Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 21)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
میں نے کب ایسا کہا؟۔۔۔ ابھی میں وضو میں ہوں اس لئے۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے وہ نظریں جھکا گیا۔ اس کی داڑھی کے بال ابھی بھی وضو سے تر تھے۔
” م میں اپنا نام بدل لوں گی بلکہ آج ہی بدل دوں گی تمہیں میرے نام سے نفرت ہے نا تو میں یہ وجہ بھی ختم کر دوں گی جو نام تمہیں پسند ہو گا میں وہی نام رکھوں گی۔” وہ اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے بولی۔
” مجھے تمہارے نام سے کوئی مسلئہ نہیں جو تمہارا دل کرتا ہے تم وہی کرو میں کون ہوتا ہوں تمہیں نام دینے والا۔” اب کی بار وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر خود کو بہت مضبوط دکھاتے ہوئے بولا۔
” تم جانتے ہو کہ تم میرے لیے کیا ہو۔۔۔ سب کچھ جانتے ہو۔۔۔ عیسٰی میں ریزہ ریزہ بکھر رہی ہوں خدا کے لئے مجھ پہ ترس کھاؤ کیوں اتنا ظلم کر رہے ہو میں نے تم سے محبت کی ہے تو بدلے میں مجھے بھی تو محبت ملنی چاہیے نا پھر تم مجھے بدلے میں نفرت اور تکلیف کیوں دے رہے ہو۔” وہ پھر سے بینچ پہ بیٹھ کر رونے لگی۔
” میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم میرے لیے نامحرم ہو اور جہاں محبت ہوتی ہے وہاں رحم کی گنجائش نہیں ہوتی۔ محبت بھی ہو لیکن تکلیف نہ ہو یہ نا ممکن ہے۔” وہ کہہ کر رکا نہیں اور وہاں سے چلا گیا وہ اسے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا اسے سمجھانا چاہتا تھا مگر شاید وہ ابھی کچھ بھی سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی وہ کسی مناسب وقت اور حالات کے انتظار میں تھا۔ وہ اسے دور جاتے ہوئے خالی نظروں سے دیکھتی رہی وہ بہت دور جا چکا تھا۔۔۔ بہت دور جسے شاید اب وہ کبھی بھی قریب نہیں پا سکتی تھی آج وہ بے بسی کے اصل معنی سے واقف ہوئی تھی وہ لاچار ہو چکی تھی ہاتھ پاؤں ہونے کے باوجود بھی معذور ہو چکی تھی۔
***************
رہ جائیں گی یہ نشانیاں
رہیں نہ رہیں ہم
آ جی لے
اک پل میں سو جنم
وہ ڈائری سینے سے لگائے گنگناتے ہوئے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
” مارگریٹ کیا بات ہے آج بہت خوش نظر آ رہی ہو۔” ہادی اسے دیکھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس کے پاس آیا۔
” ہاں آج لاسٹ پیپر تھا نا اس لئے۔” وہ مسکرائی۔ وہ بھی اسے دیکھ کر مسکراتا رہا۔
” ہاں یہ تو ہے لیکن اب چھٹیاں بھی تو ہو جائیں گی پھر اتنے دنوں بعد سب سے ملاقات ہو گی۔ میں تو بہت مِس کروں گا سب کو۔” وہ ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
” ہاں میں بھی بہت مِس کروں گی سب کو۔” وہ بھی اس کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ ڈائری ابھی بھی سینے سے لگا رکھی تھی۔
” لیکن سیڈ ہونے کی ضرورت نہیں چھٹیاں یوں گزر جائیں گی پتہ بھی نہیں چلے گا۔” وہ اس کی مسکان غائب ہوتے دیکھ کر بولا۔ مارگریٹ کی نظر سامنے آتے ہوئے عیسٰی پہ پڑی جو لمبے ڈگ بھرتا تیزی سے اسی طرف آ رہا تھا۔ مارگریٹ اسے دیکھ کر فوراً کھڑی ہوئی۔
” ہادی مجھے ایک بہت ضروری کام یاد آ گیا ہے میں وہ کر کے آئی۔” وہ جلدی سے کہہ کر وہاں سے بھاگی۔ وہ جانتی تھی کہ عیسٰی اتنے غصے میں اس کی طرف کیوں آ رہا ہے۔ عیسٰی اسے بھاگتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ ہادی اس سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا مگر وہ اسے موقع دیتی تو پھر نا۔۔۔ پہلے مارگریٹ عیسٰی کے پیچھے بھاگتی تھی آج عیسٰی اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا وہ ہادی کو نظر انداز کرتا ہوا تقریباً بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھتا مارگریٹ کو ڈھونڈنے لگا۔ جلد ہی وہ اس تک رسائی حاصل کر چکا تھا۔ وہ اس کے پیچھے سے بھاگتا ہوا اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو گیا تھا۔
” کہاں تک بھاگو گی؟” وہ ایک آبرو اچکاۓ بولا۔
” وہ میں۔۔۔ ابھی بس تمہارے پاس ہی آنے والی تھی۔” وہ اس سے نظریں چڑا رہی تھی۔
” اچھا تو یہ تم میرے پاس آ رہی تھی۔” وہ طنزیہ بولا۔ وہ کچھ نہیں بولی اور سر جھکاۓ معصوم بچوں کی طرح کھڑی رہی۔
” بھائی فراثیم کو کیوں اتنا تنگ کرتی ہو انہوں نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے کہ وہ تمہاری وجہ سے لیٹ ہوتے ہیں جس وجہ سے اکثر وہ مجھ سے مل نہیں پاتے تم ان کا راستہ روک کر انہیں باتوں میں الجھائے رکھتی ہو اور یہ ڈائری۔۔۔ آج یہ بھی زبردستی ان سے چھین لی واپس کرو میری ڈائری اس میں تمہارے لئے پڑھنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔” وہ سینے پہ ہاتھ باندھے یک ٹک اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔ عیسٰی نے ڈائری کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
” میں یہ ڈائری واپس نہیں کروں گی مجھے پتہ ہے اس میں کیا ہے اور کیا نہیں۔۔۔ میں پڑھ کر واپس کر دوں گی۔” وہ دو ٹوک انداز میں بولی۔
” لیکن تم اسے پڑھ کر کرو گی کیا؟ بات تو تب ہے جب تم پڑھ کر اس پہ عمل بھی کرو۔” وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔
” میں عمل کروں گی۔۔۔ میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں کہ آخر ایسا کیا ہے اس میں جو تم صرف فراثیم کو ہی دے سکتے ہو اس نے پڑھنے کے لئے لی تھی ڈائری اور میں بھی پڑھنے کے لئے لے رہی ہوں اس میں اعتراض کی کیا بات ہے ؟ یا صرف مجھے نہیں دینا چاہتے؟” وہ شکایت بھرے لہجے میں بولی۔
” اففف۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں تم جب چاہو واپس کر سکتی ہو مگر پلیز اس پہ کچھ اور مت لکھنا اور ذرا احتیاط سے رکھنا ورنہ میں سٹِفنَس سے تمہاری شکایت کر دوں گا۔” وہ انگلی دکھاتے ہوئے اسے وارن کر رہا تھا۔
” تھینک یو۔” وہ ڈائری ہاتھوں میں تھامے مسکرائی۔ وہ بھی اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیا اور وہاں سے چلا گیا۔ وہ اس کی ڈائری کو بار بار پاگلوں کی طرح چومتی رہی اس پہ لکھے گئے الفاظ پہ انگلیاں پھیرتے ہوئے مسکراتی رہی کیونکہ وہ عیسٰی کے ہاتھوں سے لکھے گئے تھے وہ ایک ہی دن میں ساری ڈائری پڑھ لینا چاہتی تھی۔ اسے اسلام پہ یا کسی بھی اور چیز پہ ریسرچ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر وہ پھر بھی یہ ڈائری پڑھنا چاہتی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس میں صرف احادیث اور اسلام کے متعلق ہی لکھا گیا ہے۔ ویسے بھی محبت کا تقاضا بھی تو یہی ہے کہ محبوب سے جڑی ہر چیز سے محبت کی جائے وہ بھی یہ تقاضا پورا کر رہی تھی۔
نائکا منہ دھونے کے بعد کیفے گئی جہاں سمیرا،سٹِفنَس اور عیسٰی بیٹھے باتیں کر رہے تھے وہ بھی سمیرا کے ساتھ بیٹھ گئی۔
” تم کہاں چلی گئی تھی یار کب سے تم لوگوں کا انتظار کر رہے تھے ہم نے چھٹیوں میں مری جانے کا پلین بنایا ہے۔” سمیرا اسے دیکھتے ہی بول پڑی۔ وہ بس مصنوعی مسکراہٹ ہی دبا سکی۔ عیسٰی کو دیکھ کر آنسو پھر سے حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے۔ ہر روز ایک دوسرے کا سامنا کرنا اتنا مشکل بھی ہو سکتا تھا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ دونوں اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھے اپنی محبت کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر بھی اپنے جذبات پہ قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے اس وقت نائکا کے لئے مرنا آسان اور یہ سب برداشت کرنا بہت تکلیف دہ تھا۔
” تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟” سٹِفنَس نے نائکا کی طرف اشارہ کیا۔
” نہیں مجھے کیوں اعتراض ہو گا۔” نائکا خود کو نارمل دکھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
” تھوڑی سی چھٹیاں ہیں اچھی گزر جائیں گی۔” سٹِفنَس مسکرایا۔ کچھ دیر بعد ہادی اور مارگریٹ بھی آ گئے سٹِفنَس نے ان دونوں کو بھی اپنا پلین بتایا جسے سن کرکر وہ بھی خوش ہوئے۔
********************
اس وقت وہ سب مری میں اسی چرچ میں موجود تھے جہاں وہ تینوں اکثر جایا کرتے تھے۔ “The Trinity Church.” نائکا اور سٹِفنَس فادر سے ملنے کے بعد اب لان میں ٹہل رہے تھے جبکہ باقی چاروں چرچ کے اندر بہت دلچسپی سے جائزہ لے رہے تھے۔ لان میں رنگ بھرنگے پھولوں پہ بہت سی تتلیاں منڈلا رہی تھیں۔ سٹِفنَس نے ایک تتلی پکڑ کر اس کے رنگ کو اپنی انگلیوں پہ لگایا اور نائکا کے چہرے پہ اپنی انگلیوں سے رنگ کی ایک لکیر کھینچی۔
” تمہیں یاد ہے بچپن میں تم کیسے تتلیوں کے پیچھے بھاگا کرتی تھی اور جب تم انہیں پکڑنے میں ناکام ہو جاتی تھی تو رونا شروع کر دیتی تھی پھر میں تمہیں تتلیاں پکڑ کے دیا کرتا تھا اور ان کا رنگ تمہارے چہرے پہ لگایا کرتا تھا خوشی سے تم میرے گلے لگ کر مجھے تھینک یو بولا کرتی تھی۔” وہ مسکراتا ہوا اڑتی تتلیوں کو دیکھ کر بول رہا تھا۔
” ہاں مجھے سب یاد ہے اس جگہ سے ہماری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔” وہ بھی مسکراتے ہوئے جیسے کچھ یاد کر کے بولی۔ اتنے میں وہ چاروں بھی باہر آ گئے تھے اب وہ لوگ کشمیر پوائنٹ جا رہے تھے۔ مری تو پہلے بھی سب گھوم چکے تھے یہ سب تو بس پرانی یادیں تازہ کرنے کا ایک بہانا تھا۔
” عیسٰی تمہیں یاد ہے پہلی بار ہم یہاں ملے تھے دو سال کیسے گزر گئے پتہ بھی نہیں چلا۔۔۔ اور تمہیں یاد ہے میں آج بھی تمہارے اور نائکا کے اس جھگڑے کو یاد کر کے بہت ہنستی ہوں بہت مزہ آیا تھا اس دن قسم سے ہاہاہا۔” کشمیر پوائنٹ پہنچتے ہی سمیرا عیسٰی سے کہنے لگی۔ عیسٰی اس کی باتوں پہ مسکرایا۔ باقی سب بھی ہنس پڑے۔
” اچھا جی تمہیں بس میرا جھگڑا یاد ہے اپنا بھول گئی جب مرتے مرتے بچی تھی قسم سے واقعی میں وہ سین دیکھنے والا تھا میں بھی بہت ہستی ہوں اس واقعے کو یاد کر کے۔” نائکا نے جوابًا کہا اور آخر پہ ہنس دی۔
” پلیز وہ واقعہ نہ یاد دلاؤ مجھے پھر سے رونا آ جائے گا۔” وہ رونے والی شکل بنا کر بولی تو سب ہنس دیے۔
” بھائی ہم بہت عرصے بعد یہاں آۓ ہیں نا میں نے اس جگہ کو بہت مس کیا۔” مارگریٹ اردگرد دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔
” ہاں پرانی یادیں پھر سے تازہ ہو گیئں۔” سٹِفنَس نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔ سب ادھر ادھر چہل قدمی کرنے لگے۔ عیسٰی اور نائکا کی جب بھی نظریں ایک دوسرے سے ٹکراتیں تو دونوں کی آنکھوں میں نمی اتر آتی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں یہ پہلی بار ملے تھے دونوں کتنا بولے تھے پورا دن ایک دوسرے کے سامنے آتے رہے تھے آج یہ دونوں بھی مل کر پرانی یادیں تازہ کرنا چاہتے تھے اپنے ماضی پہ گفتگو کر کے خوش ہونا چاہتے تھے مگر آج وہ دونوں یہ نہیں کر سکتے تھے۔ سمیرا اور سٹِفنَس ان دونوں کو لیکر کچھ پریشان بھی تھے مگر ابھی وہ دونوں ان سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے وہ جانتے تھے کہ ان دونوں کا ضرور کوئی جھگڑا ہوا ہے جس وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے۔ سٹِفنَس موقع دیکھ کر عیسٰی سے بات کرنا چاہتا تھا ان دونوں کو اتنا خاموش دیکھ کر اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا تو عیسٰی آج بھی نائکا کے رونے کا ضرور مذاق اڑاتا مگر وہ تو کچھ بولا ہی نہیں۔
*************
جنت میں جانے کا ایک اور ذریعہ قرآن پاک کا ترجمہ ہے۔ ڈائری پہ لکھے گئے ان الفاظ پہ انگلیاں پھیرتے ہوئے عیسٰی کا چہرہ تصور میں لاتے ہوئے وہ زیر لب ان الفاظ کو دہرا رہی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر سامنے کھڑے سٹِفنَس کو دیکھا جو آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے پاس آ رہا تھا۔ اس نے ڈائری بند کر کے ایک طرف رکھی۔
” کیا ہو رہا ہے؟” سٹِفنَس نے ایک نظر ڈائری پہ ڈالی اور بیڈ کے کنارے ایک ٹانگ اوپر اور دوسری نیچے لٹکاۓ بیٹھ گیا۔
” کچھ خاص نہیں۔” وہ بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
” یہ ڈائری۔۔۔؟” سٹِفنَس نے پھر سے ڈائری کی طرف دیکھا۔
” یہ ڈائری عیسٰی کی ہے میں نے بھائی فراثیم سے لی تھی ۔۔۔ بھائی اس میں بہت اچھی اچھی باتیں لکھی گئی ہیں ابھی بھی یہی پڑھ رہی تھی۔” وہ ڈائری ہاتھوں میں تھامے بولی۔
” کیا عیسٰی کو پتہ ہے کہ یہ ڈائری تمہارے پاس ہے؟” سٹِفنَس نے ایک سرسری نظر ڈائری پہ ڈالی اور ایک پیج کھول کر اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
” جی۔۔۔ وہ بھائی فراثیم نے بتا دیا تھا اسے۔۔۔ اگر وہ نہ بھی بتاتے تو میں خود ہی بتا دیتی اب اس سے پوچھے بغیر تھوڑی پڑھ سکتی تھی۔” وہ جھجکتے ہوئے بولی۔
” تمہیں عیسٰی سے ہی لینی چاہیے تھی خیر آئندہ کسی سے بھی پوچھے بغیر کسی کی کوئی چیز مت لینا۔ اور یہ کیا اس پہ تو شاید کوئی گانا لکھا ہے یہ دیکھو۔۔۔” سٹِفنَس نے ڈائری کا رخ اس کی طرف کیا۔
” کیاااا گانا اور عیسٰی کی ڈائری پہ۔۔۔” وہ جلدی سے ڈائری پکڑتے ہوئے حیرت سے بولی۔
” کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو یہ تمہاری ہینڈ رائٹنگ ہے مطلب تم نے اس کی ڈائری پہ گانے لکھ دیے۔” وہ اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ ہلاتا ہوا بولا کیونکہ وہ تو شاید پلک جھپکنا ہی بھول گئی تھی۔
” بھائی۔۔۔ وہ میری جان لے لے گا اس نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ اس پہ کچھ مت لکھنا لیکن یہ گانا تو میں پہلے ہی لکھ چکی تھی اب کیا ہو گا وہ تو بہت غصہ ہو گا۔” وہ رونے والی شکل بنا کر بولی۔
” اففف مارگریٹ تمہیں گانے بجانے کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے یا نہیں۔۔۔ بہت بری بات ہے ایسے کسی کی ڈائری پہ نہیں لکھتے ، پتہ نہیں کب عقل آۓ گی تمہیں۔” وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
” بھائی پلیز آپ میری طرف سے ایکسیوز کر لیجیئے گا مجھے پورا یقین ہے وہ آپ کو کچھ نہیں کہے گا بھائی پلیز اب آپ ہی مجھے اس سے بچا سکتے ہیں۔” وہ اس کا ہاتھ سر سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں دباۓ التجا کرنے لگی۔
” وہ تو مجھے بھی پتہ ہے کہ وہ مجھے کچھ نہیں کہے گا کیونکہ الٹے کام تم کرتی ہو میں نہیں۔۔۔ خیر اب زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں میں اس سے بات کر لوں گا وہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا اس لیئے اب زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔” اس نے مسکراتے ہوئے مارگریٹ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دبایا۔
”تھینک یو سو مچ بھائی آپ بہت اچھے ہیں۔” وہ اس کے گلے میں بازو حمائل کرتے ہوئے مسکرائی۔
” ہاں پتہ ہے میں ہی اچھا ہوں۔” وہ مصنوعی سنجیدگی سے بولا پھر دونوں ہی ہنس دیے۔
” ارے میں بھی نا جو بات کرنے کے لئے آیا تھا وہ تو بھول ہی گیا۔۔۔ تمہاری نائکا سے کوئی بات ہوئی؟ ” وہ کچھ یاد کرنے کے انداز میں اب قدرے سنجیدگی سے بولا۔
” کس بارے میں؟ ” وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” کسی بھی چیز کے بارے میں۔۔۔ آج کل بہت چپ چپ رہنے لگی ہے پہلے جیسی نہیں رہی۔۔۔ شاید عیسٰی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے دونوں ایک دوسرے سے بات تک نہیں کرتے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے دونوں کو۔” وہ ان کے لئے پریشان ہو رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوا ہے جو اس سے چھپا ہوا ہے۔
” نہیں بھائی مجھ سے تو اس سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی اور جہاں تک بات رہی عیسٰی کی تو اس کا دماغ تو فراثیم بھائی خراب کر گئے بلکل ان کے جیسا ہو گیا ہے اور بھائی آپ پریشان مت ہوں کچھ نہیں ہوا ہو گا ویسے بھی ان کے چھوٹے موٹے جھگڑے تو چلتے ہی رہتے ہیں۔” مارگریٹ نے کندھے اچکاۓ اور پھر سر جھٹک کر لا پرواہی سے بولنے لگی۔
” ہممم اللّٰلہ کرے جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا ہی ہو۔۔۔ خیر میں پھر بھی ان سے ایک بار بات ضرور کروں گا اور سمجھاؤں گا بھی۔” سٹِفنَس کے دل میں لاشعوری طور پہ ایک ڈر سا بیٹھ گیا تھا وہ خود کو کسی بھی وہم یا شک میں مبتلا کرنے سے روک رہا تھا۔
” بھائی اب نائکا بڑی ہو گئی ہے اب آپ کو اسے پروپوز کر دینا چاہیے۔” مارگریٹ کی بات پہ وہ اپنی گہری سوچ سے باہر آیا۔
” ہوں۔۔۔ ہاں پروپوز بھی کر لوں گا ابھی مجھے کوئی جلدی نہیں۔۔۔ کوئی مناسب وقت دیکھ کر بات کروں گا۔” لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔
” لیکن بھائی مجھے تو جلدی ہے نا میں آپ دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں کم از کم آپ دونوں منگنی تو کر ہی سکتے ہیں شادی بعد میں کر لیں گے۔” وہ منہ بنا کر بولی۔ وہ صرف اپنے بھائی کی خوشی کے بارے میں سوچ رہی تھی جس کی ہر خوشی نائکا سے وابستہ تھی۔
” ہاہاہا بہت جلدی ہے تمہیں۔۔۔ چلو اب ذیادہ سوچنے کی زحمت نہ ہی کرو تو بہتر ہے ٹائم کافی ہو گیا ہے اب تم سو جاؤ اور اس ڈائری میں لکھی گئی اچھی اچھی باتیں کل پڑھ لینا۔” وہ کہتے ہوئے ساتھ اس کے اوپر کمبل ٹھیک کر رہا تھا۔
” گڈ نائٹ بھائی۔” وہ بھی آرام سے آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔
” گڈ نائٹ میری جان۔” وہ بھی اس کا سر چوم کر وہاں سے چلا گیا۔ باہر جاتے ہی اس نے اپنا موبائل نکالا اور عیسٰی کو کال کرنے کا سوچنے لگا پھر ایک نظر نائکا کے کمرے کی طرف ڈالی پھر گھڑی پہ ٹائم دیکھ کر موبائل پھر سے آف کر دیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
********************************************
وہ ایک بازو آنکھوں پہ رکھے سینے تک کمبل اوڑھے بیڈ کی کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ آج تو معاذ کو بھی نیند نہیں آ رہی تھی وہ بڑے غور سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ رات کے دو بج رہے تھے۔
” بھائی آپ کو نیند کیوں نہیں آتی آپ کیوں ساری رات جاگتے رہتے ہیں؟” معاذ نے اس کا سینے پہ رکھا ہاتھ ہلایا۔
” معاذ تم ابھی تک جاگ رہے ہو سوۓ کیوں نہیں؟ ” عیسٰی آنکھیں کھول کر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” سویا تھا مگر اب نیند نہیں آ رہی۔۔۔ بھائی آپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہوتے ہیں نا کیونکہ مجھے اندھیرے میں نیند نہیں آتی اور آپ کو روشنی میں سونے کی عادت نہیں۔” معاذ بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنا رخ عیسٰی کی جانب کرتا بولا۔
” تمہیں کیا لگتا ہے کہ اگر تم مجھے پریشان کرو گے تو کیا میں تمہیں معاف کر دوں گا ہر گز نہیں ویسے بھی مجھے اب روشنی میں سونے کی عادت ہو گئی ہے۔” عیسٰی اس کی بات پہ مسکرایا۔
” ہاں آپ معاف کر رہے ہو۔۔۔بھائی آپ بہت بدل گئے ہو آپ کو یاد ہے آخری بار آپ نے مجھ سے کب جھگڑا کیا تھا۔” وہ بڑی محبت سے عیسٰی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
” ہاہاہا نہیں مجھے نہیں یاد، ہاں بچپن کے بہت سے جھگڑے یاد ہیں۔” عیسٰی بچپن کے جھگڑے یاد کر کے ہنسا۔
” بھائی آپ کو ہوا کیا ہے پلیز مجھے بتائیں نا میں آپ کی ہر طرح سے ہیلپ کروں گا پرامس۔” معاذ کو وہ کچھ پریشان سا لگ رہا تھا وہ بلکل اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔
” کیا مطلب ؟ مجھے کیا ہو گا میں تو بلکل ٹھیک ہوں تم سے کس نے کہا کہ مجھے کچھ ہوا ہے۔” عیسٰی نے مصنوعی مسکراہٹ دبائی اور حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” میں اب بڑا ہو گیا ہوں مجھے بھی اب ہر چیز کی سمجھ ہے۔۔۔ بھائی آپ بہت کمزور ہو گئے ہو اب تو آپ یونی بھی نہیں جاتے پھر بھی اتنے تھکے تھکے سے کیوں ہیں۔” معاذ بہت سنجیدگی سے بول رہا تھا اس کے لہجے میں عیسٰی کے لئے فکر تھی۔ کچھ لمحے تو عیسٰی اسے یونہی دیکھتا رہا پھر ہولے سے مسکرا کر سر جھٹکا۔
