Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 03)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
” تو پھر ٹھیک ہے میں بھی اب نہیں کہوں گا۔” عیسٰی ذرا غصے میں چِلا یا۔
” نہیں نہیں۔۔۔ میں ہاتھ دیتی ہوں۔” جیسے ہی عیسٰی نے ہاتھ پیچھے کی طرف ہٹایا وہ فوراً بول پڑی۔
سمیرا نے اپنا ایک ہاتھ عیسٰی کو دیا اور دوسرے ہاتھ سے پتھر پر زور ڈالتے ہوئے اوپر آنے کی کوشش کی۔ عیسٰی کے دوستوں اسے پیچھے سے پکڑ رکھا تھا تاکہ کم ازکم عیسٰی کو کچھ نہ ہو۔ عیسٰی نے اپنی ساری قوت سے سمیرا کو اوپر کھینچنے کی کوشش کی اور جلد ہی وہ اسے بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ سمیرا اوپر آتے ہی نائکا کے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔ لوگوں کا ہجوم بھی کم ہونے لگا۔
” دونوں ہی ایک جیسی ہیں ایک اپنی چیزیں نہیں سنبھال سکتی اور دوسری خود کو۔” عیسٰی اپنے کپڑے جھاڑ کر گلاسز لگاتے ہوئے منہ میں بڑبڑانے لگا۔ باقی سب لوگوں کی طرح عیسٰی لوگ بھی وہاں سے جانے لگے۔
” ایکسیوزمی۔” سمیرا نے عیسٰی کو رکنے کا اشارہ کیا اور اس کی جانب لپکی۔ عیسٰی بھی اس کی آواز پہ پلٹا تھا۔
” تھینک یو سو مچ۔۔۔ اگر آج آپ میری مدد نہ کرتے تو شاید۔۔۔”
” تو شاید کوئی اور آپ کی مدد کیلئے آ جاتا۔” عیسٰی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے نرمی سے کہا۔ نائکا ان سے چند قدم کے فاصلے پر سر جھکائے ان کو نظر انداز کرتے ہوئے نادم سی کھڑی تھی۔
” لیکن ابھی تو آپ ہی نے مدد کی ہے نہ تو شکریہ بھی آپ ہی کا بنتا ہے۔” سمیرا نے جوابًا کہا۔
” اچھا۔۔۔ چلیں کوئی بات نہیں لیکن آئندہ احتیاط سے۔” عیسٰی نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی اور وہاں سے چلا گیا۔
” نائکا۔۔۔ تمہیں بھی اس کو تھینکیو بولنا چاہیے تھا اس نے اپنی جان پر کھیل کے ہماری مدد کی۔” سمیرا اسے خاموش کھڑے دیکھتے ہوئے بولی۔
” چلو اب ہاسٹل چلتے ہیں۔۔۔ میرا اب مزید یہاں رکنے کا کوئی موڈ نہیں وہاں جا کر بتاؤں گی ساری بات کہ تھینکیو کیوں نہیں بولا۔” نائکا نے جوابًا کہا اور دونوں ہاسٹل چلی گئیں۔
” اب بتاؤ بھی۔۔۔ تم نے اسے تھینکیو کیوں نہیں بولا۔” ہاسٹل پہنچتے ہی سمیرا بے چینی سے بول پڑی۔
” اف خدایا۔۔۔ تم سارے راستے میں بھی بس یہی ایک بات پوچھتی رہی اور اب پھر سے شروع ہو گئی۔۔۔ دو منٹ سانس تو لینے دو۔” نائکا ذرا تنگ آ کر بولی۔
” تو تم نے کون سا بتا دیا ہے جو تمہاری سانسیں رکی ہوئی ہیں۔” سمیرا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔ سمیرا کو بھی کہاں چین آنا تھا۔
” اچھا بتاتی ہوں۔۔۔ ہوا یہ تھا کہ میں چلتے چلتے گر گئی تھی اور وہ لڑکا میرے پیچھے کھڑا تھا مجھے لگا میں اس کی وجہ سے گری لیکن ایسا نہیں تھا میرے لیسز(تسمے) کھل گۓ تھے اور میرا اپنا ہی پاؤں اوپر آ گیا۔۔۔اور میں خوامخواہ اس پہ چلاتی رہی۔” نائکا جاگرز اتارتے ہوئے بڑی لاپرواہی سے اسے بتا رہی تھی۔
” اوہو۔۔۔ پھر تو تمہیں صرف تھینکیو ہی نہیں بلکہ سوری بھی بولنا چاہیے تھا۔” سمیرا ذرا افسردہ ہوئی۔
” واٹ۔۔۔؟ میں اسے سوری کیوں بولتی؟” نائکا نے رُخ اس کی طرف پھیرا۔
” کیونکہ تم نے بلاوجہ اس سے جھگڑا کیا اس لیئے تمہیں سوری کہنا چاہیے تھا۔۔۔ اس بیچارے نے کچھ کیا بھی نہیں اور تم نے اسے اتنا کچھ سنا دیا۔” سمیرا کو غصہ آنے لگا تھا۔
” ہاں تو۔۔۔ میں نے کون سا جان بوجھ کے جھگڑا کیا۔ اسے پہلے بتانا چاہیے تھا کہ میں اس کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ہی وجہ سے گِری تھی۔ سو غلطی اس کی تھی میری نہیں۔ ” نائکا نے چہرے پہ ندامت کے آثار جھٹکتے ہوئے آخر پہ الزام پھر بھی عیسٰی کے سر تھوپ دیا۔
” تم اسے کچھ بولنے کا موقع دیتی تو وہ بیچارہ کچھ بولتا نا۔۔۔ اور جب تمہیں پتہ چل گیا تھا کہ غلطی تمہاری تھی تب بھی کونسا تم نے سوری بول دیا۔ ” سمیرا عیسٰی کی حمایت کر رہی تھی۔
” اس نے تمہاری ذرا سی ہیلپ کیا کر دی تم تو اسی کی ہو کے رہ گئی۔ اب تم اس انجان شخص کے لئے مجھ سے جھگڑو گی۔” دونوں آپس میں الجھ پڑیں۔ نائکا آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ ایک تو وہ دل ہی دل میں شرمندہ تھی لیکن اپنی اناء کی وجہ سے وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کر رہی تھی، دوسرا سمیرا بھی اس سے غصے سے بول رہی تھی۔ نائکا کے آنسو جیسے حلق میں اٹک کر رہ گئے۔ اب وہ بڑی مشکل سے بول رہی تھی۔
” ذرا سی ہیلپ نہیں، اس نے اپنی جان پر کھیل کے میری جان بچائی، اور یہ کوئی ہیلپ نہیں احسان ہے۔ کوئی بھی انجان، بنا کسی ذاتی مفاد کے ایسے ہیلپ نہیں کرتا جیسے اس نے کی۔ میں اسے نہیں جانتی لیکن پھر بھی میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی۔۔۔ اور میں تم سے کوئی جھگڑا نہیں کر رہی صرف اس چیز کا احساس دلا رہی ہوں کہ اپنی اناء کو ختم کر کے اپنی غلطی تسلیم کرو بس، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ اللّٰلہ بھی خوش ہو گا۔” سمیرا نے نائکا کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
نائکا چپ سادم سی بیٹھ کے سوچنے لگی کہ اب وہ سوری بولے بھی تو کیسے، اور سمیرا تو مجھے ہیلپ کے لئے پکار رہی تھی، میں نے خود تو اس کی کوئی ہیلپ کی نہیں الٹا کسی کو ہیلپ کے لئے بول دیا۔۔۔ اس لڑکے نے بھی بغیر کچھ سوچے ہماری ہیلپ کر دی حالانکہ میں اس سے بہت بدتمیزی بھی کر چکی تھی۔
ارے یہ کیا۔۔۔ نائکا نے تو رونا ہی شروع کر دیا۔ سمیرا کو لگا شاید وہ اس کی باتوں کی وجہ سے رو رہی ہے۔
” نائکا۔۔۔ ایم ریلی سوری۔ میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔” سمیرا کو خود پہ غصہ آنے لگا کہ میں نے کیوں زبردستی سوری کہنے کےلئے بولا اگر وہ سوری نہیں بولنا چاہتی تھی تو نہ کہتی مجھے کیا۔
” نہیں۔۔۔ تمہاری کوئی غلطی نہیں، نہ ہی اس لڑکے کی کوئی غلطی تھی۔ غلطی صرف اور صرف میری ہے میں صرف اپنی وجہ سے رو رہی ہوں۔ مجھے واقعی میں اسے سوری کہنا چاہیے تھا۔” نائکا روہانسی ہوئی۔
” چلو کوئی بات نہیں، اب وہ لڑکا تو مل نہیں سکتا تم اللّٰلہ سے معافی مانگ لو۔” سمیرا نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔ سمیرا اب مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
” مجھے پتہ ہے جب تک انسان معاف نہ کرے تب تک خدا بھی معاف نہیں کرتا۔” نائکا پھر سے رونے لگی۔
” اگر ہم سچے دل سے معافی مانگیں تو اللّٰلہ ضرور معاف کر دیتا ہے۔ اس لئے اب یہ رونا دھونا بند کرو اور جلدی سے اللّٰلہ سے معافی مانگ لو اور اپنا موڈ بھی اچھا کرو۔۔۔ تمہیں یاد ہے نہ آج ہم نے شام کو شاپنگ کیلئے بھی جانا ہے یہ نہ ہو کہ تم رورو کے اپنی طبیعت خراب کر لو ۔۔۔ پھر کل سنڈے بھی ہے تمہیں چرچ بھی جانا ہے۔” سمیرا نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے موضوع بدلا۔ نائکا نے ہاتھوں کی پشت سے آنسو پونچھے اور منہ دھونے واش روم چلی گئی۔ سمیرا نے گہری سانس بھری اور بیڈ پہ لیٹ کر چھت کو گھورنے لگی۔
______________________
یش بورڈ پہ پڑے موبائل کی سکرین بنا کسی آواز کے لگاتار آن آف ہو رہی تھی۔ شام ہونے کے قریب تھی جب وہ لوگ واپس مال روڈ کی طرف آ رہے تھے۔ معیز صاحب کال پہ کال کئے جا رہے تھے مگر عیسٰی جان چھڑانے کے لئے سیل سائلنٹ پہ لگائے مزے سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ مال روڈ پہنچ کر بلاآخر اس نے فون آف ہی کر دیا۔
G.P.O چوک کے قریب پہنچتے ہی اس نے گاڑی ایک سائیڈ پہ پارک کی اور سب نے مال روڈ پر پیدل چلنا شروع کر دیا۔ وہاں ہر طرح کی دکانیں موجود تھیں۔ شام کی نیلاہٹ ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ وہ سب دوکانوں کا سرسری جائزہ لینے لگے۔
نائکا اور سمیرا بھی اس وقت مال روڈ پر ایک دوکان سے کپڑے دیکھ رہی تھیں۔ نائکا اس دوکان سے اپنے لئے کپڑے پسند کرنے میں مصروف ہو گئ جبکہ سمیرا ساتھ والی دوکان سے اپنے لئے جوتا پسند کرنے چلی گئی۔ عیسٰی بھی اسی دوکان میں کھڑا کچھ شرٹس دیکھ رہا تھا جہاں نائکا اور بہت سے لوگ کپڑے خرید رہے تھے۔ وہ گارمنٹس کی ایک بہت بڑی دوکان تھی جہاں لیڈیز، جینس اور بچوں کے ہر قسم کے کپڑے دستیاب تھے۔
اسی دوکان میں ایک چھوٹی سی بچی اپنی ماں کے ساتھ کپڑے خرید رہی تھی۔ وہ جس بھی ڈریس کی طرف ہاتھ بڑھاتی اس کی ماں مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی اور دوکاندار سے وہی ڈریس دکھانے کے لئے کہتی۔۔۔ جیسے ہی دوکاندار ڈریس بچی کے ہاتھ میں دیتا وہ خوشی سے اچھلنے لگتی۔ نائکا یہ ماں بیٹی کی محبت دیکھ کر مسکرا بھی رہی تھی اور دکھی بھی تھی کہ اگر آج اس کی ماں بھی زندہ ہوتی تو وہ بھی اس کے ایسے ناز نخرے اٹھاتی۔ نائکا کی پشت عیسٰی کی طرف تھی۔ عیسٰی بھی اس بچی کی خوشی دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ جلد ہی عیسٰی کی آواز نے نائکا کی سوچ کو توڑا۔
_______________
” ایکسیوز می۔” عیسٰی مسکراہٹ سمیٹتے ہوئے دوکاندار سے مخاطب ہوا۔ نائکا اس کی آواز سنتے ہی چونکی۔ اسے لگا جیسے وہ اس آواز سے آشنا ہے مگر وہ اندازہ نہیں لگا سکی کہ یہ آواز ہے کس کی۔ وہ جیسے ہی اس شخص کو دیکھنے کے لئے پلٹی، دوسری جانب سے ایک اور آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
” نائکا یہ دیکھو میری سینڈل۔۔۔ کیسی ہے؟ تم نے کیا لیا، یا کچھ پسند ہی نہیں آیا۔ چلو کس اور دوکان سے کپڑے دیکھتے ہیں۔” نائکا ابھی پوری طرح سے اس شخص کو دیکھنے کے لئے پلٹی بھی نہیں تھی کہ وہ سمیرا کی طرف متوجہ ہو گئی۔
” ہاں یار۔۔۔ چلو کسی اور شاپ سے کپڑے دیکھتے ہیں۔” نائکا نے دھیمی آواز میں کہا۔ عیسٰی ابھی بھی اس کے پیچھے کھڑا کچھ شرٹس دیکھ رہا تھا مگر نائکا اس کے آگے کھڑی تھی جس وجہ سے سمیرا بھی اسے نہ دیکھ سکی۔ نائکا یہ کہتے ہوئے دوکان سے باہر نکلنے لگی سمیرا بھی اس کے پیچھے چلنے کے لئے بیگ کندھے پہ لٹکانے لگی۔ جیسے ہی نائکا نے اپنا ایک پاؤں دوکان سے باہر نکالا سمیرا چیخ مارتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی۔
” نائکا۔” نائکا اس کی آواز پہ پلٹی۔
” کیا ہے کیوں ہر وقت چلاتی رہتی ہو۔” نائکا نے دانت بھینچتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔
” یار وہ دیکھو یہ وہی لڑکا ہے نہ جس نے آج ہماری مدد کی تھی۔ شکر ہے مل گیا اب تم اسے سوری بول سکتی ہو۔” سمیرا نے بھی دھیمی آواز میں کہا۔
” مجھے تو یہ کوئی اور لگتا ہے۔ وہ تو کوئی بڑا بدتمیز لگتا تھا۔ بہت بدتمیزی کی تھی اس نے۔ اس کی شکل اُس سے ملتی جلتی ہو گی لیکن یہ وہ نہیں ہو سکتا۔” نائکا نے اسے کچھ فاصلے سے دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا۔ وہ جس لہجے میں دوکاندار سے مخاطب تھا وہ بلکل مختلف تھا۔
” اف تم بھی نہ۔۔۔ اگر کوئی شریف بدتمیزی کے بدلے بدتمیزی کرے گا تو ظاہر ہے وہ بدتمیز ہی لگے گا۔ دیکھو سارا کچھ وہی ہے بس گلاسز نہیں لگائے۔” سمیرا نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔ وہ دونوں اس کی سائیڈ پوز ہی دیکھ پائی تھیں۔ وہ دونوں اسے دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کے اتنے قریب چلی گئیں کہ اگر وہ ذرا بھی پلٹتا تو یقینًا اس کی ٹکر ان میں سے کسی سے لگ جاتی۔ ان دونوں کو اس چیز کا ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ اگر اُس نے ہمیں ایسے گھورتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچے گا۔ لیکن عیسٰی کو اس چیز کا احساس ضرور ہو گیا تھا کہ کوئی اس کے اتنے قریب کھڑا اسے دیکھ رہا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی اتنا زیادہ قریب کھڑا ہے کہ پلٹنے پر اس سے وہ ٹکرا بھی سکتا ہے۔ شاپنگ بیگ پکڑتے ہوئے جیسے ہی وہ پلٹا فوراً نائکا سے جا ٹکرایا اور اس کا بیگ ہاتھ سے بے اختیار چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ دونوں کی زبان سے بیک وقت ایک ہی لفظ نکلا۔ ” آؤچ۔”
“What the hell is this.” نائکا نے اپنا ماتھا سہلاتے ہوئے غصے سے کہا۔ سمیرا یہ دیکھتے ہی اپنا سر پکڑ کر پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔
” oh! I’m really sorry ma’m.” عیسٰی بیگ اٹھاتے ہوئے بولا۔
” اب کیا فائدہ سوری بولنے کا۔” نائکا نے سابقہ لہجے میں کہا۔
عیسٰی بیگ اٹھانے کے لئے جھکا ہوا تھا دونوں نے ایک دوسرے پورا چہرہ نہیں دیکھا تھا اور عیسٰی تو اس کی شکل دیکھے بغیر ہی اسے سوری بول چکا تھا۔
” وہ میں۔۔۔ تم۔” عیسٰی نے بیگ اٹھاتے ہوئے وضاحت پیش کرنا چاہی لیکن نائکا کا چہرہ دیکھتے ہی وہ چونکا۔ وہ اپنی شربتی لمبی آنکھوں سے اسے گھورنے لگا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو اور سمیرا ان دونوں کو گھورنے لگی۔ عیسٰی اس کی طرف سے جواب کے انتظار میں تھا کہ وہ کوئی صفائی پیش کرے گی مگر یہ کیا نائکا تو کچھ بولی ہی نہیں اس کی زبان پہ تو جیسے تالا لگ گیا تھا۔ سمیرا بھی دیکھ کر حیران تھی کہ وہ غصے میں بھی اتنی دیر خاموش کیسے تھی۔ عیسٰی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جو اسے چپ رہنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس نے آج تک اتنی پیاری آنکھیں نہیں دیکھی تھیں۔ نائکا نے ایک سیکنڈ کے لئے بھی پلک نہیں جھپکی اور لگاتار اسے دیکھتی گئی۔ وہ اس کی آنکھیں دیکھنے میں اتنی مسرور تھی کہ اسے لگا جیسے اس کے سامنے صرف عیسٰی کی آنکھیں ہیں اور اس کے آس پاس کسی بھی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ جیسے وہ آنکھیں صرف اسی کو دکھانے کے لئے بنائی گئی ہوں۔
” تم یہاں بھی آ گئی۔۔۔ میں نے بلکل ٹھیک کہا تھا اور وہی ہوا نا۔ اب پھر سے الزام مجھ پہ ہی آۓ گا۔ لیکن اس بار بھی غلطی میری نہیں تمہاری ہے۔ تم مجھے اسے قریب سے کیوں گھور رہی تھی بتاؤ؟ ۔۔۔ محترمہ میں آپ سے مخاطب ہوں۔ اب سوری کہنے کی بجاۓ ایسے ٹکٹکی جما کے گھور رہی ہو۔” اس بار عیسٰی کو اچھا خاصا موقع مل گیا اسی کی زبان میں اسے باتیں سنانے کا۔ لیکن وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی۔ نائکا نے اس کی کسی بھی بات پر غور نہیں کیا۔ سمیرا نے اُٹھ کر نائکا کا بازو پکڑ کے زور سے جھنجھلایا نائکا کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی۔
” وہ۔۔۔ اصل میں ہم آپ کو پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس پاگل کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ آپ وہی ہو جس نے آج ہماری مدد کی تھی۔” سمیرا نائکا کا بازو پکڑے، ظاہری مسکراہٹ سے بولی۔ وہ تھوڑی شرمندہ بھی تھی کہ یہ لڑکا ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہو گا کہ ہم اسے اتنے قریب سے کیوں دیکھ رہی تھیں اور مس نائکا سلیمان پہ تو اسے حد سے زیادہ غصہ آ رہا تھا اس نے تو حد ہی کر دی تھی۔
” اوہ اچھا۔۔۔ تو یہ پہلے سے پاگل ہے مجھے لگا ایک ہی دن میں دو بار گرنے کی وجہ سے یہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اسی لئے اپنے خوش و خواصں میں نہیں ہے۔۔۔ چلو شکر ہے ورنہ اس کے پاگل ہونے کا الزام بھی مجھ پر ہی آتا۔” عیسٰی اس کا مذاق اڑاتے ہوئے محظوظ انداز میں مسکرایا۔
” مسٹر۔۔۔ اپنی حد میں رہیں۔میں بلکل اپنے خوش و خواصں میں ہوں۔ پاگل تو یہ ہے جو زبردستی مجھے سوری کہلاوانے کے لئے یہاں لے آئی۔۔۔ دیکھا میں نے کہا تھا نا وہ کوئی بہت ہی بدتمیز لڑکا تھا لیکن تمہیں تو یہ بہت ہی شریف لگ رہا تھا۔” نائکا غصے میں دونوں پہ چلائی اور بغیر کچھ سوچے سمجھے بولتی گئی اسے خود اپنے الفاظ کی سمجھ نہیں آئی کہ وہ بول کیا رہی ہے۔
” میں نے کب کہا تھا یہ شریف ہے ایسا تو تم نے کہا تھا کہ یہ لڑکا تو بہت شریف لگ رہا ہے۔۔۔ ایک ہی ٹکر میں سارا کچھ بھول بھی گئی۔” وہ دونوں آپس میں الجھ پڑیں۔ عیسٰی نائکا کو غور سے دیکھنے لگا۔ ان دونوں کی آوازیں بڑھنے لگیں۔ دوکاندار نے ان کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا۔ وہ دونوں دوکاندار کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرانے لگیں۔
” ویسے آپ کے ہاں لوگوں کو ایسے پہچانا جاتا ہے، اتنا قریب آ کر، گھور گھور کے؟۔۔۔ اور آپ لوگوں نے مجھے پہچان کے کرنا کیا تھا۔” عیسٰی نے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا۔ نائکا نے عیسٰی کے چہرے سے نظریں ہٹا کر سمیرا کی طرف رخ کیا۔
” نائکا آپ کو سوری کہنا چاہ رہی تھی۔ بعد میں اسے احساس ہوا کہ غلطی آپ کی نہیں اس کی تھی۔ بیچاری بہت رو رہی تھی۔” سمیرا نے اس کے پہلے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے فوراً دوسرے سوال کا جواب دیا۔ لیکن سمیرا کا آخری جملہ نائکا کو بہت ناگوار محسوس ہوا اس نے سمیرا کو آنکھیں دکھائیں۔
” او۔آۓ۔سی۔۔۔ خیر بات تو اتنی بڑی نہیں تھی لیکن یہ نائکا۔۔۔” عیسٰی نے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا۔
” ایکسیوز می۔ اگر آپ لوگوں کی خریداری ہو گئی ہو تو کیا آپ باہر جا سکتے ہیں لوگوں کا رش بڑھ رہا ہے۔” مجبورًا دوکاندار نے ظاہری مسکراہٹ دباتے ہوئے ان تینوں کو باہر جانے کی درخواست کی۔ عیسٰی سر اثبات میں ہلاتے ہوئے باہر چلا گیا وہ دونوں بھی اس کے پیچھے چل دیں۔ نائکا اس کے بلکل سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” لیکن یہ نائکا کیا؟ کیا کہنا چاہ رہے تھے بتاؤ؟” نائکا نے لب بھینچتے ہوئے پوچھا۔
” یہ نائکا کیسا نام ہے پہلی بار کسی انسان کا نام نائکا سنا ہے مجھے عجیب لگا۔” عیسٰی نے ان دونوں کا تجسس دیکھتے ہوئے جان بوجھ کر بات گھمائی۔ اسے وہ دونوں پاگل لگتی تھیں۔
” کیا مطلب کسی انسان کا نام۔ یہ انسان کا ہی نام ہے اور کس کا ہو سکتا ہے۔” نائکا نے بھی تجسس سے ہی پوچھا تھا۔
” ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن میں نے تو اس نام کے بارے میں کچھ اور ہی پڑھا ہے۔” عیسٰی نے کندھے اچکاتے ہوئے بڑے پر اعتماد انداز میں کہا۔
اندھیرا چھا چکا تھا اور رات کی روشنیوں میں مال روڈ کی خوبصورتی اور رونقوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ نائکا کا رخ ہوا کی مخالف سمت میں تھا۔ اس کے بال ہوا سے اڑتے اس کے کندھوں سے ہوتے ہوئے اس کے چہرے پہ گرتے۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے بال پیچھے ہٹاتی۔
” اور کیا؟۔۔۔ کیا سنا ہے آپ نے اس نام کے بارے میں۔” اس بار سمیرا بولی اس کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔
” میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ نائکا کسی چڑیل کا نام ہے۔” عیسٰی نے نائکا کے بال دیکھتے ہوئے بے اختیار کہہ دیا۔ وہ فوراً اپنے بال سمیٹنے لگی۔ غصہ اس کی ناک پہ واضح تھا۔
”ک کیا۔۔۔ چ چڑیل۔۔۔ کیسی چڑیل؟” سمیرا نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ لئے جو بے اختیار کھل گیا تھا۔
” یہ ایک ایسی چڑیل ہے جو دکھنے میں تو عجیب نہیں لیکن اس کے کام بہت عجیب ہیں۔۔۔ جیسے کہ خود ہی گر کے دوسروں پر الزام لگانا اور پھر اپنی بھیانک آواز اور ڈراؤنی شکل بنا کے دوسروں کو ڈرانا وغیر۔” عیسٰی نے بڑی سنجیدگی سے ہاتھوں کے اشاروں سے بات شروع کی اور آخر پہ نائکا کی شکل دیکھتے ہوئے سمیرا اور خود عیسٰی بھی قہقہے لگانے لگے۔ وہ صرف نائکا کے نام کا مذاق اڑا رہا تھا۔ نائکا کا دل کیا ان دونوں کا سر پھاڑ دے۔
” باڑ میں جاؤ دونوں۔” نائکا پاؤں پٹختے ہوئے ہاسٹل کی طرف چل پڑی۔ سمیرا بھی اس کو آوازیں دیتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی۔ عیسٰی ان دونوں کو جاتے ہوئے دور تک دیکھتا رہا پھر اپنے دوستوں کی طرف بھاگا۔ کچھ ہی دیر بعد عیسٰی کے سر میں شدید درد ہونے لگا اور وہ لوگ آرام کرنے ہوٹل چلے گئے..
