Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

صبح کی ٹھنڈی تازہ ہوا میں وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے لان میں ٹہل رہی تھی، سکارف گلے میں مفلر کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ وہ ایک کشادہ اور بہت خوبصورت لان تھا جس کی دونوں طرف پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں، ایک طرف راہداری کیلئے جگہ مخصوص کر رکھی تھی، درمیان میں ایک میز اور اس کے اردگرد چند کرسیاں دائرے کی شکل میں پڑی تھیں۔۔۔ سورج ابھی نمودار ہو رہا تھا۔ صبح کی شبنم پھولوں کی پتیوں پر سورج کی کرنیں سے موتیوں کی مانند چمک رہی تھی۔ پرندے اپنی اپنی طرز میں اللّٰلہ کی حمدوثنا میں مصروف تھے۔ وہ بھی اپنے خیالوں میں مگن نا جانے کتنی ہی دیر فطرت کو محسوس کرتی رہی۔
'' ارے تم یہاں ٹہل رہی ہو اندر ابو تمہارا ڈائننگ ٹیبل پے انتظار کر رہے ہیں۔'' اپنی بڑی بہن ہائکا کی آواز پہ وہ چونکی اور سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ اندر چلی گئی۔
'' شادی میں بس چند ہفتے ہی باقی ہیں جو بھی شاپنگ کرنی ہے جلد از جلد کر لیں، شادی کی اور بھی بہت سی تیاریاں کرنی ہیں۔'' وہ تینوں ڈائننگ ٹیبل پے ناشتہ کر رہے تھے جب اس کے ابو نے اس بات کا اعلان کیا۔
نائکا اس دن اپنا ویک اینڈ گزارنے اسلام آباد آئی تھی اور اگلے ہی دن اسے واپس ہاسٹل جانا تھا۔ ابھی اس کی ایف۔ایس۔سی کی کلاسز اسٹارٹ ہوئی تھیں اس لیئے وہ ابھی چھٹیاں لے کر کوئی لیکچر مس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیئے اس نے سوچا کہ وہ ہائکا کی شادی کی شاپنگ مری رہ کر کرے گی۔
جیسے ہر انسان اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے پوری زندگی جدوجہد کرتا رہتا ہے ویسے ہی نائکا بھی اپنی زندگی کا مقصد تلاش کر چکی تھی جس پر عمل کر کے وہ اپنی زندگی کو کامیاب ترین بنانا چاہتی تھی۔ ابھی اس کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا، ڈاکٹر بننا۔ لیکن یہ خواب اسے ہمیشہ سٹِفنَس کی یاد دلاتا جسے ڈاکٹر بننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا مگر نائکا کی اس خواہش کے آگے اپنی ہر خواہش کو قربان کر چکا تھا۔ دونوں نے ایک ساتھ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھنے کا ارادہ کیا تھا۔ بہت ذہین ہونے کے باوجود بھی وہ ایک ہی کلاس میں دو بار فیل ہو چکا تھا صرف اس لیئے کہ نائکا اور وہ ایک ساتھ چلیں، دونوں ایک جیسا پڑھیں۔ اور اس کی چھوٹی بہن مارگریٹ بھی نائکا کے ساتھ ایک ہی کلاس میں پڑھتی رہی تھی۔مگر پانچ سال پہلے ایک کار ایکسیڈینٹ میں سٹِفنَس اور مارگریٹ کے ماما پاپا چل بسے اور ایک سال بعد نائکا کی امی بھی بلڈ کینسر کی وجہ سے چل بسیں۔ سٹِفنَس کی نانو اپنا اکیلا پن دور کرنے کے لئے ان دونوں کو زبردستی اپنے ساتھ کراچی لے گئیں۔ اور نائکا جس کا بچپن ان کے ساتھ ایک ہی گھر میں گزرہ تھا ان کے جانے کے بعد بہت اکیلی ہو گئی تھی۔
''واہ بھائی، تم تو پاس ہو گئے۔ کیا میٹرک اتنا آسان ہے کہ بندہ بغیر پڑھے بھی پاس ہو سکتا ہے؟ تمہیں تو میں نے کبھی پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہاں، نہ پڑھنے کی وجہ سے ڈانٹ پڑتے ضرور سنا ہے۔ پھر تم پاس کیسے ہو گئے؟'' معاذ عیسٰی کا رزلٹ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ معاذ خود آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جو پڑھائی کے معاملے میں ہمیشہ سے بہت محنتی رہا تھا۔ مگر عیسٰی ذہین تو بہت تھا لیکن محنتی بلکل بھی نہیں۔
عیسٰی بہت اچھے نمبر تو نہیں لے سکا لیکن اسے اس بات کی خوشی تھی کہ کم ازکم وہ پاس تو ہو گیا۔ وہ معاذ کی باتوں پر غور نہیں کر رہا تھا کیونکہ اس وقت اسے بس یہی فکر تھی کہ پاپا کا ری ایکشن کیا ہو گیا۔
'' کبھی کبھی انسان کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں اس لئے وقت سے پہلے خود کو کسی بھی چیز کے بارے میں بدگماں نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ خیر تمہاری خوشی قسمتی ہے کہ تم پاس ہو گئے ورنہ تمہارے ایسے کوئی ارادے نہیں تھے۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ تم اس بار بھی نہ چاہتے ہوئے بھی پاس ہو گئے۔'' معیز صاحب نے رزلٹ دیکھ کر نرم لہجے میں کہا کیونکہ سختی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
"Thank you papa!" عیسٰی نادم سا مگر خوشی سے بولا۔
معیز صاحب چاہتے تھے کہ عیسٰی آگے ایف۔ایس۔سی کرے۔ ڈاکٹر بننے کا اُن کا اپنا خواب کسی دردناک وجہ سے پورا نہ ہو سکا لیکن اب وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتے تھے اور معاذ کو بزنس مین جو ان کا بزنس ہینڈل کر سکے۔ مگر محمد عیسٰی علی اپنے باپ کی کہی کوئی بات خاموشی سے مان لے ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ آرمی جوائن کرنا چاہتا تھا۔
'' اچھا ، تو آپ آگے ایف۔ایس۔سی کرنا چاہتے ہو؟'' کالج کے پروفیسر نے عیسٰی سے مخاطب ہو کے پوچھا، جب معیز صاحب اسے زبردستی ایڈمشن کے لئے لے کر گئے۔ رزلٹ سے اگلے دن معیز صاحب اسے لاہور کے ایک اعلٰی میڈیکل کالج میں ایڈمشن کےلئے لے گئے۔
'' نہیں۔۔۔ میں ایف۔ایس۔سی نہیں کرنا چاہتا میں آرمی جوائن کرنا چاہتا ہوں۔ ایف۔ایس۔سی تو پاپا کی خواہش ہے میری نہیں۔۔۔ میرا اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔'' عیسٰی بےدھڑک ان دونوں کے سامنے بولتا گیا وہ سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا۔ معیز صاحب کو شدید غصہ آ رہا تھا مگر پروفیسر کا لحاظ کرنا پڑا۔
'' مسٹر معیز علی۔۔۔ اگر آپ کا بچہ میڈیکل پڑھنے میں انٹرسٹڈ نہیں ہے تو یہ آگے کیسے پڑھے گا، آپ اسے آرمی میں ہی جانے دیں۔۔۔ ہم بھی بچے کو زبردستی نہیں رکھ سکتے'' پروفیسر صاحب نرم لہجے میں بولے۔
عیسٰی بڑی لاپرواہی سے آفس کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی نظریں آفس میں پڑی ہر چیز تک جا رہی تھیں سوائے پروفیسر اور معیز صاحب کے چہرے کے۔
'' نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ ابھی یہ بچہ ہے اسے ابھی اتنی سمجھ نہیں کہ اس کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ میں اسے سمجھاؤں گا اور یہیں دوبارہ لیکر آؤں گا۔۔۔ پلیز آپ اس کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔'' معیز صاحب نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔ ان کے ماتھے پہ پڑی شکنیں بتا رہیں تھیں کہ عیسٰی پہ کس قدر غصہ ہیں۔ پورے راستے وہ دونوں چپ چاپ گاڑی میں بیٹھے رہے۔ عیسٰی لاپرواہی سے ونڈ سکرین پہ نظریں جمائے، دل میں معیز صاحب کے لئے تھوڑا سا خوف لئے بیٹھا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *