No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
Episode #12
وہ کلب میں بیٹھا سوچوں میں گم اب تک پتا نہیں کتنی سگریٹ پھونک چکا تھا۔۔۔۔۔مشال سے بحث ہونے کے بعد وہ گھر سے ہی نکل گیا تھا۔۔۔۔۔وہ مشال سے کبھی ناراض نہ ہوتا اگر وہ اسے وجدان کے سامنے ذلیل نہ کرتی۔۔۔۔حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وجدان غلط تھا پھر بھی اسنے وجدان کی حمایت کی۔۔۔۔اس کے لیے وہ التمش سے لڑی۔۔۔یہ سوچ آتے ہی اسے مشال پر پھر غصہ آنے لگا۔۔۔۔آج فرسٹ ٹائم اسے مشال کی کوئی حرکت بری لگی تھی۔۔۔
التمش نے اپنی واچ میں ٹائم دیکھا سوا دو بج رہے تھے۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ مشال اسکا انتظار کررہی ہوگی پر وہ ابھی گھر جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔
تبھی اسکی نظر انٹرنس پر پڑی جہاں سے نیہا آرام سے چلتی ہوئی آرہی تھی۔۔۔التمش کو حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آیا۔۔۔وہ یہاں کیا کررہی تھی۔۔۔۔۔اس نے اپنے قدم نیہا کی طرف بڑھائے۔۔۔
تم یہاں کیا کررہی ہو؟
التمش نے اسکے پاس پہنچ کر غصے سے پوچھا
تھینک گاڈ تامی تم یہیں مل گئے۔۔۔میں کل سے تمھارا فون ٹرائے کررہی ہوں۔۔۔اب اتنا بھی کیا غصہ تامی کہ تم کال ہی ریسیو نہیں کر رہے۔۔۔
نیہا نے التمش کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا تو التمش نے ایک نظر کلب میں دیکھا پھر نیہا کو۔۔
باہر چلو۔۔
التمش نے کہتے ہوئے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے
کلب سے نکل کر التمش پارکنگ ایریا میں آیا پھر اپنی کار کے بونٹ پر ٹیک لگا گیا تو نیہا بھی اسکا بازو تھامتے ہوئے اس کے برابر میں کھڑی ہوگئی۔۔۔
اچھا نا تامی موڈ ٹھیک کرو نا۔۔۔دیکھو میں تمہیں سوری کہہ رہی ہوں۔۔۔
نیہا نے اسکے فیس پر سیریس ایکسپریشن دیکھ کر کہا تو التمش نے اسکی طرف دیکھا
میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔۔
اس نے سنجیدگی سے کہا تو نیہا خوشی سے اسکے گلے لگ گئی۔۔
او مائے گاڈ تامی۔۔۔مجھے لگا تم مجھ سے ناراض ہو اسی لیے بات نہیں کررہے۔۔۔مطلب میں فضول میں اتنی ٹینشن لے رہی تھی۔۔۔
نیہا نے چہکتے ہوئے کہا تو التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر خود سے آہستگی سے دور کیا۔۔۔نیہا کو اسکا دور ہونا بلکل پسند نہ آیا۔۔۔پر اس نے بات بدل دی۔
دکھاؤ تو زرا کتنی سگریٹ پی ہے تم نے۔۔۔
نیہا نے اسکے ہاتھ سے سگریٹ کا بوکس لیتے ہوئے کہا
او مائی گاڈ تامی تم کتنا سموک کرتے ہو؟
اسنے حیرت سے بوکس کھول کر دیکھا جس میں اب دو ہی سگریٹس پڑی تھیں۔۔
کیوں تمہیں کوئی پرابلم ہے۔۔۔
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا
ارے نہیں بابا۔۔۔
اسنے التمش کے بازو سے چپک کر ہنستے ہوئے کہا
چلو۔۔تمہیں گھر ڈراپ کردوں۔۔
التمش اپنا بازو چھڑا کر کار کا گیٹ کھولتے ہوئے بولا
اتنی جلدی۔۔۔تامی ابھی تو ہم اکیلے ٹائم اسپینڈ کرنے بیٹھے ہیں اور تمہیں گھر جانے کی فکر لگ گئی۔۔۔۔میں ابھی نہیں جارہی۔۔۔
نیہا نے نروٹھے پن سے کہا
التمش کو غصہ آنے لگا پہلے ہی اسکا موڈ کم خراب تھا جو اب نیہا کے نخرے شروع۔۔۔
نیہا چلو یار۔۔۔۔مشی ویٹ کر رہی ہوگی۔۔۔
التمش کے زبان سے وہی پھسلا جو وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا
اسکی بات پر نیہا کا موڈ سخت خراب ہوا۔۔۔
کیا تامی تم بچے ہو کیا۔۔۔۔جو اس سے اتنا ڈرتے ہو۔۔۔
نیہا نے چڑتے ہوئے کہا تو التمش نے ناگواری سے اسکی طرف دیکھا
تمہیں میں نے کل بھی کہا تھا نا کہ میں مشی کے خلاف کچھ سننا نہیں چاہتا۔۔۔
التمش نے اسے گِھرکا تو نیہا گڑبڑائی پھر جلد ہی سنبھلتے ہوئے کہنے لگی
او کم آن تامی۔۔۔۔تم ہمیشہ میری بات کا غلط مطلب نکال لیتے ہو۔۔۔۔میں صرف اتنا کہنا چاہ رہی ہوں تمہیں کہ یہ تمہاری لائف ہے۔۔۔اس میں کسی کو اتنا انوالو مت کرو کہ تم خود ہی سکون سے نہ جی سکو۔۔۔۔
کوئی اور کیا تمہیں کبھی اتنی امپورٹنس دیتا ہے اپنی لائف میں۔۔۔۔
نیہا کی بات پر اَلتمش کو اپنی اور مشال کی دوپہر کو ہونے والی بحث یاد آگئی۔۔
مجھے کس کو اپنی لائف میں انوالو کرنا چائیے اور کس کو نہیں۔۔۔۔یہ تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
التمش نے نیہا کو سنجیدگی سے کہا تو نیہا نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا پھر تحمل سے کہا
میں صرف تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں تامی کہ تم بس اتنا مشال سے ڈرا مت کرو۔۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں ڈرتا ہوں مشی سے۔۔۔میں صرف فکر کرتا ہوں اسکی کہ وہ ہرٹ نہ ہو۔۔
التمش کو جیسے آگ ہی لگا گئی اسکی بات۔۔۔تبھی اس نے دانت پیس کر کہا
اور میرا ہرٹ ہونا تمہیں نہیں دکھتا۔۔۔
نیہا کے نروٹھے پن سے کہنے پر التمش کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
نیہا میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔گھر چلنا ہے تو چلو۔
اس نے عاجز آکر کہا تو نیہا منہ بناتے ہوئے اسکی کار میں بیٹھ گئی۔
اپنے گھر پر اترنے کے بعد نیہا نے اسے بائے کہا تو وہ بغیر جواب دیے گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔
اسکے جانے کے بعد نیہا نے اپنے ہاتھ میں التمش کا سگریٹ بوکس دیکھا پھر فون نکال کر مشال کا نمبر ڈائل کیا۔
مشال کب سے پریشان لاؤنج میں چکر لگارہی تھی۔وہ التمش پر کبھی غصہ نہ ہوتی پر اسکا لہجہ وجدان کے لیے کافی خراب تھا جسکی وجہ سے مشال نے اس سے بحث کی پر اب اسکی ناراضگی کا سوچ کر وہ پریشان تھی۔۔لیکن اسے معلوم تھا وہ خود زیادہ دیر مشال سے ناراض نہیں رہ پائے گا۔۔۔تبھی نیہا کی کال آئی۔
ہیلو۔۔
اسنے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا
مشال وہ تامی گھر پر پہنچ گیا کیا؟
نیہا نے میٹھے لہجے میں پوچھا
نہیں تو۔۔۔کیا وہ آپکے ساتھ تھے؟
مشال نے پوچھا
ہاں۔۔دراصل وہ میرے ساتھ کلب میں ہی تھا۔۔۔کچھ دیر پہلے ہی مجھے ڈراپ کر کے گیا ہے پر اب کال ریسیو نہیں کررہا۔۔۔۔ تو تم اسے بتا دینا کہ وہ اپنا سگریٹ کا بوکس میرے پاس ہی بھول گیا ہے۔۔۔
نیہا نے جتنے آرام سے کہا مشال کو حیرت کا جھٹکا لگا
سگریٹ۔۔
مشال نے حیرت سے پوچھا
ہاں۔۔
نیہا نے کہتے ساتھ فون رکھا اب اسکے ہونٹوں پر شاطرانہ مسکراہٹ بکھر گئی
مشال کو شدید حیرت ہوئی التمش اور سگریٹ کیونکہ مشال جب اسے اور ہادی کو سگریٹ نوشی اور اسی طرح کی چیزوں کے نقصان بتاتی تو التمش کا صاف جواب یہیں ہوتا کہ وہ اسطرح کی کوئی موذی چیز یوز نہیں کرتا۔۔۔تبھی گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔مشال کی نظر سامنے اٹھی۔۔جہاں سے التمش آرہا تھا۔
وہ لاؤنج میں آیا تو سامنے ہی اسے مشال کھڑی نظر آئی۔۔۔وہ اس سے ابھی تک ناراض تھا۔۔۔۔۔اسی لیے اپنی ناراضگی
کا اظہار کرتا وہ اسے اگنور کر کے اوپر جانے لگا تبھی مشال کی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔
نیہا کی کال آئی تھی۔۔
اسکے کہنے پر التمش نے پلٹ کر مشال کو دیکھا
کیا بول رہی تھی۔۔
التمش نے نارملی پوچھا
کہہ رہی تھیں کہ اپنا سگریٹ کا بوکس آپ انہیں کے پاس بھول گئے ہیں۔۔
مشال نے سنجیدگی سے کہا تو التمش نے چونک کر اسکی طرف دیکھا جو بھنچی ہوئی آئبرو سمیت اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔اسے نیہا پر شدید غصہ آیا۔۔۔۔۔التمش نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔
مشی۔۔۔
التمش نے اسکے پاس آتے ہوئے کہا
آپ تو ایسی موذی چیزوں سے دور رہتے تھے۔۔۔پھر یہ سب کیا ہے۔۔۔کلب۔۔۔سگریٹ؟
مشال نے افسوس سے کہا تو التمش اِدھر اُدھر دیکھنے لگا
مشی جب میں ٹینس ہوتا ہوں تبھی سموکنگ کرتا ہوں۔۔
اس نے جیسے اپنے جرم کا اعتراف کیا
اچھا اور آپ کب کب ٹینس ہوتے ہیں بتائیں گے۔۔۔۔اکثر آپ رات کو گھر دیر سے آتے ہیں۔۔۔مطلب آپ کلب میں سموکنگ ہی کرتے ہوں گے۔۔۔اور گھر آکر ہم سے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔شرم تو آتی نہیں ہے۔۔
مشال کا ڈانٹنا التمش کا خون کھولا رہا تھا۔۔۔شاید نیہا کی باتوں کا ہی اثر تھا جو آج پہلی بار التمش کو مشال کا خود پر حق جمانا برا لگ رہا تھا۔۔
مشی میں کہہ رہا ہوں نا کہ جب میں ٹینس۔۔
التمش نے تحمل سے بولنا چاہا تو مشال نے اسے ٹوک دیا
ہمیں کچھ نہیں سننا۔۔۔ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ آپ جھوٹ بول کر کلب میں جاتے ہیں اور سموکنگ کرتے ہیں۔۔۔آج سموکنگ کررہے ہیں کل کو ڈرنک بھی کریں گے۔۔۔
مشال کی بات پر التمش نے حیرت سے اسے دیکھا
مشی تو پاگل ہے کیا۔۔۔میں ڈرنک کیوں۔۔۔
التمش ابھی حیرت سے بول ہی رہا تھا کہ مشال نے پھر اسے ٹوک دیا۔
کریں گے آپ ڈرنک۔۔۔۔ضرور کریں گے آگے جاکے۔۔۔اور ایک بات بتائیں۔۔۔آپ کنفرم صرف سموکنگ ہی کرتے ہیں نا کلب جاکر یا پھر۔۔۔۔
بس کر مشی۔۔۔
التمش نے تقریباً جھڑکتے ہوئے اسکی بات کاٹی۔انکی بحث سے عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم اپنے روم سے باہر آگئیں۔
جو منہ میں آرہا ہے بولے جارہی ہے۔۔۔کچھ کہہ نہیں رہا ہوں اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ تُو کچھ بھی بول۔۔۔
التمش نے جس سختی سے کہا مشال کو سکتہ ہی لگ گیا۔۔۔
اور تُو ہوتی کون ہے مجھ پر اپنا حق جمانے والی۔۔۔التمش یہ نہ کریں۔۔۔التمش وہ نہ کریں۔۔۔جینا حرام کر کے رکھا ہوا ہے۔۔۔میری ہی لائف پر میرا ہی کوئی حق نہیں۔۔۔
کچھ نیہا کی باتوں کا اثر اور کچھ دوپہر کی بھڑاس التمش اس پر اتار گیا۔۔مشال بے یقین سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
التمش۔۔۔بیٹا آرام سے بات کرو۔۔۔
عالیہ بیگم نے اسے ٹوکا
کیسے آرام سے بات کروں امی۔۔۔سکون سے جینے نہیں دیتی یار یہ۔۔۔میں جو بھی کروں اپنی لائف میں اسے اتنی پروبلم کیوں ہوتی ہے۔۔۔ذرا ذرا سی بات پر اتنا اِشوو کرییٹ کرتی ہے۔۔۔حد ہوگئی۔۔۔
التمش غصے سے بولتے ہوئے اوپر اپنے روم میں چلا گیا اور دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔۔
جبکہ عالیہ بیگم نے مشال کو افسوس سے دیکھا پھر دونوں مشال کے پاس آئی جو حق دق سی اسی پوزیشن میں کھڑی تھی۔۔
مشال بیٹا۔۔
ریحانہ بیگم نے اسے پکارا تو وہ ہوش میں آئی۔اس نے ان دونوں کی طرف دیکھا پھر اپنے آنکھوں میں آئی نمی کو اندر دھکیلتے ہوئے آہستگی سے اپنے روم میں چلی گئی۔۔
ریحانہ بیگم نے اسکے پیچھے جانا چاہا پر عالیہ بیگم نے انہیں منع کر دیا۔
اسے اکیلے رہنے دو ابھی۔۔۔
عالیہ بیگم کے کہنے پر ریحانہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا پھر دونوں اپنے روم میں چلی گئیں۔۔عالیہ بیگم نے التمش سے صبح بات کرنے کا ارادہ کیا۔
وہ اپنے روم میں خاموشی سے آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ التمش نے اسے ڈانٹا۔۔۔جو انسان کسی کو مذاق میں بھی مشال کو تنگ کرنے سے منع کرتا تھا۔۔۔آج کس طرح اسے ذلیل کرگیا تھا۔۔۔وہ بھبھک کر روپڑی،آنسو متواتر اسکی بھوری آنکھوں سے نکل کر سرخ عارضوں کو بھگو رہے تھے۔۔
کس طرح التمش نے چند لفظوں سے اس پر یہ ظاہر کردیا تھا کہ وہ کوئی حق نہیں رکھتی اس پر۔۔
دوسری طرف التمش اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا،تبھی اسکے نمبر پر نیہا کی کال آئی۔۔۔التمش کا دماغ گھوم گیا۔۔۔آخر اسی کی وجہ سے اسنے مشال کو کتنا کچھ کہہ دیا تھا ۔۔۔التمش نے بہت مشکل سے خود کو اپنا موبائل پٹخنے سے روکا تھا۔۔۔اسنے کال کاٹ کر اپنا موبائل ہی سوئچ آف کردیا۔۔
پھر سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔۔دماغ تھوڑا پرسکون ہوا۔۔۔تو اسے مشال سے کہی گئی ساری بات یاد آئی۔۔۔اپنی کہی گئی بات پر غور کرنے کے بعد اسکا دماغ جھنجھنا گیا۔۔۔
یہ کیا کہہ گیا تھا وہ مشال کو۔۔۔۔اپنا غصہ کن الفاظوں پر اتار گیا تھا۔۔۔اس نے اپنے بال جکڑ لیے۔۔۔
یہ کیا ہوگیا مجھ سے۔۔۔۔۔کتنا ہرٹ ہوئی ہوگی مشی۔۔۔
وہ آہستگی سے بڑبڑایا
مشال کا بے یقین چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تو وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا اپنے روم کا گیٹ کھول کر مشال کے روم کی طرف بھاگا۔۔۔دروازے پر پہنچ کر پہلے اس نے زور سے بجانے کا سوچا پھر رات کا دوسرا پہر دیکھتے ہوئے اس نے آہستہ سے نوک کیا۔۔
مشی۔۔
التمش کی آواز سن کر مشال کو اور رونا آیا
مشی دروازہ کھول یار سوری۔۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا میں غصے میں کیا بول گیا۔۔۔مشی کھول نا۔۔۔
التمش مسلسل دروازہ بجاتے ہوئے اس سے اپولجائیس کررہا تھا۔
اب کیا فائدہ۔۔
عالیہ بیگم کی آواز پر التمش نے پلٹ کر دیکھا
سوری امی۔۔۔میں غصے میں تھا۔۔
التمش نے شرمندگی سے کہا تو عالیہ بیگم کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھتے رہیں پھر کہا
تمہیں غصے میں کم سے کم لحاظ نہیں بھولنا چاہیے تھا۔۔۔جانتے ہو وہ کتنا مانتی ہے تمہیں۔۔۔۔اب جو بات کرنی ہے صبح کرنا۔۔۔ابھی وقت کافی ہوگیا ہے سو جاؤ۔۔۔۔
عالیہ بیگم نے تاسف سے کہا پھر اپنے کمرے میں چلی گئیں
تو التمش دروازے سے ٹیک لگاکر پھر نوک کرنے لگا
مشی معاف کردے یار۔۔۔۔قسم سے تجھے ہرٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا میرا۔۔۔۔
وہ مسلسل دروازہ بجاتا گیا۔۔۔۔اندر مشال ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔پر اسنے دروازہ نہیں کھولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی دھوپ اسکے چہرے پر پڑی تو اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔رات کو روتے روتے وہ کب سوگئی۔۔۔اسے معلوم نہ ہوا۔۔۔۔۔رات کی بات یاد آنے پر اسے پھر رونا آنے لگا مگر اپنے آنسو پیتے ہوئے وہ واشروم میں گئی۔۔۔فریش ہوکر جب وہ روم سے باہر نکلی تو اپنے گیٹ پر ایک چِٹ لگی دیکھ کر تھوڑا حیران ہوئی۔۔۔اس نے چِٹ پر دیکھا،جس پر سوری لکھا تھا۔۔۔۔سمجھ گئی کس نے لکھا ہوگا اس لیے اگنور کرتے ہوئے نیچے آگئی۔۔۔
ارے مشال بیٹا آؤ۔۔۔دیکھو آج التمش نے پہلی دفعہ اپنے ہاتھوں سے آملیٹ بنایا ہے۔۔۔وہ بھی تمہارے لیے۔۔۔
وہ ڈائیننگ ٹیبل پر آئی تو آغاجان نے چہکتے ہوئے اسے بتایا۔۔۔انکی بات سن کر اس نے التمش کو دیکھا جو بتیسی نکالے اسکے ساتھ والی چئیر پر بیٹھا تھا۔۔۔
وہ اگنور کرتی ہوئی خاموشی سے اپنے سامنے سے آملیٹ کی پلیٹ ہٹا کر سادہ فرائی ہوا انڈہ لینے لگی تو التمش کے چہرے کی مسکراہٹ معدوم ہوگئی۔۔
عالیہ بیگم سے سب کو ان دونوں کی رات ہوئی بحث کا اور مشال سے التمش کی ناراضگی کا پتا چلا تھا۔
مشال کے ایسا کرنے پر آغاجان کا چہرہ اتر گیا جبکہ ہادی نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔۔
تجھے بڑا مزہ آرہا ہے؟
التمش نے غصے سے ہادی کو کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔التمش نے چمچ اٹھا کر اسکی طرف پھینکا تو اسکی ہاتھ پر لگا
آوو۔۔
ہادی نے ہاتھ سہلاتے ہوئے التمش کو گھورا تو وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لیے اسے دیکھنے لگا
برخوردار۔۔۔۔آج آفس جانا بھی ہے یا نہیں۔۔۔
زمان صاحب نے اسے رف حلیے میں دیکھ کر کہا
آج موڈ نہیں۔۔۔ہورہا بابا۔۔۔
التمش نے آہستہ سے سر کجھاتے ہوئے مشال کو دیکھ کر کہا وہ چاہتا تھا مشال اسے ٹوکے پر اسکی توقع کے خلاف وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھی۔۔
زمان صاحب بھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے آفس کے لیے نکل پڑے۔۔۔
دوپہر میں وہ لاؤنج میں بیٹھا بظاہر ٹی وی دیکھ رہا تھا پر دھیان اسکا مکمل کچن میں مشال کی طرف تھا تبھی اسکے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔۔۔وہ اٹھ کر کچن کے قریب ڈائننگ ٹیبل پر گیا۔۔۔پھر زور سے اپنا پیر ٹیبل کی لکڑی پر مارا۔۔۔
آاااہ۔۔
لگی تو اسے بلکل نہیں پر مشال کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے وہ زور سے چیخا
اسکی آواز سن کر مشال جو گھبرا کر کچن سے باہر آرہی تھی۔۔۔۔دو تین قدم پر ہی رک گئی۔۔۔اسے التمش کی بات یاد آئی تو وہ اداس ہوگئی۔۔۔پھر کچھ سوچ کر اس نے کچن سے باہر جھانکا جہاں التمش درد ہونے کی بھر پور ایکٹنگ کررہا تھا۔۔۔
کیا ہوا بھائی۔۔۔
ہانیہ نے التمش کے پاس آکر پوچھا
آااہ۔۔۔بہت درد ہورہا ہے ہانی۔۔۔مت پوچھو۔۔
التمش نے کچن کی طرف تیڑھی آنکھوں سے دیکھ کر کہا
کیا نہیں پوچھوں۔۔۔۔
ہانیہ کے پھر پوچھنے پر التمش نے تپ کر اسکی طرف دیکھا پھر کہا
کچھ نہیں۔۔
ارے ہانی دیکھ نہیں رہی بھائی کہ چوٹ لگی ہے پیر پر۔۔۔۔بہت درد ہورہا ہوگا نا بھائی۔۔۔
ہادی جو کب سے تماشہ دیکھ رہا تھا مصنوعی ہمدردی سے التمش کے پاس آکر بولا
ہاں بہت درد ہورہا ہے۔۔۔۔
التمش نے کراہ کر کہا پھر کچن کی طرف دیکھا
مشال سوچ میں پڑ گئی کہ جائے یا نہ جائے
ویسے چوٹ دِکھ تو نہیں رہی ہے بھائی۔۔۔
ہادی کے کہنے پر التمش نے اسے گھورا
ہاں کہاں پر لگی ہے۔۔۔
ہانیہ نے بھی اسکی تائید کی
التمش نے تیڑھی آنکھوں سے مشال کو دیکھا جو اسکی ایکٹنگ سمجھ کر واپس کچن میں چلی گئی پھر ان دونوں کو دیکھا جو اپنے کارنامے پر خوشی سے ایک دوسرے کو تالی ماررہے تھے۔۔
تم دونوں کو بخشونگا نہیں میں۔۔۔
التمش غصے میں ان کی طرف بڑھا تو وہ دونوں ادھر سے بھاگ گئے۔۔۔
تین دن تک التمش نے ہر طرح سے مشال کو منانے کی کوشش کی مگر مشال نے اسے مکمل اگنور کیا۔۔۔۔۔وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی التمش کی باتوں سے۔۔۔پر التمش نے بھی جیسے ٹھان لی تھی اسے منانے کی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج التمش کی برتھ ڈے تھی۔۔۔اس نے اپنی برتھ ڈے پر سب کو ایک اعلیٰ پائے کے ہوٹل میں دعوت دی۔۔۔۔چونکہ اس نے دعوت کا اہتمام خود کیا تھا۔۔اسی لیے اسکی تھیم بھی خود ہی رکھی۔۔۔۔۔ہوٹل میں آنے والا ہر فرد ڈیکوریشن کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوگیا جہاں صرف فرنٹ پر ہیپی برتھڈے التمش کا پوسٹر چسپاں تھا۔۔۔۔باقی ہر جگہ سوری لکھا تھا۔۔۔۔وہ برتھڈے پارٹی کم سوری پارٹی زیادہ لگ رہی تھی۔۔
سب حیرت سے ڈیکوریشن کو دیکھ رہے تھے جبکہ التمش مسکراتے ہوئے مشال کو دیکھ رہا تھا جو لائٹ پرپل نیٹ کی لانگ فراک پر دوپٹہ شانوں پر پھیلائے،بالوں کو کھلا چھوڑے،ہلکا سا میک اپ کیے سب سے الگ لگ رہی تھی۔۔۔وہ سنجیدگی سے ہر طرف دیکھ رہی تھی یقیناً وہ اس انوکھی ڈیکوریشن کا مطلب سمجھ گئی تھی۔
بڑا ہی انوکھا انداز ہے سوری کہنے کا۔۔
آغاجان نے التمش کی پیٹ تھپکتے ہوئے کہا تو وہ مسکرادیا
سبھی باتوں میں مگن تھے جب نور کی نظر وجدان پر پڑی جو انڑینس سے آرہا تھا۔۔۔اسے دیکھتے ہی نور کو خوف سا آیا۔۔۔۔۔
برتھڈے پارٹی کچھ عجیب نہیں۔۔
وجدان نے التمش کے پاس پہنچ کر مسکراتے ہوئے کہا اسکا اشارہ ہر طرف لکھے ہوئے سوری کی طرف تھا
میں نے تجھے پہلے بھی بتایا تھا کہ میں عجیب ہوں۔۔۔۔تو ظاہر سی بات ہے میری ہر چیز بھی عجیب ہی ہوگی۔۔۔۔
التمش نے ٹھنڈے لہجے میں کہا اور دوسری طرف چلاگیا۔۔
بہت جلد جب تیری اور مشال کی دوستی میں کچھ عجیب ہوگا تب میں تجھ سے پوچھوں گا۔۔
وجدان نے زمان صاحب کے ساتھ کھڑے التمش کو دیکھ کر آہستہ سے کہا
تبھی اسکی نظر سائیڈ پر پڑی جہاں نور کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔اسکے فیس ایکسپریشن سے لگ رہا تھا کہ وہ وجدان کی بڑبڑاہٹ سن چکی ہے۔۔
وجدان نے اسے آنکھ ماری تو وہ گھبراتے ہوئے وہاں سے چل دی۔
یار تیری یہ کزن تو بڑی کمال کی ہے۔۔
ہادی کے ایک دوست نے نور کی طرف اشارہ کر کے کہا تو ہادی کی نظر اس پر پڑی سلور میکسی میں بالوں کو کرل کیے وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔مگر پھر بھی ہادی زمان کو اپنی یہ کزن ایک آنکھ نہ بھاتی۔۔۔۔
اپنی حد میں رہ۔۔
ہادی نے اسے ناگواری سے کہا تو وہ گڑبڑاگیا
کوئی تو میری بات سنتا ہی نہیں۔۔۔۔کس کو بتاؤں۔۔۔
نور نے پریشانی سے کہا تبھی اسکی نظر التمش پر پڑی۔۔۔ایک بجلی سی کوندی اسکے ذہن میں۔۔۔
میں بھی کتنی بے وقوف ہوں۔۔۔تامی بھائی کو بتانا چاہیے۔۔۔
نور نے اپنی سر پر ہلکی سی چپت لگائی پھر التمش کی طرف جانے لگی۔
ہے نور۔۔
نیہا نے سامنے سے آکر اسے مخاطب کیا تو وہ اس سے مسکراکر ملنے لگی۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔
نیہا کی تعریف پر اس نے ہلکی سی سمائل دی پھر التمش کو دیکھنے لگی۔وہ جلد سے جلد التمش کو وجدان کے بارے میں بتانا چاہتی تھی۔۔
کیا ہوا نور۔۔۔
نیہا نے اسے التمش کی طرف دیکھتا پاکر پوچھا
کچھ بھی نہیں۔۔
نور نے بوکھلا کر کہا
کچھ ہوا ہے کیا۔۔
نیہا کے پوچھنے پر نور نے انکار کیا
دیکھو نور مجھے اپنی فرینڈ سمجھو۔۔۔۔میں نوٹ کررہی ہوں تمہیں کوئی ٹینشن ہے پر تم بتا نہیں پارہی کسی کو۔۔۔چلو جلدی سے مجھے بتاؤ تا کہ میں تمھاری ہیلپ کروں۔۔۔
نیہا نے فرینک ہوتے ہوئے کہا
نہیں بھابھی ایسی کوئی بات نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہوا۔۔
نور نے اسے منع کیا تو نیہا نے اسے تسلی دی
نور بیلیو می۔۔۔جو پروبلم ہے کہو مجھ سے۔۔۔میں کہہ رہی ہوں نا جتنا ہوسکا اتنا کروں گی۔۔۔چلو بتاؤ۔۔
اسکے اصرار پر نور اسے
