Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 25)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

تمہیں پتہ ہے معیز اتنی دیر تک مسجد میں کیا کرتا رہا ہے۔۔۔ وہ پچھلے دو گھنٹے سے شکرانے کے نفل ادا کر رہا تھا۔” حافظ عبداللہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنا رخ اس کی جانب کرتے بولے۔

” کیوں۔۔۔ میرا بھائی چلا گیا اس لئے۔” وہ طنزیہ لہجے میں جیسے تپ کر بولا آنسو ابھی بھی ایک ایک کر کے بہہ رہے تھے۔

” اس لیئے کیونکہ ان کا بڑا بیٹا ان کے پاس ہے وہ جانتا ہے کہ معاذ اب کبھی بھی واپس نہیں آ سکتا لیکن جو پاس ہے اس کے عمر بھر کے ساتھ کے لئے تو دعا اور اللّٰلہ کا شکر ادا کر سکتا ہے اس نے ہر آزمائش میں صبر کیا اور یہ بھی ایک آزمائش ہے اللّٰلہ بے صبروں کو پسند نہیں فرماتا۔” حافظ عبداللہ بھی اسے صرف تسلی ہی دے سکتے تھے۔

” میں پاپا جیسا کبھی نہیں بن سکتا۔”

” اگر تم کوشش کرو تو بن سکتے ہو اور رونے سے یا اللّٰلہ سے شکوہ شکایت کرنے سے کسی سے محبت کا اظہار نہیں ہوتا اگر معاذ سے اتنی ہی محبت ہے تو اس کے لئے دعا کرو کچھ ایسا کرو جس سے اس کی آخرت سنورے، کچھ ایسا کرو جس سے اس کی روح کو تسکین پہنچے تمہاری ایسی حالت سے اسے بہت تکلیف ہو گی۔۔۔۔” حافظ عبداللہ نے اس کے آنسو صاف کئے۔

” دیکھو بیٹا اس دنیا میں ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور چکھا ہمیشہ ذائقہ جاتا ہے جو ہمیشہ کے لیئے نہیں ہوتا صرف تھوڑے سے عرصے کے لئے ہوتا ہے موت بھی کچھ ایسے ہی ہے مرنے کے بعد سب کو ایک بار پھر سے زندہ ہونا ہے تم بھی یہی سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور اپنے ماں باپ کی حالت پہ ترس کھاؤ ان کو حوصلہ دو اور شکر کرو تم اکیلے نہیں ہو ورنہ جو ایک کو چھین سکتا ہے وہ باقیوں کو بھی چھین سکتا ہے۔” حافظ عبداللہ نے اس کا سر چوما اور زینب بیگم کے کمرے میں چھوڑ کر خود گھر چلے گئے۔ زینب بیگم ابھی بھی سو رہی تھیں اور معیز صاحب صوفے پہ ٹیک لگاۓ بیٹھے تھے رونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں بھی سوج چکی تھیں عیسٰی ان کی گود میں بہت مضبوط دل سے سر رکھ کر لیٹ گیا۔ معیز صاحب نے اس کی پیشانی چومی اور خاموشی سے اس کے بال سہلاتے رہے کچھ دیر بعد وہ اپنی آنسوؤں سے بوجھل آنکھیں لئے کب نیند کی وادی میں چلا گیا اسے خود بھی پتہ نہ چلا۔

ایک ایک کر کے سب تعزیت کے لئے آتے رہے تھے اور سٹِفنَس تو ہر روز اس کی خیریت معلوم کرنے آتا جاتا رہتا تھا۔ عیسٰی ایک ہفتے سے گھر میں بند تھا جتنے دن عیسٰی یونیورسٹی نہیں گیا وہ تینوں بھی یونی نہیں گئے۔ عیسٰی کے لاکھ اصرار پر بھی سٹِفنَس نے اسے اکیلا نہیں چھوڑا یہاں تک مارگریٹ کی طبیعت بھی دن بدن بگڑ رہی تھی پھر بھی وہ اسے نائکا کے حوالے کر کے خود عیسٰی کو دیکھتا رہا۔ ظاہر ہے جب سب کی زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی تو وہ کیسے ایک دوسرے کو تکلیف میں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔

” مارگریٹ دیکھو تم سے ملنے کون آیا ہے۔” نائکا اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے بڑے پیار سے اسے اٹھا رہی تھی۔ نائکا کی آنکھوں کی چمک مارگریٹ کو بتا رہی تھی کہ کون آیا ہو گا نائکا بھی جانتی تھی کہ مارگریٹ عیسٰی کی کمپنی میں بہت خوش رہتی ہے۔۔۔ محمد عیسٰی علی۔۔۔ مارگریٹ نے زیرِ لب اس نام کو پکارا جس کا ورد وہ دن رات کرتی رہتی تھی۔ عیسٰی اور سٹِفنَس ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ ابھی وہ دو قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ مارگریٹ کا پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا اس کے لئے جیسے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔

” السلام علیکم مارگریٹ۔۔۔ طبیعت کیسی ہے اب؟ ” وہ اس کے بلکل سامنے پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا۔ سٹِفنَس بھی بیڈ پہ رخ مارگریٹ کی جانب کئے بیٹھ گیا۔

” میں مارگریٹ نہیں ہوں۔” وہ لاشعوری طور پر بول رہی تھی۔ عیسٰی اور سٹِفنَس ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔

” سٹِفنَس مجھے لگتا ہے تمہیں اسے اسپتال لے جانا چاہیے اس کی طبیعت بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔” عیسٰی کو لگا طبیعت ذیادہ خراب ہو جانے کی وجہ سے اس کا ذہنی توازن بگڑ رہا ہے۔

” مارگریٹ اٹھو۔۔۔” سٹِفنَس کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ مارگریٹ نے ایک زور دار جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کیا۔

” میں نے کہا نا میں مارگریٹ نہیں ہوں نہیں ہوں نہیں ہوں۔۔۔ تم لوگوں کو کیوں میری سمجھ نہیں آتی۔ خدا کے لئے اکیلا چھوڑ دو مجھے ورنہ میں اپنی جان لے لوں گی۔” وہ زور سے چلائی اس کی سانس پھول رہی تھی آنسو بے اختیار بہہ رہے تھے۔ عیسٰی نے فوراً سٹِفنَس کا ہاتھ پکڑا اور اسے باہر لے گیا۔ نائکا اس کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی پھر سے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ دونوں لاؤنج میں پریشان کن حالت میں چپ چاپ بیٹھ گئے۔ سٹِفنَس کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے مارگریٹ واقعی میں مارگریٹ نہیں تھی وہ کوئی اور ہی لگ رہی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد نائکا اس کے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آئی جہاں وہ دونوں بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے۔

” کیا ہوا۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا ؟ ” سٹِفنَس جلدی سے اٹھ کر اسے پوچھنے لگا۔

” ہاں۔۔۔ بس کچھ دیر اکیلی رہنا چاہتی ہے۔” وہ گال پہ آتا ایک آنسو صاف کرتی ہوئی بولی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

” سٹِفنَس پلیز تم پریشان مت ہو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ اب میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا۔ خدا حافظ۔” عیسٰی نے اسے گلے لگایا اور اس کا کندھا تھپکتا وہاں سے چلا گیا۔ سٹِفنَس پھر سے صوفے پر بیٹھ کر نم آنکھوں سے مارگریٹ کے رویے کے بارے میں سوچنے لگا۔

_____________

آج دو ہفتے بعد وہ سب پھر سے ایک ساتھ یونی اکٹھے ہوئے تھے۔ سب بہت خوش تھے کہ مارگریٹ اور عیسٰی کم ازکم یونی جانے کے قابل تو ہوئے۔

”تمہاری آنکھوں کے گرد حلقے بتا رہے ہیں کہ تم کل رات بھی سوئے نہیں۔” سٹِفنَس قدرے خفگی سے اسے گھور رہا تھا کیونکہ وہ ہر روز رات کو سونے سے پہلے اسے بھی سونے کا کہتا تھا۔

” بہت کوشش کرتا ہوں مگر معاذ کے بغیر نیند ہی نہیں آتی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے اس کی اتنی عادت ہو جائے گی کہ میرے لئے جینا ہی مشکل ہو جائے گا۔۔۔ ہر روز رات کو سونے سے پہلے وہ مجھ سے بہت سی باتیں کیا کرتا تھا اس کا دل کرتا تھا کہ میں ساری ساری رات اسی سے باتیں کرتا رہوں مگر میں نے کبھی اس کی باتوں پہ غور ہی نہیں کیا۔ اب مجھے اس کی باتیں یاد آتی ہیں۔ بہت یاد آتی ہیں۔” عیسٰی کی آنکھوں میں آنسو جھلک پڑے۔

” ہاں صرف یادیں ہی تو رہ جاتی ہیں۔۔۔ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندہ ہوتے ہوئے بھی ہم سے اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ ان کا ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جاتا ہے لیکن ہم پھر بھی اس انسان کے لوٹ آنے کا انتظار پوری زندگی کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ انسان زندہ ہے تمہیں کم ازکم اس بات کا تو یقین ہے کہ معاذ اب کبھی بھی واپس نہیں آ سکتا تمہیں اس کا انتظار تو نہیں کرنا پڑے گا۔ معاذ کا ساتھ تم لوگوں کی قسمت میں بس یہیں تک تھا اسی لئے وہ چلا گیا۔۔۔ تم جاؤ نماز کے لئے دیر ہو رہی ہے۔” سٹِفنَس نے اس کا کندھا تھپکا اور اس کا رخ مسجد کی طرف کیا۔ عیسٰی بھی اپنی پلکوں کے نم گوشے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتا مسجد کی طرف چلا گیا۔ سٹِفنَس وہیں کھڑا کچھ فاصلے پہ کھڑی نائکا کو بہت حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ اب تو عیسٰی کے چہرے میں بھی اسے نائکا ہی دکھائی دینے لگی تھی اور یہی حال مارگریٹ کا تھا جسے نائکا میں عیسٰی کی جھلک دکھائی دینے لگی تھی۔ یہی تو محبت ہے کہ محبوب کے محبوب سے بھی محبت کی جائے۔

آج ہادی بھی بہت خوش تھا اتنے دنوں بعد مارگریٹ کا چہرہ دیکھنا جو نصیب ہوا تھا۔ بیمار رہنے کے باوجود بھی اس کا چہرہ بہت پرکشش دکھائی دے رہا تھا۔ ہادی پرانی ساری باتیں بھول چکا تھا وہ پھر سے پہلے جیسا رویہ اختیار کئے ہوئے تھا۔ مارگریٹ بھی اپنے مس بی ہیو کے لئے سوری بول چکی تھی۔

______________

معمول کے مطابق آج بھی سٹِفنَس رات کو سونے سے پہلے مارگریٹ کے کمرے میں موجود تھا۔ کمرے میں پڑے گٹار پہ مٹی کی تہہ ایسے جمی تھی جیسے صدیوں سے کسی نے اسے ہاتھ بھی نہ لگایا ہو۔

” لگتا ہے گٹار ہے سے آج کل کوئی ناراضگی چل رہی ہے۔” سٹِفنَس نے گٹار دیوار کے ساتھ ٹکایا۔

”بھائی آپ سے ایک بات پوچھوں؟ ” مارگریٹ بیڈ کی کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی۔

” ہاں پوچھو۔” سٹِفنَس اس کے سرہانے بیٹھ گیا۔

” بھائی اس دنیا میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟” وہ سر جھکاۓ ہاتھوں کی انگلیاں مڑورتی ہوئی بولی۔

” بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔ اس دنیا میں مجھے تم سے عزیز بھی کوئی ہو سکتا ہے۔” سٹِفنَس نے اس کی پیشانی چومی۔

” ہاں آپ واقعی میں مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں جبھی تو مجھے تکلیف میں دیکھ کر آپ رونے لگ جاتے ہو۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے لیکن بھائی مرنے کے بعد آپ میری تکلیفیں ک۔۔۔ ” ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ سٹِفنَس غصے میں پھٹ پڑا۔

” تم سے کتنی دفعہ بولا ہے کہ میرے سامنے یہ مرنے کی باتیں نہ کیا کرو مگر تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔۔ جاؤ میں تم سے بات ہی نہیں کرتا۔” وہ غصے میں بولتا کمرے سے باہر نکلا۔

” بھائی پلیز میری بات تو سنیں۔” وہ پیچھے سے آہستہ سے بولی مگر وہ واپس نہیں آیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ مارگریٹ گھٹنوں پہ سر جھکاۓ کچھ لمحے یونہی بیٹھی رہی۔ سٹِفنَس بھی بیڈ پہ جا کر لیٹ گیا کچھ دیر وہ مارگریٹ کے بارے میں سوچتا رہا پھر اچانک سے عیسٰی کا خیال آیا اسے بھی تو سونے سے پہلے کال کرنی تھی لیکن وہ اپنا موبائل مارگریٹ کے کمرے میں بھول آیا تھا۔

” شٹ یار۔۔۔ اب تو مارگریٹ بھی سو چکی ہو گی۔” وہ یہ سوچتے ہوئے پھر سے مارگریٹ کے کمرے میں گیا دروازہ جیسے وہ کھلا چھوڑ کر گیا تھا ابھی بھی ویسے ہی تھا وہ دروازہ کھٹکھٹاۓ بغیر ہی اندر چلا گیا۔ مارگریٹ بیڈ پہ موجود نہیں تھی وہ کھڑکی کی جانب بڑی سی چادر لپیٹے نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔ سٹِفنَس نے ایک سرسری نظر اس پہ اچھالی اور سائیڈ ٹیبل پر سے موبائل اٹھا کر پھر سے وہیں بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا شاید وہ مارگریٹ سے کوئی بات کرنا چاہتا تھا اسی لئے وہیں پہ اس کا انتظار کرنے لگا مگر وہ کہاں جانتا تھا کہ مارگریٹ اب سونے کے لئے بیڈ پہ نہیں آۓ گی۔

” یہ مارگریٹ بھی نا۔۔۔ یہ بھی کوئی وقت ہے نماز پڑھنے کا۔” وہ سر جھٹک کر پھر سے اسے دیکھنے لگا لیکن اب وہ نماز نہیں بلکہ کچھ اور پڑھ رہی تھی سٹِفنَس اس کی صرف پشت ہی دیکھ رہا تھا۔ اسے لگا اب وہ بائبل پڑھ رہی ہے لیکن وہ تو قرآن پڑھ رہی تھی جسے ایک بار کھول لیتی تھی تو بند کرنے کا دل ہی نہیں کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ ساری ساری رات قرآن پڑھتی رہتی۔

” وہ قوم کیسے ہلاک ہو سکتی ہو جس کے اول میں محمد ہوں اور آخر عیسٰی اور وسط میں میرے اہل بیت میں سے۔” قرآن کی تفسیر میں سے ایک حدیث پڑھتے ہوئے آنسو بے اختیار اس کے گال پہ ٹپک رہے تھے۔ عیسٰی کا نام جس کا ذکر بار بار قرآن میں آتا ہے وہ جب بھی اس نام کو پڑھتی قرآن سینے سے لگا کر سسکنے لگتی آج بھی اس کی سسکیاں سٹِفنَس سن سکتا تھا۔ اس کی سسکیاں کانوں میں گونجتے ہی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ موبائیل بیڈ پہ رکھ کر وہ آہستہ قدموں سے اس کی جانب بڑھا۔ اس کے ہاتھوں میں قرآن اور زمین پہ بچھی جاۓ نماز دیکھ کر وہ اس کے پاس دوزانو ہو کر بیٹھ گیا اور حیرت سے کھلی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔

” ت تم قرآن پڑھ کر رو رہی ہو۔۔۔ تمہیں قرآن پڑھنا آتا ہے؟” سٹِفنَس کے آنسو جیسے حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے اس کے دل میں ایک خوف سا بیٹھ گیا تھا یقینًا وہ اس وقت بہت ڈر چکا تھا کیونکہ مارگریٹ کو ایسی حالت میں دیکھنا اس کے لئے کسی معجزے سے کم نہ تھا۔

” ں نہیں۔۔۔ وہ مجھے نہیں آتا۔۔۔ میں اردو میں پڑھ رہی ہوں۔” مارگریٹ نے قرآن چھوڑا نہیں مگر سٹِفنَس کی آنکھوں میں خوف سا دیکھ کر وہ بھی کچھ ڈر سی گئی تھی۔

” او اور نماز۔” وہ پھر اپنی دبی ہوئی آواز میں بولا۔

” آج پہلی بار پڑھی ہے۔۔۔ بہت عرصے سے سیکھ رہی تھی میری کلاس فیلو سے۔” وہ بتاتے ہوئے نظریں چڑانے لگی۔

” مارگریٹ تم۔۔۔” سٹِفنَس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔

” میں نے آپ کو اس بھی بتانے کی کوشش کی تھی کہ میں اب مارگریٹ ایڈسن نہیں رہی۔۔۔ میں عشال ہوں صرف عشال۔” وہ دو ٹوک کہتی وہاں سے اٹھی اور قرآن اور جائے نماز اٹھا کر مخصوص جگہ پر رکھے۔

” کیوں کیا تم نے ایسا۔” سٹِفنَس بھی وہاں سے اٹھا اور اس کا بازو پیچھے سے کھینچتے ہوئے غصے سے بولا۔ غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔

” نہیں بتا سکتی۔” وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر دانت بھینچتے ہوئے بولی۔

” تمہیں بتانا پڑے گا کہ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ تمہیں اپنا مذہب ہی چھوڑنا پڑ گیا۔” وہ اس کے ہاتھ پہ اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔

” اس کی وجہ نہ تو میں آپ کو سمجھا سکتی ہوں اور نہ ہی کسی اور کو۔۔۔ اور نہ ہی میں کسی کو سمجھانا چاہتی ہوں کیونکہ یہ صرف میرا اور میرے اللّٰلہ کا معاملہ ہے۔” اس کے دل میں اپنے بھائی کی ناراضگی کا ڈر بھی ایک دم سے غائب ہو چکا تھا اب اسے کسی بھی چیز کا کوئی خوف نہیں تھا ایک نہ ایک دن تو اس بات کا انکشاف ہونا ہی تھا۔

” مجھے صرف یہ بتاؤ کہ تمہیں اسلام قبول کروانے والا ہے کون۔” یہ سب اس کی برداشت سے باہر تھا۔

” اللّٰلہ نے۔۔۔ اللّٰلہ نے خود مجھ سے کہا کہ میں قرآن پڑھوں، نماز پڑھوں صرف ان کی عبادت کروں۔۔۔ ایک بار نہیں بار بار کہا پھر میں کیسے خود کو روک سکتی تھی۔۔۔ میں جنت میں بھی جاؤں گی ضرور جاؤں گی وہاں مجھے وہ سب ملے گا جو اس دنیا نہیں مل سکا لیکن جنت میں جانے کے لئے مرنا بھی تو ضروری ہے اب بس مجھے موت کا انتظار ہے صرف موت کا۔” وہ نیچے زمین پہ بیٹھی، پشت بیڈ سے لگائے بول رہی تھی ایک دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پہ نمایاں تھی اور آنسو گردن تک ٹپک رہے تھے۔ وہ اپنے سارے خوابوں کا نچور اسے بتا رہی تھی۔ سٹِفنَس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنی جان لے لے۔

” تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔ میری طرف دیکھو، مجھے بتاؤ ایسا کیا ہے جو اس دنیا میں تمہیں نہیں مل سکتا میں دلاؤں گا تمہیں۔۔۔ تم بس اپنے مذہب میں واپس آ جاؤ پلیز میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔” سٹِفنَس اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر خاندان والوں کو اس بارے میں پتہ چل گیا تو وہ اسے گھر سے نکال دیں گے اور اس سے ہر رشتہ ختم کر دیں گے۔

” بھائی مجھے اس دنیا میں کیا نہیں ملا یہ بات بتانے کی نہیں صرف چھپانے کی ہے۔۔۔ اور آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں مرتد ہو جاؤں اور دین اسلام چھوڑ کر دوزخ کی آگ خود پہ حلال کر لوں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ بھائی آپ ہی تو کہتے ہیں ہمیں صرف وہی کام کرنا چاہیے جس سے ہمیں سکون ملے اور میں بہت سکون میں ہوں مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ جہاں تک بات رہی آپ کی تو مجھے پورا یقین ہے کہ آخری سانس تک آپ میرے ساتھ رہیں گے۔” وہ اس کے ہاتھ نیچے کرتی بولی سٹِفنَس سر جھکاۓ مارگریٹ کے لیئے روۓ جا رہا تھا۔ وہ اپنا ہاتھ چھوڑاتا اٹھا اور دروازہ زور سے بند کر کے نائکا کے کمرے کی طرف بڑھا۔ نائکا کے کمرے کی لائٹ آن تھی وہ بے دھڑک اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ نائکا جاۓ نماز پر بیٹھی اللّٰلہ سے دعا مانگتے میں مصروف تھی کہ سٹِفنَس کے یوں اچانک کمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے وہ چونکی اور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔

” سٹِفنَس یہ کیا طریقہ ہے۔” نائکا اس کی حالت دیکھ کر بھی نظر انداز کرتی قدرے غصے سے بولی۔

” تم بھی ضرور نماز پڑھ رہی ہو گی ہے نا۔” وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔

” میں اعتکاف کر رہی تھی۔۔۔ تمہیں ناک کر کے آنا چاہئے تھا۔” وہ سابقہ لہجے میں بولی۔

” اعتکاف؟” وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

”ہاں اعتکاف۔۔۔ تنہائی میں اللّٰلہ کی عبادت کرنا اس سے مانگنا اس سے بات کرنا اعتکاف ہے اور میں یہ پچھلے دو دن سے کر رہی ہوں اس لیئے تمہیں جو بھی بات کرنی ہے صبح کر لینا ابھی میں مصروف ہوں۔” وہ پھر سے جاۓ نماز کی طرف بڑھی۔

” تم دونوں کیوں ایسا کر رہی ہو۔” سٹِفنَس کی بھرائی ہوئی آواز نائکا کا دل جیسے بند کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سٹِفنَس اسے کتنا چاہتا ہے مگر وہ بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھی وہ عیسٰی کے سوا اور کسی کے بارے میں سوچنے سے بھی گھبرانے لگی تھی۔

” میرے خیال سے تم جانتے ہو کہ میں یہ سب کس لئے کر رہی ہوں۔” وہ پلٹ کر اس کے بلکل سامنے کھڑی ہو گئی۔

” تم یہ سب عیسٰی کے لئے کر رہی ہو اور مارگریٹ۔۔۔ وہ کیوں ایسا کر رہی ہے۔” سٹِفنَس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا اس کے لئے بات کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

” مجھے مارگریٹ نے فورس کیا تھا کہ میں اسلام قبول کر لوں بلکہ اسی نے مجھے کلمہ بھی پڑھایا تھا اور خود اسے فراثیم نے کلمہ پڑھایا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ میں عیسٰی کے لئے یہ سب کر سکتی ہوں لیکن میں یہ نہیں جانتی کہ اس نے اتنی جلد بازی کیوں کی۔ میں نے بہت پوچھا اس سے مگر اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔” نائکا بیڈ کی پائنتی پر بیٹھ کر تفصیل بتانے لگی۔ سٹِفنَس بھی اپنا سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔

” اب وہ چاہتی ہے کہ میں اور عیسٰی نکاح کر لیں تاکہ اگر کل کو کوئی مسلئہ۔۔۔ ” وہ بول ہی رہی تھی کہ سٹِفنَس وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ مزید کچھ بھی سننے کی ہمت اس میں باقی نہیں تھی۔ نائکا اس کی حالت دیکھ کر خود بھی رو پڑی۔ سٹِفنَس اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر مٹھیاں بھینچ گیا۔

” کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا۔۔۔۔ میں نائکا کو کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔” وہ بال نوچتے ہوئے چلایا۔ آج تک نائکا کی وجہ سے سٹِفنَس اور عیسٰی کی دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا مگر آج ان دونوں کے نکاح کی بات سن کر پہلی بار سٹِفنَس کو عیسٰی سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔ مگر چاہ کر بھی وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا اسے اپنی محبت کسی اور کے حوالے کرنی ہی تھی۔

اگلے دن نائکا اور مارگریٹ اکیلی یونیورسٹی گئیں۔ مارگریٹ اسے اٹھانے کے لئے گئی مگر اس نے دروازہ ہی نہیں کھولا۔ وہ دونوں جانتی تھیں کہ وہ ان دونوں سے بہت ناراض ہے۔ یونیورسٹی میں بھی عیسٰی اسے بار بار کالز کرتا رہا مگر سٹِفنَس نے اسے بھی کوئی ریسپونس نہیں دیا۔ مجبوراً اسے نائکا سے پوچھنا پڑا۔

” آج سٹِفنَس کیوں نہیں آیا؟ ” فرسٹ لیکچر سٹارٹ ہونے سے پہلے وہ نائکا سے پوچھنے لگا۔ وہ کلاس روم سے باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ کچھ نوٹس دیکھ رہی تھی۔

” وہ۔۔۔ شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔”

” کیوں کیا ہوا اس کی طبیعت کو؟ ” عیسٰی فکر مندی سے پوچھنے لگا۔

” پتہ نہیں۔۔۔ سو رہا تھا۔ عیسٰی وہ میں نے اپنا نام بدل لیا ہے۔” وہ جھجکتے ہوئے بولی۔

” بہت اچھا کیا۔۔۔۔ کون سا نام سیلیکٹ کیا۔” عیسٰی ہلکا سا مسکرایا۔

” عمل۔” وہ بال کان کے پیچھے کرتی نظریں جھکا کر مسکرائی۔

” عمل۔” عیسٰی نے زیر لب اس نام کو دہرایا۔

”عیسٰی میں نے تمہاری خاطر اسلام قبول کر لیا ہے اور اب میں تم سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔” وہ اپنی ساری طاقت اکٹھی کر کے بڑی ہمت سے بولی۔

”واااٹ۔۔۔۔ آر یو سیریس۔ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔” عیسٰی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *