Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 22,23)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

ہاں بہت بڑے ہو گئے ہو ایک رات اندھیرے میں تو سو نہیں سکتے میری ہیلپ کیا خاک کرو گے۔” عیسٰی موضوع بدلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

” بھائی میں کیا کروں جب بھی اندھیرے میں سونے کی کوشش کرتا ہوں میں بہت بری طرح سے ڈر جاتا ہوں لیکن بھائی جب میں آپ جتنا بڑا ہو جاؤں گا تب میں اکیلا ہی سویا کروں گا۔” وہ رونے والی شکل بنا کر بولا۔

” جب مجھ جتنے بڑے ہو گے تب سو جانا اکیلے مگر فعل حال ٹائم بہت ذیادہ ہو چکا ہے سونے کی کوشش کرو میں بھی بس سونے لگا ہوں۔” عیسٰی نے اس کا بازو پکڑ کر تقریباً زبردستی اسے لٹایا وہ ابھی عیسٰی سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا مگر عیسٰی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا اور یہ بات معاذ بھی جان چکا تھا اس لئے وہ بھی بنا کچھ کہے چپ چاپ لیٹ گیا۔ عیسٰی نے سائیڈ ٹیبل پہ پڑا فون اٹھایا جس پہ”‘ جھانسی کی رانی” کی بارہ مسڈ کالز تھیں۔ ایک گھنٹہ پہلے جب نائکا کی کال آئی تھی عیسٰی نے تب ہی فون سائلنٹ پہ لگا دیا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ دو تین بار تو ضرور کال کرے گی مگر وہ ابھی تک اسے مسلسل کال کرتی رہی تھی وہ فون دیکھ کر چونکا اور فوراً اسے کال بیک کی۔

” معاذ میں بس ابھی آیا۔” وہ کمرے سے باہر جانے کے لئے اٹھا تو معاذ کمبل چہرے سے ہٹا کر اسے دیکھنے لگا وہ جلدی سے کہہ کر کمرے سے باہر نکلا۔ نائکا نے دوسری رنگ پہ کال رسیو کی۔

” کیا بات ہے اتنی رات کو کیوں کال کی سب خیریت ہے نا ؟ ” وہ کال رسیو ہوتے ہی بول پڑا۔ دوسری جانب بلکل خاموشی تھی۔

” ہیلو نائکا تم سن رہی ہو۔۔۔ پلیز کچھ تو بولو سب ٹھیک تو ہے نا ؟ ” وہ پھر سے بے چینی سے بولا۔ اب کی بار خاموشی کی جگہ نائکا کی سسکیاں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

” نائکا۔۔۔۔ ت تم رو رہی ہو وہ بھی اس وقت۔۔۔ کیوں۔۔۔ سٹِفنَس اور مارگریٹ کہاں ہیں تم ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔ نائکا خدا کے لئے رونا بند کرو اور مجھے بتاؤ کیوں ایسے رو رہی ہو۔” وہ اس کی سسکیاں سننے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ ننگے پاؤں لان میں کھڑا اس سے بات کر رہا تھا اس کی سسکیوں کی شدت نے اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے پسینے سے بھیگا دیا تھا۔

***************

کیا میں تمہاری نظر میں ایک بد کردار لڑکی ہوں؟ صرف اس وجہ سے کیونکہ میں نے تم سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔۔۔ عیسٰی تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو مجھے بیچ راستے میں کیسے چھوڑ سکتے ہو۔۔۔ مجھے میرا قصور تو بتاؤ آخر ایسا کونسا گناہ کر دیا میں نے جس کی تم اتنی بڑی سزا دے رہے ہو۔۔۔ تم کسی کو تکلیف دے کر خود کیسے خوش رہ سکتے ہو۔۔۔ کچھ تو بولو۔” وہ سسکتے ہوئے بولی۔ہاں یہ سچ ہے کہ محبت انسان کو بہت کمزور بنا دیتی ہے لیکن وہ خود کو بہت مضبوط بنانا چاہتا تھا وہ اپنے اندر کی کمزوری اس پہ عیاں نہیں کرنا چاہتا ہے۔

” جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے۔۔۔” وہ اپنے بال نوچنے لگا اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ اسے کیسے اپنے دل کی بات سمجھاۓ۔

” مجھے جو سمجھنا تھا سمجھ چکی تم نے کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں اگر تمہیں مجھ سے ذرا سی بھی محبت ہوتی تو تم مجھے کبھی بھی تکلیف دینے کے بارے میں سوچتے بھی نہ۔۔۔ ” وہ دانت پیستے ہوئے بولی اور غصے سے فون بند کر کے بیڈ پہ پٹخا اور پھر سے تکیے میں منہ چھپائے رونے لگی۔ عیسٰی ابھی بھی موبائل سکرین پہ اس کا نام دیکھ رہا تھا وہ بھی رونا چاہتا تھا اس سے بات کرنا چاہتا تھا اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا مگر وہ خود کو نائکا کی طرح کمزور نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کیونکہ وہ معیز علی کا بیٹا تھا اپنے باپ کی طرح ثابت قدم رہنا چاہتا تھا۔ وہ ہاتھ کی پشت سے اپنی نم آنکھیں صاف کرتا وہیں ایک کرسی پہ گرنے کے انداز میں بیٹھا اپنے دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھ کر بال نوچنے لگا نائکا کی سسکیاں ابھی بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

__________________

اگلے سمیسٹر کی کلاسز شروع ہو چکی تھیں آج چھٹیوں کے بعد یونیورسٹی میں ان کا پہلا دن تھا سب ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش تھے۔

” اف یہ لڑکے بھی نا۔۔۔ اتنی لمبی تو چھٹیاں بھی نہیں تھیں جتنا لمبا ان دونوں کا ملنا ملانا ہے۔” سمیرا نے عیسٰی اور سٹِفنَس کو دیکھ کر طنزاً کہا جو کب سے ایک دوسرے کے گلے لگ کر بار بار مل رہے تھے۔

” سچ بتاؤں تو مجھے واقعی میں ایسا ہی لگ رہا ہے جیسے ہم صدیوں بعد مل رہے ہیں۔” سٹِفنَس نے خود کو عیسٰی سے الگ کیا اور اپنا رخ سمیرا کی جانب کرتا بولا۔

” ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔” سمیرا نے نظریں جھکا کر قدرے مایوسی سے کہا کیونکہ وہ خود بھی سٹِفنَس کو بہت مس کرتی رہی تھی۔

” چلو شکر ہے چھٹیاں ختم ہوئیں میں تو خود بہت بور ہو گئی تھی گھر بیٹھے بیٹھے۔ ” مارگریٹ نے بھی منہ بسورتے ہوۓ کہا۔

” لگتا ہے گانا بجانا چھوڑ دیا تم نے ورنہ میوزک کے ہوتے ہوئے تم بور ہو ہی نہیں سکتی۔” عیسٰی نے طنزیہ مسکراہٹ دبائی۔

” نہیں اب ایسی بھی بات نہیں۔۔۔ میوزک چھوڑا تو نہیں لیکن۔۔۔” ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ ہادی بیچ میں بول پڑا۔

” مارگریٹ تمہیں ہمیشہ یاد دلانا پڑتا ہے کہ تم یہاں پڑھنے آتی ہو۔۔۔ کلاس میں چلو لیکچر شروع ہونے والا ہے۔” ہادی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔

” ایسے کیسے چلی جاؤں کلاس میں ابھی تو میں آئی ہوں اور آتے ہی پڑھنا شروع کر دوں نیور۔۔۔ ویسے بھی ابھی بہت وقت پڑا ہے۔” مارگریٹ نے ہادی کو گھورتے ہوئے کہا اور سینے پہ ہاتھ باندھے بہت سنجیدگی سے رخ بدل کر کھڑی رہی۔

”وقت ہی تو نہیں ہے۔” ہادی خود سے مخاطب ہوا۔

” مارگریٹ یہ کیسی ضد ہے۔ فوراً اپنی کلاس میں جاؤ باتیں کرنے کے لئے پورا دن باقی پڑا ہے ابھی اپنی کلاس میں جاؤ۔” سٹِفنَس نے نرمی سے کہا۔ وہ جانتی تھی کہ اب کچھ بھی بولنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے اسے ہتھیار ڈالنے پڑے اور پیر پٹختی ہادی کے آگے چلنے لگی۔

” تم نے جھوٹ کیوں بولا؟ ” کچھ فاصلے پہ وہ رکی اور پلٹ کر ہادی کو پھر سے گھورنے لگی۔ ایک پل کے لئے تو ہادی کو لگا کہ وہ اس کی جان ہی لے لے گی۔

” م میں نے کون سا جھوٹ بولا؟ ” ہادی نظریں چڑا گیا۔

” یہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ میں کس جھوٹ کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ ایک بات میری کان کھول کر سن لو آئندہ اگر عیسٰی سے بات کرتے ہوئے بیچ میں ٹوکا تو میں بھول جاؤں گی کہ تم وہ ہادی ہو جو راتوں کو جاگ جاگ کر میرے لئے اسائنمنٹس بناتے ہو۔۔۔ مائنڈ اِٹ۔ ” وہ اسے انگشت شہادت انگلی سے وارن کرتی پھر سے عیسٰی کی طرف دوڑی۔ ہادی بت بنا وہیں کھڑا خود کو یقین دلانے لگا کہ یہ الفاظ واقعی میں مارگریٹ تھے۔

” کم ازکم ایک بار سن تو لیتی کہ میں نے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔ بس کچھ وقت تمہارے ساتھ اکیلے گزارنا چاہتا تھا مگر تمہیں عیسٰی کے سوا کوئی اور نظر ہی نہیں آتا۔۔۔ کس آگ میں خود کو دھکیل رہی ہو۔۔۔ عیسٰی۔ وہ بینچ پہ بیٹھ کر کچھ لمحے اپنے خالی ہاتھوں کو گھورنے لگا پھر عیسٰی کا نام لیتے ہوئے مٹھیاں بند کر کے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دور سے گھورنے لگا۔ گھورتا بھی کیوں نہ اپنے محبوب کے منہ سے کسی اور کا نام کون برداشت کرتا ہے۔

” عیسٰی بات سنو۔۔۔” وہ پھولتی ہوئی سانس بحال کرتے ہوئے بولی۔ عیسٰی اور سٹِفنَس اسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ نائکا اور سمیرا کلاس میں جا چکی تھیں۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ میں نے تمہیں کلاس میں جانے کو کہا تھا اور تم ابھی تک یہیں گھوم رہی ہو۔” سٹِفنَس نے حیرت سے پوچھا۔

” جی بھائی بس جانے ہی لگی تھی وہ ایک بات یاد آ گئ تھی بس وہی بتانے آئی تھی۔۔۔ عیسٰی میں تمہارا اسی بینچ پہ انتظار کروں گی جس پہ تم اور فراثیم ایک دوسرے کا انتظار کیا کرتے تھے تمہیں یاد ہے نا تم نے کہا تھا کہ تم مجھے بھی وہ سب بتاؤ گے جو تم فراثیم کو بتایا کرتے تھے۔” مارگریٹ نے گھبراتے ہوئے سٹِفنَس سے نظریں چڑائیں پھر مسکراتے ہوئے عیسٰی کی جانب متوجہ ہوئی۔

” اوہ ہاں ہاں مجھے یاد ہے اگر ٹائم ملا تو ضرور آؤں گا۔” عیسٰی نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔

” تھینکیو۔” وہ پر جوش انداز میں کہتی وہاں سے پلٹی۔ سٹِفنَس تو مارگریٹ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ فراثیم کی کہانی میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہی ہے کبھی اسے فراثیم پہ غصہ آتا ہے کبھی بلکل اس جیسی باتیں کرنے لگتی ہے سٹِفنَس اپنے ساتھ کھڑے عیسٰی کو نظر انداز کرتا اسی سوچ میں ڈوبا رہا۔

” بھائی کہاں کھو گئے؟ ” عیسٰی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھلایا۔

” آ ہاں کہیں نہیں۔۔۔” سٹِفنَس نے سر جھٹکا۔

” تو پھر اتنے خاموش کیوں ہو گئے؟ ” عیسٰی نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے ایک نظر اس کے چہرے پہ ڈالی۔

” یار تم سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ کبھی کبھی مارگریٹ تمہیں بہت پریشان کرتی ہے پہلے میوزک کو لیکر اور اب یہ فراثیم والی کہانی کو لیکر۔۔۔ پلیز اسے نادان سمجھ کر اس کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا کرو میں بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ جیسے خوش رہنا چاہتی ہے ویسے رہے مجھے پہلے والی مارگریٹ نہیں چاہیے میں اسے صرف خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔” سٹِفنَس نے نظریں جھکاۓ دھیمے لہجے میں بولنا شروع کیا۔

” اگر تم میرے بھائی ہو تو اس حساب سے مارگریٹ صرف تمہاری نہیں میری بھی بہن ہوئی اس لیئے تمہیں اس بات کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تمہاری پریشانی سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ بڑا بھائی چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے باپ کی پرچھائی ہوتا ہے مگر تم مارگریٹ کے صرف بھائی ہی نہیں اس کی ماں،باپ اور ایک بہت اچھے دوست بھی ہو اس لئے تم صرف مارگریٹ کی فکر کرو میری طرف سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں میری وجہ سے اسے کبھی بھی کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔” عیسٰی نے اس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا اور قدرے سنجیدگی سے بولنے لگا۔

” بہت سمجھدار ہو گئے ہو کس کی صحبت میں رہ رہے ہو ہاں؟ ” سٹِفنَس نے شرارت سے آنکھ دبائی۔

” معاذ کی صحبت میں۔” عیسٰی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہتے ہوئے آنکھ دبائی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے ہوئے کلاس کی جانب بڑھے۔

مارگریٹ بینچ پہ بیٹھی بے صبری سے عیسٰی کا انتظار کر رہی تھی جب نائکا اسے دور سے دیکھ کر اس کے پاس آئی۔

” نائکا تم اکیلی یہاں کہاں گھوم رہی ہو باقی سب کہاں ہیں؟ ” اس سے پہلے کہ نائکا اس سے کچھ پوچھتی وہ بے چینی سے بول پڑی۔

” تمہارے بھائی کو کچھ دیر کے لئے سمیرا کے حوالے کر کے آئی ہوں اور میں یہاں تمہارے پاس ہوں۔” نائکا نے بیگ نیچے رکھتے ہوئے سادگی سے کہا۔

” اور عیسٰی؟” مارگریٹ نے اب براہ راست اس کے بارے میں پوچھا۔ اس کا نام نائکا کو ایک دم سن کر گیا نظریں ابھی بھی مارگریٹ کے چہرے پہ مرکوز تھیں دونوں کا رخ ایک دوسرے کی جانب تھا۔

” عیسٰی یہاں ہے تمہارے پاس۔” دوسری جانب سے عیسٰی کی میٹھی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

” تم آ گئے۔” وہ کھلکھلاتی ہوئی بولی۔ عیسٰی اس کے پیچھے بینچ پہ بیٹھا مسکرایا۔

” ہاں میں آ گیا اب بتاؤ کیا پوچھنا چاہتی ہو۔” عیسٰی نے بھی بیگ نیچے رکھا۔

” میں تم سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔ میں نے تمہاری ڈائری بھی پڑی بہت اچھی ہے۔۔۔ لیکن آج تم مجھے وہ بتاؤ جو تمہارا دل کرتا ہے مطلب کچھ بھی بتا دو بس کچھ نہ کچھ بتا دو کل میں خود تم سے سوال کروں گی۔” مارگریٹ کو تو صرف عیسٰی سے بات کرنے کا بہانا چاہیے تھا جو اسے مل چکا تھا۔ نائکا حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

” کیا مطلب کچھ بھی بتا دوں۔ اگر آج کوئی سوال یاد نہیں آ رہا تو کوئی بات نہیں کل سہی۔” عیسٰی نے نرمی سے کہا اور بیگ اٹھانے لگا۔

” عیسٰی پلیز م مجھے یاد آ گیا سوال آ ہاں تم مجھے عیسٰی مطلب حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کچھ بتاؤ۔” مارگریٹ نے اس کا بیگ کھینچا اور فوراً سے بولی۔ نائکا اسے اگنور کرتی اٹھی اور بیگ اٹھانے لگی۔

” نائکا بیٹھ جاؤ۔” عیسٰی نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔

” کس لئے؟ ” نائکا نے دانت بھینچتے ہوئے کہا۔ عیسٰی اس کے انداز پہ نظریں جھکا گیا اور خاموش رہا۔

” اوہو یار جب وہ کہہ رہا ہے کہ بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاؤ نا۔۔۔ ہاں عیسٰی اب بتاؤ۔” مارگریٹ نے اس کا بازو پکڑ کر زبردستی اسے نیچے بٹھایا اور رخ عیسٰی کی جانب موڑا۔

” میں نے آج صبح قرآن میں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں پڑھا اس میں سے ایک بات بتاتا ہوں۔۔۔ عرب کے دو درخت ہوتے ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پاۓ جاتے ہیں ایک کا نام مرخ اور دوسرے کا عفار، ان کی خاصیت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آگ نکلتی ہے باوجود یہ کہ وہ اتنی تر ہوتی ہیں کہ ان سے پانی ٹپکتا ہے۔اس میں قدرت کی کیسی عجیب و غریب نشانی ہے کہ آگ اور پانی دونوں ایک دوسرے کی ضد، ہر ایک ایک جگہ ایک لکڑی میں موجود، نہ پانی آگ کو بجھاۓ نہ آگ لکڑی کو جلاۓ۔۔۔ اس قادرمطلق کے اختیار میں سب کچھ ہے وہ آگ اور پانی کو ایک کر سکتا ہے۔” وہ دونوں بہت دلچسی سے سن رہی تھیں۔ اب نائکا سمجھ گئی تھی کہ وہ کیوں اسے بیٹھنے کے لئے کہہ رہا تھا۔

” واؤؤ امیزنگ۔۔۔ لیکن اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا تو کہیں پہ بھی ذکر نہیں ہے۔” مارگریٹ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

” ہاں کیونکہ میں نے تمہیں صرف آدھی بات بتائی ہے قرآن میں اس بات کا جو مقصد لکھا گیا ہے وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں ہے جو میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا بہتر ہے آگے تم خود ہی پڑھ لو۔” عیسٰی نے جوابًا کہا۔

” لیکن کیوں؟ کیا قرآن میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کچھ اور بھی لکھا گیا ہے؟ ” وہ گہری سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔

” ہاں بہت کچھ لکھا گیا ہے ان کی پوری زندگی کے بارے میں لکھا گیا ہے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کتنے ہینڈسم تھے قرآن کی تفسیر میں بہت دلچسپ واقعات لکھے گئے ہیں۔” عیسٰی مسکرایا۔ آج عیسٰی کا اچھا موڈ دیکھ کر نائکا کے دل میں ایک نئی امید جاگی تھی کیونکہ آج ایک عرصے بعد وہ خود اس سے مخاطب ہوا تھا۔

”اچھا تو پھر مجھے بھی بتاؤ قرآن میں کس چیپٹر میں ان کے بارے میں واقعات لکھے گئے ہیں میں بھی پڑھنے کی کوشش کروں گی۔” مارگریٹ تھوڑا اور اس کے قریب ہوئی۔

” بائبل کی طرح قرآن کے چیپٹر نہیں بلکہ پارے ہوتے ہیں جو ابھی میں نے سنایا وہ سورۃ یٰس کی تفسیر میں ملے گا اس کے علاوہ بہت سی سورتوں میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔” عیسٰی نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک نظر نائکا پر ڈالی جو نظریں جھکاۓ بہت غور سے اسے سن رہی تھی۔

” اوہ گاڈ یہ فراثیم پھر سے آ گیا اس کا تو فائنل سمیسٹر تھا اب کیا تمہیں بھی ساتھ لے جانے کے لئے آ گیا۔” مارگریٹ دور سے آتے فراثیم کو دیکھ کر غصے سے بولی۔

” ہاہاہا مارگریٹ تم بھی نا پتہ نہیں کیوں ان کے پیچھے پڑی رہتی ہو ابھی ان کے وائواز رہتے ہیں اسی سلسلے میں آۓ ہوں گے۔” عیسٰی اس کی شکل دیکھ کر ہنسا۔

________

” السلام علیکم۔۔۔ عیسٰی کیسے ہو ؟ ” فراثیم ایک جاندار مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے عیسٰی کے گلے لگا۔ عیسٰی نے بھی بہت خوش دلی سے سلام کا جواب دیا۔ مارگریٹ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھی کیونکہ آج فراثیم کی لُک بہت ڈفرنٹ تھی۔ نائکا بھی اسے بہت حیرت سے دیکھنے لگی۔

” ہااااا فراثیم بھائی ی آپ نے اسلام قبول کر لیا؟” مارگریٹ نے اپنے حیرت سے کھلے منہ پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔

”یہ تم سے کس نے کہا؟” فراثیم نے نارمل انداز میں کہا۔

”آپ کو دیکھ کر لگ رہا ہے بس اسی لئے پوچھ لیا۔۔۔ آپ کی داڑھی۔۔۔ پہلے تو نہیں تھی۔” مارگریٹ کچھ نادم سی ہوئی۔ نائکا اور عیسٰی ان کی باتیں غور سے سن رہے تھے۔

” ہاہاہا کیا مسلمان ہونے کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے؟ اور ویسے بھی عیسٰی کے بغیر میں اسلام کیسے قبول کر سکتا ہوں۔” فراثیم اس کی بات پہ ہنسا۔

” تو پھر یہ داڑھی کیوں؟” مارگریٹ ابھی بھی اس کی داڑھی میں ہی اٹکی ہوئی تھی جب تک اسے مکمل جواب نہ مل جاتا اسے سکون کہاں آنا تھا۔

”داڑھی رکھنا سنت ہے اور ہر سنت میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے اور اس سنت میں مصلحت یہ ہے کہ داڑھی رکھنے سے سکِن کینسر نہیں ہوتا، جدید تحقیق کے مطابق بتا رہا ہوں۔ بہت جلد میں خود بھی ڈاکٹر بن جاؤں گا اور ایک ڈاکٹر کے لئے اسلام پہ ریسرچ کرنا کتنا مفید ہے یہ مجھے اب پتہ چلا ہے۔” فراثیم نے تمہید باندھتے ہوئے مارگریٹ کی آنکھوں میں دیکھ کر بتایا۔

” واؤ زبردست۔” مارگریٹ نے آنکھیں گھما کر کہا۔

” محمد عیسٰی علی میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے کلمہ پڑھاؤ۔ آج میں یہاں صرف تمہارے لئے آیا ہوں میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں کیا تم مجھے مسلمان کرو گے؟ ” فراثیم نے مسکراتے ہوئے سوالیہ نظروں سے عیسٰی کی جانب دیکھا۔ یہ بات سنتے ہی ان تینوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

” کیا سچی میں۔۔۔ بھائی آپ سچ میں اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی سن کے۔” عیسٰی کی آنکھیں خوشی سے نم ہو گئیں۔ وہ ایک قدم مزید آگے بڑھا اور فراثیم کو گلے لگایا۔

” بھائی پلیز آپ بیٹھیں۔” عیسٰی نے بینچ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں جو یک ٹک ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں فوراً اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان دونوں کو بہت تجسس سے دیکھنے لگیں۔ عیسٰی اور فراثیم اب بینچ پہ بیٹھ چکے تھے۔

” تم کلمہ پڑھو میں تمہارے پیچھے دہراؤں گا۔” فراثیم نے رخ عیسٰی کی جانب کیا اور سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔

Episode 23

مسلمان ہونے کے لئے صرف ایک کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا ویسے تو اسلام میں چھ کلمے بتاۓ گئے ہیں لیکن مسلمان ہونے کے لئے صرف پہلے دو ہی پڑھ لینا کافی ہیں صرف پہلا کلمہ پڑھ لینے سے ہم صرف مسلمان کہلائے جائیں گے مگر مکمل ایمان کے لئے دوسرا کلمہ بھی پڑھنا ضروری ہے۔ ” عیسٰی نے بھی سنجیدگی سے سمجھانے کی کوشش کی۔

” آہاں۔۔۔ ویسے تو میں خود بھی ایک بار کلمے پڑھ چکا ہوں مگر مجھے ان کے مطلب کا نہیں پتہ میں نے ترجمہ نہیں پڑھا اسی لئے تو تمہارے پاس آیا ہوں تاکہ تم مجھے اسلام قبول کرنے کا مطلب سمجھا سکو۔” فراثیم نے جوابًا کہا۔

” بلکل۔۔۔ مطلب جانے بغیر کوئی بھی انسان مسلمان نہیں ہو سکتا مطلب جاننا بہت ضروری ہے میں پہلا کلمہ پڑھتا ہوں آپ ساتھ دہراتے جائیں اور پھر میں آپ کو اس کا مطلب بھی بتاتا جاؤں گا۔۔۔ لا الہ الا اللّٰلہ محمد رسول اللّٰلہ۔۔۔ وہ اس کے ساتھ پڑھتا جا رہا تھا۔ اس کلمے کا مطلب یہ ہے کہ اللّٰلہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللّٰلہ علیہ وسلم پہ پکا سچا یقین رکھنا۔ اب دوسرا کلمہ جس میں اس چیز کی گواہی دی جاتی ہے کہ اللّٰلہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللّٰلہ علیہ وسلم اللّٰلہ کے بندے اور رسول ہیں۔۔۔ اشھدان لا الہ الا اللّٰلہ وحدہ لا شریک لہُ و اشھد ان محمد اعبدہ و رسولہ۔۔۔” وہ دونوں سر جھکاۓ کلمہ گو تھے۔ نائکا اور مارگریٹ بے یقینی سے ان دونوں کو اب نیچے بیٹھ کر دیکھ رہی تھیں پہلی بار کسی کو اپنے سامنے مسلمان ہوتے دیکھ کر بے یقینی اور تجسس تو لازم تھا۔

” باقی کلموں کا مطلب بھی میں مختصراً بتا دیتا ہوں۔ تیسرے اور چوتھے کلمے میں اللّٰلہ کی صفات اور پاکی بیان کی جاتی ہے۔ پانچویں میں اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے اور چھٹے میں کفر کا رَد کیا جاتا ہے اور دوسرے گناہوں سے دور رکھنے کی درخواست کی جاتی ہے۔۔۔ اگر آپ ان سب چیزوں کو دل سے قبول کر چکے ہیں تو آج کے بعد آپ مسلمان ہوئے۔” عیسٰی نے ایک گہری سانس بھری اور فراثیم کی جانب دیکھ کر مسکرایا۔

” ہاں میں ان سب چیزوں کو دل سے قبول کر چکا ہوں۔” فراثیم بھی مسکرایا۔

” بھائی میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ میں آپ کے لئے کس قدر خوش ہوں۔” عیسٰی نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

” ہاں میں سمجھ سکتا ہوں کہ جب ایک مسلمان کسی غیر مسلم کو مسلمان کرتا ہے تو اسے کس قدر خوشی ہو سکتی ہے۔۔۔ میری دعا ہے کہ آج اللّٰلہ کی نظر میں جو مقام تم نے پایا ہے وہ ہم سب مسلمانوں کو بھی نصیب ہو۔ تمہارا بہت زیادہ شکریہ اس سب کے لئے۔” فراثیم نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔

” ارے بھائی آپ نے تو مجھے ایموشنل ہی کر دیا ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ میرا فرض تھا۔” عیسٰی مسکرایا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے عیسٰی نے فراثیم کو مبارکباد دی اور خود کو فراثیم سے الگ کیا۔ دونوں کی نظریں سامنے بیٹھی دو لڑکیوں پہ پڑی جو ابھی بھی یک ٹک انہی کو دیکھ رہی تھیں۔

” مارگریٹ تمہارا بھی بہت بہت شکریہ۔” عیسٰی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ دونوں چونکی۔

” کیا۔۔۔ شکریہ کس لئے۔” مارگریٹ نے حیرت سے پوچھا۔

” ہاں نا۔۔۔ تم اتنی دیر تک چپ رہی شکریہ تو بنتا ہے۔ ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ تم بیچ میں ہی فراثیم بھائی کا انٹرویو شروع کر دو گی۔” عیسٰی شرارت سے بولا جس پہ فراثیم ہنسا۔

” انٹرویو تو لوں گی مگر تمہارے سامنے نہیں اکیلے میں۔۔۔ پہلے تم نائکا کو تنگ کرتے تھے اور اب مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا ابھی بتاتی ہوں بھائی کو۔” مارگریٹ نے آنکھیں گھما کر عیسٰی کو دیکھا اور پھر جلدی سے بیگ اٹھا کر تیزی سے چلنے لگی۔

” ارے بات تو سنو۔۔۔” عیسٰی نے ہانک لگائی مگر وہ ہمیشہ کی طرح پلٹی نہیں۔ نائکا بھی اپنی سوچوں سے نکل کر اس کے پیچھے چلنے لگی۔

” میں بھی چلتا ہوں اپنی بیوی کو بھی تو مسلمان کرنا ہے۔ خدا حافظ۔” فراثیم بھی اپنی نشست سے اٹھا اور عیسٰی سے ملکر وہاں سے چلا گیا۔ عیسٰی وہیں بیٹھے آسمان کو گھورنے لگا۔ آج وہ بہت دنوں بعد خوشی اور سکون محسوس کر رہا تھا۔

_______________

کیا اپنا مذہب چھوڑنا اتنا آسان ہے۔ کیا اپنے مذہب سے بھی ذیادہ محبت کسی اور سے ہو سکتی ہے۔۔۔ ہاں ہو سکتی ہے بلکل ہو سکتی۔ اس کے دل سے آواز آئی تھی جس رفتار سے آواز آئی تھی اسی تیز رفتار سے اس کا دل بھی بہت زور سے دھڑکنے لگا تھا وہ خود کو کمپوز کرتی سٹِفنَس کے کمرے میں گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

”آ جاؤ مارگریٹ۔” سٹِفنَس نے اسے دیکھے بغیر کہا۔ وہ خود بیڈ پہ لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا بہت سنجیدگی سے کچھ پڑھنے میں مصروف تھا۔ وہ بھی اس کے بلکل پاس بیڈ پہ ایک کنارے پہ بیٹھ گئی۔

” بھائی آپ کو پتہ ہے آج فراثیم نے۔۔۔” ابھی وہ کچھ بول ہی رہی تھی کہ سٹِفنَس نے اسے ٹوک دیا۔

” اسلام قبول کر لیا۔۔۔ عیسٰی نے بتایا مجھے۔” وہ لیپ ٹاپ بند کر کے ایک سائیڈ پہ رکھتے ہوئے بولا۔

” لیکن بھائی ایسے کیسے کوئی۔۔۔” وہ حیرت بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔

” وہ ایسے کہ اس نے باقاعدہ ریسرچ کی تھی وہ خود سے مطمئن نہیں تھا۔ اس نے اس چیز کا چناؤ کیا جس میں اسے سکون ملا اور کام بھی وہی کرنا چاہیے جس سے ہماری اپنی ذات مطمئن ہو۔۔۔ تمہیں زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔” سٹِفنَس نے کتابیں سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے سادگی سے کہا۔

” ہممم ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔ اچھا بھائی میں اب چلتی ہوں گڈ نائٹ۔” وہ جلدی سے کہتی ہوئی اٹھی اور لمبے ڈگ بھرتی اپنے کمرے میں چلی گئی اور پھر سے عیسٰی کی احادیث والی ڈائری پڑھنے لگی۔ دوسری جانب نائکا تھی جو مارگریٹ کی طرح سارا دن فراثیم کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں ہی سوچتی رہی تھی۔ آج اتنے دنوں بعد عیسٰی کو سکون میں دیکھ کر یقینًا وہ بھی خوش تھی آج وہ یہ بھی جان گئی تھی کہ اس کے لئے اپنا مذہب ہی سب کچھ ہے۔

اب فراثیم کی جگہ مارگریٹ لے چکی تھی وہ روزانہ اسی بینچ پہ بیٹھی عیسٰی کا انتظار کرتی۔ آج بھی وہ دونوں بہت دلچسی سے محو گفتگو تھے جب نائکا ان کو دور سے دیکھ کر پہلی بار کچھ عجیب سا محسوس کرنے لگی۔

” میں اس کے لئے نا محرم ہوں اور مارگریٹ۔۔۔ اس کے بارے میں کیوں نہیں ایسا سوچتا۔۔۔ کہیں عیسٰی کسی اور میں تو انواو نہیں؟ مجھے کیوں اتنی جلن ہو رہی ہے کیوں۔۔۔” وہ دل ہی دل میں نا جانے کیا کیا سوچتی رہی۔

”عیسٰی تم سے ایک بات پوچھوں؟” مارگریٹ اس کے قدموں میں بیٹھ کر پوچھنے لگی۔

” ہاں پوچھو مگر ایسے نہیں اوپر بیٹھ کر۔” عیسٰی نے اسے اٹھنے کا کہا۔ مگر وہ نہیں اٹھی۔

”نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں مجھے اچھا لگ رہا ہے۔” وہ اپنے بازو گھٹنوں میں حمائل کرتی بولی۔

” لیکن مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا اس لئے میں بھی نیچے ہی بیٹھوں گا۔” وہ بھی اس کے سامنے بینچ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ نائکا ابھی بھی مسلسل انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔

” عیسٰی تمہیں پتہ ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام زندہ آسمان پہ اٹھاۓ گئے تھے اور وہ ایک بار پھر سے آسمان سے اتارے جائیں گے لیکن جب وہ آئیں گے تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ہیں کیونکہ انہیں تو کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ مجھے بہت شوق ہے ان سے ملنے کا۔” مارگریٹ بھی اس کے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور بہت سنجیدگی سے بولنے لگی۔

” قرآن پاک میں ان کے آنے کی جو نشانیاں بتائی گئیں ہیں ان سے پتہ چل جائے گا۔ تم بس دعا کرو کہ اللّٰلہ تمہیں تب تک زندہ رکھے یہ نہ ہو کہ وہ نیچے آئیں اور تم اوپر چلی جاؤ۔” عیسٰی نے شرارت سے کہا۔

” تمہیں تو بہت جلدی ہے کہ میں مر جاؤں۔” وہ اسے گھورتی ہوئی قدرے خفگی سے بولی۔

” اچھا بابا سوری مذاق کر رہا تھا۔” وہ اپنے دونوں کان ہاتھوں سے چھوتا ہوا بولا تو وہ اس کی ادا پہ مسکرا دی۔

‘” کیا قرآن میں سب کچھ لکھا گیا ہے۔” وہ پھر سے کچھ سوچتے ہوئے بولی۔

” ہاں سب کچھ لکھا گیا ہے ہر وہ چیز جو مکمل ہے۔” وہ بہت نرم اور دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔

”عیسٰی کیا تمہارا دل نہیں کرتا کہ تم بھی حضرت عیسٰی علیہ السلام کو دیکھو ان سے ملو۔” وہ سر جھکاۓ کچھ اس انداز میں بولی جیسے کچھ غلط بول رہی ہو۔ کچھ لمحے وہ اسے یونہی دیکھتا رہا پھر سر جھکا کر بولنے لگا۔

” تمہیں پتہ ہے مارگریٹ اگر کوئی مجھ سے میری آخری خواہش پوچھے تو وہ کیا ہو۔۔۔ کم ازکم میں تب تک زندہ رہوں جب تک حضرت عیسٰی علیہ السلام نہ آ جائیں میں بھی انہیں دیکھنا چاہتا ہوں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔ کہ۔۔۔” بولتے بولتے وہ رک گیا نمی اس کی آنکھوں میں اتر آئی تھی۔ وہ محبت میں اس مقام تک پہنچ چکا تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی یہ آخری خواہش بن چکی تھی۔

” کیا ہوا رک کیوں گئے بتاؤ نہ کیا پوچھو گے ان سے۔” مارگریٹ نے تجسس سے پوچھا۔

” کچھ نہیں۔” وہ اپنے آنسو پی گیا۔

” پلیز بتاؤ نا۔” وہ اصرار کرنے لگی۔

” میری کلاس ہے۔ اللّٰلہ حافظ۔” وہ اسے نظر انداز کرتا وہاں سے چلا گیا۔

” عجیب قسم کا لڑکا ہے اچھا بھلا موڈ تھا اچانک پتہ نہیں کیا ہو جاتا ہے اسے۔” وہ اسے دور جاتے دیکھ کر منہ چِڑانے لگی۔ نائکا ابھی بھی وہیں بت بنی کھڑی تھی کہ ہادی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔

” رونے سے کچھ نہیں ہوتا۔” وہ ہادی کی آواز پہ پلٹی اور جلدی سے اپنے آنسو صاف کئے۔

” جب تک تم دونوں کا مذہب ایک نہیں ہو گا تب تک تم دونوں کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے اور عیسٰی اپنے مذہب کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔ کچھ بھی۔” ہادی کا اب صرف ایک ہی مقصد تھا کہ عیسٰی اور نائکا کسی بھی طرح پہلے جیسے ہو جائیں تاکہ مارگریٹ پہ ان کی محبت عیاں ہو جائے وہ سب کچھ پہلے جیسا کرنا چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ مارگریٹ اب اس کی کبھی نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی اسے کسی اور کے ساتھ دیکھنا اس کی برداشت سے باہر تھا۔

” اپنے مذہب سے محبت کسے نہیں ہوتی۔۔۔ مجھے بھی صرف اپنے مذہب سے محبت ہے اور کسی سے نہیں۔” وہ سپاٹ لہجے میں بولی اور وہاں سے چلی گئی۔ ہادی بھی ہار قبول کر چکا تھا وہ بھی سر جھٹکتا وہاں سے چلا گیا۔

شام سات بجے کا وقت تھا جب وہ سب اسلام آباد کے ایک بہت بڑے شاپنگ مال کے باہر کھڑے تھے۔ ہادی اور سمیرا ان کے ساتھ نہیں تھے۔ عیسٰی اور نائکا بھی مارگریٹ کو نہ بول چکے تھے مگر اس کے اصرار پہ سٹِفنَس کو ان سے ریکویسٹ کرنا پڑی تو وہ دونوں بھی شاپنگ کے لئے مان گئے۔

”مارگریٹ کچھ سکون ملا؟” سڑک کے کنارے چلتے ہوئے عیسٰی نے اسے پوچھا۔

” ہاں کچھ کچھ۔۔۔ کبھی کبھی ایک ساتھ شاپنگ کرنے میں مزہ آتا ہے۔” مارگریٹ مسکرائی۔ اسے تو بس عیسٰی سے بات کرنے اس سے ملنے کا موقع چاہیے۔

” یہ نائکا کہاں رہ گئی۔” سٹِفنَس ہاتھوں میں شاپنگ بیگز اٹھاۓ ان سے مخاطب ہوا۔

” یہیں ہے۔۔۔ ہاں وہ پیچھے کھڑی ہے اس طرف ہی آ رہی ہے۔” مارگریٹ اپنے پیچھے کچھ فاصلے پہ کھڑی نائکا کو دیکھ کر بولی۔ وہ لوگ گاڑی سے چند قدم کے فاصلے پہ کھڑے تھے ان کی گاڑی کے پیچھے عیسٰی کی گاڑی کھڑی تھی۔ سٹِفنَس نے بیگز گاڑی میں رکھے اور مارگریٹ کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ عیسٰی بھی پیچھے اپنی گاڑی کی جانب مڑا۔ نائکا میڈم ابھی بھی بہت سست رفتار سے فون پہ مصروف چل رہی تھیں۔ عیسٰی اسی کو دیکھ رہا تھا وہ چل بھی بہت لا پرواہی سے رہی تھی۔ سٹِفنَس اور مارگریٹ ابھی گاڑی میں نہیں بیٹھے تھے کہ عیسٰی کی آواز پہ وہ دونوں چونکے۔

” نائکا۔” عیسٰی بہت زور سے چلایا اور جلدی سے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔ سڑک پہ چلتے ہوئے گاڑی نائکا کو چھو کر گزری تھی موبائل اس کے ہاتھ سے بے اختیار گر گیا اگر عیسٰی اسے نہ پکڑتا تو یقینًا وہ بھی بیچ سڑک پہ گڑی پڑی ہوتی۔ نائکا اس کے سینے میں منہ چھپائے رونے لگی تھی روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی کیونکہ وہ بہت زیادہ ڈر چکی تھی وہ یہ بھی نہیں جان پائی کہ وہ اس وقت کس کے حصار میں ہے۔ سٹِفنَس اور مارگریٹ صرف ایک قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ مزید آگے بڑھنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ اس وقت وہ دونوں نائکا کو نہیں بلکہ عیسٰی کو دیکھ رہے تھے جس کی حالت نائکا سے بھی بری لگ رہی تھی۔ وہ روتے ہوئے وہ بار بار اس کے سر پہ ہاتھ پھیر رہا تھا۔ نائکا نے ایک نظر اٹھا کر عیسٰی کا چہرہ دیکھا جو آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا وہ اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچتے ہوئے پھر سے اس کے سینے پہ سر رکھے رونے لگی۔ بہت ہمت کے بعد سٹِفنَس آگے بڑھا۔

” نائکا۔۔۔ ت تم ٹھیک ہو۔” سٹِفنَس کے آنسو حلق میں ہی اٹک کر رہ گئے جس وجہ سے وہ بمشکل ہی بول پایا تھا۔

________________

سٹِفنَس کی آواز کانوں میں پڑتے ہی وہ اپنے حواس میں آیا اور جلدی سے نائکا کو خود سے الگ کیا۔ وہ سٹِفنَس کو نظر انداز کرتی بے یقینی سے عیسٰی کو دیکھنے لگی۔

”نائکا۔۔۔” سٹِفنَس کے لبوں نے پھر سے سرگوشی کی۔ نائکا کے تاثرات ابھی بھی وہی تھے مگر عیسٰی ایک پل بھی نہیں رکا اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا جب تک وہ چلا نہیں گیا تب تک وہ اسے یونہی دیکھتی رہی۔

” نائکا وہ جا چکا ہے۔۔۔ آؤ گاڑی میں بیٹھو۔” سٹِفنَس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھایا تو وہ بھی اپنے ہوش و حواس میں آئی۔

” تم ٹھیک تو ہو نہ۔” فکر مندی کا تاسف اس کے چہرے پہ نمایاں تھا۔

” ہوں۔” وہ اپنا سر ہلاتی ہوئی دھیمے لہجے میں بولی۔ مارگریٹ کی حالت بھی ان سے کچھ کم نہ تھی اس کی تو جیسے زندگی ہی ختم ہو چکی تھی عیسٰی کے جاتے ہی وہ بھی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی دل خون کے آنسو رو رہا تھا مگر آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکا۔ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے۔ سب چپ چاپ اپنے اپنے کمروں میں بڑھ گئے آج کسی نے بھی ایک دوسرے کو شب بخیر نہیں کہا آج سب خود ہی میں کہیں گم تھے۔ کچھ لمحے تو سٹِفنَس یونہی بیڈ پہ بیٹھا کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچتا رہا وہ ابھی بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ جو وہ محسوس کر رہا ہے کیا وہ سچ ہے مگر اسے یقین کرنا ہی تھا کیونکہ وہ سچ تھا سب کچھ سچ۔

” نائکا۔۔۔ تمہیں کبھی میری محبت نظر کیوں نہیں آئی۔ میں نے بچپن سے لیکر آج تک صرف اور صرف تمہیں ہی تو چاہا تھا اور تم نے۔۔۔” آنسو موتیوں کی طرح اب اس کے رخسار پہ پھسلنے لگے تھے۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا مگر آج اسے چپ کرانے والا اسے حوصلہ دینے والا کوئی نہیں تھا نہ عیسٰی نہ نائکا اور نہ ہی مارگریٹ۔۔۔ اسلام آباد وہ آیا ہی نائکا کے لئے تھا آج وہ اسے بھی کھو چکا تھا یہاں آنے کے بعد آج پہلی بار اسے بہت اکیلا پن محسوس ہو رہا تھا۔

” نائکا اور عیسٰی تو اب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے پھر آج دونوں کو کیا ہو گیا تھا۔۔۔ عیسٰی کو کیوں اتنی تکلیف ہو رہی تھی اور نائکا وہ تو اس سے نظریں ہی نہیں ہٹا رہی تھی کیوں۔۔۔” وہ بیڈ کے کنارے بیٹھی اپنے آپ سے بے خبر ان دونوں کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔

” کاش۔۔۔ کاش آج نائکا کی جگہ میں عیسٰی کی باہوں میں ہوتی اور وہیں میری جان چلی جاتی۔۔۔ ہاں موت کی تکلیف اس اذیت سے بہت کم ہے ایسی تکلیف سے بڑھ کر کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی۔” وہ وہیں ٹانگیں لٹکاۓ سیدھی لیٹ گئی آنسو پلکوں کے گوشے نم کر رہے تھے دونوں طرف سے آنسو ایک روانی سے بہہ رہے تھے۔

” بھائی۔” سٹِفنَس کو یاد کر کے وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ وہ بھی جانتی تھی کہ جتنی تکلیف اسے ہو رہی ہے سٹِفنَس کو اس کئ گنا زیادہ تکلیف ہو رہی ہو گی کیونکہ نائکا اس بچپن کی محبت تھی۔ لیکن اب تکلیف سہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا زبردستی تو کوئی کسی کو پا نہیں سکتا اگر کوئی پا بھی لے تو اس کی محبت کبھی نہیں پا سکتا۔

” میں جانتی تھی کہ تم صرف مجھ سے محبت کرتے ہو۔۔۔ میں تمہارے لیئے نا محرم ہوں بس اسی لئے تم مجھ سے دور رہتے ہو ہاں بس یہی وجہ ہے اور کوئی نہیں۔۔۔ ہم ایک ہو سکتے ہیں بلکل ہو سکتے ہیں۔” وہ عیسٰی کو تصور میں لاتے ہوئے دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی۔آج وہ بہت خوش تھی کیونکہ آج پھر سے ایک نئی امید جاگی تھی کاش کہ وہ یہ بھی سمجھ جاتی کہ ان کی محبت کے آگے کتنوں کے دل ٹوٹے ہیں۔

__________

آج یونیورسٹی جانے کے لئے وہ سب سے پہلے تیار ہو کر ناشتے کے لئے آ چکی تھی ورنہ ہر روز سٹِفنَس ہی ان دونوں کو بلانے کے لئے جاتا۔ سلیمان صاحب ناشتہ کر کے آفس جا چکے تھے۔ ڈائننگ ٹیبل پہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا سٹِفنَس بھی نہیں۔

” آج کیا ہو گیا ان دونوں بہن بھائی کو نیچے کیوں نہیں آ رہے۔” وہ منہ میں بڑبڑائی اور زینے چڑھتی سٹِفنَس کے کمرے میں گئی۔ وہ منہ کے نیچے تکیہ دباۓ ابھی تک سو رہا تھا شاید سویا ہی ابھی تھا۔

” گڈ مارننگ۔” وہ مسکراتی ہوئی اس کے پاس بیڈ پہ جا بیٹھی۔ مگر وہ پھر بھی نہیں اٹھا۔

” سٹِفنَس اٹھو بھی۔۔۔ دیکھو ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔” نائکا نے اس کا بازو پکڑ کر جھنجھلایا۔

” تم چلی جاؤ میرا آج موڈ نہیں۔” وہ آنکھیں موندے منہ میں بڑبڑایا۔

” پلیز ایسا نہ کہو اگر تم نہیں جاؤ گے تو میرا میں دل نہیں کرے گا اور میں آج کسی بھی قیمت پہ چھٹی نہیں کرنا چاہتی اس لئے پلیزززز اٹھ جاؤ نا۔” وہ اصرار کرنے لگی اور اس کے منہ کے نیچے سے تکیہ کھینچا تو وہ سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔ ساری رات رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوج چکی تھیں اور آواز بھی بہت بھاری ہو رہی تھی۔

” اچھا تم جاؤ میں آتا ہوں۔” وہ بمشکل آنکھیں کھول کر بولا۔

” سٹِفنَس تم تم ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔ تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے کیوں۔” وہ اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پریشانی سے بولی۔

” میں بلکل ٹھیک ہوں رات کو ٹھیک سے سو نہیں پایا بس اسی لئے۔۔۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔

” اوہ اچھا۔۔۔ ٹھیک ہے پھر تم جلدی سے تیار ہو کر آ جاؤ جب تک میں مارگریٹ کو بلا لاؤں۔” وہ کہہ کر جلدی سے اٹھی اور مارگریٹ کے کمرے کی جانب بڑھی۔ وہاں بھی ویسی ہی صورت حال تھی جو سٹِفنَس کی تھی۔ آج جہاں نائکا خوش تھی وہیں ان دونوں کے لئے کچھ پریشان بھی تھی۔

” مارگریٹ اب تمہیں کیا ہوا یونی نہیں جانا کیا۔” وہ اس کے سامنے بیٹھی پوچھ رہی تھی۔

” نہیں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔” وہ اسے دیکھے بغیر بولی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *