No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
چھپاک کی آواز سے وہ سیدھا سوئیمنگ پُول میں گری۔۔۔۔التمش اپنے روم سے نکل کر نیچے آیا۔۔۔پھر گھر کے پچھلے حصے میں بنے سوئمنگ پول کی طرف گیا جہاں وہ پانی سے نکلنے کی کوشش میں ہاتھ پیر زور زور سے چلا رہی تھی۔۔۔مگر معائے افسوس اسے سوئمنگ ہی نہیں آتی تھی۔۔۔
التمش چند پل اسے یوں ہی پانی میں تڑپتا دیکھتا رہا پھر نیچے جھک کر اسکے اوپر ہوتے ہاتھ کو پکڑ کر جھٹکے سے اسے پُول سے نکالا۔۔۔
مشال زور زور سے کھانسنے لگی۔۔۔شدید سردی میں سوئیمنگ پُول کا ٹھنڈا پانی اسکی ہڈیوں کو جماگیا۔۔۔وہ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے وہی پر نڈھال ہوکر پڑ گئی۔۔۔تبھی التمش نے اسکی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اوپر کیا۔۔۔مسلسل کھانسنے کی وجہ سے اسکا چہرہ بلکل سرخ ہوچکا تھا۔۔۔
کیسا لگا میرا گولڈن نائٹ گفٹ۔۔۔اور گھبراؤ نہیں سوئیٹی۔۔۔یہ تو صرف چھوٹا سا ٹریلر ہے۔۔۔ابھی تو تمہاری پوری لائف کی فلم باقی ہے۔۔۔اور سوچو۔۔اگر ٹریلر اتنا اچھا ہے تو فلم کتنی زبردست ہوگی۔۔۔
اسکی بات پر مشال نے اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر التمش کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔کوئی شناسائی نہ دکھی ان میں اسے۔۔۔
آپ ایسے۔۔۔تو نہیں تھے۔۔۔التمش۔۔
اٹک اٹک کر مشال کے منہ سے ادا ہوا۔۔
بلکل ایسا نہیں تھا۔۔۔۔۔پر جو تمہاری پرواہ کرتا تھا۔۔۔اس التمش کو تم نے خود ہی مارا ہے۔۔۔مشال ایجاز حیدر۔۔۔اب تم دیکھو یہ التمش تمہاری لائف کیسے خراب کرے گا۔۔۔
جس طرح تم ابھی اس پانی میں تڑپ رہی تھی نا۔۔۔بلکل اسی طرح اب ساری زندگی تڑپنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔۔۔
اسے شعلہ بار نگاہوں سے گھورتے ہوئے التمش نے دانت پیس کر کہا تو مشال ہچکیوں سے رودی۔۔۔تبھی اسے جھٹکے سے چھوڑ کر وہ اٹھا اور وہاں سے چل دیا۔۔
کچھ دیر بعد جب مشال رو رو کر تھک گئی تو آہستگی سے اٹھنے لگی پر اچانک واپس بیٹھ گئی۔۔۔۔۔بھاری لہنگا پانی میں بھیگنے کی وجہ سے اور وزنی ہوگیا تھا۔۔۔اس سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا۔۔۔بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے وہ کھڑی ہوئی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اندر جانے لگی۔۔۔
وہ روم کی لائٹس آف کر کے بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔مشال روم میں آکر سیدھا ڈریسنگ روم میں گئی۔۔۔اسے سب سے پہلے اس گیلے بھاری لہنگے سے جان چھڑانی تھی۔۔۔وہ تو شکر تھا۔۔سب کچھ اچانک ہونے کے باوجود نور نے اسکے چند جوڑے التمش کے وارڈروب میں رکھ دیے تھے۔۔۔
چینج کر کے وہ باہر نکلی تو ایک اور نئی مصیبت در آئی۔۔۔وہ سوتی کہاں۔۔۔اس نے ایک نظر بیڈ کی سائیڈ پر لیٹے التمش کو دیکھا۔۔۔پھر آہستگی سے چلتے ہوئے دوسری سائیڈ پر آگئی۔۔۔ابھی وہ لیٹ ہی رہی تھی کہ التمش کی آواز پر رکی۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں سونے کی۔۔۔۔شرافت سے صوفے پر سو۔۔۔
اسکے کہنے پر مشال نے ایک نظر روم میں رکھے صوفے کو دیکھا جو کہ ڈبل سیٹر تھا۔۔۔اسے پھر رونا آنے لگا۔۔۔
ہم۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔اس پر۔۔۔۔سو۔۔پائیں گے۔۔
مشال صوفے کو دیکھتے ہوئے روہانسی آواز میں ہکلا کر کہنے لگی تبھی اسے اپنا ہاتھ کسی مضبوط گرفت میں محسوس ہوا۔۔۔اس کے مڑ کر دیکھنے سے پہلے ہی التمش نے اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا۔۔۔وہ سیدھا اسکے سینے پر آگری۔۔۔۔مشال کی آنکھیں مکمل کُھل گئیں۔۔۔رات کا تیسرا پہر۔۔۔نیا نیا رشتہ اور التمش کا یہ روپ۔۔۔اسکی جان ہوا ہونے لگی۔۔۔
وہ جلدی سے اس پر سے اٹھنے لگی مگر التمش نے مشال کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسکی نازک کمر پر اپنا ایک بازو حائل کر کے اسے بلکل اپنے سینے سے لگالیا۔۔۔
جبکہ مشال بنا رکے مسلسل اس سے دور ہونے کی کوشش کیے جارہی تھی تبھی التمش اسے یونہی پکڑ کر گھماتے ہوئے بیڈ پر لٹا کر اپنے نیچے کر گیا۔۔۔
اب کی بار مشال اپنا سانس روک گئی۔۔۔وہ آنکھیں پھیلائے اپنے اوپر جھکے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔دل کی دھڑکن حد سے سوا ہورہی تھی۔۔۔
سوئیٹی۔۔۔اگر تم صوفے پر نہیں سو کر بیڈ پر میرے ساتھ سوئی تو سوچو۔۔۔میں تو بقول تمہارے ایک بدکردار مرد ہوں نا۔۔۔تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تم پر نیت خراب ہو جائے۔۔۔
التمش نے اسکے ایک ایک نقش کو دیکھتے ہوئے کہا اسکی گرم سانسیں مشال کا چہرہ جھلسارہی تھیں۔۔۔اتنی سردی میں بھی مشال کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔۔۔
اسی لیے آج سے تم اپنی اوقات یاد رکھنا۔۔۔۔اب مجھے دہرانا نہ پڑے۔۔۔جاؤ۔۔
اسکے چپ رہنے پر التمش نے پھر کہا اور مشال پر سے اٹھتے ہوئے اسے بیڈ سے نیچے پھینکا۔۔
اس تذلیل پر مشال کی آنکھیں پھر بھیگ گئیں۔۔۔مگر دل میں التمش کی قربت کا خوف اس قدر بیٹھ گیا تھا کہ فوراً اٹھ کر وہ بنا کچھ اور کہے صوفے پر جاکر لیٹ گئی۔۔۔التمتش کے اس روپ سے وہ اتنی خوفزدہ ہوگئی تھی کہ بے دھیانی میں وہ کمفرٹر اوڑھنا بھی بھول گئی۔۔۔لیٹ کر وہ جلدی سے سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
کچھ دیر بعد جب التمش کو یقین ہوگیا کہ وہ سوچکی ہے تو آہستگی سے اٹھ کر وہ مشال کے پاس آیا جو سردی کی وجہ سے ہولے ہولے لرز رہی تھی پھر ایک کمفرٹر اسے اوڑھاکر وہ خاموشی سے جاکر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن صبح عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم کچن میں ناشتہ تیار کررہی تھیں۔۔۔تبھی ریحانہ بیگم نے ایک نظر عالیہ بیگم کو دیکھا۔جن کے چہرے پر مکمل سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔۔
بھابھی۔۔۔
انہوں نے آہستہ آواز میں پکارا تو عالیہ بیگم کا چلتا ہاتھ رکا
بھابھی التمش کے اس اچانک کیے گئے عمل پر آپ مجھ سے بھی خفا ہیں کیا۔۔
ریحانہ بیگم نے ہلکے لہجے میں پوچھا تو عالیہ بیگم نے انکی طرف دیکھا
دیکھو ریحانہ۔۔۔اگر تم مشال کا پوچھو تو میرا دل اب کبھی اس لڑکی کی طرف سے صاف نہیں ہوگا۔۔۔جسکی وجہ سے میرا بیٹا اتنا بدنام ہوا۔۔اور میرے شوہر کا یہ حال ہوگیا۔۔۔اور جہاں تک بات ہے التمش کے کل کے عمل کی تو ہاں۔۔۔میں اس سے بھی خفا ہوں پر ان سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔تو میری تم سے کیا بیر۔۔۔اب یہ بات اپنے دماغ سے نکال دو کہ میں تم سے خفا ہوں۔۔۔ہممم
انہوں نے آرام سے ریحانہ بیگم کو سمجھایا جس پر وہ آسودگی سے مسکرادیں پر مشال کا سوچ کر انکو پھر اس پر غصہ آنے لگا۔
دل تو اب میرا بھی اس سے کبھی صاف نہیں ہوگا بھابھی۔۔۔جو لڑکی اس انسان کی نہیں ہوئی جو اسے خود سے زیادہ مانتا تھا۔۔۔وہ اور کسی کی کیا ہوگی۔۔۔
انہوں نے غصے سے کہا اور پھر کام میں لگ گئیں۔۔
منہ پر پانی پڑنے سے وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔۔سامنے ہی التمش گلاس ہاتھ میں لیے سخت چتونوں سے اسے گھوررہا تھا۔۔۔کچھ دیر تک اسکا دماغ سن رہا تو وہ لیٹے ہوئے ناسمجھی سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔پھر آہستہ آہستہ سب یاد آنے پر وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔۔پھر اس نے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا۔۔۔
پورے دن اب کمرے کو ہی گھورتے رہو گی یا اٹھو گی بھی۔۔۔ٹائم دیکھو۔۔۔
التمش نے برہم ہوتے ہوئے کہا تو مشال نے ٹائم دیکھا۔۔نو بج رہے تھے وہ جلدی سے کھڑی ہوئی۔۔اسے حیرت ہوئی کبھی اتنی دیر تک تو وہ سوئی نہیں پھر آج۔۔۔پر اچانک اسے یاد آیا۔۔۔سوئی بھی تو وہ چار بجے تھی۔۔۔
جلدی سے تیار ہوکر نیچے آؤ۔۔۔
وہ اسے غصے میں بولتا ہوا نیچے چلا گیا۔
مشال جلدی سے واشروم کی طرف گئی۔۔۔کچھ دیر بعد جب وہ نیچے آئی تو دیکھا سب گھر والے لاونج میں کھڑے ہیں۔۔۔سامنے التمش آغاجان سے کچھ بات کررہا تھا۔۔۔اسکے ساتھ ہی دو سوٹ کیس رکھے ہوئے تھے۔۔۔مشال کے نیچے آنے پر سب نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔وہ نظریں جھکائے نیچے آئی۔۔۔جو اس نے کیا تھا اسکے بعد مشال میں ہمت نہیں تھی کسی سے بھی نظریں ملانے کی۔۔۔
چلو۔۔
التمش اسے کہہ کر سوٹ کیس باہر لے کر جانے لگا۔۔
کدھر۔۔
مشال نے بے ساختہ پوچھا دو سوٹ کیس دیکھ کر اسے پتہ نہیں کچھ گڑبڑ لگ رہی تھی۔۔۔
تامی بھائی اس طرح تو نہ کریں۔۔۔آپی وہاں اکیلے کیسے رہیں گی۔۔۔
نور نے بے چارگی سے پوچھا تو مشال نے حیرت سے اسے دیکھا
کہاں رہیں گے ہم؟
اس نے نور سے حیرانگی سے پوچھا
آپی۔۔تامی بھائی آپ کو یہاں سے لے کر جارہے ہیں ہمیشہ کے لیے۔۔۔ایک فلیٹ میں۔۔۔۔جس پر آغاجان سمیت سب نے رضامندی ظاہر کی ہے۔۔۔
نور نے آغاجان اور ریحانہ بیگم کو شکایتی نظروں سے دیکھتے ہوئے روہانسی ہوکر کہا آخر کیسے برداشت کرتی وہ اپنی بہن کی جدائی۔۔
اسکی بات پر مشال نے بے یقینی سے التمش کو دیکھا جو بے نیاز سا کھڑا تھا۔
ہم نہیں جائینگے کہیں۔۔۔
اس نے بلند آواز میں کہا
تم جاؤ گی۔۔۔اور وہ بھی ابھی اسی وقت۔۔
عالیہ بیگم نے غصے سے اٹل لہجے میں کہا
تائی امی نہیں جائینگے ہم۔۔۔۔آغاجان آپ کیسے بھیج سکتے ہیں ہمیں خود سے دور۔۔پلیز بی جان ہم کیسے رہیں گے ایک فلیٹ میں اکیلے۔۔۔امی!!
مشال نے سب کو دیکھ کر روتے ہوئے کہا مگر کسی نے اسکی بات پر کوئی رسپانس نہیں دیا۔۔
مشال صحیح کہہ رہی۔۔۔
ہادی نے اسکی حمایت میں بولنا چاہا مگر بی جان کی ایک سخت نظر نے ہی اسکا منہ بند کروادیا وہ لب بھینچ گیا۔۔۔
سب کو خاموش دیکھ مشال کو دھچکا سا لگا۔۔۔کیا اتنی عرزاں ہوگئی تھی وہ کہ کوئی اسے برداشت نہیں کرسکتا تھا اس گھر میں۔۔۔
امی پلیز آپ تو ایسا نہ کریں۔۔۔بیٹی ہیں ہم آپکی۔۔۔
مشال نے ریحانہ بیگم کا ہاتھ تھام کر روتے ہوئے کہا
جو کام تم نے کیا ہے۔۔۔اسکے بعد میں صرف اتنا کہوں گی کہ میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔۔۔
ریحانہ بیگم ٹھنڈے لہجے میں کہہ کر اس سے اپنا ہاتھ چھڑاگئیں۔۔۔
آخر آپ لوگ سمجھ کیوں نہیں رہے۔۔ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں غلطی فہمی ہوگئی تھی۔۔۔پلیز معاف کر دیں ہمیں پر یوں گھر سے تو نہ نکالیں نہ۔۔۔
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں سب کو دیکھ کر کہا
التمش۔۔۔تم اسے لے جارہے ہو یا نہیں۔۔۔
عالیہ بیگم نے آخر تپ کر التمش سے پوچھا
سلیم گاڑی میں سامان رکھو۔۔۔
التمش ملازم کو بولتا ہوا مشال کے پاس آیا اور اسکا بازو سختی سے پکڑ کر اسے باہر لے جانے لگا۔۔۔
نہیں۔۔۔چھوڑیے ہمیں۔۔۔التمش۔۔۔پلیز ایسا مت کریں۔۔۔ہمیں معاف کردیں۔۔۔پر پلیز گھر سے مت نکالیں۔۔۔امی۔۔۔سنیں تو۔۔۔بی جان پلیز۔۔۔آغاجان آپ روکیں نہ انہیں۔۔۔
مشال روتی رہی مگر التمش سمیت سب نے جیسے اپنے کان بند کرلیے تھے۔
وہ کھینچتا ہوا اسے کار کے پاس لایا اور زبردستی اسے کار میں بٹھاکر گیٹ لوک کیا۔۔۔ابھی وہ دوسری سائیڈ پر ہی آرہا تھا کہ وجدان کی کار حیدر ولا کے پورچ پر رُکی۔۔۔
وجدان جو آغاجان سے نکاح کے متعلق چند ضروری باتیں پوچھنیں آیا تھا۔۔۔التمش کو زبردستی مشال کو کار میں بٹھاتا دیکھ شدید حیران ہوا۔۔وہ جلدی سے کار سے نکلتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔۔
یہ کیا کررہے ہو تم۔۔۔جانتے نہیں ہو میری امانت ہے یہ تم لوگوں کے پاس چند پل کے لیے۔۔۔
وجدان نے ایک نظر کار میں روتی مشال کو دیکھا پھر ناگواری سے التمش کو کہا
اسکی بات پر التمش نے تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھا
وہ کیا ہے نا یار۔۔۔دراصل کل تک جو تیری امانت تھی نا۔۔۔وہ آج میری بیوی کے عہدے پر فائز ہے تو اپنی یہ خوش فہمی جاکر کہیں اور اتار کہ یہ اب کبھی تیری کچھ لگے گی۔۔۔
التمش نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ وجدان کے سر پر جیسے بم پھوڑا تھا۔۔وہ ساکت نظروں سے چند پل التمش کو دیکھتا پھر اچانک ہنسا۔۔۔
تجھے کیا لگا۔۔۔میں تیری بکواس کو سچ مان لوں گا۔۔
وجدان نے زور زور سے ہنستے ہوئے کہا
کیا سچ ہے کیا جھوٹ۔۔۔یہ جاکر اندر پتا کر۔۔۔مجھے اپنی باتیں دہرانا پسند نہیں۔۔۔
التمش استہزاء انداز میں بول کر کار میں بیٹھا تو وجدان کی ہنسی غائب ہوئی۔۔
اس نے پھر مشال کو دیکھا جو ہچکیوں سے رورہی تھی۔۔۔وجدان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔
تبھی التمش نے گاڑی اسٹارٹ کی اور زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
وجدان جلدی سے اندر گیا۔۔۔جہاں سب یونہی خاموش کھڑے تھے۔۔۔
وجدان کو اندر آتا دیکھ آغاجان اسکی طرف بڑھے۔۔
یہ میں کیا سُن رہا ہوں اس التمش سے۔۔۔
وجدان نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے پوچھا
بیٹا۔۔۔۔سب کچھ یوں اچانک ہوا کہ ہم لوگ۔۔۔
میں نے پوچھا جو میں نے ابھی اس سے سنا کیا وہ سچ ہے۔۔۔کیا سچ میں مشال کا اس سے نکاح۔۔
آغاجان نے ٹہر کر بولنا شروع کیا مگر وجدان نے انکی بات کاٹ کر کہا تو آغاجان نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا
آپ لوگ جانتے تھے کہ وہ میری امانت تھی پھر بھی۔۔۔
اس نے چلا کر کہا پہلی بار اسکی زبان لڑکھڑائی تھی۔۔۔یہ سوچ ہی کتنی اذیت زدہ تھی اسکے لیے کہ مشال کسی اور کی ہوگئی۔۔۔وہ تو آج اس سے نکاح کرنے والا تھا۔۔۔پھر کیسے یہ سب۔۔۔
بے بسی اتنی تھی کہ وجدان کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمکی۔۔۔غصے میں اسکی رگیں واضح ہونے لگیں۔۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں نور اسے تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اسکے چہرے پر مذاق اڑاتی مسکراہٹ وجدان کا اور خون کھولا گئی۔۔۔
اس نے لہو رنگ آنکھوں سے نور کو گھورا پھر بنا کچھ کہے وہاں سے تیز قدم اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے راستے وہ روتی رہی مگر التمش کو جیسے فرق ہی نہیں پڑرہا تھا اسکے رونے سے۔۔۔۔وہ بے نیاز سا کار ڈرائیو کرتا رہا۔۔۔لفٹ سے نکل کر وہ اپنے فلیٹ کے گیٹ پر پہنچا تو مشال مجبوراً اسکی پیروی میں چلنے لگی۔۔۔
فلیٹ بلکل نیو اور فرنشنڈ تھا۔۔۔۔تین روم ایک اوپن امیرکن سٹائل کچن جبکہ لاونج بھی کافی بڑا تھا۔۔۔۔یہ التمش نے زمان صاحب کے کہنے پر خریدہ تھا مگر اسے کبھی اس فلیٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔
اس نے ایک نظر مشال کو دیکھا جو پورے فلیٹ کو گھبراکر دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں اب آفس کے لیے نکل رہا ہوں۔۔۔میرے آنے تک یہ سب سامان جگہ پر سیٹ کردینا۔۔۔
التمش کی بات پر مشال نے بوکھلاکر اسے دیکھا
کک۔۔کیا مطلب۔۔۔آپ چلے جائیں گے تو ہم یہاں پر اکیلے کیسے رہیں گے۔۔۔
اس نے گھبراتے ہوئے کہا التمش اچھے سے جانتا تھا کہ وہ اندھیرے اور تنہائی سے بہت ڈرتی ہے۔۔۔مگر پھر بھی بے نیازی سے کہنے لگا
جیسے اور بھی لڑکیاں رہتی ہیں اپنے شوہروں کے بغیر اکیلے۔۔۔اور اب پھر سے روئی تو دو تھپڑ لگاؤں گا تمہارے گال پر۔۔۔۔بلکل چپ رہو۔۔
اسکا منہ پھر رونے والا بنتا دیکھ التمش نے اسے جھڑکا رات سے اسکے رونے کا شغل ہی ختم نہیں ہورہا تھا۔۔۔جبکہ مشال پھر منہ کو دونوں ہاتھوں میں چھپاکر پھوٹ پھوٹ کے رودی۔۔
اپنا یہ ڈرامہ بند کرو۔۔۔
التمش نے اسکے ہاتھ کو چہرے سے ہٹا کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے غصے سے کہا
مگر مشال مسلسل روتی رہی۔۔۔التمش کا پارہ ہائی ہوگیا۔۔
تو تم چپ نہیں ہوگی۔۔۔چلو پھر ایسا کرتے ہیں کہ میں نہیں جاتا۔۔۔۔اور تمہارے ساتھ یہی پر ٹائم اسپینڈ کرتا ہوں۔۔۔آفٹر آل۔۔۔آج شادی کے بعد ہمارا پہلا دن ہے۔۔۔
اسنے مشال کو بازو سے پکڑ کر خود سے بے حد قریب کرلیا۔۔
اسکی اس بات پر مشال کو اپنا رونا ہی بھول گیا۔۔۔وہ آنکھیں پھاڑے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔جو اب آہستگی سے اسکے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر جھکنے لگا تھا۔۔۔پر مشال نے جلدی سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنا چہرہ اس سے دور کیا۔۔
نہیییں!!
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں تڑپتے ہوئے کہا جبکہ دل بری طرح دھڑک رہا تھا اسکی قربت پر۔۔۔
التمش نے کچھ لمحے اسے دیکھا پھر جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہوا فلیٹ سے نکل گیا۔۔۔
مشال وہیں پر بیٹھ کر اپنا سر پکڑ کر رودی۔۔۔۔صرف ایک غلط فہمی سے اسکی زندگی کیا سے کیا ہوگئی تھی۔۔۔۔اسکا دوست،اسکا ہم راز،اسکا محافظ۔۔۔۔ہاں وہ۔۔۔۔۔اسکا التمش اب بدل گیا تھا۔۔۔مشال کی بے اعتباری نے اسے بدل دیا تھا۔۔۔
اسے نہیں پتا تھا کہ ایک غلط فہمی کی اتنی بڑی سزا دی جائے گی اسے۔۔۔اپنوں نے اس سے منہ موڑ لیا تھا۔۔۔گھر سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔۔پر وہ بھول چکی تھی کہ بھلے ہی غلط فہمی میں ہی کیوں نا۔۔۔پر کسی پر بھی تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہوتا ہے۔۔۔اور بے شک اسکی سزا بہت سخت ہوتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا دن اسکا فلیٹ صاف کرنے میں نکل گیا۔۔۔وہ اکیلے ڈر رہی تھی پھر یہی سوچ کر خاموشی سے کام کرنے لگی کہ اب تو پتا نہیں کتنے دن یونہی اکیلے رہنا ہے۔۔۔شام میں کام ختم ہونے کے بعد وہ وارڈروب میں اپنے اور التمش کے کپڑے رکھنے لگی۔۔۔روم سیٹ کرنے کے بعد اس نے ایک سادہ سوٹ نکالا اور نہانے چلی گئی۔۔۔نہاکر نکلی تو ڈریسر کے پاس آکر وہ بال سلجھانے لگی۔۔یہ سب کرتے ہوئے اسکے دماغ میں صرف ایک ہی سوال گردش کررہا تھا۔۔۔
کیا سب کچھ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔۔۔پر نہیں۔۔۔اسے یہ بھی یقین تھا کہ التمش اسے معاف کردے گا۔۔۔التمش۔۔۔اسکی سوچ آتے ہی مشال کا چلتا ہاتھ رک گیا۔۔۔۔وہ شروع سے سب کچھ سوچنے لگی۔۔۔کتنی پرواہ کرتا تھا وہ اسکی۔۔۔ہر چیز میں۔۔۔ہر کام میں۔۔۔کبھی بھی اس نے اپنے سامنے مشال کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیے۔۔۔ہر وہ کام کرتا جس سے مشال کے چہرے پر مسکراہٹ آئے۔۔۔۔یہاں تک کے اپنی لائف بھی ویسے جیتا جیسے مشال چاہتی۔۔۔۔اور اب۔۔۔
التمش کا یہ دوسرا روپ مشال کو حیران کر گیا تھا۔۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ چند پلوں میں اسکا اس قدر اجنبیت بھرا رویہ ہوجائے گا مشال سے۔۔۔
بال سلجھا کر وہ بیڈ پر جاکر لیٹ گئی۔۔۔تھکن کی وجہ سے اسے فوراً نیند نے آگھیرا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گئے وہ گھر لوٹا۔۔۔کھانا وہ باہر سے ہی لے آیا تھا۔۔۔کھانے کی شوپر کچن میں رکھ کر وہ روم میں گیا۔۔۔جہاں مشال محوئے خواب تھی۔۔۔اسکے پاس جاکر التمش چند پل یونہی اسے سوتا دیکھتا رہا پھر اس پر جھک کر آہستگی سے اپنے دہکتے لب مشال کی سفید پیشانی پر رکھ دیے۔۔۔اسکے پہلے لمس نے التمش کو بہت سرور بخشا تھا۔۔۔جبکہ مشال آہستہ سا کسمسائی تھی۔۔۔پیشانی میں جلتا لمس محسوس کر کے وہ پٹ سے اپنی آنکھیں کھول گئی۔۔۔۔اور اپنے اوپر جھکے التمش کو جھٹکے سے خود سے دور کیا۔۔۔
وہ سیدھا ہوکر اسے دیکھنے لگا۔۔۔جو اپنی سانسیں متواتر کررہی تھی۔۔۔پیشانی پر نرم گرم لمس ابھی ابھی محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔مشال نے آنکھوں میں نمی لیے التمش کو دیکھا۔۔۔
کھانا نکالو۔۔۔
اسے سرد لہجے میں حکم دیتا وہ واشروم میں چلا گیا۔۔
آنکھوں سے آنسو صاف کر کے وہ کچن میں گئی اور پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی۔۔۔
کچھ دیر بعد التمش بھی آستین فولڈ کرتا ہوا آیا اور کچن میں رکھی ڈائینگ پر چئیر کھسکا کر بیٹھ گیا۔۔۔پر صرف ایک پلیٹ میں کھانا دیکھ کر وہ مشال کو دیکھنے لگا جو کچن میں سلیپ کے پاس کھڑی نظر جھکائے عادت کے مطابق ڈوپٹے کو اپنی مخروطی انگلیوں میں گھمارہی تھی۔۔۔
اسے چند پل دیکھتے رہنے کے بعد التمش خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔۔۔جبکہ مشال حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔اسے مکمل یقین تھا کہ التمش اسے کھانا نہیں کھاتا دیکھ بُلائے گا مگر یہاں تو وہ مکمل بے نیاز بنا ہوا تھا۔۔۔
کھانا کھا کر وہ روم میں چلا گیا تو مشال کی آنکھیں پھر بھیگ گئیں۔۔۔۔کیا اب اسے پرواہ نہیں رہی تھی مشال کی۔۔۔کیا اسکے بھوکے رہنے سے التمش کو اب فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے پلیٹ اٹھا کر سنک میں رکھنے لگی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ روم میں آئی تو التمش کو جوتوں سمیت بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹا دیکھ وہ اسکے پاس گئی پھر جھک کر آرام سے اسکے جوتے اتارنے لگی۔۔۔
التمش جھٹکے سے اپنے پیر دور کرتا ہوا اٹھا۔۔۔۔پھر حیران نظروں سے مشال کو دیکھنے لگا۔۔۔
کیا کر رہی ہو یہ؟
اس نے غصے سے پوچھا
آپکے شُوز۔۔
میں نے کہا اتارنے۔۔۔اپنی طرف سے بڑھ چڑھ کر مت کیا کرو۔۔۔
اسکی بات کاٹتے ہوئے وہ بھڑکا تھا اسکی حرکت پر۔
اسکے جھٹکنے پر مشال پھر روگئی۔۔۔
ابے یار۔۔۔۔۔جاؤ یہاں سے ابھی۔۔۔دماغ خراب کیا ہوا ہے۔۔۔
اسے پھر روتا دیکھ التمش زور سے دھاڑا پہلے ہی سر میں درد تھا اوپر سے اسکا بار بار رونا۔۔۔
مشال سہم کر پیچھے ہوئی۔۔۔پھر جلدی سے آنسو روکتے ہوئے وہ روم سے نکل گئی۔۔۔۔دوسرے کمرے میں آکر وہ پھر ہچکیوں سے رودی۔۔۔
کیا بتاتی اسے۔۔۔جانتا تو تھا التمش۔۔۔کہ وہ ان سب کی عادی نہ تھی۔۔۔کبھی تو کسی نے نہیں ڈانٹا تھا اسے۔۔۔۔مشال کو بے اختیار وہ پل یاد آیا جب التمش کے پہلی مرتبہ ڈانٹنے پر وہ روٹھی تھی تو التمش نے کس طرح پیچھے پڑ پڑ کر اسے منایا تھا۔۔۔
سب کچھ اتنے اچانک بدلا تھا۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔التمش کا یہ رویہ اسے بار بار رُلارہا تھا۔۔۔روتے روتے کب وہ سوئی اسے پتا نہ چلا۔۔۔۔
کافی دیر بعد بھی جب وہ روم میں نہیں آئی تو التمش اپنی پیشانی مسلتے ہوئے اٹھ کر لاؤنج میں گیا۔۔۔پھر کچھ سوچ کر دوسرے روم میں آیا جہاں وہ بیڈ پر اوندھی لیٹی سورہی تھی۔۔۔
اسکے پاس جاکر التمش نے اسے دیکھا بالوں سے اسکا چہرہ چھپا ہوا تھا۔۔۔جانتا تھا روتے روتے سوئی ہوگی۔۔۔ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہ جھکا اور مشال کے وجود کو گود میں بھر کر اپنے روم میں لے آیا۔۔۔پھر آہستگی سے اسے بیڈ پر لٹا کر کمفرٹر اس پر سیٹ کر کے سگریٹ کی ڈبی اٹھائی اور بالکونی میں چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سونے کی تیاری کررہی تھی تبھی اسکے فون پر ایک انجانے نمبر سے کال آئی۔۔
ہیلو۔۔
نور نے فون ریسیو کرتے ہوئے کہا
بہت خوش ہورہی تھی نا صبح لٹل گرل۔۔۔
وجدان کی آواز سن کر اسکے چہرے پر سے ہوائیاں اڑ گئیں۔۔۔اسنے فون کان سے ہٹاکر ایک نظر دیکھا پھر گھبراتے ہوئے واپس کان پر لگایا۔
کیا ہوا اب چپ کیوں ہو۔۔۔ڈر لگ رہا ہے؟
اسکی مسکاتی آواز نور کو غصہ دلا گئی
نہیں ڈرتی میں تم جیسے حیوان سے۔۔۔
نور نے مضبوط لہجے میں کہا تو وجدان کے جبڑے تن گئے
کچھ زیادہ ہی نڈر نہیں ہوگئی۔۔۔بٹ بے فکر رہو۔۔۔ڈر نہیں لگ رہا نا۔۔۔ابھی کچھ ہی پلوں میں لگے گا۔۔۔جب تمہاری وہ ویڈیو نیٹ پر وائرل ہوگی۔۔
اس نے دانت کچکچاتے ہوئے کہا تو نور کا چہرہ زرد پڑگیا
یہ۔۔۔یہ۔۔کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔دیکھو۔۔۔میں نے کسی کو کچھ نہیں کہا۔۔۔اپنا منہ بند رکھا۔۔۔اب تم پلیز اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کردو۔۔۔
نور نے بوکھلاتے ہوئے جلدی سے کہا بے ساختہ اسکی آنکھیں گیلی ہوئی تھیں۔۔۔وہ ڈر گئی تھی وجدان کی دھمکی پر۔۔۔
نہ۔۔نہ لٹل گرل۔۔۔بہت خوش ہورہی تھی نا تم۔۔اس التمش کو مشال کے ساتھ دیکھ کر۔۔۔اور اب تو ویسے بھی تمہارے چپ رہنے یا نہیں رہنے سے مجھے کوئی فائدہ نہیں۔۔۔کیونکہ وہ التمش تو۔۔۔
وجدان ضبط سے بولتے بولتے رکا پھر سے ذہن میں صبح کا منظر آیا جب التمش مشال کو لے کر جارہا تھا۔۔۔اسنے اپنے لب بھینچ لیے۔۔۔
خیر۔۔۔تم سے بس یہی کہنے کے لیے کال کی ہے لٹل گرل۔۔۔کہ صبح کا ویٹ کرنا تم اب۔۔۔کیونکہ یہ ویڈیو میرے پاس اب رکھے رکھے بیکار ہورہی ہے تو میں اب اسے سوشل میڈیا کی زینت بنانا چاہتا ہوں۔۔۔
وجدان کی بات پر نور کی جان ہوا ہونے لگی۔۔۔آنکھوں سے روانی میں آنسو بہنے لگے۔
نہی۔۔۔نہیں۔۔۔۔پلیز۔۔۔دیکھو تم نے کہا۔۔۔منہ۔۔۔منہ بند رکھ۔۔۔رکھنے میں نے رکھا۔۔۔اب پلیز۔۔۔۔۔تم ایس۔۔۔ایسا مت کرو۔۔۔وہ۔۔۔ویڈ۔۔ویڈیو ڈلیٹ۔۔۔کردو۔۔۔پلیز۔۔۔پلیز۔۔
نور نے فون کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کہلاتے ہوئے اسکی منت کی مگر وجدان نے کال کاٹ دی۔۔۔
اور ایک دفعہ نور کی وہ ویڈیو دیکھ کر نیٹ آن کرنے لگا۔۔
نور نے جلدی سے پھر اسکا نمبر ڈائل کیا مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔رورو کر نور کا حال برا ہوگیا۔۔۔یہ سوچ ہی کتنی بھیانک تھی۔۔۔اگر وہ ویڈیو اپلوڈ ہوگئی تو۔۔۔
اس سے آگے اس سے سوچا ہی نہیں گیا۔۔۔وہ پاگلوں کی طرح روم میں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔
اس نے پھر موبائل اٹھایا اور وجدان کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔مگر بے سود۔۔۔۔غصے سے فون پھینک کر وہ نیچے بیٹھ رونے لگی۔۔۔بے بسی ہی بے بسی تھی۔۔۔اسکی وجہ سے پوری فیملی بدنام ہوگی اسکی۔۔۔التمش پر تو صرف تہمت لگی تھی۔۔۔اور لڑکا ہونے کے باوجود اسے کس قدر ذلیل کیا گیا تھا۔۔۔یہاں پر تو اسکی پوری ویڈیو بنائی تھی وجدان نے۔۔۔۔کچھ نہ کر کے بھی وہ بدنام ہو جائے گی۔۔۔۔اسکی ماں یہ صدمہ نہیں برداشت کرپائے گی۔۔۔کیسے سب کا سامنا کریگی وہ۔۔۔یہ سوچ آتے ہی نور اپنے بال جکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔وہ نجات چاہتی تھی۔۔۔اس سے پہلے کل تک اسکی بدنامی ہر جگہ ہو۔۔۔وہ چھٹکارا چاہتی تھی اس سب سے۔۔۔۔
اچانک بجلی کا ایک کوندا سا لپکا اسکے دماغ میں وہ اٹھ کر جلدی سے سائیڈ ٹیبل کی ساری ڈراز دیکھنے لگی۔۔۔اپنی مطلوبہ چیز ملنے پر وہ لے رک آہستہ سے بیڈ پر بیٹھی۔۔
امی۔۔۔مشال آپی۔۔۔سوری۔۔کل کی بدنامی سے بہتر میں مرنا ہی پسند کرونگی۔۔
وہ کہتے ہوئے ہچکیوں سے رودی پھر ہاتھ میں لی شیشی کھول کر ساری پِلز ایک ہی ساتھ منہ میں ڈال گئی۔۔۔اور آہستہ آہستہ گھونٹنے لگی۔۔۔
ساری پِلز گھونٹنے کے بعد اسکا دماغ آہستہ آہستہ غنودگی میں جانے لگا۔۔۔
بے ساختہ اسے مشال کی شدت سے یاد آئی۔۔۔وہ آخری بار بات کرنا چاہتی تھی اپنی بہن سے۔۔۔جلدی سے موبائل کے لیے اس نے نظر دوڑائیں۔۔۔کمرے کے ایک کونے میں اسکا فون پڑا تھا۔۔۔زور سے پھینکنے کی وجہ سے اسکی سکرین ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔نور نے لپک کر فون اٹھایا۔۔۔۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔۔جلدی سے اسنے فون آن کیا۔۔۔۔مگر اچانک اسکی آنکھوں کا منظر دھندلانے لگا۔۔۔بہت کوشش کے بعد اس نے مشال کا نمبر ڈھونڈا۔۔۔پر ڈائل کرنے سے پہلے ہی اسکا دماغ اچانک تاریک ہوگیا۔۔۔۔۔وہ منہ کے بل نیچے گری تھی۔۔۔ساتھ ہی موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر گرا۔۔۔آخری سوچ جو اسکے تاریک ہوتے دماغ میں ہلکی سی آئی تھی وہ یہی تھی کہ اسے اپنی بہن سے ملنا تھا۔۔۔وہ آخری بار اسے گلے لگانا چاہتی تھی۔۔۔سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں نور ایجاز کی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں۔۔۔
