61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

Episode #19
ہادی جو رات کو دیر سے گھر آیا تھا اب کوریڈور سے گزرتے ہوئے اپنے روم میں جاہی رہا تھا کہ نور کے روم سے کچھ گرنے کی آواز آنے پر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
اس ٹائم یہ کیسی آواز آرہی ہے اسکے روم سے۔۔۔
وہ حیرت سے سوچنے لگا پھر نور کے روم کے باہر کھڑا ہوکر آہستگی سے نوک کرنے لگا مگر کوئی رسپانس نہ ملنے پر اس نے تھوڑا زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔۔
نور۔۔۔
اس نے آواز دی پھر بھی خاموشی رہی۔
اب کے ہادی کو تشویش ہوئی اس نے کچھ سوچتے ہوئے ناب گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔اندر کا منظر دیکھ کر اسے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔نور نیچے ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی ہوئی تھی۔۔۔ہادی تیزی سے اسکی طرف گیا۔۔۔
نور۔۔۔نور۔۔اٹھو۔۔
وہ نور کا گال تھپتھپاتے ہوئے اسے پکارنے لگا۔۔۔اسکا سرخ و سفید چہرہ بلکل زرد پڑگیا تھا۔۔۔
ہادی نے پریشانی سے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔۔سامنے سلیپنگ پلز کی خالی شیشی دیکھ وہ پھر بے یقینی سے نور کو دیکھنے لگا۔
کہیں نور نے۔۔۔۔پر کیوں۔۔
کسی خطرناک خدشے کے پیشِ نظر ہادی نے نور کی ناک کے آگے انگلی سے چیک کیا۔۔۔دھیمی۔۔۔بلکل دھیمی سانس چل رہی تھی۔۔۔
بس پھر۔۔۔ہادی نے بنا کچھ وقت ضائع کیے نور کو گود میں بھرا اور روم سے باہر نکل گیا۔۔۔
ریحانہ بیگم اور بی جان جو ہادی کے دروازہ زور سے پیٹنے پر اپنے کمرے سے نکلیں تھیں۔۔۔ہادی کو یوں نور کو گود میں لیے تیزی سے باہر کی طرف لے جاتے دیکھ حیرت سے اسکی طرف لپکیں۔۔۔
کیا ہوا ہے ہادی نور کو۔۔۔اور یہ ایسے کہاں لے جارہے ہو تم اسے۔۔۔
بی جان نے تشویش سے پوچھا جبکہ ریحانہ بیگم نور کے زرد رنگ چہرے کو دیکھ کر پریشانی سے آگے بڑھیں
نور۔۔۔میرا بچہ۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔
انہوں نے اسکے زرد چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روہانسی آواز میں ہادی سے پوچھا
بی جان۔۔نور بے حوش ہوگئی ہے۔۔۔اسے ہوسپٹل لے کر جارہا ہوں۔۔۔ابھی ٹائم نہیں ہے تفصیل بتانے کا۔۔۔
بول کر ہادی باہر کی طرف جانے لگا تو ریحانہ بیگم رونے لگیں۔۔۔
رکو بیٹا ہم بھی چلتے ہیں۔۔۔
بی جان نے جلدی سے کہا تو ریحانہ بیگم نے بھی ان سے اتفاق کیا اور ہادی کے ساتھ چل دیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے اسے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا۔آغاجان اور عالیہ بیگم کو ہادی نے ہوسپٹل پہنچ کر کال کر دی تھی۔۔۔جس کی وجہ سے وہ لوگ بھی ابھی یہیں پر موجود تھے۔عالیہ بیگم التمش کو بتانا چاہتی تھیں مگر آغاجان نے انہیں ابھی منع کردیا تھا۔
بھابھی میری بچی کو کیا ہوگیا ہے۔۔۔شام تک تو بلکل ٹھیک تھی۔۔
ریحانہ بیگم روتے ہوئے بار بار عالیہ بیگم سے ایک ہی سوال پوچھ رہیں تھیں۔۔۔عالیہ بیگم انہیں تو تسلیاں دے دہی تھیں مگر خود بھی وہ پریشان تھیں۔۔۔وہ بھلے ان کی بھتیجی تھی مگر انہیں تو بیٹیوں جیسی عزیز تھی۔۔
ہانیہ کونے میں کھڑی رورہی تھی تو ہادی اسکے پاس جاکر اسے گلے لگاگیا۔۔۔تبھی تھیٹر روم کھلا۔۔۔ہادی فوراً ڈاکٹر کے پاس لپکا اور ڈاکٹر کے بتانے پر وہ حق دق سا رہ گیا کہ نور نے سوسائیڈ اٹیمپ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔ابھی تو اسکا معدہ واش کردیا گیا تھا جسکی وجہ سے اب وہ خطرے سے باہر تھی پر ڈسچارج صبح کرنے کا کہا گیا تھا۔۔۔
آغاجان کے پوچھنے پر اس نے کچھ سوچ کر ان لوگوں کو یہ بول کر تسلی دے دی کہ نور کو فوڈ پوائزن ہوا تھا مگر اب وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔یہ سن کر ریحانہ بیگم سمیت سبھی کی جان میں جان آئی۔۔۔رات کو وہاں رکنے کے لیے ہادی نے ہامی بھری وہ سب کو تسلی دے کر گھر بھیجنا چاہتا تھا مگر ریحانہ بیگم نے صاف منع کردیا وہ بضد تھیں۔۔ہوسپٹل میں رکنے کے لیے تبھی مجبوراً ہادی اور انہیں چھوڑ کر باقی سب گھر چلے گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر وہ سویا نہیں تھا اور ابھی صبح وہ خاموشی سے مشال کے برابر میں ایک کوہنی کے بل لیٹے اسے تک رہا تھا۔۔۔وہ اسکی گہری نظروں سے بے خبر نیند کی وادیوں میں تھی۔۔۔۔مسلسل بنا پلک جھپکائے دیکھتے رہنے سے اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔۔۔۔مگر اس نے پلک نہیں جھپکائیں بس یونہی اسے تکتا رہا۔۔۔۔۔کتنی اہمیت تھی اسکی زندگی میں اس لڑکی کی۔۔۔بچپن سے لے کر اب تک وہ اسکی فرسٹ پرییورٹی رہی تھی۔۔۔دوستی سے لے کر محبت تک کا سفر اس نے کب طے کیا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔شاید وہ اس سے بچپن سے ہی محبت کرتا تھا۔۔۔پر پاس رہنے پر اسے اتنا احساس نہیں ہوتا تھا اسکا۔۔۔لیکن جب مشال کی منگنی ہوئی۔۔۔ہاں اسی دن۔۔۔اس ہی دن تو التمش زمان کو یہ احساس ہوا تھا کہ وہ مشال کا دوسروں کے بارے میں سوچنا تک برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔وہ صرف اسکی تھی۔۔۔۔صرف اسکی۔۔۔
التمش کی گہری نظریں مسلسل اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔۔۔اس نے یونہی آہستگی سے ہاتھ اٹھا کر چھوٹی انگلی سے مشال کی ساکت گھنیری پلکوں کو چھوا۔۔۔پھر تھوڑا سا نیچے ہاتھ کر کہ اسکے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلایا۔۔۔اسے مشال کے سرخ و سفید گال شروع سے بہت پسند تھے۔۔۔تبھی وہ اکثرو بیشتر اسکے گال کھینچتا جس پر مشال چڑ جاتی۔۔۔۔یہ سوچتے سوچتے اسکی نظر مشال کے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر پڑی تو اسے آج اپنی پسند تھوڑی غلط لگی۔۔۔مشال کے بھرے بھرے لبوں کا جوڑ اسکے گال سے بھی زیادہ حسین تھا۔۔۔وہ مشال کے نچلے ہونٹ کو اپنی انگلی سے سہلاتے ہوئے انکی نرمی محسوس کرنے لگا۔۔۔نگاہ تھوڑی اور بھٹکی تو سیدھا اسکی گردن سے تھوڑا نیچے ابھری ہوئی بیوٹی بون پر ٹکی۔۔۔اب کے وہ اپنا ہاتھ نرمی سے ان پر پھیر رہا تھا۔۔۔
وہ کتنی حسین اور نازک تھی بلکل کسی موم کی گڑیا کی طرح مگر کون جانے اندر سے یہ معصوم لڑکی کس قدر سنگ دل نکلی تھی۔۔۔صرف ایک غلط فہمی میں اس نے بچپن سے لے کر اب تک کی ساری دوستی ختم کر کے رکھ دی تھی۔۔۔بنا کچھ سوچے سمجھے التمش کو بھری محفل میں ذلیل کردیا تھا اس نے۔۔۔یہ سوچ آتے ہی التمش جھٹکے سے اسکے پاس سے اٹھا۔۔۔
کچھ دیر والی تپش بھری نظریں بدل چکی تھیں۔۔۔اب وہ ناگواری سے مشال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اسکی زندگی عذاب کرکے کیسے وہ سکون سے سوسکتی تھی۔۔۔۔۔التمش نے ہاتھ بڑھا کر اسے جھنجھوڑ دیا۔۔۔وہ ہڑبڑاتے ہوئے اٹھی۔۔۔پھر خمار زدہ آنکھوں سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔مگر اسے اتنے قریب بیٹھے دیکھ مشال بوکھلاتے ہوئے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔نظر اٹھا کر ٹائم دیکھا تو سات بج رہے تھے۔۔۔اسنے پھر التمش کو دیکھا۔۔۔کچھ بحث بےکار ہی تھی اسی لیے خاموشی سے واشروم میں چلی گئی۔۔۔تبھی التمش کا فون رنگ کرنے لگا۔۔۔
عالیہ بیگم نے اسے نور کی طبیعت کا بتایا جسے سن کر وہ تھوڑا پریشان ہوا پر انہوں نے اسے تسلی دی کہ خطرے کی کوئی بات نہیں جس پر وہ مطمئن ہوا اور انہیں ابھی آنے کا بتاکر کال رکھ دی۔۔۔
کچھ دیر بعد مشال نہا کر نکلی تو التمش اسے اگنور کرتا ہوا فریش ہونے چلا گیا۔۔۔وہ بال سلجھا کر کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ التمش کا فون پھر رنگ ہوا۔۔۔ہادی کی کال تھی۔۔۔
ہیلو۔۔
اس نے ریسیو کرتے ہوئے کہا
ہاں۔۔۔مشال بھائی کو بول دینا کہ نور کو ڈسچارج کروا کر ہم لوگ گھر لے جارہے ہیں تو بھائی گھر پر ہی آجائیں۔۔۔اوکے۔۔
ہادی کی بات پر مشال کو حیرت کا جھٹکا لگا
کیا مطلب ہادی نور کو ڈسچارج۔۔۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔۔۔
اس نے گھبراکر جلدی سے پوچھا تو ہادی نے اسے بھی نور کی بے ہوشی کا بتایا جس پر مشال کی آنکھیں بے ساختہ بھر آئیں۔۔۔مگر ہادی نے اسے فوراً تسلی دی۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے فون رکھ کر پریشانی سے روم میں چکر لگانے لگی۔۔۔آنسو تھم ہی نہیں رہے تھے اسکے۔۔۔نور کے بارے میں سن کر وہ بہت بری طرح گھبرائی تھی۔۔۔کاش ابھی وہ اسکے پاس ہوتی۔۔۔
تبھی التمش واشروم سے باہر نکلا مشال جو لپک کر اسکے پاس پہنچی تھی۔۔۔اسے بنا شرٹ کے دیکھ کر گھبراکر نظریں جھکاگئی۔۔۔جبکہ التمش اسکا گریز سمجھ کر سر جھٹکتا ہوا وارڈروب سے شرٹ نکال کر پہننے لگا۔
آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں۔۔۔
اسکی بھرائی ہوئی آواز پر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا جس آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہورہی تھیں۔۔۔
کس بارے میں۔۔
واشروم سے نکلتے ہوئے وہ مشال کے ہاتھ میں اپنا فون دیکھ کر سمجھ چکا تھا کہ پھر گھر سے کسی کی کال آئی ہوگی مگر پھر بھی جانتے بوجھتے وہ انجان بنا۔
نور کے بارے میں۔۔۔آپ کو پتا ہے کل رات۔۔۔۔اسے فوڈ پوائزن ہوگیا تھا۔۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے اسے ہوش آیا ہے اور ہادی لوگ اسے گھر لے کر جارہے ہیں۔۔۔۔اور ہمیں کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔
ایسا کریں آپ جلدی سے تیار ہو جائیں پھر ہمیں لے کر چلیں نور کے پاس۔۔۔
مشال نے سب کچھ بتا کر آخر میں آنسو پونچھتے ہوئے جلدی سے کہا
تمہیں کس نے کہا کہ میں تمہیں لے کر جارہا ہوں۔۔
التمش نے بالوں پر برش کرتے ہوئے پوچھا اسکی بات پر مشال ٹھٹھکی۔
کیا مطلب۔۔آپ ہمیں لے کر۔۔۔ہم بھی جائیں گے۔۔
مشال نے بوکھلا کر کہا یہ وہ کیا کہہ رہا تھا آخر نور اسکی بہن تھی۔۔۔
تم نہیں جاؤ گی۔۔۔۔نور اب بلکل ٹھیک ہے۔۔۔امی نے بتایا ہے مجھے۔۔۔تو زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔گھر پر رہو۔۔
وہ اپنی آستین فولڈ کرتے ہوئے بے نیازی سے بولتے ہوئے روم سے نکلنے لگا
وہ ابھی ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ کل وہ ہوسپٹل میں ایڈمٹ تھی۔۔۔۔۔ہمیں اس سے ملنا ہے ابھی۔۔۔۔بہن ہے وہ ہماری۔۔۔آخر کیوں کررہے ہیں آپ ہمارے ساتھ ایسا۔۔۔
چیختے چیختے مشال کا گلا رندھ گیا۔آنسو متواتر سرخ عارضوں پر پھسل رہے تھے۔
اپنی آواز نیچے رکھو۔۔۔بہرہ نہیں ہوں میں۔۔۔
التمش کو اسکا اونچا بولنا تپا رہا تھا
بہرے نہیں ہیں۔۔۔پھر بھی ہماری باتوں کو نظر انداز کررہے ہیں آپ۔۔۔
مشال نے اسکے سامنے آکر روتے ہوئے کہا
نظر انداز نہیں کررہا سوئیٹی۔۔۔بس اب میری نظر میں تمہاری باتوں کی ویلیو نہیں رہی۔۔۔
التمش سرد لہجے میں کہتا نکلنے لگا تبھی مشال نے غصے میں اسکے مضبوط کندھے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر التمش کو جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔۔۔
آخر چاہتے کیا ہیں آپ ہم سے۔۔۔دودن سے آپکی بے رخی برداشت کررہے ہیں ہم۔۔۔معافی مانگ تو رہے ہیں نا۔۔۔پھر کیوں اتنا اگنور کررہے ہیں ہمیں۔۔۔ہم سے یہ رشتہ بناکر بھی آپکے دل کو ٹھنڈک نہیں پڑی جو اب اسطرح اگنور کر کے ہمیں تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔
اسکے لہجے میں سرکشی دیکھ التمش کا دماغ ہی گھوم گیا۔۔۔اس نے پھر مشال کو تھپڑ مارا۔۔۔اور اسکے سنبھلنے سے قبل ہی غصے میں مشال کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر دیوار سے لگا گیا۔۔
ایک تھپڑ ہی سے مشال کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔غصہ سارا اڑن چھو ہوگیا۔۔۔وہ خوف سے آنکھیں پھیلائے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جسکی لہو رنگ آنکھیں اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔۔۔۔
تکلیف۔۔۔تکلیف کیا ہوتی ہے یہ تمہیں پتا ہے مشال۔۔۔۔تمہاری ایک غلط فہمی نے مجھے معاشرے میں بدنام کر کے رکھ دیا۔۔۔اور بابا۔۔بابا کس حال کو پہنچ گئے۔۔۔اس سب کے بعد بھی تم کہتی ہو کہ معافی مانگ تو رہی ہوں۔۔۔تم نے جو کیا ہے۔۔۔اسکی معافی ہوتی ہی نہیں ہے مشال۔۔۔اسکی تو سزا ہوتی ہے وہ بھی عبرتناک۔۔۔
التمش نے پھنکارتے ہوئے کہا۔۔۔اسکی باتوں سے مشال شرمندگی سے خود کو زمین میں گڑتا محسوس کررہی تھی۔۔۔اسکی ہچکیاں کمرے میں گونجنے لگی۔
آپ بھلے ہمیں عبرتناک سزا دیں۔۔۔بھلے ہمیں معاف نہ کریں۔۔پر ابھی پلیز۔۔۔ہمیں نور سے ملوانے لے چلیں۔۔۔آآ۔۔آپ جو بولیں گے ہم وہ کریں گے پر۔۔۔ابھی پلیز ہمیں بھی لے چلیں۔۔
اس نے روتے ہوئے التمش سے التجاء کی جس پر التمش کے چہرے پر استہزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
جو کہونگا وہ کروگی۔۔۔
اسکے لبوں پر نظریں جمائے التمش نے معنیٰ خیزی سے پوچھا
اسکا اچانک بدلا لہجہ مشال کا خون سُکھا گیا۔۔وہ اسکی گہری نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے جلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔مگر التمش اسکے بوکھلانے کو اگنور کرتا ہوا آہستگی سے اسکے کٹاؤ دار لبوں پر جھکنے لگا۔۔۔۔مشال نے اسکے ارادے کو بھانپتے ہوئے اپنا منہ پھیر لیا۔۔۔وہ اسے دور کرنا چاہتی تھی۔۔مگر التمش کے مضبوط ہاتھوں میں مقید اپنے نازک ہاتھوں کو دیکھ وہ بے بسی سے رودی۔۔۔تبھی مشال کو اپنی گردن پر اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔
وہ تڑپ کر اپنے ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔۔مگر التمش نے اور مضبوطی سے انہیں تھام لیا۔۔۔اور مشال کی صراحی دار گردن پر جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔
اس نے اچانک مشال کا ایک ہاتھ چھوڑا اور اسکی تھوڑی تھام کر اسکا آنسوؤں سے بھیگا سرخ چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔مشال حد درجہ خوفزدہ ہوگئی تھی اسکی خمارزدہ آنکھوں سے۔۔۔
اسکے کچھ بھی کرنے سے پہلے ہی وہ مشال کے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر جُھک گیا۔۔۔
مشال کے پورے وجود میں جیسے ایک برقی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔دھڑکنیں سست روی سے چلنے لگیں۔۔۔۔۔جبکہ دماغ بلکل ماؤف ہونے لگا تھا اسکا۔۔۔وہ اپنے ایک آزاد ہاتھ سے اسے دور ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔مگر اسکی مزاحمت کی پرواہ کیے بنا وہ مشال کی کمر پر بازو حائل کرتے ہوئے اسے اور قریب کر گیا اور دیوانہ وار اس پر جُھکا رہا۔۔۔
ایک نشہ سا تھا مشال میں جو التمش کو مد ہوش کیے جارہا تھا۔۔اسکی شدتوں پر ضبط سے مشال نے اسکی شرٹ کا کالر دبوچ لیا۔۔۔
اپنی بوجھل ہوتی آنکھوں کو ہونٹوں پر ہوتی تکلیف سے مشال نے جھٹکے سے کھولا۔۔۔۔وہ تڑپ کر التمش کو دھکا دینے لگی۔۔۔۔جو کسی چٹان کی طرح اس پر حاوی تھا۔۔۔۔بڑھتے ہوئے درد سے مشال نے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔تبھی وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہوا دور ہوا۔۔۔
پھر دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں گھسا کر دلچسپی سے مشال کو دیکھنے لگا جو اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو متواتر کرنے کی کوششیں کررہی تھی۔۔۔اسکا سرخ چہرہ مزید ٹماٹر ہوگیا۔۔۔دھڑکنیں حد درجہ بڑھی ہوئی تھیں۔۔۔۔