61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

مشی،
التمش نے مشال کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلاتے ہوئے آہستے سے اسے پکارا۔
اچانک مشال نے اپنا ایک ہاتھ التمش کے ماتھے پر رکھا۔۔
یہ کیا کر رہی ہے؟
التمش نے اچھنبے سے پوچھا
چیک کر رہے ہیں کہ کہاں سے شادی کا بھوت سوار ہوگیا ہے آپکو۔۔۔۔ایک منٹ۔۔کہیں آپ مذاق تو نہیں کررہے؟
مشال نے شکی نظروں سے اسے دیکھا
ارے مشی میں مذاق کیوں کرونگا۔۔۔۔سچی کہہ رہا ہوں۔
التمش نے یقین بھرے لہجے میں کہا
لیکن آپ پر اچانک یہ شادی کا بھوت سوار ہوا کیسے۔۔۔۔۔ابھی تو آپ نے پیپرز دیے ہیں اور پتا نہیں اس سال بھی کلئیر کر پائینگے بھی یا نہیں۔۔۔اور پھر بزنس میں تایا ابو کا ساتھ۔۔۔۔۔۔
مشی بریک لے۔۔
مشال جو پھر نان سٹاپ شروع ہوگئی تھی التمش کے اچانک ٹوکنے پر چپ ہوگئی۔
التمش نے اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔وہ بیٹھ گئی تو التمش گھٹنے کے بل اسکے پاس بیٹھا۔
دیکھ مشی۔۔میں جانتا ہوں کہ تو میری پڑھائی کو لے کر بہت ٹینس ہے بٹ اب تو بے فکر ہو جا۔۔۔۔میں نے تجھ سے کہا ہے نہ کہ اس بار پاس ہوجاونگا۔۔۔۔اور جہاں تک بزنس کی بات ہے تو کچھ دنوں بعد میں آفس جوائن کرلونگا۔۔۔۔۔اور شادی کا میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے وہ لڑکی بہت پسند ہے اور میں گرلفرینڈ بوائے فرینڈ کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔۔میں جانتا ہوں گھر میں بڑوں کو کوئی پرابلم نہیں ہوگی میری پسند کی شادی سے پر میں پہلے تجھ سے ڈسکس کرنا چاہتا تھا۔۔۔
التمش نے پوری تفصیل سے اسے بات سمجھائی۔۔
کچھ پل خاموشی کے نظر ہوئے۔
نام کیا ہے؟
مشال نے سنجیدگی سے پوچھا
نیہا۔۔
اگر ہم منا کر دیں تو۔۔۔
مشال نے ایک آئیبرو اٹھا کر پوچھا
سمپل شادی کینسل۔۔۔۔اور نیہا سے ابھی کال کر کے بریک اپ۔۔
التمش نے نارملی کہا
پاگل ہوگئے ہیں کیا آپ۔۔۔کیسے شادی کینسل اور وہ بھی صرف ہمارے کہنے پر۔
مشال نے حیرت سے پوچھا
مشی میرے لیے ہمیشہ سے فرسٹ پرییورٹی تُو ہے سمجھی۔۔۔۔ اور اسکا اندازہ تُو اسی بات سے لگالے۔۔کہ آج ہی نیہا سے میں نے شادی کا کہا اور یہ بات میں نے سب سے پہلے تجھے بتائی۔
التمش کے سنجیدگی سے کہنے پر مشال مسکرادی
اچھااا تو یہ ضروری کام تھا آپکو۔۔
مشال نے اچھا کو لمبا کھینچتے ہوئے التمش کو چھیڑا۔
جس پر التمش نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔۔
ابھی ہم جارہے ہیں سونے۔۔۔ایسا کرتے ہیں کل آغاجان وغیرہ سے بات کر کے نیہا کے گھر چلیں گے۔۔
اسکے کے کہنے پر التمش نے اثبات میں سر ہلایا
مشال کے جانے کے بعد التمش نے خود سے پوچھا۔۔۔۔کیا واقعی وہ مشال کے کہنے پر نیہا سے رابطہ ختم کردیتا۔۔۔جس پر دل نے مثبت جواب دیا۔۔۔۔یقیناً وہ ایسا ہی کرتا آخر کو وہ مشال کی خوشی کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن ناشتے پر التمش نے سب کو اپنی پسند کا بتایا جس پر عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم نے خوشی کا اظہار کیا۔۔۔جبکہ آغاجان اور بی جان نے بھی مثبت جواب دیا البتہ حیدر صاحب نے التمش کو آفس آنے کی تاکید کی جس پر التمش نے انہیں بتایا کہ وہ کچھ ہی دنوں میں آفس جوائن کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔
بھائی آپ تو بڑے فاسٹ نکلے۔۔۔ابھی پیپرز ختم ہوںٔے اور لڑکی بھی پسند کرلی۔
ہادی نے شرارتاً کہا
تو کیوں جیلس ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنی عمر میں آکر تو بھی پسند کر لیو۔۔۔
التمش نے آملیٹ سے بھر پور انصاف کرتے ہوئے اسے چڑایا
اپنی عمر کا کیا مطلب۔۔۔۔چوبیس سال کا ہو جاونگا دو مہینوں بعد۔۔
ہادی نے برا مناتے ہوئے کہا
جیسی اسکی حرکتیں ہیں اسنے تو ابھی ہی کوئی پسند کرلی ہوگی۔۔
نور نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا
کیا مطلب؟
عالیہ بیگم کے پوچھنے پر ہادی بوکھلایا
کچھ نہیں امی۔۔۔۔بکواس کر رہی ہے۔۔تمہیں مسئلہ کیا ہے فضول میں بولتے رہتی ہو۔۔ٹڈی کہیں کی
ہادی نےنور کو گھورتے ہوئے کہا
جس پر نور نے ناک پر سے مکھی اڑاںٔی
اچھا یہ سب چھوڑو۔۔۔۔۔تامی بھائی یہ بتائیں کہ وہ دکھنے میں کیسی ہے؟
ہانیہ نے پر جوش ہوکر پوچھا
کیسی کیا مطلب التمش نے پسند کی ہے تو اچھی ہی ہوگی نہ۔
مشال کے کہنے پر التمش نے اسے مسکراکر دیکھا
ہم سوچ رہے ہیں کہ کیوں نہ آج ہی جاکر دیکھ لیں لڑکی۔
بی جان نے تجویز پیش کی جس پر سب نے اتفاق کیا
التمش نے نیہا کو انفارم کردیا پھر دوپہر کو بی جان،مشال،التمش،عالیہ اور ریحانہ بیگم نیہا کے گھر کی طرف نکل گئے۔۔
نیہا سبھی کو پسند آںٔی،مشال کو بھی اسکا اخلاق اچھا لگا پر بی جان کو ناجانے کیوں لگا کہ وہ لڑکی اور اسکے ماں باپ فیک ہیں یعنی وہ جو دکھتے ہیں وہ ہے نہیں پر اسکا اظہار انہوں نے کسی سے نہیں کیا۔۔۔۔۔کیونکہ انہیں اپنے پوتے کی خوشی بھی عزیز تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمش اور مشال لان میں چئیر پر بیٹھے باتیں کررہے تھے۔آجکل گھر میں التمش اور نیہا کی منگنی کی ڈیٹ رکھنے پر بات ہورہی تھی۔۔۔
ہمیں تو نیہا بہت اچھی لگی۔۔۔۔انکے بات کرنے کا انداز بھی کتنا اچھا ہے نہ۔۔۔
مشال نے التمش سے کہا تو وہ ہلکے سے ہنس دیا
ایک بات بتائیں التمش۔۔۔اگر ہم واقعی منا کر دیتے تو آپ نیہا سے رابطہ ختم کردیتے۔۔
مشال نے تھوڑی اپنی ھتیلی پر رکھ کر التمش سے پوچھا
میں نے اس بات کا جواب تجھے اسی رات کو دے دیا تھا۔۔۔
التمش نے چئیر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
نہیں التمش۔۔۔۔آپ کبھی ایسا مت کریے گا۔۔۔وہ بہت اچھی ہیں۔۔۔انہیں مت چھوڑیے گا
مشال فوراً جذباتی ہوگئی
اچھا میری مانو بلی۔۔۔۔۔نہیں چھوڑونگا اُسے
التمش نے اسکے جذباتی ہونے پر ہنستے ہوئے کہا
اتنے میں التمش کا فون رنگ ہوا۔۔۔اسنے دیکھا نیہا کی کال تھی۔
ہاں نیہا بولو۔۔
التمش نے فون ریسیو کرتے ہوئے کہا
وہ تامی۔۔۔۔میں بور ہورہی تھی تو سوچا شاپنگ کی جائے۔۔۔۔تم پلیز آجاؤنا۔۔
نیہا نے متانت سے کہا
التمش نے کچھ دیر سوچا پھر کہا
چلو تم ریڈی ہو۔۔۔۔میں دس منٹ میں آتا ہوں۔۔
اوکے۔۔
نیہا نے خوش ہوکر کہا
کہاں جارہے ہیں آپ؟
التمش کے فون رکھنے کے بعد مشال نے پوچھا
صرف میں نہیں جارہا ہم جارہے ہیں۔۔۔۔
التمش نے چئیر سے اٹھتے ہوئے مشال کو کہا
ہم؟
ہاں ہم یعنی تُو،میں اور نیہا۔۔۔
پر کہاں؟
شاپنگ پر۔۔۔
پر نیہا نے آپکو کہا ہے نہ۔۔۔۔۔۔تو آپ جائیں انہیں لے کر۔۔۔ہم کیوں جائیں
مشال نے حیرت سے کہا
کیونکہ میں کہہ رہا ہوں تجھے چلنے۔۔۔
مشال نہیں جانا چاہتی تھی پر التمش نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور نیہا کے گھر کی طرف گاڑی موڑدی۔۔
نیہا تیار ہوکر التمش کا ویٹ کر رہی تھی تبھی اسے ہارن کی آواز آئی وہ جلدی سے باہر کی طرف آئی پر گاڑی میں التمش کے ساتھ مشال کو دیکھ کر اسکا اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا۔۔
سوری نیہا ہم نے التمش کو منا بھی کیا تھا پر یہ ہمیں زبردستی لے آئے۔۔۔
مشال کو لگا شاید نیہا کو اسکا آنا اچھا نہیں لگا تبھی اسنے ایکسکیوز کیا۔۔۔
نیہا کو تیرا آنا برا لگا ہے جو تُو ایسے بول رہی ہے؟
التمش نے تیکھے نقوش سے اس سے پوچھا جس پر نیہا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا
ایسی کوئی بات نہیں ہے مشال۔۔۔۔مجھے اچھا لگا کہ تم آئی۔۔۔
نیہا کے کہنے پر مشال نے اسے دیکھ کر اسمائل دی۔
شاپنگ مال جاکر نیہا نے تو خوب شاپنگ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر مشال کو شاپنگ کرنا پسند نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے التمش اسکے لاکھ منا کرنے کے باوجود اسے زبردستی اپنی پسند کی ڈریسز دلوا رہا تھا۔۔۔۔۔۔یہی بات نیہا کو بہت ناگوار گزرہی تھی۔۔
شاپنگ کے بعد التمش ان دونوں کو لے کر ایک ریسٹورنٹ آیا جہاں ان لوگوں نے کھانا کھایا۔۔۔۔
آج بہت مزا آیا۔۔۔۔کافی اچھا دن گزرا آپکے ساتھ۔۔
التمش نے نیہا کو گھر ڈراپ کیا۔۔۔
نیہا کے گاڑی سے اترنے کے بعد مشال نے اسے مسکراکر کہا
مجھے بھی اچھا لگا۔۔
نیہا نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا
اوکے۔۔۔باںٔے۔
التمش کے کہنے پر نیہا کی زبردستی کی مسکراہٹ نرم مسکراہٹ میں بدلی۔۔۔
باںٔے۔۔
اسنے پلک جھپکتے ہوئے کہا
التمش نے گاڑی ٹرن کی زن سے لے گیا
جبکہ نیہا نے کچھ دیر تک خود سے دور ہوتی اسکی گاڑی دیکھی پھر اپنا موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا
ہیلو۔۔میرا اندازہ ٹھیک تھا۔۔۔۔تمھاری ضرورت پڑگںٔی ہے۔۔۔اس مشال کو راستے سے ہٹانا ہے۔۔۔
اسنے مشال کا نام ناگواری سے لیا۔۔۔پھر فون رکھا
آپ سے مل کر کافی اچھا لگا۔۔۔۔۔۔ہنہہہ۔۔۔مشال بی بی بچالو خود کو۔۔۔۔
اسنے مشال کی نقل اتارتے ہوئے کہا پھر اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔