Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 10)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

تمہیں پتہ ہے تمہارا نام محمد عیسٰی علی کس نے رکھا اور کیوں رکھا؟” حافظ عبداللہ نے اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے پوچھا۔

” ہوں۔۔۔ آ آپ نے۔” عیسٰی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ عیسٰی نے تکا ہی لگایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ایسا مہذب نام انہی نے رکھا ہو گا اسی لئے پوچھ رہے ہیں۔ حافظ عبداللہ اس کے جواب پہ مسکراۓ۔

” نہیں تمہارا نام تمہارے ماں باپ نے رکھا ہے۔ معیز صاحب تمہارا نام محمد علی رکھنا چاہتے تھے اور زینب بیگم تمہارا نام عیسٰی علی رکھنا چاہتی تھیں پھر صلہ مشورے کے بعد تمہارا نام محمد عیسٰی علی رکھا گیا تاکہ ان ناموں کی برکت سے تم پہ کبھی کوئی مشکل نہ آۓ تم کبھی کسی بری عادت میں مبتلا نہ ہو تاکہ تم اپنے دین کے قریب رہو اور یہ سب باتیں عموماً تمہاری عمر کے لڑکوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔۔۔ تم نے کبھی خود پہ غور کیا ہے اپنے چہرے پہ جھلکتے نور کو دیکھا ہے؟ تم نے کبھی نماز نہیں چھوڑی کیوں کبھی سوچا ہے؟ تمہارے ماں باپ تمہارا صدقہ دیتے ہیں تمہارے لئے ہر وقت دعائیں کرتے رہتے ہیں تم اگر آج ایسے ہو تو صرف اور صرف ان کی بدولت۔ کیا تم انہیں خوش نہیں دیکھ سکتے۔۔۔” حافظ عبداللہ کی کسی بھی بات کا جواب دیے بغیر وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ حافظ عبداللہ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ مسجد سے باہر جا چکا تھا اب اسے کسی ایسی جگہ جانا تھا جہاں کوئی بھی نہ ہو جہاں بس وہ ہو اور خاموشی۔ اس کے دل بہت سے سوال تھے جن کو اپنے دل دفن کئے وہ بے خیالی سے روڈ پر چل رہا تھا۔ معیز صاحب عشاء کی نماز پڑھ کر حافظ عبداللہ سے عیسٰی کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ وہ یہیں تھا؟ حافظ عبداللہ نے انہیں بتایا کہ وہ کب سے یہاں سے جا چکا ہے میں اسے سمجھانے کی پوری کوشش کی ایک ہی بار سمجھ ساری بات مگر اس نے میری پوری بات بھی نہیں سنی اور یہاں سے چلا گیا۔ معیز صاحب نے اور کچھ نہیں پوچھا اور گھر چلے گۓ اس سوچ کے ساتھ کہ وہ گھر جا چکا ہو گا۔ مگر آج وہ گھر نہیں گیا تھا معیز صاحب ہر جگہ اسے ڈھونڈ چکے تھے اس کے موبائل سے اس کے سب جاننے والوں سے بھی پوچھ چکے تھے سٹِفنَس سے بھی پوچھ چکے تھے مگر کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ سب بہت پریشان تھے اس کی اس حرکت پہ۔ رات گزر رہی تھی زینب بیگم کا رو رو کے برا حال تھا اب تو معیز صاحب بھی ہمت ہار چکے اب بس پولیسں میں رپورٹ کرنا باقی تھا آج موسم بھی بہت خراب ہو رہا تھا۔ بادل زور سے گرج رہے تھے بجلی پوری شدت سے چمک رہی تھی۔

وہ ہر چیز سے بے خبر نہ جانے کہاں تک چلتا ہوا پہنچ چکا تھا وہ کوئی سنسان سی سڑک تھی بلکل ویسی ہی جیسی آج اسے چاہیے تھی جہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا لیکن ایک بارش تھی جو اب اس کے ہمراہ ہو لی تھی جو اس کے آنسو ساتھ ساتھ دھو رہی تھی یا چھپا رہی تھی۔

” مطلب میرا کوئی سگا بھائی بھی نہیں ہے میں اکیلا ہوں۔” ایک بات جو اس کے ذہن میں بیٹھ چکی تھی۔

” نہیں۔۔۔ وہ میرا سگا بھائی ہے ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ میرا کوئی بھائی نہ ہو میرا بھائی ہے ہاں معاذ میرا سگا بھائی ہے۔۔۔ میں اسے بہت پیار کروں گا اس سے کبھی جھگڑا نہیں کروں گا یااللہ اسے کبھی نہ بتانا کہ اس کا کوئی سگا رشتہ نہیں ہے وہ کیسے برداشت کرے گا میرے پاس تو سگے ماں باپ ہیں مگر اس کے پاس تو وہ بھی نہیں ہیں۔ م میں آئندہ کبھی پاپا کی نافرمانی نہیں کروں گا ان کی ہر بات مانوں گا۔ پلیز اللّٰلہ آپ میری یہ بات مان لیں۔” وہ پوری شدت سے چیخا تھا گویا دل کا غبار نکال رہا ہو اور اپنی آرمی کی خواہش بھی آج اپنے دل میں دفن کر چکا تھا۔ ہاں یہ اس کے اختیار میں تھا وہ یہ کر سکتا تھا۔ وہ بیچ سڑک دوزانوں بیٹھ کر بے بسی سے روۓ جا رہا تھا۔ بات سمجھانے کے اور بھی تو طریقے ہو سکتے پھر یہ سب کیوں بتایا مجھے۔ اپنے نام کے بارے میں سننے کے بعد وہ یہ تو جان ہی چکا تھا کہ اس کی ماما کرسچن تھیں شاید اسی لئے وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی محبت میں اس کا نام عیسٰی رکھنا چاہتی تھیں مگر پوری بات اسے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔

فجر کی اذان کا وقت ہو چکا تھا اب وہ واپس گھر جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا سب اس کے لئے کتنے پریشان ہوں گے۔ وہ سیدھا مسجد گیا تھا وضو کرنے کے بعد باجماعت نماز ادا کی مگر آج معیز صاحب مسجد نہیں تھے جو اس کے لئے بہت حیرت کی بات تھی۔

” آ گۓ تم؟” حافظ عبداللہ نے ایک نظر اس کے گیلے کپڑوں پہ ڈالی اور طنزیہ محاطب ہوئے۔

” پاپا کیوں نہیں آۓ۔”

” مر رہا ہے تمہارا باپ جاؤ جا کے خود دیکھ لو کیوں نہیں آیا۔” حافظ عبداللہ نے غصے سے کہا۔ عیسٰی یہ سنتے ہی وہاں سے گھر کی طرف بھاگا۔ معیز صاحب کی طبیعت بہت خراب ہو رہی تھی دوائی بھی کوئی اثر نہیں کر رہی تھی زینب بیگم اور معاذ بھی ان کے پاس بیٹھے روۓ جا رہے تھے۔ عیسٰی یہ سب دیکھ کر ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔

” پاپا ایم رئیلی سوری۔۔۔ آئیندہ کبھی بھی آپ کو تکلیف نہیں دوں گا پلیز مجھے بس ایک بار معاف کر دیں آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گا۔” عیسٰی ان کے پیروں پہ سر ٹکاۓ روۓ جا رہا تھا۔ اس کے لئے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا اور اس سب کی وجہ بھی وہ خود ہی تھا۔ زینب بیگم اس کی آواز پہ چونکی وہ غصہ کرنا چاہ رہی تھیں مگر اس کی حالت دیکھ کر وہ اس پہ غصہ بھی نہ کر سکیں۔ معیز صاحب کے لبوں نے مدھم سی سرگوشی کی وہ عیسٰی کو ہی پکار رہے تھے۔ عیسٰی ان کے سینے پہ سر رکھ کر زاروقطار پھر سے رونے لگا۔ معیز صاحب اسے اپنے پاس دیکھ کر خوش تھے کہ وہ گھر تو آیا ان سب کی جان میں جان آئی تھی۔ اب وہ پہلے سے کچھ بہتر محسوس کر رہے تھے۔ عیسٰی کی روتے روتے ہچکی بندھ گئ تھی وہ ابھی صرف معیز صاحب کے پاس ہی رہنا چاہتا تھا وہ خود بھی ساری رات سویا نہیں تھا سو روتے روتے وہ انہی کے کمرے میں کب سو گیا اسے خود بھی پتہ نہ چلا۔

_______________

زندگی اپنے معمول کے مطابق گزر رہی تھی کوئی ہنس رہا تھا تو کوئی رو رہا تھا۔ عیسٰی کا ایڈمشن اسلام آباد کی ایک بہت اچھی یونیورسٹی میں ہو گیا تھا مگر ہادی نہ پہلی بار ٹیسٹ میں پاس ہوا نہ دوسری بار جبکہ عیسٰی پہلی بار ہی ٹیسٹ میں پاس ہو چکا تھا مگر ایڈمشن تو میرٹ بیس پہ ہونے تھے ۔ عیسٰی، نائکا،سمیرا اور سٹِفنَس کے سوا مارگریٹ ثوبان اور ہادی تھے جن کا ایڈمشن ایم۔بی۔بی۔ایس میں نہ ہو سکا۔ ہادی نے آگے بی۔ایس۔آنرز کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ مارگریٹ نے آگے پڑھنے کا سوچا ہی نہیں بلکہ پورے دو دن اسی دکھ میں روتی رہی کہ اب وہ نائکا اور سٹِفنَس کے ساتھ نہیں پڑھ سکے گی لیکن سٹِفنَس نے جیسے تیسے اسے سمجھایا کہ کلاس سیم نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے یونیورسٹی تو سیم ہی ہو گی کچھ نہ کچھ تو آگے کرنا ہی پڑے گا بالآخر وہ مان ہی گئی۔ معیز صاحب نے اپنا بزنس عظیم صاحب کے بزنس میں مرج کر لیا تھا کیونکہ ان کی اچھی دوستی تھی اب بزنس دونوں مل کے دیکھ رہے تھے۔ معاذ کا بھی کالج میں فرسٹ ایئر میں ایڈمشن ہو چکا تھا اب وہ لوگ اسلام ہی شفٹ ہو چکے تھے۔

” یار اگر یونی میں سکون سے رہنا ہے تو چھوٹے موٹے دوست بنانا پڑیں گے۔” کوریڈور میں کھڑے ہادی نے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے عیسٰی سے کہا۔ آج ان کا یونی میں پہلا دن تھا۔

” دوستوں کا تو پتہ نہیں بحرحال چھوٹے موٹے دشمن ضرور مل گئے ہیں۔” عیسٰی نے شرارت سے آنکھ دبائی۔

” مطلب تو نے آتے ہی کسی سے پنگا کر لیا؟ یہی امید تھی تم سے۔” ہادی نے خفگی سے کہا۔

” اوہو یار پرانی دشمنی ہے وہ دیکھ سامنے ایک لڑکا اور لڑکی جو آپس میں باتیں کر رہے ہیں یہی ہیں وہ چھوٹے موٹے دشمن چل ان کو سرپرائز کرتے ہیں۔” عیسٰی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بتایا اور ان کی طرف قدم بڑھانے لگا۔

” کیا ہوا اب آگے چلنے کی بجائے پیچھے کیوں آ رہا ہے۔۔۔ چل نا تیرے دشمنوں سے مل کے آتے ہیں۔” ہادی نے اس کے پیچھے ہوتے قدم دیکھ کر اسے آگے کو گھسیٹا۔

” چھوڑ یار اس کے ساتھ اس کا باڈی گارڈ بھی ہے وہ دیکھ اپنی بہن کے ساتھ اسی طرف آ رہا ہے۔۔۔ لیکن یہ میرا دوست ہے تمہیں بتایا تھا نا میں نے وہ سٹِفنَس ہے ساتھ اس کی بہن مارگریٹ ہے اور وہ جو لڑکی دوسری طرف دیکھ رہی ہے یہ نائکا چڑیل ہے یار وہی مری والی اور ساتھ ان کا کزن ثوبان سندھو ہے چل تمہیں ملواتا ہوں ان سب سے۔” عیسٰی نے پھر سے ہاتھ کے اشارے سے سب کے بارے میں بتایا اور ہادی کو ساتھ لیکر ان کے پاس گیا۔

” اسلام وعلیکم۔ ” عیسٰی نے مسکراتے ہوئے سٹِفنَس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

” او ماۓ گاڈ۔ وعلیکم اسلام۔ یار عیسٰی تم یہاں۔۔۔ کہاں غائب ہو گۓ تھے یار میں نے تمہیں کتنی کالز اور میسیجز کئے مجال ہے جو تم نے ایک کا بھی جواب دیا ہو۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ہم کتنے پریشان ہو رہے تھے تمہارے لئے۔” سٹِفنَس اسے گلے لگاتے ہوئے خوشی اور خفگی کے ملے جلے تاثرات سے مخاطب ہوا۔

” بس یار ایسے ہی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی باقی سب بعد میں بتاؤں گا۔۔۔ خیر اس سے ملو یہ ہے میرا دوست ہادی اور ہادی یہ۔۔۔” ہادی نے عیسٰی کی بات کاٹتے ہوئے سٹِفنَس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

” ہیلو سٹیفن۔” ہادی نے بڑے جوش سے کہا۔ جس پہ سب ہنس دیے۔

” سٹیفن نہیں سٹِفنَس ایڈسن۔” سٹِفنَس نے مسکراتے ہوئے اپنے نام کی کوریکشن کی۔

” اوہ سوری۔۔۔ ہیلو مارگیٹ۔” ہادی کا لہجہ سابقہ تھا۔

” مارگریٹ ایڈسن۔” مارگریٹ نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔

” اوہ سوری۔” ہادی نے پھر سے ذرا شرمندگی سے کہا۔ لیکن اگلا نام جو اس کی زبان سے پھسلا تھا اس کی امید کسی کو بھی نہیں تھی۔

” ہیلو نائکا چڑیل۔۔۔ اوہ ایم رئیلی سوری قسم سے مجھے اس نام کا نہیں پتہ تھا عیسٰی نے ابھی مجھے بتایا پتہ نہیں کیسے منہ سے پھسل گیا۔” ہادی کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ منہ پہ تالے کی طرح رکھ کر معذرت کر رہا تھا جبکہ عیسٰی کے سوا باقی سب اسے گھور رہے تھے نائکا اور ثوبان کی شکل دیکھنے لائق تھی جو اس وقت صرف عیسٰی دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا جیسے ہادی نے اس کے دل کی بات کہہ ڈالی ہو۔

” جسٹ شٹ اپ۔ دیکھا تم لوگوں نے کیسے سب کے سامنے میرا مذاق اڑاتا ہے ۔” نائکا رونے والی شکل بنا کے قدرے غصے سے بولی۔

” ہاہاہا تم کون سا سچ مچ میں چڑیل ہو اس نے مذاق میں کہا ہو گا اب اتنا تو چلتا ہی ہے۔۔۔ عیسٰی تم بھی اب ہنسنا بند کرو اور خبر دار اگر آئندہ نائکا کو چڑیل کہا تو۔” سٹِفنَس نے دونوں کو سمجھایا۔ مارگریٹ تو عیسٰی کو دیکھ کر ہنس رہی تھی جبکہ ثوبان اسے کھا جانے والی نظروں سے تار رہا تھا۔

” اچھا یار ٹھیک ہے اب نہیں کہوں گا چڑیل۔۔۔ کچھ اور۔۔۔” عیسٰی نے خود پہ کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔

” خبر دار اگر کچھ اور بھی کہا تو۔” نائکا نے اسے وارن کیا۔

” اوکے اوکے فائن کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔ اور تم سناؤ سندھو کیسے ہو۔” عیسٰی نے سیریس ہونے کی کوشش کی۔

” دیکھ میں آخری بار اپنا نام بتا رہا ہوں پھر نہ کہیو میرے سے جھگڑا کیوں کیا۔ میرا نام ثوبان پال ہے آئی سمجھ۔” ثوبان نے دانت بھینچتے ہوئے کہا۔

” اف یار تو نے میرے ڈر سے نام بھی بدل لیا۔۔۔ چل کوئی نہیں آج تیری بھی مان لیتے ہیں۔” عیسٰی نے بازو سینے پہ باندھتے ہوئے کہا۔

کچھ دیر بعد سمیرا بھی یونیورسٹی پہنچ چکی تھی مگر آج پہلے دن بھی وہ ہمیشہ کی طرح لیٹ ہی تھی نائکا اور سٹِفنَس اسی کے انتظار میں تھے۔ ثوبان مارگریٹ اور ہادی ایک ہی کلاس میں ایک ساتھ گئے تھے مگر ثوبان کو ہادی ایک آنکھ نہیں بھایا تھا کیونکہ وہ عیسٰی کا دوست تھا۔ عیسٰی،سٹِفنَس،نائکا اور سمیرا بھی ایک ساتھ کلاس میں گۓ آج پہلا دن تھا سو سب بہت خوش تھے۔ زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ وہ سب ایک ساتھ تھے۔ اسی یونیورسٹی کے اندر ایک بہت بڑا ہاسپٹل بھی تھا جہاں اکثر سینئر سٹوڈنٹس کو پریکٹکل کے لئے لے جایا جاتا تھا۔ حافظ عبداللہ بھی اسی یونیورسٹی میں لیکچرر تھے جن کے ذمے اسلامک لیکچرز تھے۔ اور غیر مسلم طلباء کے لئے بائبل کی کلاسز بھی ارینجڈ کی گئی تھیں۔ صرف یہ ایک کلاس تھی جو سٹِفنَس اور نائکا کی سیپریٹ ہوتی۔

فرسٹ سمیسٹر شروع ہوئے آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ سب خوش تھے مگر مارگریٹ کا دل ابھی بھی کلاس میں نہیں لگ رہا تھا اوپر سے ثوبان بھی ساۓ کی طرح اس کے سر پہ منڈلاتا رہتا تھا کیونکہ سٹِفنَس نے مارگریٹ کے سامنے اسے بس ایک بار کہہ دیا تھا اس کا خیال رکھنا اب ثوبان بھی ہیروپنتی نہ دکھائے بھلا ایسا ہو سکتا تھا۔

سردیوں کی دھوپ بھی انجواۓ کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ لیکچر کب سے شروع ہو چکا تھا مگر عیسٰی کا آج کوئی موڈ نہیں تھا لیکچر اٹینڈ کرنے کا۔ وہ بیگ کا تکیہ بنائے چہرے پہ جیکٹ رکھے مزے سے لیٹا تھا۔

”عیسٰی۔ آر یو اوکے؟” مارگریٹ نے بیگ اس کے پاس پھینکنے کے انداز میں رکھا۔ اس کی آواز پہ عیسٰی نے جیکٹ چہرے سے ہٹائی اور دھوپ میں آنکھیں کھولنے کے لئے اپنا ہاتھ سورج کی طرف رکھتے ہوئے مارگریٹ کو دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔

” میں ٹھیک ہوں بس آج پڑھنے کا موڈ نہیں بن رہا۔ تم لوگ فری ہو؟” عیسٰی نے مارگریٹ کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے پوچھا۔

” نہیں میرا بھی آج پڑھنے کا دل نہیں کر رہا۔” مارگریٹ نے بے دلی سے کہا۔

” تو کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ۔۔۔ ایک دن نہ پڑھنے ہم فیل تھوڑی ہو جائیں گے۔” عیسٰی نے لاپرواہی سے کہا۔

” ہاں یہ تو ہے۔۔۔ تم نے مجھے کہا تھا تم میری آواز اچھی کرنے میں میری مدد کرو گے اب بتاؤ میں کیسے آواز اچھی کروں۔” مارگریٹ بھی اس کے سامنے لان میں بیٹھ گئی۔

” یار وہ تو میں نے بس ایسے ہی کہہ دیا تھا مجھے کون سا سنگر ہوں جو تمہیں کچھ سکھاوں گا۔۔۔ تم میوزک کلاسز کیوں نہیں جوائن کر لیتی۔” عیسٰی نے سنجیدگی سے کہا۔

” کوئی فائدہ نہیں مجھے بس تمہارے جیسی اچھی آواز چاہیے بس میں اور کچھ نہیں جانتی جو مرضی کرو پر مجھے کچھ نہ کچھ تو بتاؤ۔ نہیں تو میں رونا شروع کر دوں گی۔” مارگریٹ ضد کرنے لگی۔

” خدا کے لئے اب نائکا والے کام نہ شروع کر دینا ویسے بھی اگر تمہارے بھائی کو پتہ چل گیا نا کہ تم میری وجہ سے روئی ہو تو وہ میری جان لے لے گا۔۔۔ چلو میں تمہیں آج کے لئے ایک لیسن دیتا ہوں اوکے۔” عیسٰی نے اس کے ہاتھ سے پنسل اور ڈائری پکڑی اور پہ کچھ لکھنے لگا۔

” کیا لکھ رہے ہو۔۔۔ یہ ا،ب مجھے آتی ہے یہ کیوں لکھ رہے ہو؟ تم مجھے بہلا رہے ہو ؟” مارگریٹ اسے لکھتے دیکھ کر بولی۔

” اوہو یار دو منٹ چپ نہیں رہ سکتی کیا۔۔۔ یہ دیکھو پوری ا،ب نہیں لکھی اور یہ جو لکھی ہے ان کی ساؤنڈز سیکھنا شروع کرو۔ جیسے ق اور ک۔ ق کی ساؤنڈ گلے سے نکال کے دکھاؤ جیسے میں بول رہا ہوں۔” عیسٰی نے جلدی سے لکھ کر ڈائری اس کی گود میں رکھی۔ وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بہت مشکل ہوم ورک مل گیا ہو۔

” یار یہ کیسے کروں ایسے تو مجھے الٹی ہو جائے گی۔” مارگریٹ نے حیرت سے اسے دیکھا۔

” خبر دار اگر الٹی کی تو یہ تمہارا ہوم ورک ہے گھر جا کر پریکٹس کرنا باقی ساؤنڈز بھی میں ایک بار بتا دیتا ہوں۔” عیسٰی نے ڈائری پھر سے پکڑی۔ اور ساؤنڈز میں فرق بتانے لگا ساتھ ہر حرف پہ لکھتا گیا کہ اس حرف کی ساؤنڈ کیسی ہو گی۔ یہ سب کچھ تھوڑا بہت تو پہلے بھی مارگریٹ جانتی ہی تھی یہ تو بس اس سے باتیں کرنے کا ایک بہانا تھا۔ وہ مسلسل بنا پلک جھپکے بس اسی کو دیکھے جا رہی تھی۔عیسٰی کی وہ آواز آج بھی وہ محسوس کر سکتی تھی۔ مارگریٹ کو اس کا ساتھ بہت اچھا لگ رہا تھا اس کے لئے تو وہ ہر روز لیکچر مس کرنے کو تیار تھی مگر عیسٰی کو جس کی کمپنی پسند تھی اس کے لئے لیکچر مس کرنا کسی گناہ کے جیسا تھا ۔

تیرے آنے سے خزاں میں بہار آ جائے

میری بے قراریوں کو قرار آ جائے

ڈوب جاؤں میں تیری ان آنکھوں میں

میری روح تجھ میں فنا ہو جائے

_____________

آج مارگریٹ نے ثوبان کو ہادی کے سامنے صاف بول دیا تھا کہ اگر آئندہ وہ اس کے سر پہ ساۓ کی طرح منڈلایا تو وہ سٹِفنَس کی بجائے پروفیسر سے اس کی شکایت کر دے گی۔ ہادی کے سامنے ثوبان کے لئے یہ سب سننا تھپڑ کے مترادف تھا۔ اسے تو جیسے آگ ہی لگ گئی تھی۔ہادی اس کے تاثرات دیکھ کر مارگریٹ کی باتیں نظر انداز کرنے کی اداکاری کر رہا تھا۔

” ٹھیک ہے تمہیں جو کرنا ہے کرو لیکن میں ایک بار سٹِفنَس سے پہلے پوچھوں گا جو وہ کہے گا میں وہی کروں گا۔۔۔ اور تم جو دل ہی دل میں ہنس رہے ہو نا سارا کچھ پتہ ہے مجھے میں کوئی اندھا نہیں ہوں۔” ثوبان نے مارگریٹ کو سپاٹ لہجے میں کہا اور پھر ہادی کی ہنسی دیکھ کر اسے گھورنے لگا۔

” م میں کب ہنسا یار دیکھو میں تو بلکل چپ ہوں۔” ہادی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔

” اب اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی وہ بھی آج اور اسی وقت۔” ثوبان نے دو ٹوک بات کی اور مارگریٹ کا ہاتھ پکڑے آگے چلنے لگا۔ اور ہادی کو بھی پیچھے آنے کا بولا۔ اگر نہ بھی کہتا تو بھی وہ ان کے پیچھے ہی جاتا کیونکہ گھر جانے سے پہلے سب ایک پوائنٹ پہ اکٹھے ہوتے تھے۔ مارگریٹ نے زبردستی اپنا ہاتھ چھڑوایا۔

” سٹِفنَس تمہاری اس معصوم بہن کے کوئی کان بھر رہا ہے وہ بھی میرے خلاف۔” سٹِفنَس اکیلا کھڑا مارگریٹ کا انتظار کر رہا تھا۔

” جو بھی بات ہے صاف صاف کہو۔” سٹِفنَس تو شاید پہلے ہی بہت سیریس موڈ تھا۔

” نہیں بھائی ایسا کچھ نہیں ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔ بھائی اسے بولیں نا ہر وقت میرے ساتھ ساتھ نہ رہا کرے مجھے بہت عجیب لگتا ہے ورنہ میں کل سے یونی نہیں آؤں گی۔” مارگریٹ جلدی سے سٹِفنَس کا بازو تھامے اصرار کرنے لگی۔

” دیکھا میں نے کہا تھا نا اور یہ سب اس ہادی نے کیا ہے جو اچانک سے میں اسے برا لگنے لگا۔” ثوبان نے ہادی کی طرف اشارہ کیا۔ جو اسے کھا جانے والی نظروں سے تار رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *