61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

سفیان اور بلال کو ڈراپ کر کے وہ گھر پہنچا تو ماحول بہت خوشگوار تھا۔مشال سب ہی کو مٹھائی کھلارہی تھی۔سب کو اس قدر خوش دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تبھی مشال کی اس پر نظر پڑی۔
آپ آگئے التمش۔۔۔یہ لیجیے۔۔
مشال نے اسکے پاس آکر خوشی سے کہا اور مٹھائی کا ڈبہ آگے کیا۔
کس بات پر مٹھائی کھلائی جارہی ہے؟
التمش نے حیرت سے سب کو دیکھ کر پوچھا
ارے بھائی۔۔آپ کو نہیں پتا۔۔آج مشال اور آپکا ریزلٹ آیا ہے۔۔۔مشال کا تو ہمیشہ کی طرح اے پلس آیا ہے پر اسکے ساتھ ساتھ بابا کے نکمے،نالائق اور پڑھائی سے دور رہنے والے بیٹے کا بھی اے گریڈ آیا ہے۔۔۔
ہادی نے جس انداز میں کہا التمش نے تپ کر اسکی طرف دیکھا مگر اسکی بت پر غور کرنے کے بعد اس نے خوشگوار حیرت سے مشال کو دیکھا جو آنکھوں میں خوشی کی چمک لیے التمش کو دیکھ رہی تھی پھر اسکی نظر زمان صاحب کی طرف گئی۔۔تو وہ بھی اسے مسکراکر دیکھ رہے تھے۔۔
آج مجھے فخر ہورہا ہے اپنے پوتے پر۔۔آخر پڑھنے لگا تو سیدھا اے گریڈ لے آیا۔۔
حیدر صاحب نے مسکراکر کہا تو التمش انکے پاس آکر مسکراتے ہوئے انکے گلے لگ گیا۔
ہمیں کیا پتا کہ محنت کر کے یہ نمبر آئے ہیں یا پھر چیٹنگ سے۔۔
ہادی نے منہ بناکر کہا تو التمش نے آغاجان سے الگ ہوتے ہوئے اسے گھورا۔
رک۔۔میں تجھے بتاتا ہوں۔۔۔یہ نمبر کیسے آئے ہیں۔۔
التمش نے کہتے ساتھ اسکے پیچھے دوڑ لگائی جبکہ ہادی ہنستے ہوئے بھاگا۔
لاؤنج میں دونوں کی ہنسی اور شور کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔آمنہ بیگم نے ایک نظر سب کو دیکھا جو ان دونوں کو دیکھ کر مسکرارہے تھے۔۔انہوں نے دل سے دعا کی کہ انکے گھر کی خوشیاں یونہی رہے۔۔۔
مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ خوشیاں عارضی ہیں۔۔کیونکہ ان لوگوں کے مقدر میں تکلیفیں لکھی جاچکی تھیں۔۔
اوپر کھڑی نور خاموشی سے نیچے سب کو ہنستا دیکھ رہی تھی۔۔۔خوشی کی کوئی رمق نہ تھی اسکے چہرے پر۔۔۔اور ہوتی بھی کیوں۔۔جان سے عزیز بہن دو دن بعد ایک ایسے انسان کے ہاتھ میں جارہی تھی۔۔۔جسکا انسانیت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔
وہ یونہی خاموشی سے اندر اپنے روم میں آکر بیٹھ گئی۔۔۔وجدان نے اسے بے بس کردیا تھا۔۔۔چاہ کر بھی وہ کسی کو کچھ نہیں بتا پارہی تھی۔۔۔۔منہ کھولا تو عزت کا تماشہ بن جائے گا۔۔۔وجدان کا سوچتے ہی اسے وہ پل پھر یاد آئے۔۔۔آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر نکل گئے۔۔۔۔۔اسنے غصے میں اپنے ہونٹ اور گردن کو ہاتھوں سے رگڑا۔۔۔خود سے اسے کراہیت محسوس ہورہی تھی۔۔۔بےبسی سے وہ پھر گھٹنو میں سر رکھ کر رودی۔۔
نور کہاں ہے؟
التمش نے ڈنر پر اچانک پوچھا تو سب نے نور کی غیر موجودگی محسوس کی۔
بیٹا اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔اپنے روم میں آرام کررہی ہے۔۔۔
ریحانہ بیگم کے کہنے پر ہادی کو تشویش ہوئی اسے بے ساختہ وہ رات یاد آئی جب نور بکھرے ہوئے حلیے میں گھر آئی تھی۔۔اسی رات سے تو نور بدل سی گئی تھی۔۔۔پر کیوں!
ہائے۔۔۔آخر ہوکیا گیا ہے اس لڑکی کو۔۔۔۔کل مہندی ہے۔۔۔سبھی کزنز آئیں گے۔۔۔۔اور آج اسکی طبیعت خراب۔۔۔میں انجوائے کیسے کرونگی اسکے بغیر۔۔۔
ہانیہ نے کھانے سے ہاتھ روک کر پریشانی سے کہا
کچھ نہیں ہوا اسے۔۔۔بس مشال کے جانے پر اداس ہے۔۔۔
عالیہ بیگم نے سب کو تسلی دی مگر انکی بات سے التمش کے چہرے پر جو دھیمی مسکراہٹ تھی وہ غائب ہوگئی۔۔۔اس نے مشال کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھی تھی۔۔
ارے چندہ۔۔۔تم تو مت رو۔۔۔ادھر دیکھو۔۔۔ہم وجدان سے کہیں گے کہ وہ روز تمہیں ہم سے ملوانے لے کر آئے۔۔۔
عالیہ بیگم نے مشال کو روتا دیکھ اس کے پاس آکر پیار سے کہا پھر اسکی پیشانی چوم لی۔
جبکہ ریحانہ بیگم بھی آبدیدہ ہوگئیں اور اٹھ کر مشال کے گلے لگ گئیں۔
یہاں پر تو فُل ایموشنل سین شروع ہو گیا۔۔۔میری تو آنکھیں بھیگ گئی یہ دیکھ کر۔۔۔
ہادی نے رونے کی ایکٹنگ کی جس پر سب ایک ساتھ ہنس دیے سوائے التمش کے۔۔۔وہ یونہی سنجیدگی سے مشال کو دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تُو خوش ہے؟
رات کو مشال اسے دودھ کا گلاس پکڑا کر جانے لگی تو التمش نے اس سے پوچھا
اسکی بات پر مشال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔اس نے اپنی نظریں جھکالیں۔۔
التمش۔۔۔۔وجدان ایک اچھے انسان ہیں۔۔۔اور ہم ان کے۔۔۔
میں نے پوچھا تُو خوش ہے میرے رزلٹ سے؟
کچھ دیر بعد مشال نے آہستگی سے بولنا شروع کیا تو التمش نے اسے ٹوک کر پھر سنجیدگی سے پوچھا
مشال بے ساختہ ہنسی۔۔
سوری التمش۔۔۔ہمیں لگا آپ کچھ اور پوچھ رہے ہیں۔۔
اس نے ہنستے ہوئے جلدی سے کہا جبکہ التمش کا موڈ وجدان کا نام سُن کر ہی خراب ہوگیا تھا۔
ہاں۔۔۔رزلٹ دیکھ کر تو ہم ظاہر سی بات ہے کہ خوش ہوں گے۔۔۔آخر کو تین سال تک فیل ہونے کے بعد آپکا یوں اے گریڈ لانا۔۔۔۔التمش ہم بتا نہیں سکتے کہ ہم کتنے خوش ہیں۔۔۔
مشال نے چہک کر کہا مگر التمش جیسے اسکی بات سن ہی نہیں رہا تھا۔وہ بس اسکے لبوں کی مسکراہٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔جو اسے بے حد حسین لگ رہی تھی۔
اس مسکراہٹ پر التمش زمان اپنی جان بھی وار دے۔۔۔
بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا
اسکی بات پر مشال کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔وہ حیرت سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔جس کی نظریں اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔
وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی اس بات کا مطلب مگر اسے اچانک التمش کی نظریں بدلی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔پہلی بار وہ التمش کی نظروں سے کنفیوز ہوئی تھی۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی۔۔
ہم چلتے ہیں۔۔۔
وہ جلدی سے بول کر جانے لگی مگر التمش نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔اس نے گھبراکر التمش کو دیکھا پر اسکی پُرتپش نظروں نے مشال کا دل دھڑکنے پر مجبور کر دیا۔۔۔بے ساختہ اسکی پلکیں جھکیں۔۔جبکہ گال ناچاہتے ہوئے بھی سرخ ہوگئے۔۔۔التمش مبہوت سا اسکے سرخ چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔معصومیت اور حُسن کا ملا جلا جوڑ اسے مدہوش کررہا تھا۔۔۔
کچھ دیر رک جا۔۔۔
اسکے گھمبیر لہجے پر مشال بوکھلا گئی۔۔اسنے التمش سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی مگر التمش کی گرفت مضبوط تھی۔۔
التمش۔۔۔را۔۔۔رات کافی ہوگئی ہے۔۔۔ہم کل بات کرلیں گے۔۔
کوشش کے باوجود مشال کا لہجہ لڑکھڑاگیا۔۔
جبکہ اسکی آواز پر التمش نے ہوش میں آتے ہوئے جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا تو مشال بنا کچھ اور کہے جلدی سے اسکے روم سے نکل گئی۔
مشال کے جانے کے بعد اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔اپنی بے خودی پر وہ جی بھر کر حیران ہوا۔۔۔کیا وہ اس حد تک آگے نکل چکا تھا جہاں سے واپسی ناممکن تھی۔۔گرنے کے انداز میں وہ بیڈ پر بیٹھا۔۔۔اور اپنے بال ہاتھوں میں جکڑ لیے۔۔۔
مشال کی شادی کا سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹا جارہا تھا۔۔۔وہ کیسے برداشت کرپائے گا۔۔۔وہ تو مشال کا دھیان خود سے کسی اور کی طرف جانے پر بھی غصہ ہوجاتا تھا۔۔۔اور اب۔۔۔اب تو وہ خود کسی اور کی ہوجائے گی۔۔۔اسکی آنکھیں سرخ ہوگئی۔۔۔خود کو وہ بہت بے بس محسوس کررہا تھا۔۔۔آخر کس کو بتاتا کہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔
التمش زمان حیدر،مشال ایجاز سے محبت کر بیٹھا ہے!!!
وہ لڑکی اسکے دل کی دھڑکن بن چکی تھی۔۔۔وہ مر جائے گا اسکے بنا۔۔۔آخر کیسے بتاتا سب کو۔۔۔
وہ بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔ایک بار پھر مشال کی سوچیں اسکے گرد گھومنے لگیں۔۔۔پوری رات وہ اسے سوچے گیا۔۔۔
دوسری طرف مشال روم میں آکر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔آخر کیا ہوگیا تھا آج التمش کو۔۔۔اسکی نظریں کس قدر بدلی ہوئی تھیں۔۔۔مشال بیڈ پر بیٹھ کر اسکے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ اسکا فون رنگ کرنے لگا۔وجدان کی کال تھی۔۔اسے بےساختہ دوپہر والا واقعہ یاد آگیا۔
ہیلو۔۔
کال ریسیو کرکے اسنے جھجھک کر کہا
مشال۔۔آئی ایم سو سوری۔۔۔میں نے تمہیں ہرٹ کیا۔۔
وجدان کی شرمندگی سے بھرپور آواز سن کر مشال خود شرمندہ ہوگئی۔
وجدان آپ معافی نہ مانگے۔۔۔غلطی ہماری بھی تھی۔۔۔ہمیں تھپڑ نہیں مارنا چاہئیے تھا مگر ہم کیا کریں وجدان۔۔۔آپ جانتے ہیں۔۔۔ہم التمش کے خلاف کچھ نہیں سن سکتے پھر بھی آپ۔۔۔
مشال نے بے چارگی سے کہا تو دوسری طرف وجدان نے لب بھینچ لیے۔۔
اگین سوری مشال۔۔۔بہت شرمندہ ہوں میں۔۔
وجدان نے پیشانی مسلتے ہوئے بمشکل آواز کو نرم رکھا
کوئی بات نہیں۔۔
مشال نے آہستگی سے کہا
اچھا مشال۔۔۔کیا تم کل شام کو مجھ سے مل سکتی ہو۔۔
وجدان نے مدعے پر آکر پوچھا
وجدان کل کیسے۔۔۔کل تو ہماری منگنی کی رسم ہیں۔۔۔اور بی جان گھر سے ہمیں نکلنے نہیں دیں گی۔۔۔
مشال کے کہنے پر وجدان نے اپنا غصہ کنٹرول کیا پھر تحمل سے کہا
دیکھو مشال صرف دس منٹ کی بات ہے۔۔۔مجھے بہت ضروری کام ہے تم سے پلیز۔۔۔سمجھنے کی کوشش کرو یار۔۔۔
پر وجدان۔۔۔
دیکھو مشال اگر تم نہیں آئی تو میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھے معاف نہیں کیا۔۔۔گھر کے پاس والے کیفے پر میرا ویٹ کرنا میں تمہیں وہیں سے پک کرلونگا۔
وجدان نے بول کر بنا کچھ مشال کی سنے کال کٹ کردی۔
مشال پریشانی سے سوچنے لگی کہ کل کیسے جائے۔۔۔
ایسا بھی کیا ضروری کام۔۔۔جو کل ہی بلارہے ہیں۔۔۔
وہ ٹینشن میں بڑبڑائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن دوپہر سے ہی حیدر ولا میں مہمانوں کی آمد شروع ہوچکی تھی۔۔پورے گھر میں رونق لگی ہوئی تھی۔۔۔ہر طرف ایک الگ ہی شور برپا تھا۔۔۔ہانیہ نور کو لے کر ساری کزنس کے ساتھ مل کر شور شرابہ،مستی وغیرہ کررہی تھی۔۔۔جبکہ نور مجبوراً اس کے ساتھ مل زبردستی مسکرادیتی۔۔۔
التمش نے تیار ہوکر ٹائم دیکھا۔۔ شام کے ساتھ بج رہے تھے۔۔۔ایک گھنٹے کا کام تھا۔۔۔وہ کار میں بیٹھ کر اسی جگہ کے لیے نکل گیا جہاں سے وہ کل سفیان اور بلال کو پِک کرنے گیا تھا۔۔۔
دوسری طرف مشال بھی سب سے نظریں بچا کر پیچھے کے گیٹ سے نکل گئی۔۔۔راستے میں ٹیکسی روک کر وہ اس میں بیٹھی۔۔اب اسکا رخ قریبی کیفے کی طرف تھا۔۔
وجدان۔۔اب تو بتائیں۔۔کیا کام ہے آپ کو۔۔۔ہمیں گھر بھی جانا ہے۔۔۔کسی کو بتا کر نہیں آئیں ہیں ہم۔۔۔
وجدان نے اسے کیفے سے پک کیا تھا اور اب پندرہ منٹ سے وہ خاموشی سے ڈرائیو کررہا تھا۔۔تبھی مشال نے تنگ آکر پوچھا
بس تھوڑی دیر اور مشال۔۔۔
وجدان نے نرمی سے کہا پھر کچھ دیر بعد اس نے ریڈ لائٹ ایریا میں کار روکی۔
یہ آپ کہاں لے آئیں ہیں ہمیں۔۔
مشال نے اس جگہ کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا
دیکھتی جاؤ۔۔۔
وجدان کار سے اتر کر اسکے بونٹ سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا تو مشال بھی آہستگی سے کار سے اتری۔۔
پھر پریشان نظروں سے آس پاس دیکھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے ایسا کیوں کیا؟
اس لڑکی کی نم آواز پر التمش نے پلٹ کر اسے دیکھا وہ ریڈ لائٹ ایریا پر آکر تسبیحہ نامی اس لڑکی کو ریشم بائی سے خرید چکا تھا اور اب اسے لے کر باہر نکل ہی رہا تھا تبھی اس لڑکی نے روتے ہوئے اس سے پوچھا
کیونکہ کل تم مجھے یہاں بہت بے بس لگی تھی۔۔
التمش نے رسانیت سے وجہ بتائی پھر اسے باہر آنے کا اشارہ کر کے نکل گیا۔۔
آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔آپ میرے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں ہیں بھائی۔۔۔
باہر آکر تسبیحہ کہتے ساتھ روتے ہوئے التمش کے گلے لگ گئی۔
التمش خاموشی سے کھڑا رہا۔۔جانتا تھا اس پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔۔آخر کو اس جگہ پر رہ کر کوئی بھی لڑکی بچ پائی تھی۔
مشال۔۔
وجدان کی پکار پر مشال جو اِدھر اُدھر پریشانی سے دیکھ رہی تھی اسکی طرف دیکھنے لگی مگر وجدان کو سامنے دیکھتا پاکر مشال نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا۔۔۔تو حیرت سے اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔سامنے التمش ایک لڑکی کو گلے لگائے کھڑا تھا۔۔
مگر مشال کو اس سے بھی زیادہ حیرت التمش کو اس جگہ پر دیکھ کر ہوئی جہاں شریفوں کا آنا ممنوع تھا۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے لگا یہ اسکی آنکھوں کا دھوکا ہوگا،تبھی اس نے ایک نظر وجدان کو دیکھا جو ہمدردی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
بھائی بھی کہتی ہو۔۔۔اور شکریہ بھی ادا کررہی ہو۔۔۔بری بات۔۔
التمش نے اسے خود سے دور کرتے ہوئے مسکرا کر کہا پھر اسے لیے کار میں بیٹھا
مشال کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئیں تھی۔۔۔اسنے التمش کی گاڑی کو دور جاتا دیکھا تو بے ساختہ اسکے قدم لڑکھڑائے۔۔وجدان نے اسے تھاما تو وہ جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔۔
مشال میں یہی تمہیں کل سمجھانے کی کوشش کررہا تھا تو تم نے مجھے تھپڑ مار دیا۔۔اب بتاؤ۔۔کیا اس میں بھی میں نے کوئی ایڈٹ کیا ہے۔۔
وجدان کے پوچھنے پر مشال نے پھر اسے دیکھا اسکا دماغ ماؤف ہورہا تھا۔۔۔
چلو تمہیں گھر چھوڑدوں۔۔۔کافی دیر ہوگئی ہے۔۔
اسکے خاموش رہنے پر وجدان نے نرمی سے کہا
آپ جائیں یہاں سے۔۔۔۔ہم خود چلے جائیں گے۔۔۔
مشال نے خود کے رونے پر قابو پاتے ہوئے کہا ابھی بھی جیسے وہ بے یقین ہی تھی۔
پاگل ہوگئی ہوکیا۔۔۔اس جگہ پر تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں۔۔۔اچھا ایسا کرو۔۔۔میں تمہیں اسی کیفے میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔پھر تم وہاں سے گھر بھلے اکیلی چلے جانا۔۔
وجدان نے اسے سمجھایا وہ لاکھ ان لوگوں کے ساتھ غلط کرے مگر مشال کو ایسی جگہ پر اکیلا چھوڑنے کا رسک وہ کم از کم نہیں لے سکتا تھا۔۔
تم ابھی میرے گھر چلو۔۔۔پھر کسی صحیح جگہ کا انتظام کر کے میں تمہیں وہیں چھوڑ دوں گا۔۔
التمش نے راستے میں تسبیحہ کو بتایا
نہیں۔۔۔میں آپکو ایک اورفونیچ کا پتہ بتاتی ہوں۔۔۔وہ میری آنٹی کا ہے۔۔۔۔۔آپ مجھے وہیں چھوڑدیں۔۔۔
اسکی بات پر التمش نے حیرت سے اسے دیکھا
اگر آنٹی کا اورفونیچ تھا تو تم اس گھٹیا جگہ پر گئی کیوں تھی۔۔
التمش نے اس سے حیرت سے پوچھا
گئی نہیں تھی۔۔۔کڈنیپ کیا گیا تھا مجھے۔۔۔۔اور میں ہی نہیں میری طرح اور بھی بہت سی لڑکیوں کو کڈنیپ کر کے وہاں لایا گیا ہے۔۔۔وہ بھی میری طرح روز ان لوگوں سے رحم کی بھیک مانگتی ہیں۔۔۔خدا سے دعا کرتی ہیں وہاں سے نکلنے کی۔۔۔۔مگر آپکی طرح کوئی فرشتہ ہر کسی کو بچانے تھوڑی آسکتا ہے۔۔
اس نے آنکھوں میں آئی نمی کو پوچھتے ہوئے التمش کو سب بتایا جس پر التمش کے جبڑے تن گئے۔۔۔کچھ سوچ کر اس نے اپنا موبائل نکالا پھر ایک نمبر ڈائل کیا۔اپنے ایک دوست اکرم کے انکل کو جو پولیس میں تھے اس جگہ کا پتہ بتا کر اس نے موبائل رکھا پھر تسبیحہ کو اسکے بتائے گئے یتیم خانے میں چھوڑ کر گھر کی طرف نکل گیا۔
وہ کیفے میں بیٹھی ہچکیوں سے رورہی تھی۔۔۔وجدان ابھی اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔یقین کرنا بہت مشکل تھا اس کے لیے مگر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر وہ کیسے جھٹلا سکتی تھی۔۔۔اب اسے سمجھ میں آیا کہ کل رات التمش اسے عجیب نظروں سے کیوں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔تو کیا وہ اس حد تک گر چکا تھا کہ مشال پر بھی اسکی نیت خراب۔۔۔۔
وہ جتنا یہ سب سوچ رہی تھی اتنا سر پکڑ کر رورہی تھی۔۔۔پھر سر اٹھا کر اسنے اپنی آنکھوں سے آنسو بے دردی سے رگڑے۔۔۔اور حیدر ولا کی طرف چل پڑی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر ولا میں ہانیہ کزنس کے ساتھ مل کر نیہا کو سٹیج پر بٹھائے اسے چھیڑ رہی تھی۔۔۔ہر طرف رونق لگی تھی۔۔۔جبکہ نیہا کب سے سٹیج پر بیٹھی التمش کو کال کررہی تھی وہ جی بھر کر ان لوگوں میں بور ہورہی تھی پر چہرے پر زبردستی مسکان سجائے رکھی۔۔۔تبھی ہادی جو سب میں ریفریشمنٹ سرو کروادیا تھا اسکی نظر نور پر پڑی۔۔۔سادہ سے میک اپ میں وہ چہرے پر سوگواریت لیے ایک کونے پر بیٹھی تھی۔۔۔ہادی کو ہمیشہ اس لڑکی کے پٹر پٹر بولنے سے چڑ تھی۔۔۔جب وہ اسکی جاسوسی کر کے عالیہ بیگم یا زمان صاحب سے اسکی ڈانٹ پڑواتی۔۔۔تب وہ اس سے بہت تپتا تھا مگر آج اسکی خاموش ہادی زمان کو کھل رہی تھی۔۔۔۔وہ مِس کررہا تھا اسکا بولنا،چہکنا،ہنسنا۔۔۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھا گیا۔
مشال کو ڈراپ کر کے وجدان حیدر ولا پہنچا وہاں پر سبھی کو ہنستا دیکھ وہ طنزیہ مسکرایا۔۔
چند پلوں کی خوشی ہے۔۔۔مسکرالو ٹھیک سے تم لوگ۔۔
اس نے آہستگی سے بڑبڑاکر ہر طرف نگاہ دوڑائی۔۔ایک کونے میں اسے نور بیٹھی نظر آئی جو سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہی تھی۔۔
وجدان نے اسے آنکھ مارکر فلائینگ کس کی تو نور نے نفرت سے نگاہ پھیر لی۔
ہادی جو نور کو دیکھ رہا تھا اسکی نظروں کا تعاقب کر کے سامنے دیکھنے لگا تو اسے حیرت ہوئی۔۔سامنے وجدان مسکراتے ہوئے نور کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکے دیکھنے پر ہادی کے ماتھے پر بل پڑگئے۔
التمش گھر پہنچا تو ریحانہ بیگم نے اسے پریشانی سے بتایا کہ مشال اپنے روم میں نہیں ہے۔۔۔انہوں نے ہر طرف دیکھا پر مشال انہیں نہیں ملی۔۔۔۔انکی بات سن کر التمش کو حیرت ہوئی۔۔آخر مشال اس وقت کہاں جاسکتی ہے۔۔۔
تبھی اسکی نظر انٹرنس پر پڑی جہاں سے مشال آہستگی سے چلتے ہوئے آرہی تھی۔اسے باہر سے آتا دیکھ سب ہی حیران رہ گئے۔۔۔
مشی۔۔۔تُو کہاں سے آرہی ہے؟
التمش نے اسکے پاس آکر حیرت سے پوچھا جو سرخ آنکھوں سے التمش کو دیکھ رہی تھی۔اسکے خاموش رہنے پر التمش نے پھر کہا
مشی۔۔میں تجھ سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔
اسکے دوبارہ پوچھنے پر بھی مشال اسے دیکھتے رہی۔۔سب ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
لیکن پھر وہ ہوا جو وہاں پر کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔
مشال نے زور سے التمش کے منہ پر تھپڑ مارا۔۔بے ساختہ ریحانہ بیگم نے اپنا ہاتھ منہ پر رکھا۔۔۔سٹیج پر بیٹھی نیہا بھی عالمِ حیرت سے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔پورے گھر میں خاموشی چھاگئی۔۔۔۔سب ہی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔جبکہ التمش!!!
وہ بے یقینی سے کھڑا تھا۔۔۔مشال نے اسے تھپڑ مارا۔۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔۔
التمش نے آہستہ سے نظر اٹھا کر مشال کی طرف دیکھا جو نفرت سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔