Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 17,18)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 17,18)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
ارے نہیں بس کچھ چھوٹی صورتیں ہیں جن کا ترجمہ بچپن میں یاد کیا تھا ابھی تک یاد ہے اس کے علاوہ تو مجھے عربی کا ترجمہ نہیں آتا۔” عیسٰی اس کی بات پہ مسکرایا۔
” تو پھر تمہیں کیسے پتہ قرآن میں کیا کیا لکھا ہے مطلب تمہیں صرف جن سورتوں کا ترجمہ یاد ہے بس وہی سمجھ سکتے ہو اس کے علاوہ تمہیں کچھ نہیں پتہ کہ تمہاری ہولی بُک کیا کہتی ہے۔” نائکا نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔ سمیرا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اور کر بھی کیا سکتی تھی کیونکہ اس بات کا جواب تو اس کے پاس بھی نہیں تھا۔ اور عیسٰی وہ تو اس کے کی بات پہ لاجواب سا ہو کر رہ گیا اور اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ آج پہلی بار اسے مسلمان ہونے کے باوجود خود پہ بہت شرمندگی ہو رہی تھی کیونکہ اسے واقعی میں قرآن میں لکھا سارا کچھ نہیں پتہ تھا۔ ہم مسلمان صرف ثواب کمانے کے لئے قرآن پڑھتے ہیں۔اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
” تم لوگ کیا باتیں لیکر بیٹھ گئے چلو مارگریٹ اور ہادی کے پاس چلتے ہیں۔” سمیرا نے عیسٰی کی بدلتی رنگت دیکھ کر موضوع بدلنے کی کوشش کی۔ عیسٰی کی مسکان تو جیسے ہمیشہ کے لیئے غائب ہو چکی تھی یہ بات جیسے اس کے دل میں لگی تھی اسے لگا جیسے وہ تب تک سکون کا سانس نہیں لے سکے گا جب تک وہ قرآن پاک کو سمجھ نہ لے۔ کیا ایسا بھی کوئی مسلمان ہو سکتا ہے جسے یہ بھی نہ پتہ ہو کہ قرآن پاک میں لکھا کیا گیا ہے۔ لیکن آج اس نے دل ہی دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ آئندہ جو بھی تلاوت کرے گا پہلے اس کا ترجمہ سمجھے گا تاکہ دوبارہ ایسی شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔
************
آج صبح سے سمیرا سٹِفنَس کو اگنور کر رہی تھی وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ آئندہ وہ کبھی بھی سٹِفنَس سے پہلے کی طرح بات نہیں کرے گی کیونکہ اسی میں اس کی بہتری تھی وہ جانتی تھی کہ اس کے لئے یہ سب بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی وہ ایک بار کوشش کرنا چاہتی تھی وہ اسے اپنے دل و دماغ سے نکالنا چاہتی تھی۔ وہ کب سے اس کے پیچھے پیچھے اسے آوازیں دیتا اس کے پیچھے چل رہا تھا مگر وہ اسے مسلسل نظرانداز کرتی ہوئی بھاگتی جا رہی تھی۔
” سمیرا میری بات سنو تمہارے ہاتھ میں جو۔۔۔” وہ پیچھے سے اس کا ہاتھ کھینچتا ہوا ابھی کچھ بول ہی رہا تھا کہ سمیرا نے جھٹ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے کیوں ہر وقت میرے پیچھے پڑے رہتے ہو کیوں نہیں چھوڑتے میری جان کیا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔” وہ غصے میں ٹوٹ پڑی۔ اور وہ بے یقینی سے اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا۔
” کیا ہو گیا ہے میں کب ہر وقت تمہارے پیچھے پڑا رہتا ہوں میں تو بس اپنی فائل لینےآیا تھا جو اس وقت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ وہ بھی تھوڑا غصے میں بولا وہ ابھی بھی اسے یوں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں نائکا اور عیسٰی بھی وہاں آگئے۔”
”کیا ہوا تم دونوں کو اتنے غصے میں کیوں ہو؟” عیسٰی نے ان دونوں کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” کچھ نہیں ہوا۔۔۔ یہ لو اپنی فائل اور میری واپس کرو تم شاید غلطی سے میری فائل اٹھا لائی ہو۔” سٹِفنَس نے اس کی طرف فائل بڑھائی۔ وہ اب اپنی بےوقوفی پہ خود کو کوس رہی تھی۔
” اوہو یار بس اتنی سی بات پہ اتنا غصہ مجھے لگا کوئی جنگ شروع ہونے والی ہے۔” عیسٰی نے کندھے اچکاۓ۔ سمیرا نے فوراً فائل اسے واپس کی اور نظریں جھکاۓ چپ چاپ کھڑی رہی۔
” میں اتنی چھوٹی سی بات پہ غصہ کرنے کا عادی نہیں ہوں۔” وہ سنجیدگی سے کہتا پیچھے مڑا۔
” ارے ارے ہوا کیا ہے تم دونوں کو اگر بات صرف اتنی سی ہے تو پھر کیوں اتنے سیریس موڈ میں ہو۔۔۔ کچھ تو ہوا ہے۔” عیسٰی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا۔
” سمیرا تمہارا منہ کیوں بنا ہوا ہے کیا ہوا ہے؟ کہیں تم دونوں کا کوئی جھگڑا تو نہیں ہو گیا۔” نائکا بھی سمیرا سے پوچھنے لگی۔
” میں نے کسی سے کوئی جھگڑا نہیں کیا اور نہ ہی میرے موڈ کو کچھ ہوا ہے۔” سمیرا نے بے رخی سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔ سٹِفنَس بھی اسے نظر انداز کرتا وہاں سے چلا گیا۔ نائکا اور عیسٰی ان دونوں کو حیرت سے دیکھتے ہی رہ گئے۔
” یہ دن بھی آنا تھا۔۔۔ جو ہم دونوں کو سمجھایا کرتے تھے آج خود ہی لڑائی کر بیٹھے۔” عیسٰی نے دونوں کو جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھتے ہوئے کہا۔
” مجھے نہیں لگتا کہ ان کا کوئی جھگڑا ہوا ہو گا بات کچھ اور ہے۔۔۔ تم ایسا کرو سٹِفنَس سے پوچھو آخر بات کیا ہے اور میں سمیرا سے پوچھتی ہوں۔” نائکا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
” ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن یار میں کیا سوچ رہا تھا کہ کیوں نا ہم دونوں بھی ایک بار لڑ لیں کافی دن ہو گئے ہیں کوئی جھگڑا نہیں کیا پلیز ایک بار ہم بھی جھگڑا کر لیں۔ ” عیسٰی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
” اف عیسٰی تم بھی نا کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کرو۔۔۔ جن کا جھگڑا ہوا ہے پہلے ان کو تو منا لیں پھر خود بھی جھگڑا کر لیں گے۔” نائکا نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ عیسٰی اس کی بات پہ مسکراہٹ دباۓ سٹِفنَس کے پیچھے گیا اور نائکا سمیرا کو ڈھونڈنے لگی۔ سٹِفنَس کیفے میں ایک سائیڈ پہ بیٹھا ابھی بھی سمیرا کے بولے گئے الفاظ کو سوچ رہا تھا۔
” اب بتاؤ موڈ کیوں آف ہے؟” عیسٰی اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ سٹِفنَس نے اسے ساری بات بتائی۔ کچھ لمحے وہ دونوں خاموش رہے۔
” لیکن اسے اتنا غصہ آیا کس بات پر۔۔۔ تمہارے ہاتھ پکڑنے پہ، تمہارے فائل مانگنے پہ یا تمہارے پیچھے آنے پہ۔” عیسٰی نے کچھ سوچ کر کہا۔
” وہ مجھے نہیں پتہ لیکن یار میں کب اس کے پیچھے پڑا رہتا ہوں اور میں کب سے اسے پیچھے سے آوازیں بھی دے رہا تھا لیکن وہ جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی تھی اب تم ہی بتاؤ میں اور کیا کرتا میں نے اس سے کوئی بدتمیزی نہیں کی پھر بھی۔۔۔” سٹِفنَس اب اپنے کئے پہ کہیں نہ کہیں پچھتا بھی رہا تھا کہ اسے ہاتھ نہیں پکڑنا چاہیے تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ ذیادہ غصہ کر گئی تھی۔
” تم پریشان مت ہو نائکا گئی ہے اس سے بات کرنے ہو سکتا ہے اس کا موڈ پہلے سے کسی اور وجہ سے آف ہو اور غصہ تم پہ نکال دیا ہو۔” عیسٰی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
” بات جو بھی ہو میں اس سے معافی مانگ لوں گا مجھے اس کا ہاتھ نہیں پکڑنا چاہیے تھا اور آئندہ بھی اس سے بات کرنے سے احتیاط کروں گا۔” سٹِفنَس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
” مطلب تم سوری بولنے کے بعد اس سے ہمیشہ کے لیئے بائکاٹ کر دو گے پھر کبھی اس سے بات نہیں کرو گے؟” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔
” یہی سمجھ لو۔” سٹِفنَس کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ عیسٰی بھی اس کے پیچھے چلنے لگا۔ نائکا بھی اسی طرف چلی آ رہی تھی۔ سٹِفنَس اسے نظر انداز کرتا سمیرا کو لان میں دیکھ کر اس کی طرف بڑھا۔
” کیا بتایا سمیرا نے؟” عیسٰی نائکا سے پوچھنے لگا۔
” یہ کہاں جا رہا ہے روکو اسے کہیں پھر سے۔۔۔” نائکا اسے سمیرا کی طرف جاتے دیکھ کر پریشانی سے بولی۔
” فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ اسے سوری بولنے گیا ہے۔” عیسٰی نے لاپرواہی سے کہا۔
” چلو شکر ہے اب سب ٹھیک ہو جائے گا وہ بھی اسے سوری بولنا چاہ رہی تھی اب دونوں ایک دوسرے کو سوری بول کر صلح کر لیں گے۔” نائکا نے گہری سانس بھری۔
” ویسے سٹِفنَس کی کوئی غلطی نہیں تھی سمیرا نے خوامخواہ اس پہ اتنا غصہ جھاڑ دیا۔۔۔ اب دیکھو نا اگر میں پیار سے تمہارا ہاتھ ایسے پکڑوں گا تو کیا یہ بدتمیزی ہو گی نہیں نا تو پھر۔۔۔” عیسٰی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی انگلیوں میں جھکڑنے لگا۔ نائکا نے بمشکل اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اسے دھکا دیتی آگے بڑھی۔ وہ بھی ہنستا ہوا اس کے پیچھے چلنے لگا۔
سمیرا سر گھٹنوں پہ جھکاۓ آنسو بہانے میں مصروف تھی جب وہ اس کے پاس گیا۔
” سمیرا ایم سوری۔۔۔ مجھے تمہارا ہاتھ نہیں پکڑنا چاہیے تھا آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔” سٹِفنَس اس کی طرف سے جواب کے انتظار میں تھا مگر وہ کچھ نہیں بولی۔ وہ کچھ لمحے ایسے ہی اسے دیکھتا رہا پھر اس کے ساتھ نیچے بیٹھ گیا۔
” ویسے رونے والی کوئی بات نہیں تھی جو تم اتنا رو رہی ہو بلکہ بدتمیزی تم نے مجھ سے کی تھی میں تو بس فائل لینے آیا تھا۔ اور یہ بات تم بھی اچھے سے جانتی ہو کہ میں کب سے تمہیں آوازیں دے رہا تھا مگر تم جان بوجھ کر مجھے اگنور کر رہی تھی۔ اور میں کب ہر وقت تمہارے پیچھے پڑا رہتا ہوں بتاؤ؟ ” سٹِفنَس اس کا گھٹنوں میں چھپا چہرہ دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سچ مچ میں رو بھی رہی ہے یا نہیں۔
” نہیں۔۔۔ تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے میں ہی کچھ ذیادہ بول گئی تھی۔ ایم سوری۔” سمیرا نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ لیکن نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں وہ اس سے نظریں نہ ملا سکی۔
” ٹھیک۔۔۔ لیکن میں آئندہ احتیاط کروں گا۔۔۔” وہ کہہ کر اٹھا۔
” اور ہاں میں تمہارے پیچھے نہیں پڑا آئندہ یہ بات یاد رکھنا۔” وہ گہری سنجیدگی سے کہتا وہاں سے چلا گیا۔ وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی پھر سر جھکاۓ رونے لگی۔ وہ خود اس سے دور رہنا چاہتی تھی مگر اب وہ خود دور جا رہا تھا جو سمیرا کے لئے برداشت کرنا محال تھا۔ وہ جانتی تھی اب وہ کبھی بھی پہلے جیسے نہیں ہو سکتے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ عشق میں نزدیکی دوری بات کرنا نہ کرنا ملنا یا نہ ملنا یہ سب چیزیں معنی نہیں رکھتی۔ کسی سے دور رہنے سے ہمارے دل میں چھپی محبت کم یا ختم تھوڑی ہو جاتی ہے۔
نائکا اور عیسٰی ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے۔ سٹِفنَس کے جانے کے بعد وہ دونوں تیزی سے چلتے ہوئے سمیرا کے پاس جا بیٹھے۔
” تم دونوں کی صلح ہو گئی؟” نائکا نے جلدی سے پوچھا۔
” وہ اب مجھ سے کبھی بات نہیں کرے گا۔ میں میں کیا کروں میں اس کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی۔” وہ روہانسے لہجے میں بولی اور سر اٹھا کر نائکا کو دیکھنے لگی۔ عیسٰی بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھا سمیرا کو گھور رہا تھا لیکن سمیرا اس کی موجودگی سے بے خبر تھی۔ عیسٰی کو تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ چل کیا رہا ہے بات اتنی کیسے بڑھ گئی۔ اس سے پہلے کہ عیسٰی اسے کچھ پوچھتا وہ بیگ اٹھا کر وہاں سے چلی گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
” یہ سب کیا ہے؟” عیسٰی اب نائکا سے پوچھنے لگا۔
” یہ سب وہ ہے جس کے بارے میں کبھی تم نے سوچنے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی کبھی کرو گے میں جا رہی ہوں اور خبر دار اگر میرے پیچھے آۓ تو مجھے بھی تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔” نائکا نے ایک نظر اس پہ ڈالی پھر غصے سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
” میں نے کیا کیا ہے یار مجھ پہ اتنا غصہ کیوں؟” وہ پیچھے سے بولا لیکن وہ مڑی نہیں وہ وہیں بیٹھا اس کے الفاظ کو سوچنے لگا آخر ایسا کیا ہے جس کے بارے میں سوچنے کی زحمت کرنی چاہیے لیکن میں کرتا نہیں۔
**************
عیسٰی گھر جانے کے بعد بھی نائکا کو میسجز اور کالز کرتا رہا لیکن اس نے کوئی ریسپونس نہیں دیا۔ تھک ہار کر اس نے سٹِفنَس کو کال کی۔ اس نے پہلی رنگ پہ ہی کال رسیو کر لی تھی۔
” یار آخر مسئلہ کیا ہے میں کب سے نائکا کو کال رہا ہوں مگر وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی نہ ہی سمیرا کال رسیو کر رہی ہے۔ پلیز تم نائکا سے ساری بات پوچھ کے مجھے بتاؤ آخر ان لوگوں کو ہوا کیا ہے جو بات ہی نہیں کر رہیں۔” عیسٰی کال رسیو ہوتے ہی تذبذب سا ہو کر بولا۔
” پتہ نہیں کیا ہوا ہے لیکن تم پریشان مت ہو میں نائکا سے پوچھ کر بتاتا ہوں کہ وہ تم سے بات کیوں نہیں کر رہی۔” سٹِفنَس نے کہہ کر فون بند کیا اور نائکا کے کمرے کی طرف بڑھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ کھڑکی کھول کر آسمان پہ اڑتے پرندوں کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور سینے پہ ہاتھ باندھے اسے دیکھنے لگا۔
” کیا دیکھ رہی ہو؟” وہ اس کی آواز پہ چونکی۔
” ان پرندوں کو دیکھ رہی ہوں۔ شکر ہے ان پرندوں کا کوئی مذہب نہیں ورنہ آسمان سے خون کی بارشیں ہوتیں۔” وہ ابھی بھی بے ساختہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
” کیا بات ہے آج بہت گہری باتیں کر رہی ہو سب خیریت؟” سٹِفنَس نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی بات پہ ہلکا سا مسکرا دی۔
” ہاں سب خیریت ہے۔۔۔ مجھے تم سے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے۔” اس نے رخ سٹِفنَس کی طرف کرتے ہوئے کہا۔
” بات بھی کر لینا پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ عیسٰی کی کال رسیو کیوں نہیں کر رہی وہ کب سے تمہیں کال کر رہا ہے۔” سٹِفنَس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” وہ میں مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ ہاں وہ مجھ سے سمیرا کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہے لیکن سمیرا نے مجھے منع کیا ہے کہ میں اس کی بات کسی کو بھی نہ بتاؤں اس لئے میں ابھی اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔” نائکا نے بات گھمائی۔
” کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ؟” سٹِفنَس نے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔
” بتاتی ہوں اسی کے بارے میں تم سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن پلیز تم سمیرا کو مت بتانا کہ میں نے تمہیں یہ بات بتائی ہے ورنہ وہ مجھ سے بہت ناراض ہو گی۔۔۔ اور یہ بات میں صرف تم سے کر رہی ہوں اس لئے تم بھی اور کسی سے یہ بات شئیر نہ کرنا۔” نائکا آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے بول رہی تھی اور صوفے کے کنارے بیٹھ گئی۔
” ایسی کیا بات ہے جو صرف مجھے بتانا چاہتی ہو وہ بھی سمیرا کے بارے میں؟۔۔۔ لیکن پلیز اگر تم آج کے حوالے سے اس کی طرف سے کوئی بھی صفائی پیش کرنا چاہتی تو میں پہلے ہی بتا دوں مجھے اب اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔” وہ بھی کہتا ہوا اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
” بات کچھ اور ہے جو شاید تمہیں بتانا میں ضروری سمجھتی ہوں کیونکہ اس کا تعلق صرف تم سے ہے لیکن پلیز جب تک میں بات پوری نہ کر لوں تم کچھ بولو گے نہیں۔” نائکا نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے۔
” اوکے فائن۔” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
” اصل میں بات یہ ہے کہ۔۔۔ وہ سمیرا تم سے بہت پیار کرتی ہے۔” اس نے ڈرتے ڈرتے بمشکل بس اتنا ہی کہا۔
” واٹ۔۔۔ آر یو سیریس؟” سٹِفنَس بے اختیار بول پڑا۔ حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اسے اپنی سماعت پہ اس وقت بلکل بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔ نائکا نے آہستہ سے سر ہلایا۔
” میں سچ کہہ رہی ہوں اس نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ تم سے بہت پیار کرتی ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی ہے کہ تم دونوں کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے اسی لئے وہ تم سے دور رہنے کی بس کوشش کر رہی ہے آج بھی اس نے جان بوجھ کر تم سے بدتمیزی کی تاکہ آئندہ تم اس سے بات ہی نہ کرو۔۔۔ پر اب وہ اپنے کئے پہ بہت پچھتا رہی ہے وہ نہیں جانتی تھی کہ تمہاری ناراضگی اس قدر جان لیوا ہو گی اس کے لئے۔ وہ اس وقت بہت تکلیف میں ہے۔” وہ تمہید باندھتے ہوئے آہستہ آہستہ بول رہی تھی کیونکہ آج جو بھی ہوا تھا اس پہ سٹِفنَس کو بہت غصہ تھا اس لئے وہ سمیرا کا ذکر کرتے ہوئے تھوڑا ڈر رہی تھی۔ سٹِفنَس نے اپنا سر پکڑ کر ٹیک لگائی۔
” واٹ ایور۔۔۔ تم یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہو جو ہونا تھا ہو گیا اب اس بارے میں مزید گفتگو کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور میں بھی آئندہ اس سے بات نہیں کرنے والا اسی میں اس کی بہتری ہے۔” سٹِفنَس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
” میں تمہیں یہ سب اس لئے بتا رہی ہوں تاکہ تم اس کو سمجھو اس سے ناراضگی ختم کر دو پلیز۔۔۔ میں اسے مزید تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تم دونوں اور کچھ نہ سہی لیکن اچھے دوست بن کر تو رہ سکتے ہو نہ۔” نائکا نے استفسار کیا۔
” میں اس سے ناراض نہیں ہوں اور جو بات تم نے بتائی ہے اس کے بعد میں اس سے دوست بن کر بات کر کے اسے کسی غلط فہمی میں نہیں رکھنا چاہتا کہیں وہ اس دوستی کا کوئی اور ہی مطلب نہ نکال بیٹھے۔” سٹِفنَس نے سنجیدگی سے کہا۔
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا اس نے خود کو سمجھا لیا ہے وہ بھی جانتی ہے جیسا وہ چاہتی ہے ویسا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔ سٹِفنَس اس نے تم سے محبت کی ہے نفرت نہیں جو تم بدلے میں اسے مزید تکلیف دینا چاہ رہے ہو جیسے پہلے چل رہا تھا ابھی بھی ویسے ہی چلے گا۔۔۔ پلیز تم سمجھنے کی کوشش کرو نا ایسے تو سارا ماحول خراب ہو جائے گا سب کے ذہن میں مختلف سوال پیدا ہوں گے۔” نائکا نے التجائیہ لہجے میں کہا۔
” اوکے فائن میں اس سے بات کر لوں گا لیکن میں پھر سے بتا رہا ہوں میری طرف سے کبھی بھی کچھ ایسا ویسا مت سوچنا میں یہ سب صرف اور صرف تمہارے لئے کروں گا۔۔۔ یہ سمیرا بھی نا ایک نمبر کی پاگل ہے۔” سٹِفنَس اس کی شکل دیکھ کر مان ہی گیا کہ وہ سمیرا سے پہلے جیسا رہنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ وہ نائکا کی بات ٹال بھی نہیں سکتا تھا۔
” تھینکیو سوووو مچ ڈئیر تم بہت اچھے ہو بلکہ بہت بہت بہت زیادہ اچھے ہو اسی لئے تو بیچاری سمیرا کا تم پہ دل آ گیا اور ایک تم ہو کہ اسے لفٹ ہی نہیں کراتے کتنا پیار کرتی ہے نا تم سے یو آر سو لکی۔” وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ سٹِفنَس اس کی چمکتی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا دیا۔
” اب بس بھی کر دو اب تو مجھے تمہاری باتوں پہ ہسی آ رہی ہے۔۔۔ اور ہاں عیسٰی کو بھی کچھ نہ کچھ بتا دینا ورنہ اسے ساری رات نیند نہیں آئے گی۔” وہ کہتے ہوئے اٹھا اور ایک نظر مسکراتی نائکا پہ ڈالتا وہاں سے چلا گیا۔ وہ بس سر اثبات میں ہلاتے مسکرائی اور جلدی سے فون چیک کیا جہاں ہر طرف صرف عیسٰی ہی چھایا ہوا تھا۔ نائکا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے کال کی۔
” نائکا چڑیل مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو میں نے کیا کیا تھا جو مجھ سے ناراض ہو کر چلی گئی۔” عیسٰی پہلی رنگ پہ کال رسیو کرتے ہی بول پڑا۔
‘” ہاہاہا اف عیسٰی تم بھی نا ذرا ذرا سی بات پہ پریشان ہو جاتے ہو۔۔۔ پہلے تم مجھے تنگ کیا کرتے تھے تو آج میں نے سوچا کیوں نا تمہیں تھوڑا تنگ کر لیا جائے۔” نائکا اس کے انداز پہ ہنسی۔
” محمد عیسٰی علی کو پریشان کرنے کے لئے فنا ہونا پڑے گا اس لئے پلیز آئندہ پریشان کرنے کے لئے کوئی اور طریقہ ڈھونڈ لینا یہ طریقہ مجھے پسند نہیں آیا بہت نیچے درجے کا تھا۔” عیسٰی نے فاتحانہ انداز میں کہا۔
Episode 18
اچھاااااا۔۔۔ تو پھر تمہارے لہجے میں اتنی پریشانی کیوں’ وہ طنزیہ بولی۔
” پریشانی نہیں کچھ اور تھا جو تم سمجھی نہیں اور ویسے بھی فون پہ کیا پتہ چلتا ہے کون کس انداز میں بات کر رہا ہے۔” عیسٰی نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
” خیر پتہ تو چل ہی جاتا ہے وہ الگ بات ہے کہ تم مان نہیں رہے۔۔۔ اور تم نے مجھے اتنی کالز کیوں کیں سٹِفنَس بھی پتہ نہیں کیا سوچتا ہو گا۔” نائکا اب قدرے سنجیدگی سے بولی۔
” پہلے تم مجھے بتاؤ تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی تھی میں تو بس یہی کنفرم کرنا چاہتا تھا کہ ایسا کیا ہے جس کے بارے میں مجھے سوچنے کی زحمت کرنی چاہیے لیکن میں کرتا نہیں۔۔۔ اور ہاں سٹِفنَس کچھ بھی نہیں سوچے گا الٹا سیدھا ہمیشہ تم ہی سوچتی ہو وہ نہیں۔” وہ بیڈ پہ لیٹتے ہوئے کشن سینے پہ رکھے بولا۔
” کچھ نہیں وہ بس ایسے ہی بول دیا تھا۔” وہ آہستہ سے کہتی بیڈ پہ اوندے بل لیٹ گئی۔
” اگر نہیں بتانا چاہتی تو کوئی بات نہیں میں کل یونی پوچھ لوں گا ابھی تم مجھے بس یہ بتاؤ کہ سمیرا کا کیا سین ہے۔” عیسٰی کا لہجہ تھوڑا مشکوک سا تھا۔
” یہ سین بھی کل ہی پوچھ لینا بلکہ جو بھی پوچھنا ہوتا ہے وہیں پوچھا کرو۔” نائکا نے مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے کہا اور فون بند کر دیا۔ اور ہاتھ میں پکڑے موبائل پہ عیسٰی کے میسجز دیکھ کر مسکرانے لگی۔
” میری بات تو۔۔۔ حد ہے یار یہ لڑکیاں بھی نا خوامخواہ ناراض ہو جاتی ہیں۔” وہ فون بیڈ پہ پٹختے ہوئے بڑبڑایا۔
************
ہری بھری گاس پہ وہ دونوں ننگے پاؤں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کو محبت کے حوالے کئے چند قدم چل کر رکے۔ وہ اس کے پیروں پہ اپنے پیر رکھ کر آنکھیں موندے اسے خوشبو کی طرح سانسوں میں اتارنے لگی۔ وہ اس کی گھنی سیاہ پلکوں سے اپنے ہونٹ مَس کرتا تو وہ شرما کے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیتی۔ دونوں ایک دوسرے کی دھرکنوں کی پناہ میں ایک دلفریب سی طمانیت اور سکون محسوس کر رہے تھے جیسے محبت جیسے خوبصورت احساسات صرف انہی کے لئے بناۓ گئے ہوں۔ وہ اس کی باہوں میں جھولتی تو وہ ذرا سا جھک کر اپنی ناک اس کی ناک سے مس کرتا تو وہ جھنجھلاتے ہوئے کھلکھلاتی۔ اس کی باہوں میں جھولتے کب اور کیسے اس کا ہاتھ چھوٹ گیا وہ خود بھی نہ سمجھ پایا اور وہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے گرتے دیکھتا ہی رہ گیا۔
” ن نائکاااااا۔” وہ بہت زور سے چلایا لیکن اس وقت زمین پہ نائکا نہیں بلکہ وہ خود گرا پڑا تھا یعنی وہ یہ سب خواب دیکھ رہا تھا ہوش تو تب آیا جب الارم نے بجنا شروع کیا۔
” اوہ گاڈ یہ لڑکی سچ مچ میں چڑیل ہے کبھی خود ڈر جاتی ہے اور کبھی دوسروں کو ڈراتی رہتی ہے۔” وہ اپنی کمر مسلتے ہوئے بڑبڑایا اور ایک نظر معاذ پہ ڈالتا جلدی سے اٹھا کہ کہیں وہ اسے نیچے گرتا دیکھ نہ لے۔
” معاذ اٹھو نماز کا ٹائم ہو گیا ہے پاپا آنے والے ہیں بہت ڈانٹ پڑے گی شاباش جلدی سے اٹھ جاؤ۔” وہ معاذ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگا۔
” بس پانچ منٹ اور۔” معاذ نیند میں بڑبڑایا۔ وہ بھی اس کے سر پہ اپنا سر ٹکاۓ آنکھیں موند گیا۔ پھر پورے پانچ منٹ بعد عیسٰی نے اس کے اوپر سے کمبل اتارا اور اسے ہر روز کی طرح آج بھی کندھوں سے پکڑ کر بیٹھایا۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا۔ مختلف مساجد میں اذان کی آواز گونجنے لگی تھوڑی دیر بعد تینوں باپ بیٹے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں چلے گۓ اور زینب بیگم گھر میں نماز ادا کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ ہر روز کی طرح آج بھی عیسٰی نے گھر آ کر قرآن کی تلاوت کرنے کے لئے قرآن پاک کھولا مگر آج اسے اپنا وجود بہت کھوکھلا محسوس ہو رہا تھا اس کا دھیان کسی اور ہی طرف تھا جو اسے بہت بے چین کر رہا تھا۔ وہ جیسے ہی پہلا لفظ زبان پہ لاتا وہ اگلا لفظ پڑھنے کے لئے پہلے لفظ پہ غور کرنے لگتا اور اگے جانے کی بجائے پھر سے پہلے لفظ پہ چلا جاتا کیونکہ آج اس کا ضمیر اسے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس نے قرآن پاک بند کیا اور اسے مخصوص جگہ پہ رکھ کر معیز صاحب کے کمرے میں گیا اور وہاں سے موٹی جلد والا قرآن پاک لیکر اپنے کمرے میں گیا۔ اس میں قرآن پاک کی ہر آیت کا ترجمہ اور تفسیر بہت تفصیل سے بیان کی گئیں تھیں۔ آج اسے قرآن پاک پڑھتے ہوئے نائکا بہت شدت سے یاد آئی تھی شاید یہ تفسیر والا قرآن پاک بھی اس وقت اسی کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں تھا۔اس نے سورۃ البقرہ کی ایک آیت پڑھی۔
” اور اگر اللّٰلہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہو جائے مگر اللّٰلہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔”
نیچے اس کی تفسیر میں ایک حدیث مبارک لکھی گئی تھی: ( اللّٰلہ تعالٰی ایک صالح مسلمان کی برکت سے اسکے پڑوس کے سو گھر والوں کی بلا دفع فرماتا ہے۔) یعنی نیکوں کا قرب بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس نے مزید کچھ آیات کا ترجمہ پڑھا وہ قرآن میں لکھی گئی اللّٰلہ کی باتیں پڑھنے میں اس قدر مگن ہو چکا تھا کہ اسے وقت کا بھی خیال نہ رہا وہ بہت دلچسپی سے پڑھ رہا تھا۔ اگر معاذ اسے ناشتے کے لئے بلانے نہ آتا تو شاید ابھی بھی وہ یونہی پڑھتا رہتا۔
آج یونی جاتے ہی وہ نائکا کو کسی نہ کسی بہانے سے کل والی بات پوچھتا رہا مگر نائکا اسے مسلسل ٹالتی رہی۔ وہ اس کی آنکھیں پڑھنے کی کوشش کرتا رہا جن میں کچھ نہ کچھ ایسا تھا جو وہ زبان پہ لانے سے اترا رہی تھی۔ اس نے لائبریری کے پیچھے جہاں کوئی اور موجود نہیں تھا جا کر اسے میسج کیا۔
” فوراً لائبریری کے پیچھے آؤ ورنہ میں سب کے سامنے زبردستی تمہیں کھینچ کر لاؤں گا۔” وہ میسج کر کے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اس کا انتظار کرنے لگا۔ وہ اس کا میسج دیکھ کر چونکی پھر خود کو کمپوز کرتی وہاں گئی جہاں وہ کھڑا اس کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔وہ اسے ڈھونڈتی ادھر اُدھر دیکھ ہی رہی تھی کہ عیسٰی نے ایک جھٹکے میں اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے دیوار کے ساتھ ٹکایا اس سے پہلے کے وہ مزاحمت کے لئے کچھ بولتی عیسٰی نے ایک ہاتھ اس کے ہونٹوں پہ رکھ دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو تھاما۔
” اب بتاؤ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں تنگ کر رہی ہو؟” وہ اس کی لرزتی پلکوں کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹایا۔
” و وہ کچھ بھی تو نہیں م میں کیوں تنگ کر کروں گی۔۔۔ وہ سمیرا پتہ نہیں کیا کہہ رہی تھی۔” وہ بوکھلائی۔ وہ اس کی آنکھیں پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ تو اس سے نظریں ملانے سے بھی گھبرا رہی تھی سردی میں بھی اسے پسینہ آ رہا تھا۔
” میں نے سمیرا کا کب پوچھا؟ مجھے صرف یہ بتاؤ ایسا کیا ہے جس کے بارے میں مجھے سوچنے کی زحمت کرنی چاہیے لیکن میں کرتا نہیں۔” وہ سنجیدگی سے بولا۔
” تم جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہو تم اچھی طرح سے جانتے ہو میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔” وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے بولی۔
” فرض کرو میں سب کچھ جانتا ہوں پھر بھی میں تم سے سننا چاہتا ہوں تم کیوں ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو کس بات کی ٹینشن ہے۔” وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر حیرت سے گویا ہوا۔
” مجھے ڈر ہے۔۔۔ کہیں مجھے تم سے۔۔۔ ع عشق نہ ہو جائے۔” وہ آنکھیں بند کر کے مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولی۔
” فار یور کائنڈ انفارمیشن مس نائکا سلیمان آپ کو مجھ سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کو مجھ سے عشق ہو چکا ہے۔” وہ اس پہ تھوڑا سا جھکا اور ہلکی سی مسکراہٹ دبانے لگا۔
” اسی بات کا ڈر ہے کہ مجھے تم سے عشق ہوا ہے۔۔۔ تم میرے لئے ایک لاحاصل چیز بن گئے ہو۔۔۔ عیسٰی میں میں کیا کروں میں بہت تکلیف میں ہوں میں اپنے دل کی بات زبان پہ ہر گز نہیں لانا چاہتی تھی مگر میرے دل پہ جو بوجھ ہے وہ صرف تم ہی کم کر سکتے ہو اور کوئی نہیں۔” آنسو ایک روانی سے بہہ رہے تھے۔
” میں نے کہا تھا نا کہ آگ اور پانی کو ایک ثابت کر کے دکھاؤں گا۔۔۔ جب آگ اور پانی خودایک ہونا چاہتے ہیں تو اللّٰلہ کے سوا اس دنیا میں اور کوئی طاقت ایسی نہیں جو ان کو ایک ہونے سے روک سکے۔۔۔ ہاں میں نے دیکھا ہے آگ اور پانی کو ایک ہوتے اس لئے جب تک میں زندہ ہوں تب تک تمہیں کسی سے بھی ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔” عیسٰی کی خود اعتمادی نے ایک پل کے لئے اس کے دل سے ہر طرح کا ڈر خوف ختم کر دیا تھا۔ عیسٰی نے اس کے آنسو صاف کئے اور اس کی پیشانی چوم کر اسے دلاسا دیا۔ آج وہ جس عیسٰی کے ساتھ تھی کوئی اور ہی تھا جیسے کوئی مکمل اپنا جو اس کی ہر تکلیف کو اپنے اندر جذب کر گیا تھا۔ وہ نم آنکھیں موندے اس کے سینے پہ سر رکھے اس کے حصار میں ہو لی۔
ہمارا مذہب تو عشق ہے
جس کی ابتدا بھی اور انتہا بھی
کسی بھی ان دیکھے واقعے سے جڑی ہوئی ہے
یہ جسم کیا ہے یہ جان کیا ہے؟
یہ زندگی کا نشان کیا ہے؟
یہ کون شب بھر نظامِ خوابِ وصال ہم میں چلا رہا ہے؟
یہ کون جسموں کی روئی چرخے پہ کاٹتا ہے؟
تمہارا دکھ ہے
تمہارا دکھ بھی عجیب دکھ ہے
ہمارے جسموں میں دھڑکنوں کے ردھم پر دھمال ڈالتا ہے
ہماری مٹی اڑا رہا ہے
ہمارا کیا ہے
ہمیں تو چرخے کے چکروں میں کسی نے الجھا دیا ہے ایسے
کہ ریت تھل کی ہمارے زخموں کے راستے سے
ہمارے ذہنوں میں آ گئی ہے
خدارا سنبھالے رکھنا
کہ ہم ابھی تھل سے آشنا نہیں ہوۓ ہیں
اور عشق چرخے کے چکروں میں
ہمارے جسموں کے سارے دھاگے الجھ چکے ہیں
*********************
عیسٰی اور نائکا کی غیر موجودگی میں سمیرا نے پھر سے سٹِفنَس کو سوری بولنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کال پہ کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا جب وہ دھیرے سے اس کے ساتھ والی کرسی پہ براجمان ہوئی۔ سٹِفنَس نے فون بند کر کے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔ وہ پلکیں جھکاۓ ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ سٹِفنَس پہلی بار اسے یوں خود کے سامنے نروس ہوتا دیکھ کر مسکرایا۔
” سمیرا کیا بات ہے آج اتنی چپ چپ کیوں ہو؟ کسی نے کچھ کہا کیا؟” وہ بہت نرمی سے مخاطب ہوا۔ سمیرا اس کا رویہ دیکھ کر چونکی جیسے کل کچھ ہوا ہی نہ تھا۔
” ن نہیں تو۔” وہ بوکھلائی۔
” تو پھر اتنی خاموش کیوں ہو۔” وہ سابقہ لہجے میں بولا۔
” ن نہیں تو۔” وہ بھی سابقہ لہجے میں بولی۔ سٹِفنَس اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کر ہنس دیا۔
” کیا نہیں تو نہیں تو لگا رکھا ہے۔” سٹِفنَس ہنسا۔
” سٹِفنَس وہ میں کل کے لئے۔۔۔” وہ بول ہی رہی تھی کہ سٹِفنَس نے اسے ٹوکا۔
” کل کچھ بھی نہیں ہوا تھا تم نے کوئی خواب دیکھا تھا جو صرف خواب تھا حقیقت نہیں اس لئے اب اس بارے میں سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں اوکے۔۔۔ چلو اب موڈ اچھا کرو پھر کیفے چلتے ہیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔” وہ مسکراتا ہوا اٹھا اور اپنا بیگ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ بھی ہلکی سی مسکراہٹ دباۓ کھڑی ہوئی۔ سمیرا کے دل میں اس کے لئے محبت اور بڑھ گئی تھی وہ دل ہی دل میں اسے پوجنے لگی تھی۔
آج ہادی نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مارگریٹ سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالے گا مگر آج مصروفیت کی وجہ سے دونوں کو بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا اور جب فری ٹائم میں موقع ملا تو مارگریٹ اس کے پاس موجود ہی نہیں تھی وہ عیسٰی کو ڈھونڈنے جا چکی تھی۔ کیفے میں سمیرا اور سٹِفنَس کو دیکھ کر وہ ان کی کلاس میں بھاگتی ہوئی گئی مگر عیسٰی وہاں بھی موجود نہیں تھا نائکا اکیلی اس وقت کیفے کی طرف جا رہی۔ وہ کلاس سے بھاگتی ہوئی مسجد کی طرف دوڑی۔ وہ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے تڑپ رہی تھی مسجد کے باہر کھڑی وہ اس کا بے چینی سے انتظار کرنے لگی۔
” میں اسے ایک دن نہ دیکھوں تو میں مرنے لگتی ہوں اگر۔۔۔ اگر وہ ہمیشہ کے لیئے مجھ سے کہیں دور۔۔۔” وہ یہ سوچتے ہوئے جھنجھلائی۔ یہ سوچتے ہوئے اس کا سر چکرانے لگا تھا وہ خود کو سنبھال نہ سکی اور ایک ہی لمحے میں اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھایا۔ تھوڑی دیر بعد عیسٰی بھی مسجد سے نکل آیا وہ مارگریٹ کو دیکھ کر بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔
” مارگریٹ۔۔۔ آنکھیں کھولو۔” وہ اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے پریشانی سے بولا۔ اس کے آنے سے پہلے ہی وہ بے ہوش ہو چکی تھی اتنے میں ہادی بھی آ پہنچا۔ عیسٰی نے اسے بازؤں میں اٹھا کر بینچ پر لٹایا ہادی تو مارے پریشانی کے کچھ بول ہی نہ پایا۔
” سٹِفنَس کو بلاؤ جلدی۔” عیسٰی نے ہادی سے کہا۔ آس پاس کھڑے کچھ سٹوڈنٹس نے اسے پانی پلایا مگر اسے ہوش نہیں آیا۔ ہادی نے سٹِفنَس کو کال کر کے وہاں بلایا۔ وہ بھی ایک منٹ میں دوڑتا ہوا وہاں پہنچا۔ ہوش نہ آنے پر اسے ہاسپٹل لے جایا گیا۔
***************
مارگریٹ کا بلڈ پریشر بہت زیادہ لو ہو چکا تھا جس وجہ سے اس کی رنگت بہت زرد پڑ چکی تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تو سب کی جان میں جان آئی۔ وہ لوگ اسے ہاسپٹل سے گھر لے آۓ تھے اور اس وقت سب مارگریٹ کے کمرے میں موجود تھے۔ سٹِفنَس اس کے سرہانے بیٹھا روۓ جا رہا تھا اور دوسری طرف سمیرا بیٹھی تھی۔ عیسٰی اور ہادی کھڑے سٹِفنَس کو چپ کرا رہے تھے مگر آنسو تھے کہ بے اختیار بہے جا رہے تھے۔
” سٹِفنَس پلیز چپ ہو جاؤ دیکھو مارگریٹ اب بلکل ٹھیک ہے۔۔۔ اگر تم ایسے ہمت ہار جاؤ گے تو مارگریٹ کو کون سنبھالے گا۔” عیسٰی بیڈ کے کنارے بیٹھ کر سٹِفنَس کا ہاتھ تھامے اسے چپ کرانے لگا۔ مارگریٹ پہ ابھی بھی کچھ حد تک غنودگی طاری تھی۔
” بھائی میں ٹھیک ہوں۔” مارگریٹ نے نم آواز میں کہا۔ سٹِفنَس نے پیار سے اس کی پیشانی پہ بوسہ دیا اور اس کے ماتھے پہ آۓ بال ہٹائے۔ اتنے میں نائکا دودھ کا گلاس لئے اندر داخل ہوئی۔
” مارگریٹ اٹھو جلدی سے دودھ پیو۔” سمیرا نے اسے بیٹھایا اور دودھ کا گلاس اسے تھمایا۔ آج پہلی بار مارگریٹ نے بنا منہ بسورے دودھ پینے کی کوشش کی وہ بھی صرف اپنے بھائی کے لئے کیونکہ وہ مزید اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ہادی ابھی بھی اس کی حالت دیکھ کر سکتے میں یونہی کھڑا تھا اس سے تو کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
” مارگریٹ تم نے تو آج ہم سب کو ڈرا ہی دیا تھا بھلا ایسے بھی کوئی بے ہوش ہوتا ہے شکل دیکھو اپنی ایک ہی دن میں کیا حالت ہو گئی ہے۔” عیسٰی ایک ٹانگ بیڈ پہ رکھتے ہوئے اپنا رخ اس کی طرف کرتے ہوئے بولا۔
” ابھی دودھ پیوں گی تو شکل بھی اپنی اصل حالت میں آ جائے گی۔” مارگریٹ نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔ کبھی کبھی ایسے لوگوں کو بھی خود کے لئے پریشان ہوتے دیکھ کر بہت سکون محسوس ہوتا ہے جن کو ہم پریشانی میں مبتلا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ آج مارگریٹ بھی عیسٰی کو خود کے لئے پریشان دیکھ کر خوش تھی وہ اس کے لئے ہر روز بیمار ہونے کے لئے تیار تھی۔
” مارگریٹ تم کل یونی مت جانا تمہارا جو بھی کام پینڈنگ پہ ہو گا میں کروا دوں گا تم بس ریسٹ کرو ابھی۔” ہادی بیڈ کی پائنتی پہ بیٹھ کر سنجیدگی سے بولا۔
” تھینکس ہادی لیکن میں اب ٹھیک ہوں۔” مارگریٹ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”کوئی ٹھیک نہیں ہو۔۔۔ تم کل یونی نہیں جا رہی بس۔” سٹِفنَس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
” ویسے سٹِفنَس اس وقت مارگریٹ سے زیادہ تم مجھے بیمار لگ رہے ہو اس لئے تم بھی اب آرام کرو اور نائکا تم۔۔۔ تم ایک دم ٹھیک ہو اس لئے تم ان دونوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا۔” عیسٰی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
”اچھا اور اگر ان کا خیال رکھتے رکھتے میں بیمار پڑ گئی تو؟” نائکا نے اسے گھورا۔
” پاگل لڑکی تمہیں اتنا بھی نہیں پتہ کہ چڑیلیں بیمار نہیں پڑتیں۔” عیسٰی نے شرارت سے مسکراہٹ دبائی۔ اس کی بات پہ سب ہنس دیے۔
” تمہیں تو بس موقع چاہیے۔۔۔” نائکا نے کشن اس کی طرف اچھالا جسے وہ کیچ کر گیا۔
” بس بس خبردار اگر اب نائکا کو تنگ کیا تو۔” سٹِفنَس نے عیسٰی کو دیکھ کر مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
” ہاہاہا اوکے تم کہتے ہو ٹھیک ہے۔۔۔ اب میں چلتا ہوں کل ملاقات ہو گی۔ مارگریٹ اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔” عیسٰی کہتے ہوئے کھڑا ہوا۔
” عیسٰی کیا تم مجھے یونی ڈراپ کر دو گے؟ میں وہیں سے گھر جاؤں گی۔” سمیرا بھی جانے کے لئے کھڑی ہوئی۔
” ہاں کیوں نہیں۔۔۔ ہادی تم آج میرے ساتھ گھر چل رہے ہو نا؟” عیسٰی نے ہادی کی طرف دیکھ کر کہا۔
” آ نہیں آج نہیں پھر کبھی آج میں ہاسٹل ہی جاؤں گا۔۔۔ مارگریٹ اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا میں بھی اب چلتا ہوں۔ اللّٰلہ حافظ۔” ہادی نے کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔ عیسٰی نے اسے دیکھ کر کندھے اچکاۓ اور سب کو سلام بول کر سمیرا کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔ نائکا ان کو باہر تک چھوڑنے گئ۔
” مارگریٹ تم بے ہوش کیسے ہوئی؟ اور وہاں تم لینے کیا گئ تھی؟” سب کے جانے کے بعد سٹِفنَس اسے پوچھنے لگا۔
