Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan NovelR50702 Ishq Be Mazhab (Episode 01)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Be Mazhab (Episode 01)
Ishq Be Mazhab by Samreen Ehsaan
اس وقت مری میں شدید برف باری ہو رہی تھی جب وہ اپنی کلاس میں بیٹھی کھڑکی سے جھانک رہی تھی۔ کالج سے کچھ فاصلے پر سڑک پر چلتے لوگ نمایاں نظر آ رہے تھے۔۔۔ سب لوگ برف باری سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔ سڑک کی دونوں جانب درختوں پہ پڑھی برف یوں معلوم ہوتی جیسے کوئی سفید چادر تنی ہو۔۔۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کو برف کے گولے بنا کر مار رہے تھے۔۔۔ وہ بڑی دلچسپی سے یہ سب مناظر دیکھ کر خوش کم دکھی زیادہ ہو رہی تھی، جب اس کی کلاس فیلو باہر اس کا انتظار کرتے ہوئے اندر آئی۔
” نائکا ۔۔۔ آج کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں؟ میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہوں۔۔۔ چلو نیچے چلتے ہیں۔”
سمیرا نے اس کا ہاتھ تھاما اور زبردستی اسے باہر لے گئ۔۔۔ نائکا کلاس ون سے مری کے ایک بورڈنگ سکول میں رہی تھی لیکن میٹرک کے بعد اسے سکول چھوڑ کر کالج آنا پڑا۔ ایک ہفتہ پہلے ہی اس کی ایف۔ایس۔سی کی کلاسز اسٹارٹ ہوئی تھیں۔ مہینے میں دو تین بار وہ اسلام آباد کا چکر ضرور لگاتی۔
” بتاؤ، کیا کھاؤ گی؟ ” سمیرا اس کا ہاتھ تھامے کیفے ٹیریا لے آئی۔
” مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔ اگر تمہیں کچھ کھانا ہے تو کھا سکتی ہو۔ ”
نائکا نے قدرے بے رخی سے کہا اور گردن دوسری جانب پھیر لی۔
” آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ جب دیکھو کھڑکی کے ساتھ ہی چپٹی رہتی ہو۔۔۔ اتنے سالوں سے مری میں رہ رہی ہو پھر بھی برف باری ایسے دیکھتی ہو گویا پہلی بار دیکھ رہی ہو۔ ”
سمیرا نے حیرت سے پوچھا۔ اسے نائکا کی بے رخی بہت ناگوار گزری تھی۔
” میں صرف برف دیکھنے کے لیئے نہیں مرتی۔ ” نائکا نے سابقہ لہجے میں کہا۔ وہ سمیرا کا چہرہ نہیں دیکھ رہی تھی۔
” اچھا۔ تو پھر کس پہ مرتی ہو ؟ بتاؤ۔۔۔ ” سمیرا اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر نائکا جوابًا کچھ نہیں بول پائی۔
” نائکا۔۔۔ گزرا ہوا وقت کبھی بھی واپس نہیں آسکتا۔۔۔ پلیز اب تم بھی بھول جاؤ سب کچھ۔۔۔ زندگی بہت حسین ہے اسے ایسے ضائع مت کرو، پرانی یادیں نئے لوگوں کے ساتھ تازہ کرو۔۔۔ وہ سب کرو جو تم کرنا چاہتی تھی اپنی دنیا چند لوگوں تک محدور نہ کر رکھو۔۔۔ اور اچھی یادوں کو یاد کر کے خوش ہوا جاتا ہے نا کہ مایوس پلیز بدلو خود کو۔” سمیرا نے نرم لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
کبھی کبھی بہت اچھی یادیں بھی بہت بری لگتی ہیں۔۔۔ جنہیں یاد کر کے صرف تکلیف ہوتی ہے میں کیسے بھول جاؤں انہیں۔۔۔ میری زندگی سے جڑی ہر چیز مجھے ان کی یاد دلاتی ہے۔ وہ بورڈ نگ سکول، وہ چرچ جس کے لان میں ہم کھیلتے تھے، یہ برف جس پہ ہم ایک دوسرے سے لڑتے تھے، وہ سڑکیں جہاں ہم ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے تھے، وہ گھر جہاں ہم اتنے سالوں سے ایک ساتھ رہے تھے، شاید موت سے پہلے میں یہ سب نہیں بھول سکتی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔” ”نائکا کی آنکھوں کے گوشے نم ہو چکے تھے اور ناک سرخ ہو رہی تھی۔ مری کا کونہ کونہ ایک ساتھ دیکھا تھا پھر مری میں رہتے ہوئے وہ کیسے ان کو بھول سکتی تھی۔
” پتہ نہیں ان کو تم یاد بھی ہو گی یا نہیں، اتنے سالوں میں تو ان کو مری بھی بھول چکا ہوگا۔۔۔ نئے دوست مل گئے ہوں گے،اور سٹِفنَس تو ویسے بھی تم سے بڑا ہے، دو تین سال۔۔۔ کراچی جانے کے بعد جلد ہی اپنی نئی دنیا میں مصروف ہو گیا ہو گا۔” سمیرا نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
”وہ لوگ مجھے کبھی نہیں بھول سکتے، مجھے پورا یقین ہے وہ لوگ بھی مجھے بہت یاد کرتے ہوں گے۔۔۔ ان کی زندگی میں چاہے جتنے مرضی نئے لوگ آ جائیں وہ مجھے کبھی بھی نہیں بھولیں گے۔۔۔ مجھے یاد ہے جب ان کی نانو اُن کو زبردستی اپنے ساتھ کراچی لیکر گئی تھیں، بہت روئے تھے دونوں۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ایڈجسٹ کیا ہو گا ان لوگوں نے خود کو۔۔۔ نئ جگہ نئے ماحول میں۔” نائکا کی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ موتیوں کی مانند گرنے لگے تھے۔
”نائکا۔۔۔ اچھے کی امید رکھو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، اگر اللّٰلہ نے چاہا تو وہ لوگ کبھی نہ کبھی واپس آ جائیں گے۔۔۔ ایسے رونے کا کوئی فائدہ نہیں، بس دعا کیا کرو کہ وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں۔۔۔ چلو اب کلاس میں چلتے ہیں لیکچر اسٹارٹ ہونے والا ہے۔” سمیرا نے اس کے آنسو پونچھےاور اپنی نشست سے اٹھی۔ نائکا نے بھی اثبات میں سر ہلایا اور سمیرا کے ساتھ کیفے ٹیریا سے باہر چلی گئی۔
_________________
سترہ سالہ محمد عیسٰی علی جو اپنی گوری چمکتی دھمکتی رنگت لئے اپنی درمیانی مگر روشن پیشانی پہ نرم سیاہ بال جو دھوپ میں ڈارک براؤن شیڈ دیتے تھے سرکائے بڑے سے لاؤنج میں صوفے پہ بیٹھا تھا۔ وہ اپنی گہری شربتی لمبی آنکھوں سے سامنے بیٹھے شخص جو کہ اس کے والد محترم تھے، کو پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل گھور رہا تھا۔ کچھ بولنا چاہتا تھا مگر ہمت ساتھ نہیں دے پا رہی تھی۔ بالآخر سر جھٹک کر اس نے بڑی ہمت باندھی اور اپنے لب کھولے۔
” پاپا۔۔۔ اگر میں فیل ہو گیا تو دوبارہ اسی سکول نہیں جاؤں گا جو مرضی ہو جائے۔۔۔ سب لڑکے میرا مذاق اڑائیں گے۔” عیسٰی بچوں جیسے ضد کرنے کے انداز میں بولا۔
” اگر تمہیں اس چیز کی ذرہ بھی پرواہ ہوتی تو تم محنت کرتے اور رزلٹ سے پہلے ہی فیل ہونے کی باتیں نہ کرتے” معیز صاحب اخبار کا ورق پلٹتے ہوئے بولے۔
” پاپا میں تو بس۔۔۔”
” اب بند کرو اپنی یہ ڈرامہ بازی، تمہارا تو کام بن گیا ہے ہمیشہ رزلٹ سے پہلے ایسی بکواس کرنے کا۔” معیز صاحب اخبار سے نظریں ہٹا کر اسے گھورنے لگے۔
” پاپا میں تو بس اس لئے کہہ رہا تھا کیونکہ۔۔۔ کیونکہ کچھ ہی دن پہلے میں نے ٹی۔وی پہ کسی بورڈ کا رزلٹ دیکھا، بہت ہی برا رزلٹ تھا۔۔۔ بس اس لئے تھوڑا ڈر گیا تھا۔” اس کی آواز بہ نسبت پہلے قدرے دھیمی ہوئی تھی۔ وہ یقینًا اپنے کہے پہ پچھتا رہا تھا۔ وہ موضوع بدلنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
” جتنا تم رزلٹ سے ڈرتے ہو اگر اتنا ہی اپنے باپ سے بھی ڈرو تو یقینًا تمہارے لئے بہتر ہو گا۔” معیز صاحب نے اخبار بند کر کے میز پہ رکھی اور اسے اگنور کرتے ہوئے لاؤنج سے باہر چلے گئے۔
وہ وہیں صوفے پہ مایوسی سے بیٹھ گیا۔ اپنے دونوں ہاتھ گالوں پہ رکھ کر اب اخبار کو گھورنے لگا۔ دوسری جانب سے کسی کے قہقہوں کی آواز گونجنے لگی۔ اس نے کہنیاں اپنے گھٹنوں پہ رکھتے ہوئے گردن گھمائی، بائیں جانب اس کا چھوٹا بھائی معاذ اس کی طرف ہاتھ کے اشارے سے قہقہے لگا رہا تھا۔ اب وہ اخبار کو چھوڑ کے معاذ کو گھورنے لگا۔۔۔ بیچارے کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا۔ معیز صاحب اور عیسٰی کی گفتگو کے بعد معاذ اس کی بےعزتی پر ایسے ہی ہنستا تھا۔۔۔ عیسٰی نے اشتعال میں کشن پکڑا اور معاذ کے سر پہ دے مارا۔
” بڑے دانت نکل رہے ہیں، جب تمہارا رزلٹ آئے گا پھر دیکھوں گا۔۔۔” عیسٰی غصے میں دھاڑا تھا۔
” کیا ہو گیا ہے، کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے۔” عیسٰی کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی جسے سن کے زینب بیگم کیچن سے لاؤنج میں آئیں۔
” ماما اس معاذ کے بچے کو بولیں ابھی یہاں سے چلا جائے ورنہ میں اس کا سر پھاڑ دوں گا۔” عیسٰی پھر سے دھاڑا تھا۔اس کی دھاڑ پہ معاذ نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھ دیئے۔
” معاذ۔۔۔ تم سے کتنی دفعہ بولا ہے کہ بڑے بھائی کو تنگ نہ کیا کرو، ابھی اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔ فوراً۔” زینب بیگم نے معاذ کو ڈانٹتے ہوئے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا۔
” بڑا بھائی بڑا بھائی۔۔۔ ہوں۔” معاذ منہ بسورتے ہوئے کمرے کی طرف چلا گیا۔
زینب بیگم عیسٰی کے پاس صوفے پہ بیٹھ گئیں۔ عیسٰی اپنا سر زینب بیگم کی گود میں رکھ کے لیٹ گیا۔ زینب اس کے نرم بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
” کیا ہوا میرے بیٹے کو؟ کیوں اتنے غصے میں ہو؟ ” زینب بیگم نے گود میں رکھے اُس کے سر کو چوما۔
” ایک دشمن جاتا نہیں کہ دوسرا آجاتا ہے۔۔۔ یہ دونوں ہی میرے دشمن ہیں۔” عیسٰی نے آنکھیں کھول کر زینب کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
” نہیں میری جان، وہ تمہارے دشمن نہیں ہیں۔ تمہارے پاپا تو تم سے بہت پیار کرتے ہیں اسی لیئے تو تمہیں برے کاموں سے روکتے ہیں۔۔۔ اور معاذ ابھی بچہ ہے بڑا ہو گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ تم تو میرے بہت ہی اچھے اور پیارے بیٹے ہو بھلا تمہارا کوئی کیسے دشمن ہو سکتا ہے۔۔۔ چلو اب اچھے بچوں کی طرح اُٹھو اور وضو کرو، تمہارا موڈ اچھا ہو میں بھی وضو کر لوں اذان ہو رہی ہے۔” زینب بیگم نے اس کا سر اپنے ہاتھوں سے ذرا دبایا اور اسے صوفہ سے اٹھنے کے لئے کہا۔ وہ چپ چاپ آنکھیں موندے ان کی بات سن رہا تھا۔ عیسٰی اپنی ماما سے بہت مانوس تھا اور پاپا سے تو کبھی اس کی بنی ہی نہیں۔
وہ عمر کے لحاظ سے چھوٹا تھا مگر اس کا قدوجسامت دیکھ کے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ سترہ سالہ لڑکا ہے
________________
صبح کی ٹھنڈی تازہ ہوا میں وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے لان میں ٹہل رہی تھی، سکارف گلے میں مفلر کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ وہ ایک کشادہ اور بہت خوبصورت لان تھا جس کی دونوں طرف پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں، ایک طرف راہداری کیلئے جگہ مخصوص کر رکھی تھی، درمیان میں ایک میز اور اس کے اردگرد چند کرسیاں دائرے کی شکل میں پڑی تھیں۔۔۔ سورج ابھی نمودار ہو رہا تھا۔ صبح کی شبنم پھولوں کی پتیوں پر سورج کی کرنیں سے موتیوں کی مانند چمک رہی تھی۔ پرندے اپنی اپنی طرز میں اللّٰلہ کی حمدوثنا میں مصروف تھے۔ وہ بھی اپنے خیالوں میں مگن نا جانے کتنی ہی دیر فطرت کو محسوس کرتی رہی۔
” ارے تم یہاں ٹہل رہی ہو اندر ابو تمہارا ڈائننگ ٹیبل پے انتظار کر رہے ہیں۔” اپنی بڑی بہن ہائکا کی آواز پہ وہ چونکی اور سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ اندر چلی گئی۔
” شادی میں بس چند ہفتے ہی باقی ہیں جو بھی شاپنگ کرنی ہے جلد از جلد کر لیں، شادی کی اور بھی بہت سی تیاریاں کرنی ہیں۔” وہ تینوں ڈائننگ ٹیبل پے ناشتہ کر رہے تھے جب اس کے ابو نے اس بات کا اعلان کیا۔
نائکا اس دن اپنا ویک اینڈ گزارنے اسلام آباد آئی تھی اور اگلے ہی دن اسے واپس ہاسٹل جانا تھا۔ ابھی اس کی ایف۔ایس۔سی کی کلاسز اسٹارٹ ہوئی تھیں اس لیئے وہ ابھی چھٹیاں لے کر کوئی لیکچر مس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیئے اس نے سوچا کہ وہ ہائکا کی شادی کی شاپنگ مری رہ کر کرے گی۔
جیسے ہر انسان اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے پوری زندگی جدوجہد کرتا رہتا ہے ویسے ہی نائکا بھی اپنی زندگی کا مقصد تلاش کر چکی تھی جس پر عمل کر کے وہ اپنی زندگی کو کامیاب ترین بنانا چاہتی تھی۔ ابھی اس کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا، ڈاکٹر بننا۔ لیکن یہ خواب اسے ہمیشہ سٹِفنَس کی یاد دلاتا جسے ڈاکٹر بننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا مگر نائکا کی اس خواہش کے آگے اپنی ہر خواہش کو قربان کر چکا تھا۔ دونوں نے ایک ساتھ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھنے کا ارادہ کیا تھا۔ بہت ذہین ہونے کے باوجود بھی وہ ایک ہی کلاس میں دو بار فیل ہو چکا تھا صرف اس لیئے کہ نائکا اور وہ ایک ساتھ چلیں، دونوں ایک جیسا پڑھیں۔ اور اس کی چھوٹی بہن مارگریٹ بھی نائکا کے ساتھ ایک ہی کلاس میں پڑھتی رہی تھی۔مگر پانچ سال پہلے ایک کار ایکسیڈینٹ میں سٹِفنَس اور مارگریٹ کے ماما پاپا چل بسے اور ایک سال بعد نائکا کی امی بھی بلڈ کینسر کی وجہ سے چل بسیں۔ سٹِفنَس کی نانو اپنا اکیلا پن دور کرنے کے لئے ان دونوں کو زبردستی اپنے ساتھ کراچی لے گئیں۔ اور نائکا جس کا بچپن ان کے ساتھ ایک ہی گھر میں گزرہ تھا ان کے جانے کے بعد بہت اکیلی ہو گئی تھی۔
_____________________________
”واہ بھائی، تم تو پاس ہو گئے۔ کیا میٹرک اتنا آسان ہے کہ بندہ بغیر پڑھے بھی پاس ہو سکتا ہے؟ تمہیں تو میں نے کبھی پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہاں، نہ پڑھنے کی وجہ سے ڈانٹ پڑتے ضرور سنا ہے۔ پھر تم پاس کیسے ہو گئے؟” معاذ عیسٰی کا رزلٹ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ معاذ خود آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جو پڑھائی کے معاملے میں ہمیشہ سے بہت محنتی رہا تھا۔ مگر عیسٰی ذہین تو بہت تھا لیکن محنتی بلکل بھی نہیں۔
عیسٰی بہت اچھے نمبر تو نہیں لے سکا لیکن اسے اس بات کی خوشی تھی کہ کم ازکم وہ پاس تو ہو گیا۔ وہ معاذ کی باتوں پر غور نہیں کر رہا تھا کیونکہ اس وقت اسے بس یہی فکر تھی کہ پاپا کا ری ایکشن کیا ہو گیا۔
” کبھی کبھی انسان کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں اس لئے وقت سے پہلے خود کو کسی بھی چیز کے بارے میں بدگماں نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ خیر تمہاری خوشی قسمتی ہے کہ تم پاس ہو گئے ورنہ تمہارے ایسے کوئی ارادے نہیں تھے۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ تم اس بار بھی نہ چاہتے ہوئے بھی پاس ہو گئے۔” معیز صاحب نے رزلٹ دیکھ کر نرم لہجے میں کہا کیونکہ سختی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
“Thank you papa!” عیسٰی نادم سا مگر خوشی سے بولا۔
معیز صاحب چاہتے تھے کہ عیسٰی آگے ایف۔ایس۔سی کرے۔ ڈاکٹر بننے کا اُن کا اپنا خواب کسی دردناک وجہ سے پورا نہ ہو سکا لیکن اب وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتے تھے اور معاذ کو بزنس مین جو ان کا بزنس ہینڈل کر سکے۔ مگر محمد عیسٰی علی اپنے باپ کی کہی کوئی بات خاموشی سے مان لے ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ آرمی جوائن کرنا چاہتا تھا۔
” اچھا ، تو آپ آگے ایف۔ایس۔سی کرنا چاہتے ہو؟” کالج کے پروفیسر نے عیسٰی سے مخاطب ہو کے پوچھا، جب معیز صاحب اسے زبردستی ایڈمشن کے لئے لے کر گئے۔ رزلٹ سے اگلے دن معیز صاحب اسے لاہور کے ایک اعلٰی میڈیکل کالج میں ایڈمشن کےلئے لے گئے۔
” نہیں۔۔۔ میں ایف۔ایس۔سی نہیں کرنا چاہتا میں آرمی جوائن کرنا چاہتا ہوں۔ ایف۔ایس۔سی تو پاپا کی خواہش ہے میری نہیں۔۔۔ میرا اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔” عیسٰی بےدھڑک ان دونوں کے سامنے بولتا گیا وہ سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا۔ معیز صاحب کو شدید غصہ آ رہا تھا مگر پروفیسر کا لحاظ کرنا پڑا۔
” مسٹر معیز علی۔۔۔ اگر آپ کا بچہ میڈیکل پڑھنے میں انٹرسٹڈ نہیں ہے تو یہ آگے کیسے پڑھے گا، آپ اسے آرمی میں ہی جانے دیں۔۔۔ ہم بھی بچے کو زبردستی نہیں رکھ سکتے” پروفیسر صاحب نرم لہجے میں بولے۔
عیسٰی بڑی لاپرواہی سے آفس کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی نظریں آفس میں پڑی ہر چیز تک جا رہی تھیں سوائے پروفیسر اور معیز صاحب کے چہرے کے۔
” نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ ابھی یہ بچہ ہے اسے ابھی اتنی سمجھ نہیں کہ اس کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ میں اسے سمجھاؤں گا اور یہیں دوبارہ لیکر آؤں گا۔۔۔ پلیز آپ اس کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔” معیز صاحب نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔ ان کے ماتھے پہ پڑی شکنیں بتا رہیں تھیں کہ عیسٰی پہ کس قدر غصہ ہیں۔ پورے راستے وہ دونوں چپ چاپ گاڑی میں بیٹھے رہے۔ عیسٰی لاپرواہی سے ونڈ سکرین پہ نظریں جمائے، دل میں معیز صاحب کے لئے تھوڑا سا خوف لئے بیٹھا رہا۔
” آخر تمہیں تکلیف کیا ہے میڈیکل پڑھتے ہوئے۔۔۔ راحیل کو دیکھو، وہ بھی تو میڈیکل پڑھ رہا ہے اور کتنا فرمانبردار بچہ ہے ماں باپ کی کہی کوئی بات نہیں ٹالتا۔۔۔ اور ایک تم ہو کہ باہر والوں کے سامنے گھر والوں کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔ ” گھر پہنچتے ہی معیز صاحب عیسٰی پہ برس پڑے۔
” معیز۔۔۔ سنبھالیں خود کو، عیسٰی ابھی نا سمجھ ہے وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ” ہمیشہ کی طرح اس بار بھی زینب بیگم نے معیز صاحب کا غصہ دیکھتے ہوئے عیسٰی کی حمایت کی۔ جبکہ عیسٰی خاموشی سے ان دونوں کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال رہا تھا، اُس پہ ان کے غصے کا کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا تھا۔ اور عیسٰی کی خوش قسمتی کہ آج معاذ گھر نہیں تھا۔
” تم تو اس کی ماں ہو اور اسے سمجھانے کی بجاۓ تم مجھے چپ کرا رہی ہو۔۔۔ یہ سب تمہارے بے جا لاڈ پیار کا نتیجہ ہے کہ اتنی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بھی مجال ہے جو میری کوئی بات مان لے۔ ” معیز صاحب جزبز ہوئے اور لمبے ڈگ بھرتے باہر چلےگئے۔
” کم ازکم پروفیسر کے سامنے تو ایسے دو ٹوک بات نہیں کرنی چاہیے تھی، اپنے باپ کو دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا۔ ” زینب بیگم اسے گھورتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولیں۔ زینب بیگم کے یہ الفاظ سنتے ہی عیسٰی بے اختیار ہنس دیا۔ اس نے شکر کیا کہ پاپا باہر چلےگئے ورنہ ان کا لیکچر مزید سننا پڑھتا جو وہ نہیں چاہتا تھا۔
” ماما اگر میں پروفیسر کے سامنے یہ سب نہ کہتا تو پاپا اسی وقت وہیں پہ میرا ایڈ مشن کرا دیتے، اور آپ کو تو پتہ ہے نا مجھے ڈاکٹر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ” عیسٰی نے اپنے لہجے میں ذرا سنجیدگی لانے کی کوشش کی۔
” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ میں تمہارے پاپا سے بات کروں گی۔” پہلے تو زینب بیگم کو اس کے بیکار ہنسنے پر غصہ آیا پھر اچانک سے یہ سوچتے ہوئے غصہ پی گئیں کہ اس پہ کون سا ان کے غصے کا کوئی اثر ہونے والا ہے۔
” Thank you Mama!” اس نے زینب کا گال چوما اور تیزی سے زینے چڑھتے اپنے کمرے کی جانب بھاگا۔
” پتہ نہیں یہ لڑکا کس پہ چلا گیا ہے۔” زینب بیگم منہ میں بڑبڑائیں۔
