No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
نیہا نے ایک آخری طنزیہ نظر ان کی طرف ڈالی پھر کار سٹارٹ کر کے وہاں سے چلی گئی۔۔۔اِدھر التمش کی باوجود کوشش کے جب نظریں مسلسل دھندلا رہی تھیں تو اسنے ڈیش بورڈ سے پانی کی بوتل اٹھا کر کھولی۔۔۔اور آدھی بوتل خود کے اوپر انڈیل دی۔۔۔پھر جلدی سے اٹھ کر بیک سیٹ پر آیا۔۔۔
مشال۔۔۔مشال!!
اس نے مشال کا گال تھپتھپایا۔۔۔ساتھ ہی پانی کا چھڑکاؤ کیا اسکے چہرے پر۔۔۔۔مگر اسکے یونہی پڑے رہنے پر التمش نے بےبسی سے سیٹ پر مکا مارا۔۔۔پھر اسکی نبض چیک کی۔۔۔جو بہت دھیمی چل رہی تھی۔۔۔التمش کو لگا اسکی سانسیں چھین کر اچانک چند پل کے لیے اسے واپس لوٹائی گئی ہیں۔۔۔۔اور وہ ان سانسوں کو اب کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔اسنے مشال کے وجود کو گود میں اٹھایا اور باہر نکالا۔۔۔وہ اسے گود میں اٹھائے بےبسی سے سنسان روڈ کو دیکھنے لگا۔۔۔جہاں دور دور تک کوئی ٹیکسی یا کار وغیرہ نہیں دِکھ رہی تھی۔۔۔
اس نے ایک نظر مشال کے خونم خون چہرے کو دیکھا پھر بنا کچھ سوچے سمجھے اسے یونہی گود میں اٹھاکر ناک کی سیدھ میں چلنے لگا۔۔دل جیسے ضد پہ اڑا تھا کہ مشال ایجاز چاہیے تھی اُسے۔۔۔بلکل صحیح سلامت۔۔۔مشال کا خون اور التمش کے سر سے نکلتا خون اسکے کپڑوں کو رنگین کرچکا تھا۔۔۔پر اسکا چہرہ بلکل سپاٹ تھا۔۔۔تبھی تھوڑے اور دور جاتے ہی اسکے پیچھے سے ایک کار آکر التمش کے برابر میں رُکی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی جو وجدان کے ہاتھ سے نکل جانے پر غصے سے بپھرا ہوا پولیس کو کال کر کے واپس فلیٹ کی طرف آیا تھا۔۔۔التمش کو مشال کو کار میں بٹھاتا دیکھ بےیقین سا ہوا۔۔۔اسکی بے یقینی التمش کو مشال کے بٹھانے پر نہیں بلکہ مشال کے خون میں لت پت وجود کو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔۔ابھی تو وہ اوپر فلیٹ میں تھی۔۔۔پھر اچانک کیسے۔۔۔وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ التمش کار سٹارٹ کرتا ہوا زن سے بھگا لے گیا۔۔۔ہادی نے ایک لمحہ اور ضائع کیے بنا اپنی کار کا رخ کیا۔۔۔اور کار التمش کی کار کے پیچھے دوڑائی۔۔۔
پر چونکہ التمش کار سپیڈ میں لیتے ہوئے گیا تھا۔۔۔تو ہادی بیچ میں اسکی گاڑی نظروں سے اوجھل ہونے پر تھوڑا کنفیوز ہوتے ہوئے کار روک گیا۔۔۔پھر تھوڑی دیر بعد راستے کا تعین کرتے ہوئے اسنے کار دوسرے روڈ کی طرف موڑی۔۔۔۔کافی دور جاکر اسے ایک کار درخت سے ٹکرائی ہوئی دکھی تھی۔۔۔ہادی کی آنکھیں پھیلیں تھیں کیونکہ وہ کار کسی اور کی نہیں بلکہ التمش کی ہی تھی۔۔۔۔وہ اپنی کار سے نکلتا ہوا جلدی سے وہاں تک آیا۔۔۔پر اندر التمش اور مشال کو نہ پاکر شدید حیرت میں مبتلا ہوا۔۔۔۔وہ حد درجہ گھبرایا تھا اس سچویشن میں۔۔۔کیونکہ مشال کی حالت بھی بہت خراب دیکھی تھی اس نے۔۔۔جلدی سے وہ اپنی کار میں جاکر بیٹھا اور سیدھ میں کار چلانے لگا۔۔۔کچھ دور جاکر اسے کوئی شخص ناک کی سیدھ میں مسلسل تیزی میں چلتا دِکھا۔۔۔سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہادی زمان سمجھ گیا۔۔۔وہ التمش ہی تھا۔۔۔وہ کار کی سپیڈ بڑھائے اس تک پہنچا۔۔۔
بھائی۔۔۔
التمش کے پاس کار روکتے ہی ہادی چیخا۔۔۔اسکی آواز سنتے ہی التمش جھٹکے سے پلٹا
ہادی کو کار میں دیکھتے ہی التمش کچھ بھی کہے بغیر کار کی بیک سیٹ پر مشال کو لے کر بیٹھا تھا
ہادی جلدی چل ہوسپٹل۔۔۔
اسنے بیٹھتے ہی ہادی سے کہا لہجہ واضح ڈگمگا رہا تھا
ہادی نے بھی ابھی کچھ پوچھنے کے بجائے کار کی سپیڈ بڑھائی تھی۔۔۔اسکا دماغ کام نہیں کررہا تھا کہ اچانک یہ سب ہوا کیسے۔۔۔پوچھنا چاہتا تھا التمش سے۔۔۔پر مشال کی حالت ابھی بہت نازک تھی۔۔۔اس نے بیک ویوو مِرر پر التمش کو دیکھا جو مشال کو تقریباً خود میں چھپائے اسطرح بیٹھا تھا جیسے ڈر ہو کہ مشال کو اس سے چھین نہ لیا جائے۔۔۔۔اسکے وجیہہ چہرے پر رقم اذیت و تکلیف دیکھ ہادی کی آنکھوں میں بےساختہ نمی جھلکی تھی جنہیں چھپانے کے لیے وہ نگاہ آگے کی طرف کرتے ہوئے کار فُل سپیڈ میں چلانے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ گاڈ۔۔۔مزا آگیا آج تو۔۔۔
نیہا اپنے پرانے بوسیدہ سے فلیٹ میں آکر خوشی سے جھومی تھی۔۔۔۔ریشم بائی کے پکڑانے کے بعد اسکا کوٹھا مکمل طور پر بند کر کے سِیل کردیا گیا تھا۔۔۔جسکی وجہ سے نیہا کا ذریعہ آمدنی بند ہوگیا تھا۔۔۔اسکی عیش پرست فطرت کی وجہ سے جلد ہی اس نے اپنا محل نما گھر جو وہ کوٹھے کے پیسے ملنے پر خریدی تھی اسے بیچ دیا۔۔۔۔اس گھر سے ملنے والے پیسوں کو بھی اس نے چند مہینوں میں اڑایا تھا۔۔۔اور اب زیادہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس نے یہ بوسیدہ سا فلیٹ کرائے پر لیا تھا رہنے کے لیے۔۔۔ڈیلی کہیں نہ کہیں سے چوری یا پھر کسی امیر لڑکے کو لُوٹ کر اسکا گزر بسر تو ہوجاتا پر التمش کا ٹھکرانا اور مشال سے نفرت اسکے دل سے نکل ہی نہیں رہی تھی پر اب وہ بہت خوش تھی کہ دونوں سے اس نے اپنا حساب بےباک کر لیا تھا۔
کیوں چلارہی ہو؟
وجدان جو ہادی سے بمشکل بچ کر اب اسکے فلیٹ میں آکر دم لے رہا تھا۔۔۔اسکے خوشی سے چلانے پر چِڑکر بولا
گیس کرو۔۔۔آج میں کیا کر کے آرہی ہوں۔۔
وہ وجدان کو دیکھ کر چونکی بلکل نہیں تھی کیونکہ اکثر وہ اسکی غیر موجودگی میں یہاں پر آجایا کرتا تھا۔
کیا کر کے آئی ہو؟
اس نے کوفت سے پوچھا تو نیہا ہلکا سا ہنسی
اپنا حساب لے کر آئی ہوں دونوں سے۔۔۔
وہ اتراکر بولی
کن دونوں سے؟
وجدان اچانک سیدھا ہوکر بیٹھا نیہا کی خوشی اب اسے کسی انہونی کا احساس دلانے لگی تھی۔
مشال اور التمش اُوپس۔۔۔میرا مطلب تااامی۔۔
وہ لہجے کو معصوم بناکر بولی ساتھ ہی کھلکھلاکر ہنسنے لگی
واٹ۔۔۔کیا کِیا ہے تم نے۔۔۔کیسے حساب برابر کیا ہے۔۔۔
وجدان نے حیرت سے اس سے پوچھا لہجے میں بےتابی تھی۔۔۔التمش کی تو اسے پرواہ زرا نہیں تھی۔۔۔اسکا دل تو مشال کا سُن کر گھبرایا تھا۔
دونوں کے اوپر جانے کا ٹکٹ بُک کراکر آئی ہوں۔۔۔ایزی تھا۔۔۔جسٹ کار ایکسڈنٹ۔۔۔بھئی میرا تو ایک ہی رُول ہے کہ جو میرا نہیں وہ کسی کا نہیں۔۔۔اور وہ مشال۔۔۔ہنہہ وہ تو اب تک پہنچ بھی چکی ہوگی اوپر۔۔۔
نیہا اپنی ہی ٹون میں بولے جارہی تھی جبکہ وجدان کو اسکے الفاظ کسی سیسے کی طرح کان میں لگے تھے۔۔۔تو مطلب وہ مشال کا ایکسڈنٹ۔۔۔
اس سوچ نے ہی وجدان کی آنکھیں لہو رنگ کردیں وہ کچھ پل سن دماغ سے کچھ سوچتا رہا پھر اسے گھورتا ہوا خاموشی سے اٹھ کر اندر چلا گیا۔
بھئی اب میں ریلیکس ہوں۔۔۔ساری ٹینشن ختم میری تو۔۔
وہ پرسکون سی بولتی ہوئی صوفے کی پشت سے سر ٹکاگئی تبھی نیہا کو اپنی کنپٹی پر کسی سخت چیز کے لگنے کا احساس ہوا۔۔۔وہ حیران سی گردن موڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔۔مگر اگلے ہی پل وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی تھی۔
جس پسٹل کو اس نے ریشم بائی کے کوٹھے سے آخری بار چُرایا تھا۔۔۔وہ وجدان ہاتھ میں لے کر اسکی طرف کیے کھڑا تھا۔۔۔۔نیہا ہنستی اسکی حرکت پر لیکن وجدان کی آنکھوں میں غضب کی سرخی دیکھ اسکے الفاظ گنگ ہوگئے۔۔۔بڑی مشکل سے وہ بولنے لائق ہوئی۔
یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔نیچے کرو اسے۔۔۔
وہ ہکلا کر غصے میں بولی ڈر بھی تھا کہ سامنے کھڑے انسان کا کچھ بھروسہ بھی نہ تھا
تمہیں میں نے پہلے بھی وارن کیا تھا کہ میری مشال کو کچھ بھی کیا تو حشر برا کردوں گا تمہارا۔۔۔پر شاید تم میری اس بات کو کچھ زیادہ ہی لائٹلی لے چکی تھی۔۔۔اور اب جب تم نے غلطی کردی ہے تو سزا تو بنتی ہے نا ڈارلنگ۔۔۔
وہ بول نہیں رہا تھا۔۔۔۔پھنکار رہا تھا۔۔جس پر نیہا نے بمشکل تھوک نگلا ابھی وہ کچھ بولتی کے فلیٹ میں “ٹھاہ” کی آواز پر چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔۔۔۔
نیہا کا بےجان وجود سیدھا منہ کے بل گِرا تھا۔۔۔۔گولی اسکے ماتھے کو چیرتے ہوئے گئی تھی۔۔۔دوسری طرف وجدان۔۔۔اسکی آنکھوں میں اب وہی تمسخر تھا جو کچھ گھنٹے پہلے نیہا کے چہرے پر التمش کی کار دیکھنے پر تھا۔۔۔
سوری بےبی۔۔۔۔پر کیا ہے نا کہ جب میں کہہ دوں کہ میری مشال کو کچھ نہیں ہونا چاہیے تو مطلب کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔
وہ جھک کر اسکے مردہ چہرے کو اپنی طرف کر کے بولا پھر اسکا چہرہ جھٹکتے ہوئے اٹھا اور پسٹل وہی پھینکتا ہوا فلیٹ سے تیزی میں نکلا۔۔۔۔۔دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا۔۔۔اسے جلد سے جلد پتا کرنا تھا کہ مشال ابھی کہاں ہے۔۔۔۔وہ دعا کررہا تھا کہ مشال کو کچھ نہ ہو۔۔۔۔درد اتنا تھا کہ سب کو تکلیف پہنچانے والا وہ انسان آج رونے لگا تھا کار ڈرائیو کرتے ہوئے۔۔۔۔۔اور کیوں نہ روتا۔۔۔آخر کو وہ بھلے ہر لڑکی کے ساتھ کھیلا تھا۔۔۔پر جب اسے سچ میں محبت ہوئی۔۔۔تو وہ اس سے چھین لی گئی تھی۔۔۔۔اور اب وہ اسے اپنا بنانے کی کوششیں کرنے لگا تھا تو اس نیہا نے کیا کردیا تھا۔۔۔بےاختیار وجدان نے ڈیش بورڈ پر زور سے ہاتھ مارا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی کی کال پر سب ابھی ہوسپٹل میں تھے سوائے حیدر صاحب اور آمنہ بیگم کے۔۔۔۔انکے ساتھ گھر پر نسرین تھی پر خبر ان تک بھی پہنچ چکی تھی مشال کے ایکسڈنٹ کا۔۔۔۔جب سے اب تک شرمندگی سے کسی نے ایک لفظ نہیں بولا تھا۔۔۔۔نور اور ریحانہ بیگم کا رورو کر حال برا ہوگیا تھا۔۔۔ریحانہ بیگم کو لگ رہا تھا انکا دل کسی نے نچوڑ کر رکھ دیا ہو۔۔۔۔آخر غلطی انکی بھی تو تھی۔۔۔اپنی ہی بیٹی پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔اگر وہ اس وقت مشال پر بھروسہ کرتی تو آج وہ اس حالت میں نہ ہوتی۔۔۔۔عالیہ بیگم الگ شرمندگی سے خاموش کھڑی تھیں۔۔۔آنسو خودبخود آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔۔۔منہ سے ابھی سب کے سامنے کچھ بولنے کی ہمت نہ تھی اتنا کچھ کرنے کے بعد۔۔۔لیکن دل کی گہرائیوں سے وہ دعاگوہ تھیں کہ مشال کو کچھ نہ ہو۔۔۔۔وہ ٹھیک ہوجائے۔۔۔۔۔ہادی بھی دیوار سے ٹیک لگائے چپ چاپ کھڑا تھا۔۔۔ایک آدھ نظر کبھی سب پر ڈال لیتا ورنہ پھر یونہی بازو فولڈ کیے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔اور وہ۔۔۔التمش زمان۔۔۔ان سب کی موجودگی سے بےخبر بنا۔۔۔بینچ پر جھک کر بیٹھا زمین کو گھوررہا تھا۔۔۔اسے نہیں پرواہ تھی ابھی کہ کون رو رہا ہے کون شرمندہ کھڑا۔۔۔اسے فکر تھی تو صرف ایک ہی نفس کی جو تھیٹر روم کے اندر ابھی نازک حالت میں تھی۔۔۔۔اسکی مشال۔۔۔چہرہ اسکا ہنوز سپاٹ تھا پر اندر ایک طوفان برپا تھا۔۔۔اسکی حالت پھر اسی دن والی ہوگئی تھی جب زمان صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔۔اس دن بھی تو اس نے اپنے ایک عزیز کو کھویا تھا۔۔۔اور آج۔۔۔۔نہیں وہ آج پھر وہی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا سوچنے لگا کہ ایسا کیا کرے کہ اسکی مشال ٹھیک ہوجائے۔۔۔۔اسے کچھ نہ ہو۔۔۔تبھی اسکے کانوں میں اذان کی آواز پڑی۔۔۔۔بے اختیار آنسو لڑھکے تھے اسکی آنکھوں سے۔۔۔آنکھیں ساکت ہوئی تھیں۔۔۔کتنا غافل انسان تھا وہ۔۔۔۔۔یہ تک بھول گیا کہ ایک ہستی ہے۔۔۔۔جس کے آگے ہاتھ پھیلانے سے۔۔۔گِڑگڑانے سے۔۔۔وہ کُن فرمادیتا ہے۔۔۔اور اب اسے ہاتھ پھیلانا تھا اسکے سامنے۔۔۔وہ بےتاب سا ہوکر اٹھا تھا۔۔۔اور ہوسپٹل کے بلکل سامنے بنی مسجد کا رخ کیا۔۔۔نماز پڑھ کر جب دعا کے لیے اس نے ہاتھ اٹھائے تو آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے۔۔۔۔وہ بھیک مانگ رہا تھا اپنی محبت کی۔۔۔ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ آج اپنے رب سے اپنی محبت کی سلامتی مانگ رہا تھا۔۔۔اسی رب سے جس کے آگے وہ بمشکل کبھی کبھی جھکتا۔۔۔ورنہ ہمیشہ غافل رہا تھا۔۔۔شرم سے سر نہیں اٹھا پارہا تھا وہ۔۔۔الفاظ منہ میں نہیں تھے التمش زمان کے۔۔۔۔بس خاموش بیٹھا آنسو بہائے جارہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❣️❣️❣️❣️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❣️❣️❣️❣️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندی مندی آنکھیں بمشکل کُھلنے پر اسکا سر چکرایا تھا بہت بری طرح۔۔۔۔۔شدید درد کی لہر دونوں پیر اور سَر کے پچھلے حصّے میں اٹھی تھی۔۔۔۔کافی دیر تک دماغ اسکا سُن رہا۔۔۔وہ خاموشی سے بس چھت کو گھورنے لگی۔۔۔تھوڑا ہوش سنبھلنے پر اسنے سُوجی ہوئی آنکھوں سے نظریں ہر طرف دوڑائیں تو پتا چلا۔۔۔اسکا آدھا وجود مشینوں میں جکڑا تھا۔۔۔وہ ہوسپٹل میں تھی۔۔۔۔تو مطلب وہ بچ گئی تھی۔۔۔۔دل میں تکلیف کی ٹیس اٹھی۔۔۔آخر کیسے بچ گئی تھی وہ۔۔۔اسے تو مرجانا چاہیے تھا۔۔۔۔درد جب حد سے بڑھا تو وہ باقاعدہ اپنا سر پٹخنے لگی۔۔۔۔
کیوں۔۔۔آخر کیوں زندہ بچ گئے ہم۔۔کیوووں۔۔
چہرے پر جگہ جگہ پٹی لگے رہنے پر اسے مشکل ہورہی تھی بولنے میں پھر بھی وہ ایک ہی مرتبہ ہذیانی انداز میں چیخی،بھوری آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی تھیں۔۔۔پیر شدید درد کی وجہ سے ہل نہیں سکے تو وہ بستر پر ہاتھ زوروں سے پٹخنے لگی۔۔۔جبکہ گیٹ کے داخلی حصے پر کھڑا التمش زمان اسکے لفظوں کے زیرِ اثر ساکت کھڑا رہا۔۔۔وہ لڑکی جسکے لیے وہ اتنا رویا تھا،اسکی سلامتی کے لیے کتنا تڑپا تھا۔۔۔گڑگڑاکر دعا مانگی تھی رب سے اسکی زندگی کی۔۔۔وہ اب اپنے ٹھیک ہونے پر،بچ جانے پر پچھتاوا کررہی تھی۔۔۔کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ کوئی ہے جو اسکے بنا مرجاتا۔۔۔کوئی ہے جسکی زندگی مشال کے بغیر خالی رہتی۔۔۔ڈاکٹر کے بتانے پر وہ کس قدر خوش ہوا تھا جیسے زندگی کی نوید سنادی گئی ہو اسے پر یہاں آکر اسکی ساری خوشی غارت ہوگئی تھی۔۔۔کچھ پل وہ یونہی مشال کو ہاتھ اور سر پٹخ کر تڑپتا دیکھتا رہا پھر بنا اسے مخاطب کیے وہاں سے چلاگیا۔
وہ کسی سے بات نہ کرتی پر اپنی ماں کا روتے ہوئے ہاتھ جوڑنا اسے بےبس کر گیا تھا۔۔۔مشال کمزور پڑ گئی تھی انکے معافی مانگنے پر۔۔۔اور تڑپ کر انکے گلے لگی تھی۔۔۔عالیہ بیگم بھی شرمندگی کے باعث کچھ بول نہیں پارہی تھیں۔۔۔بس تھوڑی بہت طبیعت پوچھی تھی اسکی جسکا جواب مشال نے انکی گِلٹ سمجھتے ہوئے نرمی سے مختصر دیا تھا۔۔۔
مزا آرہا تھا نا ہم سب کی جان مشکل میں ڈال کر۔۔۔
ہادی نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے مصنوعی خفگی سے مشال کو کہا تو وہ پھیکی ہنسی ہنس دی۔۔۔ساتھ ہی سب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھیں۔۔۔وجدان کو ہم نے ہر جگہ ڈھونڈا پر وہ کہیں نہیں ملا ہمیں۔۔۔۔کافی انکوائری کے بعد وہ لڑکی جو اسکے ساتھ ان سب کاموں میں ملوث تھی۔۔۔۔ہاں نیہا میر۔۔۔اسکی لاش ملی ہے ہمیں ایک پرانے کھنڈر سے فلیٹ میں۔۔۔قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس لڑکی نے انہیں دنوں میں وہ فلیٹ کرائے پر لیا تھا۔۔۔
پولیس آفیسر التمش کے سامنے کھڑے اسے اور بھی بہت کچھ بتارہے تھے پر وہ جیسے انکی بات سن ہی نہیں رہا تھا۔۔۔کیونکہ اسکی نظر ریسیپشن کے پاس کھڑے اس مشکوک شخص پر گڑی تھی۔۔۔جو اپنا آدھا منہ چھپائے ریسیپ شنِسٹ سے کچھ پوچھتے ہوئے لگاتار اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ شخص ابھی آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ التمش نے اسے شعلہ برساتی نظروں سےگھورتے ساتھ آفیسر کی جیب سے پسٹل جھپٹ کر اس شخص کے پیر پر شُوٹ کیا۔۔۔ہوسپٹل میں دو مرتبہ پسٹل کی آواز گونجتے ساتھ ہی افراتفری مچی تھی۔۔۔سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ پولیس کو کچھ دیر تک سمجھ ہی نہیں آیا۔
کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔
انہوں نے التمش کے ہاتھ سے پسٹل لیتے ہوئے حیرت سے پوچھا
وہ رہا مجرم۔۔۔
اب کی بار التمش نے پرسکون ہوکر اس شخص کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا جو نیچے پڑا کراہ رہا تھا۔۔۔
ساتھ آئے پولیس کے کچھ آفیسر اس کی طرف بڑھے۔۔۔اسکا چہرہ دیکھنے پر وہ لوگ بھی دنگ رہ گئے۔۔۔کیونکہ وہ کوئی اور نہیں۔۔۔وجدان علی ہی تھا۔۔۔جسے وہ لوگ اتنے دنوں سے ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔وجدان یہاں بہت مشکل سے مشال کا پتا کر کے پہنچا تھا۔۔۔اسے مشال کو دیکھنا اور اسے یہاں سے لے جانا تھا۔۔۔پر التمش کی وجہ سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اسکا پلین چوپٹ ہوا تھا۔۔۔وجدان نے کلس کر التمش کو دیکھا جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا اس تک پہنچا تھا۔۔۔اسکے چہرے پر اب کے زہریلی مسکراہٹ تھی۔۔۔جو وجدان کو بہت چبھی۔۔۔۔دو آفیسروں نے وجدان کے درد سے کھڑا نہ ہونے کے باعث اسے دونوں طرف سے پکڑ رکھا تھا۔
کیا بولوں تجھ سے۔۔۔تُو تو اس لائق بھی نہیں کہ تجھ پر التمش زمان اپنے الفاظ ضائع کرے۔۔۔ہنہہ
اس بار التمش نے بھی اپنی مخصوص دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے ہنکارا بھرا پھر آنکھیں گھوماتے ہوئے اندر کی طرف چلا گیا۔۔۔وجدان نے اذیت سے آنکھیں میچیں۔۔۔۔آج اپنا آپ اسے بہت گرا ہوا لگا۔۔۔پولیس اسے گھسیٹتے ہوئے دوسرے وارڈ میں لے کر گئی تھی۔۔۔تاکہ پیر سے گولی نکال کر اسے واپس جیل میں لے جائیں۔۔۔اپنے دل کی بات کو اس نے اب دفن ہی کرنا ٹھیک سمجھا۔۔۔کیسے یقین دلاتا سب کو کہ وہ سچی محبت کرتا تھا مشال ایجاز سے۔۔۔۔پر اپنی ضد میں اس سے سب غلط ہوگیا تھا۔۔۔اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اگر کبھی جیل سے نکلا بھی تو پلٹ کر واپس مشال کے پاس نہیں آئے گا۔۔۔۔اپنی محبت کے لیے اتنا تو کرہی سکتا تھا وہ اب۔۔۔کہ اسے خوش دیکھنے کے لیے خود کو دور کردے اس سے۔۔۔کبھی اسکی زندگی میں واپس نہ جائے۔۔۔اسے پہلی مرتبہ رشک ہوا تھا التمش زمان کی قسمت پر۔۔۔۔۔۔اسے وارڈ میں لاکر بیڈ پر لیٹایا گیا تو ایک اذیت بھری زخمی مسکراہٹ نے وجدان علی کے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے سب اسی کے ساتھ بیٹھے ہلکی پھلکی اس سے بات کرکے مشال کا دل بہلارہے تھے۔۔۔پر اسکی نظریں اس ستمگر کو تلاش رہی تھیں۔۔۔جو پتا نہیں کہاں غائب ہوگیا تھا۔۔۔۔جب سے اسے ہوش آیا تھا تب سے وہ اسے نہیں دکھا نہ تو اندر روم میں آیا۔۔۔۔مشال کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔۔۔کیا اسے پرواہ نہیں تھی مشال کی۔۔۔کئی طرح کی سوچ دماغ میں گھوم رہی تھیں۔۔۔
رات کو نور کے علاوہ ہادی سب کو گھر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔مشال بار بار روم کے گیٹ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔امید تھی کہ ابھی اچانک وہ اندر داخل ہو۔۔۔پر وہ نہیں آیا۔۔۔
آپی۔۔۔
نور کے پکارنے پر اس نے نور کو دیکھا جو دوائی ہاتھ میں لیے اسکے برابر میں کھڑی تھی
نور۔۔۔التمش۔۔۔
وہ سسکی تھی اس ستمگر کا نام لیتے ہی۔۔۔بقول مشال کہ وہ اسے تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا
آپی ہادی نے تو بتایا تھا کہ وہ نماز پڑھنے گئے ہیں۔۔۔آتے ہی ہوں گے۔۔۔
نور کے تسلی دینے پر بھی اسکا دل ہلکا نہ ہوا۔۔۔۔دوائی کھا کر وہ سر میں درد ہونے کی وجہ سے آنکھیں موند گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کیسی ہے مشال۔۔۔
بہتر ہے پہلے سے۔۔۔۔پیر میں زیادہ چوٹ آنے کی وجہ سے ابھی چل نہیں سکتی۔۔۔ڈسچارج چند دنوں میں ہوگی۔۔۔
آمنہ بیگم کے پوچھنے پر عالیہ بیگم نے تفصیل سے بتایا تو انہوں نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا
کوشش کریے گا کہ مشال کے آنے کے بعد یہاں پھر بدامنی نہ ہو پہلے ہی بہت تکالیف برداشت کی ہے اس بچی نے۔۔۔
آغاجان نے ٹہرے ہوئے لہجے میں تاکید کی تو عالیہ بیگم کے ساتھ ریحانہ بیگم بھی شرمندہ ہوئی۔۔۔کسی طور تو نہیں بخشا تھا ان لوگوں نے مشال کو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جلدی اسکی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔گردن موڑ کر اس نے دیکھا تو کمرے میں صرف نور تھی جو اسکے برابر میں بیٹھی کال پر شاید ہادی سے بات کررہی تھی۔۔۔وہ کہیں نہیں تھا۔۔۔پر پیشانی پر مشال کو وہی مانوس سا نرم گرم لمس اب بھی محسوس ہورہا تھا۔۔۔تو کیا اسکے ہوش میں نہ ہونے پر وہ آیا تھا اسکے پاس۔۔۔تو ابھی کہاں گیا تھا اور سامنے کیوں نہیں آرہا تھا وہ ستمگر۔۔۔مشال کو رونا آیا تھا۔۔۔وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر رونا چاہتی تھی۔۔۔پر وہ تو بےنیاز بنا ہوا تھا۔۔۔جیسے پرواہ ہی نہ ہو مشال۔۔۔یکایک مشال کی آنکھوں سے تیزی میں آنسو گرے۔۔۔۔تبھی گیٹ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تھا۔اسے دیکھتے ہی مشال کو بےتحاشہ خوشی ہوئی۔۔۔سارے گِلے شکوے پل میں ختم ہوگئے تھے۔۔۔نور کی نظر التمش پر پڑی تو وہ فون رکھتے ہوئے خاموشی سے روم سے نکل گئی۔
اسے دیکھ کر مشال نے بیٹھنے کی کوشش کی تو التمش نے کندھوں سے تھام کر اس کو واپس لیٹا دیا۔۔۔مشال نظر بھر کر اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ سپاٹ چہرہ لیے سائیڈ سے ٹیوب اٹھایا تھا۔۔۔اور اسکے پیروں پر پٹی اتار کر نرمی سے دوائی لگانے لگا۔۔
التمش۔۔۔
مشال کے پکارنے پر بھی اس نے مشال کی طرف نہ دیکھا۔۔۔وہ اسے مکمل اگنور کرتے ہوئے اسکے پیروں پر دوائی لگا رہا تھا۔۔۔۔مشال نے ہاتھ بڑھا کر اسکے سر پر لگی چوٹ کو چھونا چاہا تو التمش چہرہ پیچھے کرگیا۔۔۔۔مشال نے سبکی سے اپنے ہوا میں اٹھے کو دیکھا۔۔۔۔۔دوائی لگانے کے بعد اس نے پھر بینڈج کی تھی۔۔۔اور اسے مخاطب کیے بغیر باہر چلا گیا۔مشال اسکی بےرخی پر تڑپ کے رہ گئی۔۔۔غصہ تو آیا اس ستمگر پر۔۔۔اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اسکا رویہ کھلا تھا مشال کو۔۔۔پر کچھ نہ کر اپنے پر وہ اپنے ہی لب کچل گئی۔۔۔
باہر آکر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔مشال کی باتوں سے اسے بہت تکلیف ہوئی تھی۔۔۔وہ اس سے خفا چاہ کر بھی نہیں ہو پارہا تھا پر تھوڑا تنگ تو کرنا ہی تھا اسے تبھی بمشکل اسکی موجودگی کو التمش نے نظر انداز کیا تھا۔۔۔اس نے ایک نظر روم پر ڈالی۔۔۔اور آسودگی سے مسکراتے ہوئے سر ہلا کر ڈاکٹر کے پاس گیا۔۔۔باقی کے ڈسکرپشن کا پوچھنے۔۔۔
