Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 15)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
نائکا۔” سٹِفنَس چلایا۔ سمیرا اور نائکا سے تو کچھ بولا ہی نہیں گیا۔ سٹِفنَس تیزی سے عیسٰی کی طرف بڑھا۔ جس قوت سے نائکا نے گلاس پھینکا تھا وہ گلاس کو چکنا چور کر گئی تھی۔ عیسٰی وہیں اپنا سر پکڑ کر سیڑھی پہ بیٹھ گیا۔ خون کی لکیر اس کے سر سے ہوتی ہوئی اس کی گردن تک آ گئی تھی اور ایک سیکنڈ کی دیری میں اس کا خون شرٹ میں جذب ہونے لگا تھا۔ سب اس کے اردگرد جمع ہو گئے تھے ہادی اور مارگریٹ بھی اسی طرف آ رہے تھے۔ سٹِفنَس نے رومال اس کے سر پہ رکھا لیکن خون نہیں رکا۔ آج پہلی بار سٹِفنَس کو نائکا پہ اتنا غصہ آیا تھا کہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اس کی جان ہی لے لیتا۔
” ی یہ سب کیسے ہوا؟ کس نے کیا یہ؟” ہادی اور مارگریٹ نے بے چینی سے پوچھا۔
” ہادی تم اسے ہاسپٹل لے کر جاؤ میں بھی کچھ دیر تک پہنچتا ہوں۔” ہادی اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ عیسٰی اس اچانک حملے کے لئے بلکل بھی تیار نہیں تھا ایسے میں وہ کچھ بھی سوچنے اور بولنے سے قاصر تھا اس کی رنگت زرد پڑ رہی تھی۔ نائکا ابھی بھی وہیں کھڑی اپنے بے اختیار آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
” نائکا یہ کیا حرکت تھی تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے۔” سٹِفنَس نے غصے سے اس کا بازو پکڑ تے ہوئے جنجھلایا تو وہ اپنے ہوش و خواصں میں آئی۔
” م میں نے نہیں کیا۔۔۔ پ پتہ نہیں کیسے ہو گیا۔” وہ کپکپائی۔
” تم سے تو میں بعد میں نمٹوں گا۔” سٹِفنَس نے اس کا بازو زور سے جھٹکااور ہاسپٹل چلا گیا۔ نائکا نے آج پہلی بار سٹِفنَس کا یہ روپ دیکھا تھا۔ اسے سٹِفنَس سے ایسی توقع بلکل بھی نہیں تھی۔
” میں نے کہا بھی تھا کسی کا سر سچ مچ نہ پھاڑنا۔۔۔ اور پھاڑا بھی کس کا جو یہاں ان لڑکوں میں موجود ہی نہیں تھا۔” سمیرا بھی غصے سے پھٹ پڑی۔
” م میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔” نائکا نے روتے ہوئے کہا اور جہاں عیسٰی بیٹھا تھا وہاں جا کر بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں میں چھپائے زاروقطار رونے لگی۔ سمیرا اسے نظر انداز کرتی وہاں سے چلی گئی۔ مارگریٹ بھی نائکا کے پاس جا بیٹھی۔
” ایسا کیا کیا تھا اس نے کہ تم نے اس کا سر ہی پھاڑ دیا۔” مارگریٹ نے مدھم سرگوشی کی۔ اس کی آنکھوں میں بھی نمی امڈ آئی تھی۔
” میں نے کچھ نہیں کیا۔” نائکا نے زور سے چلائی اور اٹھ کر باہر چلی گئی۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی ثوبان کے پاس گئی اور اسے فوراً گھر جانے کو کہا کیونکہ اب وہ مزید کسی کو فیس نہیں کر سکتی تھی۔ ثوبان اسے گھر چھوڑ نے چلا گیا۔
” میں نے تو پہلے ہی کہا تھا دور رہو اس لڑکے سے مگر میری تو کوئی سنتا ہی نہیں۔ دیکھا آج سب اسی کی وجہ سے رو رہے ہو۔” گھر پہنچتے ہی ثوبان نے اپنی تقریر شروع کر دی۔
” اس کی وجہ سے نہیں اس کے لیئے۔۔۔ اور تمہیں جب پوری بات کا پتہ نہ ہو تو چپ ہی رہا کرو اب تم جا سکتے ہو۔” نائکا نے دو ٹوک کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ثوبان بھی منہ بسورتا واپس چلا گیا۔
” اوہ خدایا۔۔۔ یہ کیا کیا میں نے، میں نے عیسٰی کا سر پھاڑ دیا۔۔۔ کیسے۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا اب کوئی بھی مجھ سے بات نہیں کرے گا میری اتنی پرواہ کرنے والا سٹِفنَس وہ بھی مجھ سے بات نہیں کرے گا۔۔۔ کوئی بھی میری بات پہ یقین نہیں کرے گا عیسٰی بھی نہیں وہ بھی مجھ سے کبھی بات نہیں کرے گا۔۔۔ میں کیا کروں۔ میں تو اسے کبھی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی پھر میں اپنی وجہ سے اسے کیسے تکلیف دے سکتی ہوں۔” وہ اوندے بل بیڈ پہ لیٹی روۓ جا رہی تھی۔ آج اس کا دل کر رہا تھا وہ بس ابھی مر جائے۔ اس وقت اسے سب سے زیادہ فکر عیسٰی کی تھی جس کا خون اس کی وجہ سے بہا تھا۔ ناجانے اور کتنا خون بہا ہو گا کتنی تکلیف میں ہو گا کیسا ہو گا۔ نائکا سوچ سوچ کر مرے جا رہی تھی۔ آج کا دن اس کے لئے قیامت کے دن سے کم نہ تھا جیسے قیامت کے دن اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے لیکن وہ قبول نہ ہو اور پھر معافی مانگنے کا کبھی موقع ہی نہ ملے کیونکہ یہ دن اس دنیا میں ہماری زندگی کا آخری دن ہوتا ہے۔
_____________
مارگریٹ اور سمیرا بھی ہاسپٹل پہنچ گئی تھیں چونکہ ہاسپٹل یونیورسٹی کے اندر ہی تھا سو وہ بھی جانے سے رہ نہ سکیں۔ گلاس عیسٰی کے دماغ میں بہت بری طرح سے لگا تھا خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا۔ سٹِفنَس نے مارگریٹ کو ہادی کے ساتھ گھر بھیج دیا تھا اور سمیرا کو بھی گھر جانے کا بول کر خود عیسٰی کو گھر چھوڑنے چلا گیا۔ عیسٰی کو ایسی حالت میں دیکھنا سٹِفنَس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔ جب سے عیسٰی نے اسے معاذ کے بارے میں بتایا تھا تب سے سٹِفنَس کے دل میں عیسٰی کے لئے محبت اور بھی بڑھ گئی تھی وہ اسے اپنا چھوٹا بھائی ہی سمجھتا تھا۔ گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے ان کا سامنا معاذ سے ہوا جو ابھی ابھی کالج سے آیا تھا اور لاؤنج میں پڑے صوفے پہ نیم دراز تھا۔ معاذ عیسٰی کی خون سے بھری شرٹ دیکھ کر چلایا۔
” بھائی۔” وہ بھاگتا ہوا عیسٰی کی طرف بڑھا اور اسے حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے دیکھنے لگا۔
” بھائی یہ کیا ہوا آپ کو؟” معاذ اسے ایسے دیکھ کر بہت سہم سا گیا تھا۔
” آپ کے بھائی بلکل ٹھیک ہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ جاؤ اپنی ماما کو بلا کے لاؤ۔” سٹِفنَس نے پیار سے کہا اور عیسٰی کو صوفے پہ بٹھایا۔ زینب بیگم سٹِفنَس کی اجنبی آواز سن کر جلدی سے کمرے سے نکل کر باہر آئیں۔
” عیسٰی۔۔۔ ی یہ کیا ہوا۔۔۔ یا اللّٰلہ اتنا خون۔۔۔” زینب بیگم عیسٰی کو دیکھ کر دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئیں۔ وہ اس کی شرٹ اور سر پہ بندھی پٹی دیکھ کر تڑپ اٹھی۔ زینب بیگم اسے سینے سے لگائے رونے لگی۔
” ماما پلیز چپ ہو جائیں۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں معمولی سی چوٹ ہے۔” عیسٰی نے زینب بیگم کے آنسو صاف کئے جو ایک روانی سے بہتے ہی چلے جا رہے تھے۔
” آنٹی پلیز آپ پریشان مت ہوں چوٹ زیادہ گہری نہیں ہے۔” سٹِفنَس نے انہیں دلاسا دیا۔
” ایسے کیسے پریشان نہ ہوں اتنا خون بہہ گیا میرے بچے کا۔۔۔ میں کیسے صبر کر جاؤں۔” زینب بیگم روتے ہوئے عیسٰی کی شرٹ اور سر پہ ہاتھ پھیرنے لگیں۔
” آنٹی اسے کمرے میں لے جائیں اور اس کی شرٹ چینج کریں۔” سٹِفنَس نے عیسٰی کو اٹھایا اور معاذ کے پیچھے چلتا اسے اس کے کمرے میں لے گیا۔ زینب بیگم وہیں بیٹھی روتی رہیں۔
” معاذ بھائی کے لئے دودھ لے کر آؤ اسے میڈسن بھی دینی ہے جب تک میں اس کی شرٹ چینج کرا دوں۔” سٹِفنَس نے کہا اور عیسٰی کی وارڈروب سے ایک شرٹ نکال کر اسے چینج کروائی۔
” تھینکیو سو مچ سٹِفنَس۔” عیسٰی نے سٹِفنَس کو دیکھ کر کہا۔
” نہیں یار۔۔۔ بلکہ میں خود بہت شرمندہ ہوں تم سے۔۔۔ میں نائکا کی طرف سے معافی مانگتا ہوں پتہ نہیں یہ سب کیسے ہو گیا۔۔۔” سٹِفنَس نائکا کی وجہ سے بہت شرمندہ ہو رہا تھا۔
” پلیز یار اب ایسے تو نہ بولو اس میں تمہاری کیا غلطی اور مجھے کسی پہ کوئی غصہ نہیں ہے جو ہو گیا سو ہو گیا اب بھول جاؤ سب کچھ۔” عیسٰی نے اس کا ہاتھ تھاما اور بہت نرمی سے کہا۔
” نائکا سے میں پوچھوں گا تو ضرور آخر اس نے ایسا کیا کیوں۔۔۔ اور پلیز اب تم کوئی بات نہیں کرو گے تمہارے سر پہ چوٹ لگی ہے ابھی زیادہ بولنے سے ڈاکٹر نے منع کیا ہے اور ہاں جب تک تم مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو جاتے تب تک تم گھر سے باہر نہیں نکلو گے اوکے۔” عیسٰی کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ سٹِفنَس نے اسے پہلے ہی چپ کرا دیا۔
” اوکے بوس۔” عیسٰی مسکرایا۔ معاذ دودھ کا گلاس لئے زینب بیگم کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ سٹِفنَس نے اسے دوا دی اور زینب بیگم سے اجازت لیتے وہاں سے چلا گیا اور جانے سے پہلے عیسٰی کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی تنبیہہ کر کے گیا۔ معاذ اب اس کے سینے پہ سر رکھے رونے لگا تھا عیسٰی اس کی پشت پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے چپ کرانے لگا ابھی درد کی وجہ سے وہ زیادہ بول بھی نہیں سکتا تھا اور اس کی یہ خاموشی ہی سب کو پریشان کر رہی تھی۔
*********************
گھر پہنچتے ہی وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا نائکا کے کمرے میں گیا وہ ابھی بھی بیڈ پہ لیٹی رو رہی تھی۔ سٹِفنَس نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا۔ وہ اسے اتنے غصے میں دیکھ کر پہلے سے بھی زیادہ ڈر گئی تھی۔
” اب بتاؤ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔ تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کتنا خون بہا اس کا اس کے دماغ میں اتنی بے رحمی سے گلاس مار دیا، ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اس سے کتنا بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔” سٹِفنَس غصے سے دھاڑا۔ مارگریٹ اس کی آواز سن کر دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی۔
” میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔” نائکا بھی چلائی۔ مارگریٹ ان دونوں کو پہلی بار ایسے کسی کے لئے تقریباً لڑتے دیکھ کر بہت ڈر چکی تھی۔
” تو پھر یہ سب ہوا کیسے؟” سٹِفنَس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ نائکا کا بازو ابھی بھی اس کی مضبوط گرفت میں تھا۔
” مجھے نہیں پتہ۔۔۔ گلاس میرے ہاتھ سے پھسل گیا تھا اور وہ اچانک سے کیسے سامنے آ گیا مجھے نہیں پتہ۔” وہ اب ہمت ہار چکی تھی۔ بمشکل اتنا بول کر وہ سٹِفنَس کے سینے پہ سر رکھے رونے لگی تھی۔
” تم اچھے سے جانتی بھی ہو کہ میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا پھر بھی۔۔۔ شکر کرو یہ تم ہو اگر کوئی اور ہوتا تو میں اس کی جان ہی لے لیتا۔” سٹِفنَس نے بے بسی سے کہا اور نائکا کو خود سے الگ کر کے خود بیڈ کی پائنتی پہ بیٹھ گیا۔ نائکا اسے بے یقینی سے دیکھ کر اس کے گھٹنوں میں بازو حمائل کئیے سر اس کے گھٹنے پہ ٹکاۓ نیچے بیٹھ گئی۔ دوسرے گھٹنے پہ مارگریٹ اپنا سر رکھے رونے لگی۔
” پلیز مجھ سے ناراض مت ہو میں اس سے معافی مانگ لوں گی۔۔۔ کم ازکم تم تو میری بات پہ یقین کرو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایسی حرکت نہیں کر سکتی۔۔۔ میں تم میں سے کسی کو بھی تکلیف نہیں دے سکتی تم تو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتے ہو پھر بھی۔۔۔ بے شک میری جان لے لو لیکن خدا کے لئے مجھ سے خفا مت ہو پلیز۔” نائکا سر جھکاۓ بولتی جا رہی تھی روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔
” خدا کے لئے چپ ہو جاؤ۔۔۔ اگر میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تو تمہیں بھی ایسے روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ ایم رئیلی سوری مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔” سٹِفنَس نے اس کے سر پہ اپنا ماتھا ٹکایا۔
” مارگریٹ تم کیوں رو رہی ہو چپ ہو جاؤ سب ٹھیک ہے۔” سٹِفنَس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو وہ نظریں اٹھاۓ اسے دیکھنے لگی۔
” کیونکہ بھائی آپ لوگ رو رہے ہو اس لئے مجھے بھی رونا آ گیا۔” مارگریٹ نے روتے ہوئے کہا۔
” لیکن میں تو نہیں رو رہا۔” سٹِفنَس نے اسے چپ کرانے کے لئے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔
”بھائی آپ رو رہے ہو۔” مارگریٹ نے اس کی گال پہ آتا ایک آنسو انگلی کی پور پہ رکھ کر اس کے سامنے کیا۔ لیکن سٹِفنَس اپنے آنسوؤں سے بھی بے خبر تھا۔
” ارے یہ تو بس ایسے ہی۔۔۔لیکن اب میں بلکل بھی نہیں رو رہا اور تم دونوں بھی اب بس کر دو یہ رونا دھونا۔۔۔ اب کوئی بھی اس موضوع پہ بات نہیں کرے گا۔” سٹِفنَس نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے سر جھٹکا اور اپنی نادانی پہ مسکرایا۔ نائکا نے اسے مسکراتے دیکھ کر چین کا سانس لیا۔ لیکن آج نائکا کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ اسے عیسٰی سے کتنی محبت ہے۔
نائکا نے ساری رات کڑوٹیں بدلتے گزاری۔ صبح بہت ہمت کر کے اس نے عیسٰی کو ایک میسج کیا لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ سٹِفنَس اسے زبردستی یونی لے گیا تھا ورنہ وہ آج یونی جانے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھی کیونکہ کہ وہ ابھی کسی کو بھی فیس نہیں کر سکتی تھی۔ آج سارا دن وہ سٹِفنَس کے ساتھ ہی رہی تھی سب ان سے عیسٰی کے بارے میں پوچھتے رہے تھے۔
” سٹِفنَس میں اس سے معافی مانگنا چاہتی ہوں لیکن وہ میرے میسیجز کا جواب ہی نہیں دے رہا۔۔۔ لگتا ہے بہت زیادہ ناراض ہے۔” یونی سے نکلتے ہوئے وہ سٹِفنَس سے کہہ رہی تھی۔
” وہ کسی سے بھی ناراض نہیں ہے میں بھی صبح سے اسے کال کر رہا ہوں مگر اس کا نمبر بند جا رہا ہے۔” وہ ایک پل کے لئے رکا اور پھر سے عیسٰی کا نمبر ڈائیل کرنے لگا۔
” تو بھائی ہم اس کے گھر چلے جاتے ہیں ہو سکتا ہے اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہو۔۔۔ اب اتنا حق تو بنتا ہے ہمارا۔ وہ بھی کیا سوچتا ہو گا کہ کسی نے اس کی خبر ہی نہیں لی۔” مارگریٹ نے مایوسی سی کہا۔ سٹِفنَس کچھ لمحے خاموش رہا پھر کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتے گاڑی میں بیٹھ گیا اور ان دونوں کو لئے عیسٰی کی طرف چلا گیا۔ ملازمہ ان تینوں کو لاؤنج میں بیٹھا کر زینب بیگم کو بلانے گئی جو اس وقت عیسٰی کے کمرے میں تھیں۔ زینب بیگم ان سے بہت محبت سے ملیں۔
” سوری بیٹا کل پریشانی میں تمہارا شکریہ ادا کرنا تو بھول ہی گئی۔” زینب بیگم سٹِفنَس سے مخاطب ہوئیں۔
” آنٹی اس میں شکریہ کی کیا بات ہے عیسٰی میرا دوست ہی نہیں میرا بھائی بھی ہے اور اس ناطے یہ میرا فرض تھا۔” سٹِفنَس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ زینب بیگم اس کی بات اور اپنائیت پہ مسکرائیں۔
” اچھا بچو آپ لوگ عیسٰی سے مل آؤ شاید سو رہا تھا میں ذرا کیچن سے ہو کر آئی۔” زینب بیگم کہہ کر چلی گئیں۔
” نائکا پہلے تم جاؤ اور اس سے معافی مانگ لو پھر ہم بھی آتے ہیں۔ ہم ساتھ گئے تو نہ تم اسے سوری بولو گی اور نہ وہ کھل کر بات کر سکے گا اس لئے بہتر ہے کہ تم دونوں ہی اس غلط فہمی کو دور کرو۔” سٹِفنَس نے اسے کہا لیکن وہ اکیلی نہیں جانا چاہتی تھی پر اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ تھا کیونکہ وہ واقعی میں کسی اور کے سامنے اسے سوری نہیں بول سکتی تھی۔ سٹِفنَس نے اسے اس کے کمرے کی طرف ہاتھ کے اشارے سے بتاتے ہوئے بھیجا۔ کمرے میں مدھم سی روشنی تھی پورے کمرے میں بلیک اینڈ وائٹ کلر کا پینٹ ہوا تھا اور فرنیچر بھی ذیادہ تر بلیک اینڈ وائٹ کلر کا تھا وہ سینے تک بلینکٹ اوڑھے بیڈ پہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا۔ بال سر پہ بندھی پٹی سے ہوتے ہوئے ماتھے پہ بکھرے پڑے تھے۔ ایک ہاتھ سینے پہ تھا۔ وہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے پاس بیڈ کے کنارے جا بیٹھی۔
” عیسٰی۔” اس نے مدھم سرگوشی کی۔
” عیسٰی مجھے پتہ ہے تم مجھ سے بہت ناراض ہو لیکن میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ میرے ہاتھ سے گلاس پھسل گیا تھا اور تم اچانک سے سامنے آ گئے۔” وہ نظریں جھکاۓ بول رہی تھی مگر عیسٰی ابھی بھی ویسے ہی لیٹا رہا اس نے کوئی حرکت نہیں کی۔
” پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گی۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم جاگ رہے ہو بس مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے اسی لئے جان بوجھ کر ایکٹنگ کر رہے ہو۔” اب وہ رونے والی شکل بنائے اسے دیکھ رہی تھی مگر وہ پھر بھی کچھ نہیں بولا۔ سائیڈ ٹیبل پہ سلیپنگ پلز دیکھ کر اس نے اندازہ لگایا کہ شاید وہ واقعی میں سو رہا ہے۔
” عیسٰی میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی اس وقت تم سے ذیادہ تکلیف میں محسوس کر رہی ہوں پلیز جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔۔۔ پلیز مجھے پھر سے تنگ کرو۔۔۔ پلیز مجھے پھر سے جھانسی کی رانی کہو۔۔۔ خدا کے لئے مجھ سے بات کرو کچھ تو بولو۔ میرے کان ترس گئے ہیں تمہاری آواز سننے کے لئے۔” وہ اس کے سینے پہ سر رکھ کر رونے لگی تھی اس کے آنسو عیسٰی کی شرٹ میں جذب ہو رہے تھے۔ لیکن تکلیف میں بھی وہ سکون محسوس کر رہی تھی کیونکہ اس وقت وہ اس کی دل کی دھڑکنیں سن سکتی تھی جو بہت تیزی سے چل رہی تھیں۔ وہ بہت پیار سے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھی ہی تھی کہ عیسٰی نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے جھکڑتے ہوئے اپنی طرف کھینچا تو وہ ایک زور دار جھٹکے سے اس کے اوپر جا گری۔ نائکا کا ہاتھ اس کے سینے پہ جا ٹکا اور دوسرا ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔ مطلب وہ واقعی میں جاگ رہا تھا۔
” مطلب آگ دونوں طرف برابر لگی ہے۔” عیسٰی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ نائکا کے بال اس کے چہرے پہ گرے تھے۔
” ک کون سی آگ؟۔۔۔ پلیز میرا ہاتھ چھوڑو سٹِفنَس اور مارگریٹ آ جائیں گے۔” نائکا شرم کے مارے اس سے نظریں بھی نہ ملا سکی اور اپنے لرزتے ہاتھوں سے بال پیچھے کرنے لگی۔
” تمہارا سوری بولنے کا طریقہ اچھا لگا مجھے اور اس سے بھی زیادہ اچھا تمہارا یہ شرمانا ہے۔” عیسٰی نے ہاتھ سے اس کی ٹھوڑی اوپر کی۔ لیکن وہ پھر بھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہ کر پائی۔
” ایسا ک کچھ نہیں جیسا تم سوچ رہے ہو۔۔۔ اب وہ بہت ہمت کر کے نظریں اٹھاۓ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولنے لگی۔۔۔ آگ آگ سے مل سکتی ہے پانی پانی سے مل سکتا ہے مگر آگ اور پانی کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے۔” وہ کہہ کر اس سے الگ ہوئی اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا۔
” جو ذات آگ اور پانی بنانے پہ قادر ہے وہ دونوں کو ایک کرنے پہ بھی قادر ہے۔” وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ بیٹھا۔
” لیکن یہ ناممکن ہے۔” نائکا نے بے بسی سے کہا۔
” اور اگر میں اسے ممکن کر دوں تو۔” عیسٰی نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
” تو میرا یہ آگ میں سلگتا وجود پانی میں مل کر پھر سے تروتازہ ہو جائے گا۔” وہ اس کے ماتھے پہ ماتھا مس کئے نم آواز میں بولی۔ وہ اس قربت میں بہت سکون محسوس کر رہے تھے لیکن ایسی قربت بار بار کہاں نصیب ہوتی ہے۔
لے مٹی ڈال پانی اور گوند اسے
اس کے دو بت بنا۔۔۔
اک بت تیرا اک بت میرا
اب ان بتوں کو توڑ دے
پھر ڈال پانی اور گوند اسے
اس کے دو بت بنا۔۔۔
اک بت تیرا اک بت میرا
اب میرے بت کی کچھ مٹی ہے تیرے بت میں
اور تیرے بت کی کچھ مٹی ہے میرے بت میں
لے زندگی کا کوئی راستہ بتا
جو کر لے ان دونوں کو جدا..
