Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 04,05)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 04,05)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
اس بیچارے نے تو بس مذاق کیا تھا اور تم ہو کہ سیریس ہی ہو گئی۔” ہاسٹل پہنچتے ہی دونوں پھر سے الجھ پڑیں۔
” مذاق کرنے اور اڑانے میں بہت فرق ہوتا ہے اور وہ میرا مذاق اڑا رہا تھا۔ تم بھی اس کے ساتھ مل کے میرا مذاق اڑا رہی تھی۔” نائکا کمرے میں غصے میں چکر لگاتے ہوئے بولی۔ جبکہ سمیرا پر اطمینان سے بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی۔
” اوہو۔۔۔ اب بس بھی کر دو اب کیا فائدہ یہ سب کہنے کا۔۔۔ اچھا سوری آئندہ ایسا نہیں کروں گی پرامس۔۔۔ لیکن جو بھی ہے لڑکا تھا بڑا ہینڈسم۔” سمیرا ہاتھ ٹھوری کے نیچے رکھ کر مسکرائی۔
” کہاں سے؟” نائکا نے طنزیہ کہا۔
” آنکھوں سے۔ اف میں نے تو آج تک اتنی پیاری آنکھیں نہیں دیکھی۔ تم بھی اسی لئے اسے دیکھے جا رہی تھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اتنے قریب سے۔” سمیرا کہتے ہوئے وہیں نیم دراز ہو گئ۔ سمیرا اسے تنگ کر رہی تھی لیکن نائکا ابھی مذاق کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس نے بیڈ سے تکیہ اٹھایا اور زور سے سمیرا کے منہ پہ دے مارا۔
اس رات وہ بائبل بھی نہ پڑھ سکی۔ ایک تو وہ بہت تھک چکی تھی اور اوپر سے اس کا موڈ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد سمیرا لائٹ آف کر کے سو گئی لیکن نائکا کو نیند نہیں آئی۔ اس کے دماغ میں آج کا دن صبح سے شام تک ایک فلم کی طرح چل رہا تھا اور آخر پہ فلم عیسٰی کی آنکھوں پہ آ کر رکی۔ نائکا سمیرا کے سامنے اس چیز کا اعتراف نہ کر سکی لیکن اس کی آنکھوں کی کوئی تعریف نہ کرے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ نائکا کو بھی اس کی آنکھوں نے گھورنے پہ مجبور کیا تھا۔ وہ اس کی آنکھوں کو تصور میں لاتے ہوئے نیند کی وادی میں چلی گئی۔
____________
” تو پھر ٹھیک ہے میں بھی اب نہیں کہوں گا۔” عیسٰی ذرا غصے میں چِلا یا۔
” نہیں نہیں۔۔۔ میں ہاتھ دیتی ہوں۔” جیسے ہی عیسٰی نے ہاتھ پیچھے کی طرف ہٹایا وہ فوراً بول پڑی۔
سمیرا نے اپنا ایک ہاتھ عیسٰی کو دیا اور دوسرے ہاتھ سے پتھر پر زور ڈالتے ہوئے اوپر آنے کی کوشش کی۔ عیسٰی کے دوستوں اسے پیچھے سے پکڑ رکھا تھا تاکہ کم ازکم عیسٰی کو کچھ نہ ہو۔ عیسٰی نے اپنی ساری قوت سے سمیرا کو اوپر کھینچنے کی کوشش کی اور جلد ہی وہ اسے بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ سمیرا اوپر آتے ہی نائکا کے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔ لوگوں کا ہجوم بھی کم ہونے لگا۔
” دونوں ہی ایک جیسی ہیں ایک اپنی چیزیں نہیں سنبھال سکتی اور دوسری خود کو۔” عیسٰی اپنے کپڑے جھاڑ کر گلاسز لگاتے ہوئے منہ میں بڑبڑانے لگا۔ باقی سب لوگوں کی طرح عیسٰی لوگ بھی وہاں سے جانے لگے۔
” ایکسیوزمی۔” سمیرا نے عیسٰی کو رکنے کا اشارہ کیا اور اس کی جانب لپکی۔ عیسٰی بھی اس کی آواز پہ پلٹا تھا۔
” تھینک یو سو مچ۔۔۔ اگر آج آپ میری مدد نہ کرتے تو شاید۔۔۔”
” تو شاید کوئی اور آپ کی مدد کیلئے آ جاتا۔” عیسٰی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے نرمی سے کہا۔ نائکا ان سے چند قدم کے فاصلے پر سر جھکائے ان کو نظر انداز کرتے ہوئے نادم سی کھڑی تھی۔
” لیکن ابھی تو آپ ہی نے مدد کی ہے نہ تو شکریہ بھی آپ ہی کا بنتا ہے۔” سمیرا نے جوابًا کہا۔
” اچھا۔۔۔ چلیں کوئی بات نہیں لیکن آئندہ احتیاط سے۔” عیسٰی نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی اور وہاں سے چلا گیا۔
” نائکا۔۔۔ تمہیں بھی اس کو تھینکیو بولنا چاہیے تھا اس نے اپنی جان پر کھیل کے ہماری مدد کی۔” سمیرا اسے خاموش کھڑے دیکھتے ہوئے بولی۔
” چلو اب ہاسٹل چلتے ہیں۔۔۔ میرا اب مزید یہاں رکنے کا کوئی موڈ نہیں وہاں جا کر بتاؤں گی ساری بات کہ تھینکیو کیوں نہیں بولا۔” نائکا نے جوابًا کہا اور دونوں ہاسٹل چلی گئیں۔
” اب بتاؤ بھی۔۔۔ تم نے اسے تھینکیو کیوں نہیں بولا۔” ہاسٹل پہنچتے ہی سمیرا بے چینی سے بول پڑی۔
” اف خدایا۔۔۔ تم سارے راستے میں بھی بس یہی ایک بات پوچھتی رہی اور اب پھر سے شروع ہو گئی۔۔۔ دو منٹ سانس تو لینے دو۔” نائکا ذرا تنگ آ کر بولی۔
” تو تم نے کون سا بتا دیا ہے جو تمہاری سانسیں رکی ہوئی ہیں۔” سمیرا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔ سمیرا کو بھی کہاں چین آنا تھا۔
” اچھا بتاتی ہوں۔۔۔ ہوا یہ تھا کہ میں چلتے چلتے گر گئی تھی اور وہ لڑکا میرے پیچھے کھڑا تھا مجھے لگا میں اس کی وجہ سے گری لیکن ایسا نہیں تھا میرے لیسز(تسمے) کھل گۓ تھے اور میرا اپنا ہی پاؤں اوپر آ گیا۔۔۔اور میں خوامخواہ اس پہ چلاتی رہی۔” نائکا جاگرز اتارتے ہوئے بڑی لاپرواہی سے اسے بتا رہی تھی۔
” اوہو۔۔۔ پھر تو تمہیں صرف تھینکیو ہی نہیں بلکہ سوری بھی بولنا چاہیے تھا۔” سمیرا ذرا افسردہ ہوئی۔
” واٹ۔۔۔؟ میں اسے سوری کیوں بولتی؟” نائکا نے رُخ اس کی طرف پھیرا۔
” کیونکہ تم نے بلاوجہ اس سے جھگڑا کیا اس لیئے تمہیں سوری کہنا چاہیے تھا۔۔۔ اس بیچارے نے کچھ کیا بھی نہیں اور تم نے اسے اتنا کچھ سنا دیا۔” سمیرا کو غصہ آنے لگا تھا۔
” ہاں تو۔۔۔ میں نے کون سا جان بوجھ کے جھگڑا کیا۔ اسے پہلے بتانا چاہیے تھا کہ میں اس کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ہی وجہ سے گِری تھی۔ سو غلطی اس کی تھی میری نہیں۔ ” نائکا نے چہرے پہ ندامت کے آثار جھٹکتے ہوئے آخر پہ الزام پھر بھی عیسٰی کے سر تھوپ دیا۔
” تم اسے کچھ بولنے کا موقع دیتی تو وہ بیچارہ کچھ بولتا نا۔۔۔ اور جب تمہیں پتہ چل گیا تھا کہ غلطی تمہاری تھی تب بھی کونسا تم نے سوری بول دیا۔ ” سمیرا عیسٰی کی حمایت کر رہی تھی۔
” اس نے تمہاری ذرا سی ہیلپ کیا کر دی تم تو اسی کی ہو کے رہ گئی۔ اب تم اس انجان شخص کے لئے مجھ سے جھگڑو گی۔” دونوں آپس میں الجھ پڑیں۔ نائکا آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ ایک تو وہ دل ہی دل میں شرمندہ تھی لیکن اپنی اناء کی وجہ سے وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کر رہی تھی، دوسرا سمیرا بھی اس سے غصے سے بول رہی تھی۔ نائکا کے آنسو جیسے حلق میں اٹک کر رہ گئے۔ اب وہ بڑی مشکل سے بول رہی تھی۔
” ذرا سی ہیلپ نہیں، اس نے اپنی جان پر کھیل کے میری جان بچائی، اور یہ کوئی ہیلپ نہیں احسان ہے۔ کوئی بھی انجان، بنا کسی ذاتی مفاد کے ایسے ہیلپ نہیں کرتا جیسے اس نے کی۔ میں اسے نہیں جانتی لیکن پھر بھی میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی۔۔۔ اور میں تم سے کوئی جھگڑا نہیں کر رہی صرف اس چیز کا احساس دلا رہی ہوں کہ اپنی اناء کو ختم کر کے اپنی غلطی تسلیم کرو بس، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ اللّٰلہ بھی خوش ہو گا۔” سمیرا نے نائکا کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
نائکا چپ سادم سی بیٹھ کے سوچنے لگی کہ اب وہ سوری بولے بھی تو کیسے، اور سمیرا تو مجھے ہیلپ کے لئے پکار رہی تھی، میں نے خود تو اس کی کوئی ہیلپ کی نہیں الٹا کسی کو ہیلپ کے لئے بول دیا۔۔۔ اس لڑکے نے بھی بغیر کچھ سوچے ہماری ہیلپ کر دی حالانکہ میں اس سے بہت بدتمیزی بھی کر چکی تھی۔
ارے یہ کیا۔۔۔ نائکا نے تو رونا ہی شروع کر دیا۔ سمیرا کو لگا شاید وہ اس کی باتوں کی وجہ سے رو رہی ہے۔
” نائکا۔۔۔ ایم ریلی سوری۔ میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔” سمیرا کو خود پہ غصہ آنے لگا کہ میں نے کیوں زبردستی سوری کہنے کےلئے بولا اگر وہ سوری نہیں بولنا چاہتی تھی تو نہ کہتی مجھے کیا۔
” نہیں۔۔۔ تمہاری کوئی غلطی نہیں، نہ ہی اس لڑکے کی کوئی غلطی تھی۔ غلطی صرف اور صرف میری ہے میں صرف اپنی وجہ سے رو رہی ہوں۔ مجھے واقعی میں اسے سوری کہنا چاہیے تھا۔” نائکا روہانسی ہوئی۔
” چلو کوئی بات نہیں، اب وہ لڑکا تو مل نہیں سکتا تم اللّٰلہ سے معافی مانگ لو۔” سمیرا نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔ سمیرا اب مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
” مجھے پتہ ہے جب تک انسان معاف نہ کرے تب تک خدا بھی معاف نہیں کرتا۔” نائکا پھر سے رونے لگی۔
” اگر ہم سچے دل سے معافی مانگیں تو اللّٰلہ ضرور معاف کر دیتا ہے۔ اس لئے اب یہ رونا دھونا بند کرو اور جلدی سے اللّٰلہ سے معافی مانگ لو اور اپنا موڈ بھی اچھا کرو۔۔۔ تمہیں یاد ہے نہ آج ہم نے شام کو شاپنگ کیلئے بھی جانا ہے یہ نہ ہو کہ تم رورو کے اپنی طبیعت خراب کر لو ۔۔۔ پھر کل سنڈے بھی ہے تمہیں چرچ بھی جانا ہے۔” سمیرا نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے موضوع بدلا۔ نائکا نے ہاتھوں کی پشت سے آنسو پونچھے اور منہ دھونے واش روم چلی گئی۔ سمیرا نے گہری سانس بھری اور بیڈ پہ لیٹ کر چھت کو گھورنے لگی۔
____________
ڈیش بورڈ پہ پڑے موبائل کی سکرین بنا کسی آواز کے لگاتار آن آف ہو رہی تھی۔ شام ہونے کے قریب تھی جب وہ لوگ واپس مال روڈ کی طرف آ رہے تھے۔ معیز صاحب کال پہ کال کئے جا رہے تھے مگر عیسٰی جان چھڑانے کے لئے سیل سائلنٹ پہ لگائے مزے سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ مال روڈ پہنچ کر بلاآخر اس نے فون آف ہی کر دیا۔
G.P.O چوک کے قریب پہنچتے ہی اس نے گاڑی ایک سائیڈ پہ پارک کی اور سب نے مال روڈ پر پیدل چلنا شروع کر دیا۔ وہاں ہر طرح کی دکانیں موجود تھیں۔ شام کی نیلاہٹ ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ وہ سب دوکانوں کا سرسری جائزہ لینے لگے۔
نائکا اور سمیرا بھی اس وقت مال روڈ پر ایک دوکان سے کپڑے دیکھ رہی تھیں۔ نائکا اس دوکان سے اپنے لئے کپڑے پسند کرنے میں مصروف ہو گئ جبکہ سمیرا ساتھ والی دوکان سے اپنے لئے جوتا پسند کرنے چلی گئی۔ عیسٰی بھی اسی دوکان میں کھڑا کچھ شرٹس دیکھ رہا تھا جہاں نائکا اور بہت سے لوگ کپڑے خرید رہے تھے۔ وہ گارمنٹس کی ایک بہت بڑی دوکان تھی جہاں لیڈیز، جینس اور بچوں کے ہر قسم کے کپڑے دستیاب تھے۔
اسی دوکان میں ایک چھوٹی سی بچی اپنی ماں کے ساتھ کپڑے خرید رہی تھی۔ وہ جس بھی ڈریس کی طرف ہاتھ بڑھاتی اس کی ماں مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی اور دوکاندار سے وہی ڈریس دکھانے کے لئے کہتی۔۔۔ جیسے ہی دوکاندار ڈریس بچی کے ہاتھ میں دیتا وہ خوشی سے اچھلنے لگتی۔ نائکا یہ ماں بیٹی کی محبت دیکھ کر مسکرا بھی رہی تھی اور دکھی بھی تھی کہ اگر آج اس کی ماں بھی زندہ ہوتی تو وہ بھی اس کے ایسے ناز نخرے اٹھاتی۔ نائکا کی پشت عیسٰی کی طرف تھی۔ عیسٰی بھی اس بچی کی خوشی دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ جلد ہی عیسٰی کی آواز نے نائکا کی سوچ کو توڑا۔
________
” ایکسیوز می۔” عیسٰی مسکراہٹ سمیٹتے ہوئے دوکاندار سے مخاطب ہوا۔ نائکا اس کی آواز سنتے ہی چونکی۔ اسے لگا جیسے وہ اس آواز سے آشنا ہے مگر وہ اندازہ نہیں لگا سکی کہ یہ آواز ہے کس کی۔ وہ جیسے ہی اس شخص کو دیکھنے کے لئے پلٹی، دوسری جانب سے ایک اور آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
” نائکا یہ دیکھو میری سینڈل۔۔۔ کیسی ہے؟ تم نے کیا لیا، یا کچھ پسند ہی نہیں آیا۔ چلو کس اور دوکان سے کپڑے دیکھتے ہیں۔” نائکا ابھی پوری طرح سے اس شخص کو دیکھنے کے لئے پلٹی بھی نہیں تھی کہ وہ سمیرا کی طرف متوجہ ہو گئی۔
” ہاں یار۔۔۔ چلو کسی اور شاپ سے کپڑے دیکھتے ہیں۔” نائکا نے دھیمی آواز میں کہا۔ عیسٰی ابھی بھی اس کے پیچھے کھڑا کچھ شرٹس دیکھ رہا تھا مگر نائکا اس کے آگے کھڑی تھی جس وجہ سے سمیرا بھی اسے نہ دیکھ سکی۔ نائکا یہ کہتے ہوئے دوکان سے باہر نکلنے لگی سمیرا بھی اس کے پیچھے چلنے کے لئے بیگ کندھے پہ لٹکانے لگی۔ جیسے ہی نائکا نے اپنا ایک پاؤں دوکان سے باہر نکالا سمیرا چیخ مارتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی۔
” نائکا۔” نائکا اس کی آواز پہ پلٹی۔
” کیا ہے کیوں ہر وقت چلاتی رہتی ہو۔” نائکا نے دانت بھینچتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔
” یار وہ دیکھو یہ وہی لڑکا ہے نہ جس نے آج ہماری مدد کی تھی۔ شکر ہے مل گیا اب تم اسے سوری بول سکتی ہو۔” سمیرا نے بھی دھیمی آواز میں کہا۔
” مجھے تو یہ کوئی اور لگتا ہے۔ وہ تو کوئی بڑا بدتمیز لگتا تھا۔ بہت بدتمیزی کی تھی اس نے۔ اس کی شکل اُس سے ملتی جلتی ہو گی لیکن یہ وہ نہیں ہو سکتا۔” نائکا نے اسے کچھ فاصلے سے دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا۔ وہ جس لہجے میں دوکاندار سے مخاطب تھا وہ بلکل مختلف تھا۔
” اف تم بھی نہ۔۔۔ اگر کوئی شریف بدتمیزی کے بدلے بدتمیزی کرے گا تو ظاہر ہے وہ بدتمیز ہی لگے گا۔ دیکھو سارا کچھ وہی ہے بس گلاسز نہیں لگائے۔” سمیرا نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔ وہ دونوں اس کی سائیڈ پوز ہی دیکھ پائی تھیں۔ وہ دونوں اسے دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کے اتنے قریب چلی گئیں کہ اگر وہ ذرا بھی پلٹتا تو یقینًا اس کی ٹکر ان میں سے کسی سے لگ جاتی۔ ان دونوں کو اس چیز کا ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ اگر اُس نے ہمیں ایسے گھورتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچے گا۔ لیکن عیسٰی کو اس چیز کا احساس ضرور ہو گیا تھا کہ کوئی اس کے اتنے قریب کھڑا اسے دیکھ رہا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی اتنا زیادہ قریب کھڑا ہے کہ پلٹنے پر اس سے وہ ٹکرا بھی سکتا ہے۔ شاپنگ بیگ پکڑتے ہوئے جیسے ہی وہ پلٹا فوراً نائکا سے جا ٹکرایا اور اس کا بیگ ہاتھ سے بے اختیار چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ دونوں کی زبان سے بیک وقت ایک ہی لفظ نکلا۔ ” آؤچ۔”
“What the hell is this.” نائکا نے اپنا ماتھا سہلاتے ہوئے غصے سے کہا۔ سمیرا یہ دیکھتے ہی اپنا سر پکڑ کر پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔
” oh! I’m really sorry ma’m.” عیسٰی بیگ اٹھاتے ہوئے بولا۔
” اب کیا فائدہ سوری بولنے کا۔” نائکا نے سابقہ لہجے میں کہا۔
عیسٰی بیگ اٹھانے کے لئے جھکا ہوا تھا دونوں نے ایک دوسرے پورا چہرہ نہیں دیکھا تھا اور عیسٰی تو اس کی شکل دیکھے بغیر ہی اسے سوری بول چکا تھا۔
” وہ میں۔۔۔ تم۔” عیسٰی نے بیگ اٹھاتے ہوئے وضاحت پیش کرنا چاہی لیکن نائکا کا چہرہ دیکھتے ہی وہ چونکا۔ وہ اپنی شربتی لمبی آنکھوں سے اسے گھورنے لگا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو اور سمیرا ان دونوں کو گھورنے لگی۔ عیسٰی اس کی طرف سے جواب کے انتظار میں تھا کہ وہ کوئی صفائی پیش کرے گی مگر یہ کیا نائکا تو کچھ بولی ہی نہیں اس کی زبان پہ تو جیسے تالا لگ گیا تھا۔ سمیرا بھی دیکھ کر حیران تھی کہ وہ غصے میں بھی اتنی دیر خاموش کیسے تھی۔ عیسٰی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جو اسے چپ رہنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس نے آج تک اتنی پیاری آنکھیں نہیں دیکھی تھیں۔ نائکا نے ایک سیکنڈ کے لئے بھی پلک نہیں جھپکی اور لگاتار اسے دیکھتی گئی۔ وہ اس کی آنکھیں دیکھنے میں اتنی مسرور تھی کہ اسے لگا جیسے اس کے سامنے صرف عیسٰی کی آنکھیں ہیں اور اس کے آس پاس کسی بھی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ جیسے وہ آنکھیں صرف اسی کو دکھانے کے لئے بنائی گئی ہوں۔
” تم یہاں بھی آ گئی۔۔۔ میں نے بلکل ٹھیک کہا تھا اور وہی ہوا نا۔ اب پھر سے الزام مجھ پہ ہی آۓ گا۔ لیکن اس بار بھی غلطی میری نہیں تمہاری ہے۔ تم مجھے اسے قریب سے کیوں گھور رہی تھی بتاؤ؟ ۔۔۔ محترمہ میں آپ سے مخاطب ہوں۔ اب سوری کہنے کی بجاۓ ایسے ٹکٹکی جما کے گھور رہی ہو۔” اس بار عیسٰی کو اچھا خاصا موقع مل گیا اسی کی زبان میں اسے باتیں سنانے کا۔ لیکن وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی۔ نائکا نے اس کی کسی بھی بات پر غور نہیں کیا۔ سمیرا نے اُٹھ کر نائکا کا بازو پکڑ کے زور سے جھنجھلایا نائکا کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی۔
” وہ۔۔۔ اصل میں ہم آپ کو پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس پاگل کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ آپ وہی ہو جس نے آج ہماری مدد کی تھی۔” سمیرا نائکا کا بازو پکڑے، ظاہری مسکراہٹ سے بولی۔ وہ تھوڑی شرمندہ بھی تھی کہ یہ لڑکا ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہو گا کہ ہم اسے اتنے قریب سے کیوں دیکھ رہی تھیں اور مس نائکا سلیمان پہ تو اسے حد سے زیادہ غصہ آ رہا تھا اس نے تو حد ہی کر دی تھی۔
” اوہ اچھا۔۔۔ تو یہ پہلے سے پاگل ہے مجھے لگا ایک ہی دن میں دو بار گرنے کی وجہ سے یہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اسی لئے اپنے خوش و خواصں میں نہیں ہے۔۔۔ چلو شکر ہے ورنہ اس کے پاگل ہونے کا الزام بھی مجھ پر ہی آتا۔” عیسٰی اس کا مذاق اڑاتے ہوئے محظوظ انداز میں مسکرایا۔
” مسٹر۔۔۔ اپنی حد میں رہیں۔میں بلکل اپنے خوش و خواصں میں ہوں۔ پاگل تو یہ ہے جو زبردستی مجھے سوری کہلاوانے کے لئے یہاں لے آئی۔۔۔ دیکھا میں نے کہا تھا نا وہ کوئی بہت ہی بدتمیز لڑکا تھا لیکن تمہیں تو یہ بہت ہی شریف لگ رہا تھا۔” نائکا غصے میں دونوں پہ چلائی اور بغیر کچھ سوچے سمجھے بولتی گئی اسے خود اپنے الفاظ کی سمجھ نہیں آئی کہ وہ بول کیا رہی ہے۔
” میں نے کب کہا تھا یہ شریف ہے ایسا تو تم نے کہا تھا کہ یہ لڑکا تو بہت شریف لگ رہا ہے۔۔۔ ایک ہی ٹکر میں سارا کچھ بھول بھی گئی۔” وہ دونوں آپس میں الجھ پڑیں۔ عیسٰی نائکا کو غور سے دیکھنے لگا۔ ان دونوں کی آوازیں بڑھنے لگیں۔ دوکاندار نے ان کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا۔ وہ دونوں دوکاندار کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرانے لگیں۔
” ویسے آپ کے ہاں لوگوں کو ایسے پہچانا جاتا ہے، اتنا قریب آ کر، گھور گھور کے؟۔۔۔ اور آپ لوگوں نے مجھے پہچان کے کرنا کیا تھا۔” عیسٰی نے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا۔ نائکا نے عیسٰی کے چہرے سے نظریں ہٹا کر سمیرا کی طرف رخ کیا۔
” نائکا آپ کو سوری کہنا چاہ رہی تھی۔ بعد میں اسے احساس ہوا کہ غلطی آپ کی نہیں اس کی تھی۔ بیچاری بہت رو رہی تھی۔” سمیرا نے اس کے پہلے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے فوراً دوسرے سوال کا جواب دیا۔ لیکن سمیرا کا آخری جملہ نائکا کو بہت ناگوار محسوس ہوا اس نے سمیرا کو آنکھیں دکھائیں۔
” او۔آۓ۔سی۔۔۔ خیر بات تو اتنی بڑی نہیں تھی لیکن یہ نائکا۔۔۔” عیسٰی نے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا۔
” ایکسیوز می۔ اگر آپ لوگوں کی خریداری ہو گئی ہو تو کیا آپ باہر جا سکتے ہیں لوگوں کا رش بڑھ رہا ہے۔” مجبورًا دوکاندار نے ظاہری مسکراہٹ دباتے ہوئے ان تینوں کو باہر جانے کی درخواست کی۔ عیسٰی سر اثبات میں ہلاتے ہوئے باہر چلا گیا وہ دونوں بھی اس کے پیچھے چل دیں۔ نائکا اس کے بلکل سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” لیکن یہ نائکا کیا؟ کیا کہنا چاہ رہے تھے بتاؤ؟” نائکا نے لب بھینچتے ہوئے پوچھا۔
” یہ نائکا کیسا نام ہے پہلی بار کسی انسان کا نام نائکا سنا ہے مجھے عجیب لگا۔” عیسٰی نے ان دونوں کا تجسس دیکھتے ہوئے جان بوجھ کر بات گھمائی۔ اسے وہ دونوں پاگل لگتی تھیں۔
” کیا مطلب کسی انسان کا نام۔ یہ انسان کا ہی نام ہے اور کس کا ہو سکتا ہے۔” نائکا نے بھی تجسس سے ہی پوچھا تھا۔
Episode 5
ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن میں نے تو اس نام کے بارے میں کچھ اور ہی پڑھا ہے۔” عیسٰی نے کندھے اچکاتے ہوئے بڑے پر اعتماد انداز میں کہا۔
اندھیرا چھا چکا تھا اور رات کی روشنیوں میں مال روڈ کی خوبصورتی اور رونقوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ نائکا کا رخ ہوا کی مخالف سمت میں تھا۔ اس کے بال ہوا سے اڑتے اس کے کندھوں سے ہوتے ہوئے اس کے چہرے پہ گرتے۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے بال پیچھے ہٹاتی۔
” اور کیا؟۔۔۔ کیا سنا ہے آپ نے اس نام کے بارے میں۔” اس بار سمیرا بولی اس کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔
” میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ نائکا کسی چڑیل کا نام ہے۔” عیسٰی نے نائکا کے بال دیکھتے ہوئے بے اختیار کہہ دیا۔ وہ فوراً اپنے بال سمیٹنے لگی۔ غصہ اس کی ناک پہ واضح تھا۔
”ک کیا۔۔۔ چ چڑیل۔۔۔ کیسی چڑیل؟” سمیرا نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ لئے جو بے اختیار کھل گیا تھا۔
” یہ ایک ایسی چڑیل ہے جو دکھنے میں تو عجیب نہیں لیکن اس کے کام بہت عجیب ہیں۔۔۔ جیسے کہ خود ہی گر کے دوسروں پر الزام لگانا اور پھر اپنی بھیانک آواز اور ڈراؤنی شکل بنا کے دوسروں کو ڈرانا وغیر۔” عیسٰی نے بڑی سنجیدگی سے ہاتھوں کے اشاروں سے بات شروع کی اور آخر پہ نائکا کی شکل دیکھتے ہوئے سمیرا اور خود عیسٰی بھی قہقہے لگانے لگے۔ وہ صرف نائکا کے نام کا مذاق اڑا رہا تھا۔ نائکا کا دل کیا ان دونوں کا سر پھاڑ دے۔
” باڑ میں جاؤ دونوں۔” نائکا پاؤں پٹختے ہوئے ہاسٹل کی طرف چل پڑی۔ سمیرا بھی اس کو آوازیں دیتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی۔ عیسٰی ان دونوں کو جاتے ہوئے دور تک دیکھتا رہا پھر اپنے دوستوں کی طرف بھاگا۔ کچھ ہی دیر بعد عیسٰی کے سر میں شدید درد ہونے لگا اور وہ لوگ آرام کرنے ہوٹل چلے گئے۔
______________
” اس بیچارے نے تو بس مذاق کیا تھا اور تم ہو کہ سیریس ہی ہو گئی۔” ہاسٹل پہنچتے ہی دونوں پھر سے الجھ پڑیں۔
” مذاق کرنے اور اڑانے میں بہت فرق ہوتا ہے اور وہ میرا مذاق اڑا رہا تھا۔ تم بھی اس کے ساتھ مل کے میرا مذاق اڑا رہی تھی۔” نائکا کمرے میں غصے میں چکر لگاتے ہوئے بولی۔ جبکہ سمیرا پر اطمینان سے بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی۔
” اوہو۔۔۔ اب بس بھی کر دو اب کیا فائدہ یہ سب کہنے کا۔۔۔ اچھا سوری آئندہ ایسا نہیں کروں گی پرامس۔۔۔ لیکن جو بھی ہے لڑکا تھا بڑا ہینڈسم۔” سمیرا ہاتھ ٹھوری کے نیچے رکھ کر مسکرائی۔
” کہاں سے؟” نائکا نے طنزیہ کہا۔
” آنکھوں سے۔ اف میں نے تو آج تک اتنی پیاری آنکھیں نہیں دیکھی۔ تم بھی اسی لئے اسے دیکھے جا رہی تھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اتنے قریب سے۔” سمیرا کہتے ہوئے وہیں نیم دراز ہو گئ۔ سمیرا اسے تنگ کر رہی تھی لیکن نائکا ابھی مذاق کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس نے بیڈ سے تکیہ اٹھایا اور زور سے سمیرا کے منہ پہ دے مارا۔
اس رات وہ بائبل بھی نہ پڑھ سکی۔ ایک تو وہ بہت تھک چکی تھی اور اوپر سے اس کا موڈ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد سمیرا لائٹ آف کر کے سو گئی لیکن نائکا کو نیند نہیں آئی۔ اس کے دماغ میں آج کا دن صبح سے شام تک ایک فلم کی طرح چل رہا تھا اور آخر پہ فلم عیسٰی کی آنکھوں پہ آ کر رکی۔ نائکا سمیرا کے سامنے اس چیز کا اعتراف نہ کر سکی لیکن اس کی آنکھوں کی کوئی تعریف نہ کرے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ نائکا کو بھی اس کی آنکھوں نے گھورنے پہ مجبور کیا تھا۔ وہ اس کی آنکھوں کو تصور میں لاتے ہوئے نیند کی وادی میں چلی گئی۔
________________
معیز صاحب رات بارہ بجے تک عیسٰی کو کال کرتے رہے تھے مگر فون مسلسل بند جا رہا تھا۔ چہرے پر پریشانی کے تاثر نمایاں تھے۔ پریشانی تو زینب بیگم کے چہرے پر بھی جھلک رہی تھی مگر اپنے مجازی خدا کو پریشان دیکھنا اس کے لئے بہت مشکل تھا ایک یہی تو تھا اس کا سب کچھ۔۔۔ ہاں سب کچھ۔
” پلیز آپ پریشان نہ ہوں وہ لوگ کل تک آ جائیں گے۔۔۔” زینب بیگم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا۔
” ایسے کیسے پریشان نہ ہوں اس نے کہا تھا وہ شام کو واپس آ جائے گا۔۔۔ اب تک تو آ جانا چاہیے تھا۔ میرے لئے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس کا نمبر کیوں بند جا رہا ہے بےشک کل آ جائے مگر ایک بار بات تو کر لیتا تاکہ ہمیں بھی اطمینان رہتا۔” معیز صاحب پریشانی کے عالم میں بولے۔
” کل سنڈے ہے ہو سکتا اس وجہ سے رک گئے ہوں۔۔۔ اور اب تک تو ویسے بھی وہ سو چکا ہوگا۔۔۔ یا ہو سکتا ہے اس کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی ہو۔” زینب بیگم کسی نہ کسی طرح ان کو بہلاتی رہیں۔
” میری ایک بات لکھ کے رکھ لو، میں جب بھی مروں گا صرف اور صرف اس لڑکے کی وجہ سے مروں گا۔” معیز صاحب پریشانی اور غصے کے ملتے جلتے تاثرات لئے آنکھوں پہ بازو رکھے بیڈ پہ نیم دراز ہو گۓ۔ دونوں ساری رات سکون سے سو نہیں سکے۔ آخر عیسٰی میں ان کی جان تھی تو جان پہ بننا تو بنتا ہی تھا۔ دوسری طرف محمد عیسٰی علی دنیا جہاں کی فکروں سے بے خبر گھوڑے بھیج کے سکون سے سوتا رہا۔
____________________
آج اتوار کا دن تھا۔ جیسے ہر مذہب کیلئے ہفتے میں کوئی ایک دن عبادت کے لئے بہت خاص ہوتا ہے ویسے ہی سمیرا کیلئے جمعہ کا دن اور نائکا کے لئے اتوار کا دن خاص تھا۔ نائکا ہر اتوار بڑے مہذب طریقے سے سر پہ سکارف لپیٹتی اور تقریباً گیارہ بجے تک وہ چرچ پہنچ جاتی۔ وہ چاہے ہاسٹل ہوتی یا اپنے گھر اتوار کی روٹین میں کوئی ردوبدل نہ کرتی۔ اور آج بھی اس نے ایسا ہی کیا۔
عیسٰی اور اس کے دوست ناشتے کے بعد آج پھر گھومنے پھرنے کے لئے نکلے تھے مگر افسوس وہ لوگ آج کچھ بھی نہیں کر سکے۔ عیسٰی کے سر کا درد بڑھتا ہی جا رہا تھا جو کہ اس کے لئے ناقابل برداشت تھا اس کی حالت مزید خراب ہو رہی تھی سو انہیں واپس گھر لوٹنا پڑا۔ عیسٰی کی خوش قسمتی کہ جب وہ گھر پہنچا تب معیز صاحب گھر پہ موجود نہیں تھے۔ زینب بیگم لاؤنج میں کھڑی ملازمہ کو ہدایات دے رہی تھیں۔ عیسٰی نے زینب کو سلام کیا اور فوراً اپنے کمرے کی طرف یہ کہتے ہوئے بھاگا کہ وہ بہت تھک چکا کچھ دیر آرام کرے گا کوئی تنگ نہ کرے۔ زینب بیگم اسے جاتے ہوئے دیکھتی ہی رہ گئی پھر یہ سوچ کے سر جھٹک دیا کہ شاید واقعی میں بہت تھک چکا ہے۔ اگر طبیعت خراب ہوتی تو ضرور بتاتا۔ لیکن عیسٰی کی کل کی کھائی نیند کی گولی ابھی تک اپنا اثر دکھا رہی تھی صبح بھی فجر کے وقت اٹھنا لازمی تھا اور ظہر سے پہلے نہ سونا بھی اس نے خود پر لازم و ملزوم کر رکھا تھا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو رات کے بارہ بج چکے تھے اس کا سر زینب بیگم کی گود میں تھا جو مسلسل رونے کے ساتھ ساتھ اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھیں۔ اس کا پورا بدن جیسے آگ میں تپ رہا تھا۔ معیز صاحب بیڈ کی پائنتی پہ بیٹھے کبھی عیسٰی کی جانب دیکھتے تو کبھی گھڑی کی جانب۔ دوسری طرف معاذ بھی پریشان سا بیٹھا اپنے بڑے بھائی کو ہی دیکھ رہا تھا۔ سب کی آنکھ کھلنے کے انتظار میں تھے کہ کب وہ اٹھے اور اسے دوا دی جائے۔ عیسٰی نے اٹھنا چاہا لیکن جسم درد سے بھرا پڑا تھا جیسے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی اس کے منہ سے کراہ نکلی اور وہ پھر سے سر گود میں رکھے نیم دراز ہو گیا۔ زینب بیگم نے بڑی مشکل سے اسے دوا دی۔ بخار کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ معاذ اب سونے کے لئے جا چکا تھا مگر زینب بیگم اور معیز صاحب کو کہاں نیند آنی تھی۔ تین گھنٹے بعد بھی اس کے بخار میں کمی نہیں آئی۔ معیز صاحب کل رات کا غصہ بھول چکے تھے اس وقت انہیں عیسٰی پہ صرف پیار آ رہا تھا۔
” پتہ نہیں کس کی اتنی بری نظر لگ گئ ہے میرے بچے کو۔” زینب بیگم نے عیسٰی کے بال سہلاتے ہوئے بےچینی سے کہا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے یہ سب تمہارا وہم ہے۔ سب ماؤں کو ایسا ہی لگتا ہے کہ ان کے بچوں کو کسی کی نظر لگ گئ ہے جس وجہ سے بچے بیمار پڑتے ہیں۔ بس تھکاوٹ کی وجہ سے بخار ہے کل تک ٹھیک ہو جائے گا۔” معیز صاحب نے زینب بیگم کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ کر انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔ جیسے کل رات زینب بیگم نے انہیں دی تھی۔
” آپ کو تو ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے۔ اگر اس نے ٹھیک ہونا ہوتا تو ڈاکٹر کی دوا کا کچھ تو اثر ہوتا۔۔۔ صبح ہوتے ہی آپ حافظ عبداللہ کو بلا لائیں بس۔” زینب بیگم نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
حافظ عبداللہ اسلام آباد کی ایک اعلٰی یونیورسٹی میں اسلامک لیکچرر تھے وہ ہر ہفتے لاہور کا چکر ضرور لگاتے ۔ ان کی معیز صاحب سے بہت پرانی اور گہری دوستی تھی مگر معیز صاحب کے لاکھ اصرار پر بھی حافظ عبداللہ مسجد میں قیام فرماتے۔ وہ لاہور خاص عیسٰی سے ملنے کے لئے آتے تھے۔ عیسٰی نے قرآن دینی تعلیم انہی سے حاصل کی تھی۔ عیسٰی کی پیدائش کے وقت اس کے کان میں اذان بھی انہوں نے ہی دی تھی۔ قرآن سیکھنے کی غرض سے عیسٰی تقریباً دو سال حافظ عبداللہ کے ساتھ رہا تھا پھر کسی وجہ سے معیز صاحب کو لاہور شفٹ ہونا پڑا۔ معاذ بھی انہی سے قرآن پڑھا تھا لیکن جو محبت ان کو عیسٰی سے تھی وہ اور کسی سے نہیں ہو سکی۔ عیسٰی بھی معیز صاحب سے زیادہ حافظ عبداللہ کی مانتا تھا۔
فجر کی اذان ہوتے ہی معیز صاحب نماز ادا کرنے کے لئے نکل گئے اور زینب بیگم بھی نماز کے لئے وضو کرنے لگیں۔ وہ ہر نماز کے بعد عیسٰی پہ کچھ نہ کچھ پڑھ کر ضرور پھونکتیں۔ واپسی پہ معیز صاحب حافظ عبداللہ کو ساتھ ہی لے آئے۔ وہ عیسٰی کو دیکھتے ہی بھانپ گئے تھے کہ اسے کتنی بری نظر لگی ہے۔حافظ عبداللہ نے قرآن کی چند آیات سے عیسٰی کی نظر اتاری۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا اسے اکثر کسی نہ کسی کی نظر لگ جاتی تھی مگر آج جیسی نظر تو پہلے کبھی نہیں لگی بہت شدت تھی اس میں۔۔۔ شاید نائکا سلیمان کی ہی نظر لگ گئ تھی بیچارے کو۔
” میں نے کہا تھا نا اسے نظر ہی لگی ہے مگر آپ کو تو یہ معمولی سا بخار لگ رہا تھا۔” زینب بیگم نے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے کہا۔
”معیز صاحب نظر کا لگنا بر حق ہے۔ اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرتی ہے تو وہ صرف نظر ہے۔ نظر انسان کو قبر تک لے جا سکتی ہے اس سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے اس لئے نظر اتارتے رہنا چاہیے۔” حافظ عبداللہ نے معیز صاحب کی بے پرواہی دیکھتے ہوئے صحابہ کرام کا ایک واقعہ سنایا اور چند احادیث سے ثابت کیا کہ نظر کا لگنا بر حق ہے۔حافظ عبداللہ زینب بیگم کی بات سن کر معیز صاحب سے مخاطب ہوئے۔
” لیکن اس کا تو کوئی دشمن بھی نہیں جو اس سے حسد کرے۔” معیز صاحب نے نظر لگنے کی وجہ دریافت کی۔
” ضروری نہیں کہ کوئی حسد ہی کرے تو نظر لگ سکتی ہے۔ ہم خود کے تو دشمن نہیں ہوسکتے نا پھر بھی کئی بار ہمیں خود کی بھی نظر لگ جاتی ہے۔اگر کوئی کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرے اور ماشااللہ نہ کہے تو بھی نظر لگ سکتی ہے اس کے علاوہ کسی کی قسمت پہ رشک کرنے سے بھی نظر لگ سکتی ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔” حافظ عبداللہ نے نظر لگنے کی کچھ وجوہات بتائیں۔
” میں تمہیں نظر اتارنے کا ایک بہت ہی مؤثر عمل بتاتا ہوں اس کو کرنے سے انشاءاللّٰلہ نظر اترتی جائے گی۔ ہفتے میں کم از کم ایک بار یہ عمل کر لینا چاہئے۔
سات مرتبہ اول آخر درود ابراہیم، درمیان میں سات مرتبہ سورۂ فاتحہ، سات مرتبہ آیت الکرسی، سات مرتبہ چار کُل پڑھنے ہیں۔ اس کے لئے نہانے کے ٹب میں پانی بھر کے اس میں اپنے دونوں ہاتھ ڈبو کر یہ سب پڑھنا ہے اور اسی پانی سے غسل کرنا ہے۔” حافظ عبداللہ نے نظر اتارنے کا ایک طریقہ بتایا تاکہ آئندہ وہ لوگ خود بھی اس کی نظر اتار سکیں۔
اس کے بعد حافظ عبداللہ اسلام آباد کے لئے نکل گئے تھے کیونکہ آج ان کو یونیورسٹی جانا تھا۔ کچھ دیر بعد عیسٰی کو بھی ہوش آ چکا تھا آج وہ سارا دن گھر آرام کرتا رہا۔
____________
” اگر تمہیں مجھ سے ذرا سی بھی محبت ہے تو تم کل ہاسٹل نہیں جاؤ گی۔ میں اکیلی شادی کی ساری تیاریاں نہیں کر سکتی۔” ہائیکا اس سے اصرار کر رہی تھی وہ جو اپنا ویک اینڈ گزارنے اسلام آباد آئی تھی صوفے پہ لیٹی موبائل میں مصروف تھی اس کے اصرار پر اُٹھ بیٹھی۔
” تم مجھے ایموشنل بلیک میل کر رہی ہو۔۔۔ اور ویسے بھی تم اکیلی کہاں ہو سب لوگ تو اسلام آباد میں ہیں سب کزنز مل کے کر لیں گے تیاریاں۔۔۔ اور تم اب اس گھر میں صرف چار دن کی مہمان ہو اس لئے تمہیں کوئی کام نہیں کرنے دیا جائے گا میں بھی تین چار دن بعد چٹھیاں لے کر آ جاؤں گی۔” نائکا نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔
” مطلب تم اپنی بہن کی شادی میں مہمان بن کر آؤ گی صرف دو دن کے لئے۔” ہائکا نے بے دلی سے کہا۔ کیونکہ اگلے ہفتے اس کی شادی تھی۔
” چلو تمہاری خاطر تین دن کے لئے آ جاؤں گی۔” نائکا نے اس کی شکل دیکھتے ہوئے مذاق کیا۔
” مجھے لگتا ہے میں اس دنیا کی پہلی ایسی لڑکی ہوں گی جو اپنی شادی کی ساری تیاریاں اکیلی کرے گی۔۔۔ اگر آج امی ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا نا۔۔۔” دونوں افسردہ ہو گیئں۔ کچھ لمحے بعد ہائکا نے کچھ یاد آنے کے انداز میں اس خاموشی کو توڑتے ہوئے اپنے لب کھولے۔
” ارے فون سے یاد آیا ابو بتا رہے تھے کہ کراچی سے فون آیا تھا۔۔۔ میں باتوں باتوں میں تمہیں بتانا ہی بھول گئ۔ کل کل مارگریٹ اور سٹِفنَس بھی آ رہے ہیں اپنی نا نو کے ساتھ۔ ” نائکا کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر اچانک اسے یاد آیا۔
” واٹ۔۔۔ پاگل۔۔۔ یہ خوشی کی بات تمہیں مجھے آتے ہی بتانی چاہیے تھی تاکہ میں تمہیں اسی وقت بتا دیتی کہ میں کل ہاسٹل نہیں جاؤں گی۔۔۔ آتے ہی ایموشنل بلیک میل کرنے لگ گئ بس۔” نائکا یہ بات سنتے ہی اچھلی، حیرت سے اس کی آنکھیں باہر کو آ رہی تھیں اسے اپنی سماعت پہ یقین نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن یہ سچ تھا۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس بات پہ خوشی کے مارے ہنسے یا روۓ۔ ان کے جانے کے بعد یہ پہلا دن تھا جب نائکا ان کو یاد کر کے دل سے مسکرائی تھی ورنہ ہمیشہ ان کو یاد کر کے آنسو ہی بہاتی۔
__________________
رات گیارہ بجے عیسٰی پانی لینے کیچن کی طرف جا رہا تھا ابھی وہ لاؤنج تک ہی پہنچا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک عجیب سی آواز گونجی۔ وہ بےساختہ وہیں رک گیا۔ اس نے پانی کا خالی جگ میز پرکھ کر دائیں جانب گردن پھیری جس زینب بیگم اور معیز صاحب کا کمرہ تھا وہ ڈرتے ہوئے ان کے کمرے کی جانب بڑھا جہاں کوئی سِسک رہا تھا۔ وہ آواز زینب بیگم کی تھی جو سِسکتے ہوئے کچھ بول رہی تھیں۔ عیسٰی نے قریب جا کر کچھ سننے کی کوشش کی لیکن وہ ذیادہ سمجھ نہیں سکا۔
”کس رشتے سے وہاں جاؤں گی۔۔۔ میرا اب ان لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں رہا میں اب ان کے خاندان سے نہیں ہوں۔” زینب بیگم سر جھکائے رو رہی تھیں۔ معیز صاحب انھیں چپ کرا رہے تھے مگر آنسو بے اختیار بہتے جا رہے تھے۔ عیسٰی بس اتنا ہی سن پایا تھا۔ وہ بے بسی کے عالم میں لاؤنج سے باہر چلا گیا۔ وہ بے خیالی سے سومنگ پُل کے قریب جا بیٹھا۔ چاند کا عکس پانی میں نمایاں دِکھ رہا تھا جسے عیسٰی بنا پلک جھپکے دیکھتا رہا لیکن اس کا ذہن کہیں اور ہی تھا۔
” آخر ماما کے گھر والے کہاں ہیں؟ ماما کیوں کبھی ان سے ملنے کے لئے نہیں گئیں؟ کیا ان کا کوئی جھگڑا ہوا ہے؟ ماما نے کیوں کبھی اپنے گھر والوں کا ذکر نہیں کیا؟۔۔۔ لیکن مجھے تو پاپا کے گھر والوں کا بھی کچھ نہیں پتہ۔۔۔ یہ سب کیوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ جیسے ہماری فیملی ہے ویسے ہی ان کی بھی ہونی چاہئیں نا۔۔۔ سب کے کزنز ہوتے ہیں بس میرا ہی کوئی کزن نہیں۔۔۔ کیا ہمارا اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے؟ ” ایک ہی لمحے میں بہت سے سوالات اس کے ذہن میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن وہ کبھی بھی اپنی وجہ سے زینب کو رلانا نہیں چاہتا تھا اسی لئے اس نے کبھی اس بات کا تذکرہ ان کے سامنے نہیں کیا۔ کچھ دیر بعد جب ٹھنڈ محسوس ہونے لگی تو وہ اٹھ کر اندر چلا گیا۔ اس نے ایک نظر زینب بیگم کے کمرے پہ ڈالی اور پانی لئے بغیر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
_______________
انتظار آدھی موت ہے لیکن نائکا کو آج یہ انتظار پوری موت لگ رہا تھا۔ وہ بار بار سامنے لگے وال کلاک کو دیکھتی۔ ان کے بتاۓ گئے وقت کے مطابق تو اب تک ان لوگوں کو آ جانا چاہیے تھا مگر وہ نہیں آئے۔ وہ جس قدر آج بے چین تھی اتنی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ آخر پورے دس منٹ بعد ان کی گاڑی پورچ میں آ رکی۔ نائکا کی دھڑکنیں معمول سے زیادہ تیزی سے دھڑک رہی تھیں۔ اتنی ہی تیزی سے وہ باہر کو بھاگی تھی۔ سٹِفنَس ابھی گاڑی سے نکلا ہی تھا کہ نائکا اسے پکارتی ہوئی اس کے گلے جا لگی۔ دوسری طرف سے مارگریٹ بھی گاڑی سے نکل ہی رہی تھی۔
” تم نائکا ہو؟ ” سٹِفنَس نے قدرے حیرت سے اسے خود سے الگ کرتے پوچھا۔ نائکا کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی۔ اسے سٹِفنَس سے اس سوال کی قطعی توقع نہیں تھی۔ ابھی تو نائکا نے خوشی کے مارے ان سے مل کے رونا تھا مگر یہ کیا نائکا تو خوشی بھول ہی گئی تھی اس کی آنکھوں میں اب دکھ کی وجہ سے آنسوؤں کا ریلا اترا تھا۔
” ت تم سٹِفنَس ہو نا؟ م مجھے کیسے بھول گئے؟ ” آنسو نائکا کے حلق میں اٹک کے رہ گئے تھے۔ مارگریٹ خاموشی ان کو دیکھ رہی تھی اسے ابھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اور ان کی نانو تو ساتھ آئیں ہی نہیں۔
” میں نے کب کہا میں تمہیں بھول چکا ہوں۔۔۔ میں تو بس پوچھ رہا تھا کیونکہ جس نائکا کو میں چھوڑ کے گیا تھا وہ تو اتنی پیاری نہیں تھی اب بندہ دھوکا بھی تو کھا سکتا ہے۔” سٹِفنَس نے ڈارک گلاسیز اتارتے ہوئے کہا۔ نائکا نے منہ بسورتے ہوئے ایک مُکا اس کے سینے پہ رسید کیا۔ اور مارگریٹ کی جانب بڑھی۔
” مارگریٹ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ کتنی بڑی ہو گئی ہو۔ ” نائکا اس کے گلے لگی۔ آج وہ بہت خوش تھی۔
” میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟” مارگریٹ نے بے جان سی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا جسے نائکا محسوس نہیں کر سکی۔ نائکا ان دونوں کو اندر لیکر گئی۔ سلیمان صاحب ابھی آفس سے نہیں آئے تھے اور ہائکا کیچن میں ملازمہ کے ساتھ مل کر کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ جو نائکا کی کھلتی آواز سن کر باہر آئی۔ سٹِفنَس ایک قدآور وجیہہ شخصیت کا مالک تھا۔
