61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

فلیٹ میں پہنچ کر وہ بنا اسے کچھ کہے سیدھا کمرے سے اٹیچ بالکونی میں چلا گیا۔۔۔مشال بھی خاموشی سے جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔وہ آج بہت ہرٹ ہوئی تھی سب کے رویے سے۔۔۔اسے تو لگا تھا کہ سب اسے معاف کردیں گے۔۔۔مگر۔۔۔
مشال نے ہاتھ اٹھا کر گال پر رکھا۔۔۔جہاں ریحانہ بیگم نے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔تبھی اسے صبح والا التمش کا تھپڑ بھی یاد آیا۔۔۔دو موتی ٹوٹ کر گال پر پھسلے۔۔۔معاً تھپڑ کے ساتھ التمش کی صبح والی حرکت اسکے ذہن میں آئی۔۔۔اس نے اپنی انگلی ہونٹ پر رکھی۔۔ناچاہتے ہوئے بھی اسکے گال سرخ پڑگئے۔۔۔
یہ سوچ جھٹک کر وہ جلدی سے اٹھی اور ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔پھر کچھ دیر بعد سادہ سے لان کے ڈریس میں نکل کر بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔۔۔دل میں ڈر بھی تھا کہ کہیں التمش اسے بیڈ پر لیٹا دیکھ غصہ نہ ہو۔۔۔وہ جلدی سے سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
آدھی رات کو ایک عجیب سی الجھن سے مشال کی آنکھ کھلی۔۔۔کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔۔۔۔اور سگریٹ کی تیز مہک اسکے نتھنوں میں گھس رہی تھی۔۔۔مشال نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔اسکے بلکل برابر میں ہی التمش بیٹھا سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔۔۔مشال بے یقینی سے اسے سموک کرتا دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھنے ہی لگی تھی پر تبھی ایک اور حیرت کا شدید جھٹکا اسے لگا۔۔۔
اسکے دونوں ہاتھ بیڈ کے سرہانے سے بندھے ہوئے تھے۔۔۔۔مشال نے خوف سے التمش کی طرف دیکھا جو مسلسل سگریٹ کے کش لیتے ہوئے خطرناک تیوروں سے اسے گھوررہا تھا۔۔۔۔پھر اپنے ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔۔ وہ ابھی کچھ بولتی کہ اسے محسوس ہوا کہ اسکے منہ پر بھی کچھ چسپا ہے۔۔۔یقیناً وہ ٹیپ تھا۔۔۔
اب مشال کو وحشت ہونے لگی۔۔۔وہ لگاتار ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ التمش نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔کچھ پوچھ بھی نہیں پارہی تھی۔۔۔جب کوشش کرتے کرتے تھک گئی تو رک کر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔
تبھی التمش نے مشال کا ڈوپٹہ ہٹا کر سائیڈ میں رکھا اور اسکے کندھے پر سے قمیض سرکائی۔۔۔مشال کا خون سُوکھا تھا اسکی اس حرکت پر۔۔۔اس نے جھک کر اپنے لب نرمی سے مشال کے کندھے پر رکھ دیے۔۔۔بے ساختہ مشال کی آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔دل حلق پر دھڑکنے لگا۔۔۔لیکن التمش کے اگلے عمل سے اسکی آنکھیں جھٹکے سے کھلیں۔۔۔وہ جلتی ہوئی سگریٹ اسکے کندھے پر مسل رہا تھا۔۔۔مشال تڑپ کر چیخنے لگی مگر معائے افسوس منہ پر ٹیپ چپکے رہنے کی وجہ سے صرف اسکی دبی دبی آواز نکلی۔۔۔
وہ تڑپتے ہوئے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔مگر بے سود۔۔۔۔جبکہ وہ اسکے مچلنے سے بے نیاز بنتا ہوا مشال کے دائیں کندھے پر جہاں وجدان کا ہاتھ لگا تھا۔۔۔وہاں پر ہر طرف سگریٹ سے داغ رہا تھا۔۔۔تکلیف کی شدت سے آنسو روانی سے مشال کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔۔وہ تڑپتے ہوئے اپنا سر دائیں بائیں ہلا رہی تھی مگر سامنے بیٹھے انسان کے سینے میں جیسے دل ہی نہیں تھا۔۔۔
پانچ چھ جگہ پر سگریٹ مسل کر بھی جب اسے سکون نہیں ملا تو وہ اٹھا اور مشال کے دوسرے کندھے پر سے بھی قمیض نیچے سرکائی۔۔۔مشال پھٹی آنکھوں سے اسے پھر سے خود پر جھکتا دیکھ رہی تھی۔۔۔دوسرے کندھے پر بھی لب رکھ کر وہ سیدھا ہوا اور دوسری سگریٹ جلانے لگا۔۔۔کمرے میں مکمل خاموشی ہونے کے باعث اسکی دبی دبی چیخ کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔درد جب حد سے باہر ہوا تو وہ پاگلوں کی طرح سر ہلاتے ہوئے اپنے پیر بیڈ کی پائنتی پر ماررہی تھی۔۔۔آنسو لڑھک کر آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔مگر اس ستمگر کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔۔۔۔دوسرے کندھے پر بھی جب اس نے ٹھیک سے داغ دیا تو مشال کو دیکھتے ہوئے اسکے منہ پر سے جھٹکے سے ٹیپ کھینچا۔۔۔۔
اس سے پہلے مشال کی دلخراش چیخ رات کے اندھیرے میں گونجتی۔۔۔۔التمش اسکے سرخ ہوتے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اسکی چیخ دباگیا۔۔۔
مشال تڑپ کر اپنے ہاتھ کھینچنے لگی۔۔۔۔کندھے پر ہوتی تکلیف اور جلن سے اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔۔مگر وہ بے پرواہی سے اس پر یونہی جھکا رہا۔۔۔کچھ دیر بعد التمش نے آہستہ سے اس کے لبوں کو چھوڑ کر ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔دونوں کندھوں پر جابجا جلنے کی وجہ سے کھال اتری ہوئی تھی اور وہ بکھری ہوئی حالت میں درد برداشت کرتے کرتے نڈھال سی ہوگئی تھی۔۔۔تبھی اس نے مشال کو بالوں سے جکڑ کر چہرہ تھوڑا اونچا کیا۔۔۔اسکے منہ سے زوردار چیخ نکلی پہلے ہی کندھے میں جلن اور اب سر میں درد۔۔۔اس نے آدھ کھلی آنکھوں سے التمش کو دیکھا
سوئیٹی منع کیا تھا نا کہ وجدان کے آس پاس بھی مت رہنا۔۔۔پھر کیوں اس کے کندھے سے کندھے ملائے کھڑی تھی تم۔۔۔۔اگلی بار میرے حکم کی نفی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔۔۔کیونکہ میں اب وہ التمش نہیں ہوں جو تمہاری چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف یا اگنور کردیتا تھا۔۔۔۔
وہ دھیمے لہجے میں اسے پیار سے دھمکا رہا تھا۔۔۔مشال نے اذیت سے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔
پوری بات کہہ کر وہ جھٹکے سے اسکو چھوڑتا ہوا روم سے نکل گیا۔۔۔
مشال یونہی لیٹے لیٹے سسکنے لگی۔۔۔پہلی بار اس نے التمش کا اتنا بھیانک روپ دیکھا تھا۔۔۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو اسکی زرا سی تکلیف میں کیسے گھر سر پر اٹھا لیتا تھا۔۔۔جو اسکی ہر پسند ناپسند کا خیال رکھتا تھا۔۔۔پر اب رخ پلٹنے پر آیا تو ایسا سنگ دل بن گیا جیسے مشال کی تکلیف اسکے لیے کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔۔۔
مشال کو خود پر غرور تھا کہ اس سے بہتر التمش کو کوئی نہیں جانتا تھا مگر آج اس کا غرور مٹی میں ملا تھا۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس نے کبھی التمش کو جانا ہی نہیں۔۔۔کمرے میں اسکی مدھم سسکیاں گونج رہیں تھی۔۔۔آہستہ آہستہ وہ غنودگی میں جانے لگی۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں مشال ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🥀🥀🥀🥀۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🥀🥀🥀🥀۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔کئی سوچ اسکے دماغ میں گردش کررہی تھیں۔۔۔اس نے ہر ویب سائیٹ پر چیک کیا تھا۔۔۔پر کہیں بھی اسکی وائرل ویڈیو نہیں تھی۔۔۔اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی یہ دیکھ کر مگر ساتھ ہی ڈر بھی بیٹھا تھا دل میں کہ کہیں وجدان کسی وقت بھی ویڈیو اپلوڈ نہ کردے۔۔۔تبھی اسکا فون رنگ کرنے لگا۔۔۔ہادی نے اسکا ٹوٹا فون دیکھ کر دوپہر میں اسے نیو فون لاکر دیا جسے وہ مشال کے سامنے خاموشی سے لے چکی تھی۔۔۔فون مسلسل بج رہا تھا پر سکرین پر وہی نمبر دیکھ کر وہ کال ریسیو نہیں کررہی تھی۔۔۔
کچھ سوچ کر اسنے گھبراتے ہوئے کال ریسیو کی۔
ہیلو۔۔
کیسی ہو لٹل گرل۔۔۔سنا ہے فوڈ پوائزن ہوگیا تھا تمہیں کل۔۔۔
وجدان نے بیڈ پر لیٹے ہوئے فرینکلی کہا پر نور خاموش رہی۔۔
پوچھنا یہ تھا کہ پکّا فوڈ پوائزن ہی ہوا تھا یا پھر سوسائڈ اٹیمپ۔۔۔
اسکے چپ رہنے پر وہ آدھا جملہ بول کر خباثت سے ہنسنے لگا
بکواس بند رکھو۔۔۔
نور تپ کر ہلکی آواز میں بھڑکی
اے۔۔۔تمیز سے۔۔۔بھول رہی ہو شاید وہ ویڈیو۔۔۔
اس کے دھمکانے پر نور کی بولتی بند ہوگئی۔جس بات سے ڈر رہی تھی وہ وہی کرنے لگا۔
ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا کہ لٹل گرل اب تمہیں سوسائیڈ اٹیمپ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں وہ ویڈیو اپلوڈ نہیں کرنے والا۔۔
اسکی یہ بات نور کے لیے خوشی کا باعث بنی مگر وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔
پر کیوں۔۔
کیوں۔۔۔تم چاہتی ہو کہ میں اپلوڈ کروں۔۔
نور کے پوچھنے پر وجدان نے سنجیدگی سے کہا تو نور نے گھبرا کر جلدی سے انکار کیا۔
اب سنو۔۔۔میں وہ ویڈیو ابھی اپلوڈ نہیں کررہا لیکن اگر تمہارا منہ میں نے کہیں بھی کھلتے دیکھا تو یقین کرو میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا اسے سوشل میڈیا کی زینت بنانے میں۔۔کیونکہ وہ ویڈیو اب ہمیشہ میرے پاس ہی رہے گی۔۔۔
وہ نور پر یہ نہیں جتانا چاہتا تھا کہ اس نے وہ ویڈیو مشال کی وجہ سے ڈیلیٹ کردی تھی تبھی بات گھماگیا۔۔
اسکی بات پر نور کو شدید غصہ آیا۔مطلب کیا وہ ساری زندگی اس سے ڈر کے گزارے کہ کہیں وہ ویڈیو لیک نہ ہوجائے۔۔
تم۔۔۔سنو گھٹیا انسان۔۔تمہیں کیا لگتا ہے میں اب تم سے ڈروں گی۔۔۔تو یہ اب تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔تمہیں پتا ہے اب مجھے تم سے ڈر نہیں لگ رہا بلکہ تم پر ترس آرہا ہے۔۔۔چہ چہ۔۔ کیا سوچا تھا تم نے کہ میری آپی سے شادی کرو گے۔۔۔پر یہاں تو آپی کی شادی تامی بھائی سے ہوگئی۔۔۔بہت تکلیف ہوئی ہوگی نا تمہیں اپنا پلین فلاپ ہوتے دیکھ کر پر یو نو واٹ تم نے جو اس رات میرے ساتھ کیا تھا نا اسکے بعد تو میری یہی دعا ہے کہا تمہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف،درد اور اذیت ملے وجدان علی۔۔۔اور دیکھنا تم تڑپوگے بہت تڑپوگے۔۔۔
وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔آنسو گال بھگورہے تھے۔۔۔پر اس نے اب سوچ لیا تھا کہ اس حیوان سے نہیں ڈرے گی۔۔۔۔کیونکہ وہ جتنا ڈرتی وہ اتنا ہی ڈراتا اسے۔۔
اپنا منہ بند رکھو۔۔۔اگر ابھی وہ ویڈیو اپلوڈ کی نا تو دو کوڑی کی بھی نہیں رہو گی تم۔۔۔
وجدان غرایا تھا
ہاں کردو۔۔۔وہ ویڈیو وائرل۔۔نہیں ڈرتی تم سے۔۔۔
آخر کب تک وہ گھٹ گھٹ کر رہتی اسی لیے چلا کر کہنے لگی پھر کھٹ سے فون رکھ دیا۔۔۔دوسری طرف وجدان نے لب بھینچے اسکی دلیری پر۔۔۔۔۔باہر کھڑا ہادی جو اسکی ساری بات سن چکا تھا۔۔۔انجان نہ تھا جو اسکی باتوں کا مطلب نہ سمجھتا۔۔۔۔وہ رات کو سب کے سونے کے بعد اسی لیے نور کے پاس آیا تھا کہ تسلی سے اس سے سوسائیڈ کرنے کی وجہ پوچھے مگر ابھی جو نور نے کال پر کہا وہ سن کر ہادی چپ چاپ واپس اپنے روم میں آکر بیٹھ گیا۔۔۔
مطلب وجدان نے نور کے ساتھ زبردستی کی تھی۔۔۔مگر کب۔۔۔۔۔تبھی ہادی کے دماغ میں اس رات والا واقعہ آیا جب نور بکھری ہوئی حالت میں رات دیر سے گھر آئی تھی۔۔اب اسے نور کے چپ چپ رہنے اور دوپہر کو اسطرح سے رئیکٹ کرنے کی وجہ سمجھ میں آئی۔۔۔ہادی نے تکلیف سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔
وجدان علی۔۔
اس نے نفرت سے نام لیا
یہ وقت بیٹھ کر سوچنے کا نہیں تھا۔۔۔وہ جھٹکے سے اٹھتا ہوا روم سے نکلا۔۔۔گھر سے نکلتے ہوئے اس نے چند ضرورت کا سامان لیا۔۔۔اسے آج ہی آج کچھ کرنا تھا۔۔۔نور کے منہ سے اس نے کسی ویڈیو کا بھی سنا تھا۔۔۔۔کار چلاتے ہوئے مسلسل اسکا ذہین دماغ کچھ پلین کررہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح مسلسل بجتی ڈور بیل کی آواز پر وجدان کی نیند ٹوٹی۔۔۔۔وہ جمائی روکتا ہوا روم سے نکلا پھر آنکھ مسلتے ہوئے گیٹ کھولنے لگا۔۔۔مگر باہر کھڑے چند پولیس آفیسرز کو دیکھ کر اسکی نیند ہی غائب ہوگئی۔۔۔
اریسٹ کرو اسے اور گھر کی تلاشی لو۔۔۔
سینئر آفیسر کے حکم پر دو افسر نے زبردستی وجدان کے ہاتھ میں ہتھکڑی پہنائی جبکہ باقی کے تین گھر کے اندر داخل ہوئے۔۔
ہیلو۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔کیا کررہے ہیں آپ لوگ۔۔۔یہ۔۔۔۔۔چھوڑیے مجھے۔۔۔کس کی پرمیشن سے آپ لوگ یہ کررہے ہیں۔۔۔
وجدان نے ان دونوں آفیسرز کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے چیخ کر کہا۔۔۔اسے سمجھ نہیں آیا یہ اچانک ہوتا لاحلہ عمل۔۔۔۔
چلا مت۔۔۔ریشم بائی کو جب ہم نے گرفتار کیا تھا تو اس نے ہمیں تیرے اور ایک لڑکی کے بارے میں بتایا کہ تم دونوں بھی اسکے کام میں ملوث تھے۔۔۔لڑکی کا تو پتا نہیں چلا پر تیرے بارے میں ہمیں کل ہی خبر ملی۔۔۔
سینئر آفیسر نے سختی سے کہا تو وجدان کے جبڑے تنے
سب بکواس ہے۔۔۔۔میں کوئی اسطرح کا کام نہیں کرتا۔۔۔کس(گالی) نے خبر دی آپ کو۔۔۔
اسنے دھاڑتے ہوئے پوچھا
میں نے۔۔۔
پیچھے سے جانی پہچانی آواز پر وجدان نے مڑکر دیکھا گیٹ پر بلکل سامنے ہادی کھڑا مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔