Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 19)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

پتہ نہیں بھائی شاید بھوک کی وجہ سے چکر آ گئے تھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔” وہ آہستہ سے بولی۔

” تم سے کتنی دفعہ بولا بھی ہے کہ بھوکی نہ رہا کرو بچوں کی طرح زبردستی تمہیں کھانا کھلانا پڑتا ہے۔۔۔تم جانتی بھی ہو کہ میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتا پھر کیوں ایسے تنگ کرتی ہو کسی دن تم میری جان لے لو گی۔” سٹِفنَس کی آنکھیں پھر سے نم ہو گیئں۔ اس نے مارگریٹ کا سر چوما اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔

” بھائی پلیز اب ایسے تو نہ کہیں ایم سوری آئندہ ایسے نہیں کروں گی۔” مارگریٹ اس کے سینے پہ سر رکھے روہانسے لہجے میں بولی۔

” اب زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں۔” سٹِفنَس اپنے آنسو صاف کئے اور اسے بیڈ پہ لیٹا کر کمبل اس کے اوپر دیا۔ وہ آنکھیں بند کئے کچھ ہی دیر بعد سو چکی تھی۔

آج جتنے سکون میں نائکا تھی عیسٰی اس قدر بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ وہ اپنے کہے گئے الفاظ پہ پچھتا رہا تھا اس نے نائکا کو جو امید دلائی تھی اگر وہ اس پہ پورا نہ اترا تو کیا ہو گا۔ اگر عیسٰی کی باتیں اسے سکون دے رہی تھیں تو عیسٰی کی جدائی اسے مار بھی سکتی ہے۔ وہ گھر جانے کے بعد صرف یہی سوچتا رہا کہ وہ اسے خود کیسے تکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے آگے نا جانے کیا ہو گا کیا نہیں۔

____________

اگلے دن مارگریٹ ضد کر کے یونی چلی گئی تھی کیونکہ اب وہ بلکل ٹھیک تھی۔ آج فراثیم دو دن بعد عیسٰی سے مل رہا تھا۔

” بھائی آپ نے اب تک جتنی بھی ریسرچ کی اس کے مطابق آپ نے کیا نتائج اخذ کئے؟” آج پھر اسی بینچ پہ بیٹھے دونوں محو گفتگو تھے۔

” ابھی تک تو میں صرف اتنا ہی جان سکا ہوں کہ اسلام اور عیسائیت میں بہت زیادہ یکسانیت پائی جاتی ہے جیسے نماز ادا کرنا، روزے رکھنا وغیرہ لیکن بہت سی چیزیں مختلف بھی ہیں۔ جیسے نماز اور روزہ رکھنے کا طریقہ۔۔۔ لیکن جو سب سے چیز ہے وہ ہے ایک عقیدے پہ ایمان۔۔۔ مسلمان اللّٰلہ کی وحدانیت پہ ایمان رکھتے ہیں جبکہ عیسائیوں کا ایک فرقہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللّٰلہ کا بیٹا مانتا ہے کیونکہ وہ بنا باپ کے پیدا کئے گئے اور ایک ایسا فرقہ بھی ہے جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللّٰلہ مانتا ہے۔۔۔” فراثیم ابھی بول رہا تھا کہ وہ بیچ میں بول پڑا۔

” تو پھر حضرت آدم علیہ السلام کون ہوئے؟” عیسٰی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

” کیا مطلب؟” فراثیم نے حیرت سے پوچھا۔

” مطلب صاف ہے۔۔۔ میں ذیادہ تو نہیں جانتا نہ ہی میں نے کبھی ان چیزوں پہ ریسرچ کی ہے لیکن آپ کی باتیں سن کر میں صرف یہی کہوں گا کہ جو اللّٰلہ آدم علیہ السلام کو بنا ماں باپ کے پیدا کر سکتا ہے وہ عیسٰی علیہ السلام کو بھی بنا باپ کے پیدا کر سکتا ہے۔” عیسٰی کی بات نے فراثیم کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ فراثیم نے صرف سر ہلانے پہ اکتفا کیا کیونکہ اس بات کا جواب وہ نہیں دے سکتا تھا۔

” عیسٰی تم نے اس دن اپنے ماما پاپا کے بارے میں بتایا کیا تمہاری ماما نے صرف اپنی محبت کی خاطر اسلام قبول کیا تھا یا کوئی اور بھی وجہ ہو سکتی ہے؟” فراثیم نے موضوع بدلا۔

” اور کیا وجہ ہو سکتی ہے یہی وجہ ہو گی یا ہو سکتا ہے کوئی اور وجہ بھی ہو لیکن مجھے بس اتنا ہی پتہ ہے ماما پاپا نے کبھی مجھ سے اس بارے میں بات نہیں کی۔” عیسٰی نے سادگی سے کہا۔

” تو تم اپنے انکل عبداللہ سے پوچھ لینا جنہوں نے تمہیں یہ سب بتایا تھا ان کو تو سب کچھ پتہ ہو گا۔” فراثیم نے سنجیدگی سے کہا۔

”ہممم ٹھیک ہے میں پوچھوں گا۔” عیسٰی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا کسی نے ان کے پیروں پہ زور سے بیگ پٹخا۔ دونوں بیگ کو دیکھ کر چونکے پھر بیگ پٹخنے والے کو۔ مارگریٹ بہت غصے سے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکاۓ عیسٰی کو گھور رہی تھی۔

” مارگریٹ۔۔۔ کیا ہوا؟ اتنے غصے میں کیوں ہو؟” عیسٰی نے اس کا بیگ اٹھایا اور کھڑا ہو کر اسے حیرت سے پوچھنے لگا۔ فراثیم ابھی بھی بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

” تم نے کیا کہا تھا۔۔۔ مجھے بس میسج کر دیا کرو میں خود آ جایا کروں گا تمہیں بھاگنے کی ضرورت نہیں اب بتاؤ کہاں ہے تمہارا فون۔” وہ غصے میں چلائی۔ عیسٰی نے جلدی سے اپنا فون نکالا جس پہ مارگریٹ کے میسجز تھے۔

”سو سوری یار میں نے دیکھا ہی نہیں۔” وہ فون چیک کرتے ہوئے بولا۔

” موبائل تمہارے پاس تھا پھر بھی میرے میسجز نہیں دیکھ سکے۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم جان بوجھ کر مجھے اگنور کرتے ہو تم چاہتے ہو میں ہر وقت تمہارے پیچھے بھاگتی رہوں اور ایک دن ایسے ہی بھاگتے بھاگتے مر جاؤں۔” وہ کہتے ہوئے رو پڑی تھی۔ عیسٰی کے ہاتھ سے بیگ کھینچ کر وہ روتی ہوئی وہاں سے دوڑی۔ عیسٰی اسے آوازیں ہی دیتا رہ گیا مگر وہ رکی نہیں۔

”وہ نہیں آئے گی تمہیں خود ہی جانا پڑے گا اتنی آسانی سے نہیں مانے گی۔” فراثیم نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

” لیکن یہ رو کیوں رہی تھی میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔” عیسٰی ابھی بھی اس کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔

” اس سے پوچھو گے تو پتہ چل جائے گا۔” فراثیم نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ عیسٰی بھی مارگریٹ کے پیچھے چلتا ہوا چرچ کے باہر دروازے کے پاس نیچے بیٹھ گیا جہاں وہ سر گھٹنوں میں چھپائے رو رہی تھی۔

” تم روتی ہوئی بلکل بھی اچھی نہیں لگتی پلیز مت رو ورنہ تمہارا بھائی میری جان لے لے گا۔” وہ معصومیت سے بولا۔ مارگریٹ نے سر اٹھا کر اسے ایک بار پھر سے گھورا۔

” قسم سے میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے واقعی میں تمہارے میسجز نہیں دیکھے تھے۔۔۔ پلیز چپ ہو جاؤ تمہاری طبیعت پہلے سے ٹھیک نہیں ایسے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ روتے نہیں ہیں۔” عیسٰی نے اس کے آنسو صاف کئے۔

”تمہارے لئے چھوٹی بات ہو گی لیکن میرے لئے نہیں۔ تم فراثیم کے ساتھ بیٹھ کر ایسے باتیں کر رہے ہوتے ہو جیسے وہ تمہاری محبوبہ ہو۔” مارگریٹ نے بے رخی سے کہا۔

” ہاہاہا تو میں کیا کروں یار میری مجبوری ہے مجھے ان کو وقت دینا پڑتا ہے ویسے بھی میں ان سے گپیں مارنے کے لیئے تھوڑی ملتا ہوں ان کو میری ضرورت ہوتی ہے اسی لئے ان کے ساتھ ہوتا ہوں۔” عیسٰی اس کی بات پہ ہسا۔

” تو پھر ٹھیک ہے آئندہ مجھے بھی تمہاری ضرورت پڑے گی پھر تمہیں مجھے بھی ٹائم دینا پڑے گا۔” مارگریٹ نے رخ اس کی طرف کیا۔

” کیا مطلب تمہیں میری کیا ضرورت پڑ گئی۔” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔

” وہ میں بعد بتاؤں گی۔۔۔ مطلب تم مجھے بھی وہ سب بتاؤ گے جو تم فراثیم کو بتاتے رہتے ہو۔” مارگریٹ سے اور کوئی بہانا نہ بن پایا تو اس نے یہی بول دیا۔

” اچھا بابا ٹھیک ہے لیکن ابھی اپنا موڈ ٹھیک کرو اور اٹھو یہاں سے چلو تمہارے بھائی کے پاس چلتے ہیں۔” عیسٰی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا اور دونوں وہاں سے چلے گۓ۔ عیسٰی کو آج مارگریٹ کا رویہ بہت عجیب سا لگا تھا بہت بچپنا سا تھا اس کے رویے میں۔ عیسٰی بھی اسے ناداں سمجھ کر نظر انداز کر گیا۔

_________________

عیسٰی نے حافظ عبداللہ کو فراثیم کے بارے میں بتایا تھا جس کے بعد حافظ عبداللہ نے فراثیم کو اسلامک کی کلاسز لینے کا مشورہ دیا جسے اس نے خوش دلی سے قبول کیا تھا۔ عیسٰی نے اسے کچھ چیزوں کے بارے میں بتا دیا تھا کہ تلفظ کی غلط ادائیگی سے پوری آیت کا ترجمہ بدل سکتا ہے جس وجہ سے ہم جانے انجانے میں گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ جیسے مارگریٹ کو ساؤنڈز کے بارے میں بتایا تھا ویسے ہی کچھ ضروری حروف تھے جن کی پہچان کرانا بہت ضروری تھا ان کی پہچان کرا چکا تھا اب قرآن پاک کی ادائیگی سکھانے کی ذمہ داری حافظ عبداللہ اپنے سر لے چکے تھے۔ جبکہ عیسٰی انہیں قرآن کے علاوہ سنت اور احادیث کے بارے میں ساتھ ساتھ بتاتا رہتا تھا۔ لیکچر کے بعد اب حافظ عبداللہ بھی اکثر اوقات ان کے ساتھ ہی مسجد میں چلے جاتے اور فراثیم کو قرآن پاک پڑھنا سکھاتے۔

” انکل آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔” قرآن پڑھنے کے بعد وہ تینوں ابھی مسجد میں بچھی صف پہ بیٹھے تھے جب عیسٰی نے انہیں مخاطب کیا۔

” پوچھو کیا پوچھنا ہے۔” حافظ عبداللہ نے شائستگی سے کہا۔

” وہ آپ نے اس دن مجھے ماما پاپا کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس دن میں معاذ کی وجہ سے کچھ پوچھ نہیں سکا۔۔۔ میں نے یہ پوچھنا تھا کہ کیا ماما نے صرف پاپا سے شادی کرنے کے لئے اسلام قبول کیا تھا یا کوئی اور وجہ بھی تھی۔” عیسٰی نے پوچھتے ہوئے تھوڑی عار محسوس کی کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے یہ بات پوچھنی چاہیے بھی کہ نہیں۔

” تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ ” حافظ عبداللہ نے چشمہ اتارتے ہوئے پوچھا۔

” وہ میں نے اسے کہا تھا شاید اس لئے۔” عیسٰی کی خاموشی پہ فراثیم کو بولنا پڑا۔

” اور انکل پسند کی شادی تو سب کا حق ہے پھر میرے ماما پاپا کو یونیورسٹی سے کیوں نکالا گیا؟” عیسٰی نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔ حافظ عبداللہ ان دونوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔

” میں نے کب کہا تھا کہ ان کو پسند کی شادی کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکالا گیا تھا۔” حافظ عبداللہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

” تو پھر؟” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔ حافظ عبداللہ نے آہ بھری اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں پھر کچھ لمحے بعد آنکھیں کھول کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔

” تم نے صرف اپنی ماں کے بارے میں پوچھا اگر باپ کے بارے میں بھی پوچھتے کہ اس نے کیوں اسلام قبول کیا تو تمہیں اسی ایک سوال کے جواب میں سارے جواب مل جاتے جن کے بارے میں آج تک تم سوچتے آۓ ہو۔” حافظ عبداللہ سر جھکاۓ بول رہے تھے۔

” ک کیا مطلب ؟ ” حیرت کے مارے عیسٰی سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔ فراثیم بھی حیرت سے حافظ عبداللہ کو دیکھ رہا تھا۔

” مطلب یہ کہ تمہاری ماں شادی سے پہلے کرسچن تھی اور تمہارا باپ یہودی۔” حافظ عبداللہ نے ایک نظر عیسٰی پہ ڈالی جس کی حیرت کے مارے آنکھیں باہر آنے کو تھیں۔ فراثیم کو تو یوں لگ رہا تھا جیسے ہسٹری رپیٹ ہو رہی ہو۔

” تو کیا ان لوگوں نے بھی میری طرح کیا تھا؟” فراثیم نے سنجیدگی سے پوچھا۔ حافظ عبداللہ نے سر نفی میں ہلایا۔

” یو۔کے کی جس یونیورسٹی میں زینب اور معیز ایم۔بی۔بی۔ایس کر رہے تھے وہاں ڈگری مکمل ہونے کے بعد ہر ٹاپر سے اس کی ایک خواہش پوچھی جاتی ہے اور سٹوڈنٹ جس بھی خواہش کا اظہار کرے وہ یونیورسٹی کو ہر حال میں پورا کرنا پڑتی ہے۔ معیز نے بھی ٹاپ کیا تھا زینب اور وہ بہت خوش تھے کیونکہ اس کے بعد ان دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ لیکن معیز نے جو خواہش بیان کی وہ یونیورسٹی کے لئے ناقابل قبول تھی معیز چاہتا تھا اسے وہ جگہ دکھائی جائے جہاں ان کے سائنسدان ریسرچ کرتے ہیں۔۔۔ بہت بحث مباحثے کے بعد یونیورسٹی نے فیصلہ کیا کہ اس کی یہ خواہش پوری کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ایک یہودی ہے اگر اس کی جگہ کوئی مسلمان ہوتا تو اسے وہاں لے جانے کی کبھی بھی اجازت نہ دی جاتی۔ معیز کو وہاں لے جانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی یہی سمجھایا گیا تھا کہ وہاں جو بھی دیکھے گا اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاۓ گا لیکن جو چیز وہ دیکھ آیا تھا اس کے بعد وہ خود کو روک نہیں پایا اور سب کو اس بارے میں بتا دیا جس وجہ سے اسے یونیورسٹی سے ہمیشہ کے لیئے نکال دیا گیا اور اس کے ساتھ زینب نے بھی یونیورسٹی چھوڑ دی۔” حافظ عبداللہ کہتے کہتے رکے۔ وہ دونوں بہت غور سے ان کی بات سن رہے تھے۔

” انہوں نے ایسا کیا دیکھا تھا وہاں؟” فراثیم نے پوچھا۔

” اسے جس ایریا میں لے جایا گیا تھا وہ ایک بہت بڑا کمرہ تھا جہاں ہر طرف بہت بڑی بڑی سکرینز تھیں۔ ہر سکرین پہ تین یا چار سائنٹسٹس بیٹھے تھے۔۔۔ اور پتہ ہے ہر ایک سکرین پہ کیا تھا ہر سکرین پہ قرآن پاک کی مختلف آیات تھیں جن کو انگلش میں ٹرانسلیٹ کیا گیا اور سب اس پہ غوروفکر کر رہے تھے اسے سمجھ رہے تھے۔ معیز نے سنا تھا کہ سائنس قرآن سے نکلی ہے مگر اس دن اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھنے کے بعد اس نے اسلام قبول کر لیا اور زینب نے تو ہمیشہ سے اس پہ خود سے زیادہ اعتماد کیا تھا پھر وہ کیسے اسے جھٹلاتی۔” حافظ عبداللہ نے گہری سانس بھری۔ہم مسلمانوں کے لئے اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں جس میں اللّٰلہ نے بار بار غوروفکر کرنے کا کہا ہے لیکن ہم نہیں کرتے اور اسی چیز کا فائدہ غیر مسلم اٹھا رہے ہیں۔ ہم لوگ صرف مذہب کی خاطر لڑ سکتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اور طاقت کے ذریعے ان مذہبی لڑائی جھگڑوں کو ختم نہیں کر سکتے۔ کتنا اچھا ہو اگر سب لوگ مذہب کی وجہ سے لڑنے کی بجائے اپنے اپنے مذہب کے مطابق اصل زندگی گزاریں۔

” تو کیا اس وجہ سے ان کے گھر والے بھی ان سے دور ہیں۔” عیسٰی نے دبی ہوئی آواز میں کہا۔

” ہاں۔۔۔ معیز کے گھر والے تو امریکہ میں مقیم تھے جب ان کو پتہ چلا کہ معیز نے اسلام قبول کر لیا ہے تو اسے گھر جانے سے پہلے ہی روک دیا گیا مگر زینب کو یقین تھا کہ اس کے گھر والے ان کو سمجھیں گے وہ معیز کے ساتھ پاکستان آئی مگر اس کے گھر والوں نے بھی انہیں قبول نہیں کیا۔۔۔ معیز اسے زبردستی اس کے گھر چھوڑ گیا تھا وہ اب اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا کیونکہ زینب نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن زینب نے اپنے گھر والوں سے ہر تعلق توڑ کر اسلام قبول کیا اور معیز سے شادی کر لی۔” حافظ عبداللہ نے تفصیل بتائی۔ فراثیم بہت دلچسپی سے سن رہا تھا اور عیسٰی مٹھیاں بھینچے غصہ ضبط کر رہا تھا جو ناجانے کس پہ آ رہا تھا۔

”کچھ اور پوچھنا چاہتے ہو؟” حافظ عبداللہ نے عیسٰی کو دیکھ کر پوچھا۔ عیسٰی نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا اور سر نفی میں ہلا کر اٹھا۔ فراثیم بھی اسے دیکھ کر کھڑا ہوا اور وہاں سے باہر جانے کے لئے مڑا۔

”لگتا ہے مارگریٹ تمہارا انتظار کر رہی ہے؟” فراثیم نے مسجد کے باہر دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی مارگریٹ کو دیکھ کر کہا۔ عیسٰی اسے یوں دیکھ کر اس کی جانب لپکا۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” عیسٰی نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” وہ میں کچھ نہیں۔” مارگریٹ اس کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی دیکھ کر گر بڑائی۔

” میں چلتا ہوں اللّٰلہ حافظ۔” فراثیم چلا گیا۔

” تو پھر یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ اٹھو یہاں سے۔” عیسٰی نے سابقہ لہجے میں کہا۔ وہ وہاں سے اٹھی اور اس کے ساتھ چلنے لگی۔

” عیسٰی۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟” وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔

” کچھ نہیں۔” وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔

” تو پھر اتنے سیریس موڈ میں کیوں ہو ؟” وہ چلتے چلتے اس کے سامنے دیوار بن کے کھڑی ہو گئی۔

” کبھی کبھی سیریس موڈ میں بھی رہنا چاہیے۔” وہ اسے پیچھے ہٹاتا آگے بڑھا۔

” لیکن تم ایسے اچھے نہیں لگتے۔۔۔ جب سے تم نے فراثیم کے ساتھ رہنا شروع کیا ہے تب سے تم بہت بدل گئے ہو پہلے جیسے بلکل بھی نہیں رہے۔” وہ شکایت بھرے لہجے میں بولی۔

” میری کلاس ہے بعد میں بات کرتے ہیں۔” وہ اس کی بات نظر انداز کرتا لمبے ڈگ بھرتا کلاس روم چلا گیا جہاں سٹِفنَس،نائکا اور سمیرا کرسیوں پہ گول دائرے کی شکل میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

” عیسٰی آج تم نے بہت دیر کر دی میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا یہ دونوں بہت بور کرتی ہیں مجھے۔۔۔ اب ایسے کیوں کھڑے ہو ہمارے ساتھ بیٹھو۔” سٹِفنَس نے ساتھ پڑی کرسی اپنی طرف کھسکائی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

” آج کلاس نہیں ہو گی؟” عیسٰی نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں کلاس آج کی بجائے کل ہو گی۔” سٹِفنَس نے بتایا۔

” لیکن کیوں؟” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔

” کلاس آج ہو یا کل تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے بلکہ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تم یہاں پڑھنے تھوڑی آتے ہو۔” نائکا نے ہنستے ہوئے کہا۔ لیکن وہ اس وقت مذاق کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا۔

” مجھے گھر جانا ہے۔” وہ سر جھٹک کر اٹھا۔

” از ایوری تھنگ اوکے؟ آج اتنی جلدی۔۔۔” سٹِفنَس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔

” ہاں۔۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” عیسٰی نے آہستہ سے کہا۔

” کیا ہوا طبیعت کو؟ کچھ دیر پہلے تو بلکل ٹھیک تھے اب اچانک سے کیا ہو گیا۔۔۔ کہیں کسی سے جھگڑا تو نہیں کر آئے۔” سٹِفنَس کھڑے ہو کر پوچھنے لگا۔

”ہاں اسی لئے تو اتنے سیریس موڈ میں ہے۔” سمیرا بھی فوراً بولی۔

” نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے میرے بس سر میں درد ہے آرام کروں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا پلیز ابھی مجھے گھر جانے دو۔” عیسٰی نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اور سٹِفنَس کو التجائیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

” ٹھیک ہے تم گھر جاؤ لیکن پلیز فون آن رکھنا۔” سٹِفنَس نے اس کا ہاتھ چھوڑا تو وہ ہلکا سا مسکرا دیا اور سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔ سب اسے اتنا سنجیدہ دیکھ کر کچھ پریشان ہو رہے تھے۔

” نائکا تم دونوں کا کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا؟ ” سٹِفنَس نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” نہیں تو۔۔۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو سب کو پتہ ہوتا مگر میں نے اسے کچھ نہیں کہا۔” نائکا نے کندھے اچکاۓ۔

” شاید اسے میرا مذاق کرنا اچھا نہیں لگا۔” نائکا نے آہستہ سے کہا۔

” نہیں ایسا کچھ نہیں ہو سکتا ہے اس کی واقعی میں طبیعت ٹھیک نہ ہو۔” سٹِفنَس نے کہا۔ لیکن نائکا کو ابھی یہی لگ رہا تھا کہ اسے اس کا مذاق کرنا اچھا نہیں لگا۔

گھر پہنچتے ہی زینب بیگم نے اسے بتایا کہ معیز صاحب کچھ دنوں کے لئے امریکہ گئے ہیں اور واپسی کا کوئی پتہ نہیں کب واپس آئیں گے۔ آج بھی سب اسے میسجز کر رہے تھے مگر سٹِفنَس کے علاوہ اس نے اور کسی کو کوئی ریسپونس نہیں دیا۔ آج وہ صرف زینب بیگم سے باتیں کرنا چاہتا تھا کچھ اپنی سنانا چاہتا تھا اور کچھ ان کی سننا چاہتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *