Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 20)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

وہ پچھلے پندرہ منٹ سے سر زینب بیگم کی گود میں رکھے ان کے کمرے میں لیٹا تھا۔

” کیا بات ہے آج اتنے چپ چپ کیوں ہو کل یونیورسٹی نہیں جانا کیا؟ ” وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھ رہی تھیں۔

” کچھ نہیں ہوا بس نیند نہیں آ رہی۔” وہ آہستہ سے بولا۔

” معاذ سو گیا؟” وہ اس کا سر دبانے لگیں۔

”ہوں۔”اس نے ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کیں۔ زینب بیگم نے ذرا سا جھک کر اس کا ماتھا چوما۔

” ماما۔۔۔ پاپا امریکہ کس سے ملنے گئے ہیں؟” اس نے آنکھیں کھول کر زینب بیگم کی طرف دیکھا۔

” بتایا تو تھا آفس کے کسی کام سے گئے ہیں۔” زینب بیگم مسکرائیں۔

”آپ کے گھر والے کہاں ہیں؟” وہ نظریں جھکاۓ مدھم آواز میں بولا۔ زینب بیگم اس کی بات پہ حیرت سے اسے دیکھنے لگیں کیونکہ آج سے پہلے عیسٰی نے کبھی ان سے ان کے خاندان والوں کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔

” میرے گھر والے تو میرے پاس ہیں تم، معاذ اور تمہارے پاپا بس یہیں ہیں میرا سارا کچھ۔” وہ کچھ لمحے خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہیں پھر ہلکی سی مسکراہٹ دباۓ بولنے لگیں۔

” نہیں ماما آپ جانتی ہیں میں کن گھر والوں کی بات کر رہا ہوں۔” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔

” میں نے کہا نا میرا اس دنیا میں تم لوگوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور اگر کوئی تھا بھی تو اب میرے لئے وہ مر چکا ہے۔” زینب بیگم نے دو ٹوک جواب دیا۔

” ماما مجھے انکل عبداللہ نے آپ کے اور پاپا کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔۔۔ کیا آپ دل نہیں کرتا کہ آپ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے ملیں؟ آپ نے پھر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی؟” وہ زینب بیگم کا ہاتھ پکڑ کر بہت سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔

” مجھے اللّٰلہ نے نئے لوگوں کے ساتھ ایک نئی زندگی گزارنے کا موقع دیا اور میں اپنی اس نئی زندگی میں بہت خوش ہوں مجھے کبھی پرانی زندگی کی خواہش نہیں ہوئی۔” زینب بیگم نے پھر سے بے بسی میں ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔

”آپ پاپا سے بہت پیار کرتی ہیں نا۔ شاید پاپا آپ سے اتنا پیار نہیں کرتے جتنا آپ ان سے کرتی ہیں۔” وہ پھر سے سر گود میں رکھ کر لیٹ گیا۔

” نہیں تمہارے پاپا مجھے اپنی جان سے بھی ذیادہ چاہتے ہیں ہمارے لئے ہماری محبت ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے جس کے بغیر زندگی نا مکمل ہے۔” وہ بہت نرمی سے کچھ سوچتے ہوئے بول رہی تھیں جیسے کچھ یاد کر رہی ہوں۔

” تو پھر پاپا آپ کو آپ کے گھر زبردستی کیوں چھوڑ آئے تھے انہوں نے آپ کو شادی کے لئے یا اسلام قبول کرنے کے لئے فورس کیوں نہیں کیا؟۔۔۔ وہ آپ کے بغیر کیسے رہ سکتے تھے؟” وہ سوالیہ نظریں اٹھاۓ دیکھنے لگا۔

” کیونکہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور جہاں تک بات رہی اسلام قبول کرنے کی تو دین میں زبردستی جائز نہیں۔۔۔ ہم چاہے جتنی بھی تکلیف میں کیوں نہ ہوں ہمیں تب تک نا چاہتے ہوئے بھی زندہ رہنا پڑتا ہے جب تک ہماری روح نہ قبض کر لی جائے زندگی رکتی نہیں یہ چلتی رہتی ہے سانسیں بھی چلتی رہتی ہیں اور میرے بغیر وہ کیسے جیتے یہ تو بس وہی جانتے تھے لیکن محبت کا حق ادا کرنا مجھ پہ بھی فرض تھا جو میں ادا کیا۔” زینب بیگم کی آنکھیں اپنے ماضی کی غمگین یادوں کو یاد کر کے نم ہونے لگیں۔

”تو کیا محبت کرنے والے بہت کمزور ہوتے ہیں کہ زبردستی اپنی محبت کو چھوڑ دیں؟” وہ پھر سے پہلے سوال کا جواب تلاشنے لگا۔

”ہاں محبت انسان کو بہت کمزور کر دیتی ہے لیکن تمہارے پاپا نے مجھے بتایا کہ محبت سے زیادہ طاقت اور کسی چیز میں نہیں ہے محبت میں خود کو وہ لوگ مارتے ہیں جو محبت کو اپنی کمزوری بنا بیٹھتے ہیں محبت کو اپنی طاقت بنانا کر زندگی کو چیلنج کرنا چاہیے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تمہارے پاپا نے بھی محبت کو اپنی طاقت بنایا۔۔۔ اور مجھے وہ زبردستی اس لئے چھوڑ گئے تھے کیونکہ وہ مجھے آخرت میں بھی خوش دیکھنا چاہتے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں ان کی وجہ سے گنہگار بنوں میں ان کے لئے نا محرم تھی ہم جب بھی ایک دوسرے کو دیکھتے ہمارا دل کرتا ہم ایک دوسرے کو بس دیکھتے جائیں ہم ایک دوسرے کی عبادت کرنے لگے تھے ہمارے لئے ہم ایک دوسرے کے لئے خدا تھے ہم ہر وقت ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے رہتے ایک دوسرے سے ملتے باتیں کرتے ہم دو جسم ایک جاں تھے۔۔۔ لیکن جب تمہارے پاپا نے اسلام قبول کیا وہ مجھ سے دور رہنے لگے تھے وہ ڈرتے تھے کہیں دنیا اور آخرت میں اپنی محبت کی رسوائی کی وجہ خود ہی نہ بن جائیں بس یہی ایک سوچ تھی جو ان کو مجھ سے دور رکھ کر بھی سکون دیتی تھی۔۔۔ محبت یہ نہیں ہوتی کہ ہم اپنی ہوس میں اپنی ہی محبت کو دردناک عذاب میں مبتلا کر دیں بلکہ محبت تو ایک بہت ہی پاکیزہ احساس ہے جو ہم انسانوں کے لئے ایک امتحان ہوتا ہے جس میں کامیاب صرف وہی ہوتا ہے جو اس کی پاکیزگی کو اپنی روح میں جذب کر کے خود کو پاک کر دے۔” وہ بنا پلک جھپکے خود میں گم بولتی جا رہی تھیں۔ عیسٰی کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے تھے کیونکہ اس وقت اس کے ذہن میں نائکا کی تصویر چل رہی تھی وہ بھی تو اس کے لئے نا محرم تھی پھر بھی وہ اسے چھونے کی جسارت کر چکا تھا اور یقینًا اب وہ اپنے کئے پہ پچھتا رہا تھا۔

” ماما آپ بہت اچھی ہیں۔” اس نے آنکھوں میں آئی نمی چھپانے کی کوشش کی اور اٹھ کر زینب بیگم کی ہتھیلی چومی۔

” تمہیں یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ تم بھی اپنے پاپا کے جیسے ہو جاؤ۔ تاکہ اللّٰلہ کے سامنے ہمیں اور تمہیں بھی شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔” زینب بیگم نے اس کے ہاتھ پہ اپنا دوسرا ہاتھ رکھا اور اسے سمجھانے کے سے انداز میں بولیں۔

” ماما آپ فکر نہ کریں میں کبھی بھی آپ کا سر میری وجہ سے جھکنے نہیں دوں گا۔ مجھے فخر ہے کہ میں آپ کا بیٹا ہوں۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔ آنکھوں میں نمی کی وجہ سے اس کی آنکھوں کا رنگ اور بھی گہرا ہو گیا تھا جو اس کے پر کشش چہرے کو مزید حسین بنا رہا تھا۔

” مجھے بھی فخر ہے کہ میں نے تم جیسے بیٹے کو جنم دیا اللّٰلہ ہر ماں کو تم جیسی اولاد سے نوازے۔” زینب بیگم نے پیار سے اس کا ماتھا چوما۔

” ماما میں اب چلتا ہوں معاذ اکیلا ہے۔” وہ کہہ کر بیڈ سے اترا اور زینب بیگم کا سر چوم کر شب خیر کہتا کمرے سے باہر نکلا۔ اپنے کمرے میں پہنچتے ہی اس نے معاذ کو دیکھا جو بہت سکون سے سو رہا تھا۔ اس نے بیڈ پہ لیٹتے ہوئے اپنا موبائل پکڑا اور آن کرتے ہی نائکا کا میسج دیکھ کر چونکا۔ نائکا نے وہی شاعری اسے بھیجی تھی جو ایک دن پہلے عیسٰی نے اسے بھیجی تھی۔

ابھی تو عین لکھا ہے

ابھی تو شین باقی ہے

ابھی اے بنتِ حوا سن

تیری توہین باقی ہے

ابھی لیلا سے ملنا ہے

ابھی شیرین باقی ہے

ابھی تو حسن کی منڈی

کا یارو سِین باقی ہے

بڑے عاشق بنے پھرتے ہیں

ان سے ذرا تم پوچھو کہ،

گنتی ہو گئی پوری

یا دو،اک، تین باقی ہے

عجب اک شور ہے برپا

،،،محبت ہے،محبت ہے

ندیدے ہیں، یہ کیا جانیں

کیا لوہا، ٹِین باقی ہے

دلوں پہ گرد سی چھائی ہے

آہیں بے ضرر سی ہیں

دعا کیوں رنگ لاۓ

کہ ابھی آمین باقی ہے

کہیں مجنوں کی بس باتیں

کہیں فرہاد کے قصے

کیا دنیا میں بجانے کو

یہی اک بِین باقی ہے؟

نئی تہذیب پر تیری

کروں گا میں بحث

لیکن ابھی، یہ بات سن لو تم

خدا کا دین باقی ہے

ابھی عاشق کا عشق

عین عبادت باقی ہے

ابھی تک آیتیں ہیں

ذہن ودل کے گوشے گوشے میں

ابھی بَقَِرَہ، ابھی طٰحٰہ

ابھی یٰسین باقی ہے

حَلالَہ ہو، کہ مُتعَہ

یا طلاقیں تین سو تیرہ سنو

باطل فقہ والؤ، ابھی عین باقی ہے

وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی مگر عیسٰی نے ابھی تک اس کے کسی بھی میسج کا رپلائی نہیں کیا تھا لیکن اب وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اس کے لئے پریشان ہے لیکن آج اس کا ضمیر اسے بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا بے بسی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار موتیوں کی طرح گرنے لگے تھے وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا آج وہ بس یہی کر سکتا تھا۔ وہ اپنی محبت کو اپنے اندر دفن کر دینا چاہتا تھا کیونکہ روزِ محشر وہ اپنی محبت کو اپنی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا آج پہلی بار عیسٰی کو لگا کہ وہ نائکا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ بہت دیر تک روتا رہا اور روتے روتے ہی سو گیا۔

************

رات دیر تک رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں جن کو چھپانے کی غرض سے اس نے ڈارک گلاسز لگا رکھے تھے لیکن ساتھ ساتھ آنکھیں دھوتے رہنے کی وجہ سے جلد ہی سوجن نہ ہونے کے برابر ہو چکی تھی۔ وہ پہلے کی طرح نارمل رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آج پھر سے اسی بینچ پہ بیٹھے وہ فراثیم کا انتظار کر رہا تھا مگر آج فراثیم نہیں آیا کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد وہ وہاں سے جانے ہی والا تھا کہ ہادی دور سے ہاتھ ہلاتا ہوا اس کی طرف آ رہا تھا وہ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر پھر سے وہیں بیٹھ گیا۔

” آج تمہارے بھائی جان نہیں آئے؟” ہادی اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا۔

” پتہ نہیں۔۔۔ یونیورسٹی تو آئے تھے شاید بزی ہیں اس وجہ سے نہیں آ رہے۔” عیسٰی نے نارمل انداز میں کہا۔ ہادی نے سر ہلایا۔ عیسٰی اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔

” ہادی۔۔۔ اگر مارگریٹ تمہیں نہ ملی تو؟” عیسٰی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

” اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو ان کی محبت نہیں ملتی لیکن زندگی وہ بھی گزار رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ ابھی میں بس اسے اپنے ساتھ دیکھ کر خوش ہوں بعد کی بات اللّٰلہ پہ چھوڑ دی ہے اسی نے میرے دل میں اس کے لئے محبت ڈالی اور اس کی مصلحت بھی وہی بہتر جانتا ہے میں بس دعا ہی کر سکتا ہوں۔” ہادی نے حیرت سے اسے دیکھا پھر سر جھکاۓ بولنے لگا۔

” تم پہلے تو ایسے نہیں تھے بہت گہری باتیں کرنے لگے ہو۔” عیسٰی نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔

” تم بھی تو پہلے جیسے نہیں رہے۔” ہادی بھی مسکرایا۔ عیسٰی نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔

” حیرت ہے۔۔۔ یہ بات تمہیں مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے دل سے پوچھنی چاہیے تھی کہ اگر تمہیں نائکا نہ ملی تو ؟ شاید تمہیں کسی مشورے کی ضرورت ہے اسی لئے یہ پوچھ رہے ہو۔” ہادی نے طنزیہ مسکراہٹ دبائی۔

” ک کیا مطلب؟” عیسٰی کو اس کی بات پہ زور کا جھٹکا لگا تھا۔

”تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم سارا دن نائکا کے آگے پیچھے گھومتے رہتے ہو، اسے جان بوجھ کر تنگ کرتے ہو، اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہو سب کے سامنے اپنے دل کی بات نہیں کہہ سکتے تو کیا دیکھنے والوں کو کچھ سمجھ نہیں آتی۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ تم صرف نائکا کو پسند کرتے ہو اور شاید وہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے وہ الگ بات ہے کہ کوئی تم دونوں کو کچھ کہتا نہیں لیکن یہ سچ ہے۔” ہادی نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ عیسٰی کے پیروں تلے تو جیسے زمین ہی نکل گئی تھی اس کے چہرے کا رنگ اڑھ رہا تھا وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے گھور رہا تھا لیکن کچھ کہنے کی ہمت ابھی اس میں نہیں تھی۔

” بیسٹ آف لک۔” ہادی کھڑا ہوا اور ایک نظر اس پہ ڈالتا وہاں سے چلا گیا۔ وہ اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔

اللّٰلہ نے انسان کو اشرف المخلووات بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے کیونکہ اسے عقل جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ انسان کے ہر عمل سے پہلے اس کا ضمیر اسے بتاتا ہے کہ وہ صحیح کر رہا ہے یا غلط۔ لیکن صحیح اور غلط کا فیصلہ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب ہم اپنی عقل کا صحیح طریقے سے استعمال کریں جس کے لئے سوچنا بہت ضروری ہے۔ اللّٰلہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے مگر غلطیاں صرف ہم سے ہوتی ہیں اللّٰلہ کبھی بھی کچھ غلط نہیں کر سکتا لیکن ہم انسان اپنی غلطیوں پہ بھی اللّٰلہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ جو بھی کیا اللّٰلہ نے کیا۔ حقیقت میں نیکی اور بدی قدرتی طور پر ہمارے اندر پائی جاتی ہے اسی کی پہچان کے لئے عقل جیسی نعمت دی گئی سارا کچھ نہ سہی لیکن بہت کچھ ہمارے اپنے اختیار میں بھی ہوتا ہے بس ہم انسانوں کو عقل کا صحیح طریقے سے استعمال کرنا نہیں آتا اور جو لوگ عقل کا استعمال کرتے ہیں وہی لوگ اپنی زندگی کا اصل مقصد جان کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتے ہیں۔ عیسٰی نے بھی سوچنے کی زحمت نہیں کی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں لیکن اس نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ وہ جو کر رہا ہے وہ صحیح ہے بھی یا نہیں مگر آج وہ سوچنا چاہتا تھا اور صرف یہی سوچنا چاہتا تھا وہ یقینًا اب اپنی کی ہوئی غلطیوں پہ پچھتا رہا تھا وہ بار بار اپنے ہونٹوں کو ہاتھ کی پشت سے مسل رہا تھا جن سے اس نے نائکا کی پیشانی پہ بوسہ دیا تھا وہ جان گیا تھا کہ اس کا یہ عمل اللّٰلہ کو کس قدر ناگزیر گزرا ہو گا جس کی بنا پہ اس کے ساتھ نائکا بھی یقینًا گنہگار ٹھہری ہو گی۔ آج صبح سے وہ نائکا کو نظر انداز کر رہا تھا مگر وہ بھی اس سے خفا تھی اس لئے اس نے بھی اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ان دو دنوں میں ایک ہی بات سوچ سوچ کر اسے لگ رہا تھا جیسے وہ کبھی بھی اب مسکرا نہیں پائے گا۔

*********

اس کے ساتھ وہ سب ہو رہا تھا جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی یوں بدل جائے گی۔ نائکا اس کی روح میں اتر چکی تھی وہ جتنا اسے اپنی سوچوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا وہ اتنی ہی اسے یاد آتی یہاں تک کے قرآن اور نماز پڑھتے ہوئے بھی اس کے ذہن میں صرف نائکا ہی ہوتی اب وہ بہت اچھی طرح سے سمجھ گیا تھا کہ محبت آزمائش کیسے ہوتی ہے۔۔۔ راتوں کی نیند اور دن کا سکون جیسے زندگی سے ختم ہو چکا تھا رات کو جب بھی اس کی یاد بہت زیادہ پریشان کرتی تو وہ قرآن کی تفسیر پڑھنے لگتا تاکہ توجہ کسی اور چیز پہ مرکوز ہو۔ ترجمہ پڑھنے کے ساتھ تفسیر کو پڑھتا اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتا وہ جب تک قرآن پاک پڑھتا رہتا تب تک وہ بہت سکون میں رہتا اور کبھی کبھی تو سکون محسوس کرتے ہوئے آنسو ایک روانی کے ساتھ بہنے لگتے یہ سوچ کر کہ کاش وہ بھی قرآن پڑھتی، کاش میرے دل کی ہر بات بن کہے سمجھ جاتی، جیسے مجھے اس کی محبت پاک کر رہی ہے ویسے ہی میری محبت اسے پاک کر دے۔۔۔ جہاں بہت کچھ بے چین کرنے کے لئے تھا وہیں بہت کچھ سکون حاصل کرنے کے لئے بھی تھا وہ یہ سوچ کر بھی قرآن پڑھتے ہوئے سکون محسوس کرتا کہ اگر میں نیک عمل کروں گا تو یقینًا اس کا اجر نائکا کو بھی ملے گا کیونکہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں اور یہ اس لئے تھا کیونکہ یہ وہ قرآن میں پڑھ چکا تھا کہ اللّٰلہ نیکوں کے صدقے میں دوسروں کی بلائیں بھی دفع فرماتا ہے۔

ایگزیمز کی وجہ سے سب پڑھائی میں بہت مصروف ہو چکے تھے اس لئے کسی کو بھی زیادہ گپ شپ کا موقع ہی نہیں ملا۔ نائکا نے بھی عیسٰی سے پھر بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی مگر ہر رات وہ اس کے میسج یا کال کا انتظار ضرور کرتی تھی وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ ایسے اچانک سے بدل کیوں گیا وہ سب سے بات کرتا تھا سوائے نائکا کے اور یہی بات اسے بے چین کئے ہوئے تھی کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی جس وجہ سے وہ مجھ سے دور رہنے لگا ہے مگر وہ اس سے ناراض تھی ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ چاہتی تھی کہ وہ خود اسے مناۓ۔۔۔ وہ جو اس بات کئے بغیر رہ نہیں سکتا تھا جسے مجھ سے بات کئے بغیر نیند نہیں آتی تھی وہ کیسے مجھ سے بات کئے بغیر جی رہا ہے بہت کچھ تھا جسے وہ سوچتی رہتی لیکن اسے یقین تھا کہ ایگزیمز میں اسے میری مدد کی ضرورت پڑے گی مگر عیسٰی نے ایگزیمز میں بھی اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی اگر مدد کی ضرورت پڑھتی بھی تو وہ سٹِفنَس یا سمیرا سے رابطہ کرتا۔

آج ان کا لاسٹ پیپر تھا سب بہت خوش تھے کیونکہ اب چھٹیوں میں گھومنے پھرنے کی پلیننگ ہو رہی تھی۔ آج بھی عیسٰی فراثیم کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہیں آیا کچھ دیر بعد وہ اکیلا ہی مسجد چلا گیا کیونکہ نماز کا وقت گزر رہا تھا۔ نائکا بھی فیصلہ کر چکی تھی کہ آج وہ اس سے ضرور بات کرے گی وہ جانتی تھی کہ اس وقت وہ مسجد میں ہو گا اس لئے وہ بھی چلتی ہوئی مسجد کے باہر پڑے ایک بینچ پہ بیٹھ گئی اور اس کا انتظار کرنے لگی۔ وہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا وہ سر جھکاۓ بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی جب اس کی نظر عیسٰی کے پیروں پہ پڑی ایک لمحے کے لئے تو اس کی سانسیں رک گئی تھیں کیونکہ آج وہ خود اس کے سامنے آیا تھا اس کے لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ کھڑی ہو کر اسے اتنے قریب دیکھ کر بس دیکھتی ہی رہ گئی کچھ بولنے کے قابل نہیں تھی اس وقت اس نے بس ایک ہی خواہش کی تھی کہ کاش یہ لمحہ یہیں رک جائے۔۔۔

” عیسٰی۔” وہ بھرائی ہوئی آواز میں اپنا ہاتھ اس کے چہرے کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی۔ وہ اسے چھونا چاہتی تھی۔

” پلیز مجھے چھونا مت۔” وہ اس کا ہاتھ دیکھ کر بولا۔ اس کے سرد لہجے نے نائکا کو اندر ہی اندر مار ڈالا تھا وہ اپنا لرزتا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے حیرت سے کھلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” کیا میں اتنی بری ہو گئی ہوں کہ تم مجھ سے ہس کے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔” آنسو اس کے چہرے پہ ٹپک رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *