No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
تم۔۔۔کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ میں بھی اس ریشم بائی کے کام میں ملوث تھا۔۔
وجدان کو جھٹکا لگا تھا ہادی کو دیکھ کر مگر پھر جلد ہی خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے ہادی کو گھورتے ہوئے پوچھا
ہادی کچھ قدم اٹھاتا ہوا اسکے قریب آیا۔پھر زوردار تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا۔
اےےے۔۔
ہاتھ ہتھکڑی میں بندھے ہونے کی وجہ سے وجدان صرف دھاڑ پایا تھا اسکے مارنے پر لیکن ہادی نارمل تاثرات لیے خاموش کھڑا رہا۔۔جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔۔
دل تو چاہ رہا ہے تیری جان لے لوں۔۔۔پر کیا ہے۔۔۔تجھ جیسے غلیظ کو مار کر میں اپنے ہاتھ گندے نہیں کرنا چاہتا۔۔۔اور ہاں۔۔۔یہ تھپڑ جو تُو نے ابھی کھایا ہے نا۔۔۔یہ نور کی طرف سے ہے۔۔۔
ہادی نے ہلکی آواز میں دانت کچکچاتے ہوئے کہا جبکہ وجدان خون رنگ آنکھوں سے اسے گھوررہا تھا۔۔۔مطلب وہ جان چکا تھا۔۔۔
ہادی اسے گھورتا چھوڑ کر اندر گیا۔۔۔اور آفیسرز کے ساتھ ہر ایک روم میں تلاشی لینے لگا۔۔۔اسے صرف وہ ویڈیو ڈھونڈنی تھی۔۔۔جس کے بارے میں نور نے کہا تھا۔۔۔
وارڈروب کے اندر ایک دراز میں کئی لڑکیوں کے اسکینڈلز رکھے تھے۔۔۔۔ہادی کا خون کھول گیا یہ دیکھ کر۔۔۔۔واقعی وہ انسان کسی حیوان سے کم نہ تھا۔۔۔ناجانے اب تک کتنی ہی لڑکیاں اسکی وجہ سے بدنام ہوئی ہونگی۔۔۔
اسے افسوس ہوا ان لڑکیوں پر جو جھوٹے پیار کے بہکاوے میں آکر اپنی عزت تک ان حیوانوں کو دے دیتی ہیں۔۔۔
پر ساتھ ساتھ اسے اس بات پر خوشی بھی ہوئی کہ مشال اس انسان نما حیوان سے بچ گئی۔۔۔۔
اس نے ساری اسکینڈلائز پکس اور یو ایس بی اپنے ساتھ لائے گئے بیگ میں رکھی اور باہر نکل گیا۔۔۔
وجدان کے گھر سے اور بھی کئی ایسی چیزیں ملیں جسکی بیس پر اسے گرفتار کرلیا گیا۔۔۔
ہادی اس کے فلیٹ سے نکل ہی رہا تھا کہ وجدان کی آواز پر رکا۔
یہ سوچ کر خوش ہو لو ہادی زمان کہ بہت اچھا کام کیا ہے تم نے پر دیکھنا۔۔۔بہت جلد پھر آؤں گا۔۔۔اور اپنی مشال کو لے کر جاؤں گا۔۔۔اور دیکھنا وہ التمش خود دے گا مشال کو مجھے۔۔۔
وجدان نے غراتے ہوئے کہا پھر ہنسنے لگا۔۔۔ہادی نے ناگواری سے اسے پولیس موبائل میں جاتے دیکھا
بیگ لے کر وہ سیدھا سی سائیڈ پر گیا اور سبھی چیزوں کو اکھٹا کر کے لائیٹر کی مدد سے جلا دیا۔۔۔۔جب تک ایک ایک پک اور یو ایس بی جل کر راکھ نہیں ہوگئیں۔۔۔وہ وہی پر کھڑا رہا۔۔۔۔اسے اس بات پر تسلی ہوئی کہ نور کے ساتھ سب نہیں پر کچھ لڑکیاں اسکی وجہ سے بدنامی سے بچ گئیں۔۔۔
سبھی چیزیں جلا کر وہ کار میں آکر بیٹھا۔۔اب اسکا رخ زمان صاحب کے آفس کی طرف تھا۔وہ التمش سے پہلے وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات سے لاؤنج میں بیٹھا سموک پر سموک کیے جارہا تھا۔۔۔۔۔پہلی بار مشال کو اس قدر ٹارچر کیا تھا اس نے۔۔۔۔پر اپنے کیے گئے عمل پر اسے کوئی افسوس نہیں تھا۔۔۔۔اسکی نظر میں مشال اسی سزا کی حقدار تھی۔۔۔اسکا غصہ صرف اسی بات پر بڑھا تھا کہ اسکے منع کرنے کے باوجود وہ وجدان کے ساتھ تھی۔۔۔اگر وہ اسکے آنے کے ٹائم پر اسطرح وجدان کے ساتھ کھڑی تھی تو اس سے پہلے مشال کتنا فرینکلی رہی ہوگی اس کے ساتھ۔۔۔یہ سوچ التمش کا دماغ اور خراب کرنے لگی۔۔۔۔وہ خود بھی پریشان تھا کہ اب کیوں اسے زرا زرا سی بات پر غصہ آنے لگا ہے۔۔۔۔۔شاید مشال کی بے اعتباری نے اسے اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔پیشانی مسلتے ہوئے اس نے لاؤنج میں نسب گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔۔صبح کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتا ہوا وہ اٹھا اور کمرے میں گیا۔۔۔
مشال اسی حالت میں بیڈ پر اب تک بے ہوش پڑی تھی۔۔التمش نے اسکے پاس آکر آہستگی سے ایک ایک کر کے اسکے دونوں بندھے ہوئے ہاتھ کھولے۔۔۔۔پھر سائیڈ ٹیبل سے پانی سے بھرا جگ اٹھا کر اسکے منہ پر انڈیل دیا۔۔۔وہ جھٹکے سے ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔اور زور زور سے کھانسنے لگی۔۔۔کچھ حواس سنبھلنے پر کندھے میں شدید جلن کا احساس ہوا تو وہ تڑپ کر التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔جس کے تاثرات بلکل سرد تھے۔۔۔۔
اسے دیکھ کر مشال کو بہت خوف آیا۔۔۔اس سے پہلے وہ اور کچھ کرتا مشال جلدی سے اٹھتے ہوئے واشروم میں بھاگی۔۔۔۔واش بیسن کے سامنے کھڑے ہوکر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔تکلیف کسی طور کم نہیں ہورہی تھی۔۔۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔تبھی واشروم کا گیٹ زور سے بجا۔۔۔مشال تقریباً اچھل گئی گیٹ پیٹنے سے۔۔۔
فوراً باہر نکلو۔۔۔
التمش کی دھاڑ سن کر وہ خوف سے گیٹ کو دیکھنے لگی۔۔۔پھر تھوک نگلتے ہوئے آہستہ سے گیٹ کھولی۔۔۔
اسکے باہر آتے ہی التمش نے بازو سے دبوچ کر اسے اپنے قریب کیا۔۔۔
اپنا یہ رونے کا ڈرامہ بعد میں کرنا۔۔۔پہلے فوراً بریک فاسٹ تیار کرو۔۔۔میں لیٹ ہورہا ہوں آفس کے لیے۔۔۔
التمش نے کہہ کر اسے سائیڈ پر دھکیلا۔۔۔۔تو مشال ہچکیوں سے رودی۔۔
اور ہاں۔۔
واشروم میں جاتے جاتے وہ واپس مڑا تو مشال پھر وحشت سے اسے دیکھنے لگی۔
پہلے میرا ایک ڈریس نکالو وارڈروب سے پھر جاؤ ناشتہ بنانے اور میں جب ڈائینگ ٹیبل پر آؤں تو بریک فاسٹ ریڈی ہونا چاہیے۔۔۔
اسے انگلی دکھاکر گھورتے ہوئے التمش نے کہا اور واشروم میں چلاگیا۔۔۔مشال گال رگڑتے ہوئے وارڈروب سے اسکا ایک ڈریس نکالنے لگی۔۔۔پھر کچن میں چلی گئی۔۔۔کندھے پر مسلسل ہوتی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ التمش کے لیے ناشتہ بنانے لگی۔۔۔مگر آنسوؤں پر اسکا زور نہیں تھا اس لیے کام کرتے ہوئے لگاتار آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔۔
کچھ دیر بعد التمش آکر ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا اور خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔۔بیچ بیچ میں مشال کی سسکیوں کی آواز اس کے کان میں لگ رہی تھی۔۔۔کچھ پل تک تو وہ اگنور کرتا رہا مگر جب اڑیٹیٹ ہونے لگا تو غصے میں پلیٹ زور سے نیچے پھینکتے ہوئے اٹھا۔۔۔مشال سہم کر کچھ قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔
کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے۔۔۔دکھانا کیا چاہ رہی ہو کہ بہت مظلوم ہو۔۔۔ہاں۔۔۔ہمدردیاں چاہ رہی ہو۔۔۔
اسکا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچ کر وہ غراتے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگا۔۔۔اسکی انگلیاں مشال کو اپنے جبڑے میں دھنستی محسوس ہوئی۔۔۔
اب اگر میرے سامنے یہ رونے کا ڈرامہ کیا۔۔۔۔تو تمہارا چہرہ بھی کندھے کی طرح بگاڑ دوں گا۔۔۔سمجھی۔۔
التمش نے سختی سے کہا جس پر مشال اور زور سے رونے لگی۔۔۔اسکا ہاتھ چہرے سے ہٹانے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔
دھمکی کے باوجود مشال کا مسلسل رونا اسے تپا گیا۔۔۔کچھ سوچ کر التمش نے اسکے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالا جس پر مشال کی چیخ نکل گئی۔۔
التمش پلیز۔۔۔ہم نہیں روئیں گے۔۔۔
وہ آنکھیں میچے تڑپ کر جلدی سے کہنے لگی۔۔تو التمش جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہوا فلیٹ سے نکل گیا۔۔۔جبکہ مشال کندھے پر ہاتھ رکھے تڑپ کر ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خراب موڈ کے ساتھ وہ آفس آیا۔۔۔مگر وہاں ہادی کو مینیجر سے بات کرتا دیکھ حیران ہوا۔
تُو کیا کررہا ہے یہاں پر۔۔۔
مینیجر کو بھیج کر اس نے ہادی سے پوچھا
بھائی۔۔۔میں نے سوچا۔۔کہ میں بھی آپ کی ہیلپ کروں۔۔۔اسی لیے میں نے آج ہی آفس جوائن کیا ہے۔۔۔
ہادی نے تھوڑا جھجھک کر کہا۔۔پہلے وہ ہر بات التمش سے بنا جھجھکے کہہ دیتا تھا۔مگر اس انسیڈنٹ کے بعد اب التمش کے بدلتے انداز اور روکھے لہجے پر وہ جھجھکنے لگا تھا اس سے۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے میری ہیلپ کی۔۔۔تُو اپنی پڑھائی کمپلیٹ کر پھر آفس جوائن کرنے کا سوچنا۔۔۔
التمش سنجیدگی سے کہہ کر ہادی کو لیتے ہوئے اپنے کیبن میں آیا۔۔۔
بھائی پلیز۔۔۔۔آئی نو آپ کو میری کیا کسی کی بھی ہیلپ کی ضرورت نہیں بٹ بھائی۔۔۔مجھے شوق ہے۔۔۔اور پڑھائی کی ٹینشن مت لیں۔۔۔پیپرز میں پرائیویٹ دونگا۔۔۔
ہادی نے منت بھرے لہجے میں کہا التمش انکار کرتا رہا مگر اسکی مسلسل رٹ پر آخر مان گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس سے رات میں وہ ہادی کے ساتھ ہی حیدر ولا آگیا۔۔۔
پر اندر کا منظر دیکھ کر تھوڑا حیران ہوا۔۔۔سبھی گھر والے لاؤنج میں نسب ٹی وی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔سب کی نظروں کے تعاقب میں اسنے دیکھا۔۔۔ٹی وی پر وجدان کے اریسٹ ہونے کی نیوز چل رہی تھی۔۔۔التمش کے چہرے پر تمسخر پھیلا۔۔۔۔
بیٹا آؤ۔۔۔
عالیہ بیگم نے ان دونوں کو گیٹ پر کھڑا دیکھ کر کہا
ریحانہ بیگم نے بھی ٹی وی بند کردیا۔۔۔التمش بنا کسی کو مخاطب کیے زمان صاحب کے روم میں آگیا۔۔۔انہیں دیکھ کر بے ساختہ التمش کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔۔۔مشال کی ایک غلط فہمی نے کیا کر کے رکھ دیا تھا اسکے باپ کو۔۔۔۔آنکھ جھپک کر اس نے نمی کو اندر کیا۔۔۔وہ صرف سن سکتے تھے اسی آس میں وہ کافی دیر تک زمان صاحب سے باتیں کرتا رہا۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہادی،ہانیہ اور آغاجان بھی روم میں آگئے۔۔۔
عالیہ بیگم کے بلانے پر وہ لوگ ڈنر کرنے چلے گئے۔۔۔نور ہمیشہ کی طرح اپنے روم میں ہی تھی۔۔۔
ڈنر سے فارغ ہوکر ہادی نے سب کے سامنے اچانک نور کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔۔۔جس پر سب شاکڈ ہوگئے۔۔۔التمش نے ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈالی پھر خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔۔۔بی جان کو اسکے فیصلے پر تھوڑا اعتراض ہوا۔۔۔انکی نظر میں نور ابھی چھوٹی تھی پر آغاجان کی رضامندی پر وہ خاموش ہوگئیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گیارہ بجے تک وہ حیدر ولا سے نکلا تھا۔۔۔۔فلیٹ میں پہنچ کر اس نے دیکھا۔۔۔مشال بالکونی میں خاموشی سے کھڑی تھی۔۔۔اسے اگنور کرتا ہوا وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔
التمش کے آنے کی بھنک پر وہ بالکونی سے نکل کر روم میں آئی تب تک وہ چینج کر کے ڈریسنگ روم سے باہر آچکا تھا۔۔اس نے ایک نظر مشال کو دیکھا جس کا چہرہ بلکل مرجھایا ہوا تھا۔۔
کھانا کھایا؟
بالوں پر برش کرتے ہوئے التمش نے پوچھا تو مشال نے آہستگی سے نفی میں سر ہلایا
نکالو۔۔
اسکے بولنے پر مشال نے کچن کا رخ کیا۔۔۔ڈائینگ ٹیبل پر کھانا رکھ کر وہ سلیپ کے پاس کھڑی ہوگئی۔۔۔التمش نے اسے پھر اسی طرح کھڑا دیکھا تو گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔
بیٹھو۔۔۔
اسکے بولنے پر مشال نے چونک کر اسے دیکھا پھر چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چئیر پر بیٹھ گئی۔
کھاؤ۔۔
اسکے بولنے کے باوجود مشال خاموشی سے بیٹھے رہی۔۔۔التمش کے ماتھے پر شکن پڑے۔۔۔اس نے پوکٹ سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا۔۔۔مشال کی نظر جیسے ہی اس پیکٹ پر پڑی اسنے خوف سے التمش کو دیکھا جس کی سرد نظریں اسکے چہرے پر ہی مرکوز تھیں۔۔
کھاؤ سوئیٹی۔۔
وہ نرم لہجے میں کہتے ہوئے سگریٹ کا پیکٹ ہاتھ میں اچھالنے لگا۔۔۔۔۔مشال کی آنکھیں پھر بھرائیں۔۔۔مگر التمش کے تاثرات بدلتے دیکھ وہ جلدی سے لب دانتوں میں دبائے آنسو روکنے لگی۔۔۔پھر کپکپاتے ہاتھوں سے پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی۔۔۔زہر مار کر اس نے چند نوالے کھائے۔۔۔کیونکہ التمش مسلسل اسکے سامنے وہ پیکٹ اچھال رہا تھا۔۔۔
مشال کے چند نوالے کھانے کے بعد وہ اٹھ کر واپس روم میں چلا گیا۔۔۔مشال نے بھیگی آنکھوں سے اسکی پشت کو دیکھا
اسکے کئیر کرنے کے اتنے برے انداز پر مشال کی پھر ہچکیاں بندھ گئیں۔۔۔
برتن سمیٹ کر وہ روم میں آئی تو التمش صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کررہا تھا۔۔۔۔مشال خاموشی سے جاکر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔۔کل رات کے ڈر سے اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔۔کندھے پر ہنوز جلن ہورہی تھی۔۔۔تبھی التمش لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھ کر اٹھا اور بیڈ پر مشال کی طرف آیا۔۔۔مشال نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔پھر جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اس سے پہلے وہ کھڑی ہوتی التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس بیڈ پر بٹھایا اور اسکے سامنے بیٹھ کر مشال کا دوپٹہ گلے سے اتارا۔۔۔۔مشال کی جان ہوا ہونے لگی۔۔۔۔التمش نے جیسے ہی اسکی قمیض کندھے پر سے سرکائی مشال نے فوراً ہاتھ رکھ کر روک دیا اور رونے والی شکل بنا کر التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔پہلے ہی اتنی تکلیف تھی اب وہ اور درد برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
التمش نے اسکے ہاتھ کو ہٹا کر پھر قمیض سرکائی۔۔۔۔کندھے پر جگہ جگہ بنے گول نشان پر سے کھال اتری ہوئی تھی۔۔۔۔اسکا شک صحیح تھا۔۔۔۔مشال نے اس پر کوئی ٹیوب نہیں لگائی تھی۔۔۔۔التمش سائیڈ ٹیبل کی دراز سے برنال نکال کر اسکے کندھے پر نرمی سے لگانے لگا۔۔۔مشال آنکھیں میچے اپنی اسکی روکنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
اس نے برنال لگاتے ہوئے ایک نظر مشال کو دیکھا۔۔۔ضبط کی شدت سے اسکا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔۔۔باوجود کوشش کے آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلے تھے۔۔۔التمش نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر انگلیوں کی پوروں سے اسکے آنسو صاف کیے۔۔۔۔مشال نے جھٹکے سے آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔۔۔تو التمش نگاہ پھیر کر پھر برنال لگانے لگا۔۔۔
دوسرے کندھے پر بھی برنال لگا کر وہ اٹھا پھر بنا اسے کچھ کہے روم سے باہر چلا گیا۔۔۔
مشال کو اسکا پل پل بدلتا رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔کل اس سے بڑھ کر اسے کوئی ظالم نہ لگا پر اب اسکا کئیر کرنا۔۔۔۔مشال کا سر درد سے پھٹنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر سمجھتے کیا ہو تم خود کو۔۔۔۔
جھٹکے سے اسکے روم کا دروازہ کھول کر نور نے اندر آتے ہوئے کہا
ہادی نے چونک کر اسے دیکھا بکھرے ہوئے حلیے میں وہ کئی دنوں کی بیمار لگ رہی تھی۔۔۔۔اسے بے ساختہ پرانی نور یاد آئی جو ہر پل خود کو سجا سنوار کر رکھتی تھی۔۔۔شوخ چنچل سی۔۔۔
کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے۔۔
اسکے چپ رہنے پر نور نے چیخ کر کہا تو ہادی نے اسکے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا
پاگل لڑکی اتنی رات کو میرے کمرے میں آکر چیخ رہی ہو سب سن لیں گے تو کیا کہیں گے۔۔۔کہ شادی تک کا صبر بھی نہیں ہوا اور ہونے والے شوہر سے ملنے روم میں آگئی۔۔
ہادی نے مذاقاً کہا تو نور نے اسکا ہاتھ اپنے منہ پر سے جھٹکا
کس سے پوچھ کر تم نے مجھ سے شادی کا فیصلہ کیا۔۔۔
نور نے غصے میں پوچھا
ہانیہ نے اسکے کمرے میں آکر خوشی سے اسے ہادی کی سب سے ہوتی گفتگو کا بتایا جس پر وہ پہلے تو سکتے میں آگئی پھر اس نے ریحانہ بیگم کو جاکر اس رشتے پر منع کیا پر انہوں نے اسکی بات ماننے سے انکار کردیا جس پر اب وہ ہادی کے سامنے کھڑی غصے میں استفسار کررہی تھی۔
کسی سے پوچھنے کی کیا ضرورت۔۔۔تمہیں پسند کرنے لگا تھا تو بتادیا گھر والوں کو۔۔۔
ہادی نے رسانیت سے کہا
پر مجھے تم نہیں پسند اور نہ ہی مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔۔۔اسی لیے کل تم سب کو اس رشتے پر انکار کر دینا۔۔۔
نور سختی سے کہہ کر باہر جانے لگی تبھی ہادی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا
اگر نہیں کروں تو۔۔۔
اس نے چیلینجنگ انداز میں پوچھا
کیا تم کسی ایسی لڑکی سے شادی کر سکتے ہو۔۔۔جو اسکینڈلائز ہو۔۔۔
نور نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنے دل کی بات اس سے کہی۔۔۔اسے پکا یقین تھا کہ ہادی شاکڈ ہوگا یہ سن کر
ہادی کچھ پل اسے دیکھنے کے بعد آہستگی سے اسکے کان پر جھکا۔۔۔
بلکل کروں گا۔۔
اسنے سرگوشی میں کہا تو نور بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔وہ کیسے ایسا کرسکتا تھا۔۔۔۔اس نے تو سنا تھا کہ جن لڑکیوں کے کردار پر زرا سا بھی داغ لگتا ہے لوگ انہیں اپنانے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔۔۔پر یہاں تو اسکی سوچ کے برعکس ہادی کے جملے تھے۔۔۔
اتنا گھورو مت۔۔۔پاگل ہوجاؤں گا میں تمہاری آنکھوں سے۔۔۔
ہادی نے اسکے مسلسل دیکھنے پر ہلکی مسکراہٹ لیے کہا تو نور چونکی۔۔۔ہوش میں آنے پر اسے احساس ہوا کہ وہ ہادی کے کتنے نزدیک کھڑی ہے۔۔۔نور نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا۔۔۔پھر تقریباً بھاگتے ہوئے اسکے روم سے گئی۔۔۔
تمہارے چہرے کی مسکراہٹ واپس لاکر دم لونگا نور ایجاز۔۔
