61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

Episode #09
ہانی سن!
نور نے ہانیہ کے پاس آکر کہا جو سیلفی لینے میں مگن تھی۔
ارے نور کہاں چلیں گئی تھی۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔جلدی سے پوز دے۔۔
ہانیہ نے نور کو اپنے برابر میں کھڑا کرتے ہوئے کہا پھر نور کے کندھے پر اپنی کوہنی رکھ کر پاؤٹ بنا کر سیلفی لینے لگی۔
ہانی بات تو سن یار۔۔۔
نور نے پھر اس سے کہا
ہاں ہاں۔۔۔۔بول سُن رہی ہوں۔۔۔
ہانیہ نے موبائل پر اپنی اور نور کی پِکس کو دیکھتے ہوئے بولا
ہانی یہ جو وجدان بھائی ہیں نہ۔۔۔۔مجھے یہ ٹھیک نہیں لگتے۔۔۔۔۔۔۔پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ یہ ہم سب کے سامنے اچھا بننے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ابھی پتا ہے جب میں پانی لینے گئی تو میں نے انہیں دیکھا یہ کسی کو بکری۔۔۔۔۔۔
نور جو اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی ہانیہ پر نظر پڑتے ہی حیران رہ گئی جو سامنے لڑکوں کے گروپ میں کھڑے ایک لڑکے کو دیکھنے میں مگن تھی۔
ہانی۔۔
نور کے پکارنے پر بھی جب وہ ایسے ہی کھڑے رہی تو نور تپ اٹھی۔۔
مجھے لگتا ہے میں تم سے بات نہیں کررہی بلکہ دیوار پر اپنا سر پھوڑ رہی ہوں۔۔۔۔
نور کے تیز آواز میں کہنے پر ہانیہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئی۔۔
کس کا سر پھوٹا!!
ہانیہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو نور کا دل چاہا اسی کا سر پھوڑ دے۔۔
میرااا۔۔۔
نور نے دانت پیس کر کہا پھر پیر پٹختے ہوئے چلی گئی۔
اسے کیا ہوا۔۔
ہانیہ نے حیرت سے سوچا
لیڈیز اینڈ ڈینٹل مین!!
ہادی کے مائک پہ کہنے پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے
جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں۔۔۔۔۔آج ہمارے گھر میں دو دو منگنیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہمارے پیارے تامی عرف التمش بھائی کی نیہا بھابھی کے ساتھ اور ہماری پیاری مشی عرف مشال کی وجدان کے ساتھ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں آپ لوگ بے صبری سے منگنی کی رسم کا انتظار کررہے ہوں گے مگر اس سے پہلے کچھ فن ہوجائے۔۔۔۔
ویسے میرے ٹائپ کا فن بہت فنی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بٹ آج ہم مشال کے ٹائپ کا فن کرینگے۔۔۔۔مشال کو شاعری بہت پسند ہے تو کیوں نہ منگنی کی رسم سے پہلے تھوڑا شاعری مقابلہ ہوجائے۔۔۔۔۔
ہادی کی بات پر سب نے بھر پور تالیاں بجائیں جبکہ وجدان نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔اور نیہا کو بہت غصہ آیا اسے شاعری سے بڑی چڑ تھی۔۔۔۔۔
اب جیسا کے میں نے کہا کہ مشال کو شاعری بہت پسند ہے تو پہلا شعر مشال سنائے گی۔۔۔
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا پھر مائک رکھ دیا
سب نے بیک وقت مشال کو دیکھا تو وہ تھوڑی کنفیوز ہوگئی پھر اسکی نظر التمش پر پڑی جو ہلکی مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔مشال نے سر جھکا کر گہرا سانس لیا۔۔۔پھر التمش کو دیکھتے ہوئے کہا
“ہمارے ہر راز کا جو ہم راز ہے،”
“جو سایہ بن کر ہر پل ہمارے ساتھ ہے،”
“ہماری ہر خوشیوں کا جو حقدار ہے،”
“تُو ہی سچا دوست اور لاجواب یار ہے۔”
مشال کے شعر ختم کرنے پر التمش کے چہرے پر مسکراہٹ اور بڑھ گئی۔۔اس نے مسکراتے ہوئے مشال کو دیکھ کر کہا
“لبوں کی ہنسی تیرے نام کر دینگے،”
“ہر خوشی تجھ پہ قربان کر دینگے،”
“جس دن ہوگی کمی میری دوستی میں،”
“زندگی کو موت کے نام کردینگے۔”
التمش کے کہنے پر مشال بھی مسکرادی جبکہ ان دونوں کو مسکراتا دیکھ کر نیہا نے مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا تبھی وجدان نے ان دونوں کو دیکھ کر مشال کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کہا۔۔
“فاصلے مِٹا کر دلوں میں پیار رکھنا،”
“دوستی کا رشتہ یونہی برقرار رکھنا،”
“مانا کہ بہت پیارے دوست ہیں آپکے،”
“پر ان سب کے ساتھ اس ناچیز کو بھی یاد رکھنا۔”
وجدان کے شعر پر مشال دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھنے لگی تبھی نور نے پیچھے سے مشال کو پکڑ کر کہا
“آپ کے پاس دوستوں کا خزانہ ہے،”
“یہ دوست آپکا پرانہ ہے،”
“اس دوست کو بُھلا نہ دینا کبھی،”
“کیونکہ یہ دوست آپکی دوستی کا دیوانہ ہے۔”
نور کا اشارہ التمش کی طرف تھا جسے سمجھتے ہوئے مشال نے التمش کو دیکھتے ہوئے کہا
“آپکی دوستی کو احسان مانتے ہیں،”
“اسے نبھانا اپنا ایمان مانتے ہیں،”
“لیکن ہم وہ نہیں جو دوستی میں اپنی جان دیں،”
“کیونکہ آپکی دوستی کو ہم اپنی جان مانتے ہیں۔”
مشال کی بات پر جہاں التمش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہیں وجدان نے مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا جو اسے نور پر آیا تھا،اس نے پھر مشال کی توجہ اپنی طرف راغب کرنی چاہی۔
“لفظوں میں کیا تعریف کروں آپکی،”
“آپ لفظوں میں کیسے سما پاؤ گے،”
“جب لوگ ہمارے پیار کے بارے میں پوچھیں گے،”
“میری آنکھوں میں اے “ہم نوا” صرف تم ہی نظر آؤگے۔”
وجدان کے شعر پر مشال نے پلکیں جھکالیں۔۔۔
تبھی التمش کے سامنے نیہا نے آکر کہا۔۔
کم آن تامی۔۔۔اب میرے لیے بھی ایک شعر کہو نا!!
نیہا کے کہنے پر التمش نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر بولنا شروع کیا۔۔
“آنکھوں کی گہرائی کو سمجھ نہیں سکتے،”
“ہونٹوں سے کچھ کہہ نہیں سکتے،”
“کیسے بیاں کریں تجھ کو یہ حالِ دل اپنا،”
“تو ہی ہے وہ جسکے بغیر ہم رہ نہیں سکتے۔”
التمش کے شعر بولنے پر نیہا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی مگر اگلے ہی لمحے اسکی مسکراہٹ سمٹ گئی،جب اسنے دیکھا کہ التمش یہ شعر مشال کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
اسے اپنے وجود میں انگارے بھرتے ہوئے محسوس ہوئے۔
جبکہ وجدان نے فیاض میر صاحب (نیہا کے باپ) کو اشارہ دیا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بلند آواز میں کہا
بھئی۔۔سب نے بہت اچھے شعر سنائے۔۔۔۔پر اب وقت کا ضیائع نہ کرتے ہوئے آغاجان کی اجازت سے منگنی کی رسم شروع کر دینی چاہیے۔۔
میر صاحب نے کہتے ہوئے حیدر صاحب کی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
پہلے التمش اور نیہا کی منگنی کی رسم شروع ہوئی۔۔۔۔
نیہا کو رنگ پہناتے وقت التمش کے چہرہ بلکل سپاٹ تھا،پتا نہیں کیوں اسے کوئی خوشی ہی نہیں تھی۔
جبکہ نیہا نے اسے مسکراتے ہوئے رنگ پہنائی۔۔
پھر وجدان اور مشال کی رسم ہوئی۔۔۔
وجدان نے مشال کو پھر مشال نے وجدان کو رنگ پہنادی۔۔۔
دونوں ساتھ کھڑے مسکرارہے تھے۔۔۔۔
کتنے اچھے لگ رہے ہیں نہ دونوں۔۔۔
نیہا نے التمش کے بازو سے تقریباً چپکتے ہوئے خوشی سے کہا
نیہا کے کہنے پر التمش نے مشال کو دیکھا جو ایک نظر وجدان کو دیکھ کر پلکیں نیچے جھکا کر مسکرارہی تھی۔مسکراتے ہوئے مشال کے چہرے پر گلال بکھرا۔۔۔
ناجانے کیوں التمش کو بُرا لگا۔۔۔۔ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ مشال کی خوشی پر وہ خوش نہیں تھا۔۔۔۔
ایک چبھن سی ہوئی تھی اسکے سینے میں۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔
بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا
اپنے کہے الفاظوں پر وہ خود حیران ہوا تھا۔
کیا نہیں ہو سکتا۔۔۔
نیہا نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا
تبھی مشال نے التمش کی طرف دیکھا،وہ کوشش کے باوجود بھی نہیں مسکراپایا۔۔۔
مشال نے اشارہ سے اسے بلایا پر وہ یہ منظر زیادہ دیر نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔اسی لیے نیہا سے بازو چھڑواکر مشال کے اشارے کو نظر انداز کرتا ہوا باہر کی طرف چل دیا۔۔
جبکہ نیہا کے ساتھ ساتھ مشال کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔شاید زندگی میں پہلی دفعہ التمش نے اسے اگنور کیا تھا۔۔۔
مشال نے نیہا کی طرف دیکھا جو زبردستی اسے سمائل دے کر التمش کے پیچھے باہر کی طرف چل دی۔۔
تامی رکو۔۔
ہوا کیا ہے؟بتاؤ تو۔۔۔
نیہا اسکے پیچھے پورچ میں آئی لیکن اسے گاڑی میں بیٹھتا دیکھ زور سے بولی۔۔
لیکن وہ اسکے چیخنے کو نظر انداز کرتا ہوا گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔
نیہا نے نہایت غصہ کے عالم میں خود سے دور ہوتی التمش کی گاڑی کو دیکھا
وہ کوئی نا سمجھ تو نہ تھی۔۔۔جو اسکے اس قدر شدید ردعمل کا مطلب نہ سمجھتی ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فُل سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔اسکے دماغ کی رگیں پھولی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔وہ نہیں جانتا تھا اسے کس بات کا اتنا غصہ ہے۔۔۔۔سب کچھ تو ٹھیک تھا وہ یہیں تو چاہتا تھا۔۔۔۔نیہا سے شادی بھی اسکی کچھ مہینوں بعد تھی پھر ایسا کیا تھا جو اسے کھل رہا تھا۔۔۔۔یکایک اسکے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔۔۔
مشال!!
اسنے سنسان سڑک پر کار روکی پھر اتر کر کار کی بونٹ پر آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔اور سگریٹ سلگانے لگا۔۔۔۔
اب اسکی سوچوں کا محور مشال تھی۔۔۔۔آخر کیوں اسے اتنا برا لگ رہا تھا۔۔۔۔جب مشال وجدان کو دیکھ کر مسکراتی یا اس سے کال پر بات کرتی۔۔۔۔تو کیوں اسکا موڈ خراب ہو جاتا۔۔۔۔۔
شاید اسی لیے کہ مشی کی فرسٹ پرییورٹی میں تھا۔۔۔۔
اس نے خود سے کہا
ہاں یہی بات ہے۔۔۔۔اور کیا بات ہوگی۔۔۔۔مشی پہلے مجھے امپورٹنس دیتی تھی پر اب وجدان اسکا منگیتر ہے تو مجھ سے پہلے اب وہ اسکے بارے میں ہی سوچے گی نہ۔۔
اس نے خود کو تسلی دی
لیکن نیہا بھی تو میری منگیتر ہے پر میں نے ہمیشہ اس سے پہلے مشی کو امپورٹنس دی تو مشی کے لیے بھی تو میں ہی فرسٹ پرییورٹی ہونا چاہیے ہوں نا۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک وہیں پر بیٹھا کبھی خود کو تسلیاں دیتا تو کبھی خود سے لڑتا۔۔۔۔
رات ساڑھے تین بجے تک وہ گھر پہنچا۔۔۔
لاونج پر ہی اسے مشال اضطرابی کیفیت میں ٹہلتی ہوئی نظر آئی۔۔۔وہ منگنی کا ڈریس چینج کر کے سادہ سی سفید شلوار قمیض میں تھی۔
اسے دیکھتے ہی التمش کے دل سے سارے خدشے ایک ہی پل میں دور ہوگئے۔۔۔۔یعنی اسکی مشی نہیں بدلی تھی۔۔۔۔وہ جانتا تھا آج کے فنکشن کی وجہ سے مشال کافی تھک گئی ہوگی مگر پھر بھی وہ اسکا انتظار کررہی تھی۔۔۔
التمش۔۔۔۔
آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔
مشال کی اس پر نظر پڑی تو اسکے پاس آکر مشال نے پریشانی سے پوچھا
ہمم۔۔۔۔بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔
التمش نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
پھر آپ یوں اچانک فنکشن سے چلے کیوں گئے۔۔۔۔۔حالانکہ ہم نے آپ کو اشارے سے بلایا بھی تھا پر آپ نے نظر انداز کردیا۔۔ہمیں لگا آپ ہم سے ناراض ہیں۔۔۔۔
مشال نے جس معصومیت سے اس سے کہا
التمش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی
پاگل! میں کبھی اپنی مشی سے ناراض ہوسکتا ہوں؟
التمش نے اسکے گال پر ہلکی سی چٹکی کاٹتے ہوئے کہا
التمش!!
مشال نے چڑتے ہوئے اپنا گال سہلایا
تو پھر آپ کہاں گئے تھے؟
مشال کے پوچھنے پر وہ کچھ پل خاموش ہوگیا
دوست کی کال آئی تھی ایمرجنسی تھی،اسی لیے۔۔۔
التمش نے آہستگی سے کہا
اچھا چل جلدی سے میرے لیے دودھ لے کر آ،میں روم میں جا رہا ہوں۔۔۔۔
اسے خاموش کھڑا دیکھ کر التمش نے کہا پھر اپنے روم کی طرف چل دیا جبکہ مشال بھی مطمئن سی ہو کر کچن میں چلی آئی ورنہ آج وہ التمش کے اسطرح اگنور کرنے پر واقعی گھبرا گئی تھی۔۔۔
مشال اسے دودھ کا گلاس دے کر چلی گئی تھی۔۔۔۔دودھ پی کر وہ سونے کے لیے لیٹا تو اسے نیہا کا خیال آیا۔۔۔۔اس نے موبائل اٹھا کر اسکا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔
نمبر بزی جارہا تھا۔۔۔
التمش کو حیرت ہوئی اس نے ٹائم دیکھا۔۔۔۔پونے چار بج رہے تھے۔۔۔
اس نے فون سائیڈ پر رکھا ہی تھا کہ رنگ ہونے لگی۔۔۔۔
نیہا کی کال تھی۔۔۔۔
اسکے ریسیو کرتے ہی نیہا شروع ہوگئی
تمہیں پتا ہے تامی میں کب سے ویٹ کر رہی تھی تمہاری کال کا۔۔۔اور تم فنکشن سے اچانک چلے کہاں گئے وجہ بتاؤ۔۔۔۔
کچھ پل اسکی بات سنتے رہنے کے بعد التمش نے اچانک پوچھا
نمبر بزی کیوں جارہا تھا تمھارا؟
نیہا کی چلتی زبان کو بریک لگ گئی۔۔
وہ۔۔۔۔تامی میں نے فون۔۔۔۔۔۔ڈو نوٹ ڈسٹرب موڈ پر لگایا تھا اسی لیے۔۔۔
نیہا کو جو سمجھ آیا اسنے بول دیا
پھر نیہا نے ٹاپک بدل دیا التمش نے بھی اس بات پر زیادہ زور نہ دیا۔۔۔
نیہا سے باتیں کرتے کرتے وہ اکتا گیا کیونکہ نیہا ہمیشہ کی طرح اس سے باتیں کم اور خود کی تعریفیں زیادہ کر رہی تھی۔۔۔۔
بات کرتے ہوئے اس نے اچانک کال کاٹ دی جبکہ نیہا حیرت سے اپنا موبائل دیکھ رہی تھی۔۔۔
یہ اچانک اسے ہو کیا جاتا ہے۔۔۔
عجیب آدمی ہے۔۔۔
نیہا نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان لوگوں کی منگنی کو تقریباً دو ہفتے ہوچکے تھے۔۔۔جبھی ایک دن وجدان نے مشال سے اکیلے ملنے کا کہا پہلے تو مشال نے گھبرا کر منہ کر دیا مگر وجدان کے ناراض ہونے کی دھمکی دینے پر وہ پریشان ہوگئی۔۔۔۔پھر اس نے ریحانہ بیگم سے پوچھا تو انہوں نے جانے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔
آج مشال اسی لیے تیار ہورہی تھی۔۔۔۔سادہ سی آسمانی رنگ کی لمبی فراک پر شانوں پہ ڈوپٹہ پھیلائے،لمبے گھنے بالوں کی چوٹی بنائے انہیں آگے کرے وہ بنا میک اپ کے بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
ارے التمش کو تو بتانا ہی بھول گئے ہم۔۔۔
اچانک یاد آنے پر اس نے اپنے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر کہا پھر اپنا موبائل اٹھایا۔۔۔اور التمش کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔۔
بیل جارہی تھی پر وہ کال ریسیو نہیں کررہا تھا۔
مشال نے پانچ بار مسلسل کال کی پر اس نے ریسیو نہیں کیا۔۔
لگتا ہے میٹنگ میں بزی ہیں۔۔۔
مشال نے خود سے کہا
تبھی نور اسکے روم میں آئی
آپی وجدان بھائی آئیں گے آپ کو لینے؟
نور کے پوچھنے پر مشال نے اثبات میں سر ہلایا
کونسی جگہ جارہے ہیں وہ آپکو لے کر؟
نور نے سُر سری سا پوچھا
یہ تو ہمیں بھی نہیں پتہ!
مشال نے کہا تو نور سوچ میں پڑ گئی
اتنے میں وجدان کی کال آئی۔۔۔
لو لگتا ہے وجدان آگئے۔۔
مشال نے نور سے کہا
آپی آپ ان سے کال پر پوچھ لیں نا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔۔آپکو لے کر۔۔
نور کے بولنے پر مشال نے کال ریسیو کی۔
مشال میں پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں تم ریڈی ہو نا۔۔۔
وجدان نے اس سے پوچھا
جی وجدان ہم تیار ہیں۔۔۔آ۔۔ویسے وجدان آپ ہمیں کہاں لے کر جائیں گے۔۔۔
مشال کے پوچھنے پر وجدان چونکا
کیونکہ یہ سوال اس نے پہلے تو نہیں پوچھا تھا۔
کیوں!
تم کیوں پوچھ رہی ہو؟
وجدان کے پوچھنے پر مشال بوکھلا گئی۔
آ۔۔۔ایسے ہی۔۔۔
اس نے اٹکتے ہوئے کہا تو وجدان نے سر جھٹکتے ہوئے اسے جگہ کا نام بتایا
فون رکھنے پر مشال نے نور کو جگہ کا نام بتایا پھر بی جان کی آواز پر وہ بے دھیانی میں نور کو اپنا فون پکڑاتے ہوئے آمنہ بیگم کے روم میں چلی گئی۔۔۔
کچھ دیر بعد ہارن کی آواز پر مشال باہر آئی تو وجدان کی کار پورچ پر کھڑی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج دو میٹنگ تھی اس لیے پورا دن اسکا کا بزی گزرا،فون اس نے سائیلنٹ موڈ پر رکھا تھا تا کہ ڈسٹرب نہ ہو۔۔۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ فری ہوکر اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔کہ نیہا کی کال آگئی۔۔
بولو!
اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
تامی تم بزی ہو کیا؟
نیہا نے پوچھا
نہیں۔۔
اسنے مختصر جواب دیا
تو پھر چلو نا کہیں لنچ پر چلتے ہیں۔۔۔
نیہا نے پیار سے کہا
نیہا میں ابھی فری ہوا ہوں اور کافی تھکا ہوا بھی ہوں۔۔۔سو آج نہیں۔۔۔پھر کبھی۔۔
التمش نے اپنا ماتھا سہلاتے ہوئے کہا
کیا تامی۔۔۔تم بلکل بدل گئے ہو۔۔۔۔نہ مجھے زیادہ ٹائم دیتے ہو۔۔۔نہ ہی میرے کہنے پر کہیں باہر چلتے ہو۔۔۔یو نو مجھے تم سے بات ہی نہیں کرنی چاہیے۔۔۔بائے
نیہا نے غصے سے کہہ کر فون رکھ دیا۔
التمش نے بھی زیادہ رسپانس نہیں دیا۔
وہ نوٹیفکیشن چیک کر رہا تھا تبھی اس نے دیکھا مشال کی پانچ مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں،اس نے مشال کا نمبر ڈائل کیا۔۔
ہیلو۔۔
نور نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
نور۔۔۔مشی کو دو۔۔۔
التمش نے نور کے ریسیو کرنے پر کہا
تامی بھائی۔۔آپی تو گھر پر نہیں ہیں۔۔۔
نور نے نارملی کہا
کیا مطلب۔۔گھر پر نہیں ہے۔۔۔۔کہاں ہے مشی؟
التمش نے حیرت سے پوچھا
آپی تو وجدان بھائی کے ساتھ گئی ہیں کہیں باہر۔۔۔
نور نے اسے بتایا
باہر۔۔۔۔پر مشی نے مجھے بتایا کیوو۔۔۔
بولتے ہوئے اچانک التمش کو مشال کی مسڈ کالز کا یاد آیا تو وہ سختی سے آنکھ میچ گیا۔۔۔وہ پہلے ہی وجدان سے مطمئن نہیں تھا کچھ تو تھا وجدان میں جو اسے کھٹکتا تھا اور اب وہ مشال کو کہاں لے کر گیا ہوگا یہ سوچ کر التمش کو خود پر غصہ آیا۔۔۔کاش وہ فون سائیلنٹ موڈ پر نہ لگاتا
شِٹ!!
نور۔۔۔تمہیں پتا ہے وہ لوگ کہاں گئے ہیں؟
التمش نے نور سے پوچھا تو نور نے جلدی سے اسے جگہ کا نام بتایا۔۔۔۔
نام پتا چلنے پر التمش نے فون رکھ کر کچھ دیر سوچا پھر نیہا کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔۔
التمش کے فون رکھنے پر نور کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی وہ جانتی تھی اب چاہے کچھ بھی ہو التمش سارے کام چھوڑ چھاڑ کر مشال کے پاس پہنچ جائے گا۔
سوری وجدان بھائی۔۔۔۔پر مجھے پتا نہیں کیوں آپ بھروسہ لائق انسان نہیں لگتے۔۔۔اسی لیے آپی کو آپکے ساتھ اکیلا چھوڑنے کا رسک کم از کم نور ایجاز تو نہیں لے سکتی۔۔۔۔
نور نے ناک چڑھاتے ہوئے خود سے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجدان اسے ایک ریستوران میں لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔وہاں ایک ٹیبل پر جو شاید اس نے پہلے سے ہی بُک کی ہوئی تھی اس پر مشال اور وہ بیٹھ گئے۔۔۔۔۔وجدان اس سے کافی باتیں کر رہا تھا پر مشال اسکی باتوں کا مختصر جواب دے رہی تھی۔۔۔۔وہ بہت پزل ہورہی تھی۔۔۔۔پہلی بار التمش کے علاوہ کسی اور کے ساتھ اکیلے باہر آئی تھی۔۔۔۔
تبھی وجدان نے اسکے سامنے اپنی ھتیلی پھیلائی جسے دیکھ کر مشال بوکھلا گئی۔۔
ہاتھ دو اپنا۔۔۔
وجدان نے مسکراتے ہوئے بولا
نہ۔۔۔نہیں۔۔
مشال نے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا
کیوں۔۔
وجدان نے حیرت سے پوچھا
وجدان۔۔۔پلیز۔۔۔ یہاں لوگ دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے۔۔
مشال نے پریشانی سے کہا
تو کیا ہوا۔۔۔۔منگیتر ہو تم میری۔۔
وجدان نے کہا
پر یہاں تو کسی کو نہیں پتا نا۔۔۔
مشال نے پھر اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا جہاں لوگ اپنی باتوں میں مگن تھے۔۔
اوہ پلیز۔۔۔۔مشال۔۔
وجدان نے تھوڑا زور سے کہا تو مشال نے گھبراتے ہوئے اسکی ھتیلی پر اپنا پسینہ سے نم ہاتھ رکھ دیا۔
پھر وجدان آہستہ آہستہ اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے اس سے بات کرنے لگا۔۔۔جبکہ مشال روہانسی ہوگئی۔۔۔اسے وجدان کا یوں ہاتھ سہلانا بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔۔وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوششیں کرنے لگی پر وجدان نے اور مضبوطی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔اور اسی طرح اسکا ہاتھ سہلاتا رہا
تمہیں پتا ہے مشال جب سے میری تم سے منگنی ہوئی ہے، تب سے میں کس قدر خوش رہنے لگا ہوں۔۔
وجدان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا
وجدان پلیز۔۔۔
مشال نے اس سے التجائیاء انداز میں کہہ کر پھر سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی مگر بے سود۔۔
اس وقت مشال کو شدت سے التمش کی یاد آرہی تھی۔۔۔
اور آج تم مجھ سے ملنے آئی۔۔۔آج تو میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔
تجھ سے زیادہ خوش تو میں ہوں۔۔۔
اچانک آنے والی آواز پر مشال جو رو دینے کو تھی اس نے چونک کر وجدان کے پیچھے دیکھا جبکہ وجدان نے بھی نا سمجھیں سے گردن موڑ کر دیکھا پر سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر وجدان کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔۔
اسے شدید غصہ آیا۔۔۔۔