Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Be Mazhab (Episode 24)

Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan

ہاں وہ تو تمہیں دیکھ کر ہی لگ رہا ہے لیکن تم خود ہی تو کہتی ہو میں یونی جا کر بلکل ٹھیک ہو جاتی ہوں تو آج بھی تم ٹھیک ہو جاؤ گی۔۔۔ جلدی سے تیار ہو کر نیچے آؤ میں ویٹ کر رہی ہوں۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی اور مسکراہٹ دباتی زینے اترتی لاؤنج میں آئی۔ تینوں نے بہت خاموشی سے ناشتہ کیا اور یونیورسٹی چلے گۓ۔ یونی میں سارا دن نائکا عیسٰی سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہی مگر وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے نظر انداز کرتا رہا۔ آج مارگریٹ کے آنے سے پہلے ہی وہ اس کی جگہ پہ بیٹھ چکی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عیسٰی اس وقت مارگریٹ کے لئے یہیں آۓ گا۔ کچھ لمحے بعد عیسٰی کو اپنی جانب آتا دیکھ کر وہ مسکرائی۔ عیسٰی اس کے پاس جا کھڑا ہوا اور ادھر ادھر نظر دورانے لگا۔

” کیا ہوا کسے ڈھونڈ رہے ہو؟” وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

” مارگریٹ کو۔” وہ اسے دیکھے بغیر بولا۔

” عیسٰی۔۔۔ کل مجھے یقین ہو گیا تھا کہ تم صرف مجھ سے محبت کرتے ہو۔” وہ اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

” پھر سے وہی باتیں۔۔۔ مجھے گزری ہوئی کسی بھی چیز کے بارے میں بات نہیں کرنی۔” وہ غصے سے بولتا ہوا پلٹا تو وہ بھی اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔

” کیوں۔۔۔ کیوں بات نہیں کرنی۔۔۔ کیا صرف میں ہی تمہارے لئے نا محرم ہوں اور مارگریٹ وہ کیا ہے جس کے لئے تم ہر روز یہاں آتے ہو۔۔۔ کیا سمجھوں اسے بتاؤ۔” وہ بھی ذرا غصے سے بولی۔

” ہاں صرف تم نا محرم ہو۔” وہ سابقہ لہجے میں اکتایا ہوا بولا اور بیگ نیچے پٹخ کر بینچ پر بیٹھ گیا۔ وہ بھی اس کے ساتھ بینچ پہ بیٹھ گئی اور رونے لگی۔

” دیکھو نائکا میرے لئے سب نا محرم ہیں لیکن جو میں تمہارے لیئے محسوس کرتا ہوں وہ کسی اور کے لئے کبھی نہیں کر سکتا اگر میں کسی سے بات کرتا ہوں تو یہی سمجھ لو کہ میں مجبور ہوں اور جہاں تک بات رہی مارگریٹ کی تو میں صرف اور صرف سٹِفنَس کی وجہ سے اس کے ہر سوال کا جواب دیتا ہوں۔۔۔ مجھے صرف تمہاری آخرت کی فکر ہے میں میری وجہ سے اپنے ساتھ تمہاری بھی آخرت برباد نہیں کرنا چاہتا پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔” وہ اسے کچھ سمجھانے کے سے انداز میں بولا۔ وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھ سکتی تھی وہ اس کے احساسات کو بھی محسوس کر رہی تھی۔

” میں سمجھ چکی ہوں۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔

” کیا۔” وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔

” یہی کہ تمہیں مجھ سے کس قدر محبت ہے۔۔۔ اب میں بھی تمہیں یقین دلاؤں گی کہ مجھے تم سے تم سے بھی زیادہ محبت ہے میں بھی تمہاری آخرت سنوارنا چاہتی ہوں۔۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ہم جانتے ہیں خدا جانتا ہے بس اور کچھ نہیں چاہیے ہم دونوں ایک دوسرے کو دعاؤں میں مانگیں گے اگر اس نے چاہا تو ہم ایک ہو جائیں گے۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ تم سے کبھی بھی بات کرنے کی کوشش بھی نہیں کروں گی تمہارے بارے میں سوچوں گی بھی نہیں لیکن تمہیں خدا سے مانگنا میرے اختیار میں نہیں۔” وہ دھیمے لہجے میں بولی اور عیسٰی کی آنکھوں کو بہت محبت سے دیکھنے لگی۔ آج وہ دونوں بہت سکون میں تھے عیسٰی بھی بہت خوش تھا کہ نائکا اسے سمجھ گئی تھی۔

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

صحرا مرا چہرہ ہے سمندر تیری آنکھیں

پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا

روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن

کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں

اب تک میری یادوں سے مٹاۓ نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر، تیری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں

پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر، تیری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں ہے

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

وہ اس کی آنکھوں کو کچھ لمحے یونہی دیکھتی رہی جیسے آخری بار دیکھ رہی ہو آج عیسٰی نے بھی اسے دیکھنے سے روکا نہیں۔ وہ بھی پھر زیادہ دیر رکی نہیں اور وہاں سے چلی گئی۔ مارگریٹ ان کی طرف آتے ہوئے دور سے انہیں دیکھ کر کچھ فاصلے پہ ہی رک گئی اور درد بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ وہ اندر ہی اندر مر چکی تھی۔ مزید آگے بڑھنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی وہ الٹے پاؤں واپس چلی گئی تھی۔

_____________

ہر نئی آنے والی آسمانی کتاب پچھلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ قرآن پاک اللّٰلہ کی نازل کی گئی آخری کتاب ہے جو پچھلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان تمام کتابوں کا نچوڑ بھی ہے اس لیئے اس کے بعد کسی اور کتاب کو پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں۔” وہ ابھی بھی فراثیم کے بولے گئے ان الفاظ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی اور اسی کے بارے میں سوچتے سوچتے نا جانے کب وہ نیند کی وادی میں چلی گئی۔ یونیورسٹی میں نائکا اور عیسٰی کو ایک ساتھ دیکھ کر تب تک وہ اندر ہی اندر جلتی رہی جب تک اس کی ملاقات فراثیم نہ ہوئی تھی اور اس کے بعد وہ صرف فراثیم سے ہوئی گفتگو کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔

صبح ڈائننگ ٹیبل پہ کچھ دیرمارگریٹ کا انتظار کرنے کے بعد سٹِفنَس لمبے ڈگ بھرتا اس کے کمرے میں گیا جہاں مارگریٹ بیڈ پہ تقریباً بے ہوش پڑی تھی۔

” مارگریٹ یہ کیا تماشا ہے یار تم روزانہ ایسے ہی کرتی ہو کتنی دفعہ بولا بھی ہے کہ رات کو جلدی سو جایا کرو مگر نہیں بس اپنی مرضی کرنی ہوتی ہے۔۔۔” وہ اس کے کمرے میں بکھری کچھ چیزیں سمیٹتے ہوئے بول رہا تھا۔ مارگریٹ کے تکیے کے پاس عیسٰی کی ڈائری پڑی تھی جسے اس نے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دیا تھا۔ پہلے کی طرح آج مارگریٹ نے کوئی سرگوشی نہیں کی چہرے پہ کمبل اوڑھ رکھا تھا۔ سٹِفنَس نے کمبل ہٹایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر جھنجھلایا۔ وہ تو ہلی نہیں مگر سٹِفنَس بری طرح سے ہل کر رہ گیا تھا کیونکہ اس کا پورا جسم جیسے آگ میں تپ رہا تھا۔

” اوہ مائی گاڈ۔۔۔ اسے تو بہت تیز بخار ہے۔” سٹِفنَس نے اس کے چہرے سے پسینے کی چند بوندیں صاف کی اور اپنا شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر اور چہرے پہ پھیرنے لگا۔

” مارگریٹ آنکھیں کھولو میری جان۔” وہ ساتھ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا پریشانی کے مارے اسے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے اور کیا نہیں۔

” بھائی۔۔۔” وہ بمشکل آنکھیں کھول کر سٹِفنَس کو پریشان ہوتے دیکھ کر بولی۔ سٹِفنَس نے پیار سے اس کا ماتھا چوما۔

” میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔” وہ کہہ کر ابھی اٹھا ہی تھا کہ مارگریٹ نے اس کا بازو تھام لیا۔

” بھائی پلیز ۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں مجھے یونیورسٹی جانا ہے۔” وہ بہت ہمت کر کے بول رہی تھی۔

” ہر گز نہیں آج تم کہیں نہیں جاؤ گی۔” سٹِفنَس نے سر نفی میں ہلایا۔ اس وقت بیڈ سے اٹھنا اس کے لئے بہت مشکل ہو رہا تھا مگر پھر بھی وہ اٹھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی سٹِفنَس نے اسے سہارا دے کر بیڈ کی کراؤن سے ٹیک لگائی۔

” اگر آپ میری بات نہیں مانیں گے تو میں بھی میڈسن نہیں لوں گی اور نہ ہی کچھ کھاؤں گی۔” وہ خود کو بہت مظبوط دکھاتے ہوئے بولی۔ سٹِفنَس اس کی بے جا ضد کی وجہ سے بہت پریشان ہو رہا تھا اس نے خود بھی گھر رہنے کا فیصلہ کیا مگر وہ پھر بھی نہیں مانی۔ بلاآخر وہ میڈیسن لیکر یونیورسٹی چلی ہی گئی۔ آج وہ ہر حال میں یونی جانا چاہتی تھی اور عیسٰی سے بھی ہر حال میں ملنا چاہتی تھی شاید وہ جان گئی تھی کہ اب عیسٰی سے روز روز ملنا قسمت میں نہیں ہے ہو سکتا ہے یہ ان کی آخری ملاقات ہو۔

” عیسٰی رات کو میں نے ایک بہت عجیب سا خواب دیکھا۔” عیسٰی اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھ رہا تھا مگر وہ تو رات کو دیکھے گئے خواب کے بارے میں سوچ رہی تھی شاید اس خواب کے لئے ہی وہ آج یونی آئی تھی۔

” اوہ شاید یہ خواب ہی تمہارے بخار کی وجہ ہے۔” عیسٰی نے استہزائیہ لہجے میں کہا۔

” کیا قرآن میں ہر چیز کے بارے میں لکھا گیا ہے۔” وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بول رہی تھی۔

” ہاں یہ بات تو میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔” وہ پلکیں اٹھا کر اس کے گم سم چہرے کو دیکھنے لگا جس پہ بہت سے سوالات محسوس ہو رہے تھے۔

” کیا محبت اور عشق کے بارے میں بھی لکھا گیا ہے۔” وہ سابقہ لہجے میں بولی۔

” میرے مطابق عشق وہ ہے جس میں ہم خود سے دستبردار ہو جاتے ہیں یہ ہمیشہ سے لا حاصل رہا ہے مگر محبت ایک حاصل چیز ہے اس کا حصول ممکن ہے اور قرآن پاک ایک مکمل کتاب ہے اس میں ہر وہ چیز لکھی گئی ہے جو مکمل ہے شاید اسی لئے میں نے ابھی تک قرآن میں عشق کا لفظ نہیں پڑھا کیونکہ یہ ایک نا مکمل چیز ہے۔” چند سیکنڈ سوچنے کے بعد وہ اپنے اندازے سے اس کے اس سوال کا جواب دینے لگا۔ وہ اس کا جواب سن کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔

” تم نے اپنے خواب کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔” وہ اپنے کھلے ہوئے لیسز کو بند کرنے کے لئے جھکا۔

” میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کوئی پکار رہا ہے وہ آواز بہت جانی پہچانی سی لگ رہی تھی جیسے کوئی میرا اپنا ہو۔۔۔ جیسے ہی میں اسے دیکھنے کے لئے مڑی میری آنکھیں خود ہی بند ہو گئیں کیونکہ میرے پیچھے بہت روشنی تھی اتنی روشنی تھی کہ میرے لئے آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا مجھے یوں لگا جیسے وہ آگ ہے لیکن وہ آگ نہیں تھی وہ کچھ اور ہی تھا میں نے کبھی ایسی روشنی پہلے نہیں دیکھی۔۔۔ اور پھر کسی نے میری بند آنکھوں سے میرا ہاتھ ہٹایا اور کہا پڑھو یہ پڑھو، میرے ہاتھوں کی انگلیاں بے اختیار اس لکھے ہوئے کے اوپر چلنے لگی تھیں۔۔۔ وہ وہ کوئی معمولی کتاب نہیں تھی وہ قرآن تھا اور مجھے اس کا ترجمہ پڑھنے کے لئے کہا جا رہا تھا ابھی میں نے ایک ہی لائن پڑھی تھی کہ میرے سامنے سے وہ روشنی ختم ہو چکی تھی لیکن قرآن کے کناروں سے ابھی بھی وہ روشنی نکل رہی تھی۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہے جب میں نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا تو میرے سامنے کون تھا وہ تمہارا چہرہ تھا وہ محمد عیسٰی علی کا چہرہ تھا جو پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔” وہ بہت سنجیدگی سے بتا رہی تھی آخری الفاظ اس کی آنکھیں نم کر گئے تھے۔ عیسٰی کے تو پسینے چھوٹ رہے تھے۔

” بہت خوش قسمت ہو ۔۔۔ وہ روشنی یقینًا اللّٰلہ کا نور تھی۔” وہ حیرت زدہ اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا اس کے علاوہ اس کے پاس بولنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا وہ نہیں سمجھ پایا کہ اس خواب سے محمد عیسٰی علی کا کیا تعلق ہو سکتا ہے وہ ابھی اس بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے فون پہ کسی کی کال آنے لگی۔ مارگریٹ کا اب پہلے سے بھی زیادہ دم گھٹنے لگا تھا۔ کال پہ زینب بیگم تھیں جو بری طرح سے رو رہی تھیں عیسٰی ایک سائیڈ پہ کھڑا ان سے رونے کی وجہ پوچھ رہا تھا مگر وہ روۓ جا رہی تھیں عیسٰی کسی کو بھی کچھ بھی بتاۓ بغیر پریشانی کے مارے جلدی سے وہاں سے گھر کو روانہ ہوا۔ مارگریٹ کی طبیعت زیادہ خراب ہو جانے کی وجہ سے سٹِفنَس اسے بھی جلد ہی گھر لے آیا۔

عیسٰی کو زینب بیگم نے اسپتال آنے کا کہا تھا وہ تقریباً دس منٹ کی مسافت طے کر کے اسپتال پہنچ چکا تھا وہ تقریباً بھاگتا ہوا کوریڈور کی طرف بڑھا جہاں زینب بیگم بینچ پہ بیٹھی زارو قطار روۓ جا رہی تھیں وہ بھی انہیں دیکھ کر تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔

” ماما۔۔۔ ک کیا ہوا آپ ایسے کیوں رو رہی ہیں۔” عیسٰی کی تو جیسے سانسیں ہی رک گئی تھیں۔ زینب بیگم کے قدموں میں بیٹھا ان کے چہرے کو حیران کن نظروں سے دیکھ رہا تھا مگر زینب بیگم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کچھ بول سکتیں۔

” ماما پلیز کچھ تو بتائیں۔۔۔ میری جان جا رہی ہے پلیز چپ ہو جائیں۔ پاپا اور معاذ کہاں ہیں۔” زینب بیگم کی خاموشی اسے مار رہی تھی وہ بھی زینب بیگم کی گود میں سر جھکاۓ رونے لگا۔

” ڈ ڈاکٹر اسے پ پوسٹ مارٹم کے لئے لے کر گئے ہیں۔” وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھیں۔ عیسٰی نے حیرت سے زینب بیگم کی طرف دیکھا ان کے ساتھ اب عیسٰی کی رنگت بھی زرد پڑ رہی تھی۔ عیسٰی سے مزید کچھ پوچھنے کی ہمت ہی نہیں رہی۔ اسی لمحے معاذ کی ڈیڈ باڈی بھی پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے سامنے آ چکی تھی۔

” معاذ۔” زینب بیگم کے لرزتے ہونٹوں نے سرگوشی کی۔ عیسٰی نے سر اٹھا کر سفید کفن میں لپٹے معاذ کو دیکھا جو اس وقت اسے صرف ایک بھیانک خواب لگ رہا تھا۔ وہ بینچ کے سہارے سے اپنی لرزتی ٹانگوں پہ کھڑا ہوا بمشکل ایک قدم آگے بڑھا پھر دوسرا قدم بے اختیار اس کی جانب بڑھ رہے تھے آنسو تھم چکے تھے۔

” معاذ۔” وہ اس کے چہرے سے کفن ہٹاتے ہوئے بولا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہی آنسو ایک روانی کے ساتھ بہنا شروع ہو گئے تھے جیسے یہ آنسوؤں کی بارش اس کا مقدر ہی بن گئی ہو۔ اس کے لئے یقین کرنا نا ممکن تھا کہ یہ لاش اس کے بھائی معاذ کی ہے۔

” تم تو میرے سگے بھائی تھے پھر کیوں مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔۔۔ م میں اکیلا کیا کروں گا کیسے رہوں گا تمہارے بغیر۔” وہ اس کے ساتھ لپک کر چِلا چِلا کر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا تھا۔ معیز صاحب ریسپشن پہ کچھ فارمیلیٹیز پوری کرنے کے بعد ان کے پاس آ چکے تھے۔ زینب بیگم اور معیز صاحب کی حالت بھی عیسٰی سے کچھ کم نہ تھی آخر جوان بیٹے کی موت کون برداشت کر سکتا ہے۔ ایکسیڈینٹ اتنا برا ہوا تھا کہ معاذ صرف چند منٹ ہی اسپتال میں سانسیں لے سکا تھا۔ زینب بیگم اور معیز صاحب نے بہت مشکل سے عیسٰی کو سنبھالا۔ مارگریٹ کی طبیعت بھی پہلے سے بہت خراب ہو رہی تھی جس وجہ سے سٹِفنَس اور نائکا کو دھیان ہی نہیں رہا کہ عیسٰی کیوں جلدی چلا گیا۔ مغرب کے بعد مارگریٹ کی طبیعت میں بھی کچھ حد تک بہتری آئی تھی تبھی اس نے سٹِفنَس کو بتایا کہ عیسٰی بہت پریشان تھا مگر کیوں یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔ اس کے بعد سٹِفنَس اسے کال کرتا رہا تھا مگر اس وقت اسے فون کی کیا خبر تھی۔ سٹِفنَس بھی اس کی وجہ سے پریشان ہو رہا تھا تھک ہار کر اس نے ہادی کو کال کی۔ کال رسیو ہوتے ہی سٹِفنَس نے عیسٰی کے بارے میں پوچھا جس پہ ہادی حیرت کے مارے بلکل خاموش ہو گیا تھا۔

” کیا ہوا چپ کیوں ہو گئے ہو؟ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔” سٹِفنَس کو اس کی خاموشی بے چین کر رہی تھی وہ اور نائکا اس وقت مارگریٹ کے کمرے میں بیٹھے تھے۔

” کیا تمہیں واقعی میں نہیں پتہ کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟” ہادی نے حیرت سے پوچھا۔

” کیوں ڈرا رہے ہو اگر مجھے کچھ پتہ ہوتا تو تم سے کیوں پوچھتا۔ اب پلیز جلدی سے بتاؤ کیا ہوا اس کے ساتھ۔” سٹِفنَس تپ کے بولا۔ اس کے چہرے پہ پریشانی کے آثار دیکھ کر وہ دونوں بھی پریشان ہوئیں۔

” معاذ کی ڈیتھ ہو گئی ہے کچھ دیر پہلے اس کا جنازہ تھا ابھی وہیں سے ہو کر آ رہا ہوں۔۔۔ مجھے لگا تمہیں پتہ ہو گا شاید جنازے میں شرکت نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے تم نہیں آۓ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا۔” ہادی نے گہری سانس بھری اور دھیمے لہجے میں بولنے لگا۔

” واٹ۔۔۔ لیکن ایسے کیسے۔۔۔ کیسے ڈیتھ ہو گئی؟ ” وہ حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات چہرے پہ لیئے بول رہا تھا۔ بیڈ پہ لیٹی مارگریٹ یہ الفاظ سنتے ہی اٹھ بیٹھی۔ نائکا اور مارگریٹ کی جان تو جیسے کسی نے مٹھی میں قید کر لی ہو۔

” اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ آئی تھنک تم لوگوں کو بھی ضرور اس کے پاس جانا چاہیے۔” ہادی کو مزید کوئی جواب دئیے بغیر اس نے فون بند کر دیا اور غصے سے موبائل بیڈ پہ پٹخا اور دونوں ہاتھوں سے سر جھکاۓ بال نوچنے لگا اس وقت اسے اپنی لاپرواہی پہ غصہ آ رہا تھا کاش وہ کچھ دیر پہلے اسے کال کر لیتا۔

” کیا ہوا ہادی کس کی بات کر رہا تھا۔۔۔”

” بھائی پلیز بتائیں نہ کیا ہوا عیسٰی کو۔۔۔” وہ دونوں بے چینی سے پوچھنے لگیں۔

” معاذ کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔۔۔ میں عیسٰی کے گھر جا رہا ہوں وہ بلکل اکیلا ہو گا۔” وہ روہانسے لہجے میں بولا اور موبائل پکڑ کر بیڈ سے اٹھا۔

” میں میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی۔” نائکا بھی جلدی سے کھڑی ہو گئی۔ سٹِفنَس نے اس کا چہرہ دیکھا جو پریشانی سے نڈھال تھا شاید وہ سٹِفنَس سے بھی زیادہ پریشان تھی اس لئے وہ اسے منع بھی نہ کر سکا اور سر اثبات میں ہلانے لگا۔

” بھائی پلیز مجھے بھی لے جائیں وہ کیا سوچے گا۔” مارگریٹ بھی اصرار کرنے لگی۔

” ہاں سوچتا تو ہو گا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں گیا اس سے تعزیت کرنے۔” سٹِفنَس بہت پچھتا رہا تھا۔ وہ تینوں سلیمان صاحب کے کمرے میں گئے اور انہیں ساری بات بتائی اور انہیں جانے کی اجازت دی وہ خود کسی اور دن جانے کے ارادے سے گھر ہی رکے۔ عیسٰی کے گھر میں بلکل سناٹا تھا ملازمہ نے انہیں بتایا کہ زینب بیگم کو نیند کی گولی دے کر سُلا دیا گیا ہے اور معیز صاحب مسجد میں جا چکے ہیں ۔ وہ تینوں عیسٰی کے کمرے کی جانب بڑھے لیکن ملازمہ نے انہیں روک دیا اور بتایا کہ وہ اس وقت معاذ کے کمرے میں ہے تو وہ تینوں معاذ کے کمرے کی جانب بڑھے۔ کمرے کی لائٹ آن تھی عیسٰی زندہ لاش بنا بیڈ سے ٹیک لگاۓ نیچے بیٹھا تھا۔ اس وقت معیز صاحب اور حافظ عبداللہ مسجد جانے سے پہلے اسے زبردستی قبرستان سے گھر لیکر آۓ تھے جس وجہ سے اس کے کپڑے مٹی سے بھرے پڑے تھے وہ تینوں بھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گئے عیسٰی کی زرد رنگت اور ایسی حالت دیکھ کر ان تینوں کی آنکھوں میں آنسو آ نے لگے تھے۔

” عیسٰی۔” سٹِفنَس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ عیسٰی نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔

” وی آر ریئلی سوری۔” سٹِفنَس نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پہ پھیرا تو وہ پھر سے اس کے ساتھ لپک کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

_________

” وہ میرا سگا بھائی تھا پھر بھی مجھے اکیلا چھوڑ گیا۔” وہ سسکتے ہوئے بول رہا تھا۔ اس کے آنسو تو سب دیکھ سکتے تھے مگر اس کا دل معاذ کے لئے کیسے تڑپ رہا تھا یہ تو صرف وہی جانتا تھا۔

” ہاں وہ تمہارا سگا بھائی تھا۔۔۔ میں معاذ کی کمی تو پوری نہیں کر سکتا لیکن ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا تمہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔” سٹِفنَس نے اسے گلے لگایا اور چپ کرانے لگا لیکن آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

” اسے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا تھا اور میں۔۔۔ میں اسے خود اندھیرے میں چھوڑ آیا۔” سٹِفنَس نے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا اس میں بھی اب مزید کچھ بولنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی کیونکہ وہ خود کو اس کی جگہ رکھ کر اس کی تکلیف محسوس کر سکتا تھا۔ اس کے آنسو دیکھ کر نائکا اور مارگریٹ کا دل بڑی شدت سے کانپ رہا تھا وہ دونوں بولی کچھ بھی نہیں بس اسے دیکھ کر چپ چاپ آنسو بہاتی رہیں۔ کافی وقت گزر جانے کے بعد معیز صاحب اور حافظ عبداللہ بھی گھر آ گئے۔ وہ تینوں بھی معیز صاحب سے ملکر واپس گھر چلے گئے۔ معیز صاحب معاذ کے کمرے میں نہیں گئے کیونکہ عیسٰی کو ایسی حالت میں دیکھنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ لیکن حافظ عبداللہ گھر آتے ہی سب سے پہلے عیسٰی کے پاس گئے اور ان تینوں کو گھر جانے کا کہا کیونکہ وقت بہت زیادہ ہو چکا تھا ورنہ وہ شاید ساری رات عیسٰی کے پاس ہی بیٹھے رہتے۔ حافظ عبداللہ نے عیسٰی کو سہارا دے کر بیڈ پہ بیٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *