئے بھی میں ہی تمہیں اگر لے جاؤں تو تم جاتے ہو ورنہ نہیں۔۔۔ آج کیا ایسا ہو گیا کہ تم بلاوجہ وجہ مسجد جانا چاہتے ہو۔” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔
”کیا یار بندے کو سو کام ہو سکتے ہیں۔۔۔ تم بتاؤ تم میرے ساتھ چل رہے ہو یا نہیں؟” ہادی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اسے گھورنے لگا۔
”یار جانے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن میں یہاں کسی کا انتظار کر رہا ہوں اگر تم تھوڑی دیر انتظار کر سکتے ہو تو کر لو پھر میں تمہارے ساتھ چلا جاؤں گا لیکن ابھی میں نہیں جا سکتا۔” عیسٰی نے پھر سے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
”اوکے فائن مت جاؤ لیکن میں انتظار نہیں کر سکتا میں اکیلا ہی چلا جاتا ہوں ویسے بھی جس کام سے میں جا رہا ہوں وہ تو مجھے سکون سے کرنے نہیں دے گا بلکہ میرا جینا حرام کر دے گا۔” ہادی نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ عیسٰی نے اسے پھر سے آواز دی مگر وہ رکا نہیں اس کی آواز ان سنی کرتے ہوئے چلتا گیا۔ عیسٰی حیرت سے اسے دیکھتا رہا آخر ایسا بھی کیا کام آن پڑا۔ آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا اسے اچانک سے کیا ہو گیا۔ عیسٰی نے یہ سوچتے ہوئے کندھے اچکاۓ اور پھر سے گھڑی دیکھنے لگا۔
پورے دس منٹ بعد نائکا لائبریری سے نکل کر اسی طرف آ رہی تھی جہاں عیسٰی بیٹھا اس کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔ وہ اسے دیکھے بنا آگے بڑھ گئی عیسٰی تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا اس کے پیچھے بھاگا۔
جھانسی کی رانی کہاں بھاگی جا رہی ہو میں کب سے تم لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں اور سٹِفنَس کہاں ہے؟” عیسٰی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
” کہاں ہو سکتا ہے میرے ساتھ ہی تو لائبریری گیا تھا ابھی بھی وہیں ہے اس کا تھوڑا کام رہتا ہے بس وہی کر رہا ہے۔” نائکا نے بال چہرے پہ آتے بال پیچھے کئے اور آگے چلنے لگی وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
