61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

امی۔۔
ولیمے کے دوسرے دن ناشتے کے دوران نور نے ریحانہ بیگم کو پکارا
ہاں بولو بیٹا۔۔۔
انہوں نے نرمی سے بولا
امی۔۔۔وہ آج میں ہادی کے ساتھ آپی سے ملنے چلی جاؤں؟
نور نے ہچکچاتے ہوئے ریحانہ بیگم سے پوچھا پر نظر اسکی عالیہ بیگم کے چہرے پر تھی۔جن کے تاثرات نور کے پوچھنے پر تن گئے تھے۔
کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔کہیں اور چلی جاؤ۔۔باہر گھومنے ہادی کے ساتھ پر وہاں نہیں۔۔۔
ریحانہ بیگم سے پہلے ہی بی جان نے ٹھنڈے لہجے میں نور سے کہا
پر بی جان۔۔۔
نور۔۔۔بحث مت کرو۔۔
اس کے پھر بولنے پر ریحانہ بیگم نے اسے سختی سے ٹوکا تو وہ خاموش ہوگئی
اسکا بجھا چہرہ دیکھ ہادی نے گہرا سانس لیا۔۔
نور بی جان صحیح کہہ رہی ہیں۔۔۔چلو نا آج شام کہیں باہر چلتے ہیں۔۔۔میں آفس سے جلدی آجاؤں گا۔۔۔تم ریڈی رہنا۔۔۔
اس نے رسانیت سے کہا تو نور ایک نظر اسے دیکھ کر خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی۔
مجھے کہیں باہر نہیں جانا۔۔۔
روم میں ہادی اپنا لیپ ٹاپ لینے آیا تو اسے اپنے پیچھے سے نور کی ناراض آواز آئی۔
مشال سے ملنے بھی نہیں جاؤ گی؟
اس نے لیپ ٹاپ اٹھاتے ہوئے پوچھا تو نور حیرت سے اسے دیکھنے لگی
کیا مطلب۔۔۔تم آپی کے پاس لے کر جاؤ گے مجھے۔۔۔
اسنے خوشگوار حیرت سے پوچھا پل میں اسکا مرجھایا چہرہ کِھلا تھا۔
تمہیں لے کر نہیں جاؤں گا۔۔۔کیونکہ تم نے تو ابھی منع کیا ہے نا۔۔۔
ہادی مسکراتے ہوئے بول کر جانے لگا
نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔میں نے کب منع کیا۔۔
نور نے بوکھلا کر اسے روکا
جھوٹی۔۔۔ابھی تو کہا تم نے کہ تمہیں کہیں باہر نہیں جانا۔۔۔
ارے تو وہ اسی لیے منع کیا تھا۔۔۔کہ آپی کے گھر جانا تھا مجھے۔۔۔
نور نے اسے سمجھانا چاہا
چلو مان لیتے ہیں تمہاری بات۔۔۔بٹ ایک شرط پر میں تمہیں لے کر جاؤں گا مشال سے ملوانے۔۔۔
اچانک ہادی نے شرارت سے کہا تو نور کا منہ بنا
کیسی شرط؟
اس نے روکھے لہجے میں پوچھا تو ہادی نے گال پر انگلی رکھی۔۔اسکا اشارہ سمجھ کر نور بوکھلائی
جی نہیں۔۔
اس نے تپ کر ہادی کو گھورا
اوکے۔۔۔پھر میں اکیلے چلے جاؤں گا۔۔
وہ کندھے اچکاکر جانے لگا
کیا ہے۔۔۔
نور روہانسی ہوئی تو ہادی نے رک کر اسے دیکھا
سوچ لو۔۔۔صرف ایک کِس۔۔۔ورنہ۔۔
ہادی نے پھر گال پر انگلی رکھی
آنکھیں بند کرو اپنی۔۔
اسکے جھڑکنے پر ہادی نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے جلدی سے آنکھ بند کریں تو نور گھبراتے ہوئے اسکے قریب آئی پھر ہمت کر کے تھوڑا اونچا ہوئی اور اپنی آنکھ بند کر کے اسکے گال پر اپنے لب رکھنے لگی ہی تھی مگر ہادی نے آنکھ کھول کر اپنا چہرہ تھوڑا پیچھے کیا۔۔۔اس نے نور کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔۔۔چہرے پر گھبراہٹ صاف رقم تھی۔۔۔اسکے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔۔۔وہ نور کی پیشانی پر اپنے لب رکھ کر ہٹا تو نور جھٹکے سے آنکھ کھولتے ہوئے پیچھے ہوئی۔۔۔
اس نے اپنا سرخ چہرہ اٹھا کر ہادی کو دیکھا جو مسکراکر اسے دیکھتا ہوا باہر چلا گیا۔۔۔نور نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا جہاں ابھی بھی اسکا نرم لمس محسوس ہورہا تھا۔۔۔
بے ساختہ اسکے لب مسکرائے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز روشنی کی کرن چہرے پر مسلسل پڑنے سے اسنے اپنی سُوجی ہوئی آنکھیں بمشکل کھولیں۔۔۔۔چند پل وہ یونہی بیڈ پر پڑی چھت کو گھورتی رہی۔۔۔۔دماغ سُن ہورہا تھا۔۔۔کچھ ہمت کر کے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔ابھی وہ کھڑی ہی ہوئی تھی کہ پھر چکراکر گری۔۔۔۔رات کو لگاتار رونے کی وجہ سے اب اسکا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔۔
سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیتے ہوئے وہ اٹھی۔۔۔واشروم میں جاتے ہوئے اسکی نظر ڈریسنگ کے شیشے پر پڑی تو وہ چونک کہ رہ گئی۔۔۔بکھرے بال ملگجہ سا حلیہ اور دائیں گال کے نیچے جاء لائن پر دانت کے نشان۔۔۔کل رات کا منظر کسی فلم کی طرح مشال کے دماغ میں گھوما۔۔۔۔۔بے اختیار اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔کس قدر بے بس ہوگئی تھی وہ۔۔۔کیوں وہ صرف اپنی کرتا۔۔۔۔کیوں اسے تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔۔۔۔آنسو حلق میں اتارتے ہوئے وہ واشروم میں چلی گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح جلدی آفس میں آگیا تھا۔۔۔۔سارا ٹائم کام کرتے ہوئے اسکا دماغ مشال کی طرف لگا ہوا تھا۔۔۔۔کتنا کنٹرول کر کے رکھا تھا اس نے چھ مہینے سے خود کو۔۔۔پر کل مشال کا بار بار اسکے سامنے آنا التمش کے حواس معطل کرگیا تھا۔۔۔۔۔اسے ہوش ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کررہا تھا۔۔۔۔ذہن میں اس وقت صرف ایک ہی بات تھی کہ سامنے کھڑی لڑکی اسکی محبت تھی۔۔۔۔۔پر محبت کیا ایسی ہوتی ہے۔۔۔۔اگر وہ اس سے محبت کرتا تھا تو پھر کیوں اسے تکلیف دیتا تھا۔۔۔۔پر مشال نے کونسا اسکے ساتھ اچھا کیا تھا۔۔۔۔اسے غصہ آیا اپنی کل کی حرکت پر۔۔۔۔مشال کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوما تو اندر کہیں شرمندگی سی محسوس ہوئی تھی اسے۔۔۔۔۔پھر جیسے ہی اسکا کیا گیا یاد آیا تو التمش کے جبڑے بھنچے۔۔۔۔کوشش کے باوجود وہ اپنی بے عزتی نہیں بھلا پارہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو آفس سے نکلنے سے پہلے ہادی نے اسے اپنے اور نور کے آنے کا بتادیا تھا۔۔۔۔۔انکے آنے سے پہلے وہ فلیٹ میں پہنچ کر تھوڑا آرام کرنا چاہتا تھا۔۔۔
پانی دو۔۔۔
اسکے روم میں انٹر ہوتے ہی مشال کتراکر باہر نکلنے لگی تو التمش نے اس سے کہا
کچھ دیر بعد وہ بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹا تھا کہ مشال پانی لے کر آئی۔۔۔التمش اٹھ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔۔جو بلکل سرخ ہورہا تھا۔۔۔وہ نوٹ کررہا تھا جب سے مشال اس سے نظریں نہیں ملارہی تھی۔۔۔اس نے گلاس لینے کے بہانے اسکا ہاتھ پکڑا پر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔مشال کا ہاتھ بلکل دہکتے انگارے کی طرح گرم ہورہا تھا۔۔۔۔التمش نے گلاس لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔وہ مڑ ہی رہی تھی کہ اس نے مشال کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے برابر میں بٹھایا۔۔۔اسکی حرکت پر مشال کی پھر جان نکلی۔۔۔۔کل کے بعد سے اسے اور وحشت ہونے لگی تھی التمش سے۔۔۔۔التمش مسلسل اسے دیکھ رہا تھا جو سر جھکائے بیڈ پر پتا نہیں کیا گھوررہی تھی۔۔۔اس نے مشال کی تھوڑی کو نرمی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے سانس روکے بیٹھی تھی۔۔۔
ادھر دیکھو۔۔۔
التمش کی آواز پر مشال نے بمشکل لمبی پلکوں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔اسکی حد سے زیادہ سرخ نشیلی آنکھیں دیکھ کر التمش کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔آج اتنے مہینوں بعد اسے احساس ہوا تھا کہ اسکے سینے میں دل ہے۔۔۔۔مشال خوف سے خود سے بلکل نزدیک اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔بے ساختہ اس پر جھکتے ہوئے التمش نے اسکی دونوں سُوجی ہوئی آنکھیں چُوم لیں۔۔۔اسے لگا ساری تھکن ایک ہی دفعہ میں اتر گئی اسکی۔۔۔۔جبکہ مشال نے بمشکل اپنی سسکی روکی۔۔۔۔
بخار ہے تمہیں۔۔۔
التمش نے اسکے دہکتے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہا تو مشال آنکھیں بند کیے نفی میں سر ہلانے لگی۔
پوچھ نہیں رہا۔۔۔بتا رہا ہوں۔۔۔
اسکی مسکراتی آواز پر مشال نے بے یقینی سے آنکھیں کھولیں مگر التمش کے چہرے پر سرد تاثرات اسکی خوش فہمی پل میں ہوا کر گئے۔۔۔وہ واپس چہرہ جھکا گئی تو التمش اٹھا۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں ٹیبلیٹ لیے آیا۔۔۔اور اسکے سامنے بیٹھ کر ٹیبلیٹ اسکے ہاتھ میں رکھی۔
کھاؤ۔۔۔
اس کے حکمیہ لہجے پر مشال خاموشی سے ٹیبلیٹ کو دیکھے گئی۔۔۔التمش کے دو بار بولنے پر بھی جب وہ یونہی خاموش رہی تو التمش نے زبردستی اسکا منہ کھول کر ٹیبلیٹ مشال کے منہ میں ڈالی اس سے پہلے وہ واپس نکالتی۔۔۔۔التمش نے پانی کا گلاس اسکے منہ پر لگا کر مشال کی ستواں ناک اپنی دو انگلیوں سے بند کر دی۔۔۔۔مجبوراً اس کے ٹیبلیٹ گھونٹنے پر التمش نے گلاس اسکے منہ سے ہٹایا تو مشال زوروں سے کھانسنے لگی۔۔۔۔
کھانستے ہوئے اسکی حالت بری ہوگئی تو التمش اسے خود سے لگائے مشال کی پشت سہلانے لگا۔۔۔وہ گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کرنے لگی۔۔۔مگر حواس بحال ہونے پر جب خود کو التمش کے اتنا قریب پایا۔۔۔۔تو بوکھلا کر اس سے دور ہوئی۔۔۔۔وہ حیرت سے التمش کو دیکھنے لگی جس کے تاثرات بلکل سنجیدہ تھے۔۔۔۔اگلے ہی پل وہ روم سے بھاگی تھی۔۔۔۔اسکی اس حرکت پر التمش کے لبوں پر ایک نامعلوم سی مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو ہادی اور نور کے آنے سے پہلے اس نے مشال کو کھانا بنانے سے منع کردیا تھا۔۔۔۔اسکی طبیعت کا سوچ کر التمش نے کھانا باہر سے ہی آرڈر کرلیا تھا۔۔۔۔مشال شکر کر رہی تھی شام سے التمش کے نارمل لہجے پر۔۔۔۔ورنہ اسکا اکھڑ پن مشال کو تکلیف میں مبتلا کردیتا تھا۔۔۔دوسری طرف التمش بھی اب خود کو نارمل رکھنا چاہ رہا تھا مشال کے ساتھ۔۔۔۔جو بھی تھا کہیں نہ کہیں اسے احساس ہورہا تھا مشال کی خاموشی پر۔۔۔کتنے مہینوں سے تو وہ اسکی بے رخی برداشت کررہی تھی۔۔۔۔
یہ کیا ہوا آپی؟
ہادی اور التمش لاونج میں بیٹھے بات کررہے تھے۔۔۔۔جبکہ نور اسکے ساتھ بیڈ روم میں تھی۔۔۔۔بات کرتے ہوئے اچانک نور نے اسکی جاء لائن کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔۔۔۔مشال نے میک اپ سے جتنا ہوسکا چھپانے کی کوشش کی تھی مگر نور کے بولنے پر وہ بوکھلاگئی۔۔۔
ک۔۔کچھ نہیں۔۔۔
وہ خود کو نارمل رکھتے ہوئے جلدی سے کہنے لگی جبکہ نور اسکے گال کے نیچے بنے نشان کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔وہ انجان نہ تھی جو اسکا مطلب نہ سمجھتی۔
تامی بھائی آپکے ساتھ کیسے ہیں؟
اسکے پوچھنے پر مشال کی آنکھیں پل میں نم ہوئیں مگر زبردستی مسکراکر اس نے کہا
بہت۔۔۔بہت اچھے۔۔۔
کوشش کے باوجود اسکا لہجہ ڈگمگا گیا تو نور افسوس سے اسے دیکھنے لگی۔
آپ انہیں بتائیں نا آپی کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی تھی۔۔۔کیوں انکے مظالم سہتی ہیں۔۔۔
نور نے اسکا ضبط سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر کہا
نہیں۔۔۔نور کہا تو ہے ہم نے تمہیں کہ خوش ہیں ہم التمش کے ساتھ۔۔۔ہاں بس کبھی کبھی تم لوگوں کی بہت یاد آتی ہے۔۔۔آغاجان،بی جان۔۔۔۔۔کتنے خوش رہتے تھے نا ہم لوگ۔۔۔
وہ اسے بولتے بولتے اچانک کھوئے ہوئے لہجے میں کہنے لگی آنسو کب نکلنے شروع ہوئے اسے محسوس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ نور کو ترس سا آیا اپنی بہن پر۔۔۔۔اسکا خون کھولا تھا التمش پر۔۔۔
لیڈیز کھانا لگادیں۔۔۔بھوک۔۔۔۔
ہادی جو التمش کے ساتھ روم میں انٹر ہوتے ہوئے مسکراتے ہوئے بول رہا تھا مشال کے چہرے پر آنسو دیکھ کر اچانک رکا اس نے نور کو دیکھا جو غصے میں التمش کو گھوررہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا مشال۔۔۔طبیعت زیادہ خراب ہے کیا۔۔۔
التمش نے تشویش سے پوچھا مگر نور کے سامنے کھڑے ہونے پر اس نے حیرت سے نور کو دیکھا
کچھ پل کمرے میں خاموشی رہی تبھی نور نے کہنا شروع کیا
بچپن ساتھ گزارا ہے ہم نے تامی بھائی۔۔۔۔اسی لیے ہم سب چھوٹے ہونے کے باعث سب سے زیادہ بھروسہ آپ پر کرتے تھے۔۔۔۔
نور۔۔۔
آپی بولنے دیں مجھے۔۔۔
مشال نے گھبرا کر نور کو چپ کرانا چاہا پر نور نے اسے ٹوک دیا جبکہ التمش نے ایک نظر پہلے مشال کو دیکھا پھر نور کو
مشال آپی جب کسی بات پر اداس ہوتی تھیں تو آپ انہیں خوش کرنے لیے کچھ بھی کرتے تھے۔۔۔۔اس وقت مجھے لگتا تھا کہ مشال آپی کے پاس جب تک آپ ہیں انہیں کبھی کوئی دکھ نہیں پہنچا سکتا مگر آج مجھے اپنی ہی بات غلط لگتی ہے۔۔۔۔اب تو سب الٹا ہی ہے۔۔۔پہلے آپ مشال آپی کی ہر خوشی کی وجہ تھے اب آپ انکی ہر تکلیف کی وجہ ہو۔۔۔۔۔شرم آنی چاہیے آپکو تامی بھائی۔۔۔۔ایک دفعہ آپی سے سُن تو لیں۔۔۔۔کہ انہوں نے اس دن ایسا کیوں کہا تھا۔۔۔۔بنا سوچے سمجھے آپ انکو ٹورچر کرتے ہیں۔۔۔
نور کی آواز جیسے جیسے بلند ہورہی تھی التمش کی پیشانی پر اتنے ہی بل پڑ رہے تھے
نور چپ ہو جاؤ۔۔۔
ہادی کو اسکا لہجہ ناگوار گزرا تبھی اس نے نور کو ٹوکا
تمہیں پتا ہے کہ میں اسے ٹورچر کرتا ہوں کہ نہیں۔۔۔
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا تو نور استہزاء ہنسی
میری بہن کا چہرہ بتاتا ہے کہ آپ انہیں کتنا ٹورچر کرتے ہیں۔۔۔یہ کوئی پھینکی ہوئی شہ نہیں ہیں جن کو آپ جیسا چاہیں رکھیں۔۔۔۔بیوی ہیں آپکی۔۔۔تو لحاظہ طریقے سے رہا کریں انکے ساتھ۔۔۔۔آپ کا آپی کے ساتھ سلوک دیکھ کر کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ آپ ایک ویل ایجوکیٹڈ انسان ہیں۔۔۔مجھے تو اب آپ میں اور ان گِرے ہوئے شوہروں میں کوئی فرق نہیں لگتا جو اپنی بیویوں کو کسی زرخیز غلام کا درجہ دیتے ہیں۔۔۔
نور بس کرو یار۔۔۔
اب کی بار ہادی نے سختی سے کہا تو وہ چپ ہوگئی پر نظریں اسکی ابھی بھی التمش پر تھیں جو سختی سے لب بھینچے لہو رنگ آنکھوں سے مشال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہم کھانا لگاتے ہیں۔۔۔
مشال نے اپنے آنسو پوچھتے ہوئے ماحول کو ٹھیک کرنے کے لیے کہا پھر روم سے نکلنے لگی۔
نہیں مشال۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔ہم پھر کبھی آئیں گے۔۔۔۔
اچھا خاصا ماحول خراب ہونے کی وجہ سے ہادی نے نور کو تاسف سے دیکھتے ہوئے کہا
ہوسکے تو اب نہ ہی آنا۔۔۔
التمش نے بھاری لہجے میں کہا تو ہادی کو سبکی ہوئی
چلو۔۔۔
اسکے بولنے پر نور اسکے پیچھے ہولی۔۔۔
پر جاتے جاتے وہ یہ کہنا نہ بھولی
شرم آتی ہے آپ کو اپنا بھائی کہتے ہوئے۔۔۔
اسکے لفظوں پر التمش کے جسم میں جیسے جھکڑ سے جلنے لگے۔۔۔۔وہ خود پر ضبط کیے تیز قدم اٹھاتا ہوا روم سے نکلا جبکہ مشال وہیں صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔۔یہ نور کیا کہہ گئی تھی۔۔۔۔اب جاکر تو التمش کا رویہ صحیح ہونے لگا تھا۔۔۔۔وہ اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اپنی تمیز بھول گئی ہو کیا؟
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ہادی نے بھنچی ہوئی آئبرو لیے نور سے پوچھا
جو میری بہن کو تکلیف دے گا۔۔۔۔میں اس سے اسی طرح بات کروں گی۔۔۔
اس نے روڈ پر نظریں جمائے کہا
تمہیں مشال نے کچھ کہا تھا بھائی کے بارے میں۔۔۔
ہادی کے پوچھنے پر نور نے ہادی کو دیکھا
آپی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔پر انکے بجھے چہرے کو دیکھ کر صاف پتا چلتا ہے کہ تامی بھائی کا آپی کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
میں نے پوچھا تمہیں مشال نے کچھ کہا تھا بھائی کے بارے میں۔۔۔
اب کے ہادی نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے پوچھا تو نور خاموش ہوگئی۔۔۔۔ہادی کو پچھتاوا ہوا اسے ساتھ لانے پر۔۔۔کیونکہ آج اتنے دنوں بعد اس نے التمش کا موڈ خوشگوار دیکھا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کافی دیر سے بالکونی میں کھڑا سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔۔۔کتنی مشکل سے وہ اپنا دل مشال کی طرف سے صاف کر کے اسکی طرف پیش قدمی کرنے کا سوچ رہا تھا۔۔۔۔پر آج جو نور نے اسے کہا اسکے بعد اسے شدید نفرت محسوس ہوئی مشال سے۔۔۔۔مطلب وہ لڑکی خود کو مظلوم ظاہر کر کے ہر کسی کی نظر میں اسے گرانا چاہ رہی تھی۔۔۔۔آج نور نے اسے سنایا کل کو اگر وہ اسے حیدر ولا کے کر گیا تو وہاں اپنا یہ ناٹک رچائے گی۔۔۔۔نور کو وہ ہانیہ کی طرح مانتا تھا پر آج اس نے جس لہجے میں اس سے بدتمیزی کی تھی۔۔۔۔اسکا بس نہیں چلا کہ مشال کا منہ توڑ کر رکھ دے۔۔۔۔۔ابھی وہ انہیں سوچوں میں تھا کہ مشال ہمت کر کے اسکے پاس گئی۔۔۔
التمش۔۔۔کھانا کھالیں۔۔۔
اس کی چوڑی پشت کو دیکھ کر مشال نے گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا
اسکے بولنے پر التمش کا ہاتھ رکا تھا پھر اچانک گردن گھوما کر اس نے مشال کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔اسکی انگارہ برساتی آنکھوں کو دیکھ مشال ڈر کے دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔
ہم کھانا لگا رہے ہیں آپ آجائیں۔۔۔
وہ جلدی سے بول کر نکلنے لگی تبھی التمش نے اسے بازو سے دبوچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔مشال کی وحشت بڑھی تھی اسے پھر اسی روپ میں دیکھ کر۔۔۔۔
کیا ہوا سوئیٹی۔۔۔۔ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔۔ابھی تو میں نے تمہیں کوئی “ٹورچر” نہیں کیا۔۔
التمش نے لفظ ٹورچر پر زور دیتے ہوئے کہا تو مشال کے آنسو گال پر پھسلے۔۔۔۔اچھا خاصا اسکا رویہ ٹھیک ہورہا تھا پر اب۔۔۔۔
اسکے سرخ گال پر پھسلتے آنسو التمش نے اپنے انگوٹھے سے تقریباً رگڑدیے۔۔۔مشال کے منہ سے سسکی نکلی تھی۔
یہیں۔۔۔دکھا کر تم نے نور سے ہمدردیاں بٹوری ہونگی۔۔۔۔
اسکے سرد لہجے پر مشال کی ریڑھ کی ہڈی سنسنائی۔۔۔۔۔۔وہ آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔اگلے ہی پل التمش نے انگلی میں دبائی جلتی سگریٹ اسکے کان کی لُو پر مسلی تو مشال نے اذیت سے آنکھیں میچے اپنی چیخ بمشکل روکی۔۔۔۔۔
وہ مچل کر اس سے دور ہونے لگی تبھی التمش نے زوردار تھپڑ اسکے گال پر مارا۔۔۔۔وہ لڑکھڑا کر نیچے گری تھی۔۔۔۔اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا۔۔۔پہلے ہی بخار اور اس پر التمش کے بھاری ہاتھ کا تھپڑ سچ میں اسکے چودہ طبق روشن کرگیا۔۔۔۔اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی التمش اسکا بازو پکڑ کر اسے کمرے میں لے کر آیا اور جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔۔۔تو مشال گِر کر پیچھے کھسکنے لگی۔۔۔۔ہونٹ کا کنارا پھٹ چکا تھا۔۔۔۔جس پر سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
سچ سچ بتاؤ۔۔۔۔کیا ڈرامہ کیا تھا تم نے نور کے سامنے۔۔۔کیا کہا تھا تم نے اس سے۔۔۔
وہ اسکی طرف بڑھتے ہوئے پوچھ رہا تھا جبکہ مشال اسکے قدم دیکھتے ہوئے لرزتی ہوئی پیچھے سرکنے لگی۔۔۔
جب التمش نے جھک کر اسکے بال جکڑے تب وہ خود پر قابو نہ رکھ پائی۔۔۔بے ساختہ اسکے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔۔۔
کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے؟
وہ غراتے ہوئے پوچھنے لگا
ال۔۔۔التمش۔۔۔قسم سے۔۔۔ہم۔۔۔ہم۔نے کچ۔۔۔۔کچھ۔۔۔۔نہیں کہا۔۔۔ہم نے۔۔۔تو۔۔۔
وہ کپکپاتے ہوئے بتانے لگی
بکواس بند کرو۔۔۔تم نے کچھ نہیں کہا اور وہ یونہی مجھے یہ سب بول کر چلی گئی۔۔۔
اسکی دھاڑ پر مشال سہم کر ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔وہ بے بسی سے سوچنے لگی۔۔۔۔کیسے اسے یقین دلائے کہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔تبھی التمش کا دوسرا تھپڑ اسکا دماغ سُن کرگیا۔۔۔انکھوں کے سامنے دھندلا پن چھایا تھا۔۔۔۔مشال نے بمشکل آنکھیں بند کرکے کھولیں مگر کچھ صاف نہیں دِکھا۔۔۔
التمش اسکے نڈھال وجود کو بازو سے اٹھا کر صوفے پر پھینکتا ہوا باہر چلا گیا۔۔۔۔مشال نے بند ہوتی آنکھوں سے اس ستمگر کی پشت کو دیکھا تھا۔۔۔۔جس کا پل پل بدلتا رویہ اسے اندر سے ختم کررہا تھا۔۔۔