61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

Episode #14
Tami..wait.. what’s wrong with you…
التمش مشال کو کار میں بٹھا کر اپنی طرف کے گیٹ پر آیا تبھی نیہا نے اسکے سامنے آتے ہوئے کہا
آئیندہ اپنی پارٹی میں ایسے گٹھیا لوگوں کو بلایا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا نیہا۔۔۔
التمش نے سختی سے کہا تو نیہا گڑبڑائی پھر سنبھلتے ہوئے کہنے لگی
تامی وہ لوگ ایسے نہیں ہیں۔۔۔۔بس ہوجاتا ہے کبھی کبھی۔۔۔۔اتنا اِشو تو مت کرییٹ کرو۔۔
اسکی بات پر التمش کی پیشانی پر شکنیں آئیں اسنے نیہا کے قریب آکر کہا
مجھے فرق نہیں پڑتا کہ تمھاری سوچ کیسی ہے جو تمھیں یہ کوئی بڑی بات نہیں لگ رہی۔۔۔لیکن عزت دار گھرانوں کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔۔۔اور میں نہیں چاہتا کہ مشی کی عزت پر ایک حرف بھی آئے۔۔۔
التمش کے کہنے پر نیہا نے حیرت سے اسے دیکھا وہ کچھ بول ہی رہی تھی کہ التمش نے پھر کہا
اسی لیے یہ بات تمہارے اور میرے بیچ رہنی چاہیے۔۔۔اگر میں نے یہ بات کسی تیسرے کے منہ سے سنی تو بات پھیلانے والے کا حشر برا کردوں گا۔۔
اسکے سرد لہجے میں دی گئی دھمکی کا مطلب سمجھ کر نیہا نے گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
اسے اور کچھ کہنے کا موقع دیے بنا التمش گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔
نیہا نے نفرت سے کار میں بیٹھی مشال کو دیکھا
حیدر ولا کے پورچ میں گاڑی روک کر التمش نے ایک نظر مشال کو دیکھا جو گم سم سی بیٹھی تھی۔۔
مشی۔۔۔گھر میں کسی کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے۔۔
التمش نے سنجیدگی سے کہا اسکی بات پر مشال کو پھر رونا آنے لگا
التمش۔۔۔اگر آپ نہ آتے تو۔۔
ششش۔۔
مشال نے روتے ہوئے کہنا چاہا مگر التمش نے اسکی بات کاٹ دی
میں نے تجھے پہلے بھی کہا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ تُو مشکل میں ہو اور میں نہ آؤں۔۔۔
التمش نے جس یقین سے کہا مشال نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔کیا تھا وہ انسان۔۔۔ہر مشکل وقت میں اسکے ساتھ رہنے والا۔۔۔اسکا محافظ۔۔۔۔آج وہ خدا کا جتنا شکر کرتی اتنا کم تھا۔۔۔جسنے اسے ایسے دوست سے نوازا۔۔۔
وہ آہستگی سے کار سے اتر کر اندر چلی گئی۔۔۔
اسکے جانے کے بعد التمش نے کار کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔تبھی اسکی آنکھوں میں وہ منظر گھوم گیا۔۔۔جب اس نے مشال کو گلے لگایا تھا۔۔۔بے ساختہ اسنے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا۔۔۔مشال کے وجود کی خوشبو ابھی بھی اسکے حواس میں طاری تھی۔۔۔اسنے یونہی ٹیک لگائے اپنی اس انگلی کو انگوٹھے سے سہلایا جسے اسنے مشال کے لبوں پر رکھا تھا۔۔۔اسکے کٹاؤ دار لبوں کی نرمی اسے ابھی بھی اپنی انگلی میں محسوس ہورہی تھی۔۔۔پہلی بار وہ مشال کے اتنا قریب ہوا تھا۔۔۔اتنے نزدیک سے اسے محسوس کیا تھا۔۔۔ایک عجیب سرور ہوا اسے۔۔۔
تبھی وہ جھٹکے سے آنکھیں کھولتے ہوئے سیدھا ہوا۔۔۔۔یہ کیا سوچ رہا تھا وہ۔۔۔۔
مشال تو اسکی دوست تھی۔۔۔ہاں وہ اسکی دوست ہی تو “تھی”۔۔۔۔کیونکہ اب اسکا دل مشال کے لیے الگ ہی لے پر دھڑک رہا تھا۔۔۔۔وہ لڑکی شروع سے اسکے لیے خاص تھی۔۔۔مگر اب۔۔وہ اسکے دل میں الگ مقام رکھنے لگی تھی۔۔۔
پھر وہ نیہا سے کیوں شادی کررہا تھا۔۔۔۔نیہا کے لیے اسکے دل میں پسندیدگی تھی۔۔۔جو کچھ وقت کے ساتھ ساتھ اور کچھ نیہا کی عادتیں دیکھ کر ختم ہوچکی تھی۔۔۔
اسے پچھتاوا ہوا۔۔۔۔کاش وہ اتنی جلدی فیصلہ نہ لیتا شادی کا۔۔اسے وہ لمحہ یاد آیا جب آغاجان نے اس سے مشال سے شادی کے بارے میں بات کی تھی۔۔۔پر تب اسکا جواب نہ تھا۔۔۔اور اب۔۔۔۔سوچ سوچ کر اسکا سر درد کرنے لگا۔۔۔۔
اس نے غصے میں ڈیش بورڈ پر زور سے ہاتھ مارا۔۔۔پھر کار سے نکل کر اندر کی طرف چل دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سست روی سے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔رات ڈھائی بجے پورا گھر خاموشی میں ڈوبا تھا۔۔۔۔ڈوپٹے سے اپنا پورا وجود ڈھکے وہ اس حلیے میں ابھی کسی کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔اسی لیے سیدھا اپنے روم کی طرف جانے لگی۔۔۔
ہادی جو پانی کے لیے اٹھا تھا۔۔۔رات کے اس پہر نور کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ شدید حیران ہوا۔۔۔اسے تو لگا تھا وہ کب کا آچکی ہوگی۔۔۔
نور۔۔
ہادی کی آواز پر اسکے قدم رکے مگر پھر وہ جلدی سے اپنے روم میں جانے لگی۔۔۔
او ہیلو۔۔۔تمہیں بلا رہا ہوں۔۔۔اتنی رات کو گھر میں آنے کی وجہ۔۔۔ایسی بھی کیا گروپ اسٹڈی تھی۔۔۔بہری ہوگئی ہوکیا۔۔
اپنی بات کو آگنور ہوتا دیکھ ہادی اسکے پیچھے آتے ہوئے مسلسل بولے جارہا تھا۔۔۔
نور اسکی باتوں کو ان سنا کرتے ہوئے تیزی میں چل رہی تھی وہ جیسے ہی اپنے روم کے گیٹ پر پہنچی ہادی اچانک سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔۔
تم سے بات کررہا ہوں۔۔۔آواز کم آرہی ہے یا پھر ایٹیٹیوڈ دکھا۔۔۔
ہادی تپ کر پوچھنے لگا مگر نور کے چہرے کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔۔
سوجی آنکھیں،سرخ چہرا،بکھرے بال اور بالائی ہونٹ کے کنارے پر لگا زرا سا خون۔۔۔اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔
نور۔۔۔۔کیا ہوا ہے تمہیں؟
ہادی نے اسکے نقش بغور دیکھتے ہوئے تفتیشی انداز میں پوچھا تو نور نے خوف سے اسکی طرف دیکھا
ک۔۔کچھ۔۔نہیں۔۔
اس نے اٹک کر کہا پھر نگاہ پھیرتے ہوئے جلدی سے نفی میں سر ہلا کر اندر جانے لگی۔
اندر نہیں جاؤ گی۔۔۔پہلے بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔یہ تمہارا حلیہ اتنا خراب کیوں ہورہا ہے۔۔۔اور یہ بال۔۔۔یہ سب۔۔
ہادی کو اسکا دوپٹے سے خود کو اسطرح ڈھانپنا بھی کچھ عجیب لگا۔۔پہلے تو وہ ایسے نہیں کرتی تھی۔۔
نور کچھ پوچھ۔۔
کیا پروبلم ہے تمھاری۔۔۔بولا نا کچھ نہیں ہوا۔۔۔اب جاؤ یہاں سے۔۔۔
نور نے اسکی بات کاٹتے ہوئے غصے سے چیخ کر کہا تو ہادی اسے حیرت سے دیکھنے لگا
چلا کیوں رہی۔۔۔
میں نے کہا جاؤ یہاں سے۔۔۔دفع ہوجاؤ۔۔
وہ پھر ہادی کی بات کاٹ کر ہذیانی انداز میں چیخی اور روم میں جاکر ہادی کے منہ پر زور سے دروازہ بند کیا۔۔تو وہ دو قدم پیچھے ہٹا
عجیب لڑکی ہے۔۔۔بات نہیں کرو تو ہادی سنو۔۔۔ہادی سنو کرتے رہتی ہے۔۔۔اور جب زرا سی ویلیو دو تو ایٹیٹیوڈ دکھاتی ہے۔۔۔میری بلا سے بھاڑ میں جائے۔۔
ہادی غصے میں اپنی بھڑاس نکال کر چلا تو گیا مگر اندر ہی اندر اسے نور کا رویہ کھل رہا تھا۔۔۔اسکا ہادی کو دیکھ کر خوفزدہ ہونا خود کو چھپانا۔۔۔یہ سب ہادی کو کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
دروازے سے ٹیک لگا کر وہ وہی پر بیٹھ کر رودی۔۔۔وہ چاہ کر بھی چیخ کر نہیں رو پارہی تھی۔۔۔سب کچھ یاد آنے پر اسے نئے سرے سے پچھتاوا ہورہا تھا۔۔۔کاش کہ وہ نہ جاتی۔۔پر کرتی بھی کیا کوئی اسکی سنتا بھی تو نہیں تھا۔۔۔۔اس نے سوچا کاش کہ وہ التمش کو بتاتی سب سے پہلے۔۔۔تو آج اسکی عزت تو نہ خراب ہوتی۔۔۔
اسکا رونا ہچکیوں میں بدل گیا۔۔۔۔۔وہ خوف زدہ تھی کہ کہیں وجدان اسکی ویڈیو اپلوڈ نہ کردے۔۔۔۔پھر تو بچی کچی جو عزت ہے اسکا بھی تماشہ بن جائے گا۔۔۔پھر کس نظر سے دیکھیں گے سب اسے۔۔۔۔یہ سب سوچ کر اسنے اپنے بال جکڑ لیے۔۔۔اورگھٹنوں میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔۔۔۔پوری رات اسکی رونے میں گزر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب ریحانہ بیگم کے توسط اسے پتہ چلا کہ نور کو بخار ہے تو ہادی کو اب سچ میں شک ہونے لگا۔۔کہ ہو نہ ہو کچھ غلط ہوا ہے جو نور چھپارہی ہے۔۔۔اس نے خود کا موڈ ٹھیک کر کے تھوڑی بہت کوشش کی اس سے بات کرنے کی۔۔۔مگر نور کا سرد لہجہ اسے الجھا گیا۔۔۔وہ ایسی تو نہ تھی پھر ایک رات میں ایسا کیا ہوا۔۔۔جو اسکا لہجہ رویہ سب بدل گیا۔۔۔اب ہادی نے بھی زیادہ زور دینا مناسب نہ سمجھا اور اپنے کاموں میں بزی ہوگیا۔۔۔مشال اور التمش کی بھی اب فام ہاؤس کے ٹاپک پر کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔۔مشال بھی آہستہ آہستہ وہ واقعہ بھولنے لگی۔
وقت یوں ہی پر لگا کر اُڑگیا۔۔۔کچھ ہی دنوں میں ان لوگوں کی شادی تھی۔۔۔اسکے ساتھ ساتھ التمش کی بے چینی بڑھتے جارہی تھی۔۔۔وہ پوری کوشش کررہا تھا مشال سے دور رہنے کی۔۔۔پہلے کی طرح وہ اب ہر وقت مشال کے ساتھ نہیں رہ رہا تھا۔۔۔۔۔گھر میں تیاریاں زور و شور سے جاری تھی۔۔۔۔۔سب کچھ نارمل چل رہا تھا۔۔۔پر نور گھر میں کافی گم سم رہنے لگی تھی۔۔۔اسکی چپ سب نے نوٹ کی مگر وجہ مشال کی جدائی کا سمجھ کر کچھ نہیں پوچھی۔۔
کل مہندی کی رسم تھی۔۔۔پر آج وجدان نے مشال کو ایک کیفے میں بلایا۔۔۔۔۔مشال کے پہنچنے پر اس نے مشال کو اپنے موبائل پر التمش کی کچھ پکس دکھائیں،جن میں وہ نازیبا حالات میں کسی لڑکی کے ساتھ تھا۔۔۔وہ جانتا تھا مشال کے بھول پن کو۔۔۔جو ہر کسی کی باتوں پر جلد ہی یقین کرلیتی تھی۔۔۔۔مشال کا رئیکشن بھی اسے خوش کررہا تھا۔۔کہ اب اسکا کام بن جائے گا۔۔
آپ کو یہ پکس کہاں سے ملی؟
مشال نے حیرت سے ان پکس کو دیکھا پھر تحمل سے پوچھا
میرا ایک دوست التمش کو جانتا ہے۔۔۔اسی کے توسط مجھے پتہ چلا کہ التمش یہ سب بھی کرتا ہے۔۔۔مجھے تو پہلے ہی اس پر شک تھا۔۔۔اب یقین بھی۔۔۔
وجدان نرمی سے اسے بتانے لگا مگر ابھی اسکی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ مشال کا تھپڑ اسکا منہ بند کراگیا۔۔
وہ بے یقینی کے عالم میں گال پر ہاتھ رکھے مشال کو دیکھتا رہ گیا۔جو سرخ آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
آپ کو کیا لگا۔۔۔ہم اتنی بے وقوف ہیں جو رئیل پک اور ایڈٹ پک نہ سمجھ پائیں۔۔۔پہلی بات کہ التمش اس طرح کی گری ہوئی حرکت کبھی نہیں کرسکتے اور دوسری بات اگر آئندہ آپ نے التمش کو ہماری نظر میں گرانے کے لیے انکے خلاف ہم سے کوئی بات کی تو ہم اسی وقت آپ سے یہ رشتہ ختم کردیں گے۔۔۔۔
مشال نے غصے سے انگلی اٹھا کر اسے باور کرایا پھر کیفے سے نکلتی چلی گئی۔اتنا تو وہ بھی جان چکی تھی کہ وجدان التمش سے تپتا ہے پر یہ بات وہ مسلسل اگنور کرتی رہی،مگر وجدان کی اس حرکت پر اسکا غصہ قابو میں نہ رہ پایا۔۔۔
ادھر وجدان جو مشال کے جانے کے بعد سکتے میں بیٹھا تھا ہوش آنے پر اسکی آنکھیں خون آلود ہوگئی۔۔۔مشال کی جرّات پر اسکا بس نہ چلا کہ ابھی جاکر اسکے چودہ طبق روشن کر دے۔۔۔۔۔کیفے میں بیٹھے آس پاس کے لوگ اسکی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔وہ غصے میں چئیر پر ٹھوکر مارتا ہوا کیفے سے نکلا۔۔
اس تھپڑ کو بہت لائیٹلی لیا ہے تم نے مشال ایجاز۔۔۔میں تمہیں پسند کرنے لگا ہوں۔۔۔وہ الگ بات۔۔۔مگر تھپڑ کی معافی نہیں ملے گی سوئیٹ ہارٹ۔۔۔
اس نے اپنا گال رگڑتے ہوئے زہر خندہ لہجے میں بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمش آفس میں بیٹھا مسلسل مشال کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔وہ بہت کوشش کررہا تھا اسکو نہ سوچنے کی مگر وہ لڑکی اسکے حواسوں میں طاری ہو چکی تھی۔۔۔۔جیسے جیسے شادی کے دن قریب آرہے تھے۔۔۔۔اسکے اندر کی گھٹن بڑھتی جارہی تھی۔۔۔وہ چاہتا تھا اپنی فیلینگس مشال سے شئیر کرنا مگر نیہا کا سوچ کر خاموش ہوجاتا۔۔۔اپنی خوشی کے لیے کم از کم وہ کسی دوسری لڑکی کا دل نہیں توڑ سکتا تھا۔۔۔اس نے اپنی پیشانی مسلی پھر بیگ اٹھاتا ہوا آفس سے نکلنے لگا تبھی اسکے نمبر پر سفیان کی کال آئی۔
ہیلو۔۔۔
اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
یار تامی۔۔۔ایک کام پڑگیا ہے۔۔
سفیان کی پریشان آواز آئی
بول۔۔
یار وہ۔۔تو ابھی ریڈ لائٹ ایریا میں آسکتا ہے۔۔
سفیان نے جھجھک کر پوچھا
واٹ۔۔۔پر کیوں۔۔۔
التمش نے حیرت سے کہا
یار یہ بلال کمینہ ہے۔۔مجھے زبردستی یہاں لے آیا۔۔۔اور اب خود تو نشے سے دھت ہے۔۔۔مجھ سے اٹھ نہیں رہا اور دوسرا میری کار بھی خراب ہوگئی۔۔تُو صرف ہمیں پک کر کے گھر چھوڑدے۔۔۔
سفیان نے تفصیل سے بتاکر آخر میں منت سے کہا
تم گدھوں کو کس نے کہا تھا ایسی جگہ جانے۔۔۔اب مرو وہیں پر۔۔۔میں نہیں آرہا۔۔
التمش نے غصے میں کہا اور فون رکھنے لگا
پلیز تامی۔۔۔یار غلطی ہوگئی۔۔۔آئندہ پکا اس کمینے کی بات نہیں سنوں گا۔۔پر ابھی آجا یار پلیز۔۔
اس نے التجاء کی تو التمش نے لب بھینچ کر کال کاٹ دی پھر کار میں بیٹھ کر اس طرف نکل گیا۔۔۔
کہاں ہے۔۔
اس ایریا میں پہنچتے ہی سفیان اسے سامنے کھڑا نظر آیا تو اس نے اس سے بلال کا پوچھا
اندر ہے۔۔لانا پڑے گا باہر۔۔
سفیان کے کہنے پر اس نے لب بھینچے
تو باہر لے کر آ۔۔
اس نے تپ کر کہا
یار بہت بھاری ہے میں نہیں لارہا۔۔۔
سفیان بولتا ہوا اسکی کار میں بیٹھ گیا جبکہ التمش کا دل چاہا اسے پیٹ کر رکھ دے۔۔۔
میں بھی اندر نہیں جارہا۔۔۔چلنا ہے تو ساتھ چل ورنہ یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔۔
اس نے کار کا گیٹ کھول کر سفیان سے کہا تو وہ منہ بناتا ہوا اسکے ساتھ ہولیا۔۔
بلال کو لے کر وہ لوگ نکل ہی رہے تھے کہ التمش کو ایک روم سے کسی لڑکی کے رونے کی آواز آئی۔۔۔ویسے تو یہ اخلاقیات کے خلاف تھا مگر پھر بھی التمش نے آہستگی سے روم میں جھانکا۔۔۔جہاں تقریباً انیس سال کی ایک لڑکی کو مار مار کر ناچنے کا بولا جارہا تھا مگر وہ روتے ہوئے انکار کررہی تھی۔۔۔یہ منظر التمش کے ماتھے پر بل لے آیا۔۔۔اسے غصہ آیا ان عورتوں پر جو اسے زبردستی نچوارہی تھیں۔۔۔التمش کو وہ لڑکی بہت بے بس لگ رہی تھی۔۔۔۔
کہاں کھو گیا بھائی چل نا۔۔
سفیان کی آواز پر وہ نگاہ پھیر کر اسے دیکھنے لگا۔۔پھر سر جھٹک کر ان دونوں کے ساتھ چل دیا۔
یہ یہاں کیا کررہا ہے۔۔
وجدان جو ریشم بائی کے کوٹھے میں اپنا موڈ ٹھیک کرنے آیا تھا۔۔۔وہاں التمش کو دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔
مگر اسکے ساتھ دو لڑکوں کو دیکھا جن میں سے ایک نشے میں دھت تھا۔۔۔تو آہستگی سے انکے قریب جاکر معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
آئندہ اگر اس جگہ پر تم لوگ آئے تو یقین کرو میں نہیں آؤ گا پک کرنے۔۔۔
باہر آکر التمش نے سفیان کو وارننگ دی جس پر وہ خاموش رہا پھر کہا
ہمارا چھوڑ تُو یہ بتا۔۔۔اندر کس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔جو ہوش ہی نہیں تھا تجھے۔۔۔
سفیان نے ایک آئبرو اٹھا کر پوچھا تو التمش کو پھر وہ روتی ہوئی لڑکی یاد آئی۔۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ اس لڑکی کو زبردستی اس گندی جگہ پر رکھا گیا ہے۔۔۔
بتا نا۔۔۔اگر پھر ارادہ ہے تیرا آنے کا تو بول دے۔۔
بلال کو کار میں بٹھا کر سفیان نے اسے خاموش دیکھ کر مزاقاً کہا
ارادہ تو ہے آنے کا اور وہ بھی کل ہی۔۔۔
التمش نے جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر کہا مگر اسکی یہ بات پیچھے کھڑے وجدان نے بخوبی سنی۔۔۔
پہلے تو اس نے سوچا تھا کہ التمش کی پک لے کر مشال کو دکھائے۔۔۔مگر اسکا تھپڑ یاد آنے پر اس نے لب بھینچے۔۔۔
التمش کی دور جاتی کار کو دیکھتے ہوئے وجدان لب دانتوں میں دبائے کچھ سوچنے لگا۔۔۔
تو ہمارے نیک سیرت التمش کل بھی اس گندی جگہ پر آئیں گے۔۔۔پر کیوں۔۔۔چلو کوئی نہیں۔۔۔جس وجہ سے بھی آئے۔۔۔میرا کام تو بن جائے گا۔۔
وہ کسی نتیجے پر پہنچ کر بولا ایک زہریلی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔