61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

صبح خود پر کچھ بھاری محسوس کر کے اسکی آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔۔نور نے نظر گُھما کر دیکھا تو ہادی کا ایک بازو اسکے اوپر تھا،نور نے اسے ہٹانے کی کوشش کی تو ہادی اسے مکمل اپنی گرفت میں لے کر سوتا بنا۔۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے اس کے بازو پر نوچنے لگی۔۔۔
آآآوچ۔۔
ہادی نے بلبلاتے ہوئے اسے چھوڑا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
ظالم لڑکی۔۔۔صحیح کہا تھا میں نے تمہیں۔۔۔چڑیل ہو بلکل۔۔۔
اس نے اپنے بازو کو دیکھتے ہوئے چڑ کر کہا
جب پتا ہے کہ چڑیل ہوں تو ایسی حرکتیں کیوں کرتے ہو۔۔۔
نور نے اسے گُھورا
کیسی حرکتیں؟
اسکی بات پکڑتے ہوئے ہادی انجان بن کر پوچھنے لگا تو نور گڑبڑا گئی
پتا نہیں۔۔۔
وہ جلدی سے بول کر بیڈ سے اٹھنے لگی تبھی ہادی نے اسے کمر سے پکڑ کر واپس بیڈ پر لٹایا اور اس پر جھک گیا۔۔۔نور ہڑبڑا کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دور کرنے لگی۔۔
ہادی چھوڑو۔۔کیا کررہے ہو؟
اس نے غصے سے کہا تو ہادی مسکرانے لگا
ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں ہے ٹڈی۔۔۔اور چھوڑوں گا ایک شرط پر۔۔۔
ہادی نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا تو نور اسے گھور کر رہ گئی۔
اب کونسی شرط ہے؟
اس نے تپتے ہوئے پوچھا لیکن ہادی کے پھر گال پر انگلی رکھنے سے اسکے ذہن میں کل کا واقعہ آیا۔۔۔وہ سمجھ گئی ہادی کل والی حرکت پھر دہرائے گا۔۔۔۔اسی لیے مسکراتے ہوئے ہلکا سا سر اٹھائے اسکے قریب ہوئی اور آنکھیں بند کیے اسکے گال پر ہونٹ رکھنے لگی۔۔۔۔ہادی نے مسکراتے ہوئے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا پھر آہستگی سے اسکے لبوں پر جھک گیا۔۔۔
ایک کرنٹ سا لگا تھا نور کو۔۔۔۔سوچا کیا تھا ہوا کیا۔۔۔۔۔وہ پٹ سے آنکھیں کھولے اسے دور کرنے لگی۔۔۔دھڑکن حد درجہ بڑھی تھیں۔۔۔اس نے گھبراہٹ میں ہادی کے بازو پر مکے مارے۔۔۔تبھی وہ جھٹکے سے اس سے دور ہوتا ہوا اٹھا۔۔۔۔اور کھڑا ہوکر زور سے ہنسنے لگا۔۔
جتنا کڑوا بولتی ہو۔۔۔۔پتا نہیں تھا اتنی میٹھی ہوگی۔۔۔
ہادی کے بےباکی سے بولنے پر اسکا چہرہ ٹماٹر کی طرح سرخ پڑا۔۔۔
چھچھورے کہیں کے۔۔۔
نور نے کلستے ہوئے کُشن اٹھا کر اس پر پھینکا مگر وہ اس سے پہلے ہی واشروم میں غائب ہوگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بھوری سُرخ آنکھیں بہت زیادہ روچکنے کی غمازی کررہی تھیں،نرم روئی جیسے گالوں پر انگلیوں کے نشانات بلکل واضح تھے،سرخ ستواں ناک جبکہ کٹاؤ دار گلابی لب تکلیف ضبط کرنے کے چکر میں بھنچے ہوئے تھے،دونوں ہاتھوں سے اپنا دایاں پاؤں پکڑے وہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی،آج اسے اسکے اپنے بہت شدت سے یاد آرہے تھے جو اسکی زرا سی تکلیف میں پریشان ہوجایا کرتے تھے،اپنے سے یاد آیا وہ ستمگر بھی تو اسکا اپنا ہی تھا،اسکے ہر دکھ سکھ کا ساتھی پر کیا اپنے ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو تکلیف دے کر بھی سکون سے رہ لیتے ہیں،ابھی وہ انہیں سوچوں میں گُم تھی کہ کِلک کی آواز سے فلیٹ کا دروازہ کھلا،قدموں کی چاپ پر بھی اس نے نظر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہ کی اور دیکھتی بھی کیوں،اسے معلوم تھا کہ آنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہ ہی تھا اسکا نام نہاد شوہر۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا،مشکل سے تین چار قدم ہی بڑھائے تھے کہ وہ اُسے لاؤنج کے بیچوں بیچ اسی حالت میں بیٹھی نظر آئی جیسا وہ اُسے صبح چھوڑ کر گیا تھا۔وہ کل رات سے بھوکا تھا اور تھکا ہوا بھی تھا،اور آتے ہی لنچ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جو دوپہر کے دو بجا رہی تھی۔یعنی وہ صبح سے یونہی بیٹھی ہے تو یقیناً کھانا بھی تیار نہیں ہوگا،یکایک اشتعال کی شدید لہر اسکے وجود میں دوڑ گئی۔وہ مضبوط قدم اٹھاتا ہوا اس تک پہنچا اور اسکے بالوں کو تقریباً دبوچتے ہوئے اسکا چہرہ اوپر کیا،درد کی ایک لہر مشال کے سر میں سرایت کرگئی،منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی،اس نے اپنی سُرخ آنکھیں اٹھاکر التمش کی آنکھوں میں دیکھا،شناسائی کی کوئی رمق نہ تھی ان میں،اجنبیت اور نفرت سے بھر پور ان آنکھوں میں دیکھنا محال تھا تبھی نگاہیں جھکالیں،اگلے ہی لمحے التمش کی آواز ابھری
کچھ زیادہ ہی آرام طلب نہیں ہوگںٔی تم۔۔۔
لہجے میں بے پناہ نفرت سموئے التمش نے پوچھا
پہ۔۔۔۔۔پلیز ہمارے بہ۔۔۔۔۔بال چھوڑدیں۔۔
بھرائی ہوئی آواز میں مشال نے بےبسی سی التجاء کی
کیوں!!!! بہت تکلیف ہورہی ہے؟
مصنوعی ہمدردی سے پوچھا گیا تو مشال نے جلدی سے سر اثبات میں ہلایا کہ شاید اس ستمگر کو تھوڑا رحم آجائے
اور اس تکلیف کا کیا۔۔۔جو تم نے مجھے دی۔۔
بجائے رحم کرنے کے وہ اسکے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے پوچھنے لگا۔
ہم۔۔۔۔ہمیں معاف کردیں التمش غل۔۔۔غلط فہمی ہوگئی تھی ہمیں۔۔۔
اپنے بالوں کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے مشال نے اٹکتے ہوئے اپنا دِفاع کیا
غلط فہمی۔۔۔۔ایک غلط فہمی کے چکر میں تم نے مجھے رسوا کر کے رکھ دیا۔۔۔۔
نیچی آواز میں غرّاتے ہوئے التمش نے پوچھا
کیوں کیا تم نے ایسا مشال کیوں۔۔
جواب نہ ملنے پر وہ دھاڑا اور اسکے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے اسے کھڑا کیا۔۔جس سے مشال کی دردناک چیخ پورے فلیٹ میں گونج اٹھی۔۔پہلے تو التمش حیران نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر جب نظر اس کے دائیں پیر پر پڑی تو وہ ٹھٹھک گیا اور مشال کے اسطرح چیخنے کی وجہ بھی سمجھ گیا،دائیں پیر پر گہرا کٹ لگا ہوا تھا اور خون تقریباً سوکھ چکا تھا۔۔۔۔قریب ہی شیشے کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے معاً اسکے دماغ میں صبح کا واقعہ گھوم گیا جب مشال اسے جوس دے رہی تھی مگر بے دھیانی میں گلاس نیچے گِر کر چکنا چور ہوگیا۔التمش کا موڈ رات سے ہی خراب تھا پر اب اسکا غصہ سوا نیزے پر تب پہنچا جب جوس کے چند چھینٹے اسکے جوتوں پر پڑے۔۔۔اس نے غصے میں دو تین تھپڑ مشال کے گالوں پر مارے۔۔۔۔آخری تھپڑ پر مشال کے قدم لڑکھڑائے تو اسکے منہ سے زوردار چیخ نکلی جسے التمش ہمدردی سمیٹنے کا ایک اور بہانہ سمجھ کر اگنور کرتا ہوا آفس کے لیے نکل پڑا۔۔۔اور تب سے اب تک وہ اسی حالت میں اس زخم کے ساتھ یہاں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔یہ سوچ آتے ہی التمش کے دل میں پہلی دفعہ درد کی ایک ٹیس اٹھی۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر اب غور سے خود سے بےحد نزدیک مشال کا چہرہ دیکھا۔۔۔سُرخ آنکھیں،آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اور کٹاؤ دار گلابی لب کپکپارہے تھے جبکہ نازک وجود اس قدر قربت پر ہولے ہولے لرزرہا تھا اسکے دل میں شدت سے خواہش ابھری کہ مشال کے نازک وجود کو اپنی مضبوط پناہوں میں بھینچ لے مگر دل کی خواہش پر پتھر رکھ کر التمش نے اسکے بالوں پر گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے انہیں چھوڑا اور سیدھا اپنے روم کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔۔مشال نے آہستگی سے نیچے بیٹھتے ہوئے التمش کی پشت کو نہایت دکھ اور تکلیف سے دیکھا۔۔۔
بہت خاموشی سے ٹوٹ گیا،
میرا ایک مان جو تُم پر تھا،
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس لیے واپس آیا اور مشال کے سامنے نیچے بیٹھ گیا۔۔۔۔پھر اس میں سے روئی نکال کر اس پر دوائی لگائی اور آہستہ سے مشال کا زخمی پیر پکڑا۔۔۔۔التمش نے نرمی سے پہلے زخم پر لگا خشک خون صاف کیا پھر اس پر دوائی لگا کر پٹی کرنے لگا۔۔۔۔مشال پوری کاروائی میں آنکھیں میچے،منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ٹھیک سے پٹی کرنے کے بعد اس نے مشال کو بازوؤں میں اٹھایا اور روم میں چل دیا۔۔۔
اندر لاکر التمش نے آرام سے اسے بیڈ پر بیٹھادیا پھر کچھ سوچ کر باہر گیا۔۔۔۔مشال کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔۔۔۔کبھی نفرت کبھی کئیر وہ غائب دماغی سے یونہی بیٹھی رہی۔۔۔۔
پندرہ منٹ بعد وہ روم میں آیا تو اسکے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی جس میں ایک کپ،فرائی ایگ اور چار سلائس بریڈ کے رکھے تھے۔۔۔اس نے وہ ٹرے بیڈ پر رکھی اور مشال کو دیکھا جو اسکے بیٹھنے پر نیچے نظر کیے آہستہ سے سائیڈ پر ہونے لگی تھی۔۔۔۔اسکے چہرے پر شدید خوف رقم دیکھ التمش نے نگاہ چرائیں۔
یہ۔۔۔کھالو۔۔
اس نے ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا مگر مشال نے اسکی بات سنی ہی نہیں وہ یونہی ٹرے کو دیکھتے رہی۔۔۔۔دل میں ڈر تھا کہ کب اچانک کسی بات پر وہ بدلے۔۔۔۔اور کل کی طرح پھر مارے۔۔۔اسکی کیفیت سمجھتے ہوئے التمش نے گہرا سانس لیا پھر خود نوالہ بنا کر اسکے قریب کیا۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے اس کو دیکھنے لگی۔
کھاؤ۔۔۔
اسکا نرم لہجہ محسوس کر کے مشال کی آنکھوں سے آنسو گرے تھے۔۔۔اس نے آہستگی سے آگے ہوکر نوالہ منہ میں لیا۔۔۔۔پھر التمش نے خود ہی اسے کھلانا شروع کردیا۔۔۔۔ایک سلائس کھا کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔۔۔تو التمش نے چائے کا کپ اسے تھمایا۔۔۔۔اس کے ڈر سے مشال نے تھوڑی بہت چائے پی پھر کپ واپس رکھ دیا۔۔۔
ٹرے واپس کچن میں رکھ کر وہ آیا اور باکس سے ایک پِل نکال کر اسے دی۔۔۔وہ خاموشی سے پِل منہ میں ڈال کر پانی سے گھونٹ گئی۔۔۔۔
تبھی اسے لیٹا کر التمش نے اس پر کمفرٹر سیٹ کیا اور روم سے نکلتا ہوا چلا گیا۔۔۔۔وہ جانتا تھا رات کو اس نے کچھ زیادہ ہی رئیکٹ کردیا تھا۔۔۔۔۔پر کیا کرتا اپنے غصے کا جس پر وہ کنٹرول نہیں رکھ پاتا تھا۔۔۔۔
ابھی وہ مشال کو سلیپنگ پِل اسی لیے کھلا کر آیا تھا تاکہ کچھ دیر سوکر وہ تھوڑا ریلکس ہوجائے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ۔۔۔
آغاجان زمان صاحب کے روم میں آئے تھے پر وہاں ہانیہ کو خاموش بیٹھے دیکھ کر اسے پکارتے ہوئے وہیں صوفے پر بیٹھے۔
ان کے پکارنے پر ہانیہ نے گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔
کیا سوچ رہی ہے میری پوتی؟
انہوں نے نرم لہجے میں پوچھا تو ہانیہ اٹھ کر انکے پاس آئی۔
آغاجان بابا کب ٹھیک ہونگے۔۔۔
اس کے اداس لہجے پر آغاجان بھی چپ ہوگئے۔۔۔ایک بیٹا پہلے ہی کھوچکے تھے اور اب دوسرے کو اس حال میں دیکھ کر انکا بھی دل دُکھتا تھا۔
جلد ٹھیک ہوجائے گا بیٹا۔۔۔
انہوں نے زمان صاحب کے ساکت وجود کو دیکھ کر آسودگی سے کہا
مشال آپی کی وجہ سے میرے بابا کی یہ حالت ہوگئی۔۔۔میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی آغاجان۔۔۔
ہانیہ کی نم آواز پر حیدر صاحب نے اسے دیکھا جو آنکھوں سے تیزی میں نکلتے آنسوؤں کو پونچھ رہی تھی۔۔۔
معاف تو میں بھی نہیں کر پاؤں گا اُسے۔۔۔
انہوں نے آہستگی سے کہا
انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا۔۔۔
کیوں کہ اسے گھمنڈ ہونے لگا تھا خود پر کہ وہ کچھ بھی غلط کرے گی لیکن ہم لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔کیونکہ ہم سب تو اسے بہت مانتے تھے۔۔۔
ہانیہ نے اچانک پوچھا اسکی بات کمرے میں آتی عالیہ بیگم نے سنی تو انہوں نے تلخی سے کہا
مشال آپی۔۔۔میری بددُعا ہے کہ۔۔آپ تڑپو۔۔۔۔بہت تڑپو۔۔۔
ہانیہ نے زمان صاحب کو دیکھ کر روتے ہوئے سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات سنو۔۔۔
رات کو ہادی زمان صاحب کے روم سے آیا تبھی نور نے کچھ سوچ کر اسے پکارا۔
ہمم۔۔بولو۔۔
وہ بیڈ پر اسی کے ساتھ بیٹھا
ہادی اگر۔۔۔۔کسی لڑکی کا ریپ کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔۔۔۔تو کیا کوئی لڑکا یہ بات جان کر بھی اس لڑکی سے شادی کرے گا۔۔۔
اس نے ہادی کو دیکھ کر پوچھا
تم بتاؤ پہلے۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے؟
ہادی نے اسکی سرخ و سفید انگلیوں سے کھیلتے ہوئے پوچھا
مجھے لگتا ہے۔۔۔۔کہ اگر یہ بات لڑکے کو پہلے سے ہی پتا ہوگی تو وہ کبھی اس لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔۔
نور نے جھجھکتے ہوئے کہا وہ اسے اپنے بارے میں بتاکر اسکا رئیکشن دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔جو یقیناً اسکے جاننے میں صحیح نہیں ہوتا۔
بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔لیکن یہ حرکت وہ کم ظرف لوگ کرتے ہیں۔۔۔جنھیں ہر معاملے میں لڑکی ہی غلط لگتی ہے۔۔۔۔۔مگر سبھی لڑکے ایک جیسے نہیں ہوتے نور۔۔۔۔اسی لیے تم پریشان مت ہو۔۔۔
ہادی نے کہہ کر اسکی پیشانی چومی اور اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلاگیا۔۔۔۔جبکہ نور بےیقینی کے عالم میں بیٹھی تھی۔۔۔۔ڈھکے چھپے لفظوں میں وہ اسے کیا باور کرا گیا تھا۔۔۔۔تو کیا اسے نور کے بارے میں پتا تھا۔۔۔پر کیسے۔۔وہ منہ پر ہاتھ رکھے سکتے کی حالت میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔