Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 26)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
ہاں یہ سچ ہے میں تمہیں اپنا محرم بنانا چاہتی ہوں۔” آج اس کا شرمیلا پن اسے پہلے سے بھی زیادہ حسین بنا رہا تھا۔ یہ مرد کی خاصیت ہوتی ہے کہ عورت خود اس سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور اگر چاہنے والا محمد عیسٰی علی جیسا ہو تو کون عورت ہو گی جو اسے اپنا محرم بنانے کے لئے خود نہ کہے۔
” کیا سٹِفنَس اور مارگریٹ اس بارے میں جانتا ہے۔” عیسٰی کو اچانک ان دونوں کا خیال آیا۔ نائکا نے ہاں میں سر ہلایا۔ عیسٰی مسکراتے ہوئے وہاں سے تقریباً بھاگا اور اسی وقت گھر گیا۔ گھر میں زینب بیگم اکیلی تھیں معیز صاحب آج پھر سے امریکہ گئے ہوئے تھے۔ عیسٰی نے زینب بیگم کو ساری بات بتائی جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئیں اب انتظار تھا تو صرف معیز صاحب کے واپس آنے کا۔ کچھ دیر بعد وہ سٹِفنَس سے ملنے چلا گیا۔ سلیمان صاحب کے کہنے پر سٹِفنَس نے دروازہ تو کھول دیا تھا مگر وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا۔ عیسٰی تیزی سے چلتا اس کے کمرے میں داخل ہوا سٹِفنَس اوندے بل بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا۔
” سٹِفنَس کیا ہوا تمہیں۔” عیسٰی اسے ایسے دیکھ کر گھبرایا۔ سٹِفنَس اس کی آواز سن کر سیدھا ہوا۔
” میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم یونی نہیں گئے؟ ” سٹِفنَس اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ اس کی آواز میں بھاری پن عیسٰی محسوس کر رہا تھا اس کی آنکھیں بھی بہت کچھ بتا رہی تھیں۔
”گیا تھا لیکن واپس آ گیا۔۔۔ تم ساری رات روتے رہے ہو کیوں؟ ” عیسٰی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
” نہیں۔۔۔ میرے سر میں بہت درد تھا ساری رات سو نہیں سکا۔ میڈیسن لی ہے اب میں ٹھیک ہوں۔ تم بتاؤ تم واپس کیوں آ گئے۔” سٹِفنَس نے خود کو نارمل دکھاتے ہوئے سادگی سے پوچھا۔
” تمہارے لئے۔۔۔ تمہیں کچھ بتانا تھا۔ میں اور عمل نکاح کر رہے ہیں۔” عیسٰی مسکرایا۔
” عمل۔۔۔۔ کون عمل؟ ” سٹِفنَس نے حیرت سے پوچھا۔
” نائکا کی بات کر رہا ہوں یار اس نے تمہیں بتایا تو تھا سب۔” عیسٰی نے جیسے کچھ یاد دلانے کی کوشش کی۔ سٹِفنَس اب مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا بہت کوشش کے باوجود بھی آنسو اسکی آنکھوں سے بہنے لگے وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رونے لگا۔
”سٹِفنَس کیا ہوا ایسے کیوں رو رہے ہو ؟ کیا تم خوش نہیں ہو؟۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم مجھ سے بہت ناراض ہو کیونکہ میں نے تم سے یہ بات چھپائی لیکن میں مجبور تھا کسی کو بھی اس بارے میں نہیں بتا سکتا تھا۔” عیسٰی اسے روتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہوا۔
” نہیں۔۔۔۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔یہ تم لوگوں کا ذاتی معاملہ تھا ہاں نائکا پہ پہلے تھوڑا غصہ آیا تھا کہ اس نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا اور دکھ اس بات کا ہے کہ اب اس کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں رہے گا وہ ہمیشہ کے لیئے یہاں سے چلی جائے گی۔” سٹِفنَس نے رونے کی اصل وجہ چھپانے کی کوشش کی۔
”ہاں یہ تو ہے لیکن تم فکر مت کرو تمہارا جو رشتہ ابھی ہے بعد میں بھی یہی رہے گا تم جب چاہو اس سے مل سکتے ہو۔” عیسٰی نے اس کے ہاتھ تھامے اور اس کے آنسو صاف کئے۔
” ٹھیک ہے تم نکاح کی تیاری کرو۔۔۔۔ تم دونوں کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔ نکاح کے بعد جو ہو گا دیکھا جائے گا۔” سٹِفنَس اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔
” تھینک یو سو مچ سٹِفنَس۔ ہمارا ساتھ دینے کے لئے۔” عیسٰی اس کے گلے لگ کر مسکرایا۔
____________________
معیز صاحب اس وقت امریکہ کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے اور خاص طور پر عیسٰی کے لئے دعا کرنے کے لئے آۓ تھے۔ زینب بیگم نے انہیں فون پہ سب بتا دیا جسے سن کر معیز صاحب بھی بہت خوش تھے۔ مسجد کے بلکل ساتھ یہودیوں کی عبادت گاہ بھی بنائی گئی تھی جہاں اس وقت بہت سے لوگ عبادت کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ نماز ادا کرنے کے بعد معیز صاحب نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد سے نکل کر یہودیوں کی عبادت گاہ میں جا رہے تھے معیز صاحب نے حیرت سے ان کی عبادت گاہ کے اندر جھانکا جہاں سے قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔ وہ ایک گوری رنگت کی حامل بوڑھی عورت تھی جو سر پہ حجاب کئے بہت مسرور انداز میں تلاوت کر رہی تھی آگے سب لوگ سر جھکاۓ بہت مہذب طریقے سے اسے سن رہے تھے ان میں کچھ مسلم اور کچھ غیر مسلم تھے۔ معیز صاحب نے نا سمجھی میں کندھے اچکاۓ اور باہر کی جانب بڑھے۔ عبادت گاہ سے باہر ابھی ایک قدم ہی رکھا تھا کہ کسی نے ان کا پیچھے سے ہاتھ تھاما۔
”جان۔” کسی نے ان کو پیچھے سے پکارا۔ معیز صاحب نے حیرت سے پیچھے کی جانب دیکھا۔
” جارج تم۔” معیز صاحب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا جب انہوں نے اپنے بڑے بھائی کو اپنے سامنے دیکھا۔
”ہاں میں۔۔۔ کہاں چلے گئے تھے تم۔ تمہیں پتہ ہے آج بھی سب تمہیں بہت یاد کرتے ہیں بہت ڈھونڈا تمہیں لیکن تم ہمیں کہیں نہیں ملے۔” وہ اپنے چھوٹے بھائی کو اتنے سالوں بعد خود کے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
” میرا نام معیز ہے جان نہیں۔میں بھی تم لوگوں کو نہیں بھولا۔۔۔ اور تم ابھی بھی جان ہو یا۔۔۔” معیز صاحب نے ان کی عبادت گاہ پہ نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ وہ دونوں مسجد کے باہر پڑے ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔
” فعل حال تو جارج ہی ہوں بعد کا کچھ کہہ نہیں سکتا۔” وہ بہت نرمی سے بولے۔ معیز صاحب نے وہ سوال کیا جو انہیں حیرت میں مبتلا کر رہا تھا۔
” مسجد میں جب بھی مسلمانوں کی عبادت کا وقت ہوتا ہے ہم لوگ اپنی عبادت کچھ وقت کے لئے روک دیتے ہیں کیونکہ جب ہم لوگ ایک ساتھ اونچی آواز میں پڑھتے ہیں تو مسلمان ہماری وجہ سے ڈسٹرب ہوتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے تو وہ جا سکتا ہے اور اگر کوئی مسلمان ہماری عبادت میں شرکت کرنا چاہے کر سکتا ہے۔۔۔ ہماری عبادت کی شروعات قرآن کی تلاوت سے ہوتی ہے۔ اس سب کا مطلب صرف انسانیت قائم رکھنا ہے ہم سب ایک دوسرے کے مذہب کی عزت کرتے ہیں تاکہ یہاں کا ماحول پر امن رہ سکے۔” وہ بہت سنجیدگی سے بتا رہے تھے۔ جارج انہیں اپنے گھر لے گئے جہاں سب معیز صاحب کو دیکھ کر بہت خوش تھے سب کا رویہ پہلے جیسا تھا۔ معیز صاحب بہت خوش تھے کہ ان کے صبر کا پھل آج انہیں مل گیا تھا۔
معیز صاحب نے واپس پاکستان آ کر زینب بیگم کو سب سے پہلے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتایا زینب بیگم سن کر بہت خوش ہوئیں۔ ایک دو دن میں نکاح کی تاریخ مقرر کر لی گئی کیونکہ کہ نائکا اب ذیادہ عرصہ اپنے گھر قیام نہیں کرنا چاہتی تھی۔ تیسرے دن نکاح بہت سادگی سے کر دیا گیا۔ کچھ لوگ بہت خوش تھے کچھ حیرت زدہ تھے اور کچھ پریشان تھے۔ سٹِفنَس طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر نکاح میں شرکت نہ کر سکا۔ عیسٰی کے لاکھ اصرار پر بھی وہ نہیں جا سکا کیونکہ یہ سب اس کی برداشت سے باہر تھا۔ مارگریٹ نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا اور نکاح میں شرکت اختیار کی۔ عیسٰی کے لئے تو یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ نائکا اس کی محرم بن چکی ہے اسے اس کے صبر کا پھل اتنی جلدی مل جائے گا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ نکاح سے پہلے عیسٰی نے نائکا کو ایک بات واضح کر دی تھی کہ اس نے صرف شادی کی خاطر اسلام قبول کیا ہے اور اگر شادی کے بعد وہ مرتد ہو کر اپنے مذہب میں واپس چلی گئی تو ان دونوں کا نکاح اسی وقت ٹوٹ جائے گا اور پھر وہ اسے کبھی بھی نہیں اپنائے گا۔نائکا اس کا سب کچھ قبول کر چکی تھی۔ نکاح کے بعد عمل اور عشال دونوں ایک ساتھ گھر گئیں۔ عمل اپنے کمرے میں اپنا سامان پیک کرنے میں مصروف ہو گئی جبکہ عشال سٹِفنَس کو دیکھنے اس کے کمرے میں چلی گئی۔ وہ ابھی بھی وہیں کمرے میں ایک کونے میں پڑا تھا جہاں وہ اسے سسکتے ہوئے چھوڑ کر گئی تھی۔ سٹِفنَس کی ایسی حالت دیکھ کر اس کا دل بند ہو رہا تھا وہ ویسے ہی الٹے پاؤں واپس چلی گئی اور اپنے کمرے جاتے ہی دراز سے عیسٰی کی ڈائری نکالی اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھا کیونکہ اب ڈائری اسے واپس کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ ڈائری کے درمیان سے ایک صفحہ ٹرن کیا گیا تھا عشال اسے کھول کر پڑھنے لگی۔
” انسان کو انسان سے محبت کی خاطر پیدا کیا گیا ہے اس محبت کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے محبت کریں بلکہ انسانیت سے محبت کریں جس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی بھی انسان کو گمراہ ہونے سے بچائیں اس کی دنیا اور آخرت سنوارنے میں اس کی مدد کریں۔” وہ یہ لائنز پڑھتے ہی زور زور سے عیسٰی کو پکارنے لگی۔ عمل اور سٹِفنَس اس کی چیخ و پکار سن کر اس کے کمرے کی طرف دوڑے۔ وہ عیسٰی کی ڈائری سینے سے لگائے روتے ہوئے اس کا نام پکار رہی تھی۔ سٹِفنَس نے اس کی ڈائری کھینچنے کی کوشش کی مگر اس نے ڈائری نہیں چھوڑی۔ عمل میں تو آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہیں رہی۔ آج وہ لوگ عشال کے اسلام قبول کرنے کی اصل وجہ جان چکے تھے ۔ اتنے میں عیسٰی بھی سٹِفنَس کی خیریت معلوم کرنے آ گیا تھا وہ بھی عشال کی آواز سن کر اسی کے کمرے میں چلا گیا۔ نائکا ابھی بھی سکتے کی حالت میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑی تھی آنسو ایک روانی کے ساتھ بہہ رہے تھے۔ عشال کو سٹِفنَس اپنے سینے سے لگائے چپ کرا رہا تھا اور ساتھ خود بھی رو رہا تھا مگر عشال کو تو آج رونا تھا جی بھر کر رونا تھا۔ عیسٰی نے عمل کا بازو جھنجھلایا مگر وہ ٹس سے مسس نہیں ہوئی۔ عیسٰی اسے چھوڑ کر عشال کی جانب بڑھا۔
” کیا ہوا اسے۔۔۔” عیسٰی نے سٹِفنَس کا بازو ہلایا۔ عشال کو ایسے دیکھ کر وہ بھی بہت ڈر چکا تھا۔
” مارگریٹ کیوں ایسے رو رہی ہو کیا ہوا تمہیں؟” سٹِفنَس کے جواب نہ دینے پر وہ مارگریٹ سے مخاطب ہوا۔ مارگریٹ اس کی آواز سن کر خاموش ہوئی جسے وہ پکار رہی تھی وہ بلکل اس کے سامنے تھا۔
” عیسٰی۔۔۔” وہ ایک جاندار مسکراہٹ دباتے ہوئے عیسٰی کو دیکھنے لگی صرف اسی وقت کا انتظار تھا اسے۔ عیسٰی بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اسے کچھ بتانا چاہتی تھی ہاں بتانا تو بہت کچھ چاہتی تھی مگر جو بات اسے بتانا چاہتی تھی وہ بات بتانے کی نہیں صرف چھپانے کی تھی۔
تجلی نار تھی یا نور، تم سمجھے نہ ہم سمجھے
جلا کیونکر یہ کوہِ طور، تم سمجھے نہ ہم سمجھے
وہ شہ رگ سے بھی ہے نزدیک یہ قرآن کہتا ہے
ہے شہ رگ ہم سے کتنی دور، تم سمجھے نہ ہم سمجھے
وہ عیسٰی کی آنکھوں میں دیکھ کر کلمہ پڑھ چکی تھی نظریں ابھی بھی عیسٰی کے چہرے پہ مرکوز تھیں۔ وہ بنا کچھ کہے بھی بہت کچھ کہہ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ جنت میں عیسٰی جیسے مرد ہی جا سکتے ہیں اس لیئے اس نے عیسٰی کے بدلے اپنی موت کی دعا کی کیونکہ وہ دنیا میں عیسٰی کی جدائی میں تڑپ تڑپ کر زندہ نہیں رہ سکتی تھی وہ اسے ہمیشہ کے لیئے جنت میں پانا چاہتی تھی اس لئے وہ ایک ہی بار موت کی تکلیف برداشت کر نا چاہتی تھی۔ عیسٰی نے اپنے ہاتھ سے اس کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سینے سے اپنی ڈائری الگ کی۔ نائکا دو قدم ہی آگے بڑھی اور گھٹنوں بل زمین پہ گری۔ سٹِفنَس اس کے سر پہ چہرہ رکھے دیوانوں کی طرح روۓ جا رہا تھا اور عیسٰی سکتے میں بیٹھا مارگریٹ کو بے یقینی سے دیکھے جا رہا تھا۔
مارگریٹ کو مسلمانوں کی قبرستان میں دفنایا گیا۔ جنازے کے بعد سٹِفنَس اور عیسٰی اس کی قبر پہ کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ عیسٰی اسے ذبردستی گھر لے جانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ اپنی جان سے پیاری بہن کو اندھیری قبر میں کیسے چھوڑ کر جا سکتا تھا۔
” مارگریٹ پلیز بس ایک بار واپس آ جاؤ میں تمہیں کبھی بھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔۔ پلیز مجھے اکیلے مت چھوڑ کر جاؤ۔” وہ آنسو بہاتے ہوئے جیسے ماتم کر رہا تھا۔ آج وہ بھی عیسٰی جیسی تکلیف میں مبتلا تھا۔
” تمہیں پتہ ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے اور جب ان کی والدہ حضرت مریم اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی ان کی قبر پہ جا کر بہت روئے اور حضرت مریم سے کہنے لگے کہ اگر آپ کہیں تو کیا میں آپ کو بھی زندہ کر دوں۔ حضرت مریم نے کہا عیسٰی اگر میں تمہیں بتا دوں کہ موت کی تکلیف کیا ہے تو تم مجھے کبھی بھی زندہ کرنے کا سوچو بھی نہ۔ میں دوبارہ موت کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔ تم مارگریٹ کو پھر سے ایسی تکلیف کیوں دینا چاہتے ہو۔” وہ سر جھکاۓ بہت سنجیدگی سے بول رہا تھا۔ اس وقت اسے معاذ کی شدت سے یاد آ رہی تھی۔
” عیسٰی میں تو تم سے نفرت بھی نہیں کر سکتا۔” وہ بھی سر جھکاۓ مارگریٹ کی قبر کو دیکھتے ہوئے بولا۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں مجھے کچھ نہیں پتہ تھا۔ میں نے کچھ نہیں کیا نہ ہی کسی کو فورس کیا۔” وہ اس کی منتیں کرنے لگا۔ سٹِفنَس نے اسے گلے لگایا اور وہاں سے چلا گیا عیسٰی بھی اس کے پیچھے چلنے لگا۔ سٹِفنَس کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ مارگریٹ کے کمرے میں اپنی ڈائری لینے گیا۔ ڈائری وہیں بیڈ کے کنارے پڑی تھی جہاں عیسٰی رکھ کر گیا تھا۔ وہ ڈائری پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا اور درمیان سے ڈائری کھولی جہاں گلاب کی کچھ پتیاں رکھی ہوئی تھیں ان سے ابھی بھی تازہ گلاب کی خوشبو آ رہی تھی۔
” اگر کسی شخص نے عشق کیا، اسے چھپایا اور مر گیا تو وہ شہید ہوا۔” انڈرلائن کی گئی اس حدیث کو پڑھ کر عیسٰی کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپک کر ڈائری میں جذب ہوا۔عیسٰی اس کے گٹار پر نظر ڈالتے ہوئے تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔ عیسٰی نے بھی سٹِفنَس کو ایسی حالت میں اکیلا نہیں چھوڑا۔ سمیرا بھی اسے دیکھنے آتی جاتی رہتی تھی وہ بھی اسے تکلیف میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
جہاں یہ لوگ تکلیف میں تھے وہاں ایک ہادی بھی تھا جو خود کو ایک کمرے میں بند کر کے مسلسل آنسو بہاتا رہا تھا۔ اس کے ساتھ وہی ہو رہا تھا جیسا اس نے سوچا تھا کہ محبت نہ ملنے سے کوئی مر نہیں جاتا سب زندہ رہتے ہیں مگر آج وہ زندہ رہ کر بھی مر رہا تھا لیکن وقت کچھ حد تک زخم بھر دیتا ہے ہادی نے بھی اپنی زندگی کا ہر فیصلہ اللّٰلہ اور وقت پر چھوڑ دیا تھا۔
” ماما میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ خود عمل کو لیکر آئیں میں اب زیادہ دیر اسے وہاں نہیں رہنے دے سکتا وہ مارگریٹ کی وجہ سے خود یہاں نہیں آ سکتی۔۔۔ ویسے بھی آپ کو تعزیت کے لئے ان کے گھر جانا ہی تھا اسی بہانے آپ انکل سے ہماری بات بھی کر لیجیئے گا اگر وہ سمجھ گئے تو ٹھیک اگر نہ مانے تو آخری فیصلہ وہی ہو گا جو عمل کرے گی۔” کچھ دن گزر جانے کے بعد وہ زینب بیگم اور معیز صاحب سے اصرار کرنے لگا۔ کیونکہ نائکا اب مسلمان ہو چکی تھی اب وہ اسے اپنے مطابق ماحول میں رکھنا چاہتا تھا۔
”ٹھیک ہے ہم آج ہی وہاں جائیں گے۔ تم فکر نہ کرو۔” زینب بیگم نے اسے تسلی دی۔
اگلے دن معیز صاحب اور زینب بیگم تعزیت کے لئے نائکا کے گھر گئے عیسٰی کے اصرار پر وہ بھی ان کے ساتھ چلا گیا۔ وہ سب لاؤنج میں بیٹھے سٹِفنَس کو تسلی اور صبر کرنے کی تلقین کر رہے تھے۔ ملازمہ سلیمان صاحب کو بلانے گئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ بھی لاؤنج میں آ گئے۔ سلیمان صاحب عیسٰی اور معیز صاحب کے گلے لگے ان سے تو وہ پہلے بھی مل چکے تھے۔ زینب بیگم نائکا کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ سلیمان صاحب نے پلٹ کر انہیں بھی سلام بولا۔ زینب بیگم سلام کا جواب دینے کی بجائے بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کے چہرے کی رنگت بدل رہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔
” ماما آپ کھڑی کیوں ہو گیئں؟ ” عیسٰی نے حیرت سے پوچھا۔
” ئ یہ تمہاری ماں ہے؟ ” سلیمان صاحب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
” بھائی۔” زینب بیگم روتی ہوئی سلیمان صاحب کے سینے سے جا لگیں۔
” میں نے تمہیں بہت یاد کیا بہت زیادہ۔” سلیمان صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسو ٹپکنے لگے۔
” بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں میری وجہ سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔” زینب بیگم سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگیں۔ سب ان کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
” میں سب کچھ بھول چکا ہوں تم بھی بھول جاؤ۔۔۔ یہ نائکا ہے تمہاری بھتیجی اور یہ سٹِفنَس تمہارا بھتیجا۔ بھائی گورف کا بیٹا۔” سلیمان صاحب نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا۔ زینب بیگم نے ان دونوں کو سینے سے لگایا۔ سلیمان صاحب پھر سے عیسٰی کے گلے لگے اور اس کا ماتھا چوما۔ آج سب بہت خوش تھے کیونکہ عیسٰی کے ساتھ ان کا ایک بہت گہرا رشتہ جڑ چکا تھا۔ جن کزنز کی عیسٰی نے ہمیشہ خواہش کی تھی وہ تو کب سے ان کے ساتھ تھے۔ آج اسے وہ سب رشتے مل چکے تھے جن کی ہمیشہ سے اسے چاہت رہی تھی۔ زینب بیگم کو بھی ان کے صبر کا پھل مل چکا تھا۔ بے شک اللّٰلہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
” یار ہم کزنز ہیں۔” عیسٰی خوشی سے سٹِفنَس کے گلے لگا۔ سٹِفنَس کو بھی پہلے سے زیادہ اپنائیت محسوس ہو رہی تھی۔ کتنا اچھا ہوتا اگر مارگریٹ بھی آج زندہ ہوتی تو وہ بھی یقینًا بہت خوش ہوتی۔ سٹِفنَس نے دل ہی دل میں سوچا۔
”بھائی میں نائکا کو اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں۔” زینب بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے بات شروع کی۔
” کیا مطلب۔۔۔” سلیمان صاحب حیرت سے پوچھا۔
” مطلب یہ کہ میں اسلام قبول کر چکی ہوں اور عیسٰی سے نکاح بھی کر چکی ہوں۔۔۔۔ آپ سے اجازت اس لئے نہیں لی کیونکہ میں جانتی تھی یا تو آپ میری جان لے لیتے یا پھر مجھے بھی پھوپھو کی طرح گھر سے نکال دیتے۔۔۔۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ایک انسان کو اللّٰلہ نے کون کون سے اختیارات دے رکھے ہیں۔” جواب زینب بیگم کی بجائے نائکا نے دیا۔ سلیمان صاحب تو کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں رہے ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ لیکن وہ بے بس تھے اب وہ کرتے بھی تو کیا۔ وہ بار بار ایک غلطی کو دہرانا نہیں چاہتے تھے غلطیوں کے بعد ہی انسان پچھتاتا ہے پہلے سوچنے سمجھنے کی زحمت کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ ان کے خاندان میں ایسا پہلی بار تھوڑی ہوا تھا جس جس نے بھی ایسا کیا تھا وہ آج بھی ان کے خاندان کا ایک حصہ تھے۔ سلیمان صاحب آہستہ قدموں سے نائکا کے قریب گئے اور اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ نائکا اور عیسٰی کی جان میں جان آئی یعنی وہ مان گئے تھے۔ نائکا مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور اپنا سامان پیک کرنے لگی۔ باقی سب باتیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔ سٹِفنَس بھی اٹھ کر نائکا کے کمرے میں چلا گیا۔
” عمل میری ایک بات مانو گی؟ ” وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی بہت سنجیدگی سے بولا۔
” ہاں مانوں گی۔” وہ مسکرائی۔
” مارگریٹ نے تمہیں جو بھی میرے بارے میں بتایا وہ سب بھول جاؤ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ عیسٰی کو کبھی بھی اس بارے میں پتہ چلے۔ میں اپنی محبت کا تماشا نہیں بنانا چاہتا۔” وہ سینے پہ ہاتھ باندھے بولا۔
” فکر نہ کرو میں اسے کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔ لیکن تمہیں بھی میری ایک بات ماننا پڑے گی۔” نائکا بھی سینے پہ ہاتھ باندھے بولی۔
”وہ کیا۔” وہ حیرت سے بولا۔
